Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ahl e Dil (Episode 04)

Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar

کمال نیازی نے ہلکی سی دستک دیکر دروازے پہ دباؤ ڈالا تھا۔ دروازہ کھلتا چلا گیا تھا۔ کسیلے سے دھوئیں کے مرغولے نے انکا استقبال کیا تھا۔ انکے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات پھیل گئے تھے۔

وہ ہولے سے کھنکارے۔ نیم اندھیرے میں بھی وہ سرمئی دھوئیں کے بادل دیکھ سکتے تھے۔

” دعان ؟؟؟؟ “

” جی باس “

بستر پہ حرکت ہوئی اور اس ہیولے نے اٹھ کر بٹن دبایا۔ کمرے میں روشنی پھیل گئی تھی۔ وہ انکے سامنے تھا۔ ماتھے پہ بکھرے اسکے بال اور نشے میں ڈوبی ہوئی آنکھیں جن میں لال ڈورے تیر رہے تھے۔ انہوں نے اسے بغور دیکھا جو اب صوفے پہ بکھرا پھیلاوا سمیٹ کر انہیں بیٹھنے کو کہہ رہا تھا۔

” بیٹھیں باس۔ “

وہ آہستہ آہستہ چلتے صوفے تک پہنچے تھے۔

” آپ نے زحمت کیوں کی، مجھے بلوا لیتے، میں آفس آجاتا۔۔۔۔۔ “

انہوں نے لمبی سانس بھری

” پیاسا ہی کنویں کے پاس آیا کرتا ہے دعان، یہی روایت ہے “

وہ زرا رکے اور سر جھٹکا۔ وہ دھواں کوکین سے اتنا آلودہ تھا کہ وہ چکرا کر رہ گئے تھے۔

” چاۓ، کولڈ ڈرنک، کیا لیں گے باس ؟؟؟؟؟ “

وہ انٹرکام کا ریسیور کان سے لگاۓ پوچھ رہا تھا

” اپنی بیٹی “

وہ ان نشے میں ڈوبی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولے تھے۔ وہ بہت دیر تک خاموش انہیں دیکھتا رہ گیا

” مجھے میری بیٹی واپس چاہئیے دعان، میری نوریہ۔ “

” باس آپ۔۔۔۔۔ “

” کوئی ڈرامے بازی، کوئی جھوٹ سچ نہیں دعان۔ بزنس کی بات بزنس تک، یہ طے ہوا تھا۔ نوریہ کو اس سب میں شامل مت کرو، میں یہ برداشت نہیں کروں گا۔ یہ بات تمہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ تم کسی صورت اسکے قابل نہیں ہو “

وہ ریسیور رکھ کر سیدھا ہو چکا تھا۔

” اس سے دور رہو، اتنی دور کہ وہ چاہے بھی تمہیں مل نا پاۓ۔ “

” اور محبت ؟؟؟؟؟ “

وہ فوراً بولا

” میں تو چلیں دنیا بھر کا جھوٹا اور بدمعاش ہوں، وہ جو کہتی ہے مجھ سے محبت کرتی ہے ؟؟؟؟ اسکا کیا باس ؟؟؟؟؟ “

” وہ تمہاری دردِ سری نہیں ہے “

وہ دو ٹوک لہجے میں بولے تھے۔ بہت سارے لمحے خاموشی سے گزر گئے تھے۔

” میں نے نوریہ کی شادی طے کردی ہے دعان “

خاموشی کا ایک لمبا وقفہ پھر سے گفتگو میں آیا تھا۔

” ہم دونوں ایک دوسرے کے لئیے لازم و ملزوم ہیں، میوچلزم ہمارے سروائول کی بنیاد ہے، یہ مانتا ہوں۔ میں تمہیں ایکسپوز نہیں کر سکتا اور تم مجھے ڈبل کراس نہیں کر سکتے۔ یہ ہمارا دھندا ہے یہ ہمارا بزنس ہے تو اسے ایسے ہی چلنے دو۔ “

