Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil (Episode 08)

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

سارے گھر پہ خاموشی چھا گئی تھی۔

وہ اُس طوفان کے گزر جانے کے بعد کی خاموشی تھی جو اس نے ابھی ابھی دیکھا تھا یا کسی آنیوالے نئے طوفان سے پہلے کا سکوت تھا، ملائکہ سمجھ نہیں سکی تھی۔ وہ کمرے میں آئی تو فریال وہیں بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے سو چکی تھی۔ بچوں کے گود میں بھرے ہوۓ جو کہ سو چکے تھے۔ وہ بہت دیر دروازے میں کھڑی انہیں دیکھتی رہی تھی۔

” اس سب کو کیا کہو گی ملائکہ ؟ “

اس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔

” یہ سب جو ہو رہا ہے اور وہ سب جو ہو چکا ہے، کیا ہو رہا ہے ؟ “

تھکے تھکے انداز میں چلتی وہ آگے بڑھی، دونوں بچوں کو باری باری سیدھا کیا، فریال کو سہارے سے لٹایا تو اس نے یکدم آنکھیں کھولیں۔

” شش۔۔۔۔ سو جاؤ بچے “

اسکے سر کے نیچے تکیہ دیکر ہولے سے اسکا گال تھتھپایا۔ تھکان اور کمرے میں پھیلی خنکی سے وہ واپس سو چکی تھی۔

” اب ؟؟؟ اب آگے کیا ؟؟؟؟ اس سب کا انجام کیا ؟؟؟ “

وہ سوچ گویا کوئی انتہائی طاقتور مقناطیس تھا، اسکا ذہن بار بار اسی کی طرف لپکتا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے کے سامنے کھڑی وہ بہت دیر تک خود کو دیکھتی رہی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ بیگ میں پڑا اسکا فون بج رہا تھا۔ جلدی سے فون نکال کر اس نے کان سے لگایا تھا۔

” ملائکہ ارشاد بات کر رہی ہیں ؟؟؟ “

” جی ؟؟؟ “

وہ انجان نمبر سے کال تھی۔

” گورنمنٹ انکم سپورٹ کے پروگرام میں آپکا نام درج ہے۔ آپ اس ماہ کے وظیفے کی رقم حاصل کرنے کے لئیے شناختی کارڈ کے ساتھ متعلقہ آفس سے رجوع کریں “

آہستگی سے ” ٹھیک ہے ” کہہ کر اس نے فون رکھ دیا تھا۔

سالوں پہلے جب وہ اس رات فہد کو زخمی چھوڑ کر، بچوں اور فریال کے ساتھ گھر چھوڑ آئی تھی تو ساری زمہ داریاں اسکے کندھوں پہ ہی آگئی تھیں۔ بچوں کے تعلیم، علاج معالجہ، گھربار، روٹی، ہر چیز صفر سے شروع ہونی تھی۔ تب پوچھتے پاچھتے، کسی مددگار کے توسط سے اسے اس پروگرام کا پتہ چلا جو بیواؤں اور بے سہارہ خواتین کی مالی کفالت کرتا تھا۔ خود کو بیوہ ثابت کرنا مشکل تھا کہ اسکے لئیے شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ وہ کہاں سے لاتی۔ تبھی اس نے دوسری راہ چنی اور عدالت سے رجوع کر کے، شوہر کو لاپتہ کہہ کر خلع لے لی تھی۔ وظیفہ ملنے سے یہ ہوا کہ روز کی روٹی سالن کا آسرا ہو گیا۔

” سوال وہیں ہے ملائکہ ارشاد۔ اب کیا ؟؟؟؟ “

ذہن پھر سے بھٹکا تھا۔

” میں کل انہیں فون کر کے منع کردوں گی، یا پھر آفس جا کر کہ مجھے اب اس امداد کی ضرورت نہیں ہے “

اس نے سوچا

” تو گویا تم اس تعلق کو قائم رکھنا چاہتی ہو ؟؟؟ وہ رشتہ جو ایک جھوٹ کی بنیاد پہ بنا ہے، اس کو بنیاد بنا کر یہ سب کرنا چاہتی ہو ؟؟؟؟ “

