Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil (Episode 03)

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

“میری ایک بات کان کھول کر سن لیں آپ دونوں…. جتنا ڈرامہ میں نے کھیلنا تھا کھیل لیا, اب بس… یہ کوئی طریقہ ہے کسی سے شادی کروانے کا… ” ملائکہ اپنی جگہ سے فٹ فٹ اوپر اچھل رہی تھی, احمر چپ چاپ کرسی پر بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا اور ولید کبھی کبھار بیچ میں لقمہ دے کر اس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا

“بندہ اس سے پوچھے کہ تو نے اس نکاح نامے کا اچار ڈالنا ہے… تو نے شادی کرنے کے تو سیدھی طرح کر نہیں تو انکار کر دے” وہ تڑخ اٹھی تھی

“ایم سوری ملائکہ مجھے نہیں پتہ تھا کہ وہ یہ شرط رکھ دے گی…. ” احمر نے دھیرے سے کہا

“میں آپ کو ایک بات بتاؤں…. یہ لڑکی یہاں صرف اپنے باپ کے دھمکانے پر آئی ہے بس… اسے آپ میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے, سو خود کو قربانی کا بکرا بننے سے بچائیں اور اسے کہیں کہ بی بی مجھے معاف کر اور امریکہ دفع ہو جا واپس” ملائکہ نے کہا

“ویسے احمر… ملائکہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے, مجھے بھی نہیں لگتا نوریہ تجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے” ولید نے کہا

“ولید اس نے صاف کہا کہ اسے ابھی تک کسی سے محبت نہیں ہوئی…شادی تو کرنی ہی ہے سو ڈیڈ کی مرضی سے ہی سہی” احمر نے کہا

“پھر کیا اس کا دل مدر ٹریسا کے دل سے ٹرانسپلانٹ ہوا ہے جو اسے مجھ پر اور میرے بچوں پر اسقدر ترس آ رہا ہے… ” ملائکہ پھر بھڑک اٹھی

“احمر… ادھر دیکھ ” ولید نے کہا, احمر سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا

“تو نوریہ سے کتنے عرصے بعد ملا ہے… ؟” ولید نے پوچھا

“تقریباً پانچ, چھ سال بعد.. آخری بار بھابھی کی ڈیتھ پر آئی تھی وہ” احمر نے کہا

“اس دوران تیری اس سے کوئی بات… کوئی میسیج… کوئی چیٹ… ؟” ولید نے پھر پوچھا, احمر نے نفی میں سر ہلا دیا

“یعنی تو اس سے محبت تو نہیں کرتا… ہے نا… ؟” ولید نے کہا, احمر نے ملائکہ کی طرف دیکھا, وہ اسی کو دیکھ رہی تھی

“نہیں… ” وہ اقرار کر گیا

“تو پھر آخر تجھے کیا ضرورت ہے پھانسی کا پھندہ اپنے گلے میں ڈالنے کی… ” ولید بھی تڑخ گیا

“کیوں ایویں اس کی فضول قسم کی شرطوں پر اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو… صرف تیرے ڈیڈ کے دوست کی بیٹی ہی ہے نا… امریکہ کے پریزیڈنٹ کی بیٹی تو نہیں ہے جو تیرے انکار پر تجھے نیست کر دے گی” ولید بھی تڑخ گیا

“ملائکہ… ایم سوری, آپ پلیز جا سکتی ہیں, میری وجہ سے آپ کو جو بھی شرمندگی ہوئی اس کے لئے میں معذرت خواہ ہوں” وہ دھیرے سے بولا تھا, ملائکہ اٹھ کر آفس سے باہر نکل گئی, احمر کرسی کی پشت پر گر سا گیا

“بھائی بن کر تجھے مشورہ دے رہا ہوں احمر… اس کی شرطوں میں نا آنا… بری طرح پھنس جاۓ گا, انکل کو کال کر اور سب سچ بتا دے” ولید نے کہا

“کیسے بتا دوں… کیسے… ؟؟” احمر نے آنکھیں بند کی تھیں

…………………………….

