Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar NovelR50578 Ahl e Dil (Episode 07)
Rate this Novel
Ahl e Dil (Episode 07)
Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar
گاڑی میں موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی, احمر چہرے پر انتہائی سختی کے آثار لئے چپ چاپ گاڑی چلا رہا تھا جبکہ ملائکہ اس کے برابر والی سیٹ پر پشت سے ٹیک لگاۓ کھڑی کے باہر دیکھے جا رہی تھی, اس کی گود میں رکھے ہاتھوں کی کپکپاہٹ احمر کی نظروں سے پوشیدہ نہیں تھی, وہ پتھرائی ہوئی نظروں سے مسلسل شیشے کے اس پار دیکھے جا رہی تھی…. بالکل خاموش
“گھر کہاں ہے ؟؟؟” کچھ دیر بعد احمر نے اس وحشت ناک خاموشی کو توڑا تھا, ملائکہ نے جیسے سنا ہی نہیں, ٹکٹکی باندھے ہنوز شیشے کے پار دیکھتی رہی
“ملائکہ… ” احمر نے ذرا اونچی آواز میں اسے پکارا
“جج… جی… ” وہ یکلخت چونک گئی
“گھر کہاں ہے تمہارا… ؟” اس نے پھر پوچھا, ملائکہ نے مختصراً ایڈرس بتا دیا, احمر اسی خاموشی سے ڈرائیو کرتا ہو گاڑی اس کے گھر لے آیا تھا, ملائکہ خاموشی سے نیچے اتر گئی, احمر اس کے پیچھے ہی اندر داخل ہوا تھا
“اپنا اور بچوں کا جتنا بھی ضروری سامان ہے وہ سمیٹ لو, باقی چھوڑ دو, میں انتظار کر رہا ہوں… ” وہ برآمدے میں پڑی چارپائی پر بیٹھتے ہوۓ بولا تھا, ملائکہ شش و پنج میں مبتلا اس سے دو قدم کے فاصلے پر کھڑی تھی
“بھابھی آپ جلدی آ… ” فریال اندر سے نکل کر آئی اور احمر کو دیکھتے ہی اس کا جملہ ادھورا رہ گیا, بڑی ہونق سی نظروں سے وہ بیچاری کبھی ملائکہ کو دیکھتی اور کبھی احمر کو…
“فریال بیٹے… آپ اپنا ضروری سامان پیک کر لو, کپڑے اور کتابیں وغیرہ, میں آپ کو ساتھ لیجانے آیا ہوں” ملائکہ کو ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر اس نے فریال سے کہا, وہ پریشان سی نظروں سے ملائکہ کی طرف دیکھنے لگی
“ہم میں سے کوئی اپ کے ساتھ نہیں جاۓ گا احمر… ” ملائکہ نے دھیرے سے کہا
“کیوں… ؟” وہ بولا
“کیونکہ میں صرف آپ کی کاغذی بیوی ہوں اور بس… اگر آپ کا مجھ پر کوئی حق نہیں تو میرا بھی بھی آپ پر کوئی حق نہیں ہے احمر حافی… آپ میرے یا میری فیملی کے لئے ذمہ دار نہیں ہیں” وہ کہتی چلی گئی
“ملائکہ… ” وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا
“آج… ابھی… اسی وقت… میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا تم سے بنایا وہ کاغذی رشتہ ہی سب سے سچا ہے, خدا کی قسم میں پوری دنیا کے سامنے اس بات کا اقرار کرنے کو تیار ہوں کہ تم میری بیوی ہو, کسی دباؤ کے بغیر, کسی ڈر کے بغیر, کسی شرط کے بغیر… میں اپنی پوری زندگی تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں…” وہ کہتا چلا گیا
“اب تم اس کاغذی رشتے والے جھوٹ کو ایک طرف رکھ کر مجھے بتاؤ کے تم میرے ساتھ کیوں نہیں جانا چاہتیں… ؟” احمر نے پوچھا
“میں آپ کی پسند نہیں ہوں احمر… ” وہ بولی تو آواز میں نمی سی گھل گئی
“میں ایک انتہائی عام سی عورت ہوں جسے دنیا والے نہ تو سہاگن کہتے ہیں, نہ بیوہ… اور نہ مطلقہ… سات سال سے میں اکیلی ہوں احمر… اور دنیا والوں کی نظروں میں سات سالوں سے میرا کردار ایک سوالیہ نشان ہے… میرے دو بچے ہیں, فریال میری ذمہ داری ہے, شوہر نہ جانے زندہ ہے یا نہیں کوئی پتہ نہیں… اور سب سے بڑھ کر احمر… میں آپ کے باپ اور بھائی کی نظروں میں ایک دھوکے باز اور فراڈ عورت کے سوا کچھ نہیں ہوں” وہ کہتی جا رہی تھی. آنسو پھسل پھسل کر گالوں پر بہے چلے جا رہے تھے
“ملائکہ… ” احمر اس کے عین سامنے آیا تھا
“ساری دنیا اور دنیا والے گئے بھاڑ میں… مجھے بس اتنا بتا دو کہ تم میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو یا نہیں… ؟” احمر نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر پوچھا تھا, ملائکہ نے خالی خالی نظروں سے اسے دیکھا
“اگر نہیں… تو میں ابھی اسی وقت تمہیں آزاد کرنے کے لیے تیار ہوں, خدا کی قسم اس کے بعد کبھی تمہارے راستے میں نہیں آؤں گا لیکن… ” وہ کہتا ہوا رکا, ملائکہ نے واضح طور پر اپنے ہاتھوں پر اس کے ہاتھوں کی گرفت کو مضبوط ہوتا محسوس کیا تھا
“اگر تمہارا جواب ہاں میں ہے… تو یقین کرو مرتے دم تک میں تمہارے ساتھ ہوں, دنیا والوں کے سامنے میں ہمیشہ تمہاری ڈھال بن کر کھڑا ہوں گا ملائکہ… مجھے میرے رب کی قسم میرے ہوتے کوئی تم پر انگلی نہیں اٹھاۓ گا” وہ بولا تھا, ملائکہ نے فریال کی طرف دیکھا, پھر اس کے پیچھے کھڑے دونوں بچوں کو… پھر احمر کو
“اور نوریہ کمال… ؟” اس نے پوچھا
“نوریہ کمال کو احمر حافی سے کوئی سروکار نہیں تھا… اور نہ ہی کبھی ہو گا” وہ بولا تھا
“مجھے پندرہ, بیس منٹ لگیں گے” ملائکہ نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
…………………………….
“ڈیڈ… ایم سوری, میں نے بہت کوشش کی لیکن… میں نہیں کر پائی… اور کوئی بھی نہیں کر پاتا, محبت سے دستبرداری موت ہوتی ہے ڈیڈ… اور جیتے جی بھلا کون موت کو گلے لگاتا ہے…؟ میں نے سوچا تھا کہ جیسے آپی نے شادی کے بعد ہار مان لی تھی … ویسے ہی شائد میں بھی مان لوں گی لیکن… میں اسے نہیں چھوڑ سکتی ڈیڈ… اور آپی کی دفعہ شاید آپ ٹھیک ہوں گے لیکن میری دفعہ آپ بھی دھوکہ کھا گئے, جو آپ نے میرے لئے چنا… وہ قطعاً میری دل کی قدر نہیں کرتا… سوری”
انہوں نے ایک بار پھر اس کا چھوڑا ہوا خط پڑھا تھا, ساتھ ہی احمر اور ملائکہ کا نکاح نامہ تھا, دونوں چیزیں سامنے میز پر پھینکتے ہوئے انہوں نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا لی اور آنکھیں موند لیں
“ڈیڈ پلیز… میری شادی انصر سے نہ کریں, میں اس کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گی ” ان کی سماعتوں سے حوریہ کی آواز ٹکرائی تھی
“انصر تمہارے لئے بالکل پرفیکٹ ہے حوریہ… میرے ساتھ بیکار کی بحث مت کرو”
“پلیز ڈیڈ… I love someone else” وہ شاید روئی تھی
“حوریہ… کلیم میرا دوست ہے… اور مجھے اپنے بزنس میں اس کی دوستی کی اشد ضرورت ہے, اس نے خود مجھ سے تمہارا رشتہ مانگا ہے… اور میں نے اسے ہاں کر دی یے” انہیں یاد آ رہا تھا کہ ماضی میں وہ اپنی پہلی بیٹی کی دفعہ بھی کیسے پتھر بن گئے تھے
“ڈیڈ… پلیز… ” حوریہ کی سسکیاں بڑھتی جا رہی تھیں
“ڈیڈ پلیز… مجھے تھوڑا سا وقت چاہئے ” نوریہ کی آواز کے ساتھ ہی انہوں نے یکدم آنکھیں کھول دیں
“دعان… ” ان کے لبوں سے پھسلا تھا, ساتھ ہی انہوں نے اپنا موبائل اٹھایا…دعان کا نمبر مسلسل بند تھا, وہ ایک ایک کر کے اس کے سارے کانٹیکٹ نمبرز ملاتے چلے گئے… سبھی بند
تھک ہار کر انہوں نے کسی اور کا نمبر ملایا تھا
“جی باس… “
“دعان کا پتہ لگاؤ… کہاں ہے ؟؟؟” انہوں نے کہا
“دعان پچھلے تین دن سے نیٹ ورک سے باہر ہے باس… “
“تو ڈھونڈو اسے… کسی بھی طرح ” وہ چلاۓ تھے
“سوری باس لیکن… دعان کو ہم قیامت تک نہیں ڈھونڈ سکتے سواۓ اس کے کہ وہ خود اپنا پتہ دے دے” دوسری طرف سے کہہ کر کال کاٹ دی گئی تھی
…………………………
شام کے ساۓ لمبے ہونے رہے تھے جب وہ ملائکہ اور بچوں کو لیکر حافی ہاؤس پہنچا…چوکیدار نے اس کی گاڑی دیکھتے ہی گیٹ کھول دیا تھا
“بابر… یہ سارا سامان اوپر میرے کمرے کے ساتھ والے کمرے میں پہنچا دو” ملازم سے کہتا ہوا وہ ملائکہ کیطرف مڑا
“آؤ… ” اس نے حسن کی انگلی پکڑتے ہوئے ملائکہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا تھا, وہ چپ چاپ فریال کے ہوائیاں اڑتے چہرے کو دیکھ کر اس کے پیچھے ہو لی, پریشانی کے عالم میں احمر گیراج میں کھڑی انصر کی بلیک کرولا کو نوٹس نہیں کر سکا تھا
“وہ آ گئے ہمارے انتہائی دردمند اور غم خوار دل رکھنے والے چھوٹے بھیا… مسٹر احمر کلیم حافی” اسے دیکھتے ہی انصر نے طنز کیا تھا…پچھلے پانچ سالوں میں وہ آج پہلی بار حافی ہاؤس آیا تھا
“دیکھا ڈیڈ… میں نے کہا تھا نا کہ آپ کا لاڈلا سپوت اپنی بیگم صاحبہ اور اس کی آل اولاد کو ہی لینے گیا ہو گا… اور ایسا ہی ہوا… دیکھ لیں…” انصر کے چہرے پر ناگواری ہی ناگواری تھی
“بابر… بچوں کو ان کے کمرے میں چھوڑ آؤ… ” احمر نے اس کی سنی ان سنی کرتے ہوئے ہوۓ ملازم سے کہا, وہ سر ہلا کر اوپر کی طرف بڑھ گیا
“جاؤ… ” ملائکہ نے دھیرے سے فریال کے کانوں میں سرگوشی کی تھی, وہ چپ چاپ دونوں بچے لیکر اوپر چلی گئی
“احمر… کون ہے یہ…. ؟” کلیم حافی جیسے ڈھے سے گئے
“میری بیوی… “
“فیملی کہاں ہے اس کی… ؟” انہوں نے پھر پوچھا
“فیملی تو ہے ہی نہیں اس کی ڈیڈ.. سات سالوں سے اکیلی دھکے کھا رہی ہے, شوہر کب کا جان چھڑوا کر چلا گیا اور پھر مڑ کر دیکھا بھی نہیں کہ یہ کن حالوں میں ہے… اب خدا جانے کیوں چلا گیا… ؟ یا خدا جانے اس کا کوئی شوہر تھا بھی یا… ” انصر فل ٹائم برس رہا تھا
“بھائی بس… ایک لفظ بھی اور نہیں” احمر دہاڑا
“اگر تو نے اس سے نکاح کر لیا تھا تو نوریہ سے شادی کے لئے حامی کیوں بھری… ؟” کلیم حافی نے پوچھا, احمر نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے انہیں سب بتا دیا, اد بات سے قطع نظر کے وہ یقین کریں گے یا نہیں… سب کچھ
شروع سے لیکر آخر تک… ایکسپو سے لیکر نوریہ سے نکاح تک
“نوریہ سب جانتی تھی ڈیڈ… اسے سب پتہ تھا,مجھے بہت اچھی طرح اندازہ تھا کہ وہ مجھے کبھی نہ کبھی تو بلیک میل ضرور کرے گی لیکن… اتنی جلدی کر دے گی یہ نہیں سوچا تھا” وہ کہتا چلا گیا
“نوریہ کہاں ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“پتہ نہیں… “
“تیرے اور اس کے آپس کے رشتے کا کیا بنا… ؟؟؟” انہوں نے پھر پوچھا
“اسے مجھ سے کوئی رشتہ نہیں بنانا تھا ڈیڈ… وہ صرف اپنے ڈیڈ کے مجبور کرنے پر پاکستان آئی تھی, اسے بس مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کا کوئی ایک موقع چاہیے تھا جو قدرت کی ستم ظریفی کہ اسے… پاکستان آتے ہی مل گیا” احمر نے کہا
“احمر… ” کلیم حافی ایک لمبی سانس بھر کر اٹھ کھڑے ہوئے, ملائکہ نا محسوس سے انداز سے احمر کے پیچھے کو ہو گئی تھی
“جب میں نے پوچھا تھا کہ… تو نوریہ سے شادی کرے گا… ؟؟؟ تب مجھے کیوں نہیں بتایا… ؟؟؟” وہ پوچھ رہے تھے
اور احمر چپ تھا… بول نہیں سکا تھا
کہہ نہیں سکا تھا کہ بس یہ ہی میری غلطی تھی… بس یہ ہی خطا ہو گئی جس کا دوشی ہوں میں
“احمر… میں کچھ پوچھ رہا ہوں… جب اس سے نکاح کر لیا تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا… ؟؟؟” وہ مزید دو قدم آگے کو آۓ, احمر کا جھکا سر اٹھ نہیں سکا تھا
“احمر… ” ان کا زناٹے دار تھپڑ احمر کا گال رنگ گیا تھا, ملائکہ کا رنگ فق ہو گیا
“میں… ڈر.. گیا تھا ڈیڈ… ” احمر نے اٹک اٹک کر کہا تھا
“کس سے… ؟؟؟
“سب سے… آپ سے… بھائی سے… اپنے آپ سے” وہ بولا
” ڈیڈ… مجھے بس اپنے آپ کو سرخرو کرنا تھا… مجھے بس آپ کو مطمئن کرنا تھا… مجھے بس بھائی سے معافی مانگنی تھی… مجھے بس ایک بار پھر اپنے لیے… بدکردار… نہیں سننا تھا ” انصر کی برداشت ختم ہوئی تھی
“لیکن تو وہی ہے احمر… وہی جو تو اپنے لیۓ نہیں سننا چاہتا… بدکردار… ” وہ لمحہ بھر کو رکا
“مجھے تو اس بات کا بھی یقین نہیں ہے کہ تیرا اور اس لڑکی کا نکاح ہوا بھی ہے یا نہیں… کیونکہ تیرے جیسوں کو نکاح جیسے پاکیزہ بندھن کی کیا ضرورت ہے احمر حافی… تجھ جیسا شیطان اس کے بغیر ہی اپنی ہوس پوری کر لیتا ہے… ” انصر دہاڑ کر بولا تھا
“میں شیطان نہیں ہوں… ” احمر اپنی پوری قوت سے چیخا
“ہر شیطان یہ ہی کہتا ہے… ” انصر نے نفرت سے کہا
“بھائی میں نے… ” احمر نے ایک آخری کوشش کرنا چاہی تھی
“میں کسی بدکردار انسان کا بھائی نہیں ہوں… ” انصر نے کہا
“اور میں آج آخری بار کہہ رہا ہوں کہ میں… بدکردار نہیں ہوں” وہ دو قدم چل کر انصر کے سامنے آیا
“اور خبردار… جو آئیندہ میری لئے یہ لفظ استعمال کیا تو… ؟” وہ ڈٹ کر بڑے بھائی کے سامنے کھڑا تھا
پانچ سال بیت گئے تھے اسے اپنے لیے یہ کالا لفظ سنتے… پانچ سالوں سے وہ اپنے باپ کے سامنے نظریں نہیں اٹھا پایا تھا… اب بس ہو گئی تھی اس کی… جو جرم از نے کیا ہی نہیں اس کی سزا وہ پچھلے پانچ سال سے بھگت رہا تھا
“اوہ… ایک تو چوری…. اوپر سے سینہ زوری… احمر حافی تو آج مر جاۓ تو میں تیری قبر کے کتبے پر لکھوا دوں گا… بدکردار” انصر نے نفرت سے اس کے منہ پر تھوک دیا تھا
اور بس ایک لمحہ… بس ایک پل… احمر کا زور دار مکا انصر کی ناک توڑ گیا
“میں… بدکردار… نہیں ہوں” اس نے انصر کے منہ پر دوسرا مکا مارا تھا
“احمر… بڑا بھائی ہے وہ تیرا” کلیم حافی سن کھڑے رہ گئے, ملائکہ نے بڑی ہمت کر کے احمر کا بازو تھاما تھا, انصر کی ناک اور منہ سے خون نکلنے لگا
“اچھا… چل پھر بتا مجھے کہ تو نے اس رات میری بیوی کو اپنے کمرے میں کیوں بلوایا تھا ؟” انصر چنگھاڑ کر بولا تھا
“خدا کی قسم میں نے نہیں بلایا… وہ خود آئی تھی” احمر اس سے بھی زیادہ اونچی آواز میں بولا
“صرف ایک بار نہیں… دو بار نہیں… بار بار… بار بار وہ میرے راستے میں آئی تھی, بار بار وہ میرے کمرے میں آئی تھی… خدا کی قسم اس نے خود مجھ سے کہا کہ….وہ یہاں خوش نہیں تھی… اسے یہاں آنا ہی نہیں تھا… اسے آپ سے شادی کرنی ہی نہیں تھی… وہ صرف اپنے ڈیڈ کے مجبور کرنے پر آمادہ ہوئی تھی” احمر کہتا چلا گیا
“بالکل ویسے… جیسے نوریہ ” وہ تھکے سے لحجے میں کہتا ہوا سر جھکا گیا, انصر اس کے سامنے بت بنا کھڑا تھا
“میں آپ کا خون ہوں ڈیڈ… مجھے بھی اسی ماں نے جنم دیا ہے جس نے انصر بھائی کو جنم دیا, جس نے احسن کو جنم دیا… تو پھر میں ہی بدکردار کیوں ؟؟؟ میں نے اپنے اکیس سال آپ دونوں کے ساتھ گزارے ہیں ڈیڈ… کیا ان اکیس سالوں کی کوئی گواہی نہیں…؟؟؟” کلیم حافی نے اس کی آواز کی نمی محسوس کی تھی, وہ دھیرے سے چلتا ہوا انصر کے بالکل سامنے آ گیا, پھر ہولے سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سامنے جوڑ دئے
“حالانکہ میرا خدا گواہ ہے کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا… لیکن… میں پھر بھی آپ سے معافی مانگتا ہوں بھائی… مجھے معاف کر دیں… حالانکہ میرا کوئی قصور نہیں لیکن… پھر بھی اگر آپ کے نزدیک میں قصوروار ہوں تو مجھے… معاف کر دیں…خدا کی قسم… میں نے کوئی بدکرداری نہیں کی…میں بدکردار نہیں ہوں” وہ واقعی رو رہا تھا, انصر بس ساکت سی نظروں سے اسے دیکھتا رہ گیا, کلیم حافی بے جان سے ہو کر صوفے پر گر گئے تھے, احمر نے ملائکہ کا ہاتھ پکڑا اور مضبوط قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا
…………………………
پورا آسمان کالے کالے بادلوں سے بھرا پڑا تھا… ہر طرف اندھیرا… گھپ اندھیرا
دور کہیں وقفے وقفے سے بادلوں کی گرج اور بجلی کی کڑک سنائی دے رہی تھی
گھڑی رات کے گیارہ بجا رہی تھی, دونوں بچے فریال کے دائیں, بائیں لیٹے گہری نیند سو رہے تھے, فریال بیچاری بھی آخر کب تک جاگتی… دھیرے دھیرے وہ بھی نیند کی وادی میں اتر گئی
بادل یکدم زور سے گرجا تھا… بچے سہم کر فریال کے ساتھ سمٹ گئے تھے
ساتھ والے کمرے میں احمر کھڑکی کے پاس کھڑا تھا, دونوں ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے… بالکل خاموش
ملائکہ اس سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے کے ایک سرے پر بیٹھی تھی
بادلوں کی گھن گرج بڑھتی جا رہی تھی… یکلخت بجلی کڑکی… کمرے میں یکا یک روشنی سی پھیلی اور اگلے ہی لمحے پانی کی ایک بوند کھڑکی کے شیشے پر آ گری… پھر دوسری… پھر تیسری
“وہ بھی ایسی ہی ایک رات تھی.. سیاہ کالی… خوفناک… وحشتناک… میں یہیں تھا…اسی کمرے میں, اسی کھڑکی کے پاس… بارش ہونے لگی تھی, میں اسے بند کرنے اٹھا تھا جب وہ میرے کمرے میں آئی… وہ… حوریہ کمال… کمال نیازی کی بڑی بیٹی… انصر بھائی کی بیوی… ” احمر کہتا چلا گیا… ملائکہ اسے روکنا چاہتی تھی… کہنا چاہتی تھی کہ احمر مجھے یہ سب کچھ نہیں سننا لیکن… احمر شاید اسے سب سنانا چاہتا تھا
“وہ انصر بھائی کے ساتھ خوش نہیں تھی… شادی کے ایک سال بعد بھی خوش نہیں تھی… اسے واپس جانا تھا… وہ اس رات بھی مجھ سے وہی کہنے آئی تھی جو وہ اس رات سے پہلے ہزاروں بار کہہ چکی تھی
“احمر… پلیز میری مدد کرو, مجھے یہاں نہیں رہنا… ” وہ کچھ دیر رکا
کھڑکی کا شیشہ پانی کی بوندوں نے بھرتا جا رہا تھا, بادل وقفے وقفے سے گرج رہے تھے
“”اور میں نے اس رات بھی اسے وہی جواب دیا جو میں ہر بار دیتا تھا کہ… ایم سوری بھابھی… میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکتا… آپ انصر بھائی سے بات کریں”
“وہ میری بات نہیں سمجھتا… احمر میں اس کے ساتھ خوش نہیں ہوں… مجھے واپس جانا ہے”
“نہ جانے وہ خوش کیوں نہیں تھی… ؟؟؟” احمر رکا
کمرے میں حبس بڑھتی جا رہی تھی… ملائکہ کو لگا جیسے احمر کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی ہو
“احمر… ” ملائکہ نے اسے روکنا چاہا لیکن… احمر آج شاید سب کچھ کہہ دینا چاہتا تھا
“ایم سوری… میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتا…. ” میں نے اسے ایک بار پھر انکار کر دیا, وہ میرے پاس آ گئی… بہت پاس… میرے ہاتھ پکڑ لیے, میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیا… اور… رونے لگی, اس کے آنسو میری شرٹ بھگو رہے تھے, وہ مسلسل میرے ساتھ لگی ہوئی تھی
“احمر… پلیز… ” یکا یک اس نے میرے گرد حصار بنایا تھا… اور… تبھی…اچانک… میرے کمرے کا دروازہ کھلا…”
احمر نے ایک دم کھڑکی کھول دی… ہوا کے تیز جھونکے کے ساتھ ہی بارش کی بوچھاڑ اندر آئی تھی, اس کا چہرہ بھیگتا چلا گیا
“وہ انصر بھائی تھے… انہوں نے بس یہ دیکھا کہ… میں ان کی بیوی کو اپنی بانہوں میں لئے کھڑا ہوں اور…. ” احمر کی جیسے بس ہو گئی, ملائکہ کی آنکھیں خود بخود آنسوؤں سے بھر گئی تھیں
بارش تواتر سے برس رہی تھی, احمر ہنوز کھڑکی کے پاس کھڑا تھا… ہنوز بھیگ رہا تھا
“کوئی گالی ایسی نہیں تھی جو میرے لیے ان کے منہ سے نہ نکلی ہو…میرے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں تھا جہاں زخم نہ آیا ہو… تھپڑ… مکے… ٹھڈے… میرے کمرے کا قالین سرخ ہونے لگا تھا… پھر ڈیڈ آ گئے, انہوں نے بمشکل بھائی کا ہاتھ روکا…اور وہ… وہ بس روتے ہوئے یہ ہی کہے ج رہی تھی کہ… دیکھیں انصر آس نے میرے ساتھ کیا کیا… ؟؟؟” ملائکہ کو اس کی آنکھوں سے بہتے آنسو صاف نظر آ رہے تھے
“پتہ ہے اس رات میرے بھائی نے مجھے کیا کہا… بدکردار…بھائی ہوتے ہوۓ ایسی نیچ حرکت۔۔۔۔ تجھے شرم نہیں آئی میری بیوی کے ساتھ یہ کرتے ہوۓ۔۔۔۔۔ احمر۔۔۔۔ بے غیرت، تیری ماں جیسی تیری بھابھی اور تو۔۔۔۔۔ لعنت ہے۔۔۔۔ تیری اوقات ہی یہ ہے۔۔۔۔ تو جانور سے بھی بدتر ہے ۔۔۔۔ یہاں وہاں منہ مارتا ہے، رال ٹپکاتا ہے، بدنیتی دکھاتا ہے اور امانت میں خیانت کرتا ہے۔ تیری اوقات یہی ہے۔۔۔۔ بدکردار… بدکردار” وہ آنسوؤں سے رو رہا تھا, ملائکہ اٹھ کر اس کے پاس آ گئی, دھیرے سے اس کا ہاتھ پکڑا
“حالانکہ… میں… بدکردار… نہیں تھا… میں نے کچھ نہیں کیا تھا” وہ سرخ آنکھوں کے ساتھ اس کی طرف مڑا
“پانچ سال گزر گئے ہیں… آج بھی کوئی میرا یقین نہیں کرتا… آج بھی سب مجھے… ” ملائکہ نے اس کی بات کاٹ دی
“احمر… مجھے آپ پر یقین ہے…میں یقین ہے کہ آپ نے کچھ نہیں کیا…. ” پانچ سالوں میں وہ واحد تھی جو اسے سچا کہہ رہی تھی… جو اسے بے قصور مان رہی تھی
…………………………
“دیکھیں نا انصر… اس نے میرے ساتھ کیا کیا… ؟؟؟” نہ جانے کب سے وہ ٹیرس کی طرف کھلنے والے اپنے کمرے کے دروازے کی دہلیز پر بیٹھا تھا, نہ جانے کتنی ہی سگریٹیں پھونک چکا تھا, جب کمرے میں دھوئیں اور گھٹن کے باعث سانس لینا دشوار ہو گیا تو دروازہ کھول دیا… بارش اپنے زوروں پر تھی
ہوا کے زور پر پانی کی بوچھاڑ اسے اپنے چہرے پر محسوس ہونے لگی تھی
“دیکھیں نا انصر… اس نے میرے ساتھ کیا کیا… ؟؟؟” وہی ایک آواز… مسلسل… وہی شور
“بھائی… میں نے کچھ نہیں کیا… میں نے کچھ نہیں کیا… ” احمر کی آواز… چیخیں…سسکیاں
“انصر چھوڑ اسے… چھوڑ دے… ” کلیم حافی کی آواز
اس نے کس کے آنکھیں موند لیں… سماعتوں کے پردے پر ان تمام آوازوں میں ایک آواز دو ماہ کے علی کی بھی تھی… مسلسل بلکتا ہوا علی انصر
انصر نے یکدم آنکھیں کھول کر بیڈ کی طرف دیکھا… وہ بچہ کمبل میں سکڑا پڑا تھا
“ڈیڈ میں نے کچھ نہیں کیا…. ” احمر بس یہ ہی کہے جا رہا تھا
وہ تو پچھلے پانچ سال سے یہ ہی کہہ رہا تھا… اس نے تو آج بھی یہ ہی کہا تھا
“بھائی… مجھے معاف کر دیں” قصوروار نہ ہوتے ہوئے بھی وہ اس سے معافی مانگ رہا تھا
“تم خوش ہو نا… ؟؟؟” اسے یاد آیا… اس نے کتنی ہی بار حوریہ سے پوچھا لیکن… وہ ہر بار چپ کر گئی
“حوریہ… آئی لو یو” اس نے کتنی ہی بار کہا لیکن…
“تمہاری بیوی نے تم سے کتنی بار کہا کہ وہ تم سے محبت کرتی ہے انصر کلیم حافی… ” کوئی اس سے پوچھ رہا تھا
“تم اس سے شادی کے لئے آمادہ تھے… تمہیں کیسے پتہ کہ وہ بھی تم سے شادی کے لئے راضی تھی… ؟؟؟ تم نے اس سے کبھی پوچھا… ؟؟؟ ” آواز اونچی ہوتی جا رہی تھی
“اسے کبھی خوش دیکھا تم نے انصر حافی… کبھی ہنستے ہوئے دیکھا… ؟؟؟ کبھی ایک بیوی والی آسودگی دیکھی اس کے چہرے پر… ؟؟؟ کبھی اس سے پوچھا کہ ہر وقت اتنی خاموش کیوں رہتی ہے… ؟؟؟ آس نے جب جب کہا کہ انصر… مجھے تھوڑا وقت چاہیے… تب تب اس سے پوچھا کہ کیوں… ؟؟؟ کس لئے… ؟؟؟ ” اسے لگا کہ آواز اس کے کان پھاڑ ڈے گی, ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں کے باوجود اس کا چہرہ پسینے سے شرابور تھا
پانچ سال پرانی اس کالی رات کا منظر جیسے اس کی آنکھوں میں زندہ ہو گیا تھا
سسکتی ہوئی حوریہ کمال….اور خونم خون احمر حافی
“انصر… رک جا… کہاں جا رہا ہے… ؟؟؟” وہ حوریہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کمرے سے نکلا تھا… آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا, برستی بارش میں وہ اسے لئے گاڑی میں آن بیٹھا تھا
“انصر… ” حوریہ کی سسکیاں خوف میں بدل گئیں تھیں
گاڑی ہوا کی رفتار کو مات دے رہی تھی, آندھی طوفان اپنے زوروں پر تھا… موسلا دھار بارش, بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج…
پھسلن زدہ کول تار کی سڑک پر گاڑی یکدم پھسلی تھی
“انصر… ” حوریہ کی چیخ
گاڑی بے قابو ہوئی تھی اور نیچے کیچڑ میں اتر گئی تھی, حوریہ کا سر شیشے سے ٹکرایا تھا
کوشش کے باوجود وہ سٹئرنگ کو گھما نہیں سکا تھا… فل سپیڈ گاڑی پوری قوت سے الیکٹرک پول سے جا ٹکرائی تھی
“انصر… ” وہ حوریہ کی آخری چیخ تھی جو اس نے سنی تھی
بس اس کے بعد سناٹا ہی سناٹا تھا