ضمیر نے کچوکے لگانا شروع کئیے

” وہ آدمی جسکے گھر میں تم بیوی بن کر آئی ہو، کسی اور جا شوہر ہے، جانتی ہو ناں؟ تم اسکے لئیے ایک جھوٹ کی سزا ہو۔۔۔ یا شائد زیادہ سے زیادہ کسی پہ کھایا ترحم ہو۔ اس کے علاوہ کچھ ہو ؟؟؟ اسکے علاوہ کچھ ہو بھی سکتی ہو ؟؟؟؟؟ “

وہ ساری رات اسی سوال جواب میں کٹنے والی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بچوں کو سکول کے لئیے تیار کرنے کے بعد وہ خود بھی چادر اوڑھ کر نیچے آئی تھی۔ احمر اسی کے انتظار میں تھا۔ گاڑی کے پاس کھڑا، اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ بچوں کے لئیے گاڑی کا دروازہ کھولا، جب وہ اندر بیٹھ گئے تو اسے دیکھا

” ڈونٹ ٹیل می کہ کل انصر بھائی کی اتنی بکواس سننے کے بعد بھی تم انکے آفس میں جاب کے لئیے جانا چاہتی ہو ؟ “

وہ طنزیہ مگر پھیکا سا ہنسی

” فکر مت کریں۔ کم از کم اتنی عزت نفس ہے مجھ میں کہ گالی دینے والے کے ہاتھ سے نوالہ نہیں پکڑتی ہوں۔ “

وہ زرا رکی اور پھر اسے متعلقہ آفس کا ایڈریس بتایا۔

” مجھے وہاں کچھ کام ہے “

” ٹھیک ہے “

وہ بولا اور اسکے لئیے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا

” میں اس کام کی نوعیت اور تفصیل نہیں پوچھوں گا۔ لیکن اتنا ضرور کہوں گا ملائکہ کہ تمہارے بچے اب میرے بھی ہیں۔ یہ نہیں کہ اب وہ بس میری ہیں لیکن تمہارے ساتھ ساتھ میری بھی زمہ داری ہیں۔ اور میں ہرگز نہیں چاہوں گا کہ وہ کسی اور کے ترحم اور زکوٰۃ پہ پروان چڑھیں۔ “

وہ کچھ بول نہیں سکی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو وہ آفس سے جلدی لوٹ آیا تھا۔

” بچوں کو تیار کرو، ہم شاپنگ جا رہے ہیں “

حرم کو گود میں اٹھانے کے لئیے اس نے بانہیں وا کیں اور زمین پہ اکڑوں بیٹھ کر اپنے طرف آنے کا اشارہ کیا تھا۔ بچہ ہچکچایا اور اسے پشت دکھا کر ماں کے پیچھے ہو گیا۔ احمر ویسے ہی بیٹھا رہ گیا۔

” اسکی ضرورت نہیں ہے احمر۔ “

” ضرورت ہے یا نہیں، یہ نہیں پوچھ رہا۔ بس یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم جا رہے ہیں۔ “

وہ اٹھا اور بیڈ پہ بیٹھی حرم کو دیکھ کر مسکرایا

” جانا ہے ناں ؟؟؟ ڈول لینی ہے ناں ؟؟؟ اور آئس کریں، میرا تو بہت دل ہو رہا ہے آئس کریم کھانے کے لئیے ، آپ کھاؤ گی ناں ؟؟؟ “

بچی کن انکھیوں سے ماں کو دیکھ کر ہولے سے اثبات میں سر ہلایا تھا۔

” یہ ہوئی ناں بات “

جوش سے کہہ کر اس نے حرم کے بال سہلاۓ تھے۔

” مجھ پہ صرف اتنے احسان کریں احمر جنہیں میں اسی زندگی میں اتار سکوں۔ “

فریال کے پاس کمرے میں بچوں کو چھوڑ کر وہ اسکے کمرے سے نکلتے ہی باہر نکلی تھی۔ سینے پہ بازو لپیٹے وہ اسے دیکھتا رہا۔

” جب مجھ پہ اعتبار کیا ہے تو پورے کا پورا، سارے کا سارا کرو ملائکہ۔ یہ شک میں ڈوبا، وسوسوں میں گھرا، ڈگماگاتا ہوا نہیں۔ “

