Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar NovelR50578 Ahl e Dil (Episode 01)
Rate this Novel
Ahl e Dil (Episode 01)
Ahl e Dil by Zaid Zulfiqar
وہ آج ہی پاکستان پہنچی تھی۔
ائیر پورٹ سے لیکر ڈیفینس تک آتے آتے اس نے کوئی سو بار کمال نیازی کے اسے پاکستان بھیجنے کے فیصلے پر لعنت بھیجی تھی…
ایک تو جولائی…شدید گرمی, اوپر سے جگہ جگہ پر ٹریفک جام… راستے میں آتے آتے ہی اس کی بس ہو گئ
“اللہ کرے اگلی بار آپ خود پاکستان آئیں ڈیڈ… ” وہ شاید اپنے طور انہیں بددعا دے رہی تھی, گھر پہنچتے ہی ڈرائیور نے اس کا سامان باہر نکالا… گھر کی کل وقتی ملازمہ آس کے لئے پانی لے آئی
توبہ… توبہ…اتنی گرمی میں زندہ کیسے ہو تم لوگ ؟” وہ بیچاری امریکن پلٹ لڑکی ابلی پڑی تھی
“بی بی جی… اوپر کے کمرے کا اے سی چلا دیا ہے, وہاں چلی جائیں ” ملازمہ حواس کی حالت پر رحم آیا, وہ بادل نخواستہ سی اٹھ کھڑی ہوئی اور ابھی کمرے میں پہنچی بھی نہیں تھی کہ لائیٹ آف ہو گئی
“یہ کیا مصیبت ہے ؟” وہ ملازمہ پر برس پڑی
“بجلی چلی گئی ہے جی… اور یو پی ایس خراب ہے” ملازمہ اسے زور و شور سے ہاتھ والا پنکھا جھلنے میں لگ گئی تھی
“جنریٹر نہیں ہے ؟” وہ بولی
“وہ جی… چوکیدار اپنے گھر لے گیا تھا, اس کی ماں کا آپریشن ہوا تھا پچھلے دنوں” ملازمہ نے کہا, اسی اثناء میں کمال نیازی کی کال آ گئی
“پہنچ گئیں نوریہ… ؟” وہ بڑے ہشاش بشاش موڈ میں تھے
“ہاں جی… بڑا ہی کوئی اعلیٰ ماحول ہے یہاں ڈیڈ… بالکل جہنم سے مشابہ… ” وہ ستی پڑی تھی
“اب کیا ہو گیا ؟” کمال نیازی اچنبھے سے بولے
“ہونا کیا ہے ڈیڈ… ؟ یہاں ڈیفینس کے گھروں کا یہ حال ہے تو مڈل اور لوئر کلاس کا کیا حال ہوتا ہو گا ؟ اسقدر شدید گرمی… توبہ, پسینہ پانی کی طرح بہے جا رہا ہے, اوپر سے لائیٹ بند… استغفراللہ ڈیڈ اتنی گرمی میں لائیٹ بند… یو پی ایس خراب, جنریٹر آپ کا چوکیدار اٹھا کر اپنے گھر لے گیا ہے, مجھے یہ کس گناہ کی سزا دی ہے آپ نے ؟” وہ روہانسی ہو گئی
“تو جنریٹر واپس منگوا لو ؟” کمال نیازی نے کمال کا مشورہ دیا
“اچھا جی… بہت مہربانی” نوریہ نے کھٹ سے فون بند کیا تھا
“جاؤ چوکیدار سے کہو جنریٹر واپس لیکر آۓ” وہ ایک دم پھر سے ملازمہ پر برس پڑی تھی
…………………….
وہ جیسے ہی گھر پہنچی… دروازہ کھولتے ہی ایک قیامت اس کے سامنے تھی
سات سالہ حسن اور آٹھ سالہ حرم ٹی وی لاؤنج میں گتھم گتھا ہو رہے تھے
لائیٹ بند… بلا کی گرمی, چیخ چکاٹا… اور فریال ان کی ریفری بنی ہوئی تھی, جو ذرا مات کھاتا نظر آتا, اسی کی سائیڈ پر ہو جاتی
لمحہ لگا تھا اس کا پارہ سو پر پہنچ گیا
“چھوڑو… چھوڑو… شیطان مردودو… ” اس نے بے دریغ ان دونوں پر کشن برساتے ہوئے انہیں الگ کیا تھا
“اور تم بچی ہو ؟” وہ فریال پر برس پڑی
“بھابھی میرے آنے سے پہلے ہی معرکہ گرم تھا… ” فریال ہنستے ہوئے بولی
“ماما… اس چڑیل نے پہلے پنگا لیا تھا.. ” حسن نے اس کا بازو جھنجھوڑا
“نہیں جی… پہلے تم نے میری پونی کھینچی تھی” حرم پھر سے اس پر جھپٹ پڑی
“شٹ اپ.. خبردار جو ایک لفظ بھی منہ سے نکلا تو… ” اس نے بنا کوئی لحاظ کئے دونوں کے ایک ایک جڑ دی
“پہلے باہر کھپ کھپا کے آؤ پھر گھر آ کر ذلیل ہو… ہروقت میدان جنگ تیار رکھا کرو تم دونوں” وہ ان پر بری طرح برس پڑی, اس کا پارہ سو پر پہنچا دیکھ کر فریال چپکے سے کچن کی طرف کھسک لی تھی, کھانے کے بعد بھی وہ بچوں کو ہوم ورک کروانے کی بجاۓ کمرے میں بند ہو گئی
فریال نے ہی جیسے تیسے ان کی کاپیاں مکمل کروائیں
“ہوا کیا ہے آخر ؟” فریال کو رات کا کھانا پکانا ایک قیامت نظر آ رہا تھی, اسکے کمرے کے چکر لگا لگا کر آخر فریال نے اسے جگا ہی لیا
“نوکری سے فارغ کر دیا ہے آج مجھے… ” وہ پھٹ ہی پڑی, فریال اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھتی رہ گئی
“وہ مینیجر حرامزادے کہہ رہا تھا فارن ٹور پر چلو میرے ساتھ… میں نے منع کر دیا… بس اس نے نکال باہر کیا” ملائکہ انتہائی پریشان تھی
“اچھا کوئی نہیں… اللہ کوئی اور سبب بنا دے گا, اٹھیں اور چل کر کھانا بنائیں, مجھ سے نہیں بنتا” فریال کو اپنی پڑی تھی, وہ ایک نظر فریال کے انتہائی پریشان چہرے کو دیکھتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی, کھانا بناتے ہوئے بھی اس کا دھیان بار بار نوکری کی طرف جا رہا تھا
“پتہ نہیں اب کب ملے گی ؟” رات تک وہ یہ ہی سوچتی رہی
حرم ایک سال کی اور حسن ایک ماہ کا تھا تب سے وہ اکیلی تھی۔ سسرال کے نام پہ ایک بس شوہر تھا جو سات سال سے نجانے کہاں تھا، زندہ کہ مردہ کوئی خبر نہیں…سات سالوں سے وہ دو چھوٹے بچے اور فریال اس کی ذمہ داری تھے, ساس کی شادی کے ایک سال بعد ہی ڈیتھ ہو گئی تھی… جب اس کی شادی ہوئی تو وہ بی ایس سی کے لاسٹ ائر میں تھی
ماں باپ تو تھے نہیں، چچا چچی نے شادی کا فریضی سر انجام دیا تو پھر مڑ کر پوچھا بھی نہیں… شوہر کا پتہ ہو گیا تو وہ بیچاری ڈر ڈر کی ٹھوکریں کھانے لگی, اسکی ابھی عمر ہی کیا تھی لیکن… دوسری شادی کا مطلب تھا ان تینوں کو خوار کر دینا سو اس نے ہمت باندھی اور کمر کس لی, اپنا آپ ان تینوں کے لئے وقف کر دیا
اور آج سات سال ہو گئے تھے اسے ان تینوں کے بہتر مستقبل کے لئے دھکے کھاتے ہوئے
………………..
