No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
وہ ابھی کمرے میں آیا ہی تھا کہ پیچھے ہی مومنہ چلی آئی, اسے شعیب ملک کا بلاوا آیا تھا
“خیر تو ہے ؟” اس نے مومنہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا, وہ کندھے اچکا کر واپس چلی گئی
“کیا ہوا ہے ؟” وہ بیڈ پر بیٹھی سائرہ کی طرف مڑا تھا, اس نے بالکل مومنہ کے انداز میں کندھے اچکا دئیے, زخرف ایک لمبی سانس بھرتے ہوۓ کمرے سے نکل گیا,
سائرہ کو ایک بے چینی سی لگ گئی, آجکل اسماء اور ناعمہ دونوں کی حرکتیں کچھ مشکوک سی ہو گئی تھیں, اسے دیکھتے ہی سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگتیں اور جیسے ہی وہ قریب جاتی, خاموش ہو جاتیں, مومنہ بھی اکثر اسے دیکھ کر مسکرانے لگ جاتی تھی, اب بھی اسے زخرف کا انتظار کرتے کرتے کافی دیر ہو گئی, تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ واپس کمرے میں آیا اور ستے ہوۓ چہرے کے ساتھ آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گیا
“مجھے تو بتا دو کیا ہو ا ہے ؟” سائرہ اس کے قریب آئی تھی
“ایک کپ چاۓ پلا دو پلیز… ” زخرف نے دھیرے سے کہا, وہ ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے چپ چاپ نیچے چلی گئی, شعیب ملک کے کمرے کا دروازہ بند تھا, چاۓ بنا کر واپس آئی تو زخرف ابھی تک ویسے ہی لیٹا ہوا تھا
“چاۓ… ” اس نے دھیرے سے کہا, وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
“کیا کہا انکل نے ؟” وہ اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
“کچھ نہیں یار… بس فارغ دماغ شیطان کا گھر ہوتے ہیں” وہ بولا
“پھر بھی… ” سائرہ کی جان پر بنی ہوئی تھی
“دوسری شادی کا شوشہ چھوڑا ہے اور کیا… ” وہ کہہ ہی گیا, لمحہ لگا تھا سائرہ کی آنکھیں نم ہونے میں, وہ بس خاموش رہ گئی, بول ہی نہ سکی
“سائرہ… میری بات سنو” زخرف نے خالی کپ میز پر رکھتے ہوۓ اسے گلے سے لگایا
“مجھے نہ تو ایک ہی بات بار بار کہنے کی عادت ہے اور نہ ہی سننے کی…میں آج پہلی اور آخری بار کہہ رہا ہوں تم سے کہ میری دنیا تم سے شروع ہو کر تمہی پہ ختم ہو جاتی ہے, میں بہت خوش ہوں تمہارے ساتھ… صرف میں اور تم… ہمیشہ, تیسرا کوئی نہیں” وہ بہت محبت سے اس کے آنسو صاف کرتا جا رہا تھا
…………………
اس دن سائرہ کی نائیٹ ڈیوٹی تھی سو ماریہ ذرا جلدی گھر آ گئی, تقریباً مغرب کے بعد کا وقت تھا جب اسے سائرہ کی کال آئی
“ایمرجنسی کےمریضوں کی چارج شیٹ نہیں مل رہی, تمہارے پاس تو نہیں ہے ؟” اس نے پوچھا
“میرے پاس کہاں سے آئی… وہیں ہو گی, میرے آفس میں دیکھ لو” ماریہ نے کہتے ہوئے یونہی اپنا بیگ کھول لیا, وہ چارج شیٹ اس میں رول ہوئی پڑی تھی
“اوہ سوری یار… وہ میرے بیگ میں ہی ہے, کل شائد غلطی سے میں نے رکھ لی ہو گی” ماریہ تھوڑی شرمندہ ہو گئی
“اب اس کا اچار بنا کر کھا جا… لاپرواہ عورت” سائرہ کو اس پر شدید غصہ آیا
“اچھا اب کیا کرنا ہے ؟” ماریہ کو ہنسی آ گئی
“میں نے آدھے گھنٹے تک گھر کا چکر لگانا ہے, واپسی پر لے لیتی ہو تجھ سے, تو اتنی دیر بیٹھ کر ہنستی رہ… ” سائرہ کو اس کی ہنسی کی آواز سنائی دے گئی تھی, ماریہ نے مسکراتے ہوئے کال کاٹ دی
پورے آدھے گھنٹے بعد وہ اس کے گھر کے دروازے پر تھی
“کیسی ہو سائرہ ؟ اب تو شکل ہی نہیں نظر آتی ” نائلہ نے بڑی محبت سے اسے گلے لگایا تھا
“بس آنٹی کیا کروں ؟ سسرال والی جو ہو گئی ہوں ” سائرہ نے کہا
“ماریہ کہاں ہے ؟” اسے جلدی تھی
“اوپر ہو گی… اپنے کمرے میں” نائلہ کے کہتے ہی وہ اوپر آ گئی, جلدی میں اس نے دروازہ ناک کرنے کی بجاۓ یونہی کھول لیا, ماریہ کمرے میں نہیں تھی, واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی, چارج شیٹ اس کے بستر پر پڑی تھی, سائرہ نے آگے بڑھ کر وہ چارج شیٹ اٹھائی اور پلٹی, پھر یکدم ٹھٹھک گئی اور مڑی
ماریہ کے تکئے کے نیچے سے ایک چھوٹا سا کارڈ باہر جھانک رہ تھا
دماغ نے کہا کہ… پلٹ جاؤ
لیکن دل نے کہا کہ… رک کر دیکھ لو
اور اس نے دھیرے سے تکیہ ہٹا دیا, وہاں ایک چھوٹا سا ٹیڈی بئر بھی تھا
سائرہ کے ذہن میں ایک دم جھماکہ سا ہوا
“وہ ہینڈ رائیٹنگ… ” اس نے جلدی سے اپنے بیگ سے وہ کارڈ نکالا
وہ ہینڈ رائیٹنگ ماریہ کی ہی تھی
سائرہ سن کھڑی رہ گئی, ذہن دھواں دھواں ہو رہا تھا, اس سے پہلے کہ ماریہ واش روم سے باہر نکلتی, وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی
……………..
وہ کب سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاۓ آنکھیں موندے بیٹھی تھی
اچھا ایک بات تو بتاؤ… ” اسے زخرف کی آواز سنائی دی
“تم نے کسی کو میری اور اپنے رشتے کے بارے میں بتایا ہے کیا ؟”
“پہلے یہ بتاؤ کہ میرا اور تمہارا کیا رشتہ ہے زخرف… ؟” یہ اس کی اپنی آواز تھی
“تم میرے چچا کی بیٹی ہو”
“یہ تو سب کو پتہ ہے… “
“اور تم ڈاکٹر زخرف ملک سے پیار کرتی ہو… “
“یہ بھی سب کو پتہ ہے… ” سائرہ نے اسے گھورا
“تمہاری بیسٹ فرینڈ کو بھی پتہ ہے کیا ؟” زخرف نے پوچھا تھا
“زخرف نہ جانے مجھ سے کیا کچھ چھپا کر بیٹھا ہے… اور نہ جانے کب سے چھپا کر بیٹھا ہے ؟” وہ سوچے جا رہی تھی
جس دن وہ اپنا ویڈنگ کارڈ لیکر گئی, ماریہ اس دن بھی بستر سے لگی ہوئی تھی
“تو کیا ماریہ زخرف سے… ؟” اس سے آگے اس سے سوچا ہی نہ گیا
وہ اس کی شادی پر بھی نہیں آئی تھی
“اور وہ بے وفا لڑکی, اپنی ضد کی پکی… دیکھ لیں نہیں آئی نا… ” اسے ایک بار پھر اپنی آواز سنائی دی
“اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی, ورنہ ضرور آتی” شایان کی آواز پر اس نے آنکھیں کھول دیں
“تو وہ کارڈ, اور ٹیڈی بئر ماریہ نے زخرف کو دیا…” سوچ سوچ کر اس کا دماغ شل ہو رہا تھا, صبح ماریہ کے آنے سے پہلے ہی وہ گھر چلی گئی, سارا دن بس کمرے میں ہی گھسی رہی, رات کو زخرف اس کے پہلو میں آ کر لیٹا تو اس نے دھیرے سے اسے پکار لیا
“زخرف… “
“ہاں… بولو” زخرف نے اس کی طرف کروٹ لے لی, سائرہ کچھ دیر اس کے چہرے کی طرف دیکھتی رہی پھر اپنے بیگ سے کارڈ اور ٹیڈی بئر نکال کر اس کے سامنے رکھ دئے, زخرف سن رہ گیا تھا
“یہ تمہیں کہاں سے ملا ؟” اس نے پوچھا
“یہ تمہیں کس نے دیا ؟” سائرہ نے جواباً پوچھ لیا, زخرف بول نہ سکا
“میں یہ ہینڈ رائٹنگ پہچان گئی ہوں زخرف… ” اس نے ہولے سے کہا
“تو پھر مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو ؟” زخرف اٹھ کر بیٹھ گیا
“مجھے کیوں نہیں بتایا ؟” سائرہ کی آنکھیں بھیگ گئیں
“کیونکہ میرے خیال سے یہ کوئی اہم بات نہیں تھی ” زخرف نے کہا
“زخرف وہ لڑکی آج تک تمہارے لئے یہ کارڈز اور ٹیڈی بئرز خرید رہی ہے اور تمہارے لئے یہ اہم بات نہیں تھی ” سائرہ کی آواز اونچی ہو گئی
“ہاں… کیونکہ اس کے بعد اس نے مجھے کبھی کچھ نہیں بھیجا, وہ کیا خریدتی ہے اور کس کے لئے خریدتی ہے میرا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے” زخرف نے اپنی حیرانی کو پوری طرح چھپا لیا تھا
“وہ تم سے پیار کرتی تھی زخرف… وہ آج بھی تم سے پیار کرتی ہے, وہ آج تک صرف تمہارے لئے تنہا ہے” سائرہ کی آنکھیں بھیگ گئیں
“دیکھو سائرہ… پیار وہ کرتی تھی میں نہیں, میں نے کبھی اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی, ہمیشہ اسے انکار ہی کیا… وہ میرے اور تمہارے رشتے کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی اسی لیے تب میں نے تم سے پوچھا تھا لیکن جب اسے پتہ چلا… تو چپ چاپ پیچھے ہٹ گئی, پانچ سال ہو گئے ہیں اس بات کو ختم ہوۓ” زخرف نے کہا
“کاش کے پانچ سالوں میں یہ بات ختم ہو گئی ہوتی… “سائرہ نے اپنی آنکھیں رگڑیں
“وہ تمہیں آج تک نہیں بھولی, وہ تمہیں پتہ نہیں کب سے چاہ رہی ہے اور نہ جانے کب تک چاہے گی” زخرف چپ رہا
“صرف تمہاری خاطر وہ نہ جانے کتنی ہی بار شایان کو ٹھکرا چکی ہے” سائرہ کہتی چلی گئی
“ہمارے نکاح والی رات وہ ہسپتال میں تھی زخرف… مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس رات اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا… بھلا کیوں ؟ کیونکہ تم اس سے چھن گئے تھے ” زخرف کی بس ہو گئ
“فار گاڈ سیک سائرہ… بس کرو, خود بھی سو جاؤ اور مجھے بھی سونے دو” وہ کروٹ بدل کر لیٹ گیا تھا
……………..
“کل تم چوروں کی طرح آئیں اور چوروں کی طرح ہی چلی گئیں… میں بعد میں کال بھی کرتی رہی لیکن تم نے سنی ہی نہیں… ” ماریہ نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا جو بڑی دیر سے خاموش بیٹھی بغور اسے دیکھے جا رہی تھی
“ہیلو… کیا ہوا ہے ؟” ماریہ نے س کے آگے ہاتھ لہرایا تھا
“ایسے کیوں پوسٹ مارٹم کر رہی ہو میرے چہرے کا ؟” وہ مسکرائی
“دیکھ رہی ہوں کہ تم مجھ سے کتنی بڑی بڑی باتیں چھپا جاتی ہو” سائرہ کے کہتے ہی وہ چونک گئی
“اب کیا چھپایا ہے میں نے تم سے ؟” وہ بولی, سائرہ نے ایک دم وہ کارڈ اور ٹیڈی بئر نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا
“یہ چھپایا ہی تم نے مجھ سے ڈاکٹر ماریہ خان… ” سائرہ نے کہا, ماریہ اس سے نظریں نہ ملا سکی
“اور اس کے لئے میں تمہارے شوہر سے معافی مانگ چکی ہوں” ماریہ نے کہا
“مجھ سے تو نہیں مانگی نا تم نے معافی…حالا نکہ چیٹ تو تم مجھے کر رہی تھی ” سائرہ کی آواز اونچی ہو گئی
“میں نے کبھی تمہیں چیٹ نہیں کیا سائرہ… لیکن اگر پھر بھی تمہیں لگتا ہے کہ مجھے تم سے معافی مانگنی چاہیے تو… ایم سوری” ماریہ نے دونوں ہاتھ اس کے آگے جوڑ دئے
“کس مٹی کی بنی ہو تم… ؟” سائرہ پھٹ پڑی
“مجھے تو بتاتیں… میں دوست تھی تمہاری ؟” وہ رو رہی تھی
“جب اسے دیکھا, نہیں پتہ تھا کہ تمہارا ہے, جب اس سے محبت ہوئی, تب بھی نہیں پتہ تھا کہ تمہارا ہے, جب جب اس محبت کا اظہار کیا, جب جب اس کا انکار سنا… تب تب نہیں پتہ تھا کہ تمہارا ہے… لیکن جب پتہ چلا کہ وہ تمہارا ہے تو پروردگار کی قسم کبھی مڑ کر اسے نہیں دیکھا” ماریہ کہتی چلی گئی
“تم مجھے بہت عزیز ہو سائرہ…تمہاری دوستی اس قابل تھی کہ میں اپنی محبت اس پر قربان کر دیتی اور… میں نے کر دی” ماریہ نے کہا
“تو آج تک خود کیوں تنہا ہو ؟ کیوں اپنی زندگی میں خوشیوں کو داخل نہیں ہونے دیتیں ؟ کیوں شایان کا انتظار ختم نہیں کر دیتیں ؟” ماریہ کے پاس اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا
“کیونکہ تم آج بھی زخرف سے پیار کرتی ہو… ” سائرہ کی بات پر وہ ایک دم کھڑی ہو گئی
“تم آج کے بعد مجھ سے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرو گی, پانچ سال ہو گئے ہیں مجھے یہ قصہ ختم کئے…اب یہ بکواس دوبارہ نہ کرنا” وہ انتہائی سخت لحجے میں کہتی ہوئی باہر نکل گئی تھی
…………..
کچھ دنوں بعد اس نے شایان کو گھیر لیا اور ایموشنل بلیک میل کر کر کہ اس سے سچ اگلوا ہی لیا
“مجھے بھی تمہارے نکاح والی رات ہی حقیقت کا ادراک ہوا تھا, میں نے وہ ساری رات اس کے سرہانے بیٹھا کر کاٹی تھی لیکن… میں اس بات کا گواہ ہوں کہ وہ اسی رات زخرف کی زندگی سے نکل گئی تھی اور گزرے پانچ سال بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اس کے بعد ماریہ خان نے کبھی دوبارہ زخرف کی زندگی میں پلٹنے کی کوشش نہیں کی” شایان کہتا چلا گیا, سائرہ خاموش ہو گئی
اب اسے ماریہ پر غصہ بھی آتا اور ترس بھی… وہ آخر کو اس کی دوست تھی, صرف اس کی وجہ سے ماریہ آج تک خوشیوں سےدور تھی, آج تک تنہا تھی, اس کا بس چلتا تو ماریہ کی زندگی لمحوں میں مسکراہٹوں سے بھر دیتی لیکن… یہ بھی ایک تکلیف دی حقیقت تھی کہ ماریہ کی مسکراہٹوں کی وجہ زخرف تھا… اس کا شوہر…وہ کیسے اسے دے دیتی ؟
اس دن کے بعد سے ماریہ نے اس سے بات کرنا انتہائی کم کر دی تھی, وہ شائد خود کو مجرم گردانے جا رہی تھی
ایک طرف یہ پریشانی… اور دوسری طرف گھر کا تناؤ
زخرف کی دوسری شادی کی باتیں اب کھلے عام ہونے لگی تھیں, رخسانہ ملک وردہ کے بعد اپنی دوسری بیٹی زخرف کے نام کرنے کو تیار تھیں, آۓ روز وہ شعیب ملک کے سامنے بیٹھی ہوتی تھیں
اس دن سائرہ اور زخرف کی ویڈنگ اینورسری تھی
ان کی شادی کو پورے پانچ سال ہو چکے تھے
سائرہ ارغوانی رنگ کی ریشمی ساڑھی زیب تن کئے آئینے کے سامنے کھڑی تھی, وہ دونوں کچھ دیر پہلے ہی ڈنر کر کہ واپس آۓ تھے, زخرف نے بڑے حق سے اس کی گردن پر سے بال ایک طرف کو کئے اور وہ نفیس کا نیکلس اس کی گردن میں پرو دیا
“آئی لو یو… ہمیشہ سے ہمیشہ تک… ” اس نے اپنے دونوں بازو سائرہ کے کندھوں کے گرد باندھتے ہوئے اس کے کانوں میں سرگوشی کی تھی, نہ جانے کیوں سائرہ کی آنکھیں نم ہو گئیں, زخرف اس کی گردن کو اپنے لبوں سے چومتا جیسے مدہوش ہوتا جا رہا تھا
“زخرف… ” سائرہ نے دھیرے سے اسے پکارا
“بولو میری جان… ” زخرف اسے دونوں بازوؤں میں اٹھا چکا تھا
“میری ایک بات مانو گے ؟” سائرہ بمشکل اس کی یورش کے آگے ڈٹی ہوئی تھی
“کہو… ” زخرف کے لب انگلیاں بنتے جا رہے تھے
“تم ماریہ سے شادی کر لو… ” سائرہ کے کہتے ہی جیسے وہ ہوش کے دنیا میں واپس آیا تھا
“یہ کوئی وقت ہے اسقدر فضول بکواس کرنے کا ؟” وہ تپ گیا
“زخرف میری بات سنو… ” سائرہ نے کہا
“نہیں تم میری بات سنو, مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی.. اور کبھی بھی نہیں کرنی, خبردار جو آج کے بعد اتنی فضول بات کی تو” اس کا سارا خمار ہی اڑنچھو ہو گیا تھا
“زخرف ایک نہ ایک دن تو یہ ہو گا نا… تم آخر کب تک اپنے ماں باپ کے آگے ڈٹے رہو گے ؟ ایک نہ ایک دن مجبور ہو ہی جاؤ گے, کسی نہ کسی کو تو لیکر آؤ گے نا اس گھر میں… تو اسے ہی لے آؤ جو قطرہ قطرہ ہو کر مر رہی ہے تمہارے لئے ؟” سائرہ کی آنکھیں بھیگ گئیں
“میرے اور تمہارے بیچ آ جاۓ گی وہ سائرہ… یہاں, اس جگہ بیٹھا کرے گی وہ جہاں تم بیٹھی ہو, میرے اتنے ہی قریب ہوا کرے گی وہ جتنے قریب تم ہوتی ہو, اسے یونہی چھوا کروں گا میں جیسے تمہیں چھوتا ہوں… برداشت کر لو گی تم ؟” زخرف نے اس پر پوری طرح حقیقت آشکارہ کی تھی
“وہ تو شاید برداشت ہو جاۓ لیکن… کوئی اور برداشت نہیں ہو گی زخرف, وہ میری دوست ہے, شائد کہیں نہ کہیں مجھ پر ترس کھا ہی لیا کرے گی” سائرہ نے کہا
“تمہیں کیا لگتا ہے وہ مان جاۓ گی… ؟ نہیں, کبھی بھی نہیں… اور بالفرض اگر وہ مان بھی جاۓ تو گھر والوں کو کیسے مناؤ گی؟” زخرف سے زیادہ بہتر بھلا اور کون جانتا تھا اس کے گھر والوں کو
“میں منا لوں گی انہیں… ” سائرہ نے کہا
“تو چلو پھر پہلے انہیں منا کر دکھاؤ… پھر ماریہ کو منا کر دکھاؤ… پھر مجھ سے بات کرنا” زخرف نے جیسے اسے چیلنج کیا تھا, اسے پورا یقین تھا کہ گھر والے کسی صورت نہیں مانیں گے, اور نہ ہی ماریہ راضی ہو گی سو کچھ دنوں بعد سائرہ خود ہی خاموش ہو کر بیٹھ جاۓ گی لیکن.. دوسری طرف بھی آخر سائرہ زوہیب تھی… زوہیب ملک کا خون, ضدی اور اڑیل خون… وہ بالکل اپنے باپ کی طرح شعیب ملک کے سامنے ڈٹ گئی
دراصل اب بھی اسے ماریہ یا اس کی محبت سے کوئی سروکار نہیں تھا, اب بھی وہ صرف اپنے بارے میں سوچ رہی تھی, وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر زخرف کی شادی اپنی پھپھو زاد کزن سے ہو گئی تو وہ لڑکی ہمیشہ کے لئے اس کے سر پر بیٹھ جاۓ گی, ایک تو خاندانی اوپر سے صاحب اولاد… ذرا لحاظ نہیں کرے گی وہ اس کا, گھر والے پوری طرح اس کے ساتھ ہوں گے اور زخرف… وہ آخر کب تک اس کی ڈھال بنا رہے گا, ایک نہ ایک دن بیگانہ ہو ہی جاۓ گا, لیکن اگر زخرف کی شادی ماریہ سے ہو جاۓ تو دو فائدے ہوں گے, ایک یہ کہ ماریہ ہمیشہ اس کی احسان مند رہے گی, ہمیشہ اس کے سامنے سر جھکا کر رہے گی اور دوسرا یہ کہ گھر والے کبھی ماریہ کو اس کے برابر کا درجہ نہیں دیں گے, وہ ہمیشی بیگانی ہی رہے گی… بالکل اس کی ماں کی طرح… ابھی تو زخرف اس کے ساتھ تھا, اس کی اجازت کے بنا وہ کسی سے شادی نہ کرتا لیکن… آخر کب تک ؟ یہ ہی سب سوچتے ہوئے اس نے انتہائی خود غرضی سے اپنی مہم کا آغاز کر دیا
سب سے پہلا مرحلہ گھر والوں کو راضی کرنا تھا
سو اس نے شعیب اور اسماء کے سامنے ماریہ کا نام رکھ دیا
“اگر زخرف کی دوسری شادی کرنی ہی ہے تو ماریہ سے کر دیں ورنہ میں اسے کسی اور سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دوں گی” اس نے ببانگ دہل کہا تھا
ڈاکٹر ماریہ خان… ایک غیر برادری کی لڑکی…
پورا خاندان اس کے خلاف کھڑا ہو گیا اور وہ بالکل اپنے باپ کی طرح جم گئی… زخرف کی طرح جم گئی
“اگر زخرف دوسری شادی کرے گا تو صرف ماریہ سے… ورنہ نہیں” اس نے اسماء ملک کے سامنے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا
زخرف نے اس کی طرف سے بالکل ہی کان لپیٹ لئے, اسے یہ جنگ ایک بار ہی لڑ کر اندازہ ہو گیا تھا کہ جیتنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر تھے
“یہ تم کیا کرتی پھر رہی ہو سائرہ ؟” حفصہ اس کی حرکتوں سے بہت پریشان تھیں
“اپنا مستقبل بچانے کی کوشش کر رہی ہوں… کر لینے دیں ” سائرہ نے انہیں خاموش کروا دیا, اڑتی اڑتی خبر شایان تک بھی پہنچ گئی لیکن اس نے بھی زخرف کی طرح چپ رہنا ہی مناسب سمجھا
“وہ لڑکی کسی صورت اس گھر میں نہیں آۓ گی ” شعیب ملک نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا
“بس تو پھر زخرف کی نسل کو مٹتے ہوۓ دیکھ لیجئے گا” اسماء ملک کے کلیجے کو ہاتھ پڑ گیا تھا
حالات عجیب سے عجیب تر ہو گئے
سائرہ اپنی ضد پر اڑ گئی… شعیب اور اسماء نے حتی المقدور زخرف کو گھیرنے کی کوشش کی لیکن وہ تو سرے سے دوسری شادی سے ہی انکاری تھا, پہلے تو اس کا سارا دن ہی ہسپتال میں گزرتا تھا, اب راتیں بھی وہیں گزرنے لگیں, اس نے گھر آنا ہی چھوڑ دیا
سائرہ اور گھر والوں کا سامنا کرنا ہی چھوڑ دیا, اسے پورا یقین تھا کہ بس کچھ دن اور… پھر سائرہ ہار جاۓ گی
اور شائد سائرہ ہار ہی جاتی اگر یہ زخرف کی پہلی شادی ہوتی… برادری کا نام تو تب قائم دائم رہے گا نا جب نسل برقرار رہے… اگر نسل ہی مٹ جاۓ تو کیسی برادری… اور کیسا مقام ؟
“شعیب… نسل تو باپ سے چلتی ہے نا… ماں سے تو نہیں, زوہیب نے اگر حفصہ سے شادی کی تو اس سے برادری کون چھین پایا ہے آج تک…؟ وہ آج بھی زوہیب ملک ہے… اس کی بیٹی آج بھی سائرہ ملک ہے” اس رات اسماء ہار سی گئیں
پورے آٹھ ماہ سائرہ ڈٹ کر لڑتی رہی, زخرف نے اس کا ذرا سا بھی ساتھ نہ دیا… اور پھر
معجزہ ہو ہی گیا
شعیب ملک اپنی نسل کو مٹتے ہوۓ نہ دیکھ سکے
اسماء ملک اپنے اکلوتے لخت جگر کو بے اولاد نہ دیکھ سکیں
“اس لڑکی کو بلاؤ… مجھے پہلے خود اس سے بات کرنی ہے” اس رات شعیب ملک ہار گئے…. اور سائرہ اپنی تمام تر خود غرضی کے ساتھ جیت گئی
………………
اب دوسرا مرحلہ ماریہ کو راضی کرنا تھا, اس نے صحیح معنوں میں سائرہ کو دن میں تارے دکھا دئے
“خبردار جو اب یہ بکواس کی تو… ” وہ ہتھے سے ہی اکھڑ جاتی تھی
“تم آج بھی زخرف سے پیار کرتی ہو… ” ماریہ کا بس نہ چلتا کہ اس بات پر سائرہ کا سر پھاڑ دے, وہ بس اس کی ہر بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی, پورے چھ ماہ وہ اسے مناتی رہی
اسے اس کی ماضی کی محبت یاد کروائی, اسے اس کی زندگی کے سونے پن کا احساس دلایا, آنے والی زندگی کی خوشیاں دکھائیں, ایموشنل بلیک میل کیا, اپنی مجبوریوں کی فہرستیں گنوائیں لیکن… اس کا ہر حربہ ناکام گیا
“بس یہ ہی تمہارا پیار ہے زخرف کے لئے… ؟ اب اگر اسے تمہاری ضرورت ہے تو یوں پیچھے ہٹ جاؤ گی ؟” سائرہ نے کہا
“سائرہ… ” ماریہ بے بس ہو گئی
“پتہ چل گیا ہے مجھے کہ تم بدلہ لے رہی ہو زخرف سے… ہے نا… ؟ تب اس نے ٹھکرا دیا… اور اب تم ٹھکرا رہی ہو” ماریہ کے دل پر وار ہوا تھا
“بدلہ… وہ بھی زخرف سے… نہیں, نہیں” وہ سن رہ گئی
“تو کیا میں واقعی زخرف کو ٹھکرا رہی ہوں ؟” وہ سوچتی رہ گئی تھی
جاری ہے
……………….