کہہ کر وہ رکا نہیں تھا۔

” میں تم سب کا گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مال روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ کانچ کی دیواریں اور دروازے جنکے دوسری طرف رنگوں کا الگ ہی جہان آباد تھا۔ لوگوں کا ہجوم، آتے جاتے نفوس، اپنی باتوں اور خوش گپیوں میں مصروف، خریداری سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ، بچوں کی انگلیاں پکڑے۔

دونوں بچے تو پلے لینڈ کے سامنے ہی مچل گئے تھے۔ ملائکہ کی گھوریاں کارگر نا رہیں اور وہ اس سے ہاتھ چھڑوا کر اندر گھس گئے۔

” چھوڑو، کوئی بات، انہیں مزے کرنے دو “

احمر نے کہا تھا۔ فریال نے اسے دیکھا اور ہولے سے کہا

” آپ خریداری کر آئیں، میں انکے پاس رک جاتی ہوں “

” اُوں ہوں۔۔۔ “

احمر نے ٹوکا

” اور تمہاری شاپنگ کا کیا ؟؟؟؟ “

” کوئی بات نہیں احمر بھائی۔ ویسے بھی میرے پاس سب کچھ ہے۔ آپ بے فکر رہیں “

اسے تقریباً تقریباً زبردستی وہ ہر ہر دوکان کے سامنے روکتا، ” کچھ تو لے لو، اچھا پسند کرنے کی کوشش تو کرو ” کہتا، وہ ہی باتیں کر رہا تھا۔ ملائکہ ہوں ہاں میں جواب دیتی تھی، یا زیادہ وقت خاموش ہی رہی تھی۔ یوں جیسے وہ گزری ہر بات کی کڑواہٹ زائل کر دینا چاہتا تھا مگر وہ وہیں کسی پل میں اٹک کر رہ گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” تمہیں اب یہ دیواریں توڑ دینی چاہئیے ہیں ملائکہ “

وہ ٹیرس پہ کھڑی تھی۔ رات خاموش تھی اور خنک تھی۔ بڑی ٹھنڈی سی میٹھی ہوا تھی جو بدن میں تازگی سی بھرتی تھی۔

” جو کچھ ہونا تھا، ہو چکا ہے۔ بھولنے کی کوشش کرو گی تو بھول سکو گی “

ملائکہ نے اسے بغور دیکھا

” اور نوریہ ؟؟؟؟ “

احمر نے لمبا سانس بھرا

” مجھے پتہ ہے تم کیا سوچ رہی ہو۔ کوئی بھی میرے بارے میں یہی سوچتا کہ اسکی بیوی گھر سے غائب ہے، اتنے دنوں سے لاپتہ ہے اور اسے پرواہ بھی نہیں ہے۔ اسے فکر نہیں ہے کہ اسے ڈھونڈے، کھوج لگاۓ “

وہ کہتا چلا گیا۔

” تلاش اسکی کی جاتی ہے ملائکہ جسے کبھی کھویا ہو۔ اور کھویا اسے جاتا ہے جو کبھی اپنا رہا ہو۔ “

وہ زرا رکا

تمہیں بھی پتہ ہے میں اور وہ اس تعلق میں کیوں بندھے تھے۔ اس نکاح میں ہم دونوں کا اپنا اپنا مفاد تھا جو شائد ہم پا نہیں سکے۔ میں اُس تعلق کو بنیاد بنا کر پاک دامن ثابت نا ہو سکا اور وہ صبر سے وہ وقت نہیں گزار سکی جو اس نکاح کی آڑ میں اسے چاہئیے تھا۔ “

ملائکہ خاموش کھڑی رہی تھی۔

” تمہیں کیا لگتا ہے حافی انکل چاہیں تو اسے ڈھونڈ نہیں سکتے ہیں ؟؟؟ وہ بس اتنے کمزور انسان اور اتنے بے بس باپ ہیں ؟؟؟؟ ملائکہ سنو۔ وہ جانتے ہیں انکی بیٹی کہاں ہے، وہ پہلے دن سے جانتے ہیں۔ “

