Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3


وہ آج سائرہ سے ملنے زوہیب کی طرف ہی چلا آیا تھا, ڈنر کے بعد زوہیب تو واک کے لئے نکل گئے, اور وہ اپنا کپ اٹھا کر کچن میں چلا آیا, سائرہ ڈنر کے برتن دھو رہی تھی, وہ کرسی گھسیٹ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گیا
“خیر ہے تمہیں ؟” سائرہ نے معنی خیز نظروں سے اس کی طرف دیکھا
” کیوں…؟میں تمہارے پاس بیٹھ کے چائے نہیں پی سکتا کیا ؟” زخرف دھیرے سے بولا
” بالکل پی سکتے ہو لیکن… صرف چائے” سائرہ کھل کے ہنس دیی, آئینے سے زیادہ شفاف اور اجلی تھی وہ , اپنی ماں سے زیادہ خوبصورت… اپنے باپ سے زیادہ خوب سیرت… آخر یوں ہی تو زخرف جیسے بندے کو پسند نہیں آگئی تھی, کئی لمحے وہ مسلسل اس کے چہرے کو دیکھے گیا
” تم نے کہا تھا کہ صرف چائے پینی ہے” اس کے یوں مسلسل دیکھنے پر سائرہ کے ماتھے پر پسینے کے قطرے امڈ آۓ
“حیرت ہے گائناکالوجسٹ ہوتے ہوئے بھی تم صرف دیکھنے پر پگھل جاتی ہو” زخرف ہنستے ہوئے کھڑا ہوگیا اور چائے کا خالی کپ سنک میں رکھتے ہوئے دھیرے سے اس کے قریب چلا آیا
“پریکٹیکل کیسے پاس کرو گی ؟” وہ دھیرے سے اس کے کان پر جھکا تھا
“شرم تو نہیں آ رہی تمہیں… ” گائناکالوجسٹ ہوتے ہوئے بھی وہ سرخ ہو گئی تھی, زخرف اس کی ناک کی پھننگ کو اپنی انگلی سے چھوتا ہنستا چلا گیا
“اچھا ایک بات تو بتاؤ… ” وہ چند لمحوں بعد بولا
“تم نے کسی کو میری اور اپنے رشتے کے بارے میں بتایا ہے کیا ؟” آس نے پوچھا
“پہلے یہ بتاؤ کہ میرا اور تمہارا کیا رشتہ ہے زخرف… ؟” وہ بولی
“تم میرے چچا کی بیٹی ہو” وہ بولا
“یہ تو سب کو پتہ ہے… ” سائرہ نے کہا
“اور تم ڈاکٹر زخرف ملک سے پیار کرتی ہو… ” اب کی بار پھر اس کے لحجے میں شرارت امڈ آئی تھی
“یہ بھی سب کو پتہ ہے… ” سائرہ نے اسے گھورا
“تمہاری بیسٹ فرینڈ کو بھی پتہ ہے کیا ؟” زخرف نے پوچھ ہی لیا
“زخرف تمہیں پتہ ہے مجھے بلا وجہ کی شوخیاں مارنا اچھا نہیں لگتا, یا تو بندہ انگیجڈ ہو, یا میریڈ ہو تب تو کسی کو بتاۓ بھی, اب ایسے منہ اٹھا کر ہر کسی کو بتانا کہ میں فلاں سے پیار کرتی ہوں… چھی چھی, کتنا گھٹی لگتا ہے, اور ویسے بھی ماریہ ذرا پروفیشنل قسم کی لڑکی ہے, ان باتوں سے زیادہ کام پر دھیان ہوتا ہے اس کا” سائرہ کہتی چلی گئی, زخرف نے ایک لمبی سانس بھری تھی, یعنی ماریہ کو واقعی کچھ نہیں پتہ تھا
“میرے بارے میں کیا راۓ ہے اس کی ؟” زخرف نے پوچھا
“میں نے آج تک اس کے منہ سے تمہارے نام تک نہیں سنا شیخی خور ڈاکٹر… اسے تو شائد پتہ بھی نہیں ہو گا تمہارا… ” سائرہ ایک دم تپ گئی, زخرف چند لمحوں تک بول نہ سکا
اب وہ اسے کیا بتاتا کہ کارڈیالوجسٹ ماریہ خان اس کی خاطر کیا کیا کرتی پھرتی ہے, لیکن سائرہ سے بات کر کہ وہ تھوڑا مطمئین ہو گیا, اسے یقین ہو گیا کہ جب ماریہ کو اس کی اور سائرہ کی شادی کا کارڈ ملے گا تو وہ خود ہی پیچھے ہٹ جاۓ گی
…………..
ہاسپٹل کو فرنشڈ کرتے کرتے کافی دن لگ گئے تھے, ان تینوں کو کام کافی بڑھ گیا تھا, اس دن بھی وہ اور سائرہ جنرل وارڈ میں تھیں جب سائرہ کو گھر سے کال آئی
“میں ابھی آتی ہوں ” وہ ماریہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے, سیل کان سے لگاۓ باہر نکل آئی
“جی مما…؟ ” اس نے پوچھا
“جلدی گھر آ, زخرف کی امی اور بڑی بہن آئی ہیں” حفصہ کی آواز خوشی سے پھٹ رہی تھی, سائرہ کو یقین نہ آیا
“واقعی… ” آس نے حیرت اور چھ کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ پوچھا تھا
“ہاں جلدی آؤ, وہ دونوں شادی کی تاریخ لینے آئی ہیں” حفصہ نے کال کاٹتے ہوئے کہا تھا, وہ اندھا دھند شایان کے آفس کی طرف بھاگ لی, ماریہ نے اچنبھے سے اس کی طرف دیکھا
“اسے کیا ہو گیا ؟” پریشانی سے سوچتی ہوئی وہ اس کے پیچھے ہی چلی آئی
“شایان بھائی میں گھر جا رہی ہوں, زخرف کے ابو ماں گئے ہیں” شایان کو کوئی موقع دئے بنا وہ ایک دم اس کی پشت سے لگی تھی اور شایان جیسے ہی سیدھا ہوا, ماریہ اندر داخل ہو گئی, سائرہ تو اس وقت ہوش میں ہی نہیں تھی سو شایان سے الگ ہو کر ایک دم ماریہ کے گلے لگ گئی
“ماریہ میں آج بہت خوش ہوں یار… ” اپنی آنکھوں میں آیا پانی صاف کرتے ہوئے وہ اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گئی, ماریہ نے حیرت سے پھٹتی آنکھوں کے ساتھ شایان کی طرف دیکھا تھا جو اس کے ذہن میں آتے ہر منفی سوال کا گلا گھونٹتا ہوا اس کی طرف بڑھا
“ماریہ پلیز کچھ غلط مت سمجھنا…. سائرہ میری بہن ہے, سوتیلی بہن” شایان نے کہا, ماریہ کی آنکھیں مزید پھیل گئیں
“میں صرف چار سال کا تھا جب میری ماں نے دوسری شادی کر لی تھی ” شایان نے بتایا
“اور مجھے آپ دونوں میں سے کسی نے یہ بات بتانے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی” ماریہ نے شکوہ کیا تھا
“بس موقع ہی نہیں ملا… ” شایان نے کہا
“پانچ سال میری کلاس فیلو رہی ہے یہ سائرہ زوہیب اور مجال ہے کہ کبھی اس نے آپ کے بارے میں بتایا ہو, دو سال ہو گئے کلینک پر ایک ساتھ کام کرتے پر مجال ہے جو منہ سے کبھی بھاپ نکالی ہو… ” ماریہ کو کھل کر اس پہ غصہ آیا تھا, شایان بس خاموشی سے سے دیکھے گیا
“اسے ہو کیا ہے آج ؟” ماریہ نے پوچھا
“لڑکے والے راضی ہو گئے ہیں… ” شایان دھیرے سے ہنسا
“کیا مطلب ؟” ماریہ الجھ گئی
“مطلب یہ کہ سائرہ کے ابو نے میری ماں سے اپنی فیملی کے بالکل خلاف جا کر شادی کی تھی, نہ ذات ایک جیسی تھی اور نہ برادری…میری ماں بیوہ تھیں اور چار سال کے بچے کی ماں… جبکہ سائرہ کے ابو کنوارے تھے اور ان سے عمر میں چھوٹے بھی تھے, ان کی فیملی کسی طور نہیں مانی سو انہوں نے اپنا گھر چھوڑ کر میری ماں سے شادی کر لی, سائرہ اور روحان کی پیدائش کے بعد بھی ان کی فیملی نے سائرہ کے ابو کے ساتھ کوئی میل جول. نہیں رکھا سواۓ سائرہ کے تایا کے بیٹے کے جو اکثر ان کے گھر آتا جاتا رہتا تھا, دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے, لیکن مسئلہ پھر وہی تھا… ذات, برادری, یہ, وہ… آج دو سال بعد کہیں جا کر سائرہ کے تایا نے ہاں کی ہے, وہ اسی لئے اتنی خوش تھی” شایان کہتا چلا گیا
“بڑی چھپی رستم ہے یہ محترمہ, عشق فرمایا ہوا ہے اور مجھے بھنک بھی نہیں لگنے دی” ماریہ نے کہا
“عشق کی بھنک لگنے دیتا ہے کوئی بھلا… جب تم کرو گی تو کیا جھنڈے گاڑھ کر کرو گی ؟” شایان ایک لمحے میں اس کے دل کی دنیا اتھل پتھل کر گیا تھا, ماریہ بول نہ سکی
“پھر تو آپ بھی جائیں گے آج سائرہ کی طرف… آخر کو بڑے بھائی ہیں اس کے” وہ کچھ دیر بعد بولی
“نہیں… میرا نہیں خیال کے وہاں میری کوئی خاص ضرورت ہو گی, بلکہ میرا تو وہاں نہ جانا ہی بہتر ہو گا” شایان دھیرے سے مسکرایا
“کیوں ؟” ماریہ حیرانی سے بولی
“کیونکہ محترمہ سائرہ زوہیب کے متوقع شوہر ڈاکٹر… ” آس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا, اس کا سیل بج اٹھا
“ہاں قاسم… ” وارڈ بوائے کی کال تھی
“میں آ رہا ہوں” وہ کال ڈس کنیکٹ کرتا ہوا کھڑا ہو گیا
“آؤ… مشینریز آ گئی ہیں” اس نے ماریہ سے کہا, وہ بھی ایک دم سن کچھ بھول کر کھڑی ہو گئی
اور بات بیچ میں ہی رہ گئی
……………………..
شعیب ملک اپنی ضد پر اڑے رہے, وہ ایک بار بھی زوہیب کے گھر نہیں گئے, اسماء اور ناعمہ جا کر شادی کی تاریخ طے کر آئیں, زخرف جلد از جلد نکاح کرنا چاہ رہا تھا سو تیاریوں کے لئے فضہ اور سائرہ کو صرف پندرہ دنوں کا وقت ملا اور صورتحال کچھ یوں ہو گئی کہ ایک طرف ماریہ اور شایان ہاسپٹل کے افتتاح میں مصروف ہو گئے اوردوسری طرف سائرہ اور زخرف شادی کی تیاریوں میں لگ گئے, اس دن کے بعد سائرہ ہاسپٹل جا ہی نہ سکی, بس ایک دو بار فون پر ہی ماریہ کی اس سے بات ہوئی
“کچھ شرم کر, کچھ شرم کر لڑکی…” ماریہ بس یہ ہی کہتی رہ گئی اور سائرہ ہنستی چلی گئی
“تو ایک دفعہ مل تو سہی مجھے, پھر دیکھنا تیرا کیا حشر ہوتا ہے” ماریہ نے بڑی محبت اور خلوص سے اسے شادی کی مبارکباد دی تھی, ساتھ ہی دھمکی بھی لگا دی تھی, رخسانہ ملک بھی جیسے تیسے آمادہ ہو ہی گئی تھیں,
وہ آج اس دن بعد ٹریننگ پر آیا تھا, ٹریننگ بھی پرسوں سے ختم ہو رہی تھی
“آپ تو پہلے ہی عید کا چاند ہیں ڈاکٹر صاحب… اب اور کوند اچانک بننے کی تیاریوں میں ہیں” ماریہ پوچھے بنا رہ نہ سکی
“بس کچھ مصروفیت تھی اسلئے… ” زخرف نے بغور اس کے چہرے کی طرف دیکھا
“ایسی کیا مصروفیت…؟” ماریہ نے پوچھا
“کیا مجھے اسے بتا دینا چاہیے ؟” زخرف نے پر سوچ انداز میں اس کی طرف دیکھا
“نہ جانے اس کا ردعمل کیا ہوگا ؟” وہ مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا تھا
“چلیں ٹھیک ہے… نہیں بتانا چاہتے تو آپ کی مرضی, ویسے بھی ڈاکٹر حضرات اپنی مصروفیات اپنے مریضوں کو کہاں بتاتے ہیں” ماریہ اس کی خاموشی کو نہ جانے کیا سمجھی تھی
“اگلے ہفتے میری شادی ہے ” زخرف نے دھیرے سے کہا
” بس اسی سلسلے میں مصروفیت کچھ زیادہ ہوگئی ہے” وہ جتنا اس کے چہرے کی طرف دیکھنے سے کترا رہا تھا, ماریہ اتنا ہی یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھے جا رہی تھی… بالکل خاموش… پھٹی پھٹی آنکھوں سے…
” ایک دن یہ ہونا تھا ماریہ… میں نے آپ کو پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں کمیٹڈ ہوں” زخرف کو اس پر بے پناہ ترس آیا, ماریہ کی آنکھیں یک لخت بھیگی گئیں
” میرے نصیب میں ہیں ہمیشہ کھو دینا ہی لکھا ہے…” وہ بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو پائے ہوئے تھی
“اپنی باتوں کو ثابت کرنے کے لیے میں نے کبھی قسمیں نہیں کھائیں ماریہ لیکن خدا کی قسم اگر میرے اختیار میں ہوتا تو میں آپ کی آنکھیں کبھی گیلی نہیں ہونے دیتا, آپ سے بہترین لڑکی شائد میرے لیے کوئی اور نہیں ہوتی اگر خدا نے آپ کو میرے نصیب اور دل دونوں میں رکھا ہوتا…” وہ اس کے ہاتھ میں ٹشو پیپر دیتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا تھا
…………………
بس آنسو تھے جو اس کے گالوں پر بہے چلے جارہے تھے…
بس درد تھا جو تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا تھا
بس سیاہ کالی رات تھی اور وہ…
” کیا اس لیے کرتے ہیں ہم محبت کی بعد میں اسے جدا کرنا پڑے” بس شکوے تھے جو اس کے لبوں سے پھسل رہے تھے
” کیا اس لیے چاہا تھا میں نے اسے کہ ایک دن کسی اور کا ہو جائے” صبر جو کسی طور ممکن نہیں تھا
“کب سے مانگ رہی ہوں اسے… میرا بھی تو ہوسکتا تھا نا..” بس گلے ہی گلے تھے, بس سوال ہی سوال تھے
” کب کب نہیں مانگا اسے… کیسے کیسے نہیں مانگا اسے… وہ میری ہر نماز کی دعا تھا, وہ میرے سجدوں کا سوال تھا, وہ میری طاق راتوں کی گزارش تھا, یا خدا اسے کھو کر کیسے جی پاؤں گی میں ؟” صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی اس کی آنکھیں بند ہوئی تھیں, ہوش آیا تو نائلہ اس کے سرہانے کھڑی تھیں , ان کے پیچھے اسے شایان کا مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا
” ماریہ… میری جان ” انہوں نے تڑپ کر اسے آغوش میں لے لیا
” کیوں بھئی ڈاکٹر صاحبہ… ابھی سے تھک گئیں, ابھی تو افتتاح بھی نہیں ہوا ” شایان مسکراتے ہوئے بولا, وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی
” آنٹی پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے, ماریہ اب بالکل ٹھیک ہے, آپ گھر جائیں, میں ہوں اس کے پاس… ” اس نے بمشکل سمجھا بجھا کر نائلہ کو گھر واپس بھیجا, وہ پچھلے مسلسل چار گھنٹوں سے اس کے پاس تھیں , زیادہ تھکن سے وہ خود بیمار ہو جاتیں, انہیں گھر واپس بھیج کر وہ دوبارہ اس کے کمرے میں چلا آیا, وہ چپ چاپ آنکھیں بند کیے پڑی تھی
” ماریہ…” اس نے ہولے سے اسے پکارا
” مجھے بتاؤ کیا پریشانی ہے؟” وہ اس سے پوچھ رہا تھا
“بتاؤ مجھے کیا ہوا ہے ؟” شایان کے اس قدر دوستانہ لہجے پر ماریا کی آنکھیں بھیگ گئیں, وہ تڑپ اٹھا
” کیا ہوا ہے ؟” وہ ماریہ کے آنسو دیکھ نہیں پا رہا تھا
” محبت بچھڑ گئی ہے میری…” ماریہ ایک دم بلک بلک کر رو دی, شایان سن بیٹھا اسے دیکھتا رہ گیا
کچھ تو تھا جو بڑی زور سے اس کے اندر ٹوٹا تھا
وہ سمجھتا تھا کہ شاید وہ ہی پاگل ہے لیکن… ماریہ تو اس سے بھی بڑی پاگل تھی, نجانے کب سے محبت کا زہر پی رہی تھی اور… زندہ تھی, نہ جانے کب سے محبت کی بھیک مانگ رہی تھی لیکن… پھر بھی خالی ہاتھ تھی… نہ جانے کب سے…
” کون ہے وہ بدقسمت جس نے تمہیں ٹھکرا دیا ” شایان نے پوچھا
” میں ہوں بد قسمت جسے وہ مل نہیں سکا…” ماریہ نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے تھے
” میں کتنی بھی کوششیں کر لوں شایان… کتنی بھی دعائیں مانگ لوں, کسی کو اپنا بنانے کے کتنے بھی جتن کر لوں , کبھی کامیاب نہیں ہو پاتی… میرے نصیب میں شاید کسی کا نہ ہونا ہی لکھا ہے… پہلے بابا چھوڑ گئے, پھر ماں پرائی ہو گئی اور اب… ” وہ رو رہی تھی اور شایان کے پاس اسے تسلی دینے کے لیے کچھ نہیں تھا
الفاظ بھی نہیں…
……………………..
سائرہ آج اپنی شادی کا کارڈ لیکر آئی تھی, ماریہ کو بستر سے لگے دیکھا تو حیران رہ گئی
“اسے کیا ہوا …؟” وہ انتہائی صدمے کی حالت میں تھی”کچھ نہیں ہوا, بس اہنے ہسپتال کو افتتاحیہ کے طور پر خود مریض بن کر ایک تحفہ دے دیا ہے ماریہ نے…” شایان مسکرا کر بولا
“پھر بھی… ہوا کیا ہے ” سائرہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی
“بس یار… تھکن ہو گئی ہے” ماریہ نے کہا, اب وہ اسے حقیقت کیا بتاتی
“خبردار جو اب میری شادی تک أپ نے اسے مزید کوئی کام کیا تو… چہرہ دیکھیں کتنا سا نکل آیا ہے اس کا, بہت کام لیتے ہیں آپ اس بیچاری سے, مفت کی ڈاکٹر سمجھ رکھا ہے” سائرہ اس پر راشن پانی لیکر چڑھ دوڑی تھی, شایان نے دونوں کان لپیٹ لیے
“پرسوں میری بارات ہے اور تم ذرا نہ تو آنا… ساری عمر منہ نہیں دیکھوں گی تمہارا” سائرہ کی توپ کا رخ یکدم اس کی طرف ہو گیا تھا
“زندہ رہی تو ضرور آؤں گی” ماریہ نے کہا
“ابھی نہیں مر رہی تم… اسی کی ہو کہ مرو گی مجھے پتہ ہے” سائرہ نے اس کے ایک دھموکا جڑا تھا
شام تک اس کی طبیعت کیسی بہتر ہو گئی, وہ گھر جانے پر بضد تھی جبکہ شایا ابھی اس کے گھر جانے کے حق میں نہیں تھا
“پتہ ہے نا… مرتے مرتے بچی ہو” شایان نے کہا, وہ بس مسکرا کر رہ گئی
“گھر جا کر سیدھی اپنے کمرے میں جانا, سیل ایک کونے میں پھینک کر لمبی تان کر سو جانا… سمجھیں ” اس نے بڑے پروفیشنل سے انداز میں اسے تاکید کی تھی
………………
وہ کافی دیر کرسی پر بیٹھی ڈائری صفحے کالے کرتی رہی, ایک وہی تو اس کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی, پھر کمبل تان کر لیٹ گئی
رات کے گیارہ بج ے والے تھے
دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس نے زخرف کو میسیج کیا تھا
“No Hope…?
دس منٹ بھی اس کا ٹیکسٹ آ گیا
“No… “
وہ کافی دیر تک سیل کی سکرین کو دیکھتی رہی, اچانک ہی سکرین جگمگا اٹھی, زخرف کی کال تھی
“کیسی ہیں ڈاکٹر ماریہ ؟” اس نے پوچھا, وہ جواب نہ دے سکی, بس آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں
“میں جانتا ہوں اس وقت آپ کسی کونے میں چھپ فل ٹائم رونے کی تیاریوں میں ہوں گی” زخرف نے کہا
“آس سے زیادہ اور کیا ہے میرے بس میں زخرف… ” ماریہ کی آواز اسے بہت ڈھیلی سی لگی
“ماریہ طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ؟” آس نے پوچھا
“بس ہارٹ اٹیک چند قدم دور رہ گیا تھا ” وہ بولی تو زخرف سن رہ گیا
“ہارٹ اٹیک… ” اس سے بولا ہی نہ گیا
“ماریہ آپ کی زندگی میں صرف میں صرف میں ہی نہیں ہوں, اور لوگ بھی ہیں, پلیز آن کی خاطر ہی اپنا خیال رکھا کریں”زخرف نے کہا, اسے سچ میں بہت دکھ ہوا تھا
“زخرف کاش آپ میرے ہو جاتے… ” ماریہ بے بس تھی
“پھر کیا ہوتا ؟” آس نے پوچھا
“دنیا میرے قدموں میں ہوتی” ماریہ نے برجستہ کہا تھا
“ماریہ یقیناً خدا نے آپ کے نصیب میں مجھ سے کہیں بہتر لکھ رکھا ہے… میرے اختیار میں ہوتا تو اسقدر بے کراں چاہت کا کبھی نہیں ٹھکراتا” زخرف جانتا تھا کہ وہ اس سے جیت نہیں سکتا
“اگر آپ سے بہتر ہی چاہئے ہوتا تو میں رات کے اس پہر سوالیوں کی طرح آپ کی منتیں نہیں کر رہی ہوتی زخرف… نہیں چاہئے, نہ آپ جیسا, نہ آپ سے بہتر… کیونکہ نہ کوئی آپ جیسا ہے, نہ آپ سے بہتر” ماریہ نے کہا تھا, زخرف خاموش رہ گیا
“زندگی بھر مجھے اس بات پر ناز رہے گا کہ آپ میرا انتخاب ہیں, میرے اختیار میں بس دو ہی چیزیں ہیں, اپنے رب سے آپ کو مانگتے رہنا… اور آپ سے آپ کو مانگتے رہنا, اور میں یہ دونوں ہی کرتی رہوں گی” اس نے ہاتھوں کی پشت سے آنکھوں کو رگڑتے ہوۓ کال کاٹ دی تھی
…………………
رات کا پچھلا پہر تھا جب ان کی آنکھ کھلی, کروٹ بدلی تو بستر خالی تھا, وہ اپنی شال کندھوں کے گرد لپیٹتے ہوۓ باہر نکل آئیں, ان کی توقع کے عین مطابق وہ سوئمنگ پول کے کنارے رکھے بینچ پر بیٹھے تھے, وہ دھیرے سے ان کے پاس بیٹھ گئیں
“میرا خیال ہے ولید کہ بائیس سال بہت ہوتے ہیں کسی کو بھلانے کے لئے… اور کسی کا ہو جانے کے لیے ” عنبرین نے کہا
“تمہارا ہو تو گیا ہوں عنبرین… ” وہ تھکے تھکے لحجے میں بولے
“لیکن اسے تو نہیں بھولے نا… ” عنبرین نے شکوہ کیا تھا
“پہلی محبت ہزاروں سالوں میں بھی نہیں بھلائی جا سکتی” وہ بولے
“ولید کیا نہیں ہے آپ کے پاس ؟ میں نے کبھی اپنی محبت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی, دو انتہائی ذہین بیٹوں کے باپ ہیں آپ, اتنا بڑا ہاسپٹل کے… دولت, شہرت, عزت… کیا نہیں ہے؟ پھر کس کے لئے اسقدر بے چین ہیں ؟” عنبرین کہتی چلی گئیں
“اس ننھے سے وجود کے لئے جسے اس رات دروازے سے تنہا لگا کھڑا چھوڑ آیا تھا میں… ” وہ رو پڑے, عنبرین نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“میں نے آپ سے کتنی بار کہا ہے ولید کہ پلٹ جائیں, جا کر مل لیں اس سے” عنبرین نے کہا
“اور اگر اس نے کہہ دیا کہ کون ہو تم ؟ کیا لینے آۓ ہو اب ؟ تو کیا کروں گا ؟ ” اس لمحے انہیں شدت سے ماضی یاد آ رہا تھا
“اگر پہچاننے سے ہی انکار کر دیا تو کیا کروں گا ؟ شکل دیکھنے سے ہی منع کر دیا تو کیا کروں گا ؟” وہ کہتے چلے گئے
“وہ آخر کیوں انکار کرے گی آپ کو ولید… ؟ خون ہے وہ آپ کا ؟” عنبرین نے کہا
“کر سکتی ہے عنبرین… وہ کہہ سکتی ہے کہ جس طرح بائیس سال پہلے آپ کو میری کوئی ضرورت نہیں تھی… بالکل ویسے ہی آج مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں” انہیں شدت سے وہ یاد آ رہی تھی
جاری ہے