وہ زرا رکے اور اسے بغور دیکھا

” لیکن ایک بات یاد رکھنا۔ نوریہ مجھے ہر شے سے عزیز ہے۔ یہ بزنس، دولت، ہیرے، ڈرگز سب بے معنی ہیں جب بات میری بیٹی کی ہو۔ اور اس کی بھلائی کے لئیے میں ہر حد تک جاؤں گا دعان۔ یاد رکھنا “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ملائکہ نے اسے بغور دیکھا جو اپنی بات کہہ کر سر جھکائے بیٹھا تھا۔

” یہ کونسی گیم ہے جو آپ سب مل کر کھیل رہے ہیں ؟؟؟ یاخدا یہ کیسی مشکل میں پھنس گئی ہوں میں۔۔۔ “

وہ زِچ ہو گئی تھی۔ اسے صاف انکار کرتی تو نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتی، اسکی بات مان لیتی تو ویسے ضمیر کی عدالت میں مجرم ٹھہرتی۔

” اس سے پوچھا آپ نے کہ کیوں وہ ایسی فضول شرط رکھ رہی ہے ؟؟؟؟ “

وہ ہولے سے کھنکارا

” ملائکہ سارے سوال جواب ہو چکے، کھیل سمجھو، شرط سمجھو، جو بھی سمجھو لیکن اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ وہ یہی چاہتی ہے، اب آپ بتاؤ آپ یہ کرنا چاہتی ہو کہ نہیں ؟؟؟؟؟؟ “

اس نے احمر کو بغور دیکھا اور سوچا

” میرا نہیں کہنا مجھے کس مصیبت میں گرفتار کر سکتا ہے مجھے پتہ ہے “

اس نے لمبی سانس بھری تھی۔

” ٹھیک ہے، یہ ایسے ہوگا تو ایسے سہی۔ اتنے دنوں کی یہ بیکار کی تُو تُو میں میں، فضول کی شورش اور اب انت ہو ہی جاۓ۔ “

وہ زرا رکی

” میں تیار ہوں، جو ہو گی دیکھی جاۓ گی۔ لیکن میری بھی کچھ شرائط ہیں “

احمر نے سر پکڑ لیا۔

( ہاں ہاں ہر کتے کا دن آتا ہے، سب ہی شرطیں شرطیں کھیل رہے ہو، میڈم تم بھی سہی )

” نکاح نامہ سچا ہوگا لیکن ہمارے رشتے کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔ آپکا مجھ پہ یا میرے بچوں پہ کوئی اختیار نہیں ہوگا اور یہ بات آپ مجھے تحریری لکھ کر دیں گے۔ طلاق کا حق میرے پاس رہے گا اور میں جب چاہے اسے ختم کرسکوں گی “

احمر نے دونوں ہاتھ بلند کئیے

” فئیر انف “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نوریہ کہنوں کے بل بازو کھڑے کئیے، ہاتھوں کے کٹورے میں چہرہ رکھے سامنے سکرین کو دیکھ رہی تھی۔ وہ جو دل میں بستا تھا، وہ جو سات سمندر پار بستا تھا، وہ یہ سامنے تھا۔ نزدیک اتنا کہ درمیان بس سکرین تھی پر دور اتنا کہ بیچ میں سات سمندر تھے۔

” میں نے کہا تھا میں بدل جاؤں گا۔ بس کہا نہیں تھا، وعدہ کیا تھا۔ وعدہ مطلب قسم کھائی تھی۔ وہ جیسے پڑھتے ہیں ناں لا الہ الااللہ، اتنا سچا وعدہ “