گھنٹی کی آواز پر چپڑاسی بھاگتا ہوا اندر آیا تھا

“جی صاحب جی… ” وہ بولا

“مس روزینہ نہیں آئیں آج… ؟” اس نے دہاڑ کر پوچھا

“نہیں سر… ” وہ بولا

“کیوں ؟” وہ تڑخ گیا

“پتہ نہیں صاحب جی… ” چپڑاسی بیچارے کے چھکے چھوٹ گئے تھے

“حشمت صاحب کو بلاؤ… ” وہ بولا, کچھ دیر بعد حشمت اس کے سامنے تھا

“روزینہ کیوں نہیں آئی آج… ؟” غصہ اس کے ماتھے پر دھرا ہوا تھا

“سر وہ کل ہی ریزائن کر گئی تھیں… وہ رہا ان کا لیٹر… ” حشمت اس کے سامنے پڑے پیپرز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا, اس کے سر پری لگی اور تلوؤں پر بجھی

“بس نوکری لینے کا ہی شوق ہوتا ہے ان لڑکیوں کو… کام کرتے ہوئے جان نکل جاتی ہے ان کی, بندہ پوچھے تم کیا کوئی شو پیس ہو جسے میں اپنے آفس کے باہر والی کرسی پر سجا کر رکھ دوں اور ہر آنے جانے والے کو دکھاؤں کہ… یہ دیکھو میری خوبصورت ترین سیکریٹری ” وہ کہتا چلا گیا, حشمت خاموش کھڑا تھا

“حشمت اس سیٹ کے لئے ایڈ دے دیں… ہر اخبار میں اور پوسٹرز بھی لگوا دیں جگہ جگہ… اس بار انٹرویوز میں خود کروں گا…” وہ بولا

“بس پھر…مل گئی آپ کو سیکریٹری ” حشمت نے دل ہی دل میں کہا اور باہر نکل گیا

تبھی اس کے موبائل کی گھنٹی بجی تھی, کلیم حافی کی کال تھی, کچھ دیر بعد اس نے کال اٹینڈ کر لی

“کیسے ہو انصر… ؟” وہ پوچھ رہے تھے

“زندہ ہوں ابھی تک… ” وہ بولا

“انصر… ” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولے

“نوریہ سے ملے… ؟” انہوں نے پوچھا

“نہیں… “

“کیوں ؟”

“میری مرضی… ” دوسری طرف پھر خاموشی چھا گئی

“انصر…یار پانچ سال بیت چکے ہیں… پانچ سال” وہ بولے

“پانچ سال ہی تو ہیں ڈیڈ… کونسا پچاس سال بیت گئے… اور بھلے ہی پانچ سو سال بیت جائیں… جو ہو چکا وہ بدل جاۓ گا کیا… ؟” وہ درشت سے لحجے میں بولا تھا

“وہ تمہارا چھوٹا بھائی ہے انصر… کیا اسے معاف کرنا اتنا ہی مشکل ہے… ؟” کلیم حافی پوچھ رہے تھے

“ڈیڈ… مجھ سے کیا چاہتے ہیں آپ…. ؟” وہ تنگ آ گیا

“نوریہ سے ملو, اسے احمر کے لئے قائل… ” انصر نے ان کی بات کاٹ دی

“سوری ڈیڈ… ” دھیرے سے کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی تھی

………………………

وہ بڑی دیر سے یونہی منہ پر اخبار ڈالے, کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا, ذہن منتشر سا تھا, نوریہ کی آواز بار بار کانوں میں گونج رہی تھی

“اور گارنٹی کے طور پر تمہارا نکاح نامہ میرے پاس رہے گا… “

“احمر… ” ولید کی آواز پر اس نے منہ پر سے اخبار ہٹایا

“بس کر دے… پچھلے دو گھنٹوں سے تو ماتم کئے جا رہا ہے” ولید نے چاۓ کا کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا

“ولید… میں کیا کروں یار… ؟” سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹا جا رہا تھا

“تو صرف ایک کال کر کے انکل کو سچ بتا دے بس… سارا سیاپا ہی ختم ” ولید کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا, احمر بول نہ سکا, وہ آخر کیسے کلیم حافی کو سب سچ بتا دیتا… ؟؟؟

کیسے کہہ دیتا کہ اس نے اس بار پھر ایک معصوم لڑکی کو اپنے جھوٹ میں پھنسا لیا ہے… ؟؟؟

اس سے زیادہ اس سے سوچا ہی نہ گیا

“میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ آخر نوریہ کو تیرے میں انٹرسٹ ہی کیا ہے… ؟ وہ کیوں تیرے سے شادی کرنے پر اسقدر مجبور ہے… ؟ وہ کیوں تجھے یہ رشتہ برقرار رکھنے کو کہہ رہی ہے… ؟ امریکن پلٹ لڑکی ہے آخر… پھر کیوں اتنا کمپرومائز کر رہی ہے؟” ولید کہتا چلا گیا

“یہ ہی تو میں سوچ رہا ہوں کہ وہ میرے اور ملائکہ کے جھوٹے نکاح نامے کا کیا کرے گی… ؟” احمر سیدھا ہوتے ہوئے بولا

“تو مان یا نا مان احمر اس لڑکی کا کوئی نا کوئی پلان تو ضرور ہے… اور وہ پلان شادی کا تو قطعا نہیں ہے” ولید نے کہا

“ملائکہ آئی ہے ؟” احمر نے پوچھا, ولید نے اثبات میں سر ہلا دیا

“وہ بیچاری ایویں پھنس گئی ہے” وہ بولا

“احمر… ایک بات تو بتا… ؟” ولید نے پوچھا, احمر خاموشی سے اس کی طرف دیکھنے لگا

“تو واقعی نوریہ سے شادی کرنا چاہتا ہے ؟” ولید نے کہا, احمر فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکا

“یا تیرا بھی کوئی پلان ہے احمر حافی… ؟” ولید اسے دیکھے جا رہا تھا

“تو ساری عمر یہ ہی کرے گا احمر… کیونکہ یہ ہی تیری فطرت ہے, حرام کو منہ لگانے والی… حلال سے منہ موڑنے والی… ” اس کی سماعتوں میں کسی کی آواز کی بازگشت گونجی تھی

“میرا کوئی پلان نہیں ہے ولید… ” اس نے دوبارہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی, ولید کا فون بجا تھا

“میں بس یہ چاہتا ہوں کہ… بھائی مجھے معاف کر دیں… بس ایک بار”

………………………

لیپ ٹاپ اس کے سامنے کھلا ہوا تھا, وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاۓ مسلسل سکرین پر نظر آتا اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی

وہ شاید شاور لیکر نکلا تھا, عام سے ٹراوزر پر وائیٹ ٹی شرٹ پہنے لیٹا تھا, گیلے بالوں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے, دانتوں میں حسب عادت سگریٹ دبا ہوا تھا

“تم نے کہا تھا کہ سب چھوڑ دو گے… ؟” نوریہ نے دھیرے سے کہا

“کوشش تو پوری ہے… ” وہ بادل نخواستہ سا مسکرایا… اس کے مسکرانے میں بھی ایک عجیب سی وحشت تھی

“کم از کم مجھ سے بات کرتے ہوئے تو سگریٹ منہ میں مت دبایا کرو دعان… ” وہ کہہ ہی گئی, اس نے دھیرے سے سگریٹ منہ سے نکال کر ایش ٹرے میں مسل دی تھی

“ڈیڈ سے ملے ؟” نوریہ نے پوچھا, اس نے نفی میں سر ہلا دیا

“کیوں… ؟”

“کیونکہ کوئی فائدہ نہیں… وہ کسی صورت اپنی نازوں میں پلی, انتہائی خوبصورت, پڑھی لکھی اور امیر کبیر بیٹی کی شادی ایک گینگسٹر سے نہیں کریں گے” وہ بولا

