Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar NovelR50578 Ahl e Dil (Episode 06)
Rate this Novel
Ahl e Dil (Episode 06)
Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar
دعان نے دروازہ کھولا۔ سامنے اسے پا کر وہ شدت سے حیران ہوا تھا۔
” نوریہ تم ؟؟؟؟؟ “
اس نے سر تا پا اسے دیکھا تھا۔ کندھے پہ شولڈر بیگ، قدموں میں رکھا سفری بیگ۔ اسکا حیران ہونا بنتا تھا۔
” اندر آنے کے لئیے بھی نہیں کہو گے ؟؟؟؟ “
” تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں پاکستان آیا ہوں ؟؟؟؟ “
وہ بنا جواب دئیے اسے راستے سے ہٹاتی ہوئی اندر داخل ہوا تھا۔ دعان کو اسکا بیگ اٹھا کر پیچھے اندر آنا ہی پڑا تھا۔
” تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا نوریہ ؟ “
” کونسا سوال ؟؟؟؟ “
وہ اچانک سے مڑی اور اسے بغور دیکھتی پوچھنے لگی۔ وہ کچھ لمحوں کے لئیے خاموش رہ گیا۔ وہ اسکے اتنے نزدیک تھی کہ دعان اسکے دل کی اونچی دھڑکنوں کا شور بھی سن سکتا تھا۔ ہولے سے ہاتھ بڑھا کر نوریہ نے اسکی پیشانی پہ بکھرے بال ہٹاۓ تھے۔ اس زخم کے نشان کو ہولے ہولے چھیڑتے ہوۓ وہ اسکے گلے میں پڑی چین کو دیکھ رہی تھی۔
” مجھے تمہاری خوشبو محسوس ہو گئی تھی۔ تمہیں پتہ ہے میں تمہیں کہیں بھی ڈھونڈ سکتی ہوں۔ میں اپنے دل کے بتاۓ راستوں پہ چلتی چلتی تم تک کبھی بھی پہنچ سکتی ہوں “
دعان نے گہری سانس بھری تھی۔
” کیا ہوا ؟؟ تمہارے شوہر سے دل بھر گیا کیا ؟؟؟؟ “
نوریہ کو اسکی بات اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ اسے غصہل نظروں سے دیکھتی پلٹی اور صوفے پہ جا بیٹھی۔
” نوریہ۔۔۔ جان میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔۔ میں تو بس۔۔۔۔۔۔ “
نوریہ نے ہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔
” باس کو پتہ ہے تم یہاں ہو ؟؟؟ “
” ہاں میں آنے سے پہلے شہر کی ہر مسجد میں اعلان کروا کر آئی ہوں کہ کیاں جا رہی ہوں۔ کم آن دعان “
وہ بدمزہ ہوئی۔ وہ اسکے پاس آ بیٹھا تھا۔
” مجھے جب ڈیڈ نے بتایا کہ وہ پاکستان آئے ہیں تو مجھے یقین تھا کہ تم ساتھ آئے ہو گے۔ کیونکہ سات سمندر پار وہ بس مجھ سے ملنے تو نہیں آئے ہیں۔ ہیں ناں دعان ؟؟؟؟ “
وہ نظریں چرا گیا۔
” مجھے پتہ تھا۔ ہو گا انکا کوئی کالا دھندا جسے وہ وہاں بیٹھے سفید نہیں کر سکے ہوں گے۔ تبھی تمہیں ساتھ لیکر یہاں تک آگئے۔ “
” نوریہ “
وہ رسان سے بولا
” تم اس سب سے دور رہو “
اس نے بھی جواباً بغور اسے دیکھا
” ٹھیک ہے۔ پھر وہ بھی میرے دل کے معاملات سے دور رہیں “
وہ اسکی بات نہیں سمجھ سکا تھا