” مجھے پتہ ہے دعان “

وہ فوراً بولی تھی۔

” مجھے پتہ ہے تم بدل جاؤ گے۔ پر یہ بدلنا سدھرنا اور سیدھ چن لینا، کس نے کہا تم سے ؟؟؟ کلمہ پڑھ کر بتانا میں نے کہا تم سے کہ تمہاری ٹیڑھ میرے دل میں تمہاری قدر کم کرتی ہے ؟؟؟؟ “

وہ زرا رکا

” لیکن میں ٹیڑھا ہوں نوریہ اور بے بس بھی۔۔۔۔ “

وہ سانس لیکر رہ گئی

” بے بس تو میں ہوں۔۔۔۔ “

اسے بغور دیکھتی، اسکے ماتھے پہ بکھرے بالوں تلے دفن زخم کے ںشان کو کھوجتی، وہ اپنی بے بسی پہ اداس تھی۔

” وہ چاہتے ہیں میں تم سے کہوں مجھے بھول جاؤ۔ ایک بار پھر سے۔۔۔۔۔ “

وہ خاموش رہ گئی

” مجھے بھول جاؤ نوریہ ! “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر نے ایک نظر اس کارڈ پہ ڈالی اور اسکے چہرے پہ استہزائیہ مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔ اس نے جتاتی ہوئی نظروں سے باپ کو دیکھا تھا۔

” مجھے یاد پڑتا ہے میری آپ سے آخری دفعہ بات ہوئی تھی تو آپ مجھے احمر کو نوریہ سے شادی پہ راضی کرنے کے لئیے کہہ رہے تھے۔ یوں جیسے وہ میرے کہے بغیر ہرگز ہرگز اس سے شادی نہیں کرے گا اور اب۔۔۔۔۔ “

اس ںے وہ کارڈ میز پہ ڈال دیا

” آپ میرے پاس یہ لیکر آۓ ہیں۔ ویری ویل پلیڈ ڈیڈ “

وہ اسے دیکھ کر رہ گئے

” ویل، آپکو بہت بہت مبارک ہو کہ آپکا ہونہار بیٹا شادی کرنے جا رہا ہے۔ میری طرف سے ڈھیروں دعائیں “

” یہ دعائیں تم خود اسے مل کر، گلے لگا کر دو گے “

وہ زور سے ہنس پڑا

” واؤ، ویری فلمی “

وہ سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتے رہے۔ اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا تھا۔

” آپ جانتے ہیں یہ ممکن نہیں۔ میں ہرگز ہرگز وہاں نہیں آؤں گا اور نا ہی اسکی کبھی شکل دیکھوں گا “

” لیکن کیوں ؟؟؟؟ “

” کیوں ؟؟؟؟؟ یہ آپ پوچھ رہے ہیں کیوں ؟؟؟؟؟ “

وہ ترخ کر بولا تھا۔

” چلیں یہ بھی میں بتا دیتا ہوں کیوں۔ شائد آپ بھول گئے ہیں تو میں یاد کروا دیتا ہوں کہ کیوں۔۔۔۔ “

وہ زرا رکا

” اس لئیے کہ آپ کے بیٹے نے میری بیوی کو ورغلایا، میری بیوی جس سے میں بے تحاشا محبت کرتا تھا اور وہ بھی مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی۔ نا صرف ورغلایا بلکہ اسکے ساتھ زبردستی بھی کی۔ اسکا نتیجہ کیا نکلا ؟؟؟ آپکو نہیں یاد ؟؟؟؟ چلیں یہ بھی سہی۔۔۔۔ اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گناہ کی پیداوار۔۔۔۔۔۔۔ “

” انصر۔۔۔۔۔ !!!!! “

وہ پوری قوت سے دہاڑے تھے۔ لمحوں میں انکا چہرہ تمتما اٹھا تھا۔ وہ یکدم چپ ہو گیا تھا۔ اسے شعلہ بار نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اٹھ کھڑے ہوۓ۔

” جلتے رہو اپنی اپنی انا اور اپنی اپنی نفرت کی آگ میں۔ پچھتاؤ گے، پچھتاؤ گے ایک دن کہ جب باقی بس راکھ رہ جاۓ گی۔ “

