Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar NovelR50578 Ahl e Dil (Episode 02)
Rate this Novel
Ahl e Dil (Episode 02)
Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar
بجلی حسب عادت اور حسبِ توفیق بند تھی۔
جنریٹر چل رہا تھا اور اسکی گھرر گھرر کی آواز اسکے کمرے تک پہنچ رہی تھی۔ صد شکر کہ اے سی کی مہربانی سے پھیلی ٹھنڈک کی باقیات ابھی موجود تھیں۔ پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا اور بستر پہ اپنے سامنے لیپ ٹاپ رکھے نوریہ بیٹھی تھی۔
سکرین پہ کمال نیازی دکھائی دے رہے تھے۔
“حافی کا فون آیا تھا مجھے نوریہ۔ وہ مجھ سے تمہاری مرضی پوچھ رہا تھا “
” تو پھر آپ نے کیا کہا ان سے ؟؟؟ “
” میں کیا کہتا… ؟ مجھے ابھی تمہارے دل کا حال پتہ ہی کہاں ہے “
وہ چپ رہ گئی۔ دل میں درد کی ٹیس سی اٹھی تھی۔
( یہی تو اصل مسئلہ ہے ڈیڈ۔ آپکو پتہ بھی ہے کہ میرے دل میں کیا ہے اور کون ہے، آپ سب جانتے ہوۓ بھی انجان بن رہے ہیں “
” نوریہ ؟ “
اسکی خاموشی کو محسوس کر کے انہوں نے ٹوکا۔ شائد وہ بھی سمجھ گئے تھے کہ وہ انکی بات پہ کہاں پہنچ چکی تھی۔ وہاں جہاں وہ اسے ہرگز جانے نہیں دے سکتے تھے۔
” مجھے تھوڑا وقت دیں ڈیڈ۔ معجزے ہونے میں بھی تھوڑا وقت تو لگتا ہے۔ “
وہ زرا رکے
“لیکن جو معجزہ تم چاہ رہی ہو وہ قیامت کے روز ہو تو ہو… اس سے پہلے نہیں ہو گا” وہ بولے
“ڈیڈ… تھوڑا سا وقت اور… شاید وہ بدل جاۓ”
“ناممکن… ” کمال نیازی کا لحجہ ترش ہو گیا
“میں باپ ہوں تمہارا… میرا سوچا اچھا ہی ہو گا نوریہ… ” وہ بولے
“جیسے آپ کا سوچا آپی کے حق میں بہتر تھا… ” وہ کہہ ہی گئی
“نوریہ… ” اسے تنبہہ ہوئی تھی
“مجھے آج بھی اپنے فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے… اس کا مقدر اس کے ساتھ… ” وہ غضبناک ہو گئے
نوریہ کی آنکھیں بھر آئیں
“ڈیڈ… پلیز” وہ رو رہی تھی
” ٹھیک ہے۔ سوچ لو، اچھے سے تسلی سے فیصلہ کرنا لیکن ایک بات یاد رکھنا… دل اسے دینا جسے اسکی قدر ہو۔ بے قدروں کے ہاتھ اسے سونپ کر بہت پچھتاؤ گی “
کال کٹ گئی تھی۔ وہ خاموش بہت دیر تک بستر پہ بیٹھی رہ گئی۔
” تو کیا احمر حافی اس قابل ہے کہ اسے دل سونپ دوں ؟؟؟؟؟ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ اوچھا، لفنگا انسان کسی صورت اس قابل نہیں ہے کہ میں اسے اپنی عزت سونپ دوں “
ملائکہ کی تپ کسی صورت ٹھنڈی نہیں پڑ رہی تھی۔ فریال اسکے پاس ہی بیٹھی تھی۔
” اچھا اب بس بھی کریں۔ پہلے ہی ان دونوں کو آپ نے قریباً دھکے دے کر گھر سے نکالا ہے۔ اللّٰہ مجھے اتنی شرمندگی ہو رہی تھی کیا سوچتے ہوں گے وہ بھلے آدمی۔۔۔۔ “
” بھلے آدمی ؟ “
اس نے فریال کی کمر پہ دھمُک جڑا تھا۔ وہ غریب کی بچی بلبلا کر رہ گئی۔