غسل خانے کے باہر ایک افراتفری مچی ہوئی تھی, وہ پچھلے ایک گھنٹے سے غسل خانے میں گھسا ہوا تھا, احسن اور علی دونوں کی شامت آئی ہوئی تھی
“تولیہ لیکر آ… جلدی” احسن کو حکم صادر ہوا تھا, وہ جلدی سے تولیہ لے آیا
“اس سے بھی چکٹ لے آ… بدبو آ رہی ہے اس میں سے” وہی تولیہ اس کے سر پر دھر دیا گیا
“بھائی نیا نکال کر لایا ہوں بالکل… ” وہ عاجز آیا پڑا تھا
“میرا آفٹر باتھ کہاں ہے ؟” علی کی شامت آئی تھی
“چاچو ابھی تو دے کر گیا ہوں آپ کو ؟” وہ بچہ بیچارہ اتوار منانے چچاؤں کے گھر آیا تھا اور آ کر بری طرح پھنس گیا تھا
خدا خدا کر کہ اس کی تیاری مکمل ہوئی
“بھائی… خدا کا ہی نام ہے اب چلے جائیں نہیں تو وہ انتظار کر کر کے واپس چلی جاۓ گی” احسن نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے, ان دونوں پہ ایک نگاہ غلط ڈالتا ہوا وہ گاڑی نکال لے گیا
آج اسے نوریہ کمال سے ملنا تھا
اس کے ڈیڈ کے جگری دوست کمال نیازی کی چھوٹی بیٹی جو خاص طور پر اس کی رونمائی کے لئے امریکہ سے پاکستان آئی تھی, پرسوں سے اسے کلیم حافی کے دسیوں فون آ چکے تھے اور ہر بار وہ بس ایک ہی بات کہہ رہے تھے
“احمر… خدارا کوئی بونگی نہ مار دینا” اور احمر پرسوں سے اپنا تربوز نما سر ہلاۓ جا رہا تھا
وہ ریسٹورنٹ پہنچا تو مس نوریہ کمال اس سے پہلے وہاں موجود تھی…بیزار سی
“نوریہ کمال ؟” احمر نے بڑی خوش اخلاقی سے یقین دہانی چاہی تھی
“احمر حافی ؟” جواباً اس نے پوچھا تھا, احمر دھیرے سے سر ہلا کر اس کے سامنے پڑی نشست پر بیٹھ گیا
“آپ آدھا گھنٹہ لیٹ آۓ ہیں مسٹر احمر… ” نوریہ اسے جتا ہی گئی
“بس تیار ہوتے ہوتے دیر ہو گئی ” احمر نے کہا, نوریہ اسے دیکھ کر رہ گئی
“میں کسی لگی لپٹی کے بغیر بات کروں گی احمر… ڈیڈ آپ سے میری شادی کرنا چاہتے ہیں, انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں مجھے کہہ دیا ہے کہ میں جتنے دن چاہوں یہاں رہ کر آپ کی شخصیت کی چھان بین کر سکتی ہوں لیکن… ” وہ تھوڑا آگے کو ہوئی
“ہو سکتا ہے یہ صرف میرا ذاتی خیال ہو لیکن… شادی کے بعد ہر قسم کا لڑکا روایتی شوہر ہی ثابت ہوتا ہے سو… چھان بین کا کوئی فائدہ نہیں ” نوریہ نے کہا, احمر چپ چاپ اسے سنتا جا رہا تھا
“آپ کچھ نہیں کہیں گے ؟” نوریہ اس کی خاموشی سے اکتا گئی
“احمر خدارا کوئی بونگی نہ مار دینا… ” اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی, اس کے کانوں میں کلیم حافی کی آواز لہرائی
“جو آپ کہہ رہی ہیں وہ درست ہی ہو گا نوریہ…” احمر نے کہا
“یعنی آپ واقعی ایک روایتی شوہر بن جائیں گے ” نوریہ زور سے ہنسی
“نہیں تو… میرا مطلب تھا کہ… ” نوریہ نے اس کی بات کاٹ دی
“چلیں چھوڑی… میں آپ کو کیسی لگی ؟” اس نے پوچھا
“آپ ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہیں نوریہ… ” احمر نے کہا
“تو بس پھر میں آج رات کال کر کہ ڈیڈ کو اوکے کر دیتی ہوں, شادی تو کرنی ہی ہے نا… اپنی مرضی سے نہ سہی, ڈیڈ کی مرضی سے ہی سہی, دراصل المیہ یہ ہے کہ مجھے ابھی تک کسی سے محبت نہیں ہوئی ورنہ شائد میں پاکستان آتی ہی نہیں ” نوریہ نے کہا
“محبت تو خیر ابھی تک مجھے بھی نہیں ہوئی… ” احمر دھیرے سے ہنسا تھا
“چلیں… کوئی بات نہیں, اب شادی کے بعد ہی کریں گے محبت… ” نوریہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
……………………..
