No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
وہ جس شام اسے ہسپتال سے واپس گھر لیکر آیا, گھر کے سبھی مکین لاؤنج میں بیٹھے شام کی چاۓ سے لطف اندوز ہو رہے تھے, زخرف اسے سیدھا اوپر ہی لے جانا چاہتا تھا لیکن وہ صوفے پر بیٹھی سائرہ کے پاس رک گئی اور دھیرے سے اپنا بیٹا اس کی گود میں ڈال دیا
“میں آج بھی تم سے وہی کہوں گی جو پہلے دن کہا تھا, تمہاری جگہ ہمیشہ سے یہاں ہے… اس صوفے پر اور میری جگہ ہمیشہ سے یہاں ہے… اس فرش پر, یہ تمہارا بیٹا ہے, اسے جیسے مرضی پالو, وعدہ کرتی ہوں آج سے میرا اس پر کوئی حق نہیں” اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی وہ زخرف کے ساتھ اوپر آ گئی اور اس رات پر امید ہو کر سوئی کی صبح اٹھے گی تو سب ٹھیک ہو جاۓ گا لیکن…
سب ٹھیک نہیں ہوا
سائرہ نے صحیح معنوں میں اس بچے پر ماریہ کا کوئی حق نہیں رہنے دیا, وہ زخرف کا بیٹا تھا جس پر اس خود غرض عورت کا کوئی حق نہیں تھا
شادی کے ڈیڑھ سال بعد بھی وہ اس گھر میں کوئی جگہ نہیں بنا سکی, اسماء اور شعیب اسے بہو تسلیم کر ہی نہ سکے اور سایرہ…وہ صحیح معنوں میں اس کی سوتن بن گئی
اور پھر… دھیرے دھیرے… زخرف سے ایک ہی مطالبہ ہونے لگا
“اسے طلاق دو… ” سر عام کہا جانے لگا
سائرہ کا تو جیسے ورد ہو گیا
“بیٹا دے دیا ہے نا خدا نے تمہیں… بس اسے فارغ کرو اب”
اور زخرف ایک بار پھر ڈٹ گیا… بالکل ویسے جیسے سائرہ کی دفعہ ڈٹ گیا تھا, ماریہ نے ایک یہ ہی تو وعدہ لیا تھا اس سے کہ کچھ بھی ہو جاۓ… بس چھوڑے گا نہیں
اور وہ پوری طرح اپنے وعدے پر قائم تھا
اس دن بھی رخسانہ کے سسرالی رشتہ داروں میں کسی کی شادی تھی, وہ پوری فیملی انوائیٹڈ تھی
“زخرف… یہ آپ کے کپڑے… اور یہ جوتے… اب میں نیچے جا رہی ہوں” زخرف جب تک نہا کر نکلا تو ماریہ نے اس کی تیاری مکمل کر دی تھی
“اور تم… ؟” اس نے اچنبھے سے پوچھا
“تم اس حلیے میں جاؤ گی کیا ؟” زخرف نے کہا
“میں نے بھی جانا ہے ؟” ماریہ حیران ہو گئی
“تو اور… تم اس گھر کا فرد نہیں ہو کیا… چلو جلدی تیاری کرو” زخرف نے اسے بازو سے پکڑ کر واش روم میں دھکیل دیا
“زخرف آپ ایک بار آنٹی سے پوچھ تو لیتے… ” وہ جھجھک رہی تھی
“یار ان سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے…تم بس تیاری کرو اور پندرہ منٹ بعد مجھے نیچے نظر آؤ” زخرف نے کہا, وہ بادل نخواستہ واش روم میں گھس گئی, زخرف تیار ہو کر نیچے آ گیا, سب گھر والے تیار ہو چکے تھے, سائرہ حسن کا ہاتھ تھامے گاڑی کے پاس کھڑی تھی
“چلیں امی… ؟” وہ اسماء کی طرف آیا
“بس مومنہ آ جاۓ… ” اسماء نے کہا, مومنہ دس منٹ بعد ہی آ گئی
“ایک منٹ…” ماریہ ابھی تک نیچے نہیں آئی تھی, وہ اسماء سے کہتا ہوا اوپر چلا آیا
“میں نے کہا تھا کہ پندرہ منٹ میں تم مجھے نیچے… ” وہ بولتا ہوا ایک دم ٹھٹھک گیا
“بس آ گئی… آنٹی سے پوچھ لیا” سرخ رنگ کی پیروں تک آتی ریشمی سی میکسی پہنے, ہلکا پھلکا میک اپ کئے, سیاہ زلفیں کندھوں پر بکھراۓ وہ اس کی طرف آئی تھی, زخرف جیسے سن رہ گیا
“مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری کارڈیالوجسٹ اتنی سحر انگیز ہے” اس پر جیسے واقعی جادو ہو گیا تھا, ماریہ جھینپ سی گئی, زخرف نے اس کے گرد اپنے بازؤں کا حصار باندھا تھا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو… “زخرف نے آج پہلی بار یوں اس کی تعریف کی تھی
“زخرف… چلیں” وہ اس کی نظروں کی تاب نہیں لا پا رہی تھی
“کہاں چلیں… ؟” وہ دیوانہ وار اس پر جھکا تھا, ماریہ اس کے لبوں کے آگے جیسے ہار سی گئی
“زخرف… ” اس نے سرگوشی میں کہا تھا, زخرف نے بڑی مشکلوں سے اسے خود سے الگ کیا تھا
“یہ زیادتی ہے… ” وہ اسے شکوہ کناں نظروں سے دیکھتا نیچے آ گیا, ماریہ اس کے پیچھے پیچھے تھی
“یہ محترمہ کہاں چلی ؟” اسماء حیرانی سے بولیں
“جہاں سب جا رہے ہیں…” زخرف نے کہا
“کہیں نہیں جا رہی یہ… جتنا تماشا بننا تھا نا ہمارا بن گیا…اب بس کرو” اسماء نے کہا
“کیسا تماشہ امی… ماریہ بیوی ہے میری ” زخرف تپ گیا
“زخرف… میں وہاں کس کس کو اس کی صفائیاں دیتی پھروں گی, حسب نسب تو ہے نہیں اس کا…اس سے شادی کر کہ جتنا ذلیل کرنا تھا نا تم نے کر لیا ہمیں… اب بس کرو” اسماء ملک برس پڑیں
“اٹس اوکے آنٹی… میں رک جاتی ہوں” ماریہ نے کہا
“امی میری بات تو… ” ماریہ نے دھیرے سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے زخرف کو خاموش کروایا تھا
“ہماری واپسی تک ماریہ کے پاس ہی رہنا… “قہر بھری آنکھوں سے اسماء کو دیکھتے ہوۓ اس نے ملازمہ سے کہا تھا, ان سب کے جانے کے بعد ماریہ نے اپنے لئے ایک ٹھنڈا ٹھار کوک کا گلاس بھرا اور لاؤنج میں آ گئی
“کیا ہمیشہ سب ایسا ہی رہے گا ؟” صوفے کی پشت سے ٹیک لگاۓ اس نے آنکھیں موندے تھیں
“کیا میری کوششیں رائیگاں ہی جائیں گی ؟” اس کے آنسو ٹوٹ پڑے
“کیا میں کسی کو بھی اپنا نہیں بنا پاؤں گی ؟” کوک کا گلاس خالی ہو چکا تھا
“تم اس لمحے ایک ناکام عاشق کے خاکے پر بالکل پوری اتر رہی ہو ؟” زخرف نہ جانے کب اس کے پہلو میں آ بیٹھا
“زخرف… آپ واپس کیوں آۓ؟” وہ چونک گئی
“چلو اٹھو…” اس نے ماریہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا ماتھا چوما اور اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھڑا کر دیا
“اب کہاں جانا ہے ؟” وہ بولی
“ڈنر کرنے… ” زخرف اسے باہر لیکر آیا تھا
“نہیں زخرف… آنٹی اور انکل کو پتہ چل گیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے” ماریہ ایک دم بدک گئی
“آؤ یار کچھ نہیں ہوتا, ابھی وہاں کھانا بھی شروع نہیں ہوا, ہم ان لوگوں کے آنے سے پہلے واپس آ جائیں گے” زخرف نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی گاڑی میں گھسا دیا
“دونوں ذرا چوکس رہنا… ہم بس ابھی آۓ” ملازمہ اور چوکیدار سے کہتا ہوا وہ گاڑی نکال لے گیا
“زخرف… آپ واپس کیوں آۓ؟” ماریہ نے دھیرے سے پوچھا “کیونکہ میرا شدت سے دل کیا کہ میں اپنی پریوں جیسی بیوی کے ساتھ ڈنر کروں ” زخرف کے کہتے ہی وہ ہنس پڑی
“پری… کس زاوۓ سے ؟” وہ بولی
“یہ تمہیں رات کو بتاؤں گا ” زخرف نے قہقہہ لگایا تھا, وہ بس مسکرا کر رہ گئی
ڈنر کرتے کرتے پندرہ بیس منٹ زیادہ لگ گئے, زخرف کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھ کہ پیچھے کیا قیامت آ گئی تھی, نہ جانے کس نےنزخرف کو وہاں سے جانے ہوۓ دیکھ لیا تھا اور بات سائرہ کے کانوں تک پہنچ گئی تھی, وہ دونوں جب ڈنر کر کہ واپس آۓ تو سب گھر والے آ چکے تھے, گیراج میں کھڑی گاڑی دیکھ کر ماریہ کے اوسان خطا ہو گئے
“اب کیا ہو گا ؟” وہ وہیں زمین میں گڑ گئی
“اب تمہاری ساس اور سوتن مل کر تمہاری پٹائی کریں گی” زخرف نے مسکراتے ہوئے کہا
“اب چلو بھی ڈاکٹر صاحبہ… کہ ساری رات یہیں کھڑی ہو کر کاٹو گی ؟” وہ اسے بمشکل کھینچتے ہوۓ اندر لے آیا, زخرف کے نزدیک معاملہ اتنا سنگین نہیں تھا, ماریہ کی توقع کے عین مطابق گھر کے سبھی افراد لاؤنج میں موجود تھے, اسے دیکھتے ہی سائرہ تیر کی طرح اس کی طرف آئی
“زخرف آج فیصلہ کر لو تم… یا اسے رکھو یا مجھے… ؟” وہ آگ بگولا ہو رہی تھی
“سائرہ… بات تو سنو…. ” زخرف نے کہا لیکن…
“نہیں تم میری بات سنو…. میں نے ہی تم سے کہا تھا نا کہ اس سے شادی کر لو, اب میں ہی تم سے کہہ رہی ہوں زخرف… اسے طلاق دے, ابھی اسی وقت اسے چلتا کرو” وہ زخرف کی ایک بھی نہیں سن رہی تھی
“سائرہ ٹھیک کہہ رہی ہے زخرف… تمہیں اولاد چاہیے تھی نا… خدا نے دے دی, اب فارغ کرو اس کو, آۓ روز کے تماشوں سے جان چھوٹے” اسماء بھی اس کے ساتھ تھیں
“امی… یہ بیوی ہے میری” زخرف نے تاسف سے انہیں دیکھا
“تو میں کیا ہوں… ہیں زخرف… ؟ میں کون ہوں… ایک فالتو اور بیکار چیز جس کی تمہیں اب کوئی ضرورت نہیں ہے, آج فیصلہ کر لو زخرف… یا اسے رکھو یا مجھے.. بس” سائرہ نے اس کا بازو جھنجھوڑا تھا
“سائرہ… بات اتنی بڑی نہیں ہے… ” زخرف نے کہا
“میرے لیے یہ بات قیامت کے مترادف ہے زخرف… میں اس عورت کو اب ایک لمحہ بھی اور یہاں برداشت نہیں کر سکتی… نکالو اسے یہاں سے” سائرہ نے زخرف کا گریبان پکڑ لیا, ماریہ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے نیچے کو بیٹھی تھی
“سائرہ… سنو” لیکن سائرہ زخرف کو چھوڑ کر تیرکی طرح ماریہ کی طرف آئی
زخرف آج یہ اہم ہو گئی ہے نا تمہارے لئے…آخر اوقات ہی کیا ہے اس کی… اسے تو نہ اس کے باپ نے کبھی گلے لگایا اور نہ اس کی ماں نے, پھر تم کون ہوتے اس کی سائیڈ لینے والے… نکلو یہاں سے, نکلو” اس نے پاگلوں کی طرح ماریہ کو دھکے دینا شروع کر دیے
“سائرہ… چھوڑو اسے” زخرف اور ناعمہ بھاگ کر اس کی طرف آۓ تھے
“غلطی ہو گئی مجھ سے جو تمہیں اس گھر میں لے آئی… معاف کر دو مجھے اور نکلو یہاں سے, دفع ہو جاؤ” سائرہ پاگل ہو چکی تھی
“سائرہ ہوش میں آؤ… ” زخرف نے بمشکل ماریہ کو اس کے چنگل سے نکالا
“اسے طلاق دو… ابھی اسی وقت اسے طلاق دے زخرف” سائرہ کی بس ایک ہی رٹ تھی, زخرف اور ناعمہ بمشکل اسے اوپر لیکر آۓ
“سائرہ… سنو, یہ پانی پیو” زخرف نے اس کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس تھماتے ہوۓ کہا
“زخرف اسے طلاق دو… میرے سامنے دو” سائرہ کا سانس ٹوٹنے لگا تھا
“اچھا دے دوں گا… بس کرو” زخرف نے اسے بستر پر لٹایا تھا
“اس کا خیال رکھنا, کمرے سے باہر نہ نکلے” ناعمہ سے کہتے ہوئے وہ باہر آ گیا, ماریہ گیراج میں گری ہوئی تھی
“ماریہ… میری بات سنو, کچھ دیر کے لئے اپنی امی کے گھر چلی جاؤ, میں صبح ہی کسی گھر کا بندوبست کر کہ تمہیں وہاں لے جاؤں گا, ٹھیک ہے… ” زخرف نے اس کا دوپٹہ اس کے کندھوں سے لپیٹتے ہوۓ کہا
“نہیں زخرف… مجھے کہیں نہیں جانا, آپ نے وعدہ کیا تھا کہ چھوڑیں گے نہیں” ماریہ اس سے لپٹ گئی
“خدا کی قسم ماریہ میں نہیں چھوڑ رہا تمہیں… بس صبح تک, میں صبح ہوتے ہی لے آؤں گا تمہیں ” زخرف نے اسے زبردستی گاڑی میں بٹھایا
“زخرف میںر جاؤں گی آپ کے بنا… قسم سے نہیں جی پاؤں گی آپ کو کھو کر… آپ نے وعدہ کیا تھا کہ کچھ بھی ہو جاۓ چھوڑیں گے نہیں… زخرف میرا بچہ” وہ بلک رہی تھی, زخرف بمشکل اسے نائلہ کے گھر لیکر آیا,
وہ تو اس کی حالت دیکھ کر ہی تڑپ گئیں
“تمہاری خاطر پورا جہاں چھوڑ دیا تھا اس نے زخرف… اور اب تم کسی اور کی خاطر اسے چھوڑ رہے ہو ؟” ماریہ کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا
“بھروسہ رکھیں آنٹی, میں اسے نہیں چھوڑ رہا, بس مجھے تھوڑا سا وقت چاہئے, ماریہ… میری جان میں صبح لے جاؤں گا تمہیں” زخرف نے بمشکل اسے مطمئین کیا تھا لیکن… وہ جیسے ہی اسے وہاں چھوڑ کر دروازے کی طرف بڑھا, ماریہ دیوانوں کی طرح اس کی طرف بھاگ لی
“زخرف… آپ نے وعدہ کیا تھا… ” وہ دروازے تک اس کے پیچھے آئی تھی اور بے جان ہو کر وہیں گر گئی
…………………….
وہ نائلہ کے گھر سے واپس آیا تو سائرہ نے ہوش ہو چکی تھی, اسماء اور ناعمہ اس کے سرہانے کھڑیں اسے ہوش میں لانے کے جتن کر رہی تھیں, زخرف نے اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا
“سائرہ… ہوش میں آؤ” وہ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے بولا, بمشکل سائرہ نے آنکھیں کھولیں تھیں
“دے آۓ ہو نا اسے طلاق… ؟ بتاؤ مجھے, دے دی ہے نا اسے طلاق زخرف… ” سائرہ بس یہ ہی پوچھے جا رہی تھی
“ہاں دے آیا ہوں, تم ریلیکس ہو جاؤ” اس نے بڑی مشکلوں سے سائرہ کو مطمئین کیا تھا, کچھ ہی دیر بعد خواب آور گولیوں کے زیر اثر وہ سو گئی
زخرف نے اٹھ کر اپنا سیل چارجنگ پر لگایا اور باہر نکل آیا, ناعمہ نیچے صوفے پر بیٹھی تھی
“ایک گلاس پانی پلانا… ” وہ اپنے کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ بولی, آج اسے صحیح معنوں میں ادراک ہوا تھا کہ اس کی دو بیویاں تھیں
“اب کیا کرو گے ؟” ناعمہ نے پوچھا
“جو بھی کروں گا… ماریہ کو طلاق نہیں دوں گا” زخرف نے کہا
“زخرف… یہ تمہارے نکاح والی رات بھی آئی تھی نا… ؟” ناعمہ نے پوچھا, زخرف نے اثبات میں سر ہلا دیا
“تب بھی تو چھوڑ گئی تھی نا تمہیں… اپنی مرضی سے, تو اب کیوں نہیں چھوڑ سکتی ؟” ناعمہ نے کہا
“تب دوستی کی خاطر چھوڑ گئی تھی ناعمہ… اب کس کی خاطر چھوڑے ؟ اس دوستی کے لئے جو آج خود غرضی کے علاوہ اور کچھ نہیں” زخرف نے کہا, ناعمہ خاموش ہو گئی
“اور ناعمہ ہمیشہ وہ ہی کیوں چھوڑے… ؟ قربانی دینا ہمیشہ اسی پر فرض کیوں ہے ؟ اس نے تو نہیں کہا تھا اس گھر میں آنے کے لئے… نہ مجھ سے, نہ سائرہ سے… اپنی مرضی سے لایا ہوں میں اسے یہاں… اب ایسے کیسے چھوڑ دوں ؟ لاوارث تو ہے نہیں وہ کہ بیٹا ہو گیا تو نکال باہر کروں” زخرف کہتا چلا گیا
“دنیا چاہے مجھے بے وفا ہی کیوں نہ کہے لیکن وہ میری بیوی ہے, مجھے اس سے محبت ہے اور میں اسے کبھی نہیں چھوڑوں گا” وہ دھیرے سے کہہ کر اٹھ گیا, صبح تک وہ ادھر ادھر کالز کر کہ کسی اچھے سے فرنشڈ گھر کی معلومات لیتا رہا, صبح اسے ڈاکٹر ولید کا فون آ گیا تو ہسپتال چلا گیا, سیل گھر ہی چھوڑ گیا, سائرہ ابھی تک سو رہی تھی, وہاں سے واپسی پر نائلہ کی طرف آ گیا لیکن… گھر پہ کوئی بھی نہیں تھا
دروازے کو تالا لگ ہوا تھا
وہ یکدم پریشان ہو گیا
“کہاں چلی گئیں ؟” اسے تشویش ہو رہی تھی
………………..
صبح تک وہ دروازے سے جڑی رہی, نائلہ نے اس کی منتیں کر لیں لیکن دروازے سے نہ ہٹئ
“زخرف… آپ نے کہا تھا کہ چھوڑیں گے نہیں… امی آس نے کہا تھا کہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا” وہ ہلکان ہو رہی تھی
“ماریہ… بس کر بیٹا” نائلہ اسے دیکھ دیکھ کر ہول رہی تھیں
“زخرف… “صبح ہو گئی, سفیدی پگھلنے لگی, سورج اگ آیا لیکن… زخرف نہ آیا
“زخرف… “ماریہ نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا تھا, درد بڑھتا جا رہا تھا, دباؤ بڑھتا جا رہا تھا, وہ بمشکل اندر آئی اور زخرف کا نمبر ملایا
“ہیلو… زخرف, آپ نے کہا تھا کی صبح مجھے لے جائیں گے” آس نے کال ریسیو ہوتے ہی کہا
“آج کے بعد زخرف کو کال نہ کرنا سمجھیں… اس نے تمہیں طلاق دے دی ہے, آج کل میں طلاق کے کاغذات تمہیں مل جائیں گے” سائرہ فرعون بن گئی تھی
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے… میری زخرف سے بات کرواؤ” ماریہ کی دنیا ہل گئی
“کوئی واسطہ نہیں رہا تمہارا اب زخرف سے…” سائرہ نے کال ڈس کنیکٹ کرتے ہوئے کہا تھا, ماریہ کے ہاتھوں سے ریسیور چھوٹ گیا, وہ ایک دم پنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے نیچے کو بیٹھی تھی
“ماریہ… ” نائلہ دہل کر اس کی طرف آئیں
“ماریہ… کیا ہوا بچے؟” ماریہ کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں, گھر پر کوئی بھی نہیں تھا, نایلہ کے شوہر اور بچے گاؤں گئے ہوۓ تھے
“شایان… بیٹا جلدی آؤ… ماریہ بے ہوش ہو گئی ہے” نائلہ نے شایان کو کال کی تھی
“آنٹی میں بس ابھی آیا… ” وہ ابھی ہسپتال پہنچا ہی تھا
کچھ ہی دیر میں وہ ماریہ اور نائلہ کو لیکر ہسپتال آ گیا
………………
“کیا صورتحال ہے ؟” ڈاکٹر کرن کافی دیر بعد آئی سی یو سے باہر نکلیں
“بہت تشویشناک صورتحال ہے, کیا انہیں پہلے بھی… ” شایان نے ان کی بات کاٹ دی
“انہیں ایک اٹیک ہو چکا ہے” وہ بولا
“انہیں پھر سے ہارٹ اٹیک ہوا ہے” کرن کے دھماکہ کیا تھا
“ان کا دل بہت کمزور ہو چکا ہے, ارجنٹ بائی پاس کرنا پڑے گا” کرن کے کہا
“آپ کر لیں گی ؟” شایان نے پوچھا
“دراصل میں نے اب تک صرف اسسٹ کیا ہے, خود سے کبھی نہیں کیا, اگر کوئی مسئلہ ہو گیا تو… ” کرن کو جوائن کئے ابھی صرف دو ماہ ہی ہوۓ تھے
“آنٹی… ماریہ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے, اس کا دل بہت کمزور ہو چکا ہے, ہمیں اسے شفاء ہسپتال لے جا نا ہو گا” اس نے دھیرے دھیرے نائلہ کو بتایا, وہ تو ہول کر رہ گئیں , شایان اسی وقت ماریہ کو ایمبولینس میں ڈال کر شفاء ہسپتال لے آیا, اس کا سٹریچر آئی سی یو میں چھوڑ کر نائلہ کو وہیں رکنے کا کہہ کر خود ڈاکٹر ولید کے آفس کی طرف چلا آیا
“شایان… سب خیریت تو ہے ؟” وہ اسے دیکھ کر کافی حیران ہو گئے
“خیریت نہیں ہے ڈاکٹر ولید… میں آج ایک بار پھر ڈاکٹر ماریہ کو لیکر آیا ہوں, اسی حالت میں” شایان نے دھماکہ کیا تھا
“اوہ گاڈ… کہاں ہیں وہ ؟” ڈاکٹر ولید فوراً کھڑے ہو گئے
“آئی سی یو میں… ” وہ شایان کے ساتھ آئی سی یو تک آۓ تھے لیکن اس سے پہلے کہ اندر داخل ہوتے, یکدم ٹھٹھک گئے پھر دھیرے سے مڑے
نائلہ دم سادھے انہیں ہی دیکھ رہی تھیں
“تم… ؟” وہ حیرانی سے ان کی طرف پلٹے
“میری بچی ہے… اندر ” نایلہ نے کہا, ڈاکٹر ولید دم بخود رہ گئے
“ماریہ… ” ان کے لبوں سے نکلا
“میری بیٹی… ” وہ جیسے سرگوشی میں بولے تھے, نائلہ نے دھیرے سے سر ہلایا, ان کے پیچھے کھڑے شایان کی آنکھیں پھیل گئیں
جاری ہے