” یہ تمہاری ہی بھلائی میرے گلے پڑ گئی ہے بی بی۔ بچوں کے ساتھ بچی بن جاتی ہو تم۔ اور تف ہے مجھ پہ جو میں بھی تم لوگوں کی باتوں میں آ گئی۔ اس لئیے کہتے ہیں اولاد فتنہ ہے۔ ایسے ذلیل کرواتی ہے یہ ماں باپ کو۔۔۔۔۔ “
وہ بولتی چلی گئی۔
” آج کہہ رہا ہے جھوٹ موٹ بیوی بن جاؤ، کل کہے گا نکاح پڑھوا لو، پرسوں پھر میں اسکے بچے پیدا کروں۔ یہ کروں میں ؟؟؟ “
” توبہ “
فریال لال پڑتی چلی گئی
” لعنت بھیجتی ہوں میں ایسی نوکری پہ۔ اس رزق سے موت اچھی۔ اللّٰہ مسبب الاسباب ہے، میرے بچوں کے لئیے کچھ اچھا ہی لکھا ہوگا اس نے۔ “
وہ لمبا سانس بھر کر بستر سے اتر گئی۔
” بس یہ قصہ ختم۔ چلو کچن میں میری مدد کرواؤ۔ سالن بنانے والا رہتا ہے ابھی “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کبھی کی غروب ہو چکی تھی۔
لالیاں چھلکاتا نارنجی آسمان اب سیاہ پڑنے لگا تھا۔ احمد لان میں چئیر پہ خاموش بیٹھا، بادام کے اونچے پیڑ پہ بولتے پرندوں کو کھوج رہا تھا۔
” اتنا بھی کیا ضروری ہے احمر اس بدیسی لڑکی سے شادی کرنا ؟؟ سچ بتائیں مجھے احمر، یہ بس شادی کے لئیے اتاؤلا پن نہیں ہے، ہے ناں ؟ “
اسکے کانوں میں ملائکہ کی بات آواز گونج رہی تھی ولید نے بھی ملائکہ کے گھر سے واپسی پہ آتے ہوۓ کچھ ایسا ہی کہا تھا۔
” محبت بھی نہیں ہے، جس لڑکی سے تو دو چار دن پہلے ملا ہے اس سے محبت کیسے ہو سکتی ہے۔ روپے پیسے کا چکر بھی نہیں ہے، تیرے پاس اللّٰہ کا دیا سب کچھ ہے۔ گرین کارڈ کا لالچ اور نا ہی کچھ اور۔ پھر کیوں احمر ؟؟؟؟؟؟ وہ ہی کیوں ؟؟؟؟؟ “
اس نے ہولے سے آنکھیں موند لیں۔
وہ منظر جو اس بھیگتی شام سے بھی زیادہ سیاہ تھا۔
” بھائی ہوتے ہوۓ ایسی نیچ حرکت۔۔۔۔ تجھے شرم نہیں آئی میری بیوی کے ساتھ یہ کرتے ہوۓ۔۔۔۔۔ احمر۔۔۔۔ بے غیرت، تیری ماں جیسی تیری بھابھی اور تو۔۔۔۔۔ لعنت ہے۔۔۔۔۔ “
وہ شور اسکی سماعتیں پھاڑنے کو تھا۔ وہ روتی ہوئی آوازیں، دبی دبی چیخیں، گھٹی گھٹی سانسیں۔
” بدکردار۔۔۔۔ بدکردار۔۔۔۔۔ “
اسکے لب کپکپا کر رہ گئے۔ اس کے کانوں میں صور پھونکا جا رہا تھا۔ احمر نے دونوں ہاتھوں سے کانوں کو ڈھانپ لیا تھا۔
” نن۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔ “
” تیری اوقات ہی یہ ہے۔۔۔۔ تو جانور سے بھی بدتر ہے ۔۔۔۔ یہاں وہاں منہ مارتا ہے، رال ٹپکاتا ہے، بدنیتی دکھاتا ہے اور امانت میں خیانت کرتا ہے۔ تیری اوقات یہی ہے۔۔۔۔ “
” نن۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ “
” بدکردار۔۔۔۔۔ “
” نن۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ “
” احمر بھائی۔۔۔۔۔۔۔ “
کسی نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔ اس نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ سامنے پریشان سا احسن کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ جو دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھے، پسینے میں بھیگا ہوا تھا، تھر تھر کانپ رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا دوسرا پہر آدھا بیت چکا تھا۔
