Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7


اس نے اپنی انگلیاں ایک لے سے پیانو پر پھیری تھیں
میری سونی سونی راتوں کو جگا دے گی
پیار ہوتا ہے کیا… سمجھا دے گی
اس ہال نما کمرے میں موجود پندرہ, بیس آن ڈیوٹی ڈاکٹرز ایک دوسرے کے کولیگز تھے, لنچ تقریباً ختم ہو چکا تھا, چپڑاسی کھانے کے برتن اٹھا رہا تھا, سبھی اپنی اپنی چاۓ کا کپ پکڑے, نشستوں پر آڑے ترچھے بیٹھے, بڑے شوق اور حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے
عشق میں وہ کبھی نہ دغا دے گی
صرف چاہے گی مجھ کو وفا دے گی
پیانو کی آواز کے ساتھ ہی ناظرین کی تالیوں کی لے بھی شامل ہو گئی تھی, وہ ہال کے تقریباً وسط میں پڑی ایک کرسی پر بیٹھی تھی, آج اس نے ایک بائی پاس آپریشن اسسٹ کیا تھا سو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں آئی تھی, ملازم اس کے سامنے بریانی کی پلیٹ اور کولڈ ڈرنک کا ٹن رکھ گیا تھا, وہ اپنا سفید اوور آل اتارے بنا ہی دونوں آستینیں ذرا سی اوپر چڑھاۓ بڑی رغبت سے چاول کھانے میں مشغول تھی
اک دن اس کو آنا ہو گا… جاۓ گی کہاں
آۓ گی… آۓ گی… آۓ گی
شایان نے بس ایک نظر اسے دیکھا تھا… اور پھر پیانو پر دھن بجانے لگا تھا, اس کے سبھی ساتھی ڈاکٹرز کی نظروں میں حد درجہ ستائش تھی, پورا ایک منٹ وہ دھن کی لے پر بول گاتا رہا, پھر دھیرے سے کھڑا ہو گیا, اس کے لبوں پر بڑی میٹھی سی مسکراہٹ کھیل گئی تھی
“اے ایم سی (علامہ اقبال میڈیکل کالج) میں ہمارے ایک پروفیسر ہوا کرتے تھے… ڈاکٹر معین رضا, یہاں موجود میرے دو, تین بیج فیلوز ان کے بارے میں جانتے ہونگے… ” شایان نے کہنا شروع کیا, اس کے دو, تین کولیگز نے ڈاکٹر معین رضا کے نام پر ہاتھ کھڑا کیا تھا
“وہ کہا کرتے تھے کہ محبت کبھی چھپ کر نہ کرو کہ چھپ کر واردات کرنا چوروں کا شیوہ ہے, محبت کبھی ڈر کر بھی نہ کرو کہ ڈرنا بزدلوں کی روایت ہے… محبت ہمیشہ سینہ تان کر کرو, جھنڈے گاڑھ کر کرو, یہ کیا کہ محبوب کو چوری چھپے دروازے کی اوٹ سے دیکھنا پڑے, کھڑکی سے جھانک کر دیکھنا پڑے, نظر بچا کر دیکھنا پڑے… نہیں, محبت کا امرت پیو تو سانس بھر کے پیو, وہ کہا کرتے تھے کہ محبت کرو تو اظہار ضرور کرو, ایک بار, دو بار… بار بار… کرتے رہو, کہتے رہو کہ ” محبت ہے” اور وہ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ محبت کرو… لیکن زبردستی مت کرو, ضد مت کرو, مقابلہ مت کرو, تمہاری محبت تمہارا خزانہ… محبوب کی مرضی قبول کرے نا کرے, دعا کرو, منت کرو, دل کرے تو رو بھی لو… لیکن مجنوں مت بنو…” شایان کہتا ج رہا تھا, اس دوران اس نے ایک بار بھی نظر اٹھا کر سے نہیں دیکھا, بس چپ چاپ اپنا کھانا کھاتی رہی