وہ کہہ کر رکے نہیں تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ہال سنہری روشنیوں سے بھرا ہوا تھا۔

اے سی کی خنکی، گلاب کی بھینی سی مہک، دھیمی سی موسیقی، کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو۔۔۔۔ جہاں

” احمر حافی ولد کلیم حافی، کیا آپکو نوریہ کمال ولد کمال نیازی سے بعوض ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟؟ “

احمر نے ایک لمحے کو آنکھیں موند لیں۔ ذہن دو دن پیچھے چلا گیا جب وہ ملائکہ کے ساتھ نکاح خوان کے سامنے بیٹھا ٹھا اور وہی سوال پوچھا جا رہا تھا۔

” بدکرداروں کے لئیے بدکرداری ہی اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ انہیں پاک رشتوں سے کچھ لینا دینا ہی نہیں ہوتا ہے۔ تو، تو بھی ان میں سے ہی ہے۔۔۔۔ “

” قبول ہے “

اس نے ہولے سے کہا اور خود کو ملائکہ کے ساتھ نکاح نامے پہ دستخط کرتا پایا تھا۔

” احمر حافی ولد کلیم حافی، کیا آپکو نوریہ کمال ولد کمال نیازی سے بعوض ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟؟ “

” محبت ہے نا ہی ضرورت، گرین کارڈ چاہئیے نا ہی اسکی دولت، اسکے باپ کا دباؤ ہے اور نا ہی تیرے باپ کا، پھر بھی اس شادی کے لئیے اتنا اتاؤلا پن، کیوں احمر ؟؟؟؟؟؟ “

اس نے لمبا سانس بھرا

” قبول ہے “

وہ نکاح نامہ اس نے کل ہی تو نوریہ کو دیا تھا۔ وہ جو رشتہ سچا تھا پر جھوٹ پہ مبنی تھا۔ وہ جو تحریر سچی تھی پر تاریخ جھوٹ تھی۔

” میں نے تم پہ اعتبار کر کے یہ تمہیں دیا ہے نوریہ۔ مجھے یقین ہے تم میرے اعتبار کو ٹھیس نہیں پہنچاؤ گی۔ اسے اپنے پاس رکھنے کا مقصد کوئی بھی ہو، وہ شرط رکھنے کا مطلب کچھ بھی ہو، مجھے یقین ہے مجھے تم سے شادی کرنے کے فیصلے پہ پچھتانا نہیں پڑے گا۔۔۔۔ “

” احمر حافی ولد کلیم حافی، کیا آپکو نوریہ کمال ولد کمال نیازی سے بعوض ایک لاکھ روپے سکہ رائج الوقت یہ نکاح قبول ہے ؟؟؟؟؟ “

وہ واپس حال میں آیا تھا۔ وہ اس ہال میں واپس آیا تھا۔ وہاں جہاں اے سی کی خنکی، گلاب کی بھینی سی مہک، دھیمی سی موسیقی، کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔

” قبول ہے “

اس نے لاشعور میں سلگتا وہ منظر دیکھا تھا۔ دھوئیں میں کہیں بہتا خون اور چیخیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انصر نے اس آنیوالی لڑکی کو بغور دیکھ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا۔ وہ اپنی فائل اسکے سامنے رکھ کر، اسکے سامنے کرسی پہ بیٹھ گئی تھی۔

” فریال ارشاد “

اس نے وہ نام پڑھا اور اسکی سی وی پہ نظریں دوڑائیں

” ابھی تو تعلیم ادھوری ہے آپکی “

” جی “

” کنٹینیو ہے یا چھوڑ دی ؟؟؟ “

” ابھی جاری ہے سر”