فضا میں خنکی بھرنے لگی تھی۔ پیڈسٹل کی آواز لوری کا کام کرتی تھی۔ ہوا کے نرم سے جھونکے تھپکیاں دیتے تھے۔ اسکے ساتھ چارپائی پہ لیٹی حرم کب کی سو چکی تھی۔ ملائکہ نے رخ موڑ کر اسے دیکھا۔ معصوم چہرہ، ماتھے پہ بلھرے بال۔ اس نے پیار سے اسکے بالوں کو سہلایا تھا۔
” یہ کیسے ممکن ہو میری بچی کہ میں عزت پہ رزق کو چن لوں ؟ تمہیں یاد نہیں ہوگا پر مجھے یاد ہے۔ وہ جب ہماری عزت کا محافظ نقب لگا کر یہاں، اسی آنگن میں دشمن کو لے آیا تھا، میں نے اپنی بھوک پہ عزت کا انتخاب کیا تھا۔ وہ جب تمہارا باپ سارے زمانے کی کالک ہمارے مونہوں پہ مل کر اسی کالک میں کہیں گم ہو گیا تھا، تب بھی میں نے رزق پہ عزت کو چنا تھا “
نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس نے رخ بدلا اور سیدھی لیٹ کر تاروں بھرے آسمان کو دیکھنے لگی۔ ماضی کے پٹارے کا ڈھکن کھل چکا تھا۔
” وہ میری بہن ہے، اسکی زندگی پہ میرا حق ہے۔ کان کھول کر سن لے، میرے معاملے میں دخل اندازی مت کر۔ یہ نا ہو کہ اگلی بار کا سودا میں تیری بیٹی کا کردوں “
وہ آج بھی اس دھمکی کی بازگشت سن کر دہل گئی تھی۔ اس رات تو گویا اسکی جان نکل گئی تھی جب اس دھمکی کا جنم ہی ہوا تھا۔ اسکا شوہر فہد چرس کے نشے میں مست، لالیاں چھلکاتی آنکھوں سے اسے گھورتا، اسکی پشت پہ چھپتی فریال کا بازو کھینچ رہا تھا۔
” چھوڑ اسے۔۔۔ میں کہتا ہوں اسے چھوڑ حرامزادی۔۔۔۔ میں تیرے ٹکڑے کردوں گا میری راستے میں آئی تو۔۔۔۔۔ “
نشے کی لت تو اسے بہت پہلے سے تھی پر اب وہ جوا بھی کھیلنے لگا تھا۔ ساری جمع پونجی، زیور اور ہر قیمتی شے کے بعد اب کم قیمت انسانوں کی باری آ گئی تھی۔
” ہٹ سامنے سے۔۔۔ چھوڑ اسے۔۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں ہٹ جا۔۔۔۔۔ “
ملائکہ کے ہاتھ جانے کیا لگا تھا جو اس دن اس نے اسکے ماتھے پہ دے مارا تھا۔ زندہ رہا کہ مر گیا، اس نے ہڑبڑی میں یہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ دونوں بچوں اور فریال کو لئیے وہ دہلیز پار کر گئی تھی۔
دبی دبی سی چیخ پہ اس نے چونک کر دیکھا۔
فریال شائد سوتے میں ڈر گئی تھی۔ ملائکہ چارپائی سے اتری اور اسکی چارپائی تک آئی۔
” فریال میری جان کیا ہوا۔۔۔۔ “
اس نے ہولے سے اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر اسکے بال سہلاۓ تھے۔
” ڈر گئی تھیں ؟؟؟؟ “
” شائد “
وہ ہولے سے بولی تھی۔
” پر اب بس خواب میں ہی ڈرتی ہوں بھابھی۔ حقیقت اب مجھے نہیں ڈراتی۔ پتہ ہے کیوں ؟؟؟؟ “
وہ زرا رکی
” مجھے پتہ ہے اصل زندگی میں کچھ بھی ہو جاۓ، آپ میرے ساتھ ہوں گی۔ مجھے کسی سے بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ “
وہ ہولے سے مسکرادی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوریہ نے روشن سکرین پہ انگلی رکھی تھی۔ تصویریں گزارتے گزارتے وہ اس تصویر پہ رکی تھی۔
وہ اچھا خوبرو انسان تھا۔ نکھری ہوئی سی گندمی رنگت، ہلکی سی شیو، تیکھی سی ناک، ہلکی بھوری آنکھیں، مغرور سے تاثرات اور ماتھے پہ زخم کا نشان۔
اس نے آہستگی سے اس نشان کو سکرین پہ سے چھوا تھا۔ اسکے دل کی دھڑکنیں بے تال ہونے لگی تھیں۔
” میں نے دنیا کا ہر نشہ چکھ رکھا ہے میری زندگی کے نور۔ مجھے کسی نے ایسے مدہوش نہیں کیا جیسا تمہارے ساتھ نے کیا ہے۔ میں نے ہر لت چھوڑ دی لیکن یہ لت۔۔۔۔۔ تمہارے ساتھ کی لت، تمہاری محبت کی لت۔۔۔۔ “
وہ اپنے سینے میں دھڑکتے دل کو مدہوش ہوتا دیکھ رہی تھی۔ اسکے حواسوں پہ اسکی یاد کی غنودگی چھانے لگی تھی۔
” دل اسے سونپا جاتا ہے جو اسکے قابل ہو میری بیٹی۔ وہ اس قابل ہرگز نہیں ہے تم اسے اپنے دل کا مالک بناؤ “
اس کے لب کپکپا کر رہ گئے۔
” کاش دل پہ اختیار بھی ہوا کرتا۔۔۔۔۔ “
اس نے سوچا تھا۔ گہری سانس بھر کر اس نے تصویر پیچھے کی اور کچھ سوچ کر وہ نمبر ملایا تھا۔
” میں جلد از جلد تمہاری بیوی سے ملنا چاہتی ہوں۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” میں رزق پہ عزت کو چنوں گی ” کہہ دینا بہت آسان تھا لیکن اسکی تشریح سہنا بہت مشکل۔ دونوں بچوں کی ماہانہ فیس بھرنے کے بعد ہی اسکی جوڑی ہوئی رقم ختم ہو گئی تھی۔ بجلی کا بل اور راشن خریدنے کے لئیے قرض پکڑا اور بس ہو گئی۔ مالک مکان تیسری بار آیا اور اب کی بار سختی سے کہہ گیا
” کرایہ دو ورنہ دو دن کے اندر اندر گھر خالی کردو “
اب ایسی کوئی لمبی چوڑی تو اسکی ڈگری بھی نہیں تھی کہ اگلی نوکری آسانی سے مل جاتی۔ جہاں ایم فل اور پی ایچ ڈی کئیے ہوۓ بیروزگار پھر رہے تھے، وہاں سادہ بی ایس سی کی کیا اوقات تھی۔
یہی پریشانی اسے ہر وقت گھیرے رکھتی تھی۔ فریال کو وہ کچھ نہیں بتاتی تھی لیکن وہ کونسا بیوقوف تھی، اسے۔ سب نظر آتا تھا۔ اتنا ہی بہت تھا کہ وہ اپنی فیسیں ٹیوشنز سے پوری کر لیتی تھی۔
” ماما میں کل یہ پھٹے ہوۓ جاتے پہن کر سکول نہیں جاؤں گا۔ میرے سب فرینڈز مذاق اڑاتے ہیں۔ مجھے نئے شوز چاہئیے ہیں “
” اور مجھے بھی نیا بیگ چاہئیے۔ دیکھیں کتنے ہولز بن گئے ہیں پاکٹس میں “
بچپنا پریشانی بھانپ نہیں سکی تھی۔ شام میں مالک مکان نے بیوی کو بھیج دیا
” ملک صاحب بہت ناراض ہو رہے ہیں۔ تم خود سوچو مہنگائی کے اس دور میں کیسے گزارا ہو سکے۔ پینشن تو آئی اور لگ گئی، یہی کراۓ سے روز کی روٹی سالن بنتا ہے “
وہ فراٹے سے کہتی چلی گئی۔
” تم بمشکل دس ہزار دے رہی ہو، ابھی کل بھی ایک ضرورت مند پندرہ ہزار کہہ کر گیا ہے۔ تم سے نہیں ہو رہا تو کہیں اور چھوٹا گھر دیکھ لو، مکان خالی کردو “
وہ بے بسی سے لب کاٹتی رہ گئی۔
دنیا اس پہ تنگ ہوتی جا رہی تھی۔ ہر طرف بس بند کوچہ اور راستہ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ سوائے اس ایک کہ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” آئی ایم سوری مس نوریہ میں نے آپکا وقت ضائع کیا۔ میں نے اتنے سارے جھوٹ بولے، مجھے یہ سب نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ میں اس سب کے لئیے شرمندہ ہوں اور آپ سے معذرت خواہ ہوں۔ “
وہ آئینے کے سامنے کھڑا، ٹائی درست کرتا وہ تقریر دوسری بار دہرا رہا تھا۔ اسکی پشت پہ بیڈ پہ بیٹھا احسن برا سا منہ بنا کر اسے دیکھ رہا تھا۔
” ڈیڈ سے کیا کہیں گے ؟؟؟ “
” کہہ ہی دوں گا کچھ نا کچھ۔ زیادہ سے زیادہ کیا کر لیں گے ؟؟؟ مار پیٹ تو نہیں کریں گے ناں، بالفرض کر بھی لیں مجھے کھا تو نہیں لیں گے ناں۔ میرا باپ جتنا بھی جلاد ہو، شاکا ہاری نہیں ہے یہ میں جانتا ہوں “
وہ دوبارہ سے اپنی تقریر دہرانے لگا تھا جب اسکا فون بجنے لگا۔ سکرین پہ نظر آتے نام کو دیکھ کر وہ چونک گیا تھا۔
” ملائکہ ؟ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتی ہے ؟ “
وہ دونوں ریسٹورنٹ میں میز پہ، آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ کافی سے اٹھتی بھاپ فضا میں تحلیل ہوتی جا رہی تھی۔ ملائکہ کے سوال پہ احمر نے کندھے اچکاۓ تھے۔
” وہ کیا بات کرے گی مجھ سے ؟؟؟ “
” پتہ نہیں “
وہ چڑ گئی
” کچھ پتہ ہے بھی آپکو ؟؟؟؟ “
وہ بے بسی سے ہنس پڑا
” بیلیو می مجھے کچھ بھی نہیں پتہ۔ یہ کتنی عجیب بات ہے۔ مجیں خود پہ اتنا غصہ ہوں کہ کیا ضرورت تھی اس دن جھوٹ بولنے کی۔ اب یہ ایسے گلے میں اٹک چکا ہے کہ نگلا جا رہا ہے اور نا ہی اُگلا جا رہا ہے “
” مجھے یوں بیچ میں اٹکے رہنا ہرگز پسند نہیں ہے مسٹر احمر۔ میں اس سارے رائتے کو سمیٹنے ہی آئی ہوں “
وہ زرا رکی
” اب وہ باہر سے آئی ہی تو دودھ پیتی بچی تو ہرگز نہیں ہے کہ ہم اسے بیوقوف بنا لیں اور وہ بن بھی جاۓ۔ آپ اسے کہیں گے کہ میں آپکی بیوی ہوں تو اگلی ڈیمانڈ وہ ثبوت کی نہیں کرے گی ؟؟؟؟ “
” یقیناً کرے گی “
وہ فوراً بولا۔ وہ کچھ دیر کے لئیے چپ رہ گئی اور پھر ہولے سے کھنکاری
” مجھے آپکا ساتھ دینے کے لئیے تیار ہوں احمر۔ لیکن ایک بات یاد رہے، مجھے اپنی اور اپنے بچوں کی عزت بہت پیاری ہے “
” میں سمجھ سکتا ہوں ملائکہ “
وہ رسان سے بولا تھا۔
” میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ کسی بھی پوائنٹ پہ آپکی عزت پہ حرف نہیں آۓ گا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رات ہی ڈنر کے لئیے وہ تین نفوس اس ریسٹورنٹ میں موجود تھے۔ فضا میں خنکی بھری تھی جس میں اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبوئیں گھلی ہوئی تھیں۔ پسِ منظر میں دھیمی سی موسیقی سنائی دے رہی تھی۔ ملائکہ خاموشی سے میز کا کونا کھرچنے میں مصروف تھی۔ احمر کن انکھیوں سے اسے دیکھتا تھا اور پھر نوریہ کو جو بغور ملائکہ کو دیکھ رہی تھی۔