وہ چپ ہوا تو بہت سارے لمحے یونہی خاموشی سے گزر گئے تھے۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور ملائکہ کے سر سے سرکتا آنچل کندھے پہ آگرا تھا۔

” میں وہی سب کہوں گا ملائکہ جو کئی بار پہلے بھی کہہ چکا ہوں۔ جیسے بھی بنا ہے، رشتہ تو ہے۔ جھوٹ کی بنیاد پہ سہی پر سچا تو ہے۔ تعلق تو ہے۔ نبھانا تو ہے۔ “

ملائکہ نے رخ موڑ کر اسے دیکھا

” یہ ضروری ہے کیا ؟؟؟؟ “

احمر نے بغور اسے دیکھا تھا

” ہاں شائد “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر نے تو صاف انکار کردیا تھا۔

” ہرگز نہیں ڈیڈ “

” انصر “

انہوں نے سختی سے کہا تھا

” ہر بات پہ، ہر بار میرا تماشہ بنوانا ضروری ہوتا ہے ؟ پہلے تم دونوں بھائی سارے شہر میں میرے جو اشتہار لگوا چکے ہو وہ کافی نہیں ہیں ؟؟؟؟؟ “

وہ چپ رہ گیا

” ڈنر رات نو بجے ہے اور اٹھ بجے تم مجھے گھر پہ ملو گے۔ “

وہ برا سا منہ بنا کر خاموش رہا۔ وہ تھوڑے نرم پڑے تھے۔

” وہ جیسے بھی اس گھر میں لائی گئی ہو انصر، اب ہمارے گھر کی عزت ہے۔ اتنی ہی معزز جتنی نوریہ اس گھر کے لئیے ہے، اتنی ہی قابل احترام جتنی حوریہ تھی۔ “

اس نے تڑپ کر سر اٹھایا

” اسے میری حوریہ سے مت ملائیں ڈیڈ “

رات وہ اپنی مرضی کے وقت پہ وہاں آیا تھا۔ ڈیڈ نے کئی بار کالز کیں، اس نے ایک بھی نہیں سنی۔ سوا نو بجے کے قریب وہ گھر پہنچا تو ڈنر ٹیبل پہ لگایا جا چکا تھا۔ سربراہی کرسی پہ کلیم حافی براجمان تھے۔ انکے داہنی طرف اسکے لئیے کرسی خالی رکھی گئی تھی۔ اسکے برابر میں کرسی پہ احسن بیٹھا تھا۔ سامنے والی رو میں بائیں طرف پہلے احمر تھا اور اسکے پہلو میں ملائکہ موجود تھی۔ دونوں بچے پہلے ہی کھانا کھا کر سو چکے تھے۔ ملائکہ کے ساتھ کرسی پہ فریال بیٹھی تھی۔

” واؤ “

انصر نے طنزیہ لہجے میں کہا اور کرسی پہ بیٹھ گیا۔

” اتنا نور، اتنا اجالا۔۔۔ میری تو آنکھیں دکھنے لگی ہیں “

احمر نے اسے بغور دیکھا

” ہر وقت کالے چشمے لگاۓ رکھنے کا یہی تو نقصان ہوتا ہے بڑے بھائی۔ پھر اجلی حقیقتوں سے آنکھوں کو تکلیف ہونے لگتی ہے “

” بس۔ اب شروع مت ہو جانا تم دونوں۔ بھائی ہو، بھائی بن کر رہو، دشمن مت بنو “

” ان سے پوچھیں کیوں مجھے بھائی نہیں کہتے؟؟؟ کیوں دشمن سمجھتے ہیں ؟؟؟؟ اور کتنی صفائیاں دوں ؟؟؟؟؟ کیا ساری حقیقت جاننے کے بعد بھی۔۔۔۔۔۔ “

” جھوٹی حقیقت۔۔۔۔۔ جھوٹے سچ۔۔۔۔۔ اور بہتان۔۔۔۔ “

وہ سرد نظروں سے اسے دیکھتا، سرد لہجے میں بولتا چلا گیا

” تم میرے بھائی ہو نا دشمن، کچھ بھی نہیں ہو۔ مجھے تمہاری بے گناہی کے لئیے کوئی صفائی، کوئی ثبوت نہیں چاہئیے۔ کیونکہ مجھے پتہ ہے تم کتنے چھوٹے انسان ہو، تمہارا کردار کتنا پستہ قد ہے اور تمہارا دل کتنا سیاہ ہے۔ اتنا کہ تم ایک مردہ لڑکی کو بدکراد ثابت کرنے پہ تُلے ہو تاکہ اپنے زندہ گناہوں کو چھپا سکو۔۔۔۔ “

” بس “

کلیم حافی نے سختی سے کہا تھا۔ انصر نے انہیں بغور دیکھا

” صرف آپکے لئیے، صرف آپکے کہنے پر میں یہاں آیا ہوں، شائد دوبارہ بھی آ جاؤں۔ لیکن میری بھی ایک شرط ہے۔ یہ شخص دوبارہ میری حوریہ کا نام اپنی زبان پہ نہیں لاۓ گا۔ مجھے مُردہ بیوی کی صداقت پہ اس زندہ بھائی سے زیادہ یقین ہے “

وہ کہہ کر پلیٹ پہ جھک گیا تھا۔ ملائکہ خاموشی سے سب سنتی رہی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کمرے میں خنکی بڑھتی جا رہی تھی۔

بیڈ پہ داہنی طرف کروٹ لئیے لیٹی ملائکہ شیشے سے اندر آتی ٹھنڈی چاندنی کو دیکھ رہی تھی۔ بیڈ پہ دوسری طرف، اسکی مخالف سمت میں دوسری اور کروٹ لئیے احمر لیٹا تھا۔ اس نے آنکھیں موند رکھی تھیں لیکن وہ سویا نہیں تھا جب اس نے ملائکہ کی آواز سنی تھی۔

” ہمیں کوئی حد مقرر کر لینی چاہئیے احمر “

اس نے ہولے سے آنکھیں کھولیں۔ بنا رخ بدلے اس نے پوچھا تھا

” اور وہ حد کیا ہو ؟؟؟؟ “

” یہی کہ ہم سے کوئی حد پار نہیں ہو گی “

بہت ساری دیر خاموشی سے گزر گئی تھی۔ اس خاموشی میں اے سی کی دھیمی سی آواز گونج رہی تھی۔

” ایک بات بتاؤ گی ؟؟؟؟ “

” پوچھیں “

” تمہیں بھی لگتا ہے کہ میں ایک بدکردار انسان ہوں ؟؟؟؟؟؟ “

وہ ایک لمحے کے لئیے چپ رہ گئی

” اس سے کوئی فرق پڑتا ہے احمد کہ مجھے کیا لگتا ہے ؟؟؟ اس سے کوئی فرق پڑتا ہے کہ دوسروں کو ہمارے بارے میں کیا لگتا ہے ؟؟؟؟؟ “

” ہاں پڑتا ہے۔ بہت فرق پڑتا ہے “

ایک بار پھر لفظ خاموشی سے ہار گئے تھے۔

” چلو پھر حد مقرر کرتے ہیں۔ “

وہ کچھ دیر بعد بولا تھا۔

” یہ کوئی قید نہیں ہے، یہ کوئی پنجرہ نہیں ہے ملائکہ۔ جب تمہاری حد ہو جاۓ تو مجھ سے کہہ دینا، ہم اسے ختم کردیں گے “

تبھی اسکے فون کی بیل بجی تھی۔ احمر نے دیکھا نوریہ کے ڈیڈ کی کال تھی۔ اس نے فون کال سے لگایا۔ وہ دوسری طرف رو رہے تھے۔ وہ یکدم اٹھ بیٹھا تھا۔

” انکل، کیا ہوا۔۔۔۔ خیریت تو ہے۔۔۔۔ “

ایک دم سے وہ بے تحاشا پریشان ہو گیا تھا۔

” وہ۔۔۔۔ مجھے پولیس والوں نے کال کی تھی۔۔۔ ابھی ابھی۔۔۔۔ “

وہ بمشکل بول پا رہے تھے

” انہیں کوئی ڈیڈ باڈی ملی ہے۔۔۔۔۔ انہیں۔۔ انہیں لگتا ہے۔۔۔۔ کہ وہ نوریہ ہے۔۔۔۔۔ “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *