Zukhruf Meri Jan By Ayesha Zulifqar Readelle50160 Last updated: 14 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Zukhruf Meri Jan By Ayesha Zulifqar
ماریہ... " اس نے ایک دم چونک کر سائرہ کی طرف دیکھا "کب سے گلا پھاڑ رہی ہوں ؟ کہاں گم ہے ؟" سائرہ اس پر برس ہی پڑی "ساری رات نیند نہیں آئی, اب سر بھاری ہو رہا ہے" وہ چشمہ اتار کر کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ بولی تھی "یہ تیری نیندیں کہاں چھو منتر ہو گئیں ہیں آجکل... آۓ روز ہی تیرا سر بھاری رہنے لگا ہے, ماجرا کیا ہے ؟" سائرہ بغور اسے دیکھ رہی تھی "پتہ نہیں... میں جاؤں اب... ؟ باقی کل ڈسکس کر لیں گے" اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے سائرہ کے برابر میں بیٹھے شایان کی طرف دیکھا جو کب سے خاموش بیٹھا اسے دیکھے جا رہا تھا "ٹھیک ہے... جائیں ریسٹ کریں جا کر" شایان نے کہا, وہ خاموشی سے اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے کمرے سےباہر نکل گئی "ماریہ آجکل کچھ زیادہ ہی پریشان رہنے لگی ہے, پتہ نہیں کیا وجہ ہے ؟ یہ اپنی پریشانیاں کسی سے شئیر بھی تو نہیں کرتی ہے کہ چلو ذرا بوجھ ہی کم ہو جاۓ" سائرہ نے کہا "کبھی کبھی مجھے بڑا ترس آتا ہے ماریہ پر... ماں, باپ اور بہن بھائیوں کے ہونے کے باوجود وہ بالکل تنہا ہے... میرا دل کرتا ہے میں اس کی ساری پریشانیاں حل کر دوں, اس سے زیادہ بے لوث اور پر خلوص لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی" ماریہ اور وہ نہ صرف آپس میں کلاس فیلوز تھیں بلکہ پچھلے دو سال سے ایک ساتھ شایان کے کلینک پر کام کر رہی تھیں... سائرہ کو وہ خاموش طبع اور نفیس سی لڑکی بہت عزیز تھی, شایان چپ چاپ اس کا "ماریہ نامہ" سنتا رہا "آپ ہی پوچھ لیں اس سے کہ کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ ؟" اس کی توپ ک ارس ایک دم شایان کی طرف ہو گیا "تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے نہیں پوچھا ہو گا ؟" شایان نے کہا "تو پھر ؟" وہ آگے کو ہوئی "تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس نے مجھے بتا دیا ہو گیا ؟" شایان نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا, وہ برا سا منہ بنا کر پیچھے کو ہو گئی "یہ ماریہ بھی نا بالکل آپ جیسی ہے, انڈر ہی اندر گھلتی رہے گی لیکن اپنے مسائل کسی سے شئیر نہیں کرے گی" سائرہ جیسے زچ ہو کر بولی, شایان دھیرے سے مسکرا دیا "اور آپ مجھے یہ بتائیں کہ گھر کا چکر لگاۓ کتنی صدیاں گزر چکی ہیں ؟" وہ اس پر چڑھ دوڑی, شایان اپنے دونوں کان لپیٹ کر سامنے پڑی فائلوں میں میں غرق ہو گیا "میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے ؟ پرسوں روحان کی سالگرہ ہے اور آپ آ رہے ہیں سمجھے نا... " سائرہ نے اس کے سامنے سے ساری فائلیں ایک طرف کر دیں "اچھا دیکھوں گا... " شایان نے جان چھڑوانی چاہی تھی "میں بتا رہی ہوں اگر آپ پرسوں نہ آۓ تو میں نے بھی آپ کے کلینک پر نہیں آنا... چپ چاپ شفاء ہاسپٹل جوائن کر لینا ہے, دو بار بلا چکے ہیں وہ مجھے... " سائرہ نے جیسے اسے وارننگ دی تھی "مما بھی اداس ہو گئی ہیں... " اس نے ایک نظر شایان کی طرف دیکھتے ہوئے آخری وار کیا تھا... ایموشنل وار "روز پوچھتی ہیں آپ کا ؟" وہ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کھڑی ہو گئی "کہا تو ہے... دیکھوں گا" شایان نے وعدہ ابھی بھی نہیں کیا تھا, وہ بس ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی "گھر... " اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی "میں تمہیں کیسے سمجھاؤں سائرہ کہ وہ میرا گھر نہیں ہے...وہ میری ماں کا گھر ہے, وہ تمہارے باپ کا گھر ہے... وہ تمہارا گھر ہے لیکن... میرا گھر نہیں ہے" اس نے دونوں أنکھیں موند لیں