” میں اب اس سب سے اوب چکی ہوں دعان۔ یہ چوہے بلی کا کھیل، یہ چور سپاہی۔ میں اب احمر کو ٹالتے ٹالتے بھی تھک چکی ہوں۔ وہ مرد ہے، مجھ پہ اسکا حق ہے، وہ کب تک اپنی خواہشات دبا کر جیتا رہے گا ؟؟؟؟ وہ جو چاہتا ہے، وہ مجھے کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اسی لئیے سب کچھ چھوڑ چھاڑ میں تمہارے پاس آ چکی ہوں “
وہ زرا رکی تھی۔
” اور تم بھی تو یہی چاہتے تھے ناں “
” لیکن تب تم نے منع کردیا تھا نوریہ۔ یاد ہے تم نے کیا کہا تھا ؟؟؟؟ “
اس نے اثبات میں سر ہلا دیا تھا
” اب شائد مجھے فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ مجھے لگنے لگا ہے اگر میں تم تک نہیں پہنچی تو میں پوری کی پوری مر جاؤں گی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلیم حافی نے شاکڈ نظروں سے اسے دیکھا تھا جو سر جھکاۓ کھڑا تھا۔
” احمر ؟ میں نے کچھ پوچھا ہے ؟؟؟؟ کیا تجھ میں زرا سی بھی شرم حیا باقی نہیں بچی ہے ؟؟؟؟؟؟ “
وہ کچھ نہیں بول سکا تھا
” کیا ہے یہ سب ؟؟؟؟ کیا ہے ؟ جواب دے مجھے ؟؟؟؟ “
وہ خاموش کھڑا بوٹ کی نوٹ سے فرش رگڑتا رہا تھا۔
” اور کتنی زندگیاں برباد کرے گا تو ؟ اب کی بار کس کی موت چاہئیے تجھے ؟؟؟؟؟ “
اس نے تڑپ کر سر اٹھایا۔ اسکی انکھوں میں صدمہ اتر آیا تھا۔ کلیم حافی کو بے بسی سے دیکھتا وہ کچھی بھی نہیں بول سکا تھا۔
” آپ۔۔۔۔۔ ڈڈ۔۔۔ ڈیڈ آپ بھی ؟؟؟؟ “
وہ ایک لمحے کو چپ رہ گئے اور پھر میز پہ پڑا وہ پرچہ اٹھا کر اسکے سامنے لہرایا
” اسے میں اور کیا سمجھوں احمر ؟؟؟؟ اسکے ہوتے ہوۓ بھی تم سچے ثابت ہو سکتے ہو ؟؟؟؟؟؟ “
ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو کلیم حافی آندھی طوفان کی طرح گھر آئے تھے۔ وہ اپنے کمرے میں یوں اچانک نوریہ کی گمشدگی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا جب انہوں نے اسے طلب کر لیا تھا اور اس پہ سارا عقدہ کھلا تھا۔
” یہ مجھے نوریہ نے دیا ہے۔ خدا جانے اس تک یہ کیسے پہنچا۔ مجھے نہیں پتہ اور نا ہی میں نے اس سے پوچھا احمر۔ اس سے فرق نہیں پڑتا۔ فرق اس بات سے پڑتا ہے کہ تم ایک بار پھر مجرم بنے میرے سامنے کھڑے ہو “
وہ زرا رکے۔ دو قدم آگے بڑھ کر اسکے سامنے آ کھڑے ہوۓ۔
” تو مجھے بتاؤ احمر۔ تم کون ہو ؟؟؟؟ کون ہو تم جسے میں پہچان نہیں پا رہا ہوں ؟؟؟؟؟؟ “
” میں آپکا بیٹا ہوں ڈیڈ “
انہوں نے شدت سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمال نیازی غصے سے دھاڑ رہے تھے۔
” مجھے قسم ہے حافی اگر میری بیٹی کے ساتھ کچھ ہوا تو میں تمہارے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے گولی مار دوں گا “
کلیم حافی وہیں سر پکڑے صوفے پہ بیٹھے تھے۔ نوریہ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ اسے گھر سے غائب ہوۓ چھ گھنٹے ہو چکے تھے۔ اسکا سامان غائب تھا، فون بند تھا اور کچھ اتا پتہ نہیں تھا۔
کمال نیازی کا پہلا شک دعان پہ ہی گیا تھا۔ انہوں نے اسکے ٹھکانے کی وہ خود چھان بین کر چکے تھے۔ وہاں نوریہ کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
” کیوں کیا تمہارے لڑکے نے میری بیٹی کے ساتھ یہ سب ؟؟؟ تمہیں پتہ بھی ہے میں نے اسے کتنا سمجھا بجھا کر پاکستان بھیجا تھا۔ اسے کتنی مشکل سے یقین دلایا کہ یہ خوبصورت ہوگا کسی ایسے انسان کو جیون ساتھی بنانا جسے ہم زیادہ نہیں جانتے ہو۔ میں نے اسے پہیلیوں سے محبت کرنا سکھایا اور تمہارے بیٹے نے یہ راز رکھا۔ حافی، بتاؤ اس نے یہ سب کیوں کیا ؟؟؟؟؟ “
انہوں نے تھکے تھکے انداز سے نفی میں سر ہلایا تھا۔
” مجھے کچھ نہیں پتہ نیازی۔ اس نے کہا ہے یہ راز نہیں تھا۔ نوریہ یہ پہلے سے جانتی تھی اور احمر سے نکاح کرتے وقت اس نے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق نہیں دے گا “
کمال نیازی غصے سے آگ بگولہ ہو گئے تھے۔
” تمہیں کیا لگتا ہے میں بیوقوف ہوں یا میری بیٹی پاگل ہے ؟؟؟ تم مجھے کوئی بھی کہانی سناؤ گے اور میں اس پہ ایمان لے آؤں گا ؟؟؟؟ “
” میں نے اپنے بیٹے سے بھی یہی کہا ہے یار۔ میں نے اسکی ساری باتوں کو بھی جھوٹی کہانی ہی کہا ہے “
کمال نیازی بھی تھک کر وہیں انکے برابر میں بیٹھ گئے تھے۔ حافی نے انہیں بغور دیکھا تھا۔ افسردگی سے، شرمندگی سے، بے بسی سے۔
” میں تجھ سے شرمندہ ہوں یار۔ یہ نہیں ہونا چاہئیے تھا۔ شائد میرا خاندان ہی تیری بیٹیوں کے لئیے منحوس ہے۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہاں بھئی تمہارے تو مزے ہیں۔ ایک نوکری چھوڑتی ہو تو دوسری تیار ملتی ہے۔ ایک میرا بیٹا ہے، دو سال ہو گئے نوکری ڈھونڈتے، کلرک تک کی جاب نہیں ملی “
وہ عورت پڑوس سے آئی تھی۔ ملائکہ کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔
” میں نے تمہارا بتایا کہ ملائکہ کو تو جلدی نوکری مل گئی ہے تو ہنس کر کہتا ہے جو ملائکہ کے پاس ہے وہ میرے پاس تو نہیں ہے ناں “
وہ ایسے طنز سے ٹھٹھہ مار کر ہنسی تھی۔ ملائکہ کو تپ چڑھی لیکن ضبط کر گئی۔
” ویسے برا مت منانا لیکن تم بھی تھوڑا احتیاط سے کام لیا کرو۔ اب پر ہوگا تو کوا تو بنے گا ناں۔۔۔۔ کئی بار رات کو میں نے تمہیں خود دیکھا گاڑی میں مردوں کے ساتھ آتے ہوۓ۔۔۔ “
” آپ کہنا کیا چاہتی ہیں ؟؟؟ دھندہ کرتی ہوں کیا میں ؟؟؟؟؟ “
وہ یکدم بولی۔ وہ عورت سٹپٹا کر رہ گئی۔
” نہیں میرا مطلب۔۔۔۔ “
” دو چھوٹے بچے اور ایک جواں بہن۔ میری ضروریات پوری کرنے کے لئیے کون یہاں بیٹھا ہے خالہ ؟؟؟؟ وہ سب جنکو میری جاب کرنے یا رات کو دیر سے آنے پہ اعتراض ہے، انہیں کہئیے میرے گھر کا خرچہ اٹھائیں، میں گھر سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالوں گی۔۔۔۔ “
وہ بولتی چلی گئی تھی۔
” ارے تم تو برا منا گئیں۔ میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ اب دیکھو نا معاشرہ تو سوال جواب کرتا ہے ناں۔ “
اس عورت کے جانے کے بعد بھی بہت دیر وہ اسکی باتوں سے اٹھتی تپش سے جلتی رہی تھی۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا۔ سات سالوں سے وہ ایسی باتیں، یہی سارے الزام سن رہی تھی۔ کہنے کو تو عادت ہو گئی تھی لیکن اخر کو انسان تھی، ایک حد کے بعد اسکی برداشت کی حد بھی ختم ہو جاتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
احمر گھر پہ ہی تھا جب اسے کلیم حافی کی کال آئی تھی۔ نوریہ کو گھر سے غائب ہوۓ دو دن ہو چکے تھے اور ابھی تک اسکا کچھ پتہ نہیں چلا تھا۔ کمال نیازی اور کلیم حافی اسے ہی ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے۔
” فوراً انصر کے آفس پہنچو۔ نوریہ کے بارے میں پولیس کچھ بات چیت کرنا چاہتی ہے “
وہ زرا ہچکچایا
” ڈیڈ۔ آپ کو پتہ ہے میں وہاں نہیں آؤں گا “
” احمر “
اب کی بار وہ سختی سے بولے تھے۔
” اپنی نفرت کی جنگیں تم بعد میں لڑتے رہنا۔ ابھی اپنی داؤ پہ لگی عزت کی لڑائی جیتنے کی کوشش کرو “
وہ چپ رہ گیا
” کمال بھی یہیں پہ ہے۔ تم بھی جلدی پہنچو “
وہ پہر پٹخ کر رہ گیا
” کیا مصیبت ہے۔ اس عورت نے مجھے ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔ مجھے اسکی باتوں میں آنا ہی نہیں چاہئیے تھا۔ یہ میں نے اپنے پیروں پہ خود کلہاڑی مار لی ہے۔ “
وہ مرتا کیا نا کرتا انصر کے آفس جانے کے لئیے نکلا تھا۔ اتنے سالوں بعد وہ وہاں آیا تھا۔ بیشتر عملہ تبدیل ہو چکا تھا۔ پہلے والے سٹاف میں سے کوئی بھی شناسا چہرہ دکھائی نہیں دیا تھا۔ وہ اندازے سے چلتا انصر کے آفس کی طرف جا رہا تھا جب اس نے اپنی پشت پہ وہ آواز سنی تھی۔
” ایکسکیوزمی سر۔۔۔۔ آپ یوں بنا بتاۓ اندر نہیں جا سکتے ہیں “
اس شناسا سی آواز پہ وہ حیرانی سے پلٹا اور ایک لمحے کے لئیے شاکڈ رہ گیا۔ وہ ملائکہ تھی جو اس سے دو گنا حیرانی سے گنگ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” دنیا کی کوئی عورت ایسی ہے جس سے تیرا کوئی تعلق نا رہا ہو ؟؟؟؟؟ “
احمر نے طنز میں بھیگی اپنے بڑے بھائی کی آواز سنی تھی۔ وہ عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔
” دوسری بیوی جانے کہاں غائب ہے، پہلی والی کا کچھ آگا پیچھا پتہ نہیں اور جناب یہاں کھڑے ایک اور ہی خاتون سے باتیں مٹکا رہے ہیں۔ بھئی واہ “
اس نے طنزیہ انداز میں تالی بجائی تھی۔ احمر ضبط کئیے کھڑا رہا۔
” ڈیڈ کہاں ہے ؟؟؟؟ “
جواباً اس نے کندھے اچکا دئیے۔ ملائکہ ابھی تک شرمندہ سی کھڑی تھی۔ کچھ نا کرتے ہوۓ بھی اسے اپنا آپ مجرموں جیسا محسوس ہو رہا تھا۔
” ویسے کتنی بے شرمی چاہئیے ہوتی ہے ناں یہ سب کرنے کے بعد بھی سر تان کر چلنے کے لئیے ؟؟؟ یوں اکڑ دکھانے میں ؟؟؟ ان گنت زندگیاں برباد کرنے کے بعد بھی یوں ڈھٹائی کے ساتھ جینے کے لئیے ؟؟؟؟ “
” میں آپکا لحاظ کر رہا ہوں “
احمر دبے دبے انداز میں غرایا تھا
” یاد رہے میں یہ ہمیشہ تک نہیں کر سکوں گا “
” یہ دھمکیاں کسی اور کو دینا “
انصر کے چہرے کے تاثرات بھی بدلے تھے۔ اسکی آنکھیں شعلے برسانے لگی تھیں۔
” مجھے سالوں پہلے والا وہ انسان مت سمجھنا جو اپنے نقصان پہ خاموش ہو گیا تھا۔ میں کھڑے کھڑے تیرے جیسوں کی بوٹیاں کتوں سے نچوا دوں گا سمجھا ؟ “
احمر نے غصے سے دیکھتا آفس کی طرف بڑھ گیا تھا
” ہاں ہاں جا۔۔۔ بھلائی اسی میں یے۔۔۔ عورتوں کی طرح پولیس والوں کے آگے رو پیٹ کر سچا ہو جا ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ ڈیڈ ہی ناں تیرا پھیلایا گند سمیٹنے کے لئیے ۔۔۔۔۔۔۔ “
احمر پلٹا نہیں تھا
” اچھا ہوا جو تیری اصلیت دیکھ کر نوریہ وقت پہ تیری زندگی سے نکل گئی۔ وگرنہ حوریہ کی طرح سسک سسک کر مر جاتی۔۔۔۔۔ جانے کون ہو گی وہ جو تیری باتوں میں آ کر تجھ سے نکاح کر بیٹھی۔ کوئی مجبور بے بس ہو گی یا پھر یہ کہ تیرے جیسی ہی کوئی آوارہ جسے حلال بھی حرام بنا کر کھانا آتا ہو گا۔۔۔۔ “
اور یہ احمر کی برداشت کی حد تھی۔ وہ مٹھیاں بھینچتا، لال بھبھوکا چہرہ لئیے پلٹا تھا۔ ملائکہ کا خفت سے برا حال تھا۔ احمر کا دل قہر سے بڑھ گیا تھا۔ وہ انصر کی طرف بڑھا اور پوری قوت سے اسکے چہرے پہ مکا دے مارا تھا۔ وہ اس اچانک حملے کے لئیے تیار نہیں تھا۔ لمحوں میں وہ دونوں گتھم گتھا ہو چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کلیم حافی ان دونوں پہ برس رہے تھے۔
” کہاں سے پڑھے لکھے لگ رہے ہو تم دونوں ؟؟؟؟ ہو کون تم دونوں ؟؟؟ غنڈے موالی ہو، چھٹے ہوۓ بدمعاش ؟؟؟ ہیں ؟؟؟؟ دیکھو خود کو اور فیصلہ کرو “
احمر نے پھٹے ہوۓ کف سے ہونٹ سے بہتے خون کو صاف کیا تھا۔ ہلکی آسمانی شرٹ پہ دور تک خون کے داغ تھے۔ یہی حال انصر کا تھا جو صوفے پہ بیٹھا شعلہ بار نئروں سے اسے دیکھ رہا تھا
” اپنے اس لاڈلے سے پوچھیں یہ کون ہے ؟؟؟ دوسروں کے گھر گھس کر بدمعاشیاں کرنے کے سوا بھی اسے کوئی کام آتا ہے ؟؟؟؟ “
” اور اپنے اس بڑے سوٹڈ بوٹڈ ائیڈیل بیٹے سے بھی پوچھیں کہ اپنی گندی زبان سے مغلوضات بکنے کے سوا بھی انہیں کچھ آتا ہے کہ نہیں۔۔۔ “
” چپ۔ “
انہوں نے ڈپٹا۔ کمال نیازی بھی وہیں سر پکڑے بیٹھے تھے۔ پولیس کو حافی صاحب نے ہی سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیا تھا۔
” اس سے پوچھیں ڈیڈ۔ اس نے شروعات کی ہے۔ اس سے پوچھیں جس کے نام پہ اسے مرچیں لگی ہیں، کون ہے وہ ؟؟؟؟ “
انصر نے کلیم حافی سے کہا تھا۔
” ایسی کونسی نیک پارسا ہے وہ بی بی جسکے بارے میں یہ کوئی بات نہیں سن سکتا ؟؟؟ ایسی وہ نیک پروین کہ یوں چھپ چھپا کر اس سے نکاح کر سکتی ہے ؟؟؟؟؟ “
احمر نے کن انکھیوں سے دیکھا۔ ملائکہ ایک طرف کرسی پہ سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔ تب سے جب یہ سارا فساد مچا تھا، احمر نے اسکا سر جھکا ہی دیکھا تھا اور یہ بات اسکے لئیے شدید تکلیف دہ تھا۔ وہ مرد ہو کر پچھلے سالوں میں یہ گالی سن کر تکلیف سے بلبلا اٹھتا تھا، وہ تو پھر کانچ جیسی عورت تھی۔ انصر جانے انجانے اسکے لئیے جو جو الفاظ کہہ چکا تھا، اسکے بعد وہ خود کی نظروں میں ہی گر چکی تھی۔
ایک لمحے کو اسکی نظریں اٹھیں تو ملائکہ نے احمر کو خود کو دیکھتے پایا تھا۔ اسکی آنکھیں پانیوں سے لبا لب تھیں۔ اور صرف آنسو نہیں، ان دو مجبور بے بس آنکھوں میں اور نجانے کیا کچھ تھا جو تیر رہا تھا۔ غصہ تھا جو اس کو خود پہ بھی تھا، خود کو دیکھتے انسان پہ بھی اور اپنے بے بسی پہ بھی۔ اس لمحے پہ بھی جب وہ اس رشتے میں بندھ گئی تھی۔ اور دکھ تھا، اور۔۔۔۔۔
” احمر۔۔۔۔ تمہارا بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے۔ کوئی اتہ پتہ نہیں، کوئی آگا پیچھا نہیں، ایسی کونسی مصیبت تھی جو یہ نکاح ہوا۔ اور یوں نکاح، چوری چھپے۔ ایسے تعلق کو حلال ہوتے ہوئے بھی گالی ہی کہا جاتا ہے “
وہ انہیں نہیں دیکھ رہا تھا۔ وہ بس یک ٹک ملائکہ کو دیکھ رہا تھا اور اسکی نظروں سے پوچھ رہا تھا۔ وہ سوال جسکا جواب بس وہ دے سکتی تھی۔
” بتاو، کون ہے وہ لڑکی ؟؟؟؟ بولو۔ آج ایک زبان ہے، کل دس اور ہوں گی، کس کس کو چپ کرواؤ گے، کہاں تک مار پیٹ کرو گے ؟؟؟؟؟ بتاؤ۔۔۔۔ “
احمر نے دیکھا اس نے ہولے سے آنکھیں موند لی تھیں۔ وہ اپنی جگہ سے ہٹا اور ملائکہ کی طرف بڑھا تھا۔ اسکی کرسی کے پاس ٹھہر کر ایک گہری سانس بھری اور ہولے سے اپنا ہاتھ اسکی اور بڑھایا تھا۔ آہٹ پہ آنکھیں کھول کر ملائکہ نے اسے دیکھا اور اسکے بڑھے ہوۓ ہاتھ کو۔ ایک لمحے کا توقف اور اس نے کانپتے ہاتھ سے اسکا ہاتھ تھام لیا تھا۔
کمرے میں موجود باقی باقی تینوں نفوس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں۔
” یہ ملائکہ ہے۔ ملائکہ احمر حافی۔ وہ عورت جس کے ساتھ خدا کو حاظر ناظر جان کر میں نے نکاح کا تعلق جوڑا ہے۔ اب بھی کسی نے اس تعلق کو گالی کیا اور سمجھا تو اس پہ خدا کا عذاب اور میرا قہر برسے گا۔ “
وہ مضبوط لحجے میں کہتا ہوا اس کا ہاتھ پکڑے کمرے سے نکلتا چلا گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
