Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

.. تمہاری بیٹی” نائلہ کے آنسو نکل آۓ
ڈاکٹر ماریہ خان… ایک انتہائی قابل باپ کی انتہائی قابل بیٹی
وہ جیسے غائب دماغی سے اندر آۓ تھے, ماریہ ہوش و حواس کے بیگانہ ہو کر بستر پر پڑی تھی
ان کی گڑیا.. جسے صرف چند سال کی عمر میں تنہا کر دیا تھا انہوں نے, وہ آج زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہی تھی, کتنا یاد کرتےتھے وہ اسے ؟ کتنا بے چین ہو جاتے تھے اس کے بارے میں سوچ کر ؟
نہ جانے کیسی ہو گی ؟
نہ جانے کس حال میں ہو گی ؟
اسے یاد کرتے ہوئے انہیں کہاں معلوم تھا کہ ان کی گڑیا تو ان جیسا بننے کی تیاریوں میں تھی
پانچ سال نہیں… دس سال نہیں… آج پورے بائیس سالوں بعد ملی تھی وہ انہیں
کارڈیالوجسٹ ماریہ خان کے بارے میں بات کرتے ہوئے, اس کے لیکچرز اٹینڈ کرتے ہوئے, اس کی بے تحاشا تعریفیں سنتے ہوئے, انہیں کہاں پتہ تھا کہ وہ ان کی اپنی کارڈیالوجسٹ تھی
ان کی ذہین ترین بیٹی
“میری بچی… ” وہ اس کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھتے چلے گئے
“ایمرجنسی بائی پاس کرنا پڑے گا ڈاکٹر… ان کا دل بے حد کمزور ہو چکا ہے” ایمر جنسی ڈاکٹر نے ان سے کہا
“اگر آپ میری جگہ ہوتے تو کسے چنتے ؟” ان کے ذہن میں اس کی آواز لہرائی تھی
“کسی اور کے شاندار سے ہسپتال کے آئی سی یو کو یا اپنے عام سے ہسپتال کے جنرل وارڈ کو ؟” وہ رائزنگ سٹار ان کا اپنا خون تھی
وہ خود کو یکجا نہیں کر پا رہے تھے, بائیس سالوں میں آج پہلی بار انہیں آپریشن تھیٹر میں کھڑے پسینہ آ گیا
پہلی بار انگلیاں لرز سی گئیں
وہ بہادر لڑکی ان کا خون تھی… اپنی معذور اور روگی ماں کے ہوتے ہوئے بھی آگے بڑھ جانے والی, بنا کسی سہارے کے ڈاکٹر ماریہ خان بن جانے والی, اپنی محنت اور قابلیت سے پورا ہسپتال کھڑا کر لینے والی… اور پھر صرف اپنی محبت کی خاطر سب کچھ ایک لمحے میں ٹھکرا دینے والی
وہ آپریشن شروع نہیں کر پا رہے تھے
“ڈاکٹر زخرف کو بلاؤ… ” انہوں نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا تھا
…………..
“وہ ابھی گھر پہنچا ہی تھا کہ اسے شایان کی کال آ گئی
“زخرف… کہاں ہو تم ؟” اس نے پوچھا
“خیریت ہے ؟” زخرف پریشانی سے بولا
“ڈاکٹر ماریہ کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے… وہ اس وقت شفاء ہسپتال میں ہے” شایان نے اس کے حواس گم کئے تھے, وہ دھواں دھار گاڑی چلاتا ہوا ہسپتال چلا آیا
“ڈاکٹر ولید آئی سی یو میں ہیں … ” کسی نے اسے بتایا تھا, وہ بھاگتا ہوا آئی سی یو میں آ گیا
“ڈاکٹر زخرف آ گئے ہیں سر… ” ایک نرس نے کہا, زخرف تیر کہ طرح ان کی طرف آیا, ماریہ کا بیڈ پر پڑا بے جان وجود اس کی روح تک کھینچ گیا تھا
“یہ ایک بار پہلے بھی یہاں آئی تھی زخرف… تمہارے نکاح والی رات, اس رات اسے ہارٹ اٹیک ہوا تھا…اور آج پھر اسے ہارٹ اٹیک ہوا ہے” انہوں نے زخرف کی سماعتوں پر دھماکہ کیا
“ارجنٹ بائی پاس… اسے بچا لینا زخرف, کیونکہ ہر بار تمہاری خاطر اپنے دل کی قربانی دینا اس کا فرض نہیں ہے, میری بچی کا فرض نہیں ہے” وہ اسے حیران کرتے جا رہے تھے , انہوں نے ماسک اور کٹ آس کی طرف بڑھا دی
“آپ نہیں کریں گے ؟” زخرف نے پوچھا
“ایک باپ اپنی بیٹی کا بائی پاس کیسے کرے زخرف… ؟ وہ بیٹی جو اسے بائیس سالوں بعد ملی ہو” وہ کہتے ہوئے آئی سی یو سے باہر نکل گئے, زخرف دھیرے سے بستر پر پڑی ماریہ کی طرف مڑا
“آپ نے کبھی بائی پاس کیا ہے ؟” اس کے کانوں میں ماریہ کی آواز گونجی
“نہہیں… لیکن ڈاکٹر ولید کو کئی بار اسسٹ ضرور کیا ہے” زخرف کو یاد آیا
“کیا محسوس ہوتا ہے کسی کا بائی پاس کر کہ… ؟” ماریہ نے پوچھا تھا
“زندگی کی قدرو و قیمت کا صحیح معنوں میں ادراک ہو جاتا ہے اور وہ مریض… بس جان سے پیارا لگنے لگتا ہے” زخرف نے کہا تھا
“پھر تو میری دلی دعاہے کہ آپ میرا بائی پاس کریں… اسی بہانے ہی میں آپ کو جان سے پیاری تو ہو جاؤں گی ” ماریہ کی مسکراتی ہوئی آواز آئی تھی, بڑی مشکلوں سے اس نے آپریشن شروع کیا تھا
پورے چھ گھنٹے بعد وہ آئی سی یو سے باہر نکلا, ڈاکٹر ولید ابھی تک دروازے کے باہر کھڑے تھے
“کچھ دیر میں ہوش آ جاۓ گا” وہ ماسک اتارتے ہوئے بولا تھا
“یا خدا… تیرا شکر ہے” نائلہ کے لبوں سے نکلا تھا
……………….
“آخر وجہ کیا بن گئی ؟” ڈاکٹر ولید اسے لیکر اپنے آفس میں آ گئے, زخرف نے ایک نظر انہیں دیکھتے ہوئے الف سے لیکر ے تک ساری قصہ کہہ سنایا, وہ بڑے صبر سے سب کچھ سنتے رہے
“تو اب کیا کرو گے ؟” انہوں نے پوچھا, زخرف بس انہیں دیکھ کر رہ گیا
“دیکھو زخرف… یہ جو محبتیں ہوتی ہیں نا… یہ قرض ہوتی ہیں, انہیں پوری طرح چکانے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن… اگر نہ چکا پائیں تو اس قرض کو ہمیشہ کے لئے احسان مان لینا چاہیے, یہ میں اس لئے نہیں کہہ رہا کیونکہ ماریہ میری بیٹی ہے, اس کی جگہ کوئی بھی ہوتی تو میں یہ ہی کہتا… یا تو اس کی محبتوں کے قرض کو پوری طرح چکاؤ… یا پھر اس کا احسان مان لو” ڈاکٹر ولید کہتے چلے گئے
“رکھنا ہے تو پوری طرح ساتھ رکھو… اور اگر چھوڑنا ہے تو پوری طرح چھوڑ دو, خدا کا شکر ہے کہ وہ مجھے مل گئی, اگر چھوڑ دو گے تو میں اپنی بچی کی کرچیاں خود سمیٹ لوں گا” زخرف نے بس ایک نظر ان کی طرف دیکھا تھا اور خاموش بیٹھا رہ گیا تھا
………………
کچھ دیر بعد اسے ہوش آ گیا تھا, جو پہلا لفظ اس کے لبوں سے نکلا… وہ “زخرف” تھا
دو, تین نرسیں اسے بلانے کے لئے دوڑ پڑیں, وہ بھاگتا ہوا آئی سی یو تک آیا تھا
“زخرف… ” ماریہ کی آواز اسے بمشکل سنائی دے رہی تھی
“زخرف… آپ نے کہا تھا کہ… ” زخرف نے اس کی بات کاٹ دی
“میں نے کہا تھا کہ کبھی نہیں چھوڑوں گا… میں آج بھی کہہ رہا ہوں کہ کبھی نہیں چھوڑوں گا” زخرف نے اس کے ماتھے پر اپنے ہونٹ ثبت کئے تھے
“خدا کی قسم ماریہ… میں جہاں چھور سکتا ہوں, تمہیں نہیں چھوڑ سکتا, مجھے میری جان سے زیادہ پیاری ہو تم” وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر بولا تھا, ماریہ نے بڑی آسودگی سے دونوں آنکھیں بند کر لیں, زخرف نے اس کا نڈھال وجود بہت محبت سے اپنے مضبوط بازؤں میں بھر لیا تھا
…………….
شام کو وہ کچھ دیر کے لئے گھر واپس آیا
“کہاں چلے گئے تھے ؟” سائرہ نے پوچھا
“ہسپتال… ” زخرف نے مختصر سا جواب دیا
“ہسپتال گئے تھے یا پھر اس شاطر لڑکی کی دلجوئی کرنے میں لگے ہوئے تھے؟” سائرہ کے کہتے ہی زخرف کی بس ہو گئ
“بس کرو… اب ایک بھی لفظ نہیں نکلے گا تمہارے منہ سے اس کے لئے ” زخرف کی آواز اونچی ہو گئی
“تو اب یہ حیثیت ہو گئی ہے میری ؟” سائرہ طنز سے ہنسی تھی
“تمہیں خدا کا واسطہ ہے سائرہ بخش دو اسے, آج تمہارا جھوٹ اس کی جان لے لیتا, میں اس کا بائی پاس کر کہ آیا ہوں” زخرف نے کہا
“تم وہ سائرہ تو نہیں ہو جس سے میں نے پیار کیا تھا, جسے دیکھ کر مجھے فخر ہوتا تھا کہ یہ میرا انتخاب ہے, اسقدر خود غرض کیوں ہو گئی ہو تم ؟” زخرف نے تاسف سے کہا
“تو تم اسے نہیں چھوڑو گے ؟” سائرہ کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی
“نہیں… کیونکہ میں تمہاری طرح خود غرض نہیں ہوں, میرا دل اتنا چھوٹا نہیں ہے کہ وہاں ایک انسان کی محبت کے بعد کسی دوسرے کے لئے جگہ ہی نہ رہے, میں نے ہمیشہ اپنے دل میں تمہیں رکھا سائرہ… اس کی بے تحاشا محبت کو ہمیشہ تمہارے لئے ٹھکرایا, ہمیشہ تم سے وفا کی…لیکن اب وہ میری بیوی ہے, چاہے دوسری ہی سہی, تم چاہو تو اسے بے وفائی کہہ لو لیکن میں صرف تمہیں خوش کرنے کے لئے اس لڑکی کو نہیں چھوڑ سکتا جس کی ذات میں میرے لئے محبت کے سوا اور کچھ نہیں ہے” زخرف نے دو ٹوک لحجے میں کہا تھا
“بس پھر ٹھیک ہے, اسے ہی رکھو اپنے ساتھ… مجھے چھوڑ دو” سائرہ نے کہا
“یہ سراسر تمہارا اپنا فیصلہ ہو گا, میں نے تم پر کبھی زبردستی نہیں کی سائرہ… نہ شادی سے پہلے… اور نہ شادی کے بعد… تم میری پہلی محبت ہو, میری پہلی بیوی ہو, مجھے تم بہت عزیز ہو, قسم کھا کر کہتا ہوں اگر تم چلی جاؤ گی تو میں ادھورا ہو جاؤں گا, تمہیں منا کر واپس لانے کا ہر جتن کروں گا لیکن… اگر تم پھر بھی الگ ہونا چاہو گی تو یہ سراسر تمہارا اپنا فیصلہ ہو گا اور میری سر آنکھوں پر ہو گا” زخرف کہتا چلا گیا, رات کو وہ پھر ہسپتال چلا آیا اور اس کے آنے کے ایک گھنٹے بعد اسے ناعمہ کی کال آ گئی
سائرہ ماریہ کا بیٹا وہیں چھوڑ کر زوہیب کی طرف چلی گئی تھی
………………..
نائلہ اس کا سر اپنی گود میں رکھے دھیرے دھیرے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھیں اور ڈاکٹر ولید اس کے سرہانے کرسی رکھ کر بیٹھے تھے
“میں بالکل آپ جیسا بننا چاہتی تھی بابا…پرفیکٹ اور کامیاب… میں آپ کو دکھانا چاہتی تھی کہ رشتے پاؤں کی زنجیر نہیں ہوتے, محبتوں کا سر ہمیشہ بلند رہنا چاہیے, خواب پورے ہو ہی جاتے ہیں لیکن… ” وہ دھیرے سے رکی
“میں شاید غلط تھی, آج مجھ سے کوئی بھی خوش نہیں ہے, نہ امی, نہ سائرہ, نہ شایان… کوئی بھی نہیں ” وہ رو پڑی
“میری بچی مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں ہے” نائلہ نے اس ک ماتھا چوما تھا
“تم تنہا نہیں ہو ماریہ… محبتوں کو سرخرو کرنے والے کبھی تنہا نہیں ہوتے, میں تمہارے ساتھ ہوں… مانا کہ میں ماضی کا کفارہ ادا نہیں کر سکتا لیکن …مستقبل کے لئے وعدہ ضرور کر سکتا ہوں, میرے ہوتے تم پر کبھی کوئی آنچ نہیں آۓ گی” ڈاکٹر ولید اس کے آنسو دیکھ کر تڑپ گئے تھے
“محبتیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں ماریہ… زخرف تمہاری طرف ہی لوٹ کر آۓ گا” وہ دھیرے دھیرے کہہ رہے تھے
………………………
وہ ہسپتال میں ہی تھا جب اسے حفصہ کی کال آئی, وہ اسے گھر آنے کا کہہ رہی تھیں, شام تک مریضوں سے فارغ ہو کر وہ ان کی طرف چلا آیا
“شایان… بیٹے اسے سمجھاؤ, اب گھر آ کر بیٹھ گئی ہے” حفصہ کافی پریشان تھیں
“کیوں ؟” شایان ٹھٹھک گیا
“بس وہی ایک رٹ کہ زخرف ماریہ کو طلاق دے, جب یہ زور و شور سے زخرف کی دوسری شادی کروا رہی تھی میں نے تب بھی اسے بہت روکا تھا لیکن… یہ باز نہیں آئی, دیکھو شایان وہ آخر کو بیوی ہے زخرف کی, اب بالکل ہی تو آنکھیں نہیں پھیر سکتا نا وہ اس سے… اور ایسے کیسے اس کے کہنے پر اسے طلاق دے دے ” حفصہ کو جہاں سائرہ کی فکر تھی وہاں ماریہ کا بھی دکھ تھا
“زخرف کو بھی کال کی ہے میں نے… وہ بھی اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے کہ ماریہ کو کیوں طلاق دے, اب تو اس نے اپنا بیٹا بھی اسے دے دیا ہے” حفصہ کہتی چلی گئیں, شایان ان کی سنتا رہا پھر اٹھ کر سائرہ کے کمرے کی طرف آ گیا
“یہ کونسا بھوت چڑھ گیا ہے اب تمہیں جو اترنے کا نام ہی نہیں لے رہا؟” وہ دروازے میں کھڑے ہوتے ہوئے بولا, سائرہ تکئے میں منہ دئے لیٹی تھی
“اگر میری بات نہیں سمجھنی, اپنی ماں کی نہیں سمجھنی تو اسی کی ہی سمجھ جاؤ جس سے پیار کرتی ہو” شایان نے کہا
“آپ ہمیشہ ماریہ کی طرفداری کرتے ہیں… سائرہ بھڑک گئی
“میں اس کی طرفداری کرتا ہوں جو بے گناہ ہوتا ہے” شایان نے کہا
“تو کیا میں غلط ہوں ؟” وہ بولی
“ہاں… تم غلط ہو, تم تب بھی غلط تھیں جب زخرف اور ماریہ کی شادی کروا رہی تھیں اور آج بھی غلط ہو جب ان دونوں کی طلاق پر زور دے رہی ہو… مجھے بس ایک بات بتا دو… ماریہ کو زخرف کی زندگی میں کیوں لائی تھیں تم ؟” شایان آگے کو آیا تھا
“بس غلطی ہو گئی مجھ سے… ” سائرہ نے کہا
“تو اب اس غلطی کا خمیازہ بھگتو, ہر غلطی قابل معافی نہیں ہوتی” شایان نے کہا, زوہیب خاموشی سے دروازے میں آن کھڑے ہوئے
“میں جانتا ہوں سائرہ بچے کے سوتن برداشت نہیں ہوتی, شوہر کا بٹوارہ برداشت نہیں ہوتا, نہیں برداشت ہوتا جب کوئی آپ کے اور آپ کے شوہر کے بیچ آۓ لیکن… یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے اپنے اور زخرف کے درمیان تم خود لیکر آئی ہو, سو اب برداشت کرو, تمہارے حق پر ڈاکہ ڈالتی وہ کوئی عام سے لڑکی نہیں ہے… محبت اور خلوص میں گندھی ماریہ خان ہے وہ جس کے کردار کی گواہی میں آنکھیں بند کر کہ دے سکتا ہوں تو زخرف کیسے نہ دے جو اس کی بے تحاشا محبتوں کا قرضدار ہے” شایان کہتا چلا گیا
“اٹھو شاباش… اپنے اس ظرف کو بلند کرو جو تمہیں تمہاری ماں سے ملا ہے اور واپس چلی جاؤ, وہ تمہارا گھر ہے, وہاں تمہارا ایک انتہائی محبت کرنے والا شوہر ہے, ایک بیٹا ہے, وہ تمہاری جنت ہے سائرہ اسے اپنے ہی ہاتھوں سے مت اجاڑو” وہ کہتے ہوئے دھیرے سے مڑا, بس ایک نظر زوہیب کو دیکھا اور باہر کی طرف بڑھ گیا
“سنو… ” زوہیب نے اسے آواز دی تھی
“وہ لڑکی کس قابل ہے ؟” انہوں نے پوچھا
“مجھے میری ماں کی قسم وہ لڑکی اس قابل ہے کہ اس کا ٹھکانہ ہمیشہ زخرف جیسے انسان کی سر آنکھوں پر رہے” شایان دھیرے سے کہہ کر باہر نکل گیا تھا
“تم اکثر مجھ سے کہتی ہو نا کہ شایان جھوٹ نہیں بولتا… ” وہ سائرہ کی طرف آۓ, وہ خاموش رہ گئی
“دیکھ لو… وہی شایان کیا کہہ کر گیا ہے… سائرہ جب تک میرا دل مجھے کہے گا نا کہ میری بیٹی اپنی جگہ پر درست ہے… تب تک میں تمہارے ساتھ ہوں, لیکن جس دن مجھے لگا کہ باقی سب اپنی اپنی جگہ پر درست ہیں سواۓ میری بیٹی کے… اس دن میں تمہارا رتی برابر بھی ساتھ نہیں دوں گا” وہ کہہ کر باہر نکل گئے تھے
…………….
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟” شایان نے اس کے آفس کا دروازہ کھولتے ہوئے پوچھا تھا, زخرف اسے وہاں دیکھ کر حیران رہ گیا
“ہاں… آؤ شایان” وہ خوشدلی سے بولا تھا, شایان آس کے سامنے پڑ ی کرسیوں پر بیٹھ گیا, زخرف نے چاۓ منگوا لی تھی
“اب کیسی طبیعت ہے ڈاکٹر ماریہ کی ؟” شایان نے پوچھا
“کافی بہتر ہیں… ” زخرف اس سے نظریں نہ ملا سکا
“زخرف میں تم سے ایک بات کرنے آیا تھا, ہو سکتا ہے تمہیں میری بات سن کر کافی غصہ بھی آۓ اور تم کہو کہ آخر میں ہوتا کون ہوں تم سے یہ سب کہنے والا لیکن … ” شایان دھیرے سے رکا
“زخرف میں تمہاری طرح رشتوں اور محبتوں کے معاملے میں بہت امیر نہیں ہوں, شاید اسی لئے میں تمہاری طرح مضبوط نہیں ہوں, میں یہاں تم سے بس ایک وعدہ لینے آیا ہوں… اور وہ یہ کہ میں اب کبھی ڈاکٹر ماریہ خان کو اپنی گاڑی میں ڈال کر یہاں نہیں لانا چاہتا ” شایان نے کہہ ہی دیا
“اسے یہاں لاتے ہوئے میں نہ جانے کتنے ہی ٹکروں میں منقسم ہو جاتا ہوں… زخرف میں نے کبھی اسے اپنی پلکوں سے نیچے نہیں اترنے دیا… بالکل ویسے جیسے وہ تمہیں اپنی پلکوں سے نیچے نہیں اترنے دیتی” زخرف بس چپ چاپ اسے سن رہا تھا
“جن کے حوالے دلوں کی حکومتیں کی جاتیں ہیں نا زخرف… انہیں پھر ہمیشہ سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے, انہیں کبھی ان کے مقام سے نیچے نہیں گرنے دیا جاتا, انہیں پھر سب سے آگے دیکھنے کو دل کرتا ہے, سب سے آگے, سب سے جدا, سب سے الگ, سب سے بلند…جیسا وہ تمہیں دیکھنا چاہتی ہے” شایان دھیرے سے رکا
“میں بھی اسے ایسا ہی دیکھنا چاہتا ہوں زخرف… ” شایان نے سر جھکا کر کہا تھا
“شایان مجھے بہت بڑے بڑے دعوے کرنے نہیں آتے لیکن ایک بات ابھی اور اسی وقت سے طے ہو چکی کہ میں ڈاکٹر ماریہ خان کو آج کے بعد اس کے مقام سے نیچے نہیں گرنے دوں گا… میں وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد تمہیں اسے اپنی گاڑی میں ڈال کر یہاں نہیں لانا پڑے گا” زخرف نے مضبوط لحجے میں کہا تھا
……………..
“میں ماریہ کو طلاق نہیں دوں گا” اس نے ببانگ دہل سب کے سامنے کہہ دیا تھا
“امی, ابو… اگر آپ کو اس کا یہاں رہنا گوارا نہیں ہے تو میں اسے یہاں سے لے جاؤں گا”
“چاچو, چچی… میں سائرہ سےبہت محبت کرتا ہوں, ہمیشہ اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں لیکن… میں ماریہ کو صرف اس کی خاطر نہیں چھوڑ سکتا”
“تم جب واپس آنا چاہو… بس ایک ٹیکسٹ کر دینا, میں اسی وقت تمہیں لے جاؤں گا لیکن… اسے طلاق نہیں دوں گا”
یہ زخرف کا فیصلہ تھا
اس رات وہ اپنے دس ماہ کے بچے کو آغوش میں لیکر پرسکون ہو کر سویا
آخر وہ بچہ کیوں اپنے ماں باپ کی دوری سہہ رہا تھا… اس کا کیا قصور تھا
…………….
ماریہ آج ہسپتال سے ڈسچارج ہو رہی تھی, وہ اس کا ڈسچارج لیٹر بننے کا کہہ کر اس کے کمرے کی طرف آ گیا
“زخرف مجھے گھر جانا ہے” ماریہ اکتا گئی تھی
“بس تھوڑی دیر میں چلتے ہیں” زخرف نے کہا
“حسن کیسا ہے ؟” اس نے پوچھا
“تمہیں بہت یاد کرتا ہے” زخرف نے مسکراتے ہوئے کہا, ایک ہی جھٹکے میں ماریہ کی آنکھیں کئی کئی انچ اندر اتر گئی تھیں, دس, پندرہ منٹ بعد وہ اسے لیکر باہر آ گیا
“اب کہاں لیکر چل دئے ہو اسے ؟” ڈاکٹر ولید اپنے آفس سے باہر آۓ تھے
“جہاں مرضی لیکر جاؤں… میری بیوی ہے, آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے ؟” وہ شرارت سے مسکرایا تھا
“تمہاری بیوی کا باپ… ” ڈاکٹر ولید نے کہا, زخرف نے ماریہ کو اندر بٹھا کر دروازہ بند کر دیا
“دیکھ لینا زخرف, اب اگر یہ دوبارہ یہاں آئی تو اسے رکھ کر تمہیں ہمیشہ کے لئے نکال باہر کروں گا” ڈاکٹر ولید نے اسے وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا, وہ مسکراتے ہوئے گاڑی نکال لے گیا, سب سے پہلے اس نے گھر کے آگے گاڑی روکی اور حسن کو اٹھا لایا, ماریہ اسے چوم چوم کر پاگل ہو رہی تھی, پھر وہ اسے لیکر ایک نسبتاً چھوٹےلیکن صاف ستھرے سے گھر کی طرف آ گیا
“آؤ… ” وہ ماریہ کا ہاتھ پکڑ کر اندر لایا تھا
“بیٹھو…” اس نے ماریہ کو صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے پاس نیچے کارپٹ پر بیٹھ گیا, حسن ماریہ کی گود میں سو رہا تھا
“یہ میرا اور تمہارا گھر ہے ماریہ…. تم نے جتنی آزمائشیں جھیلنی تھیں جھیل لیں, بس اب تمہارے صبر کا دور ختم ہو گیا ہے, جب تک میں زندہ ہوں, تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گا, ہاں مرنے کے بعد کی کوئی ضمانت نہیں ہے, حسن ہم دونوں کا بیٹا ہے… کسی بھی رشتے کو سرخرو کرنے کے اسے بھینٹ چڑھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے, اسے ہم دونوں مل کر پالیں گے, میں وعدہ نہیں کرتا کہ میرا سارا وقت تمہارا ہو گا لیکن… جتنا وقت تمہارا ہو گا اس میں تمہیں دنیا جہاں کی خوشیاں دینے کی کوشش کروں گا, سائرہ میری پہلی محبت ہے, میں نے فیصلہ اس پر چھوڑ دیا, امی, ابو سے بالکل ہی کنارہ کش نہیں ہو سکتا… ” وہ کہتا چلا گیا
“اور ہاں… میں نے اپنے آپ سے وعدہ کیا ہے کہ تمہیں کبھی تمہارے مقام سے نیچے نہیں گرنے دوں گا, مجھے اپنے لئے ہمہ وقت ہانڈی روٹی کرتی ماریہ خان نہیں چاہیے, مجھے وہی کارڈیالوجسٹ چاہیے جو اپنی باتوں سے مجھے خاموش کروا دیا کرتی تھی, جس سے ہمیشہ زیر ہو جاتا تھا میں, جس کی انگلیوں میں قدرت نے بہت مسیحائی رکھی تھی, وہ تمہارا ہسپتال ہے ماریہ… تمہارے خوابوں کی تعبیر… میں کبھی نہیں چھینوں گا, ایک بار پھر سے کارڈیالوجسٹ ماریہ خان بننے میں میں تمہارے ساتھ ہوں” زخرف اسے مطمئین کرتا جا رہا تھا
“زخرف… میں نے آپ کی زندگی کو تقسیم کر دیا نا… ؟” ماریہ نے ہولے سے کہا
“اور اس تقسیم کا سب سے خوبصورت حصہ میں, تم اور حسن ہیں” زخرف نے حسن کا ماتھا چوم کر ماریہ کو خود سے لگا لیا تھا
محبتیں ایک بار پھر جیت گئی تھیں
ختم شد
………………….