“ایک بار مل کر تو دیکھو… ” نوریہ نے کہا

“میں ان سے روز ملتا ہوں نور… ” اس نے کہا , نوریہ بول نہ سکی

“دیکھو نور… میں نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ میں سب چھوڑ دوں گا لیکن…. میں یہ وعدہ پلک جھپکتے میں پورا نہیں کر سکتا, تم نہیں جانتیں کہ میں اس اندھیری دلدل میں کتنا اندر تک دھنسا ہوا ہوں…. وقت لگے گا, دوبارہ باہر نکلنے میں” وہ بولا

“وقت ہی تو نہیں ہے…” نوریہ بے بسی سے بولی

“تو پھر چپ چاپ اپنے ڈیڈ کی بات مان لو… ان کی پسند کا لڑکا تو دیکھ ہی چکی ہو گی تم… خاموشی سے ان کی مرضی سے شادی کروا لو اور… مجھے بھول جاؤ” وہ سختی سے بولا

“تم بھی بھول جاؤ گے مجھے ؟” نوریہ کے گوشے نم ہو گئے

“میرا کیا ہے… میں روزانہ سگریٹ کے کش لگا کر نہ جانے کیا کچھ بھول جاتا ہوں ” وہ ایک بار پھر اسی وحشت سے مسکرایا تھا, نوریہ چپ چاپ اسے دیکھتی رہی

“ویسے ایک راستہ اور بھی ہے تمہارے پاس… ؟” کچھ دیر بعد دعان نے کہا

“میرے ڈیڈ کا آدھا وجود مر چکا ہے دعان… باقی آدھا میں تمہارے ساتھ بھاگ کر قتل نہیں کروں گی” وہ دھیرے سے کہہ کر لیپ ٹاپ بند کر گئی تھی

………………………..

“کہاں ہو… ؟” وہ اپنے آفس میں تھا جب اسے نوریہ کی آواز آئی

“آفس میں… ” وہ کہہ کر پھنس گیا

“اوکے… لائیو لوکیشن سینڈ کرو, میں آ رہی ہوں” اس نے کہہ کر کال کاٹ دی, احمر سٹپٹا کر اٹھا تھا, اسے لوکیشن سینڈ کرتا ہوا وہ باہر نکلا, ملائکہ اپنے کیبن میں بیٹھی تھی

“مس ملائکہ…. ” وہ حواس باختہ سا اس کے کیبن میں داخل ہوا

“کیا ہوا سر… ؟” وہ ایک دم. کھڑی ہو گئی

“نوریہ یہاں آ رہی ہے… آپ پلیز گھر چلی جائیں, صبح آ جانا” احمر نے کہا, ولید بھی چھٹی پر تھا

“لیکن یہ ساری فائلیں… ” ملائکہ بھی یکدم بوکھلا گئی

“ملائکہ صبح کر لینا پلیز… ابھی گھر چلی جائیں, جلدی کریں, میرا ڈرائیور آپ کو چھوڑ… ” ملائکہ نے اس کی بات کاٹ دی

“نہیں میں خود چلی جاؤں گی… مجھے بچوں کو سکول سے لینا ہے, گھر جا کر واپس نہیں آیا جاۓ گا” وہ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے بولی اور باہر نکل گئی, احمر کی سانس میں سانس آئی تھی

کچھ دیر بعد ہی نوریہ اس کے سامنے تھی, احمر نے اس کے لئے چاۓ منگوا لی

“تو پھر کیا سوچا تم نے ؟” نوریہ نے کہا, احمر فوری طور پر جواب نہیں دے سکا

“ایک بات پوچھوں ؟” احمر کچھ دیر بعد بولا

“تم میرے اور ملائکہ کے نکاح نامے کا کیا کرو گی ؟” اس نے پوچھا

“تمہارا کیا خیال ہے میں کیا کروں گی ؟” نوریہ نے کہا

“بلیک میلینگ… ” احمر نے کندھے اچکاۓ, نوریہ ہنستی چلی گئی

“بڑے تیز ہو تم… ” وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی, احمر چپ رہا

“تم مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہو نا احمر…. ؟” اس نے پوچھا

“ہاں… ” وہ بولا

“ہر قیمت پر… ؟” اس نے پھر پوچھا

“ہاں… ” احمر نے کہا

“تو بس پھر یوں سمجھو کہ تمہارا اور ملائکہ کا سابقہ ریلیشن… میرے اور تمہارے آئیندہ ریلیشن کی ایک چھوٹی سی قیمت ہے” نوریہ نے کہا

“تم مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتی ہو ؟” احمر نے پوچھا

“کیونکہ میرے ڈیڈ یہ چاہتے ہیں… ” نوریہ نے کہا

“اور تم… ؟”

“وہ شاید بالکل بھی اہم نہیں ہے” نوریہ چاۓ کا کپ اٹھاتے ہوئے بولی تھی, احمر نے بھی اپنا کپ اٹھا لیا

“دیکھو نوریہ… میں کوئی بچہ تو ہوں نہیں جو اتنا نہ سمجھ سکوں کہ تم مجھے استعمال کر رہی ہو… لیکن کیوں… ؟ یہ مجھے نہیں پتہ…” احمر نے کہا

“بالکل ویسے ہی احمر حافی جیسے تم مجھے استعمال کر رہے ہو, جیسے تم مجھ سے شادی کرنے پر بضد ہو, لیکن کیوں… مجھے نہیں پتہ… ” وہ کہتی چلی گئی, احمر نے ایک لمبی سانس بھری تھی

“مجھے تمہاری شرط منظور ہے نوریہ کمال… لیکن ایک شرط پر… ” وہ تھوڑا سا آگے کو ہوا

“میں تمہیں وہ نکاح نامہ اس دن دوں گا… جس دن میرا اور تمہارا نکاح ہو گا… منظور ہے… ؟؟؟” وہ دھیرے سے بولا تھا

نوریہ بس اس کی آنکھوں میں جھانکتی رہ گئی تھی

……………………..

وہ دونوں بچوں کو سلا کر اندر آ گئی, کچن سمیٹنے والا تھا, سارا کام ختم کر کے وہ کمرے میں آ گئی, ان دنوں وہ شدت سے کسی نئی نوکری کی تلاش میں تھی, ابھی کچھ ہی دیر گزری تھی جب فریال پانی پینے اٹھی اور کمرے کی لائیٹ جلتی دیکھ کر ادھر ہی آ گئ

وہ بی ایس کر رہی تھی

“کیا کر رہی ہیں بھابھی ؟” وہ اس کے ارد گرد اخباروں کے پلندے دیکھ کر حیران رہ گئی

“کوئی نوکری دیکھ رہی ہوں… ” اس نے ایک اخبار پر سرکل کیا تھا

“کیوں… ؟ نوکری مل تو گئی ہے آپ کو؟” فریال حیرانی سے بولی

“وہ نوکری نہیں نری ذلالت ہے فریال… سراسر عزت کا سودا ہے وہ, مجھے جیسے ہی کہیں اور نوکری ملی… میں وہ چھوڑ دوں گی” وہ دھڑا دھڑ ایڈز سرکل کرتی جا رہی تھی

“بھابھی… ” فریال تھوڑا آگے کو ہوئی

“ویسے اب کیا کرے گا وہ ؟” اس نے پوچھا

“خدا جانے… ” ملائکہ نے کندھے اچکاۓ

“نکاح نامہ کہاں سے لاۓ گا ؟” فریال کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی

“تمہیں کیا لگتا ہے اس جیسے بگڑے ہوئے امیر زادے کے لئے ایک جھوٹا نکاح نامہ تیار کروانا کوئی مشکل ہے… ؟ میں چاہے اسے سو بار انکار کروں… وہ پھر بھی وہی کرے گا جو اس کی مرضی ہے… میں کیا بگاڑ لوں گی اس کا اگر وہ میرے علم میں لاۓ بنا میرا نام ایک جھوٹے نکاح نامے پر لکھوا لیتا ہے تو… ؟ کچھ بھی نہیں… کون سنے گا میری… یہاں تو بھوک پوری نہیں ہوتی تو… کورٹ کچہری تو دور کی بات ہے” ملائکہ کہتی چلی گئی