” ڈیڈ کہتے ہیں مجھے انسان پرکھنا نہیں آتے ہیں “
ملائکہ نے سر اٹھایا اور اسے خود کو دیکھتے پایا
” اسکے بعد بھی انہوں نے تمہیں ایک انسان کو پرکھنے بھیج دیا۔ سٹرینج “
وہ دھیمے سے مسکرائی
” یس۔ ویری سٹرینج انڈیڈ “
ویٹرز انکے کھانے کی رکابیوں سے میز بھرنے لگے۔ خاموشی کا ایک اور وقفہ گفتگو گو گونگا کر گیا تھا۔
” مجھے نہیں پتہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ہے احمر۔ تم نے اس سے ایک ماہ پہلے شادی کی ہے کہ سال پہلے، کیا خبر وہ بچے بھی تمہارے ہوں، کیا پتہ یہ تمہاری بیوی بھی نا ہو، مجھے کچھ نہیں پتہ اور شائد میں پتہ چلا بھی نہیں سکتی۔۔۔۔۔ “
وہ زرا رکی تھی۔
” لیکن ایک بات میں ضرور جانتی ہوں۔ اس وقت جب ہم یہاں موجود ہیں تو اسکی وجہ یقیناً ہم سب کی کوئی نا کوئی ضرورت ہے۔ ہم تینوں اہلِ دل سہی لیکن یہاں ہم دل کے کہنے پہ نہیں آۓ ہیں۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں مس ملائکہ ؟؟؟؟؟؟ “
وہ خاموش ہی رہی۔
اسکے دل کی تو بات ہی نہیں ہوتی تو بہتر تھا۔ دل کو مارے عرصہ بیت چکا تھا۔ یہ سانحہ تب ہوا تھا جب اس انسان نے اسکے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے تھے جسے اس نے کبھی اسے سونپا تھا۔ تو یہ سچ ہی تھا۔ ضرورت اور بس ضرورت جو اسے وہاں لائی تھی اور اس تکون کا حصہ دار بنایا تھا۔
سات سمندر پار سے وہ لڑکی بھی تو ضرورت کے تحت ہی آئی تھی۔ دل تو وہ وہیں پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ یہاں آئی تھی تو بس ضرورت تھی جسے اس نے ہرگز عیاں نہیں کیا تھا۔
جیسے اس تکون کو مکمل کرتے اس تیسرے انسان نے نہیں کیا تھا۔ وہ کیا چاہتا تھا، اسکی چاہت کیا تھا، اسکے دل کی بات اسکی زبان پہ نہیں آئی تھی۔
” میں تم سے شادی کے لئیے تیار ہوں مسٹر احمر “
احمر کے ہاتھ میں ہلکے سے لرزش اتری تھی۔ اس نے چونک کر نوریہ کو دیکھا تھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
” لیکن میری ایک شرط ہے۔ “
وہ زرا رکی اور کن انکھیوں سے ملائکہ کو دیکھا
” تم اپنی پہلی بیوی کو طلاق نہیں دو گے۔ “
ملائکہ کے سر پہ جیسے کسی نے بم پھوڑ دیا تھا۔
” تم ملائکہ اور اسکے بچوں کو نہیں چھوڑو گے۔ انکی کفالت تمہاری زمہ داری رہے گی۔ بھلے تم کسی کو یہ مت بتانا، اپنے فادر یا میرے ڈیڈ میں سے کسی کو بھی نہیں، اسے بیشک اپنا سیکرٹ بنا کر رکھو لیکن اس شادی کو قائم رکھو گے۔ اور اسکی گارنٹی کے طور پہ تمہارا نکاح نامہ میرے پاس رہے گا “