“…اور اے ایم سی کا ایک ایک سٹوڈنٹ گواہ ہے کہ انہوں نے ایسی ہی محبت کی تھی, وہ ڈاکٹر نازش کنول کی گاڑی آنے سے پہلے پارکنگ کے باہر کھڑے ہوتے تھے, کیا نہیں تھا ان کے پاس… ؟ دولت, شہرت, عزت , عہدہ, مرتبہ… لیکن وہ پھر بھی ڈاکٹر نازش کی کار کا دروازہ خود کھولتے تھے, ان کا سامان خود اٹھاتے تھے, ان کے لئے کرسی خود کھینچتے تھے, وہ کہتے تھے کہ جو محبت کرے وہ ہمہ وقت اپنے ہاتھوں میں ایک سرخ گلاب ضرور رکھے, قدرت کی ستم ظریفی کہ اس قدر کامیاب انسان بھی اپنی محبت میں ناکام ہو گیا تھا” وہ دھیرے سے رکا
“میں شائد ڈاکٹر معین سے ذرا کم جرأت مند ہوں, کیونکہ سرخ گلاب ہمہ وقت میرے ہاتھوں میں نہ سہی… لیکن میرے اوور آل کی جیب میں ضرور ہوتا ہے” اس نے دھیرے سے مسکراتے ہوئے اپنی جیب سے ایک گلاب کا پھول نکالا تھا, ناظرین ہمہ تن گوش تھے, گھونٹ بھرنا یاد ہی نہیں تھا, چاۓ کے کپ ٹھنڈے پڑ چکے تھے, وہ دو قدم چلا تھا
“میں اس کے لئے گاڑی ک دروازہ نہ سہی… اس کے آفس کا دروازہ ضرور کھولتا ہوں” وہ دو قدم اور آگے آیا تھا, دھیرے سے اس کی کرسی کے پاس رکا تھا… اور وہ سرخ گلاب اس کے بالکل سامنے میز پر دھر دیا تھا
نظریں جھکائی ہوئی تھیں… اور لب مسکرا رہے تھے
وہاں موجود ہر ذی روح شایان کی طرف متوجہ تھا… سواۓ اس کے
وہ ٹن خالی کرتے ہوئے دھیرے سے کھڑی ہوئی تھی, اپنا اوور آل اٹھایا تھا اور سٹیتھو سکوپ گلے میں ڈالتے ہوئے بڑے مضبوط قدموں سے چلتی ہوئی اس کے برابر سے گزر کر یال سے باہر نکل گئی تھی, پیانو سے ذرا دور دیوار سے ٹیک لگاۓ کھڑا زخرف حیرانی کی ساتویں منزل پر پہنچ گیا تھا
وہ آج پانچ سالوں بعد بھی صرف اس کی خاطر شایان کو ٹھکرا گئی تھی
تو کیا واقعی سائرہ درست تھی… ؟ تو کیا وہ آج بھی اس سے محبت کرتی تھی ؟
………………
ایک زمانہ تھا جب بہت ٹوٹ کر چاہا تھا اسے لیکن… وہ نہیں ملا تھا
کوشش کرنے پر بھی نہیں
دعائیں مانگنے پر بھی نہیں
بچھڑ ہی گیا تھا… اور وہ اب تک نہیں بھلا پائی تھی
اور اب… پانچ سال بعد
وہ اسے واپس مل رہا تھا
اس کا زخرف… اس کی جان
“میں کیا کروں… ؟” اس نے سوچتے ہوئے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“آج گھر نہیں جانا ؟” شایان کی آواز پر اس نے آنکھیں کھولیں
“وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا… ” وہ بولی
“ہاں اکثر ہی وقت گزرنے کا پتہ نہیں چلتا” وہ اس کے عین سامنے بیٹھ گیا, ماریہ نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا, وہ اسی کو دیکھ رہا تھا
“کیا پوچھنا ہے مجھ سے ؟” وہ بھانپ گئی
“اب کیا کرو گی تم… ؟” شایان نے پوچھا
“آپ بتا دیں کیا کروں ؟” وہ فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی
“دل کیا کہتا ہے ؟” شایان نے دوبارہ پوچھا
“وہی جو پانچ سال پہلے کہتا تھا ” ماریہ نے دھیرے سے کہا
“تو بس دل کی سن لو…ویسے بھی دل والوں کو تو دل کی ہی سننی چاہیے ” شایان نے کہا
“میری جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے ؟” ماریہ نے پوچھا
“میں اپنے دل کی سنتا… ” شایان دھیرے سے مسکرایا تھا
“ہو جاؤ اس کی… کیونکہ کسی اور کی تم ہو نہیں سکو گی, میری بھی نہیں” شایان مسلسل اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا
“اسے شائد تمہیں ہی ملنا تھا لیکن ذرا دیر سے… تب بھی تو قدرت کے فیصلے کے آگے سر جھکایا تھا نا… اب بھی جھکا دو, تب نہیں ملا تو چھوڑ دیا تھا نا… اب مل رہا ہے تو لے لو کیونکہ اس کے علاوہ تم کچھ اور لو گی نہیں… مجھے بھی نہیں” وہ کہتا چلا گیا
“اگر مجھے اس بات کا ایک فیصد بھی یقین ہوتا نا کہ اگلے سو سال تک انتظار کرنے پر تم میری طرف پلٹ آؤ گی تو میں کبھی تمہیں اس کی زندگی میں واپس جانے کو نہیں کہتا لیکن… میں پھر بھی کہوں گا کہ پلٹ جاؤ اس کی طرف… کیونکہ میری طرف تم کبھی نہیں آؤ گی” وہ اکثر یونہی اس کے فیصلے آسان کر جایا کرتا تھا… اب بھی کر گیا
پانچ سال پہلے وہ اس کا نہیں تھا… تبھی نہیں ملا تھا
اب اس کا تھا… تبھی تو مل رہا تھا… تو وہ انکار کیوں کر رہی تھی
“تمہاری ساس اور سسر سے ملنے سے پہلے مجھے ایک بار زخرف سے ملنا ہے” اس نے ہسپتال سے نکلتے ہوئے سائرہ کو ٹیکسٹ کر دیا تھا
…………………..
وہ دو مرحلے پار کر چکی تھی
اب تیسرا مرحلہ رہ گیا تھا… زخرف کو منانا
اسے گھر آۓ چار دن ہو چکے تھے, اس دن بھی سائرہ نے اسے ٹیکسٹ کر کہ گھر آنے کا یاد دلایا
“تمہارا ایک گھر بھی ہے زخرف… جہاں ایک بیوی بھی رہتی ہے تمہاری” اور وہ بادل نخواستہ اس رات گھر آ ہی گیا…رات کے ساڑھے گیارہ بجے
گاڑی کھڑی کر کہ ناک کی سیدھ میں سیدھا اوپر اپنے کمرے میں چلا آیا کہ مبادا کوئی آواز نہ دے لے, دروازہ کھولا تو پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا, دھیرے سے اپنی طرف کا لیمپ آن کرتے ہوئے وہ یکدم ٹھٹھک گیا
اسے لگا جیسے وہ کہیں اور آ گیا ہو
گلابوں کی تیز خوشبوؤں کا ایک جھونکا سا اس سے آن ٹکرایا تھا, دھیرے دھیرے کمرہ روشن ہوتا چلا گیا, وہ حیرانی سے پلٹا تھا
سائرہ اس کے عین پیچھے میز کے پاس کھڑی تھی, سیاہ رنگ کے انتہائی موہوم سے ریشم کے نائیٹ گاؤن میں ملبوس… دھیمے دھیمے مسکراتے ہوئے
“سالگرہ مبارک ہو زخرف… ” میز پر کیک رکھا ہوا تھا, موم بتیوں سے سجا ہوا
زخرف ایک دم سب کچھ بھول گیا… ساری تھکاوٹ, سارا تناؤ
مسکراتے ہوئے وہ اس کی طرف آیا تھا, سائرہ نے اس کے لئے کرسی کھینچی, وہ بڑے غرور سے اس پر بیٹھ گیا, سائرہ دھیرے سے مسکراتے ہوئے بڑے حق سے اس کی بائیں ران پر جا بیٹھی
“شکر ہے تمہیں یاد رہا… ” زخرف نے شکوہ کیا تھا
“تم مجھے سر سے لیکر پاؤں تک زبانی یاد ہو زخرف… یہ تو پھر ایک سالگرہ ہے” سائرہ نے اپنے دونوں بازو اس کی گردن کے گرد پرو دئے, زخرف اس کی رعنائیوں سے ہارتا جا رہا تھا
“آئی لو یو سائرہ… ” بہت محبت سے زخرف نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر سے خود سے قریب کیا تھا,سائرہ کی انگلیاں اس کی شرٹ کے بٹنوں پر رینگنے لگیں, انہیں کھولنے لگیں… ایک, دو, تین…
زخرف نے اس کی کال سیاہ زلفیں اپنے چہرے پر گراتے ہوئے آنکھیں بند کی تھیں
“زخرف… ” سائرہ کے لب تھے اور زخرف کا چہرہ
“ماریہ سے شادی کر لو… ” اس نے التجا کی تھی, زخرف جیسے تھم سا گیا, شکوہ کناں نظروں سے اس نے سائرہ کی طرف دیکھا تھا
“تو اسلئے بلایا تھا مجھے… ” وہ بولا
“زخرف پلیز… مان جاؤ نا” اس نے زخرف کے لبوں کو چھوا تھا
“تم صرف آج کا سوچ رہی ہو سائرہ… کل کیا ہو گا کبھی سوچا ہے ؟وہ کوئی عام سی لڑکی نہیں ہے, کارڈیالوجسٹ ماریہ خان ہے وہ… دلوں پر حکومت کرنا اسے ہم دونوں سے زیادہ بہتر طریقے سے آتا ہے, میں اس کی منہ زور محبت کے آگے کیسے ڈٹا تھا… یہ صرف میں ہی جانتا ہوں اور اب اسے ہی میری زندگی میں لا رہی ہو تم… بیوی ہو گی وہ میری, پورا حق ہو گا اس کا مجھ پر اور میرا اس پر… مجھے اس سے اسی جیسی محبت ہو گئی تو کیا کرو گی ؟ میری توجہ, میرا وقت, میری محبت… ہر چیز دو حصوں میں بٹ جاۓ گی… بولو شراکت داری برداشت کر لو گی تم ؟” زخرف حرف بہ حرف درست کہہ رہا تھا
“بس اتنی کمزور ہے میری اور تمہاری محبت زخرف کہ اس کے آنے سے ٹوٹ جاۓ گی؟” سائرہ نے کہا
“کاش میں تمہیں سمجھ سکتا… اس نے پیار نہیں عشق کیا ہے مجھ سے… اندھوں جیسا عشق, ہمارے نکاح والی رات میں نے دیکھا تھا اسے… تم نے نہیں , وہ اس رات مر کر زندہ ہوئی تھی سائرہ ” زخرف اسے سمجھا نہیں پا رہا تھا, سائرہ کی گستاخیاں بڑھتی جا رہی تھیں, وہ جیسے موم کی طرح پگھل کر اس پر بہے جا رہی تھی
“ایک بار مل لو اس سے… مل لو گے نا… ؟” اس نے زخرف کو پوری طرح بے بس کر دیا, وہ اسے دونوں بازؤں میں. اٹھا کر بستر تک لایا تھا
“مل لو گے نا زخرف… ؟” سائرہ بس یہ ہی پوچھے جا رہی تھی
کارڈیالوجسٹ ماریہ خان… جو پتہ نہیں اس سے اتنی محبت کیوں کرتی تھی, اس کی ستاروں جیسی آنکھیں… بہاروں جیسی باتیں… نہ جانے کتنی مشکل سے بھلائی تھیں اس نے, اپنے نکاح والی رات اس کے بہتے ہوئے آنسو نہ جانے کیسے خشک کئے تھے
ترس تو بہت آتا تھا اس پر… اسے ٹھکرا دینے کا غم بھی بہت تھا لیکن… کہیں نہ کہیں ایک ہلکا سا غرور بھی تھا کہ سارے زمانے کو ٹھکرا کر وہ اس سے پیار کرتی تھی
آج… پانچ سالوں بعد بھی صرف اسی کے نام پر زندہ تھی, جب جب اس نے ماریہ کی آنکھوں میں جھانکا تھا… خود کو ہی پایا تھا
“اگر مجھے اس بات کا ایک فیصد بھی یقین ہوتا نا کہ آپ میری ہو سکتی ہیں تو میں آپ کو کبھی یوں خوار نہ ہونے دیتا” کروٹ بدلتے ہوئے اس کے ذہن کے پردے پر اس کی اپنی ہی آواز لہرائی تھی
اور اب وہی ماریہ خان اسے مل رہی تھی
“کیا میں خود کو اس سے محبت کرنے سے باز رکھ پاؤں گا ؟” اس نے جیسے خود سے سوال کیا تھا
………………
شام کے پانچ بج رہے تھے جب اس نے “فلیورز ” کے آگے گاڑی روکی, وہ خود بھی ایک بار ماریہ سے ملنا چاہ رہا تھا, گاڑی پارک کر کہ وہ اندر چلا آیا, اس کے اندازے کے عین مطابق وہ پہلے سے ہی وہاں موجود تھی
آس پاس سے بے نیاز ہو کر اسے دیکھ رہی تھی
“کیسی ہیں ڈاکٹر ماریہ ؟” وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے عین سامنے بیٹھ گیا
“جیسی بھی ہوں… آپ کے سامنے ہوں” وہ دھیرےبسے بولی
“ماریہ میری حالت بھی آپ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے, میں خود سائرہ کے حد درجہ اصرار پر موم ہوا ہوں, مجھے بس اتنا کہنا ہے کہ میں آپ کو کسی کی ضمانت نہیں دے سکتا, نہ اپنی ماں کی, نہ باپ کی, نہ بہنوں کی… یہاں تک کہ سائرہ کی بھی نہیں…. میں صرف آپ کو اپنی ضمانت دے سکتا ہوں, میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ آنے والی زندگی میں آپ کو کبھی میری ذات سے کوئی تکلیف نہیں ہو گی, خدا کرے کہ میرے گھر والے آپ کو قبول کر لیں لیکن… مجھے اپنی اس دعا پر خود ہی یقین نہیں ہے, آپ ایک بار پھر سوچ لیں ماریہ… کیونکہ مجھ سے شادی کرنا جہنم کو گلے لگانے کے مترادف ہو گا” وہ سچ کہہ رہا تھا
“میں نے جو سوچنا تھا سوچ لیا زخرف… جو فیصلہ کرنا تھا کر لیا… مجھے بس آپ سے ایک وعدہ چاہئے ؟” وہ بولی
“کہیں… ” زخرف دھیرے سے آگے کو ہوا تھا
“میری اور آپ کی زندگی چاہے جیسی بھی ہو زخرف, آپ کے گھر والے میرے ساتھ جیسا مرضی سلوک کریں, آپ کو کتنا ہی مجبور کریں, سائرہ جیسا مرضی رد عمل ظاہر کرے, کچھ بھی ہو جاۓ, میں چاہے جیسی بھی زندگی گزاروں, میرے ساتھ چاہے جیسا مرضی سلوک ہو, مجھے چاہے جیسا مرضی مقام ملے, بھلے آپ کتنے ہی مجبور کیوں نا ہو جائیں لیکن… آپ مجھے چھوڑیں گے نہیں” وہ بولی تھی
“وعدہ کرتا ہوں… نہیں چھوڑوں گا” زخرف نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا تھا
“ہمیشہ مجھے اپنے ساتھ رکھیں گے ؟” وہ پھر بولی
“ہمیشہ ساتھ رکھوں گا” زخرف انتہائی مضبوط لحجے میں بولا تھا
……………..
“زخرف کی زندگی میں آنے کے لئے ہماری کچھ شرائط ہیں… تمہیں وہ سب پوری کرنا ہوں گی” وہ آج زخرف کے والدین سے ملنے آئی تھی, اسماء ملک بڑے پر غرور لحجے میں اس سے مخاطب تھیں, وہ سر جھکاۓ ان کے سامنے صوفے پر بیٹھی تھی
“جی کہیں… ” ماریہ نے کہا
“شادی کے بعد تمہارا رشتہ صرف اس گھر سے ہو گا… تمہارے گھر والوں سے تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا” پہلی شرط
“میری زندگی میں صرف میری ماں ہے… بیمار ماں” ماریہ نے کہا
“اس سے بھی نہیں… ” اسماء نے دو ٹوک الفاظ میں کہا
“جی ٹھیک ہے… ” وہ بولی
“تمہیں میرے اور شعیب کے ہر فیصلے پر سر جھکانا ہو گا… انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی” دوسری شرط
“جی ٹھیک ہے… ” وہ پھر بولی
“اور سب سے اہم بات…اب تک تم نے جو کیا سو کیا… آج کے بات تمہارا کسی ہسپتال سے کوئی رابطہ نہیں ہو گا, تمہاری دنیا صرف اس گھر تک محدود رہے گی, تمہاری پروفیشنل لائف بالکل ختم… ” اسماء نے کہا, سائرہ دم بخود رہ گئی
ایک چیز ہوتی ہے نصیب کا لکھا… وہ جو بن مانگے ہی مل جاتا ہے, وہ جس کے چھن جانے پر اتنا ملال نہیں ہوتا
لیکن… ایک چیز ہوتی ہے محنت کا صلہ… جو نہ جانے کتنے ہی سنہری سالوں کو پانی کر کہ ملتا ہے, جس کے چھن جانے پر انسان شائد زندہ ہی نہیں رہ پاتا
ماریہ کا ہسپتال اس کے نصیب کا لکھا نہیں تھا… وہ اس کی محنت کا صلہ تھا, سائرہ نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اسے دن رات ایک کرتے, اپنی جوانی کے سنہرے سالوں کو مٹی کرتے… اور اسماء ملک اس سے وہی صلہ چھین رہی تھیں, وہ چپ نہ رہ سکی
“لیکن آنٹی میری بات… ” اسماء نے اس کی بات کاٹ دی
“تم چپ رہو… اگر ہم تمہاری بات مان رہے ہیں تو اسے بھی ہماری ساری باتیں ماننا پڑیں گی” وہ بولیں
“جی ٹھیک ہے… میں چھوڑ دوں گی ہسپتال” سائرہ بے بسی سے اس کی طرف دیکھ کر رہ گئی
وہ اپنے باپ سے زیادہ بہادر نکلی… اس نے لمحوں میں شوق چھوڑا اور محبت چن لی, اس لمحے اس نے ثابت کر دیا کہ اس کے لئے زخرف سے زیادہ کچھ بھی اہم نہیں … نہ شوق, نہ مسیحائی, نہ اس کی محنت کا صلہ
زخرف… اور صرف زخرف
اس کا ایمان تھا کہ محبت زندگی میں صرف ایک بار ملتی ہے… اگر ٹھکرا دی جاۓ تو پھر ایڑھیاں رگڑنے پر بھی واپس نہیں ملتی… اور اس نے ہر چیز داؤ پر لگا کر محبت چن لی تھی
…………………..
رات کے نو بج رہے تھے جب وہ گھر واپس آئی, زیادہ تر نفوس شائد سو چکے تھے, بس اکا دکا لائٹیں ہی جل رہی تھیں, وہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی آئی, بیگ اتار کر صوفے پر پھینکا اور خود چھت پر نکل آئی
وہ جو آسمان پر سب سے روشن ستارہ تھانا… وہ زخرف تھا
وہ جب جب خود پر نچھاور خدا کی نعمتیں گنتی تھی تو زخرف کو دو دفعہ گنتی تھی… پھر دس دفعہ, پھر سو دفعہ… اور پھر بھی اسے لگتا تھا کہ کم ہے
اس کے لب خود بخود مسکرا اٹھے, دھیرے سے اپنے دونوں بازو وا کرتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کی تھیں
“زخرف… میری جان” سرگوشی میں کہتے ہوئے وہ گول گول گھوم گئی
دور کہیں ایک تارا ٹوٹا تھا
“یا خدا… اب کی بار وہ جدا نہ ہو” اس دیوانی سی لڑکی نے دعا مانگی تھی
“آمین.. ” آکاش کے سبھی ستاروں نے مل کر کہا تھا
………………
اگلی صبح اس نے اسماء ملک کی ساری شرائط نائلہ کے سامنے رکھ دیں, وہ تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئیں
“یعنی تم نے اسلئے پانچ سال انتظار کیا کہ ایک شادی شدہ شخص کی دوسری بیوی بن جاؤ” انہیں بہت غصہ تھا
“وہ شادی شدہ شخص میری اولین محبت ہے امی… ” ماریہ نے کہا
“بھاڑ میں گئی محبت ماریہ.. نفرت ہے مجھے اس لفظ سے, تمہارے باپ نے بھی کی تھی مجھ سے محبت, وہ بھی یونہی کہتا تھا کہ تم میری اولین محبت ہو, لیکن کیا ہوا… ؟ پیروں تلے روند کر نکل گیا وہ اس اولین محبت کو اور پھر ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا… ” نائلہ پھٹ پڑیں
“لیکن میں بابا کی طرح نہیں ہوں امی… مجھے اپنی اولین محبت کو پیروں تلے نہیں روندنا… ” وہ بولی
“تمہارے ہسپتال کا کیا بنے گا ماریہ ؟ میرا کیا بنے گا ؟ چھوٹی بہنوں کی شادیاں کیسے ہوں گی ؟ دونوں بھائیوں کی پڑھائی کا کیا ہو گا ؟” وہ کہتی چلی گئیں
“میں آپ سےوعدہ کرتی ہوں امی کہ سب ہو جاۓ گا… آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی” ماریہ نے کہا
“اور تمہارے ابو سے کیا کہوں گی…؟ خاندان والوں کوبھی منہ دکھاؤں گی ؟” نائلہ کو اس لمحے صرف اپنی پڑی تھی
“وہ میرے ابو نہیں ہیں امی… انہوں نے آج تک کبھی میرے سر پر شفقت سے ہاتھ نہیں رکھا, انہیں تو شائد میرا نام بھی نہیں آتا ہو گا… اور رہ گئے خاندان والے, تو آپ کو کسی سے بھی لڑنے کی ضرورت نہیں ہے. زخرف مجھ سے بالکل سادگی سے نکاح کرے گا” ماریہ نے کہا
“تم میرے شوہر کی کمائی سے ڈاکٹر بنی ہو ماریہ… اتنی احسان فراموشی کہاں سے آ گئی تمہارے خون میں ؟” وہ پھٹ پڑیں
“تو میں نے ان کے لئے کیا کچھ نہیں کیا امی… ان کے سارے بہن بھائیوں کو الگ الگ گھر بنا کر دئے, ان کے بچوں کا سارا خرچہ اٹھایا, ان کے ماں باپ کے علاج میں کبھی کوئی کمی نہیں چھوڑی… ” وہ آج پہلی بار اتنا بولی تھی
“تم اس شخص کے لیے مجھ سے لڑ رہی ہو ماریہ… اپنی ماں سے ” نائلہ تاسف سے بولیں
“بڑی کڑی ریاضتوں اور مسافتوں کے بعد ملا ہے وہ مجھے… ایسے نہ کریں امی” وہ بولی
“تو بس پھر کسی ایک کو چن لو… ” نائلہ نے کہا
“چننے کا مرحلہ تو گزر گیا امی… میں تو کب کی محبت کو چن چکی” وہ دھیرے سے بولی تھی
“تم بالکل اپنے باپ جیسی ہو, ضدی اور ہٹ دھرم” نائلہ تنفر سے بولیں
“میں بابا جیسی نہیں ہوں امی… بالکل نہیں, انہوں نے اپنا شوق چنا, اپنے خواب چنے… محبت ٹھکرا دی, اور میں نے محبت چنی, زخرف چنا… باقی سب کچھ ٹھکرا دیا… ایک نہ ایک دن میں ان کے سامنے کھڑی ہو کر ضرور کہوں گی کہ آپ کی بیٹی آپ سے زیادہ بہادر ہے ولید احمد خان…” وہ سر جھکا کر بولی تھی, نائلہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئیں
اور اس کی توقع کے عین مطابق اس کے نکاح تک میں شریک نہیں ہوئیں… اس کی طرف سے کوئی بھی نہیں تھا
سائرہ نکاح سے دو دن پہلے ہی حفصہ کی طرف چلی گئی تھی
……………….
اپنے کرتے کی آستینیں اوپر کو چڑھاتے ہوئے وہ دھیرے سے اس کے سامنے آ بیٹھا
“ماریہ آخر ایسا کیا ہے مجھ میں ؟” وہ کہہ ہی گیا
“میں تو کہوں گی کہ آخر کیا نہیں ہے آپ میں… ” ماریہ نے نظر بھر کر اسے دیکھا تھا
“یار ایسے تو نہیں چلے گا, میں اچھا خاصا عاجز انسان ہوں, تم تو مجھے مغرور بنا دو گی” زخرف نے مسکراتے ہوئے اس کی جانب دونوں بازو پھیلاۓ تھے, شکرانے کے آنسو بہاتی ہوئی وہ اس کے گلے لگ گئی
“آپ سے بڑھ کر مجھے اس دنیا میں کچھ عزیز نہیں ہے زخرف… اپنا آپ بھی نہیں” وہ رو رہی تھی
“آج سے… ابھی سے… میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں” زخرف نے اس کے آنسو اپنے لبوں سے چنے تھے
ذرا دور کھڑی قسمت دھیرے سے مسکرائی تھی, صرف وہ جانتی تھی کہ آنے والے وقتوں میں کیا ہونے والا تھا
………………….
اسے حفصہ کی کال آئی تھی, رات کے دس بج رہے تھے
“شایان سائرہ ابھی تک گھر نہیں آئی… دیکھو تو ابھی تک ہسپتال ہی ہے کیا ؟” وہ کافی پریشان تھیں
“آپ فکر مت کریں… میں دیکھتا ہوں” وہ کال ڈس کنیکٹ کرتا ہوا اس کے آفس کی طرف چلا آیا, سائرہ دونوں آنکھیں موندے, کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی
“سائرہ… گھر نہیں جانا ؟” شایان نے دھیرے سے اسے پکارا, اس نے آنکھیں کھول دیں, شایان ایک دم تڑپ گیا, وہ رو رہی تھی
“جب ایک فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر ہمت بھی رکھو… ” شایان نے اس کے آنسو صاف کیے تھے
“عادت تھوڑی نا ہے مجھے ایسے قربانیاں دینے کی, دل جیسے پاتال میں گرتا جا رہا ہے, یوں لگ رہا ہے جیسے زخرف نہ جانے کتنی دور چلا گیا ہے” وہ بولی
“بھروسہ رکھو… اسے جس کے حوالے کر کہ آئی ہو وہ غاصب نہیں ہے” شایان نے کہا
“آپ کو دکھ نہیں ہو رہا… آج آپ کی امید پوری طرح ختم ہو گئی ” سایرہ نے پوچھا
“اچھا ہے نا پوری طرح ختم ہو گئی, اب بار بار دکھ نہیں ہو گا” شایان کی آنکھوں میں بہت کچھ چمکا تھا
“اٹھو.. گھر جاؤ” شایان نے اسے بازو سے پکڑ کر کھڑا کر دیا
وہ پوری رات اس نے بھی آنکھوں میں ہی کاٹی تھی
دو دن بعد سائرہ کو زخرف کی کال آ گئی
“ہاں بھئی گائناکالوجسٹ صاحبہ… یاد کرو تمہارا ایک عدد گھر بھی ہے, واپس کب آنا ہے ؟” وہ پوچھ رہا تھا, سائرہ کو انجانی سی خوشی محسوس ہوئی
“جب تم لے جاؤ” وہ بولی, اور زخرف اسے اسی شام آ کر واپس لے گیا
ماریہ کی آنکھوں میں اسے وہی سب کچھ نظر آیا جو وہ دیکھنا چاہتی تھی
پیار, مان, بھروسہ… اور ڈھیر سارا تشکر
“میری جگہ ہمیشہ تمہارے قدموں میں ہی رہے گی دوست… میرا مرتبہ ہمیشہ تم سے کم اور میری حیثیت ہمیشہ تم سے نیچے ہی رہے گی, میں ہمیشہ تمہارے شوہر کی دوسری بیوی ہی کہلاؤں گی” ماریہ کہتی چلی گئی تھی
اڑتے اڑتے زخرف کی دوسری شادی کی خبر ڈاکٹر ولید کے کانوں میں بھی پڑ گئی
“واہ بھئی… بڑے چھپے رستم نکلے تم ؟” وہ کافی حیران تھے, زخرف بس مسکرا کر رہ گیا
“کون ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“کارڈیالوجسٹ ماریہ خان… ” زخرف نے ان کے سر پر دھماکہ کیا تھا
“اس نے تم سے شادی کر لی ؟” وہ یقین نہیں کر پا رہے تھے
“زخرف تم میں کوئی کمی نہیں ہے لیکن… وہ ایک شادی شدہ شخص کی دوسری بیوی کس مجبوری کی وجہ سے بن گئی ؟” وہ بولے
“محبت کی وجہ سے… ” زخرف نے انہیں اور حیران کیا تھا
“وہ مجھ سے محبت کرتی ہے… نہ جانے کب سے…” زخرف نے بڑے غرور سے کہا تھا
جاری ہے