“ہاۓ بھابھی… اگر واقعی اس نے ایسا کر دیا تو… ؟” فریال پریشان ہو گئی تھی

“اسی لئے تو میں جلد از جلد کہیں اور نوکری ڈھونڈنا چاہ رہی ہوں… جیسے ہی نوکری ملی… ہم یہ گھر بھی چھوڑ دیں گے, پھرتا رہے گا پھر مارا مارا… اور پتہ ہے فریال… وہ امریکن لڑکی بھی احمر کے ساتھ گیم کھیل رہی ہے, یقیناً اس کا امریکہ میں کوئی چکر وکر چل رہا ہو گا ” وہ بیچارہ ستی پڑی تھی

“صحیح کہہ رہی ہیں آپ… میں بھی کہیں پارٹ ٹائم جاب ڈھونڈتی… ” ملائکہ نے اس کی بات کاٹ دی

“نہیں… تم پہلے اپنا بی ایس مکمل کرو, آدھی ادھوری پڑھاییوں کے ساتھ نری خواری ہے فریال… اور کچھ بھی نہیں ” وہ بولی تھی

فریال بس سر ہلا کر رہ گئی

……………………….

کلیم حافی کی کال تھی

احمر لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا تھا… اس سے ذرا پیچھے احسن کی شکل نظر آ رہی تھی

“علی کہاں ہے ؟” انہوں نے پوچھا

“آپ کو نہیں پتہ ڈیڈ… اس کے سی ایس ایس کے پیپرز ہونے والے ہیں… اسلئے اب وہ بس ویک اینڈ پر ہی آتا ہے” احسن نے ہنستے ہوئے کہا

“سی ایس ایس… وہ تو ابھی… ” احمر نے اسے کہنی ماری تھی

“اس کے ون کلاس کے پیپرز ہو رہے ہیں ڈیڈ… اور انصر بھائی کو یوں لگ رہا ہے جیسے وہ سی ایس ایس کر رہا ہو” وہ بولا, کلیم حافی مسکرا کر رہ گئے

“نوریہ سے ملاقات ہو گئی احمر… ؟” وہ اصل مدعے پر آۓ

“جی ڈیڈ… ” احمر کا رنگ ہلکا سا اڑا تھا

“تو پھر… کہا کہتی وہ ؟” انہوں نے پوچھا

“مجھے کیا پتہ ڈیڈ… وہ جو بھی کہے گی اپنے ڈیڈ کو ہی کہے گی” وہ بولا, انہوں نے سر ہلا دیا

“ڈیڈ… ” وہ چند لمحوں بعد بولا

“ڈیڈ اگر مجھے تھوڑا وقت مل جاتا تو… ؟”

“کس چیز کے لئے… ؟” انہوں نے پوچھا

“انڈر سٹینڈنگ کے لئے ڈیڈ… ” وہ بولا

“کتنا وقت ؟” وہ پھر بولے

“کچھ مہینے… ” احمر کی آواز اس کے گلے میں ہی اٹک گئی تھی

“احمر… ” انہوں نے اسے پکارا, احمر سکرین کی طرف دیکھنے لگا

“تو شادی کرے گا نا اس سے ؟” وہ پوچھ رہے تھے, لحجہ بڑا غیر مطمئن سا تھا, احمر گنگ رہ گیا

“پانچ سال کم تو نہیں ہوتے احمر… ” وہ کہتے جا رہے تھے اور احمر…

اس کی سماعتوں میں چیخ و پکار کر بازگشت جاری تھی

“احمر… ” وہ اسے بلا رہے تھے

“احمر بھائی… ” احسن نے اس کا کندھا ہلایا

“جی ڈیڈ… مم… مجھے کوئی اعتراض نہیں… میں کروں گا نوریہ سے شادی” وہ کہہ کر اٹھ گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *