No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
زخرف…میری جان
عائشہ ذوالفقار
وہ شفاء ہسپتال کے تقریباً سبھی ڈاکٹرز کو جانتا تھا, ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر عاصم کے ہمراہ وہ اسے آئی سی یو میں لے گیا, وہ مسلسل تکلیف کے عالم میں اپنے دل پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی
“شایان میرے خیال سے تم ایک بار ڈاکٹر ولید سے مل لو, ان کی حالت بہت نازک ہے, ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں لیکن… ہارٹ اٹیک لگتا ہے” ڈاکٹر عاصم نے اس کے ہوش اڑاۓ تھے, انتہائی پریشانی کے عالم میں وہ ان کے آفس کی طرف دوڑا لیکن وہ اسے راستے میں ہی مل گئے
“کیا بات ہے شایان… کہاں بھاگے جا رہے ہو ؟” شایان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں
“میں آپ کی طرف ہی جا رہا تھا, ڈاکٹر ماریہ اس وقت آئی سی یو میں ہیں… انہیں شائد ہارٹ اٹیک ہوا ہے” وہ بولا
“اوہ… ” ڈاکٹر ولید فوراً اس کے ہمراہ ایمرجنسی وارڈ میں چلے آۓ
“آپ کو ڈاکٹر عاصم نے بلایا ہے سر… ” انہیں راستے میں دو نرسیں بھی مل گئیں, وہ جلدی سے آئی سی یو کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئے, شایان باہر ہی رک گیا, نائلہ کو اطلاع دینے کی غرض سے اس نے ان کا نمبر ملایا تھا
“آنٹی کہاں ہیں آپ ؟” ان کے پیچھے کافی شور ہو رہا تھا
“بیٹا میں تو گاؤں آئی ہوئی ہوں, پرسوں سے بچوں نے ضد لگا رکھی تھی کہ گاؤں جانا ہے… کیوں کیا ہوا ؟” وہ آواز سے ہی خاصی مصروف لگ رہی تھیں
“کچھ نہیں آنٹی” اس کا دل عجیب سا ہو گیا, دھیرے سے کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی تھی, کچھ دیر بعد ڈاکٹر ولید باہر نکل آۓ
“انہیں ہارٹ اٹیک ہی ہوا ہے, ڈپریشن اتنا شدید تھا کہ برین ہیمرج بھی ہو سکتا تھا… ہوا کیا تھا آخر ؟” انہوں نے پوچھا, شایان بس ان کے چہرے کو دیکھ کر رہ گیا
“پتہ نہیں… شاید تھکن اور بے آرامی… ” وہ نظریں جھکا گیا, ڈاکٹر ولید اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر آگے بڑھ گئے, انہیں زخرف کی بارات میں شامل ہونا تھا, صبح پانچ بجے تک وہ اس کے ساتھ وہاں رکا رہا, سائرہ کی رخصتی میں بھی شامل نہ ہو سکا, حفصہ اسے کال کر کر کہ تھک گئیں
صبح چھ بجے کے قریب اسے ہوش آیا تھا
………………..
آخر کار آج وہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو ہی گیا تھا, باپ نے شفقت سے گلے لگایا تھا, ماں نے محبت سے ماتھا چوما تھا, بہنوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے, پھپھو نے بھی معاف کر ہی دیا تھا, وہ دونوں بھائی اتنے سالوں بعد آج صرف اس کی وجہ سے گلے لگے تھے, شعیب ملک نے زوہیب کو معاف کر ہی دیا تھا, اسماء ملک پورے خلوص سے سائرہ کو اپنی بہو بنا کر لے گئیں تھیں
وہ جب سرخ گلابوں سے نرغے میں بیٹھی سائرہ زوہیب کے سامنے آ کر بیٹھا تو بہت پر سکون تھا, آج اس نے رشتے اور محبت دونوں کو سرخرو کر دیا تھا
“کیا واقعی… ؟ کیا واقعی تم نے محبت بھی سرخرو کر دی زخرف ملک ؟” دل کے کسی کونے سے ماریہ خان کے رونے کی آواز آئی تھی جسے اس نے سختی سے دبا دیا
“اجازت ہے ڈاکٹر صاحبہ… ؟” اس نے مسکراتے ہوئے سائرہ کے آگے ہاتھ پھیلایا تھا
“اگر تم نے اجازتیں ہی لینی تھیں تو شادی کیوں کی…” وہ دھیرے سے مسکرائی تھی, زخرف نے بہت محبت سے اسے گلے سے لگا لیا
“ہمیشہ تم سے محبت کروں گا, ہمیشہ تمہیں خوش رکھوں گا, ہمیشہ تمہیں آسودہ دیکھنا چاہوں گا” وہ کہتا چلا گیا تھا
“ہمیشہ مجھے اپنے برابر میں پاؤ گے, ہمیشہ مجھے با وفا پاؤ گے, ہمیشہ تم سے محبت کروں گی” وہ اپنے دونوں بازوؤں کو اس کے گلے کا ہار بناتے ہوئے بولی تھی
بس پھر وہ تھی ور زخرف کی بے کراں چاہتیں جو وہ اس پر لٹاتا چلا گیا تھا, اس کے دل کے کسی کونے میں ڈاکٹر ماریہ خان کی روتی بلکتی محبت اس رات بالکل ہی دم توڑ گئی تھی
……………
تقریباً صبح آٹھ بجے ڈاکٹر ولید, ڈاکٹر عاصم اور دو نرسوں کے ہمراہ اسے دوبارہ دیکھنے آۓ, وہ پوری طرح ہوش میں تھی
“اب کیسا محسوس کر رہی ہو ینگ لیڈی ؟” انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا تھا
“میں زندہ ہوں… بس یہ ہی احساس کافی ہے” وہ ان کے چہرے کو تکتی رہ گئی
بہت بار دیکھا تھا انہیں… لیکن صرف ایک ہارٹ سرجن کی حیثیت سے, ایک انتہائی قابل ڈاکٹر کی حیثیت سے, ایک انتہائی مشہور کارڈیالوجسٹ کی حیثیت سے… بس نہیں دیکھا تو کبھی ایک باپ کی حیثیت سے ہی نہیں دیکھا تھا
مجھے کب تک یہاں رہنا پڑے گا ؟” اس نے پوچھا
“کیوں میرا پچیس سالوں کی انتہائی انتھک محنت سے تیار کیا ہوا یہ شاندار سا ہسپتال رائزنگ سٹار کو ایک دن بھی رکنے کے قابل نہیں لگتا ؟” ان کی بات پر شایان کھل کر ہنس دیا
“فرض کریں آپ میری جگہ ہوتے تو کسی ترجیح دیتے… ؟ کسی اور کے شاندار سے ہسپتال کے انتہائی مہنگے آئی سی ہو جو ی آنے چند دن پہلے بناۓ عام سے ہسپتال کے جنرل وارڈ کو ؟” وہ آخر کو ڈاکٹر ماریہ خان تھی
“اپنے عام سے ہسپتال کے جنرل وارڈ کو… ” وہ دھیرے سے مسکرا دئے
“شام تک رک جائیں, پھر ڈسچارج کر دیں گے لیکن… ” وہ کہتے ہوئے شایان کی طرف مڑے
“انہی یہاں سے سیدھا اپنے ہاسپٹل ہی لیکر جانا… ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں ایک ہفتے سے پہلے ڈسچارج نہیں کرتا” انہوں نے شایان کو تنبیہہ کی تھی, ماریہ چپ ہو گئی, ان کے جانے کو بعد وہ اس کے قریب آگیا
“امی کو رو نہیں بتایا ؟” اس نے پوچھا, شایان نے نفی میں سر ہلا دیا
“اچھا کیا… اور پریشان ہو جاتیں وہ… ” ماریہ نے دوبارہ اپنا سر تکیے پر رکھا تھا
“شایان… ” کچھ لمحوں بعد اس نے ہولے سے اسے پکارا, شایان اس کی طرف دیکھنے لگا
“شکریہ… ” وہ بولی
“کس لئے… ؟”
میری جان بچانے کے لئے… ” ماریہ نے کہا
“اگر کچھ پوچھنا چاہتے ہیں تو پوچھ… ” شایان نے اس کی بات کاٹ دی
“نہیں, کچھ نہیں پوچھنا, ہاں کچھ کہنا ضرور ہے” وہ بولا
“کہیں… ” ماریہ نے کہا
“یاد ہے تم نے ایک بار مجھ سے کہ تھا کہ میری دوڑ بس میرے کلینک سے لیکر واپس اسی کلینک تک ہے, اس سے زیادہ کا میرے بس میں نہیں ہے اور میں نے کہا تھا کہ کبھی کر کہ دکھاؤں گا تمہیں جو میرے بس سے زیادہ کا ہوا… ” وہ کہنے لگا, ماریہ کو یاد تھا
“میں کل رات تمہیں جس حالت میں اس کے گھر کی دہلیز سے اٹھا کر یہاں لایا ہوں وہ میرے بس سے زیادہ کا ہے ماریہ… میں دوبارہ تمہیں اس حالت میں اپنی گاڑی میں ڈال کر یہاں نہیں لانا چاہتا” شایان کی بات پر وہ خاموش رہ گئی
“تمہیں اس کے لئے تڑپتے ہوۓ دیکھنا میرے بس سے زیادہ کا ہے, تمہیں اس کے لئے یوں بے حال ہوتے دیکھنا میرے بس سے زیادہ کا ہے, تمہیں اس کے لئے بلکتے ہوۓ دیکھنا میرے بس سے زیادہ کا ہے, میں یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھ سے محبت کرنے لگو, لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اسے بھلانے کی کوشش کرو, وہ جس کا تھا اسے مل گیا, میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس کے لئے دعا نہ کرو, لیکن بس دعاؤں میں اسے مانگنا چھوڑ دو, وہ جس کا تھا ہمیشہ اسی کا رہے گا… ” شایان کہتا چلا گیا
“اس ایک کے نہ ملنے سے دنیا ختم نہیں ہو گئی ماریہ… تمہاری زندگی میں بس ایک وہی نہیں تھا, المیہ یہ ہے کہ ہمیں وہی چاہئے ہوتا ہے جو ہمارے لئے نہیں ہوتا, ہم اسے ہی مانگتے ہیں جو ہمارے نصیب میں نہیں لکھا ہوتا… اور پھر اس کے چھن جانے پر صبر کرنے کی بجاۓ شکوہ کرنے لگتے ہیں حالانکہ جو نہیں ملا… وہ اسی لئے نہیں ملا کیونکہ وہ کسی اور کا تھا… میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس ساری محبت کو اٹھا کر اپنے دل سے باہر پھینک دو لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اسے اپنے دل کے کسی کونے میں گڑھا کھود کر ہمیشہ کے لئے دفنا دو… ” شایان کہتا جا رہا تھا
“میں تمہارے بنا کبھی کچھ نہیں کر پایا ماریہ… اور آئیندہ بھی نہیں کر پاؤں گا, مجھے تمہاری ضرورت ہے” وہ بولا, ماریہ نے دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے آنکھیں موند لیں, شام تک وہ ڈسچارج ہو گئی, شایان اسے سیدھا ہسپتال ہی لیکر آیا, اسے بار بار حفصہ کی کال آ رہی تھی, اسے ولیمہ میں شامل ہونا تھا
“اب چپ چاپ دوا کھا کر اچھے بچوں کی طرح سو جانا, خبردار جو کچھ الٹا سیدھا سوچا اور کہیں گئیں, میں جلدی واپس آ جاؤں گا” اسے ڈھیر ساری تاکیدیں کرتے ہوئے وہ بڑی مشکلوں سے گھر آیا تھا
ماریہ واقعی اچھے بچوں کی طرح دوا کھا کر چپ چاپ کمبل اوڑھ کر لیٹ گئی
دل خاموش تھا… بالکل خاموش
یوں جیسے کوئی طوفان آ کر گزر گیا ہو
“سائرہ… مجھے معاف کر دینا یار, وہ تمہارا ہے, صرف تمہارا… اور ہمیشہ تمہارا ہی رہے گا, میں آج کے بعد اس پر ذرا سا بھی حق جتلاؤں تو خدا کرے مر جاؤں” وہ سوچے جا رہی تھی
“زخرف… بس آج آخری بار آپ کو یاد کیا, آپ کا نام لیا, آپ کو جان کہا… اب نہیں کہوں گی, اگر کہوں تو خدا کرے میں مر جاؤں” اس نے آنکھیں بند کی تھیں
“میں ایک دن آپ جیسا ضرور بنوں کی ڈاکٹر ولید خان… اور اس دن آپ کو بتاؤں گی کہ میں کون ہوں ” وہ خود سے عہد کرتی جا رہی تھی
دعائیں کرتی جا رہی تھی, معافیاں مانگتی جا رہی تھی
پرانے صفحے پھاڑتی جا رہی تھی اور… نئے صفحے لکھنے کی تیاری کرتی جا رہی تھی
……………
“اب کیوں آۓ ہیں ؟ اب بھی نہ آتے… ” سائرہ اسے دیکھتے ہی اس پر چڑھ دوڑی تھی, وہ بس صفائیاں ہی دیتا رہ گیا
“اچھا چلو اب آ تو گیا ہے نا… ” حفصہ نے بمشکل اس کی جان چھڑوائی
“مبارک ہو تمہیں” اس نے بہت محبت سے سائرہ کا ماتھا چوما تھا, پھر دھیرے سے اس کے برابر میں کھڑے زخرف کی طرف مڑا
“مبارک ہو… ” وہ دھیرے سے اس سے گلے ملا تھا
اس کا اور زخرف کا رشتہ شروع سے ہی بہت عجیب تھا, اگر وہ دونوں اچھے دوست نہیں تھے تو… دشمن بھی نہیں تھے
زخرف ہمیشہ سے اس سے ایک قدم آگے رہتا تھا اور اس کی وجہ زخرف کی ذہانت نہیں بلکہ شایان کی ہمیشہ ایک قدم پیچھے رہنے والی عادت تھی, میڈیکل کالج سے لیکر پروفیشنل لائف تک… اس نے کبھی زخرف سے مقابلہ نہیں کیا, اب بھی اگر ماریہ آس کے ساتھ نہ ہوتی تو وہ بس اپنا کلینک ہی چلا رہا ہوتا, لیکن اگر وہ زخرف سے ہمیشہ ہنس کر ملتا تھا تو زخرف بھی اسے جھک کر گلے لگاتا تھا
“اور وہ بے وفا لڑکی, اپنی ضد کی پکی… دیکھ لیں نہیں آئی نا… ” سائرہ نے کہا, زخرف نے بس ایک نظر شایان کی طرف دیکھا تھا
“اس کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی, ورنہ ضرور آتی” شایان نے ماریہ کے ہارٹ اٹیک کا نہ بتانا ہی ضروری سمجھا لیکن… زخرف اس کی آنکھوں میں سب کچھ پڑھ گیا تھا
وہ ہال سے جلدی وپس آ گیا, صد شکر کہ ماریہ گہری نیند سو رہی تھی
اس کی مکمل صحت یابی تک شایان نے باقی ماندہ کام خود نمٹاۓ اور اپنے ہسپتال کا افتتاح کر دیا
شروعات میں بہت مشکلات ک سامنا کرنا پڑا, بے شک ماریہ اور شایان کو کلینک چلاتے دو سال ہو گئے تھے لیکن لوگوں کے لبوں پر اب بھی صرف دو ہی نام تھے
شفاء ہسپتال… ڈاکٹر ولید خان
بہت مشکل ہوتا ہے ایک نئے ڈاکٹر کے لئے اپنا نام بنانا, پہچان بنانا, لوگوں کا اعتماد جیتنا, لوگ ایسے ہی کسی انجان ہاتھ میں اپنی جانیں نہیں تھما دیتے
ڈاکٹر ولید خان کو پچیس سال لگے تھے… اپنا نام بنانے میں …
اس نے بھی انہی کی طرح محنت کی… انتھک محنت, دن رات ایک کر دیا, صدیاں لگ جاتی ہیں صدف کو گہر بننے میں, ایک ننھے سے بیج کو بارآور درخت بننے میں, دریا ایک بار رخ موڑ جائیں تو صدیاں لگ جاتی ہیں اس زمین کو زرخیز ہونے میں
اسے بھی پانچ سال لگے ڈاکٹر ماریہ خان بننے میں لیکن.. آخر بن ہی گئی, آۓ روز اس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا
شایان بذات خود ایک بہت اچھا چائلڈ سپیشلسٹ تھا, اس نے اور ماریہ نے صحیح معنوں میں دھومیں مچا دیں, شادی کے دو ماہ بعد سائرہ نے بھی انہیں جوائن کر لیا, دھیرے دھیرے اس ہسپتال کی بلڈنگ وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئی, رفتہ رفتہ ڈاکٹر ماریہ خان کے پوسٹرز اور بینرز کی تعداد بڑھتی چلی گئی
ایک اچھا ڈاکٹر وہ ہوتا ہے جس کی شائستگی سے ہی مریض کی آدھی بیماری غائب ہو جاۓ, جس کے اعصاب اتنےمضبوط ہوں کہ وہ بنا روۓ ایک ماں حواس کے بیٹے کی موت کی خبر سنا سکے, جو مایوسی کی تہہ میں اترے مریض کو جینا سکھا سکے, جس کے لئے لوگوں کے دل سے ہمیشہ دعا ہی نکلے
اور وہ بالکل ایسی ہی بن گئی, روتے ہوئے لوگوں میں مسکراہٹیں بانٹنے والی, مایوسی میں گھرے لوگوں کو امیدیں دینے والی
ان پانچ سالوں میں کیا کچھ نہیں دیکھا… آنسو, دکھ, خوشیاں, مسکراہٹیں, ماتم, شکرانے
زندگی کچھ بھی نہیں… بس موت سے لڑنے کی جدوجہد ہے اور وہ اپنے ہر مریض کی اس جدوجہد میں اس کے ساتھ تھی, بہت شفاء رکھی تھی قدرے نے اس کی نرم و نازک انگلیوں میں
ان گزرے پانچ سالوں نے اسے بہت کچھ دیا, کارڈیالوجسٹ ماریہ خان کو کون نہیں جانتا تھا, نہ جانے کون کون سے اعزاز جیت رکھے تھے اس نے, کورسز اور ٹائٹلز کی ایک لمبی قطار لگ جاتی تھی اس کے نام کے ساتھ, اس کا کمرہ بھرا پڑا تھا شیلڈز, میڈلز, سرٹیفیکیٹس اور ڈگریز سے, ہر چینل پر اس کے انٹرویوز آن ائر ہوتے تھے, ہر سیمینار اور کانفرنس کا وہ لازمی حصہ تھی
ان پانچ سالوں نے اسے پوری طرح نکھار بھی دیا, چہرے پر مزید سنجیدگی آ گئی, شخصیت پہلے سے زیادہ پر وقار ہو گئی, چال میں تمکنت آ گئی, باتوں میں شائستگی آ گئی , سادگی بڑھتی چلی گئی, لحجہ دھیما ہوتا گیا, عاجزی کا مینار بلند ہوتا چلا گیا
اور اسقدر عزت اور شہرت کے کے ساتھ یہ ممکن ہی نہ تھا کہ اس کا زخرف سے سامنا نہ ہو, اکثر ہی ان دونوں کا ٹکراؤ ہو جاتا تھا, دونوں ایک ہی شعبے سے تھے, دونوں ہی کارڈیالوجسٹ تھے, وہ حتی الامکان کوشش کر کہ اسے نظر انداز کر دیتی, نظر جھکا لیتی , راستہ بدل دیتی… اور رات کو تکئے میں منہ سے کر رو لیتی
وہ اب بھی ڈائری لکھتی تھی
اب بھی س کے نام سے کاغذوں کا سیاہ کرتی تھی
اب بھی اس کے لئے گفٹ اور پھول خریدتی تھی
اب بھی اس کے خواب دیکھتی تھی
لیکن… اب اسے مانگتی نہیں تھی
………………..
پانچ سال بعد
“کیا پریشانی ہے… ؟” اس نے دھیرے سے سائرہ سے پوچھا جو بڑی دیر سے دونوں بازو میز پر ٹکاۓ ان١ پر اپن سر رکھے بیٹھی تھی
“اوہ… میڈم کیا ہوا ؟” اب کی بار ماریہ نے اس کا کندھا ہلایا
“کچھ نہیں یار… ” وہ بیزار ہوئی بیٹھی تھی
“پھر ٹرین کیوں چڑھی ہوئی ہو ؟” ماریہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“میرا جینا دوبھر کر رکھا ہے ان لوگوں نے… جب ایک بات پتہ ہے کہ کمی مجھ میں ہی ہے اور ہمیشہ رہے گی تو اسے قبول کیوں نہیں کر لیتے سب… آۓ روز کوئی نہ کوئی میرے سر پر بیٹھا رہتا ہے, کبھی اس ک مشورہ, کبھی اس ک مشورہ, کبھی یہ ٹیسٹ کروا لو, کبھی وہ ٹیسٹ کروا لو, کبھی فلاں ڈاکٹر, کبھی فلاں حکیم… تنگ آ گئی ہوں میں” سائرہ پھٹ ہی پڑی, ماریہ نے یاک لمبی سانس بھری تھی, شادی کے پانچ سال بعد بھی وہ اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی اور اس کی یہ کمی اس کی اور زخرف کی بھر پور کوششوں کے باوجود پوری نہیں ہو پائی تھی
“پاگل… سب تمہاری بہت فکر کرتے ہیں بس اسی لئے….” سائرہ نے اس کی بات کاٹ دی
“نہ کریں میری فکر… عاجز آ گئی ہوں میں” وہ بھری بیٹھی تھی
“اچھا پریشان نہ ہو, دعا کیا کرو” ماریہ نے اس کے ہاتھوں کو تھپتھپایا تھا, سائرہ کی آنکھیں بھر آئیں
“کچھ نہیں ہوتا, یہ ہی زندگی ہے, ڈاکٹر بھی بھلا روتے ہیں کیا… ” ماریہ نے اسے مطمئین کرنے کی کوشش کی تھی, وہ بس ہاتھوں کی پشت سے آنکھوں کو رگڑ کر رہ گئی
کچھ دیر بعد سائرہ تو گھر چلی گئی اور ماریہ ایک سیمینار کے لئے نکل کھڑی ہوئی, سیمینار دو گھنٹے کا تھا, وہ عصر کےبوقت واپس آئی, آج رات اس کی وارمیں ڈیوٹی تھی لیکن وہ بہت زیادہ تھک گئی سو ایک جونئر ڈاکٹر کی ڈیوٹی لگا کر گھر کے لئے نکل کھڑی ہوئی, ابھی وہ پارکنگ سے ذرا دور ہی تھی جب شایان نے پیچھے سے سے پکارا, وہ رک گئی
“گھر جا رہی ہو ؟” شایان نے پوچھا, وہ سیاہ رنگ کی گھٹنوں تک آتی شرٹ کے ساتھ بیل باٹم ٹراؤزر پہنے ہوئے تھی, ایک کندھے پر بیگ تھا اور دوسرے بازو پر سفید اوور آل, ڈھیلی سے پونی میں مقید ہوۓ بال اور میک اپ سے مبرا چہرہ, ہونٹوں پر نامحسوس سی لپ اسٹک اور کانوں میں لٹکتے چھوٹے چھوٹے ائیر رنگز, گلے میں بل ڈال کر لیا ہوا دوپٹہ اور پاؤں میں پہنے فلیٹ سینڈلز… شایان کو نظریں پھیرنے میں صدیاں لگ گئیں
“ایک ضروری بات کرنا تھی تم سے ؟” شایان نے کہا
آج ڈاکٹر عمران نے مجھ سے آنٹی کا نمبر لیا ہے, شاید کل یا پرسوں اس کی فیملی میں سے کوئی آنٹی سے ملنے آۓ… تمہارے سلسلے میں” شایان نے دھیرے سے کہا
“میں نے پرسوں ڈاکٹر عمران کو کھلے الفاظ میں انکار کر دیا تھا لیکن… پتہ نہیں لوگوں کو ایک سیدھی بات سمجھ کیوں نہیں آتی ” وہ بولی
“ویسے انکار کی کوئی وجہ بھی تو ہو… ؟” شایان نے پوچھ ہی لیا, وہ بول نہ سکی
“آنٹی تمہاری وجہ سے اتنی پریشان رہتی ہیں, یا تو بندے کے پاس کوئی امید ہو پھر بھی ہے” شایان نے کہا
“مجھے یاد آیا ڈاکٹر شایان کہ پچھلے ہفتے مجھ سے بھی ڈاکٹر فوزیہ نے آپ کی مدر کا نمبر لیا تھا اور شاید ان کے گھر والے آپ کی مدد سے ملے بھی تھے لیکن… آپ نے بھی انہیں انکار کر دیا, کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ آپ نے کس امید پر انکار کیا ؟” وہ آخر کو ماریہ خان تھی, شایان چپ رہ گیا
“آپ کی وجہ سے آپ کی مدد اتنا پریشان رہتی ہیں, کوئی فیصلہ کیوں نہیں کر لیتے آپ ؟” وہ پوچھ رہی تھی
شایان نے ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے اسے دیکھا, سورج آہستہ آہستہ غروب ہو رہا تھا
“کیونکہ میں فیصلہ کر چکا ہوں” شایان نے کہا, ماریہ نے الجھی ہوئی نظروں سے اسے دیکھا, شایان نے مسکراتے ہوئے اپنے اوور آل کی جیب سے ایک سرخ گلاب نکالا اور اسے اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے ماریہ کی طرف بڑھا دیا
“اور وہ یہ کہ مجھے ہمیشہ اس لڑکی کا ہو کر جینا ہے جو بڑے حق سے میرے دل میں رہتی ہے لیکن مجھے اپنے دل کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیتی ” وہ آج بھی اسی کا تھا, ماریہ سن رہ گئی تھی, بس ایک نظر اس کی انگلیوں میں اٹکے پھول کو دیکھا تھا
“اور یہ ہی فیصلہ ماریہ خان کا بھی ہے… ” دھیرے سے کہتے ہوئے وہ پارکنگ کی طرف بڑھ گئی تھی
……………
وہ ابھی جنرل وارڈ کا ایک راؤنڈ لیکر آئی تھی جب سائرہ اس کے پیچھے ہی کمرے میں داخل ہوئی
“تم گھر جانے لگی ہو ؟” اس نے پوچھا
“ہاں… ” ماریہ اپنا اوور آل اتارتے ہوئے بولی
“اگر تمہیں زحمت نہ ہو تو مجھے راستے میں شفاء ہسپتال ڈراپ کر دو گی ؟ میری گاڑی سروس کے لئے گئی ہوئی ہے” سائرہ نےکہا
“جلدی بیگ لے آؤ اپنا, میں بس جانے لگی ہوں” ماریہ نے کہا, اسے شفاء ہسپتال ڈراپ کر کہ وہ خود گھر آ گئی,
“ڈاکٹر زخرف کہاں ہوں گے ؟” سائرہ نے ایک وارڈ بوائے سے پوچھا, آج اسے زخرف کے ساتھ ایک دو ٹیسٹ کروانے جانا تھا
“اپنے آفس میں ہوں گے میڈم ” وارڈ بوائے اسے لئے زخرف کے آفس کی طرف آ گیا لیکن وہ وہاں نہیں تھا
“میڈم سر ایک آپریشن میں مصروف ہیں, آدھے گھنٹے تک فری ہو جائیں گے” نرس نے آ کر بتایا, وہ بیزاری سے زخرف کی کرسی پر گر گئی
“میڈم چاۓ لا دوں ؟” اس نے وارڈ بوائے کی آفر کھلے دل سے قبول کر لی, کچھ دیر زخرف کے لیپ ٹاپ سے لگی رہی, پھر اس کی انتہائی نفاست سے سجی سجائی درازیں کھنگالنے لگی, اچانک ہی سب سے نچلی دراز کھولتے ہوئے وہ ٹھٹھک گئی
وہ ایک چھوٹا سا گفٹ تھا, اسے کھولا تو اندر سے ایک ٹیڈی بئر اور کارڈ نکلا
“آج کے دن میں نے آپ کو پہلی بار دیکھا تھا…” سائرہ حیران رہ گئی, وہ کسی کی چاہت کا بڑا واضح اظہار تھا
“یہ لکھائی… بھلا کس کی ہے ؟” مسلسل ذہن پر زور دینے پر بھی اسے یاد نہ آیا
“یہ میں نے تو زخرف کو نہیں دیا… پھر کس نے دیا ؟” وہ سوچے جا رہی تھی , آخر اس نے وہ ڈبہ اپنے بیگ میں ڈال لیا
ذہن الجھ سا گیا تھا
……………
جاری ہے
