No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
صبح وہ بس چاۓ کا ایک کپ پی کر ہسپتال آ گئی, شایان اسے خود سے پہلے آفس میں بیٹھا دیکھ کر حیران رہ گیا
“خیریت ہے نا… ؟” اس نے پوچھا
“گھر میں گھٹن سی ہو رہی تھی ” وہ مختصر سا جواب دے کر فائلوں میں گھس گئی, شایان اس کا اترا ہوا چہرہ اور بے خوابی کے باعث سرخ آنکھوں کو دیکھ کر رہ گیا
“ماریہ… ” شایان نے دھیرے سے اسے پکارا
“میری طرف دیکھو… ” وہ اس کے آگے سے فائلیں ایک طرف کرتا ہوا بولا
“تمہارے مریض تم سے زیادہ فریش لگتے ہیں, حالت دیکھو اپنی… کہاں سے لگتی ہو تم ایک ہارٹ سرجن… ؟ کہاں سے لگتی ہو تم ڈاکٹر ماریہ خان ؟” وہ اسے دوبارہ سے زندہ کرنے کی کوششوں میں تھا
“مریضوں سے زیادہ تو تمہیں علاج کی ضرورت ہے” شایان نے کہا
“میرا مرض لا علاج ہے… ” ماریہ نے دھیرے سے کہا
“ہاں تو تم نے خود کیا ہے اسے لا علاج… ابتدائی مراحل میں ہی اس پر قابو کیوں نہیں پایا… ؟ میری طرف دیکھو, میں بھی اسی مرض کا شکار ہوں لیکن میں روز اس سے لڑنے کی کوشش کرتا ہوں” شایان کہتا چلا گیا
“ہمت کرو… ایک چیز کے چھن جانے سے باقی سب کچھ ختم نہیں ہو جاتا, تمہارے بنا میں اور میرا ہسپتال دونوں ادھورے ہیں” وہ اسے سمجھاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا, ماریہ کچھ دیر تو کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ اس کی باتوں کو سوچتی رہی, پھر اپنے زخمی دل اور شکستہ وجود کو سہارا دے کر نیچے آ گئی, پہلے میڈیکل سٹور کا ایک چکر لگایا, پھر جنرل وارڈ کی طرف چلی آئی, وہاں ابھی صرف کلینک والے ہی اکا دکا مریض موجود تھے, وارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے وہ ایک بیڈ کے پاس رک گئی, پرسوں وہ اسی بیڈ پر لیٹی تھی جب سائرہ اپنی شادی کا کارڈ لیکر آئی تھی, وہ کارڈ ابھی تک اس بیڈ پر پڑا تھا, ماریہ نے مسکراتے ہوئے کارڈ اٹھا لیا
پھر دھیرے سے کھولا اور… پڑھا
Dr. Saira Zohaib Weds to Dr. Zukhruf Malik
وہ “ڈاکٹر زخرف ملک ” پر ایک دم ساکت ہوئی تھی, آنکھوں کے آگے یکدم ہر منظر دھندلا گیا تھا
“زخرف… ” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
“تو زخرف سائرہ کا تھا… ؟” اسے یقین نہیں آ رہا تھا
“اور میں… ؟” وہ ایک دم بیڈ پر گر سی گئی
“میں اتنے عرصے سائرہ کے حق پر ڈاکہ ڈالتی رہی ” اسے شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا
“زخرف کیا سوچتا ہو گا کہ میں اپنی بہترین دوست کی خوشیاں چھیننے میں لگی ہوئی تھی ” شدت کا احساس ندامت تھا
“سائرہ کو پتہ چل جاتا تو… ” اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہ گیا
“شایان کو پتہ چل گیا کہ میں زخرف کے لئے اس حد تک پاگل ہوں تو وہ کیا سوچے گا کہ میں نہ اس کے ساتھ مخلص ہوں اور نہ اس کی بہن کے ساتھ… ” اسے ایک دم ڈر لگا
“اگر زخرف نے سائرہ کو سب کچھ بتا دیا تو… ؟” ایک سوچ اٹھی تھی
“اور سائرہ نے شایان کو سب کچھ بتا دیا تو… ؟” ایک اور سوچ اٹھی تھی
“ایسا کیا تھا سائرہ میں جو مجھ میں نہیں تھا… ” اور سب طاقتور سوچ حسد کی تھی
“آخر زخرف کو اسی سے محبت کیوں ہوئی ؟ مجھ سے بھی تو ہو سکتی تھی ” حسد لمحوں میں اسے سلگا گیا تھا
یکدم اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا, ابھی کچھ دن پہلے ہی وہ مرتے مرتے بچی تھی, اب بھی ہزاروں سوچوں کے زیر اثر اہنے دل پر ہاتھ رکھے نیچے کو بیٹھتی چلی گئی
“ڈاکٹر ماریہ… کیا ہوا ؟ ڈاکٹر ماریہ” ایک نرس اور وارڈ بوائے تیزی سے اس کی طرف آۓ تھے, وہ بے ہوش ہو گئی تھی, ان دونوں نے بمشکل اس کا بے جان وجود اٹھا کر بیڈ پر لٹایا
“جلدی جاؤ… ڈاکٹر شایان سے کہو کہ ڈاکٹر ماریہ بے ہوش ہو گئیں ہیں, جلدی” نرس نے وارڈ بوائے کو شایان کی طرف دوڑایا, وہ چند لمحوں بعد ہی بھاگتا ہوا وہاں آ گیا
“بی پی چیک کیا… ” ماریہ مسلسل بے ہوش تھی
“انتہائی لو.. ” نرس نے کہا, شایان نے اسے فوری ٹریٹمنٹ دینے کے بعد سب سے پہلے پرائیوٹ روم میں شفٹ کیا, پورے آدھے گھنٹے بعد ڈرپس اور انجکشنز کے زیر اثر اسے ہوش آیا تھا, ذرا سی دیر میں وہ پیلی زرد ہو گئی تھی , شایان نے زبردستی اسے جوس پلایا, اور دوائیں کھلائیں, ماریہ کچھ نہ بولی… ایک لفظ بھی نہیں, بس دواؤں کے زیر اثر دوبارہ غنودگی میں چلی گئی
“ایسا کیا ہو گیا ایک دم… ” وہ سوچتا ہو اپنے آفس میں چلا آیا, دماغ شل ہوۓ جا رہا تھا
“ڈاکٹر ماریہ کہاں بے ہوش ہوئی تھیں؟” کچھ دیر بعد اس نے جنرل وارڈ میں جا کر اسی نرس سے پوچھا
“اس بیڈ کے پاس… “نرس نے کہا
“ڈاکٹر صاحبہ یہ کارڈ دیکھ رہی تھیں شائد…” نرس نے سائرہ کی شادی کا کارڈ زمین سے اٹھا کر اسے پکڑا دیا, شایان کا دماغ جیسے سن رہ گیا
کاش… کاش…. جیسا میں سوچ رہا ہوں ویسا کچھ نہ ہو
“محبت بچھڑ گئی ہے میری… ” اس کے کانوں میں مسلسل ماریہ کی بھیگی آواز گونج رہی تھی, وہ کارڈ ہاتھ میں لئے دوبارہ اپنے آفس چلا آیا, ماریہ کو بس ایک دفعہ ہوش آیا اور کچھ دیر بعد وہ پھر سو گئی, شایان کچھ دیر اس کے بستر کے پاس کھڑا اسے دیکھتا رہا, پھر ایک ساتھی ڈاکٹر کو اس کا بے حد خیال رکھنے کی تاکید کرتے ہوئے اس کے گھر چلا آیا
“ماریہ تو ٹھیک ہے نا شایان ؟” نائلہ اسے دیکھ کر ایک دم پریشان ہو گئیں
“جی آنٹی وہ بالکل ٹھیک ہے, آج مریضوں کا رش کچھ زیادہ ہے تو وہ ہسپتال ہی رکے گی, آپ اس کا ایک سوٹ اور دوائیں وغیرہ پیک کر دیں” شایان نے انہیں ہر ممکن مطمئین کرنے کی کوشش کی تھی, نائلہ سر ہلا کر اس کے کمرے کی طرف آ گئیں, وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہی چلا آیا, جتنی دیر انہوں نے پیکنگ کی, وہ ادھر ادھر تانک جھانک کرتا رہا
“ایک منٹ ٹھرو ذرا, کھانا بھی لے جاؤ اس کا ورنہ صرف چاۓ پر ہی گزارا کرتی رہے گی” نائلہ اسے کہتے ہوئے باہر نکل گئیں
وہ یونہی ادھر ادھر دیکھتا ہوا اس کی بک شیلف کی طرف آ گیا
کتابیں, رجسٹرز, نوٹس… اچانک سفید کاغذوں کا ایک بڑ سا پلندہ نیچے آ گرا
شایان ایک دم ٹھٹھک گیا… اس کا شک درست تھا
ہر کاغذ پر بس ایک ہی نام لکھا ہوا تھا, پلندہ اوپر رکھنے لگا تو اس کی نظر ایک چھوٹی سے ڈائری پر پڑی
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی کے کسی موڑ پر میں بس ایک شخص کے لیے اسقدر پاگل ہو جاؤں گی” ڈائری کے پہلے صفحے پر لکھے وہ الفاظ ماریہ کی لکھائی میں ہی تھی
غائب دماغ اور کپکپاتے ہاتھوں سے شایان نے ڈائری کھولی تھی
24 فروری 2018
آج پہلی بار کسی کے منہ سے اس کا نام سنا ہے, صبح سے شام اور شام سے رات ہو گئی ہے مگر وہ نام ہی ذہن سے نہیں نکل رہا… زخرف ملک
14 اپریل 2018
جب میرے سامنے کوئی اس کا نام لیتا ہے تو میری دھڑکنیں جیسے گنگنانے لگتی ہیں, مجھے یوں لگا ہے جیسے ہر طرف تتلیاں اڑ رہی ہوں
20 مئی 2018
میں نے اپنی زندگی میں بس ایک ہی بہترین کام کیا ہے… اپنا دل اسے دیا ہے
7 جون 2018
آج میں نے پہلی بار اسے دیکھا… سورج کی کرنیں بھی اتنی روشن نہیں ہوتیں, شام کا منظر بھی اتنا سنہرا نہیں ہوتا, چودھویں کا چاند بھی اتنا خوبصورت نہیں ہوتا, اماوس کی راتوں کو سمندر بھی اتنا پرسکون نہیں ہوتا, جتنا روشن, جتنا سنہرا, جتنا خوبصورت اور جتنا پر سکون وہ تھا
11 جولائی 2018
وہ بڑے حق سے, بڑے غرور سے… میرے دل میں رہتا ہے… اور میں منع بھی نہیں کر پاتی
12 اگست 2018
میں جب بھی اپنے اوپر نچھاور خدا کی رحمتیں گنتی ہوں تو زخرف کو دو دفعہ گنتی ہوں, پھر دس دفعہ, پھر سو دفعہ… اور پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ کم ہے
8 اکتوبر 2018
آج میں پہلی بار اس سے ملی, اس کا ہر ہر لفظ جیسے میرے دل میں اتر رہا تھا, اس سے مل کر واپس آئی تو میرا دل میرے پہلو میں نہیں تھا, وہ تو زخرف کی کہنیوں تک موڑی ہوئی آستینوں میں ہی کہیں پھنس گیا تھا, جھکی جھکی نظروں کے ساتھ دھیمی دھیمی مسکراہٹ میں ہی بہہ گیا تھا, گرے شرٹ کے اکڑے ہوۓ کالرز کے نیچے ہی دبا رہ گیا تھا
20 نومبر 2018
جنہیں ہم کہہ نہیں سکتے, جنہیں تم سن نہیں سکتے…!
وہی باتیں ہیں کہنے کی, وہی باتیں ہیں سننے کی…!
10 جنوری 2019
آخر آج حال دل کہہ ہی دیا ہے اسے… اٹکتے ہوۓ, ہچکچاتے ہوۓ
اور التجا بھی کر دی ہے کہ ساری عمر آپ کے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں… سمٹتے ہوۓ, کانپتے ہوۓ
اور بھلا اس نے کیا کہا ہے… ناممکن
21 مارچ 2019
وہ کسی اور سے محبت کرتا ہے… کیا اس سے زیادہ تکلیف دہ بات کوئی اور ہو گی میرے لیے
کسی اور سے…
20 مئی 2019
وہ میرے مسکرانے کی ایک وجہ ہے… جب کوئی وجہ نہیں ہوتی
11 جون 2019
بار بار اصرار کرتی ہوں… لیکن بس سن کر چپ ہو جاتا ہے, بہت عزت کرتا ہے… لیکن عزت بناتا نہیں ہے
21 اگست 2019
میں صرف آپ سے محبت کروں گی زخرف… جب تک آسمان ستاروں سے خالی نہیں ہو جاتا اور سمندر اپنی گہرائیوں میں خشک نہیں ہو جاتے… دوسرے لفظوں میں جب تک میں مر نہیں جاتی
10 جولائی 2019
آج پھر گزارش کی ہے… منت کی ہے, التجا کی ہے لیکن… وہ انکار کر گیا ہے
9 اکتوبر 2019
شائد میری سب سے بڑی غلطی تھی اس سے محبت کرنا.. اور اس سے بھی بڑی غلطی یہ سمجھ لینا کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرے گا
دونوں ہی نہیں سدھر سکتیں
18 دسمبر 2019
I don’t choose life, I choose Zukhruf, the life is just a part of that deal…
4 جنوری 2020
ایک اور سال گزر گیا… اس کی چاہتوں, مسکراہٹوں اور محبتوں میں پاگل ہوتے, اس کی یادوں میں نہال ہوتے, اس کے خوابوں میں زندہ رہتے… اور ایک اور سال آ گیا, اس سے التجائیں کرنے کے لئے, منتیں کرنے کے لئے, خدا سے اسے منانے کی دعائیں کرنے کے لئے…
6 فروری 2020
لوگ کہتے ہیں کہ محبت صرف ایک بار ہوتی ہے… بالکل غلط, میں اسے جتنی بار دیکھوں, اتنی بار ہی ہوتی ہے
13 فروری 2020
اس کی شادی طے ہو گئی ہے… اس کی شادی, کسی اور سے…
آہ… اس کی شادی… کسی اور سے
20 فروری 2020
آج پھر پوچھا ہے
No hope…?
اور اس نے کہا ہے
No…
وہ کہتا ہے مجھے اس سے کہیں زیادہ بہتر انسان ملے گا… کیا ہم اسلئے کرتے ہیں محبت کہ پھر اس کے بدلے کوئی بہتر انسان لے لیں… نہیں نا… کوئی ہے اس جیسا ؟ کوئی ہے اس سے بہتر ؟ نہیں… تو پھر میں کیوں لوں کوئی اس کے جیسا…یا اس سے بہتر ؟
اس کے بعد ڈائری کے صفحے خالی تھے, اس کی زخرف سے آخری بات کل شام ہوئی تھی, آج 21 فروری تھی… آج رات زخرف اور سائرہ کا نکاح تھا
“لو شایان… یہ کھانا بھی لے جاؤ, اور اسے کہنا کہ یاد سے کھالے, صبح بھی بس چاۓ کا ایک کپ پی کر چلی گئی ” نائلہ نے شاپر اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیا, انتہائی مشکل سے من من کے قدم اٹھاتا وہ گاڑی تک آیا تھا
“ماریہ… یہ کیا کیا تم نے ؟” غائب دماغی سی اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی
“کاش تم نے مجھے بتایا ہوتا ؟ کاش مجھے پتہ ہوتا… ؟” وہ سوچے جا رہا تھا
“ایک بار مجھ سے کہتیں تو سہی, پھر بے شک تمہیں رلانا ہی کیوں نہ پڑتا لیکن… میں تمہیں آغاز میں ہی روک لیتا” اس کا اپنا دل خون ہو رہا تھا
اس کی ڈائری سے صاف ظاہر تھا کہ اسے زخرف اور سائرہ کی کمٹمنٹ کا کوئی علم نہیں تھا اور یقیناً آج صبح اس پر یہ ہی حقیقت آشکارا ہوئی تھی
اسے ایک دم زخرف پر غصہ آیا, اسے ماریہ کو سٹارٹ میں ہی سب کچھ بتا دینا چاہیے تھا
“تمہیں وہ کسی طور نہیں مل سکتا تھا ماریہ… کسی طور نہیں, وہ تو نہ جانے سائرہ کو کس طرح ملا ہے… ” شایان کی آنکھوں کے آگے بار بار ماریہ کا زرد چہرہ آۓ جا رہا تھا, وہ اس کی حد سے زیادہ نازک حالت پر بہت پریشان تھا, اچانک اس کا سیل بج اٹھا, ہاسپٹل سے کال تھی
“ڈاکٹر شایان پلیز جلدی ہسپتال پہنچیں… ڈاکٹر ماریہ اپنے کمرے میں نہیں ہیں” نرس نے اس کے حواس گم کئے تھے
“کہاں گئیں وہ ؟” شایان کی گاڑی بے قابو ہوئی تھی
“آدھے گھنٹے پہلے میں جب ان کے کمرے میں گئی تو وہ اپنے بستر پر ہی تھیں لیکن ابھی تھوڑی دیر پہلے جب میں اورڈاکٹر وسیم انہیں دیکھنے کے لیے گئے تو وہ کمرے میں نہیں تھیں, پورا ہسپتال چھان مارا لیکن وہ کہیں نہیں ہیں ” رش ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ ہسپتال تک پہنچا تھا
“میں کہہ کر بھی گیا تھا کہ ان کا خیال رکھنا” وہ بری طرح وسیم پر برس پڑا
“ایم سوری شایان لیکن مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس حالت میں کہیں چلی جائیں گی” وسیم خود بہت پریشان تھا, ہاسپٹل ابھی نیا تھا اسلئے کیمراز سیٹ نہیں ہوۓ تھے, چوکیدار کنفرم نہیں تھا کہ ماریہ باہر گئی یا نہیں, شایان کی پریشانی سوا سیر ہو چکی تھی
“اگر اسے کچھ ہو گیا تو ؟” اس سے زیادہ وہ سوچ ہی نہیں پا رہا تھا, ماریہ کا سیل بھی اس کے کمرے میں ہی پڑا تھا, وہ انتہائی پریشانی کی حالت میں اپنے آفس میں چلا آیا
“کہاں جا سکتی ہے ؟” وہ سوچے جا رہا تھا, ایک بار پھر اس نے سائرہ اور زخرف کی شادی کے کارڈ کی طرف دیکھا
“کہیں سائرہ کی طرف تو نہیں چلی گئی ؟” کچھ سوچ کر اس نے سائرہ کا نمبر ملایا, رات کے نو بجنے والے تھے
“شایان بھائی دیکھ لیں آپ… ابھی تک ندارد ہیں, ایسے ہوتے ہیں بھائی” وہ اس پر چڑھ دوڑی
“کہاں ہو تم ؟” شایان نے پوچھا
“ہال… ” سائرہ نے کہا
“بارات تو نہیں آئی ابھی تک… ؟” اس نے پھر پوچھا
“نہیں… بس آنے والی ہے, اور وہ بد تمیز, بے وفا ڈاکٹرنی بھی نہیں آئی ابھی تک… کہیں ہسپتال ہی تو نہیں بیٹھی ہوئی ” یعنی ماریہ سائرہ کے پاس نہیں تھی, شایان ایک دم سیل کان سے لگاۓ باہر کو بھاگ لیا
“اچھا میں بس آ رہا ہوں” وہ بولا, تیز قدموں سے بھاگتے ہوئے وہ پارکنگ کی طرف آیا تھا
“دوستی کے نام پر سیاہ کالا دھبہ ہے یہ لڑکی… اسے تو دیکھ لوں گی میں” سائرہ نے کال کٹ کی تھی, شایان نے انتہائی سپیڈ سے گاڑی پارکنگ سے نکالی
اب بس ایک ہی جگہ بچی تھی جہاں وہ جا سکتی تھی
………………………
“زخرف بھائی کہاں ہیں ؟” وردہ کے چھوٹے بھائی نے آ کر ناعمہ کا کندھا ہلایا تھا
“پتہ نہیں… باہر ہو گا” ناعمہ خود کئی کاموں میں الجھی ہوئی تھی, بارات بس روانہ ہونے ہی والی تھی
“ان سے ملنے ایک لڑکی آئی ہے, اسے میں نے آپ کے کمرے میں بٹھا دیا ہے” وہ کہہ کر چلتا بنا
“لڑکی… ” ناعمہ کو اچنبھا ہوا تھا, وہ زخرف کو ڈھونڈتی ہوئی باہر نکل آئی, وہ اسے کئی لوگوں کے جھرمٹ میں کھڑا نظر آ گیا
“زخرف… ” ناعمہ نے اسے آواز دی تھی
“کیا ہوا… ؟” وہ بس نکلنے لگا تھا
“تم سے کوئی لڑکی ملنے آئی ہے… میرے کمرے میں بیٹھی ہے” ناعمہ نے کہا
“کون ہے ؟” زخرف کا دل ایک لمحے کے لئے ڈگمگا سا گیا
“پتہ نہیں… جاؤ جا کر دیکھو” ناعمہ نے کہا, وہ اس کے کمرے کی طرف چلا آیا
اس کی توقع کے عین مطابق وہ وہی تھی
ملگجا سا حلیہ… پیلی زرد رنگت… لرزتے ہوۓ لب… کانپتی ہوئی انگلیاں… کندھوں سے شال لپیٹے وہ وہی تھی
“ماریہ… ” زخرف سے بولا نہ گیا
“میں آج آپ سے ضد کرنے نہیں آئی زخرف… آپ کو مزید پریشان کرنے, یا تنگ کرنے, یا اپنی اذیتوں کا حال بیان کرنے, یا آپ کی مشکلات میں اضافہ کرنے بھی نہیں آئی… میں آج صرف آپ سے معافی مانگنے آئی ہوں حالانکہ… ” وہ چند لمحوں کے لئے رکی
“مجھے یہ معافی آپ کی ہونے والی بیوی سے مانگنی چاہیے” اس کا چہرہ گیلا ہوتا چلا گیا
“لیکن میں بہت بزدل ہوں زخرف… میرے اندر اتنی ہمت نہیں ہے کہ اس شفاف اور مخلص لڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر کہہ سکوں کہ میں پچھلے کئی سالوں سے تمہارے پیار پر اپنا حق جتاۓ جانے کی مجرم ہوں, تمہاری محبت کو چھین لینے کی ہر ممکن کوششیں کی ہیں میں نے, اس سے یہ سب نہیں کہہ سکتی زخرف اسی لئے آپ کے پاس آئی ہوں, پلیز مجھے معاف کر دیں, ہر چیز کے لئے… حالانکہ… مجھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا ” اس نے اپنے لرزتے ہوۓ ہاتھ زخرف کے آگے جوڑ دئے
“مجھے میرے رب کی قسم ہے زخرف مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اس کے ہیں, نہ کبھی اس نے بتایا… اور نہ آپ نے…کاش آپ مجھے شروع میں ہی سچ بتا دیتے, جب میں نے پہلی بار حال دل سنایا تھا تبھی کہہ دیتے کہ آپ میری بہترین دوست کا نصیب ہیں, میں اپنی محبت میں مر جاتی لیکن اس کے بعد آپ سے کچھ نہیں کہتی… ” وہ زار و قطار رو رہی تھی اور زخرف بس بے بس سا بیٹھا اس وفا کی دیوی کو تکے جا رہا تھا
“میں نہیں جانتی تھی کہ وہ آپ سے محبت کرتی ہے, آپ سے محبت کرتے ہوئے, آپ کے خواب دیکھتے ہوئے, آپ کو یاد کرتے ہوئے, آپ کی خاطر روتے ہوئے, آپ کو پانے کی دعائیں کرتے ہوئے مجھے نہیں پتہ تھا کہ میں اس کے حق پر ڈاکہ ڈال رہی تھی, مجھے تب بھی نہیں پتہ تھا جب آپ سے محبت ہوئی, تب بھی نہیں پتہ تھا جب اظہار کیا, تب بھی نہیں جب بار بار اصرار کیا… خدا کی قسم مجھے کل رات بھی نہیں پتہ تھا زخرف… ” وہ دھیرے سے اس کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی, شال کندھوں سے ڈھلک گئی تھی, دونوں ہاتھ جڑے ہوئے تھے, دونوں آنکھیں تو رہی تھیں
آب کی بار وہ محبت کی بجاۓ دوستی کو معتبر کرنے کی گزارش کر رہی تھی
“میں نے آج صبح دیکھا ہے ویڈنگ کارڈ… آج صبح پتہ چلا ہے مجھے کہ آپ میرے کیوں نہیں ہو سکے… کیونکہ آپ اس کا نصیب تھے جو شائد مجھ سے کہیں زیادہ بہتر اور پاکیزہ یے” زخرف نے اس کے پاس ہی نیچے فرش پر بیٹھتے ہوئے اس کا کپکپاتا ہوا وجود اپنے کندھے سے لگایا تھا, اپنے ایک بازو سے اس کے گرد حصار بنایا تھا
“مجھے اپنی بے کراں چاہت کا قسم ہے زخرف… آج کے بعد آپ میرا نام بھی نہیں سنیں گے, آج کے بعد میں کبھی آپ کے سامنے نہیں آؤں گی, آپ کو نہ چاہنا میرے دل کے اختیار میں نہیں ہے, آپ کو نہ دیکھنا میری آنکھوں کے اختیار میں نہیں ہے, آپ کو نہ سوچنا میرے ذہن کے اختیار میں نہیں ہے, میری نیندوں اور خوابوں کے اختیار میں نہیں ہے کہ آپ کو نہ دیکھیں لیکن… میں وہ سب ضرور کروں گی جو میرے اختیار میں ہے” اس کے الفاظ ٹوٹنے لگے تھے
“اپنے رب کے آگے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے آپ کو نہ مانگنا میرے اختیار میں نہیں ہو گا لیکن… میں پھر بھی چاہوں گی کہ میری وہ دعا کبھی قبول نہ ہو, اپنے خوابوں میں آپ کے سنگ سنگ چلنا میرے اختیار میں نہیں ہو گا لیکن میں پھر بھی چاہوں گی کہ میرے وہ خواب کبھی پورے نہ ہوں, مجھے آپ کی محبت میں پاگل ہوتے ایک ایک لمححے کی قسم ہے زخرف کہ جیسے میں نے آپ کو چاہا ویسے کبھی کوئی نہیں چاہے گا لیکن… میں پھر بھی چاہوں گی کہ سائرہ آپ کو مجھ سے بڑھ کر چاہے, میں اپنے وجود کے ہزاروں, لاکھوں ٹکرے بھی کردوں تو بھی آپ کو نہیں بھلا سکتی لیکن… ” اس کی آنکھیں بند ہوئی تھیں
“میں نے پھر بھی آپ کو بھلا دیا زخرف… آج سے, ابھی سے” بڑی ہمت کر کہ وہ اس سے الگ ہوئی تھی, زخرف کھڑ ہو گیا
“کاش تم مجھے پہلے ملی ہوتیں… یا کاش تم مجھے نہ ملی ہوتیں ماریہ… ” خود پر پوری طرح قابو پاتا ہوا وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا, ماریہ وہیں بیٹھی رہ گئی
محبت… درد… دکھ….ندامت…. ہر چیز سوا سیر ہو رہی تھی, بمشکل اٹھ کر وہ باہر آئی
زخرف کی بارات جا چکی تھی, وہ ہولے ہولے چلتی ہوئی اپنی گاڑی تک پہنچی
دل بیچارہ بھی تو ایک ہی ہے… وہ آخر کہاں تک سہے ؟
گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے دل کی برداشت ختم ہوئی تھی
وہ ایک دم دروازے کے ساتھ گر گئی
شایان نے اپنی فارم کی ونڈ سکرین میں سے اسے دیکھا تھا
“ماریہ… ” وہ دوڑتا ہوا اس کے قریب آیا
“ماریہ… ” اس کے آنکھیں بند ہو چکی تھیں, وہ اسے دونوں بازوؤں میں اٹھاۓ شفاء ہسپتال بھاگ لیا تھا
جاری ہے
…………………