“ماما چلیں نا پلیز… کبھی تو کوئی بات مان لیا کریں ” وہ دونوں اس کے دونوں بازو جکڑے کھڑے تھے, سامنے کھڑی فریال کے چہرے پر بھی حد درجے مسکینیت طاری ہوۓ جا رہی ہے
“کوئی فائدہ ہے وہاں جانے کا… ؟ پیسے تو ہیں نہیں, خریدنا کیا ہے ؟” وہ بھڑک پڑی
“ماما آپ کچھ بھی نہ خریدنا… بس ہم جھولے لیکر اور سیر کر کہ واپس آ جائیں گے” فرمائش ہوئی تھی
“بھابھی… ونڈو شاپنگ ہی کر لیں گے” فریال نے کہا, اس نے غصے سے ایک نظر ان تینوں کی طرف دیکھا تھا, وہ کئی دنوں سے لاہور فورٹ میں لگی ایکسپو (نمائش) میں جانے کی ضد کر رہے تھے اور ملائکہ اپنی جیب کے ہاتھوں مجبور تھی
“چلو… مرو…” عصر کے ساۓ لمبے ہو رہے تھے جب وہ ان تینوں کو رکشے میں بھر کر وہاں لے آئی, ٹکٹ خرید کر وہ جیسے ہی اندر داخل ہونے لگے, گارڈ نے روک لیا
“میم آپ مکمل فیملی ہیں ؟” اس نے پوچھا تھا
“جی… یہ میرے بچے ہیں ” ملائکہ نے کہا
“آپ کے شوہر ؟” گارڈ نے پوچھا
“وہ تو نہیں ہیں… ” ملائکہ نے کہا
“سوری میم… آج کی رات صرف کپلز اور فیملیز کے لئے ہے, سوری” گارڈ نے کہا
“یہ کیا بات ہوئی بھلا… ” ملائکہ چڑ گئی
“ہمیں یہ ہی آرڈر ہے میم ” گارڈ نے کہا
“اور جس کا شوہر ہی نہ ہو وہ کیا کرے… ؟” وہ گارڈ پر چڑھ دوڑی
“میم…یہ تو مجھے نہیں پتہ… سوری” وہ ناک بھوں چڑھا کر پلٹ آئی
“چلو… ” وہ ان تینوں کے پاس آ کر بولی
“کہاں ؟” ان کے پوچھتے ہی تپ گئی
“گھر اور کہاں… نہیں جانے دے رہے وہ اندر” ملائکہ نے زور سے کہا
“ماما… آج آخری دن ہے ایکسپو کا… ” بچے رو دینے کو تھے
“میں کہیں اور لے چلتی ہوں تمہیں… چڑیا گھر, مینار پاکستان, پارک… ” اس کا ہر حربہ بیکار ہی گیا, ہر دلاسہ رائیگاں ہی گیا, ہر کوشش فضول ہی ٹھہری , نہ گارڈز مانے اور نہ بچے… وہاں کھڑے کھڑے مغرب ہو گئی, اس جیسے اور بھی لوگ احمقوں کی طرح باہر کھڑے تھے
“ارے احسن تم… ” اچانک فریال کو احسن نظر آ گیا
“بھابھی یہ آٹھویں تک میرا کلاس فیلو تھا… احسن, تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟” فریال نے پوچھا
“ہم ایکسپو دیکھنے آۓ تھے… ” احسن نے ایک نظر احمر کے ستے ہوۓ چہرے کی طرف دیکھا, صاف ظاہر تھا کہ وہ اور علی اسے زبردستی کھینچ کر لے آۓ تھے
“تو اندر کیوں نہیں جا رہے… ؟” فریال فل انویسٹی گیشن کے موڈ میں تھی
“دراصل وہ… ” احسن نے احمر کی گھوریوں کے باوجود اسے سب بتا دیا
“ہم نہ تو کپل ہیں اور نہ پوری طرح فیملی… ” حاشر نے کہا
“چلو… دو گھنٹے ہو گئے ہیں یہاں کھڑے ہوئے ” ملائکہ نے اس کا بازو پکڑا …جواباً وہ اس کا بازو کھینچ کر ایک طرف لے گئی
“وہ احسن کے بڑے بھیا ہیں… اگر ہم ان کے ساتھ… ” فریال نے کہا لیکن ملائکہ نے ایک دم اس کی بات کاٹ دی
“شرم کرو کچھ… ایک ایکسپو کے لئے میں اس انجان بندے کو اپنا شوہر بنا لوں… دماغ ٹھیک ہے تمہارا ؟ ” وہ فریال پر برس ہی پڑی
“پھر کیا ہوا ؟ کونسا وہ سچی میں آپ کا شوہر بن جاۓ گا” فریال نے کہا
“فریال…. ” ملائکہ حیرانی کی ساتویں منزل پر تھی
“کس قدر بے حیا ہو گئی ہو تم ؟ صرف ایک ایکسپو کے لئے میں کسی بھی ایرے غیرے نتھو خیر کو اپنا شوہر بنا لوں, ہے نا… ؟” وہ تاسف سے بولی تھی
“یہ ایرا غیرا تو ٹھیک ہے… نتھو خیرا کیا ہوتا ہے ؟” فریال کی بس ہو گئ
“تمہارا سر ہوتا ہے… چلو گھر” ملائکہ نے اس کا بازو پکڑا
“پہلے بتائیں کہ نتھو خیرا کیا ہوتا ہے ؟” فریال اٹک ہی گئی تھی, ملائکہ نے اسے رکھ کہ گھورا
“ویسے یہ کوئی اتنا ایشو بھی نہیں ہے بھابھی… ” فریال کے لئے اس لمحے وہ “ایکسپو ” سب سے اہم تھی, دوسری طرف احسن اور علی نے احمر کی ناک میں دم کر رکھا تھا
“کیا چاچو یار.. بس ایک کپل ہی تو بنانا ہے ” علی اس کا بازو پکڑ پکڑ کر کھینچ رہا تھا
“غصہ دیکھا ہے اس کا… ایسا لگ رہا ہے جیسے سب کو کچا کھا جاۓ گی” احمر اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہلنے کو بھی تیار نہیں تھا
“چاچو… بس یہ ہی یاری ہے, اگر میرے پاپا ساتھ ہوتے تو مجھے یوں روتا دیکھتے بھلا…اس سے تو اچھا تھا کہ میں پاپا کے ساتھ ہی آ جاتا” اگلاحملہ… ایموشنل بلیک میلنگ
اور وہ دوسری طرف بھی ہو رہی تھی
“ویسے کہتی ہیں کہ ماں باپ بن کر پالا ہے, ویسے ایک ایکسپو نہیں دکھا سکتیں” فریال کے ڈرامے جاری تھے
بادل نخواستہ وہ دونوں کھینچ کھینچ کر ایک دوسرے کے قریب لاۓ گئے, ملائکہ نے احمر کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی
“چلیں بھابھی… آپ دونوں آگے ہو جائیں نا” فریال نے اسے دھکیل کر آگے کو کیا تھا, اس نے احمر کے برابر کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ٹکٹس گارڈ کی طرف بڑھا دئے
“میم آپ تو کہہ رہی تھیں کہ آپ کے شوہر نہیں ہیں ” گارڈ کا حافظہ بڑا اچھا تھا
ہاں تو اب بلوا تو لیا ہے انہیں…یہ میرے بڑے بھیا ہیں” فریال کچھ زیادہ ہی اوور کانفیڈینٹ ہو رہی تھی, گارڈ نے ایک نظر ان دونوں کو دیکھا اور اندر جانے کی اجازت دے دی, دو گھنٹے بعد انہیں پھر سے گیٹ پر اکٹھے ہونا تھا
ایکسپو کا وزٹ اچھا ہی رہا, سب نے انجواۓ کیا, وہ بھی گیٹ پر ہونے والی کلفت کو تھوڑی دیر کے لیے بھول گئی, واپسی کے لئے گیٹ تک پہنچے تو احمر نے اپنے پیچھے ایک نسوانی سی آواز سنی
“احمر… کیسے ہو تم ؟” وہ چونک کر مڑا, احمر کے چہرے کا رنگ ایک دم اڑا تھا… وہ نوریہ کمال تھی
“تم یہاں ؟ اچھا لگا تم سے دوبارہ مل کر” نوریہ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا, احمر نے بمشکل اس کا ہاتھ تھامتے ہوۓ احسن اور علی کا تعارف کروایا
“لیکن یہاں تو صرف کپلز اور فیملیز کو آنے کی اجازت ہے…. پھر تم لوگ کیسے آ گئے ؟” نوریہ نے پوچھا, احمر گڑبڑا گیا, ملائکہ اور اس کی فوج چپ چاپ کھڑی تماشا دیکھ رہی تھی, احمر اتنا زیادہ بوکھلایا کہ اس سے پوچھ نہ سکا کہ تم یہاں کیسے آئیں ؟
“وہ دراصل… ” اس سے پہلے کہ احمر کچھ کہتا, گارڈ بول پڑا
“یہ ان کی وائف ہیں میڈم… ” نوریہ کا رنگ یکدم فق ہوا تھا, اس نے بے یقینی سے احمر کی طرف دیکھا
“واقعی احمر ؟” وہ اس سے پوچھ رہی تھی
“نہیں تو… یہ میری وائف نہیں… ” لیکن گارڈ نے پھر اس کی بات کاٹ دی
“ابھی تو یہ کہہ رہی تھی کہ آپ اس کے بھیا ہیں… ” گارڈ نے فریال کی طرف اشارہ کیا تھا
“احمر… تم اندر کس کے ساتھ آۓ ہو ؟” نوریہ نے پوچھا
“نوریہ میری بات سنو یار… ” احمر آگے کو ہوا تھا
“جسٹ یہ بتا دو کہ یہ لڑکی کون ہے ؟” نوریہ نے ملائکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا
“میں نہیں جانتا یہ کون ہے میں تو بس… ” اور گارڈ پھر سے بول پڑا
“یہ دونوں میاں بیوی ہیں میڈم… ابھی تو یہ دونوں ایک فیملی لیکر اندر گئے تھے, پہلے یہ میم اکیلی تھیں, پھر انہوں نے کال کر کہ اپنے ہسبینڈ کو بھی بلوا لیا” گارڈ کی زبان فراٹے مار رہی تھی, احمر اسے بند نہ کروا سکا
“کیا یہ واقعی تمہاری وائف ہے احمر ؟” نوریہ اب تک بے یقین تھی, احمر نے ایک نظر ملائکہ کی طرف دیکھتے ہوئے سر جھکا لیا
……………………..
“نوریہ میری بات تو سنو یار… ” احمر کل سے اس کے پیچھے خوار ہو رہا تھا, کلیم حافی کے سمجھانے کے باوجود وہ بونگی مار چکا تھا, کل سے احسن اور علی دونوں اس کے عتاب کا نشانہ بنے ہوئے تھے
“میں اب تمہاری کیا بات سنوں احمر… ؟ تم نے اپنی زبان سے اقرار کیا ہے کہ وہ تمہاری وائف ہے ” نوریہ نے کہا, اسے سچ میں دکھ ہوا تھا
“میری بات سنو نوریہ… میں نے اس سے اپنی مرضی سے یا پسند سے شادی نہیں کی, ایک مسئلہ ہو گیا تھا بس مجبوری میں نکاح کرنا پڑا, میں آج کل میں اسے طلاق دے دوں گا ؟” احمر ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے ہزار جھوٹ بولنے کو تیار تھا…. اور بولے جا رہا تھا
“ایسی بھی کیا مجبوری تھی تمہاری احمر ؟” نوریہ نے پوچھا, وہ ایک بار پھر گڑبڑا گیا
وہ دراصل اس کے شوہر کا میری گاڑی سے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا, پولیس کیس بن گیا, ڈیڈ تک بات نہ پہنچے اس ڈر سے میں نے اس کے رشتہ داروں کے زور لگانے پر اس سے نکاح کر لیا لیکن… میری اس سے بات ہو گئی ہے نوریہ, وہ بھی میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی, میں اسے کل ہی ڈائیوورس دے دوں گا” احمر کہتا چلا گیا
“یہ سب جھوٹ ہے نا احمر ؟” نوریہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا
“نہیں نوریہ… یہ سچ ہے, میری اس سے کوئی دلی وابستگی نہیں ہے, بس اس کے بچوں کو ایکسپو دیکھنی تھی اور احسن اور علی بھی جانے کی ضد کر رہے تھے اسلئے ہم دونوں اکٹھے ہو گئے, وگرنہ کوئی ایسی بات نہیں ہے” احمر نے کہا
“تم نے اس سے نکاح کب کیا ؟” نوریہ نے پوچھا
“آآ… ابھی کچھ دن پہلے ” احمر نے کہا
“اور اس کا شوہرکب مرا ؟” نوریہ نے پھر پوچھا
“وہ ایک ڈیڑھ ماہ پہلے…. ” احمر نے کہا
“اچھا… تو اس نے عدت گزارے بنا ہی تم سے نکاح کر لیا ؟” نوریہ نے اس کا ایک اور جھوٹ پکڑ لیا
“نہیں تو… اس نے عدت تو گزاری ہے, اس کے بعد ہی نکاح کیا ہے ” احمر سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا
“احمر… میں کل, پرسوں واپس امریکہ جا رہی ہوں, یار مجھے نہیں کرنی ایک ایسے شخص سے شادی جو پہلے سے شادی شدہ ہے” نوریہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“پلیز نوریہ… میں نے کہا نا کہ یہ شادی بس ایک مجبوری میں ہوئی, میرا اور اس کا صرف ایک کاغذی رشتہ ہے اور بس” احمر کے ہوش اڑ گئے تھے
“تم پلیز مجھے ایک موقع تو دو… پلیز میں کل ہی اسے طلاق دے دوں گا” احمر نے کہا, اس کی نظروں کے سامنے بار بار کلیم حافی کا غضبناک چہرہ آۓ جا رہا تھا
“مجھے تمہاری باتوں پر ذرا سا بھی یقین نہیں ہے احمر… مجھے تمہاری بیوی سے ملنا ہے” نوریہ نے اس کے سر پر ایک اور بم پھوڑ دیا
اسے تو اپنی بیوی کا نام تک نہیں پتا تھا
…………………….
گھر آتے ہی اس نے احسن کی گردن دبوچ لی
” اس دن ایکسپو میں جس لڑکی کو میری بیوی بنایا تھا تم دونوں نے… نوریہ اس سے ایک بار ملنا چاہتی ہے, فورا سے پہلے مجھے اس لڑکی کا ایڈریس چاہیے” احسن کی آنکھیں باہر کو ابل رہی تھی
” لیکن بھائی میں کہاں سے لاؤں اس لڑکی کا ایڈریس ؟” وہ منمنایا
“اس کے ساتھ وہ جو چھپکلی نما لڑکی تھی وہ تجھے اپنا کلاس فیلو کہہ رہی تھی, اس کا نمبر تو ہوگا تیرے پاس…” احمر نے اس کی گردن پر اپنی انگلیوں کی گرفت ذرا ہلکی کی تھی
“بھائی وہ صرف آٹھویں کلاس تک میرے ساتھ پڑھتی تھی, تین سال ہو گئے ہیں آٹھویں پاس کیے اور آٹھویں کلاس کے بچوں کے پاس موبائل فون تھوڑی نہ ہوتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے نمبر سیو کرتے پھریں” احسن نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا تھا
” تو بتاؤ میں اب کیا کروں ؟نوریہ نے صاف الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ ایک بار اس لڑکی سے ملنا چاہتی ہے, ورنہ وہ کل امریکا واپس چلی جائے گی اور جاکر اپنے ڈیڈ کو سب کچھ سچ سچ بتا دے گی, ذرا سوچ احسن… اس کے بعد ڈیڈ میرا کیا حال کریں گے… ؟ انہوں نے کوئی سو دفعہ مجھ سے کہا تھا کہ احمر کوئی بونگی نہ مار دینا اور میں نے بونگی ہی مار دی… صرف تم دونوں کی وجہ سے ” احمر روہانسا ہو رہا تھا
“چاچو آپ ٹینشن نہ لو اس مسئلے کا کوئی نہ کوئی حل تو ہو گا” علی جلدی سے اس کے لئے پانی کا گلاس بھر لایا, دوپہر تک وہ تینوں سرجوڑ کر بیٹھے رہے لیکن مسئلے کا حل ندارد… احسن نے اپنے طور ہر ممکن فریال تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود…
” اب میں کیا کروں گا ؟” احمر کو رہ رہ کر ان دونوں پہ غصہ آ رہا تھا
” بھائی میرے خیال سے آپ کو ولید بھائی سے بات کرنی چاہیے, ہو سکتا ہے وہ ہماری کوئی مدد کر سکیں” حاشر نے کہا, احمر قہر آلود نظر ان دونوں پر ڈالتا ہوا باہر نکل آیا, اس کی گاڑی کا رخ کمپنی کی طرف تھا احمر اور ولید نہ صرف دوست تھے بلکہ بزنس پارٹنر بھی تھے, احمر اینڈ ولید انٹرپرائزز ان دونوں نے شراکت داری سے ہی قائم کی تھی, وہ آفس پہنچا تو دن کے 12 بج رہے تھے, ولید ایک دم راشن پانی لے کر اس پر چڑھ دوڑا
” تو اپنا آفس آنے کا ٹائم نوٹ کر ذرا… تجھے پتہ بھی تھا کہ آج ہم نے انٹرویوز کرنے ہیں” ولید نے کہا
“ولید میرے بھائی مجھے ایک گلاس پانی پلا اور میری بات سن ” احمر اسے لیے آفس میں آگیا
“ایسے کیوں لگ رہا ہے جیسے تو فوت ہونے لگا ہے ” ولید نے اس کے چہرے کی ہوائیاں اب نوٹس کی تھیں
“ولید یار… ” پانی کا پورا گلاس اپنے اندر انڈیلتے ہوۓ اس نے الف سے لیکر ے تک اسے ساری رام کہانی سنا دی
“لو کر لو گل… یہ بھی کوئی فوت ہونے والی بات ہے… او بھائی میرے تو ابھی اس امریکن پلٹ چڑیا کے پاس جا اور اسے جا کہ سچ بتا دے, کام ختم… ساری ٹینشن ہی ختم” ولید کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا
“ایسے کیسے سچ بتا دوں… وہ کہے گی پہلے تو قبول لیا کہ ہاں وہ میری بیوی ہے… اب کہہ رہے ہو سرے سے بیوی ہے ہی نہیں… نا میرے بھائی, وہ کہے گی صرف ایک ایکسپو کے لئے میں نے ایک انجان لڑکی کو اپنی بیوی بنا لیا… یہ کردار ہے میرا؟” احمر بولا
“کردار تو تیرا شیشے کی طرف ہے نا… ہم سب کو پتہ ہے تو ستائیس سال کا ہو کر بھی ابھی تک کنوارا کیوں ہے ؟” ولید نے اس پر چوٹ کی تھی
“تو کوئی حل نکالے گا کہ نہیں ؟” احمر نے اسے گھرکا
“نکال تو دیا… دیکھ احمر… جتنے جھوٹ بولے گا نا, اتنا ہی زیادہ پھنستا جاۓ گا” ولید ٹھیک کہہ رہا تھا
“ولید… میری آنکھوں کے آگے اندھیرا آ رہا ہے, اب کیا ہو گا ؟ ڈیڈ مجھے مار ڈالیں گے” احمر نے اخبار منہ پر ڈالتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی, وہ فل ٹائم فوت ہونے کی کوششوں میں تھا, ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے ولید نے انٹرویوز کے لئے آئی ہوئی لڑکیوں کو اندر بلانا شروع کر دیا تھا
“ولید کسی ڈاکٹر کو بلا… مجھے لگ رہا ہے میرا بی پی… ” وہ ایک دم منہ سے اخبار ہٹا کر بولا اور پھر سامنے بیٹھی لڑکی کو دیکھ کر چونک گیا, اس کی شکل دیکھ کر ملائکہ کا بھی ہلکا سا رنگ تبدیل ہوا تھا, احمر کو لگا جیسے کسی نے اسے نئی زندگی بخش دی ہو
“ولید… ادھر آ” وہ اسے بازو سے جکڑتے ہوۓ ایک طرف لے آیا
“یہ وہی ہے… یہ وہی ہے یار, وہ ایکسپو والی, اسے یہ نوکری دے دے, بس اسے فائنل کر” ولید کو لگا جیسے وہ پاگل ہو گیا ہو
…………………..
وہ دونوں اس وقت ملائکہ کے سامنے موجود تھے… اس کے گھر
ولید نے اسے پرسنل سیکرٹری کی جاب اسائن کر دی تھی, شام کو ہی وہ دونوں اس کی دہلیز پر جا کھڑے ہوۓ اور وہ اب ان دونوں کو ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھی
“کیا بات ہے سر ؟” اس نے ولید کو مخاطب کیا تھا, اس نے ایک نظر احمر کی طرف دیکھتے ہوئے ہنکارہ بھرا
“مس ملائکہ اس جاب کے لئے ہماری ایک چھوٹی سے شرط ہے اگر آپ کو منظور ہو تو… ؟” ولید نے بات شروع کی تھی
“کیسی شرط ؟” ملائکہ کی رگیں تن گئیں
“وہ دراصل… ” ولید نے اٹک اٹک کر سارا مسئلہ اس کے گوش گزار کر دیا, وہ سنتے ہی پھٹ پڑی
“یعنی آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں آپ لوگوں کے اس گھناؤنے جھوٹ میں آپ کا ساتھ دوں… تب مجھے یہ نوکری ملے گی… ہے نا ؟” وہ آگ اگل رہی تھی
“آب ہمارا جھوٹ اتنا بھی گھناؤنا نہیں ہے مس جتنا آپ نے کہہ دیا” ولید نے کہا
“آپ دونوں براۓ مہربانی یہاں سے اٹھیں اور شرافت سے دفع ہو جائیں, بھاڑ میں گئی آپ کی نوکری, کسی بھی قسم کا کوئی ڈرامہ نہیں کھیلنا ہے مجھے” وہ تن فن کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
“دیکھیں مس ملائکہ… آپ کو خدا کا واسطہ…انسانیت کے ناطے ہی ہماری مدد کر دیں… جاب کے لئے نہ سہی” ولید ایک دم بوکھلا گیا, احمر تو بس منہ ہی منہ میں ورد ہی کئے جا رہا تھا
“استغفراللہ… میں کیوں جھوٹ بولوں اس لڑکی سے ؟ کیسے کہہ دوں کہ میں اس کی بیوی… ” اس سے آگے ملائکہ سے بولا ہی نہ گیا, ایک ایکسپو ہی اس کے گلے پڑ گئی تھی
“ملائکہ میری بات سنیں پلیز… میں مانتا ہوں کہ غلطی میری ہے, مجھے اس سے جھوٹ بولنا ہی نہیں چاہیے تھا لیکن… اس ایکسپو میں صرف میں ہی تو نہیں تھا, تم بھی تو تھیں, مجبور تو ہم دونوں ہی ہو گئے تھے نا…پلیز اس مجبوری کے بدلے ہی میری مدد کر دو, جاب لینا یا نہ لینا سراسر تمہاری اپنی مرضی ہو گی… لیکن انسانیت کے ناطے ہی میری مدد کر دو” احمر کہتا چلا گیا, ملائکہ اسے دیکھتی رہ گئی
“ستائیس سال کا ہو گیا ہوں میں, آخر میرا بھی تو دل کرتا ہے کہ اب میری شادی ہو جاۓ, میرے ڈیڈ اب تک نہ جانے کتنی کوششیں کر چکے ہیں لیکن… ہر بار کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہو جاتی ہے” احمر رونے والا ہو گیا تھا۔ ملائکہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہی تھی۔
” میں آپکی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔۔۔۔۔ اس معاملے میں تو ہرگز نہیں۔۔۔۔۔ “
