Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1


“ماریہ… ” اس نے ایک دم چونک کر سائرہ کی طرف دیکھا
“کب سے گلا پھاڑ رہی ہوں ؟ کہاں گم ہے ؟” سائرہ اس پر برس ہی پڑی
“ساری رات نیند نہیں آئی, اب سر بھاری ہو رہا ہے” وہ چشمہ اتار کر کنپٹیاں سہلاتے ہوۓ بولی تھی
“یہ تیری نیندیں کہاں چھو منتر ہو گئیں ہیں آجکل… آۓ روز ہی تیرا سر بھاری رہنے لگا ہے, ماجرا کیا ہے ؟” سائرہ بغور اسے دیکھ رہی تھی
“پتہ نہیں… میں جاؤں اب… ؟ باقی کل ڈسکس کر لیں گے” اس نے دھیرے سے کہتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے سائرہ کے برابر میں بیٹھے شایان کی طرف دیکھا جو کب سے خاموش بیٹھا اسے دیکھے جا رہا تھا
“ٹھیک ہے… جائیں ریسٹ کریں جا کر” شایان نے کہا, وہ خاموشی سے اپنا بیگ کندھے پر ڈالتے ہوئے کمرے سےباہر نکل گئی
“ماریہ آجکل کچھ زیادہ ہی پریشان رہنے لگی ہے, پتہ نہیں کیا وجہ ہے ؟ یہ اپنی پریشانیاں کسی سے شئیر بھی تو نہیں کرتی ہے کہ چلو ذرا بوجھ ہی کم ہو جاۓ” سائرہ نے کہا
“کبھی کبھی مجھے بڑا ترس آتا ہے ماریہ پر… ماں, باپ اور بہن بھائیوں کے ہونے کے باوجود وہ بالکل تنہا ہے… میرا دل کرتا ہے میں اس کی ساری پریشانیاں حل کر دوں, اس سے زیادہ بے لوث اور پر خلوص لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی” ماریہ اور وہ نہ صرف آپس میں کلاس فیلوز تھیں بلکہ پچھلے دو سال سے ایک ساتھ شایان کے کلینک پر کام کر رہی تھیں… سائرہ کو وہ خاموش طبع اور نفیس سی لڑکی بہت عزیز تھی, شایان چپ چاپ اس کا “ماریہ نامہ” سنتا رہا
“آپ ہی پوچھ لیں اس سے کہ کیا مسئلہ ہے اس کے ساتھ ؟” اس کی توپ ک ارس ایک دم شایان کی طرف ہو گیا
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں نے نہیں پوچھا ہو گا ؟” شایان نے کہا
“تو پھر ؟” وہ آگے کو ہوئی
“تمہیں کیا لگتا ہے کہ اس نے مجھے بتا دیا ہو گیا ؟” شایان نے جیسے اس کی عقل پر ماتم کیا, وہ برا سا منہ بنا کر پیچھے کو ہو گئی
“یہ ماریہ بھی نا بالکل آپ جیسی ہے, انڈر ہی اندر گھلتی رہے گی لیکن اپنے مسائل کسی سے شئیر نہیں کرے گی” سائرہ جیسے زچ ہو کر بولی, شایان دھیرے سے مسکرا دیا
“اور آپ مجھے یہ بتائیں کہ گھر کا چکر لگاۓ کتنی صدیاں گزر چکی ہیں ؟” وہ اس پر چڑھ دوڑی, شایان اپنے دونوں کان لپیٹ کر سامنے پڑی فائلوں میں میں غرق ہو گیا
“میں کچھ پوچھ رہی ہوں آپ سے ؟ پرسوں روحان کی سالگرہ ہے اور آپ آ رہے ہیں سمجھے نا… ” سائرہ نے اس کے سامنے سے ساری فائلیں ایک طرف کر دیں
“اچھا دیکھوں گا… ” شایان نے جان چھڑوانی چاہی تھی
“میں بتا رہی ہوں اگر آپ پرسوں نہ آۓ تو میں نے بھی آپ کے کلینک پر نہیں آنا… چپ چاپ شفاء ہاسپٹل جوائن کر لینا ہے, دو بار بلا چکے ہیں وہ مجھے… ” سائرہ نے جیسے اسے وارننگ دی تھی
“مما بھی اداس ہو گئی ہیں… ” اس نے ایک نظر شایان کی طرف دیکھتے ہوئے آخری وار کیا تھا… ایموشنل وار
“روز پوچھتی ہیں آپ کا ؟” وہ اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کھڑی ہو گئی
“کہا تو ہے… دیکھوں گا” شایان نے وعدہ ابھی بھی نہیں کیا تھا, وہ بس ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی
“گھر… ” اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی تھی
“میں تمہیں کیسے سمجھاؤں سائرہ کہ وہ میرا گھر نہیں ہے…وہ میری ماں کا گھر ہے, وہ تمہارے باپ کا گھر ہے… وہ تمہارا گھر ہے لیکن… میرا گھر نہیں ہے” اس نے دونوں أنکھیں موند لیں
“بالکل ویسے جیسے ماریہ کا کوئی گھر نہیں ہے… ماریہ, میری جان” اس کے لبوں سے سرگوشی سی نکلی
“میں بناؤں گا ایک گھر… اپنا اور ماریہ کا” وہ نہ جانے کونسویں مرتبہ خود سے یہ عہد کر رہا تھا, دو سال ہو گئے تھے اسے ماریہ سے محبت کرتے… خاموش محبت
نہ کوئی اظہار… نہ اقرار, نہ کوئی قول… نہ قرار
بس چپ چاپ محبت کئے جا رہا تھا
………………..
“زخرف… ابو بلا رہے ہیں” مومنہ نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر اسے اطلاع دی تھی, وہ چاۓ کا کپ ہاتھ میں لئے اگلے ہفتے ہونے والی ٹریننگ کاشیڈول دیکھ رہا تھا, لیپ ٹاپ آس کے سامنے کھلا ہوا تھا
“خیریت تو ہے ؟” اس نے پوچھا
“لگتا تو نہیں ہے” مومنہ نے آنکھ دبائی
“کیوں ؟” وہ چونک گیا
“آج پھپھو ہو کر گئیں ہیں ” وہ اسے خبردار کرتی ہوئی واپس چلی گئی, زخرف نے ایک لمبی سانس بھری تھی
یہ وہ جنگ تھی جو اسے ہر دوسرے ہفتے لڑنی پڑتی تھی… اور اس جنگ کو لڑتے اسے دو سال ہونے کو آۓ تھے
نہ جانے قسمت میں جیت تھی بھی یا نہیں…
چاۓ کا کپ خالی کر کہ وہ نیچے شعیب ملک کے کمرے کی طرف چلا آیا, اس کی توقع کے عین مطابق اس کی والدہ اسماء ملک اور بڑی بہن ناعمہ بھی وہیں موجود تھیں, سب کو مشترکہ سلام کرتا ہوا وہ بیڈ کے ساتھ رکھے صوفے پر ناعمہ کے ساتھ بیٹھ گیا
“ابو آپ نے بلایا مجھے ؟” وہ اپنی شخصیت میں ہر طرح سے مکمل تھا, سعادت مندی کی کوئی کمی نہیں تھی, فرمانبرداری میں کوئی کھوٹ نہیں تھا, عادات و اطوار کی گواہی دوست اور دشمن سبھی آنکھیں بند کر کہ دیتے تھے, اخلاق و کردار میں اس کا کوئی ثانی نہیں تھا, وجاہت و دلکشی کے تو کیا ہی کہنے تھے
“تمہاری پھپھو آئی تھیں آج ؟ وردہ کا ماسٹرز مکمل ہو گیا ہے” انہوں نے جیسے اسے اطلاع دی, وہ خاموش سر جھکاۓ بیٹھا رہا
“وہ مجھ سے شادی کی تاریخ مانگ رہی ہیں زخرف… ” شعیب ملک کی آواز اونچی ہو گئی
“ابو میں آپ کو پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں کہ میں وردہ سے شادی نہیں کر سکتا… ” اس نے بڑےضبوط لحجے میں کہا تھا
“اور یقیناً اس انکار کی وجہ وہ پرائی لڑکی کی ہے… ہے نا؟” انہیں غصہ آ گیا
“وہ پرائی لڑکی میری محبت ہے ابو… میں نہ تو وردہ کو دھوکہ دے سکتا ہوں اور نہ اس معصوم لڑکی کو جو پچھلے دو سال سے میرے آسرے پر بیٹھی ہے” زخرف نے کہا
“زخرف میری ایک بات کان کھول کر سن لو, کم از کم میرے ہوتے ہوۓ وہ لڑکی اس گھر میں نہیں آۓ گی, مجھے ایک بار پھر چوبیس سال پہلے والا فیصلہ دہرانے پرجبور مت کرو, وہ غلطی مت کرو جو شاہین نے کی تھی” شعیب ملک آخر کہہ ہی گئے
“چاچو نے کوئی غلطی نہیں کی تھی ابو… انہوں نے صرف محبت کی اور پھر بہادروں کی طرح اس محبت کو سرخرو بھی کیا….خاندان والوں کے دباؤ میں آ کر بزدلوں کی طرح اس محبت سے منہ نہیں موڑ لیا” زخرف نے کہا
“تو بے ہوا کہ تمہیں بھی شاہین والے راستے پر ہی چلنا ہے” شعیب ملک کے ابرو تن گئے
“نہیں ابو… مجھے چاچو والے راستے پر چلنا ہوتا تو اب تک میری شادی ہو چکی ہوتی, میں آج چاہوں تو الگ گھر لیکر اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہوں لیکن… مجھے صرف محبت نہیں نبھانی, مجھے اپنے رشتوں کا مان بھی رکھنا ہے, مجھے چاچو کی طرح سب سے کٹ کر نہیں رہنا, ہمیشہ آپ سب لوگوں کے ساتھ رہنا ہے, میں اسے اسی گھر میں لیکر آؤں گا اور تب لیکر آؤں گا جب آپ سب لوگ دل سے راضی ہوں گے… ورنہ نہیں, لیکن پلیز, میں وردہ سے شادی نہیں کر سکتا, مئ ساری عمر وفا تو نبھا سکتا ہوں لیکن وردہ کو دھوکہ نہیں دے سکتا” زخرف کہتا چلا گیا, شعیب اور اسماء ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر رہ گئے
“وہ لڑکی کیا ساری عمر تمہارا انتظار کر لے گی ؟” انہوں نے جیسے ہار مانتے ہوۓ پوچھا”
“اس کے بس میں ہوا تو کر لے گی, وگرنہ میں اسے بھی پابند نہیں کروں گا, وہ اگر آنے ماں, باپ کے دباؤ میں آ کر کہیں اور شادی کرنے پر مجبور ہو گئی تو میں کوئی گلہ نہیں کروں گا, لیکن وردہ سے شادی میں تب بھی نہیں کروں گا, کیونکہ میں اپنے دل میں کسی اور کو اور پہلو میں کسی اور کو نہیں رکھ سکتا” آس نے بڑے مضبوط انداز سے اپنا فیصلہ سنایا تھا
“آپ پلیز پھپھو کو انکار کر دیں… ” وہ دھیرے سے کہتے ہوۓ کھڑا ہو گیا
“یہ بغاوت ہے زخرف… ” شعیب ملک نے کہا
“یہ صرف میری مرضی ہے ابو… ” وہ ان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا
“آپ ہی ہار مان لیں… زخرف بھی آخر کو آپ کا ہی خون ہے, آپ اپنی ضد پر اڑے رہیں گے تو کیا وہ نہیں اڑے گا” اسماء نے کہا
“اور ابو وہ لڑکی کوئی غیر تھوڑی نا ہے, یاد رکھیں کہ اس کا باپ کون ہے, اگر زخرف کی رگوں میں آپ خون ہے تو اس کی رگوں میں بھی اس کے باپ کا ہی خون دوڑ رہا ہے, وہ باپ جس نے محبت کی خاطر پورے خاندان سے ٹکر لے لی تھی اور پھر ایک بار بھی پیچھے مڑ کر نہی دیکھا, اگر زخرف ڈٹ گیا ہے نا… تو وہ بھی اتنی جلدی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گی” ناعمہ کہتی چلی گئی
“یعنی میں ہی سر جھکاؤں ؟” شعیب ملک تڑخ گئے
“ساری زندگی اس نے آپ کے آگے سر جھکایا ہے شعیب… اب اگر پہلی بار آپ اس کی ضد کے آگے ہار بھی گئے تو کیا ؟ بیٹا بھی تو آپکا ہی ہے” اسماء نے کہا, شعیب ملک بس ان دونوں کو گھور کر رہ گئے تھے
…………………..
“شایان… بیٹا تو تو عید کے چاند سے بھی دو ہاتھ آگے ہی ہو گیا ہے, وہ بیچارہ بھی سال میں دو دفعہ نظر آ جاتا ہے” وہ حفصہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا, سائرہ کے انتہائی پرشور اصرار پر وہ روحان کی سالگرہ پر گھر آ ہی گیا تھا, حفصہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوئی تھیں, ڈنر کے بعد وہ زبردستی اسے اپنے کمرے میں کھینچ لائیں
“ان بالوں میں کبھی تیل ہی لگا لیا کر… ” وہ اس کے خشک بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بولیں
“ماں پلیز… کہیں لگا ہی نا دینا تیل… ” وہ ایک دم بدکا کہ مبادہ کہیں وہ اس کے بالوں کو تیل سے لتھیڑ ہی نہ دیں, حفصہ بس دھیرے سے مسکرا کر رہ گئیں
“شایان… ” انہوں نے دھیرے سے اسے پکارا تھا
“جی ماں… ” شایان کی آنکھیں آن کے لمس کے زیر اثر بند ہوئی جا رہی تھیں
“بیٹے اگر تجھے مجھ سے کوئی شکایت ہے تو کہتا کیوں نہیں ہے ؟” حفصہ نے کہا, کہیں دور ان کے دل میں آج بھی یہ کسک زندہ تھی کہ شایان کی زندگی ک یہ سونا پن صرف اور صرف ان کی لا پرواہی کا نتیجہ تھا, پچیس سال پہلے انہوں نے جو فیصلہ لیا, اس کا سب سے زیادہ خمیازہ شایان نے ہی بھگتا تھا, محبت کا حق ادا کرتے کرتے وہ اپنے دو سال کے بیٹے سے دور ہوتی چلی گئیں تھیں
“نہیں ماں… مجھے کوئی شکایت نہیں ہے آپ سے, بس مجھے یہاں آتے ہوئے عجیب سا لگتا ہے, کیا صرف آپ ہیں جو میری ہیں, باقی سب پرایا پرایا سا لگتا ہے” شایان کہتا چلا گیا, حفصہ نے ایک لمبی سانس بھری تھی
“اچھا چل یہ بتا کہ شادی کب کرے گا ؟” انہوں نے بات بدل دی
“ہہلے سائرہ کی تو کر دیں ” وہ دھیرے سے ہنسا
“وہ تو پتہ نہیں کیا کرے گی ؟ بس اپنی ضد پر اڑی ہوئی ہے, یا تو بندے کو اسقدر لمبے انتظار کے بعد کوئی صلہ ملنے کی آس ہو تو پھر بھی ہے” حفصہ انتہائی پریشان تھیں
“اگلے ماہ پچیس کی ہو جاۓ گی… ” وہ بولیں
“اس کے بابا کیا کہتے ہیں ؟” وہ زوہیب ملک کو آج تک کسی بھی رشتے سے نہیں بلا سکا تھا
“بس چپ ہیں, نہ اس کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ میرا… ” حفصہ نے کہا
“شایان تیری کافی حد تک مانتی ہے وہ, تو اسے سمجھا نا” حفصہ نے کہا
“اچھا آپ پریشان نہ ہوں, میں بات کرتا ہوں اس سے” اس نے حفصہ کو مطمئین کرنا چاہا تھا
……………………
“ماریہ… ماریہ… ” وہ اسے آوازیں دیتی ہوئی باہر آئیں تو ایک دم ٹھٹھک گئیں, وہ گھپ اندھیرے میں لان میں پڑے بینچ کے ساتھ ٹیک لگاۓ گھاس پر بیٹھی تھی, نائلہ کی آوازیں اسے جیسے سنائی ہی نہیں دیں
“ماریہ… ” انہوں نے اس کے بالکل قریب آ کر اس ک کندھا ہلایا, وہ ایک دم ہوش کے دنیا میں واپس آئی تھی
“کیا ہوا امی ؟” وہ ایک دم بولی
“یہاں اندھیرے میں کیوں بیٹھی ہے ؟ گھاس میں سے کوئی چیز کاٹ گئی تو ؟” وہ پریشان ہو گئیں
“بس امی اندر ہی آ رہی تھی” ماریہ نے ان کے دونوں ہاتھ تھام لئے
“ماریہ… چندا کوئی پریشانی ہے تو بتا مجھے, کیا ہوا ہے, کئی دنوں سے ایسی ہی ہے… بالکل گم صم” نائلہ کافی پریشان تھیں
“کچھ نہیں امی… کوئی پریشانی نہیں ہے, بس آجکل ہاسپٹل سیٹ کرنے میں لگی ہوئی ہوں اسلئے تھوڑی تھکن ہو جاتی ہے” وہ انہیں مطمئین کر رہی تھی
“دن بدن دبلی ہوتی جا رہی ہے, چل چل کہ کھانا کھائیں” نائلہ نے اسے بازو سے کھینچ کر اپنے آگے کیا تھا
“امی آپ کھا لیں, میں بعد میں کھا لوں گی, ابھی بھوک نہیں ہے” وہ ان کی وہیل چیئر گھسیٹتے ہوئے اندر لے آئی
“ماریہ… ” انہوں نے گھور کر اس کی طرف دیکھا
“پکا امی, عد میں کھا لوں گی” وہ ایک نظر انہیں دیکھتی ہوئی اوپر آ گئی
اسے بہت عجیب لگتا تھا ان سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا… اتنے سالوں میں بھی وہ سب اس کے لئے اجنبی ہی تھے, چھت پر آتے ہی وہ دیوار کے ساتھ پڑی چارپائی پر گر گئی
دل مسلسل جیسے کسی کنویں میں گر رہا تھا, سینے پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا
“یا خدا… ” وہ بے بس ہو گئی, آنکھوں کے گوشے نم ہوۓ جا رہے تھے
اس لمحے شدت سے ” وہ “یاد آ رہا تھا, پورا ایک ہفتہ ہو گیا تھا اسے دیکھے, اس کی آواز سنے… صورتحال نے قابو ہوۓ جا رہی تھی
“یہ کیسا امتحان ہے میرے مالک…. کاش مجھے پتہ ہوتا کہ وہ میرا نہیں ہو سکتا, کاش…” وہ شاید رو رہی تھی
اور وہ گھڑی شاید قبولیت کی گھڑی تھی, چارپائی کے سرہانے پڑا اس کا سیل وائبریٹ ہوا تھا, اس نے چونک کر دیکھا
سکرین پر Dr. Zukhruf Malik جگمگا رہا تھا
وہ دونوں ہاتھوں کی پشت سے آنکھوں کو رگڑتی ہوئی بے یقین نظروں سے سیل کی طرف دیکھتی رہ گئی, دل جیسے یکلخت ساکن ہو گیا تھا, پھر اچانک ہی اس کے ہونٹ مسکرا اٹھے
کوئی اس لمحے اسے دیکھ لیتا تو شائد اپنا ہی سر پھوڑتا کہ ایک انتہائی قابل اور میچور ہارٹ سرجن ہونے کے باوجود وہ کیسے محبت کے ہاتھوں ذلیل ہو رہی تھی
“اسلام علیکم… ” بڑی مشکل سے اس کی آواز نکلی تھی
“وعلیکم السلام… زخرف بات کر رہا ہوں ڈاکٹر ماریہ” اس کا وہی ازلی بے نیاز لحجہ جو ماریہ کے دل میں کسی تیر کی طرح اتر جاتاتھا… اور اب بھی اتر گیا تھا
“جی… کیسے ہیں آپ ؟” ماریہ نے کہا
“شکر خدا کا, میں نے پوچھا تھا کہ نیکسٹ ویل کو ٹریننگ سٹارٹ ہے اس کی ٹائمنگ کیا ہو گی ؟” زخرف نے پوچھا
“صبح نو سے شام چار بجے تک… ” ماریہ نے بتا دیا
“بہت شکریہ… اور آپ سنائیں ڈاکٹر صاحبہ… ٹھیک ٹھاک ہیں ؟” زخرف نے پوچھا
“نہیں.. بالکل بھی نہیں” ماریہ نے کہا
“کیوں… کیا ہوا ہے ؟” وہ تھوڑا پریشان ہوا تھا
“آپ نے مجھے مجھے بیمار کر دیا ہے زخرف… ” ماریہ نے کہہ ہی دیا, زخرف بول نہ سکا
“کہیں کا نہیں رہنے دیا مجھے, آپ اس وقت میری حالت دیکھ لیں تو میری عقل پر ماتم کریں, میں نے سنا تھا کہ آپ بہت قابل ڈاکٹر ہیں, اپنے مریضوں کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتے لیکن… مجھے تو چھوڑ دیا نا زخرف… ” وہ بولی
“مریض محبت لا علاج ہوتے ہیں ماریہ” زخرف نے کہا
“تو لا علاج مریضوں کو لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیتے ہیں کیا ؟” ماریہ نے کہا, زخرف خاموش رہ گیا
“ماریہ میں آپ کو اپنی تمام تر مجبوریاں گنوا چکا ہوں, پہلی بات یہ کہ میں پہلے سے کمیٹڈ ہوں, اب سے نہیں… پچھلے دو سال سے… اور جس سے کمیٹڈ ہوں اس کے ساتھ پوری طرح وفادار ہوں, اس سے بہت محبت کرتا ہوں, دوسری بات یہ کہ میری فیملی برادری سے باہر رشتے نہیں کرتی, انتہائی پڑھا لکھا خاندان ہونے کے باوجود یہ ہمارا المیہ ہے کہ برادری سے باہر شادی کو گناہ کے مترادف سمجھا جاتا ہے, بالفرض میں کہیں اور کمیٹڈ نہ بھی ہوتا, بالفرض مجھے کسی اور سے محبت نہ بھی ہوتی, تب بھی میں آپ سے شادی نہیں کرتا کیونکہ یہ ناممکنات میں سے ہے” زخرف کہتا چلا گیا, وہ بس چپ چاپ سن رہی تھی
“میں آپ کے لئے کچھ نہیں کر سکتا ماریہ…یقین کریں جب میں نے پہلی بار آپ کے بارے میں سنا تھا تو بے حد خوشی ہوئی تھی مجھے, پھر رفتہ رفتہ پتہ چلا کہ ڈاکٹر ماریہ خان تو بہت قابل ڈاکٹر ہیں, خوشی کے ساتھ ساتھ تھوڑا تھوڑا ڈر بھی لگنے لگا, لیکن میں نے ہمیشہ آپ کی تعریفیں ہی سنی ہیں ماریہ… اور میں یہ بالکل نہیں چاہوں گا کہ اسقدر قابل اور ہنر مند لڑکی صرف میری خاطر اپنا آپ گنوا دے” زخرف نے کہا
“آپ کو کیا پتہ زخرف… کہ اسقدر قابل اور ہنر مند لڑکی آپ کی خاطر اپنا آپ گنوا بھی چکی” ماریہ کی آنکھیں پھر سے نم ہوئی تھیں
“میں مجبور ہوں ماریہ… جیسا آپ چاہتی ہیں ویسا کچھ بھی نہیں ہو سکتا” وہ دھیرے سے کہتے ہوئے کال کاٹ گیا تھا, ماریہ دوبارہ سے چارپائی پر گر گئی
یہ فقرہ سنتے اسے نہ جانے کتنے ہی ماہ ہو گئے تھے
……………………….
“اجازت ہے ؟” وہ سائرہ کے کیبن کے دروازے میں کھڑا تھا
“آئیں… اجازت کیوں لے رہے ہیں ” وہ خوشدلی سے بولی تھی , شایان دھیرے سے سر ہلاتے ہوئے اس کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا
“تو پھر کیا کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب ؟” اس نے پوچھا , سائرہ کو اس سوال کی توقع نہیں تھی
“کوشش کر رہے ہیں… ” وہ بولی
“تو کیا ساری عمر بس “کوشش” ہی کرتے رہیں گے ؟” شایان نے پوچھا, سائرہ خاموش رہی
“تمہارے پاپا نے بھی تو سٹینڈ لیا تھا نا ماں کی خاطر… تو وہ کیوں نہیں لے سکتا ؟” شایان نے پھر پوچھا
“کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ وہ میری خاطر سٹینڈ لے ” سائرہ نے کہا
“کیوں ؟” شایان چونک گیا
“کیونکہ میں نہیں چاہتی کہ زخرف بھی ویسی ہی زندگی گزارے جیسی میرے پاپا گزار رہے ہیں, بے شک انہوں نے محبت کو معتبر کر دیا لیکن… میں نے انہیں اب بھی راتوں کو اکثر جاگتے دیکھا ہے, اب بھی رشتوں کا ذکر آۓ تو ان کی آنکھیں گیلی ہو جاتی ہیں, مجھے پتہ ہے وہ ترس گئے ہیں اپنے بہن بھائیوں کے لئے… زخرف اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے, آخر کیوں ہمیشہ محبت اور رشتوں میں سے کسی ایک کی قربانی دینی پڑے ؟, آخر کیوں انسان ان دونوں کو ایک ساتھ سرخرو نہیں کر سکتا ؟” سائرہ کہتی چلی گئی
“اور اگر اس کی فیملی نہ مانی ؟” شایان نے پوچھا
“تب بھی اس کا جو فیصلہ ہو گا… مجھے قبول ہو گا, لیکن جب تک وہ کوششیں کر رہا ہے, میں اس کے ساتھ ہوں, جب وہ تھک جاۓ گا… تب دیکھا جاۓ گا” سائرہ نے فیصلہ سنا دیا, شایان بس اسے دیکھ کر رہ گیا
وہ اسے کیا سمجھاتا… وہ تو پہلے سے سمجھی سمجھائی تھی
جاری ہے