Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar NovelR50578 Ahl e Dil (Episode 05)
Rate this Novel
Ahl e Dil (Episode 05)
Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar
“ہیلو… ملائکہ کیا ہوا ؟؟؟” وہ ٹیرس پر نکل آیا تھا
“احمر پلیز آپ تھوڑی دیر کے لئے گھر آ جائیں, فریال کا کچھ پتہ نہیں چل رہا” ملائکہ نے بمشکل اپنے آنسوؤں پر کنٹرول کیا تھا
“کیا مطلب… ؟ کہاں گئی وہ ؟؟؟” احمر یکدم پریشان ہو گیا
“خدا جانے… روزانہ کالج سے دو بجے تک واپس آ جاتی ہے لیکن آج نہیں آئی, میں نے اپنے طور پر ممکن کوشش کر لی ہے لیکن اس کا کچھ پتہ نہیں چل رہا… احمر پلیز میری مدد کریں… ” ملائکہ کہتی چلی گئی
“اچھا آپ پلیز روئیں نا… میں آ رہا ہوں” وہ کہہ کر واپس اندر آ گیا
“نوریہ ایم سوری… ایک بہت ضروری کام ہے میں بس تھوڑی دیر تک آ رہا ہوں ” وہ اپنی پینٹ شرٹ نکالتے ہوئے واش روم میں گھس گیا
نوریہ کے لبوں پر کھیلتی خفیف سی مسکراہٹ اسے نظر ہی نہیں آئی تھی, تبھی اس کے موبائل کی سکریں روشن ہوئی
دعان کا میسیج تھا
“اب اس لڑکی کا کیا کرنا ہے ؟” نوریہ نے واش روم کی طرف دیکھا, احمر چینج کر کہ باہر نکل آیا تھا
“کہاں ہے وہ… ؟” اس نے ٹیکسٹ کیا
“میں بس ابھی آیا… ” احمر اپنی جیکیٹ پہن کر کمرے سے باہر نکل گیا
“وہ تمہارا درد سر نہیں ہے… ” جلد ہی جواب آ گیا
“اپنے آدمی سے کہو اسے تھوڑی دیر بعد گھر چھوڑ دے…” اسے ٹیکسٹ کرتے ہوئے وہ بستر سے اتر گئی, لب مسلسل مسکرا رہے تھے
“تمہارے ساتھ رہتے ہوئے میں سدھروں نہ سدھروں… میرے ساتھ رہتے رہتے تم ضرور بگڑ جاؤ گی” وہ جوابی میسیج پڑھ کر زور سے ہنسی تھی
کپڑے چینج کر کے وہ باہر نکلی, بالوں کو فولڈ کر کے کیچر لگایا اور لائیٹ آف کرتے ہوئے کمبل میں گھس گئی
احمر نے تو اب کسی صورت ایک دو بجے سے پہلے نہیں آنا تھا
اور ایسا ہی ہوا… وہ ملائکہ کے گھر پہنچا تو اس کا رو رو کر برا حال تھا, فریال کی کسی دوست کو بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ تھا, ناچار احمر نے ولید کو بلایا
“تھانے رپورٹ کرنی پڑے گی… خدا نہ کرے اغواء نہ ہو گئی ہو… ” ولید نے کہا
“اغواء… ” ملائکہ کی سٹی گم ہو گئی
“ملائکہ آپ بچوں کے پاس رہیں, ذرا دھیان سے… کوئی انجان کال آۓ تو مجھے فوری طور پر بتائیے گا, میں اور ولید رپورٹ لکھوا کر آتے ہیں” احمر نے کہا, ملائکہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
رات کا ایک بج رہا تھا جب وہ دونوں پولیس سٹیشن سے باہر نکلے, ابھی احمر نے گاڑی سٹارٹ ہی کی تھی کہ ملائکہ کی کال آ گئی
“فریال گھر آ گئی ہے احمر… “
……………………………..
اس کا زور دار طمانچہ فریال کے چودہ طبق روشن کر گیا
“تم پچھلے ایک ہفتے سے کالج جانے کی بجاۓ کہیں نوکری کرنے جا رہی ہو اور مجھے بتایا ہی نہیں…” ملائکہ کی آواز اونچی ہو گئی, شاید ہی اس نے کبھی فریال پر ہاتھ اٹھایا ہو, اس کی دونوں آنکھیں لبا لب بھر گئیں
“میں نے کہا تھا نا فریال کے پہلے پڑھائی پوری کر لو, میں ہوں نا در در کی ٹھوکریں کھانے کے لئے, کونسی ایسی ضرورت ہے جو میں نے پوری نہیں کی… ؟؟؟” وہ اپنا غصہ کنٹرول نہیں کر پا رہی تھی
“بھابھی میں نے سوچا کہ میں آپ کی تھوڑی مدد… ” فریال کی بات بیچ میں ہی رہ گئی
“یہ مدد ہے تمہاری… صبح آٹھ بجے کی گھر سے نکلی تم رات کے ایک بجے گھر آ رہی ہو یہ مدد ہے تمہاری… ” فریال چنگھاڑ کر بولی
“بھابھی میں تو تین بجے ہی فارغ ہو گئی تھی لیکن…گھر آنے کے لیے رکشے میں بیٹھی اور… اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا, مجھے یوں لگا جیسے کسی نے مجھے زبردستی بے ہوش کر دیا ہو” فریال کے کہتے ہی ملائکہ دن بخود رہ گئی, وہ تو ابھی تک یہ ہی سمجھے جا رہی تھی کہ شائد فریال کوئی اوور ٹائم لگ آکر آئی ہے
“زبردستی بے ہوش… ” اس سے بولا ہی نہ گیا
“مجھے بس یہ یاد ہے کہ کوئی مجھے گھر چھوڑ گیا… خدا جانے کون… ؟؟؟” فریال اس کے اوسان خطا کرتی جا رہی تھی
“یا خدا… فریال تمہیں کسی نے… اغواء کر لیا تھا… ؟؟؟” وہ نیچے کو بیٹھتی چلی گئی, فریال ایک طرف محرم سی بنی کھڑی تھی
“میں نے کہا تھا نا فریال کے گھر سے کالج اور کالج سے گھر… بس اور کہیں نہیں جانا, دنیا درندوں کی طرح گھات لگاۓ بیٹھی ہوتی ہے, کب کون جال میں پھانس لے کوئی پتہ نہیں… فریال میری جان….” اس نے فریال کا ساکت سا وجود خود سے لگا لیا
“فریال میں نے اپنے آپ سے عہد کیا تھا کہ تیری عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی… خد کے لئے مجھے میرا عہد پورا کرنے دو, جب تک میں زندہ ہوں تب تک تم لوگوں کی ساری ضرورتیں میں ہی پوری کروں گی چندا… کوئی نوکری نہیں کرنی تجھے, کوئی ضرورت ہی نہیں ہے” وہ اسے خود سے لگاۓ کہتی چلی گئی, فریال بے آواز رو رہی تھی
…………………………..
“چاچو یار اٹھ بھی جائیں…نہیں تو اب کی بار دادا ابو خود اوپر آ جائیں گے ” علی کوئی چوتھی دفعہ اسے اٹھانے آیا تھا, نوریہ اس سے پہلے ہی نیچے ناشتے کی میز پر پہنچ چکی تھی, وہ بیچارہ بمشکل نیند میں جھولتا ہوا اٹھا اور واش روم میں گھس گیا
فریش ہو کر نیچے اترا تو کلیم حافی اپنی کرسی پر موجود تھے, ان کے بالکل ساتھ والی کرسی پر نوریہ بیٹھی ہوئی تھی, وہ بس ایک نظر اسے دیکھ کر سلام کرتا ہوا عین اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا
“اب تو اپنی عادتیں سدھار لے احمر… اب تو بیوی والا ہو گیا ہے تو… “کلیم حافی نے اس پر چوٹ کی تھی
“کیوں نوریہ… سدھار لو گی نا اسے ؟؟؟” وہ ہنستے ہوئے پوچھ رہے تھے, نوریہ بس دھیمے سے مسکرا کر رہ گئی
“اوۓ تیرے سی ایس ایس کے پیپرز ختم ہو گئے ؟؟؟” انہوں نے علی کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا
“دادا ابو یار… پاپا تو مجھے سانس بھی نہیں لینے دیتے, یہاں آتا ہوں تو میری جان میں جان آتی یے” علی نے کہا
“انصر بھائی نہیں آتے یہاں… ؟” نوریہ جب سے پاکستان آئی تھی آج پہلی بار اس نے انصر کا پوچھا تھا
“آتا ہے… کبھی کبھار… ” کلیم حافی نے کہا
“کہتا ہے یہاں سے حوریہ کی یادیں وابستہ ہیں… یہاں آتا ہوں تو پھر کئی دنوں تک سو نہیں پاتا” کلیم حافی نے کہا, نوریہ نے بس سر ہلا دیا تھا
“اچھا سنو… اب تم دونوں آپس میں ڈیسائڈ کر لو کہ ہنی مون پر کہاں جانا ہے…؟؟؟ ٹکٹس میں کروا دوں گا… خوب انجواۓ کرنا, اوکے… ؟؟؟” وہ ان دونوں سے پوچھ رہے تھے
دونوں ہی ان کی بجاۓ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے
……………………………….
دن کا ایک بج رہا تھا جب وہ اس تین منزلہ عمارت کے سامنے اتری… پسینے میں شرابور وہ اندر داخل ہوئی تھی
“مسٹر انصر کا آفس کس طرف ہے ؟” س نے پوچھا
“تھرڈ فلور… ” وہ پسینہ صاف کرتی ہوئی اوپر آ گئی
“مسٹر انصر سے ملنا ہے… پلیز ” اس نے چپڑاسی سے کہا, سیکریٹری کی سیٹ خالی پڑی تھی, وہ سر ہلا کر اندر چلا گیا, کچھ دیر بعد باہر آیا اور اسے اندر جانے کا اشارہ کیا
“جی فرمائیں… ” وہ انداز سے ہی بہت مصروف نظر آ رہا تھا
“سر آپ نے ایک ہفتہ پہلے فریال ارشاد کو یہاں جاب پر رکھا تھا… میں اس کی بہن ہوں” اس نے تعارف کروایا, انصر ایک دم چونکا
“وہ دو دن سے غائب ہے… نوکری لینے کا شوق ہوتا ہے بس… بیٹھیں آپ… ” انصر اس پر چڑھ دوڑا, وہ بادل نخواستہ سی کرسی پر بیٹھ گئی
“میں نے صرف اسلئے اسے یہ نوکری دی تھی کہ وہ شکل سے مجھے ذرا ضرورت مند لگی تھی, اس سے پہلے ہزاروں ماڈرن لڑکیوں کو میں یہ جاب دے کر بھر پایا لیکن… ” ملائکہ نے بڑی ہمت سے اس کی بات کاٹ دی
“سر ایم سوری ٹو سے بٹ… پرسوں یہاں سے واپسی پر اس کا کافی خطرناک ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا, چل پھر بھی نہیں سکتی… بس اسی لئے نہیں آ رہی” اس کی بات سنتے ہی انصر کے چہرے کے تاثرات یکلخت نرم پڑ گئے
“اوہ… “
“ابھی بھی ہاسپٹلائزڈ ہے…میں اس کی لیو ایپلیکیشن ہی دینے آئی تھی” ملائکہ نے کہا
“لیکن مس ملائکہ… میں اتنے دن یہ سیٹ خالی افورڈ نہیں کر سکتا… ” انصر نے کہا
“آپ پلیز اس کی ایک ہفتے کی سیلری لے جائیں اور بس… ایم سوری” انصر نے ایپلیکیشن اسے واپس کرتے ہوئے کہا تھا
“سر اگر آپ برا نہ منائیں تو ایک ریکوئسٹ ہے میری… ” ملائکہ نے ہمت باندھی تھی
“جی عرض کریں… ” وہ بولا, انداز ایسا لٹھ مار کہ ایک لمحے کو تو وہ بیچاری ڈگمگا گئی
“سر میرا چار سال کا تجربہ ہے انٹر لوپ میں اسسٹنٹ آپریٹر کا… اور دو سال بلال ٹریڈرز میں کام کیا ہے… یہ میری سی وی ہے, اگر آپ کو مناسب لگے تو… ” ملائکہ نے اپنی سی وی اس کے سامنے رکھ دی, انصر نے بغور اسے پڑھا, پھر ملائکہ کو دیکھا
” مس ملائکہ حماد… آپ کی جاب میں consistency نہیں ہے… ایک چھوڑ دی…ایک کر لی…پھر چھوڑ دی… پھر کوئی کر لی… ” انصر کہتا چلا گیا
“سر جب عزت کے لالے پڑ جاتے ہیں تو چھوڑ دیتی ہوں… جب بھوک کے لالے پڑ جاتے ہیں تو دوبارہ کہیں اور ڈھونڈ لیتی ہوں ” وہ دھیرے سے بولی تھی, انصر اسے دیکھتا رہ گیا
“میریڈ ہیں آپ… ؟” اس نے پوچھا
“جی… “
“بچے بھی ہیں… ؟” اس نے پھر پوچھا
“جی.. دو بچے ہیں”
“اور شوہر… ؟؟؟”
“وہ سات سال پہلے ہمیں چھوڑ گئے تھے… دوبارہ واپس نہیں آۓ” ملائکہ نے کہا, انصر نے ایک لمبی سانس بھری اور کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی
“دیکھیں مس ملائکہ بات ہے تو کڑوی لیکن سچی ہے… آپ کی کوالیفیکیشن کے حساب سے دیکھا جاۓ تو آپ قطعاً اس تین منزلہ کمپنی کی اسقدر ذمہ دار جاب کو ڈیزرو نہیں کرتیں, آپ کو کسی پرائیوٹ سکول کی جاب سوٹ کرتی ہے لیکن میں جانتا ہوں وہاں بدلے میں آپ کو کیا ملے گا… ؟؟؟ سات, آٹھ ہزار جن سے شاید آپ کے مکان کا کرایہ بھی ادا نہیں ہو سکے گا لیکن میں پھر بھی یہ جاب آپ کو دےرہا ہوں, اسلئے نہیں کہ مجھے آپ پر ترس آ گیا ہے, اسلئے بھی نہیں کہ آپ کی کوالیفیکیشن بہت اچھی ہے… صرف اسلئے کہ آپ مجھے شکل سے تھوڑی محنتی لگی ہیں, تھوڑا بہت تجربہ بھی ہے آپ کے پاس… ” انصر کہتا چلا گیا
“فی الحال دو مہینے کا پروبیشن ہے, اگر مجھے آپ کا کام اچھا لگا تو اسے ایکسٹینڈ کر دوں گا” وہ اس کی سی وی پر سائن کرتے ہوئے بولا تھا
“شکریہ سر… ” ملائکہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی تھی
…………………….
وہ ٹیرس پر کھڑی تھی… سیل کان سے لگا ہوا تھا, احمر نے گاڑی گیٹ سے اندر لاتے ہوئے کن اکھیوں سے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا تھا
وہ ہنوز سیل کان سے لگاۓ کھڑی رہی… باتیں کرتی رہی
کچھ دیر بعد کمرے میں احمر کی موجودگی کو محسوس کر کے اس نے کال ڈس کنیکٹ کی اور مڑی… وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا تھا, بلیک پینٹ کے ساتھ آف وائیٹ شرٹ پہنے, گلے میں بلیک اور آف وائیٹ ڈاٹس والی ٹائی لٹکاۓ, کندھوں پر بلیک کوٹ پہنے وہ آفس سے آیا تھا
“تم مسکراتے ہوئے بہت خوبصورت لگتی ہو… ” وہ شاید تعریف تھی, نوریہ ایک بار پھر مسکرا دی
“تھینک یو… “
احمر کے قدم اس کی جانب بڑھے تھے, نوریہ نا محسوس سے انداز سے پیچھےکو ہٹ گئی
“ہنی مون پر کہاں جانا ہے… ؟ احمر اس سے چند انچ کی دوری پر آن رکا, نوریہ کے پیچھے ہٹتے قدموں کو ریلنگ کی حد نے بریک لگائی تھی
“وہ کس لئے… ؟”
“نئے نویلے شادی شدہ جوڑے کیوں جاتے ہیں ہنی مون پر… ؟؟؟ تمہیں نہیں پتہ… ” احمر نے اپنے اور اس کے درمیان موجود وہ چند انچ کا فاصلہ بھی ختم کیا تھا, نوریہ کو اس کی شرٹ سے اٹھتی مہک محسوس ہونے لگی تھی
“احمر مجھے تھوڑا وقت چاہیے پلیز… ” وہ ریلنگ پر ٹک گئی اور دونوں ہاتھوں سے اسے تھام لیا
“کس لئے ؟” احمر نے اپنے دونوں بازو اس کے دائیں بائیں ٹکاۓ تھے
“میں ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہوں… ” وہ بولی, احمر اس پر جھکا… وہ مزید ریلنگ پر جھک گئی
“تم نے کہا تھا کہ تمہیں ابھی تک کسی سے محبت نہیں ہوئی… ” احمر نے کہا
“ہاں… “
“اور تم نے کہا تھا کہ اب شادی کے بعد ہی محبت کریں گے…. ” وہ بولا
“ہاں لیکن… ” احمر نے یکلخت اس کا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا, نوریہ اس کے سینے سے آ لگی
“تو پھر اب اس محبت میں یہ لیکن کہاں سے آ گیا ؟” احمر کا بازو اس کی کمر کے گرد حصار بنا گیا
“احمر… ” نوریہ کے لب کپکپا سے گئے
“تم نے مجھ سے جھوٹ بولا نا… ؟” وہ پوچھ رہا تھا, اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا
“تم اپنا دل امریکہ میں ہی کہیں چھوڑ آئی تھیں نوریہ کمال… اور میرا سوال بس یہ ہے کہ جب تمہارے پاس دل تھا ہی نہیں تو مجھے اس کا لالچ کیوں دیا ؟” احمر کی گرفت ذرا سی تنگ ہوئی تھی
“کیونکہ اسے… وقت چائیے… تھوڑا سا وقت” نوریہ کے لبوں سے پھسل گیا
احمر کا چہرہ یکلخت تاریک ہو گیا… نوریہ کے گرد اس کا حصار یکدم ہی ڈھیلا پڑ گیا, اس کی سماعتوں سے ایک آواز ٹکرائی تھی
“احمر… پلیز میری بات کو سمجھو, مجھے تھوڑا وقت چاہیے پلیز… ” وہ مدھر سی آواز
“لیکن حوریہ بھابھی میں… ” اس کی اپنی آواز… پریشان سی
“میری مدد کر دو پلیز احمر… ” اس سے آگے کی احمر میں تاب نہیں تھی, لڑکھڑا کر وہ نوریہ سے دو قدم پیچھے ہٹا تھا
“کیا ہی اتفاق ہے نا نوریہ کمال… کہ سات سال پہلے تمہاری بہن کو بھی تھوڑا سا وقت ہی چاہیے تھا… کسی اور کے لئے “
……………………….
وہ دروازہ ناک کر کے اندر آ گئی, احمر حسب معمول اپنی کرسی سے ٹیک لگاۓ کسی گہری سوچ میں غلطاں تھا اور ولید سائیڈ والی کرسی پر بیٹھا کچھ فائلیں دیکھ رہا تھا
اس نے چپ چاپ ایک لفافہ ولید کے سامنے رکھ دیا
“یہ کیا ہے ؟” وہ حیرانی سے بولا
“استعفیٰ… ” ملائکہ کے کہتے ہی احمر کی آنکھیں کھل گئیں
“میں مزید continue نہیں کر سکتی… سوری” وہ بولی
“کہیں اور جاب مل گئی ہے ؟” ولید نے پوچھا,ملایکہ نے اثبات میں سر ہلا دیا
“تھینک یو… آپ دونوں نے میرے لئے جو کچھ بھی کیا” وہ سر جھکا کر بولی اور باہر کی طرف بڑھی
“ملائکہ رکیں… اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کی سیلیری… ” احمر نے اس کی بات کاٹ دی
“انہیں جانے دے ولید… انہوں نے جانا ہی تھا, انہیں یہ جاب کرنی ہی نہیں تھی… صرف ایک مجبوری اور بس… وہ نہ ہوتی تو یہ آج یہاں نہ ہوتیں… ” احمر کہتا چلا گیا
“اور پتہ ہے یہاں سے نکل کر یہ پہلا کام کیا کریں گی… ؟؟؟ اپنا گھر تبدیل کریں گی تاکہ احمر حافی آج کے بعد انہیں ڈھونڈ نہ سکے” احمر کی بھڑاس نکل رہی تھی
“تو احمر حافی کو ضرورت ہی کیا ہے مجھے ڈھونڈنے کی… ؟ سروکار تو اس کاغذ کے ٹکڑے سے ہے نا… مجھ سے تو نہیں ہے” وہ جتا ہی گئی
“اور اگر آپ سے ہوا تو… ؟” احمر کہہ ہی گیا
“احمر آپ مجھے لکھ کر دے چکے ہیں کہ آپ کا اور میرا کسی بھی قسم کا کوئی بھی رشتہ نہیں بنے گا… کبھی بھی نہیں…اور میں جب چاہوں آپ سے طلاق لے سکتی ہوں” ملائکہ نے کہا
“اچھا… تو اب آپ کو طلاق بھی چاہئے ؟” احمر زور سے ہنسا
“جب چاہیے ہو گی تو لے لوں گی” وہ بولی
“ملائکہ… جائیں پلیز” احمر کو اس لمحے ہر شے بری لگ رہی تھی…ملائکہ سمیت
“احمر… ” ملائکہ دروازے کی طرف بڑھی, پھر رکی, پلٹی اور سے پکارا… ولید خاموش تماشائی بنا بیٹھا تھا
“میں نہیں جانتی کہ آپ پر اپنے فادر کا کس قسم کا دباؤ ہے لیکن… کیا ساری عمر اسی دباؤ میں گزاریں گے آپ… ؟” وہ بولی
“اگر واقعی آپ کی نوریہ سے کوئی دلی وابستگی نہیں ہے تو پلیز… صرف ایک بار سچ بول کر اپنی پوری زندگی برباد ہونے سے بچا لیں, زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا احمر… آپ کے ڈیڈ آپ کو گالیاں دیں گے… ؟ ماریں گے… ؟” وہ کہتی چلی گئی
“وہ میرے منہ پر کھڑے ہو کر مجھے بدکردار کہیں گے ملائکہ…” احمر ایک دم پھٹ پڑا, ملائکہ اور ولید دونوں دم بخود رہ گئے تھے
“میں کیسے سنوں گا اپنے باپ کے لبوں سے اپنے لئے یہ لفظ… بد کردار… ” وہ سر جھکاۓ بولا تھا
“سات سال سے میں ان سے نظریں ملانے کی کوشش کر رہا ہوں… سات سالوں سے وہ مجھے سرخرو کرنے کی کوششیں رہے ہیں, سات سالوں سے میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہوں, سات سالوں سے وہ میری پردہ پوشی کر رہے ہیں… سات سالوں میں یہ پہلا موقع آیا ہے کہ میں ثابت کر سکوں کہ… میں… بدکردار… نہیں ہوں” احمر کی آنکھیں نم ہو گئیں, ملائکہ حق دق اسے دیکھ رہی تھی, کچھ تو تھا جو وہ ہر بار چھپا جاتا تھا
انہوں نے کئی بار مجھ سے پوچھا… کہ تو نوریہ سے شادی کرے گا نا… ؟ اور میں نے کہا ہاں… میں نے ہر بار کہا ہاں… اب شادی کر کے کیسے کہہ دوں… ناں” وہ بولا
“اس شادی کو بھلا کیوں کہیں گے آپ ناں… اپنے اور میرے اس کاغذی رشتے کو کہیں ناں… ” ملائکہ نے کہا
“ملائکہ… بہت شکریہ آپ کا… پلیز” احمر نے اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا, ملائکہ چپ چاپ باہر نکل گئی تھی
“احمر… آخر مسئلہ کیا ہے تیرے ساتھ… ؟” ولید اس کی طرف مڑا
“نوریہ کے پاس نکاح نامہ ہے… وہ جب چاہے مجھے بلیک میل کر سکتی ہے” احمر نے کہا
“تو اسے چوری کر لیتے ہیں… ” ولید نے کہا
“مطلب… ؟” احمر نے ٹھٹھک کر اسے دیکھا
“مطلب یہ کہ نکاح نامہ بس اس کی ایک شرط تھی… تجھ سے شادی کے لئے… اور شادی تو ہو گئی ہے, سو اب چپ چاپ وہ نکاح نامہ کھسکا لے… ” ولید اسے ایک نئی راہ دکھا رہا تھا
“پتہ نہیں کہا رکھا ہو گا اس نے… ؟” احمر کی ذرا جان میں جان آئی تھی
“ڈھونڈ… اس کا سارا سامان چھان مار… احمر اس سے پہلے کہ وہ واپس امریکہ جاۓ… وہ نکاح نامہ چوری کر لے, اس کے بعد کیا ثبوت رہ جاۓ گا اس کے پاس بھلا… ؟ ” ولید نے کہا
“وہ کھیل کھیل رہی ہے نا تیرے ساتھ… تو تجھے کیا کھیل کھیلنا منع ہے… ” ولید نے اس کے دماغ کا ڈھکن کھولا تھا
وہ اسی وقت گھر واپس آ گیا اور بھاگتا ہوا اوپر آیا
“نوریہ… ” کمرے میں آتے ہی اسے عجیب س احساس ہوا تھا, اس نے دوڑ کر الماری کھولی, وہاں نوریہ کا ایک بھی سوٹ نہیں تھا, وہ پاگلوں کی طرح ادھر ادھر کمرہ کھنگالنے لگا
“نوریہ کہاں گئی… ؟ وہ دوڑتا ہوا کمرے سے نکلا اور نیچے اترا
“احسن نوریہ کہاں گئی… ” احسن ابھی ابھی کالج سے آیا تھا, وہ بری طرح اس پر برس پڑا
“وہ تو چلی گئیں… “