” تو جاب کی کیا ضرورت پڑ گئی ؟؟؟؟؟ “

” فیملی سپورٹ کرنا چاہتی ہوں سر۔ پیرینٹس فوت ہو چکے ہیں، بھابھی کے ساتھ رہتی ہوں “

انصر نے ہنکارہ بھرا اور اس سے دو تین مزید سوال پوچھے۔

” ہم آپکو بتا دیں گے مس فریال اگر ہمیں آپکی ضرورت ہوئی تو۔۔۔۔ “

اگلی شام فریال کو وہ پیغام موصول ہوا تھا۔ وہ اس پوسٹ کے لئیے سلیکٹ کر لی گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” شادی مبارک “

نوریہ کو پیغام نکاح کے کچھ ہی دیر بعد دعان کی طرف سے ملا تھا اور تب سے اب تک وہ اسے کئی بار پڑھ چکی تھی۔

” تمہیں پتہ ہے یہ نکاح ایک کاغذی تعلق سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ یہ تمہیں وقت دینے کے لئیے میری طرف سے ایک جہد ہے۔ میرے لئیے یہ ایک قید ہے، ایسی قید جس سے نکلنے کی تدبیر میں پہلے سے سوچ چکی ہوں۔۔۔۔ “

ملائکہ اور احمر کا نکاح نامہ وہ محفوظ کر چکی تھی۔ نکاح کے بعد وہ رخصت ہو کر احمر کے گھر آ چکی تھی۔ اب وہ عروسی لباس میں ملبوس، اسکے کمرے میں تھی۔ بستر کے ارد گرد خوبصورت پھولوں سے سجاوٹ کی گئی تھی۔ اس پرسکون سی فضا میں وہ دو ذانو بیڈ پہ بیٹھی آگے کا لائحہ عمل تیار کر رہی تھی جب دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا۔ احمر اندر داخل ہوا تھا۔

سیاہ شیروانی میں ملبوس، سلیقے سے بنے بال جو اب سارے دن کی تکان کے بعد ماتھے پہ بکھرنے لگے تھے۔

” اور اگر یوں ہوا کہ مجھ تک آنے کے لئیے تم جس راستے پہ نکلی ہو اس نے تمہیں بھٹکا دیا تو ؟؟؟؟؟؟؟ “

اسکے کانوں میں بازگشت ہوئی تھی۔

” میرے دل میں جھانک کر دیکھا ہے تم نے دعان۔ تمہیں پتہ ہے وہاں بس تم ہی ہو “

احمر اب اسکے سامنے، بیڈ پہ پیر لٹکاۓ بیٹھ گیا تھا۔ اس پہ نظر پڑی تو دھیمے سے مسکرایا تھا۔

” آج تو میں ہوں، کل میں نا رہا تو ؟؟؟؟؟ تم نے اپنے دل سے دربدر کر ڈالا تو ؟؟؟؟کل تم نے اپنے دل کی سلطنت کسی اور کو سونپ دی تو ؟؟؟؟؟ “

احمر ہولے سے کھنکارا تھا۔

” میرا دوست اور بزنس پارٹنر ہے ولید۔ اس نے مجھ سے کئی بار پوچھا کہ میں تم سے شادی کیوں کرنا چاہتا ہوں۔ تمہاری شرط سننے کے بعد بھی، یہ جاننے کی بعد بھی کہ تمہیں مجھ میں دلچسپی ہے اور نا ہی محبت۔ یہ پتہ ہونے کے بعد بھی کہ شرطیں جب رشتوں کی بنیاد ہوں تو وہ صادق نہیں ہوتے ہیں۔ پھر بھی میں نے تم سے ہی شادی کیوں کی۔۔۔۔۔ “

وہ زرا رکا۔ تبھی اسکا فون بجا تھا۔ احمر نے دیکھا، ملائکہ کی کال تھی۔ وہ اس سے معذرت کرتا اٹھا اور کمرے سے باہر نکل کر فون کان سے لگایا۔ وہ دوسری طرف پریشان رو رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *