No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ جیسے ہی آپریشن تھیٹر سے باہر نکلا, وارڈ بوائے نے اطلاع دے دی کہ اسے ڈاکٹر ولید نے یاد کیا ہے, فریش ہو کر وہ ان کے آفس کی طرف چلا آیا
“آؤ زخرف… میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا ” وہ اسے دیکھ کر خوشدلی سے بولے اور سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کر دیا
“خیریت ہے سر ؟” وہ کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا
“زخرف پھر کیا فیصلہ کیا ہے ڈاکٹر سائرہ نے ؟ وہ ہمیں جوائن کریں گی یا نہیں ؟ ڈاکٹر عنبرین کو اس وقت شدت سے ایک عدد ساتھی گائناکالوجسٹ کی ضرورت ہے” ڈاکٹر ولید نے کہا
“سر میرا نہیں خیال کہ وہ یہاں آئیں گی, وہ اور ڈاکٹر ماریہ آپس میں کلاس فیلوز ہیں, اور وہ وہیں جائیں گی جہاں ڈاکٹر ماریہ ہوں گی” زخرف مسکراتے ہوئے بولا
“ہوں… آ جاتیں تو اچھا تھا, یہ ڈاکٹر ماریہ وہی ہیں جو KEMU سے گولڈ میڈلسٹ ہیں ؟” انہوں نے پوچھا
“بالکل… دی کارڈیالوجسٹ ماریہ خان” زخرف دھیرے سے مسکرایا تھا
“چاۓ لو گے ؟” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا
“ضرور… ” زخرف نے کہا, انہوں نے چپڑاسی کو چاۓ لانے کا کہہ دیا
“سنا ہے شایان ہاسپٹل بنانے کی تیاریوں میں ہے ” ڈاکٹر ولید نے کہا
“جی… اقبال روڈ کی پچھلی طرف بلڈنگ لی ہے اس نے, کافی زبردست لوکیشن ہے” زخرف نے کہا
“اور کون ہے اس کے ساتھ ؟” انہوں نے پوچھا, چاۓ آ گئی تھی
“وہی… KEMU کی گولڈ میڈلسٹ… ” اب کے ڈاکٹر ولید چونکے تھے
“واقعی… ؟” انہیں یقین نہ آیا
“جی… شایان, ماریہ اور سائرہ… مقابلہ ٹکر کا ہونیوالاہے” زخرف دھیرے سے مسکرایا
“یہ شایان کے بارے میں کیا راۓ ہے تمہاری ؟” انہوں نے پوچھا
“نو کمنٹ… پانچ سال وہ اور میں اے ایم سی میں کلاس فیلو رہے ہیں لیکن میں آج تک اس کے بارے میں زیادہ نہیں جان پایا, وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اپنے خول میں کسی کو سوراخ کرنے ہی نہیں دیتے… مجھے یاد ہے ہم اسے کیا کہا کرتے تھے… مسٹر چپ چاپ… ” زخرف نے کہا
“ہوں… چلو دیکھتے ہیں کہ کیا طوفان آتا ہے” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
…………………..
“میرا ارادہ ہے کہ ہم لوگ آفسز اوپر شفٹ کر لیں گے اور وارڈ اور آپریشن تھیٹر نیچے… کیا خیال ہے تمہارا ؟” شایان نے پوچھا
“جی ٹھیک ہے… ویسے بھی سٹریچرز اوپر لیکر جانا مشکل ہو جاتا ہے” ماریہ نے کہا
“گیٹ کے بالکل ساتھ میڈیکل سٹور, کینٹین اور پارکنگ… وغیرہ” شایان کہتا چلا گیا, ماریہ نے پورے جوش سے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی, شایان کو آج بڑے دنوں بعد وہ نارمل لگی, یہ ہاسپٹل اس سے زیادہ ماریہ کا جنون تھا, یہ ان دونوں کی کامیابیوں کی آخری سیڑھی تھا, شام تک شایان کو اس عمارت کی مکمل چابیاں مل گئیں, سب کچھ طے کر کے وہ دونوں وہاں سے باہر نکلے تو سورج غروب ہو رہا تھا
“کلینک چلو گی یا گھر چھوڑ دوں ؟” شایان نے گاڑی کی طرف آتے ہوئے پوچھا
“جہاں دل کرے لے جائیں ” ماریہ نے ہنستے ہوئے بڑے موڈ میں کہا تھا, شایان کی آنکھیں پھیل گئیں
“دیکھ لو, بعد میں مکر نہ جانا” وہ اس کے لئے کار کا دروازہ کھولتے ہوئے بولا
“نہیں مکرتی…چلیں” ماریہ دھیرے سے مسکرائی تھی, وہ ڈرائیو کرتا ہوا سیدھا کلینک ہی آیا تھا
“دیکھا… مجھے پتہ تھا کہ آپ کی دوڑ بس اس کلینک سے لیکر واپس اسی کلینک تک ہی ہے, اس سے زیادہ آپ کے بس میں نہیں ہے” وہ مسکراتے ہوئے کار سے نیچے اتری تھی
“کبھی کر کی دکھاؤں گا تمہیں جو میرے بس سے زیادہ کا ہوا” شایان چاۓ کے لئے کہتا ہوا آفس چلا آیا
“آج کافی خوش لگ رہی ہو ؟” وہ اس کے لئے کرسی کھینچتے ہوۓ بولا
“آج سے ڈاکٹر ولید خان کے سامنے تن کر کھڑے ہونے کا سفر شروع ہو گیا ہے تو کیا میں خوش بھی نہ ہوں ؟” ماریہ نے کہا
“تمہاری خوشی کی نوعیت میری سمجھ سے باہر ہے… یہ اپنے آئیڈیل جیسا بننے کی خوشی تو نہیں ہے” شایان کے کہتے ہی وہ چپ ہو گئی
“اس خوشی میں سے مجھے عجیب سی بو آ رہی ہے” شایان نے کہا
“کیسی بو ؟ حسد, جلن, رشک ؟” ماریہ آگے کو ہوئی
“نہیں… بدلہ” شایان کے کہتے ہی وہ دم بخود رہ گئی تھی
اس کی آنکھوں میں بہت کچھ لہرایا تھا
“ایسا کچھ نہیں ہے, وہ ایک بہت بڑا نام ہیں, ان جیسا بننا میرے لئے خوش قسمتی کی بات ہے” ماریہ نے کہا
“ایک بات پوچھوں ؟” شایان مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا تھا
“تم کبھی اپنی خوشی بھلا کر دوسروں کی خوشی میں خوش ہوئی ہو ؟” شایان نے پوچھا
“میری زندگی میں صرف میری ماں ہیں اور میں ان کی ہر خوشی میں خوش ہوتی ہوں ” ماریہ نے کہا
“تمہاری زندگی میں سائرہ بھی ہے, میں بھی ہوں… ” وہ ذرا توقف کے بعد بولا تھا
“آپ اور سائرہ میری زندگی میں آنے والے دو بہترین لوگ ہیں شایان… آپ دونوں کے لئے ماریہ خان کی پوری زندگی حاضر ہے, میرے دل میں آپ دونوں کا مقام بہت خاص ہے” ماریہ نے بڑے دل سے کہا تھا
“واہ… تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ کارڈیالوجسٹ ماریہ خان کے پاس ایک عدد خاص الخاص “دل” بھی ہے” شایان آگے کو ہوا تھا
“آپ مجھ سے کیا اگلوانا چاہ رہے ہیں شایان ؟” ماریہ مسکراتے ہوئے بولی
“کچھ بھی نہیں, بس اپنے دل کا بہت خیال رکھنا, کہیں چوری ووری نہ ہو جاۓ, آج کل تم بہت مشہور بھی تو ہوتی جا رہی ہو اور اکثر حملے مشہور لوگوں پر ہی ہوا کرتے ہیں” وہ اس کی اندرونی کیفیت سے قطع نظر کہتا چلا گیا
“ہو سکتا ہے کسی دن ماریہ خان خود ہی اپنے خاص الخاص دل کی دشمن ہو جاۓ” وہ دھیرے سے بولی تھی
“ہو سکتا ہے کسی دن وہ خود ہی اپنے دل پر حملہ کر بیٹھے, اسے زخمی کر دے, چھلنی کر دے” ماریہ کہتی چلی گئی
“اس دن تم پتہ کیا کرنا ؟” شایان نے کہا
“مجھے بس ایک آواز دے لینا… میں اپنا دل بخوشی تمہیں دے دوں گا” شایان آج پہلی بار اس کے سامنے اتنا کھلا تھا, ماریہ بس سن بیٹھی اسے دیکھتی رہ گئی
“اس دنیا میں مجھے کارڈیالوجسٹ ماریہ خان کی خوشی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے” وہ آج پہلی بار اظہار کر رہا تھا, مسکراتی نظروں سے اسے سب کچھ باور کروا رہا تھا
……………
آج سے ان کی دو ہفتوں کی پروفیشنل ٹریننگ شروع ہو گئی تھی, وہ تقریباً بیس, بائیس کارڈیالوجسٹس کا ایک گروپ تھا جنہوں نے UHS میں صبح نو سے شام چار بجے تک تین سیشنز لینے تھے, اب بھی سیشن مکمل ہوا تو وہ ہال سے باہر نکل آئی
“انجوائینگ…؟” سائرہ کا ٹیکسٹ آیا ہوا تھا
“بورنگ… ” اس نے جوابی ٹیکسٹ کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی کوکا کولا ایک ہی سانس میں ختم کر دی
“بڑی ہی کمال کی سپیڈ ہے آپ کی ؟” ماریہ کو پتہ ہی نہ چلا وہ کب اس کے برابر میں آ کھڑا ہوا
“کس چیز کی ؟” وہ چونک گئی
“یہ کالا پانی پینے کی… میں نے پہلی بار کسی کارڈیالوجسٹ کو اتنی رغبت سے اسے پیتے دیکھا ہے” وہ مسکرا رہا تھا
“بس لت پڑ گئی ہے اسکی… ” ماریہ نے دھیرے سے کہا
“اس کی بجاۓ اگر شیکس یا فروٹ جوسز کی لت پڑ جاتی تو شائد آپ کی صحت کے لئے اچھا ہوتا ڈاکٹر ماریہ… ” وہ اس کے دھان پان سے وجود پر چوٹ کر گیا تھا
“کبھی سنا ہے آپ نے زخرف کے کسی ناکام عاشق کو شراب اور جوۓ کی بجاۓ دودھ اور خیرات کی لت پڑ جاۓ” ماریہ نے کہا, زخرف بس اسے دیکھ کر رہ گیا
“ناکام عاشق… “اسے ہنسی آئی تھی
“تو اور کیا کہوں ؟ بس کچھ ہی دن ہیں پھر جھلی بھی کہلانے لگوں گی” وہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھی, زخرف ہنستا چلا گیا
“اگلا سیشن شروع ہونے میں ابھی کافی وقت ہے, آئیں ذرا چہل قدمی کر لیتے ہیں” زخرف نے اپن اوور آل اتارتے ہوئے کہا, ماریہ نے نظر بھر کر اسے دیکھا
بلیک پینٹ اور گرے شرٹ پہنے, بنا ٹائی لگاۓ, شرٹ کے بازو آستینوں تک موڑے وہ اسے صدیوں کی مسافت پر کھڑا نظر آیا تھا
“چلیں… ” وہ اپنا سکارف درست کرتے ہوئے اس کے برابر میں ہو لی
نہ جانے وہ کیا کہہ رہا تھا… نہ جانے وہ کیوں ہنس رہا تھا… ماریہ کو بس اتنا پتہ تھا کہ وہ اس کے برابر میں چل رہا تھا
“کاش کہ یہ کاریڈور لمبے سے لمبا ہوتا جاۓ… ” اس کے دل نے شدت سے خواہش کی تھی
“کاش کہ یہ وقت یہیں تھم جاۓ… ” اس کے لبوں نے شدت سے دعا کی تھی
“کاش کے وہ یونہی اس کے برابر میں چلتا رہے… ہمیشہ” ایک بار پھر اس نے ڈاکٹر زخرف ملک سے محبت کی بھیک مانگی تھی
“مجھے آپ کی محبت پر بے انتہا ناز ہے ماریہ لیکن… میں اسے قبول نہیں کر سکتا ” ایک بار پھر وہ اسے ٹھکرا گیا تھا
………………..
آج اسے زوہیب نے خاص طور پر ملنے کا کہا تھا , ڈنر کے بعد وہ دونوں چہل قدمی کے لئے باہر نکل آۓ
“زخرف… تمہیں نہیں لگتا کہ تمہارا انتظار کچھ زیادہ ہی لمبا ہوتا جا رہا ہے؟” ہلکی پھلکی باتوں کے دوران وہ اصل بات کی طرف آۓ
“کیا کروں چاچو… ابو نہیں مانتے” وہ بے بس تھا
“تو تمہیں کس نے کہہ دیا زخرف کی وہ مان جائیں گے… وہ نہیں مانیں گے” زوہیب نے کہا
“چاچو میں چاہوں تو آج کوئی انتہائی قدم اٹھا لوں لیکن میرا وہ انتہائی قدم مجھے آپ جیسی زندگی جینے پر مجبور کر دے گا, اگر آپ کہتے ہیں تو میں آج ہی ابو سے فائنل بات کر لیتا ہوں اور بیگ اٹھا کر آپ کے پاس آ جاتا ہوں” زخرف نے کہا
“اور اگر ایک طویل انتظار کے بعد بھی بیگ ہی اٹھانا پڑا تو ؟” زوہیب نے کہا, زخرف خاموش رہ گیا
“دیکھو زخرف… مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے, تمہارا فیصلہ بالکل درست ہے, سائرہ اگر تمام عمر بھی تمہارے انتظار میں گزارنا چاہے تو میں اسے نہیں روکوں گا لیکن… اس سب کا فائدہ کیا ہو گا ؟ تب نہ محبت سرخرو ہو گی اور نہ رشتے… تب بالکل ہی خالی ہاتھ رہ جاؤ گے اور ان خالی ہاتھوں کو ملنے کے علاوہ اور کیا ہو گا تمہارے پاس ؟” زوہیب درست کہہ رہے تھے
“ابو کا کیا جاۓ گا اگر مان جائیں گے تو ؟” زخرف جیسے تھک سا گیا
“ان کے خون میں ملاوٹ نہیں ہو جاۓ گی, ان کی نسل ناخالص نہیں ہو جاۓ گی, ان کی ذات برادری کا کیا بنے گا پھر ؟” زوہیب نے کہا
“کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ اگر سائرہ کی جگہ کوئی اور ہوتی تب کیا ہوتا ؟” زخرف نے کہا
“تب تمہارے باپ کے لفظوں میں ترشی نہیں… نفرت ہوتی, تب تمہاری ماں کے لحجے میں نصیحتیں نہیں… ڈرامے ہوتے, تب تمہاری پھپھو کی زبان سے شکوے نہیں…. انگارے برستے, تب تمہاری بہنیں تمہارا ہلکا پھلکا ساتھ دینے کی بجاۓ آستین کی سانپ ہوتیں, اب تمہاری گھر والوں کی نظروں میں یہ فقط ایک ضد ہے, تب یہ بغاوت ہوتی, ابھی تم صرف اسلئے قصوروار ہو کہ سائرہ میری بیٹی ہے… تب تم ذات برادری کے قاتل ہوتے, اب تو شائد سائرہ کو اس گھر میں ایک آدھ کونا نصیب ہو ہی جاۓ…. لیکن تب جلاوطنی ہی تمہارا مقدر ہوتی, اب تو شائد تمہارا باپ تمہیں گلے لگا ہی لے, تمہاری ماں تمہارا ماتھا چوم ہی لے, تمہاری پھپھو تمہیں معاف کر ہی دیں… لیکن تب تمہارے گھر والے تمہارے جنازے میں بھی شریک ہونا پسند نہ کرتے, کیونکہ اس معاشرے میں محبتوں کا قاتل ہونا شائد قابل معافی ہے لیکن ذات برادری کا مجرم ہونا ہمیشہ قابل سزا ہوتا ہے” زوہیب کہتے چلے گئے
“میں تمہارے ہر فیصلے میں تمہارے ساتھ ہوں بیٹے… تم مجھ سے کہیں زیادہ بہتر ہو جو اپنی محبت اور رشتے دونوں کو معتبر کرنا چاہ رہے ہو, تمہاری اس کوشش میں مجھے سائرہ کو تا عمر بھی بٹھانا پڑا تو میں بٹھا لوں گا لیکن یہ بھی سچ ہے زخرف کی یہ معاشرہ ذات برادریوں کا ہے, رنگ و نسل کا ہے, عقیدہ و مسلک ک اہے, لباس و زبان کا ہے… بس سچی محبتوں کا نہیں ہے, میں نے اگر ایک بے سہارا لڑکی سے بے لوث محبت کر کہ اپنے تمام رشتوں کو بھینٹ چڑھا دیا تو مجھے کوئی شکوہ نہیں ہے, حفصہ کی محبت اس قابل تھی کہ میں اس کی خاطر جہاں چھوڑ دیتا… “وہ ذرا سا رکے
“لڑو… ضرور لڑو لیکن…تب لڑو جب آس ہو کہ ایک دن جیت جاؤ گے, میرا ایمان ہے کہ دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے پوچھو کہ کیا تمہاری محبت سچی ہے… اگر دل کہے ہاں تو پھر ڈٹ جاؤ, اس کی خاطر انا کے مارے خود غرض رشتوں کو آگ میں جھونک دو کیونکہ… محبت بار بار نہیں ملتی” زوہیب نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
“ٹھیک ہے چاچو… میں آج ہی ابو سے فائنل بات کروں گا, اگر مان گئے تو ٹھیک… وگرنہ جہاں اتنے زوہیب ملک جی رہے ہیں, وہاں ایک میں بھی سہی” وہ ہولے سے مسکرایا تھا, زوہیب بھی اس کے ساتھ مسکرا دئیے
……………………….
گھر کے تمام نفوس اس کمرے جمع تھے, شعیب ملک صوفے پر بیٹھے تھے, ان کے ساتھ رخسانہ ملک بیٹھی ہوئی تھیں, بیڈ پر اسماء ملک کے ساتھ ناعمہ بیٹھی ہوئی تھی, مومنہ دروازے سے ٹیک لگاۓ کھڑی تھی, زخرف ان سب کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا
“ابو میں آج پھر آپ سے وہی التجا کر رہا ہوں جو آپ پچھلے دو سال سے سن رہے ہیں… میں سائرہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں, زوہیب چاچو کی بیٹی” وہ بولا
“اور تمہاری یہ التجا میں پچھلے دو سالوں سے رد کرتا آ رہا ہوں زخرف… ” شعیب ملک نے کہا
“اور آج بھی رد ہی کروں گا… ” وہ اٹل تھے
“ٹھیک ہے ابو… میری پوری کوشش تھی کہ میں اپنی محبت کو آپ سب لوگوں کے ساتھ مل کر معتبر کروں لیکن… جیسے آپ کی مرضی” وہ دھیرے سے رخسانہ کی طرف مڑا
“پھپھو میں نے وردہ کو ایک بار سمجھایا اور وہ میری بات سمجھ گئی, لیکن آپ اس کی ماں ہو کر بھی میری بات نہیں سمجھ رہیں, ساری عمر خوش نہیں رہ پاۓ گی وہ میرے ساتھ… سوری, میں وردہ سے شادی نہیں کر سکتا” اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا
“تو جب تم سب کچھ طے کر ہی چکے ہو تو یہاں کیوں کھڑے ہو ؟” شعیب ملک نے کہا
“آپ کو یہ بتانے کے لئے کہ اب میں آپ کے سامنے یوں کھڑا نہیں ہوں گا, ٹریننگ ختم ہونے تک مجھے اپنا فیصلہ بتا دیں, وگرنہ میرا بیگ میرے کمرے میں تیار پڑا ہے, آپ جو بھی فیصلہ کریں گے, مجھے قبول ہو گا” وہ کھڑا ہو گیا
“تو تم نے بغاوت کرنے کی ٹھان لی ہے” شعیب ملک نے کہا
“میں نے اپنے دل کی کرنے کی ٹھان لی ہے” وہ بولا اور کمرے سے نکل گیا
“ابو اور آپ اپنی ضد چھوڑ کیوں نہیں دیتے, وہ لڑکی کونسا غیر ہے, وہ بھی ہمارا ہی خون ہے” ناعمہ نے کہا
“پہلے ہم نے چاچو کو کھو دیا, اب بھائی کو کھوئیں گے کیا ؟اور ابو کیا آپ میں اتنی ہمت ہے کہ اپنے جوان بیٹے کو گھر سے نکال سکیں” ناعمہ پوری طرح زخرف کے ساتھ تھی
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ زخرف جیسا بیٹا مجھے یوں ذلیل کرے گا” شعیب نے کہا
“اب تو وردہ بھی نہیں مان رہی… ” رخسانہ نے دھیرے سے کہا
“تو پھر آپ دونوں بہن بھائی میرے اکلوتے بیٹے کے درپے کیوں ہو گئے ہیں, وہ گھر چھوڑ گیا تو میں کیا کروں گی ؟” اسماء پھٹ ہی پڑیں
“جو دل میں آۓ کرو… لیکن میں زوہیب کے گھر نہیں جاؤں گا” شعیب ملک اپنی جگہ سے ہلنے کو تیار نہیں تھے
………………
وہ ابھی جنرل وارڈ سے نکلا ہی تھا کہ وارڈ بوائے نے ایک لفافہ اس کی طرف بڑھا دیا
“ڈاکٹر صاحب… یہ آپ کے لئے آیا ہے ؟” وارڈ بوائے نے کہا, وہ تھوڑا حیران ہوتا ہوا اپنے آفس کی طرف آ گیا, گلے میں لٹکی سٹیتھو سکوپ اتار کر میز پر رکھی, اوور آل کرسی کی پشت پر ڈالا اور خود کرسی پر گر گیا, لفافے کے اندر سے ایک ڈبہ نکلا… اور ڈبے میں سے ایک چھوٹا سا ٹیڈی بئیر جس کی پشت پر ایک چھوٹا سا کارڈ لگا ہوا تھا
“ستائیس مارچ… آج کے دن میں نے پہلی بار آپ کو دیکھا تھا زخرف… ” کارڈ پر ہینڈ رائیٹنگ ماریہ کی تھی
وہ سن بیٹھا رہ گیا
کوئی کہہ سکتا تھا کہ یہ کارنامہ ایک انتہائی ذہین اور قابل ہارٹ سرجن کا تھا
یعنی اس کے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں تھا… اسے سمجھ نہ آیا کہ س لمحے کرے تو کیا کرے, بس غائب دماغی سے اس نے ماریہ کا نمبر ملایا تھا
“اب میں اسے کیا کہوں ڈاکٹر ماریہ… ” وہ جیسے بے بس ہو گیا
“ایک پاگل کا پاگل پن… اور بس” وہ بولی
“اگر آپ کو برا لگا تو ابھی اسی وقت دونوں چیزیں ڈسٹ بن میں ڈال دیں, مجھے بالکل برا نہیں لگے گا” ماریہ نے کہا
“کاش آپ میری مجبوریاں سمجھ پاتیں ماریہ…. ” زخرف نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“کاش آپ میری بے بسی دیکھ پاتے زخرف… کاش آپ دیکھ پاتے کہ میں کیا تھی اور کیا ہو گئی ہوں, کاش آپ میرے ایک ایک پل کی اذیت دیکھ پاتے” وہ کہتی چلی گئی
“زخرف آپ ایک کام کریں, کسی دن مجھے اپنے آفس میں بلا کر میری اچھی خاصی بے عزتی کریں, مجھے گالیاں دیں, برا بھلا کہیں, مجھے میری اوقات یاد کروائیں, ہو سکتا ہے مجھے تب ہی کچھ غیرت آجاۓ” اسے لگا جیسے ماریہ کی آواز نم ہو گئی ہو
“افسوس کہ میرے بس میں یہ بھی نہیں ہے” زخرف نے ہولے سے کہا تھا
“زخرف… ” وہ ایک دم پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی, زخرف صحیح معنوں میں تڑپ گیا
“ماریہ پلیز یار… مجھے یوں گنہگار نہ کریں, میرے اختیار میں ہوتا تو میں کبھی آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں آنے دیا, پلیز یوں ہلکان نہ ہوں” وہ دھیرے سے کہتا ہوا کال کاٹ گیا تھا, کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے اس نے دونوں آنکھیں موند لیں, آج ایک بار پھر اسے وہی خیال آیا تھا
ماریہ اور سائرہ آپس میں دوست تھیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ سائرہ سے کمیٹڈ تھا, ماریہ پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی
“دوستی کی خاطر بھی وہ قربانی کیوں نہیں دے پا رہی ؟” زخرف نے سوچا
“یا ہو سکتا ہے اسے کچھ پتہ ہی نہ ہو ” دل نے کہا تھا
……………………
جاری ہے
