Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۸
“چائے بنا میرے لیے”۔ سمیعہ تائی نے بےوقت چاہے کا حکم دیا۔ وہ جو تھک کر کچن کی دیوار سے پشت لگائے زمین پر سوئی بیٹھی تھی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ پوری رات کی جاگی ہوئی تھی اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آنکھ لگی تھی۔ ٹھنڈ سے اس کی رنگت سفید ہورہی تھی۔ وہ جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔ فجر کی آذان شروع ہوئی تو اس نے اپنا پھٹا ہوا ڈوپٹہ سر پر رکھ لیا۔ ٹھنڈی پانی میں ہاتھ ڈالنے کا سوچ کر ہی اس کا دل کانپ اٹھا مگر چائے بنانے کے لیے تو یہ سب کرنا ہی تھا۔ ماحول میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اس نے پتیلی میں پانی ڈال کر چولہے پر چڑھایا اور پتی نکالنے لگی۔ پتی کے لیے کیبنٹ کھولا تو وہ کیبینٹ کے اوپر والے حصے میں رکھی تھی۔ اس نے نکالنے کی کوشش کرنی چاہی، مگر اس کا ہاتھ نہ پہنچا۔ پیچھے سے کوئی اندر داخل ہوا تھا مگر اب رک کر اسے دیکھ رہا تھا۔ تھوڑا سا اچھل کر ہاتھ بڑھانا چاہا مگر بےسود۔ وہ ابھی پریشانی میں کھڑی پتی لینے کا کوئی اور طریقہ سوچ ہی رہی تھی کہ کسی نے ہاتھ بڑھا کر وہ پتی سلیب پر رکھی۔ رفاہ سہم کر جھٹکے سے مڑی تو اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ وہ اسے ماتھے پر بل ڈال کر دیکھتا مڑا۔ سلیب سے پانی کا گلاس اٹھایا اور پانی پینے لگا۔ رفاہ کا خون خشک ہوگیا تھا۔ اس نے اسے کھانے کی میز پر دیکھا تھا مگر اس کا نام نہیں جانتی تھی۔ حویلی کے آدھے سے ذیادہ مرد اور عورتوں کے نام بھی اسے پتا نہیں تھے۔
“شرجیل تو آج زمین پر جائے گا؟”۔ سمیعہ تائی کی آواز پر وہ پانی پیتے پیتے رکا۔ رفاہ کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوا۔ تو کیا یہ شرجیل تھا؟۔
“جی تائی”۔ کہہ کر پانی منہ انڈیلا اور ایک نظر اسے دیکھتا باہر نکل گیا۔
رفاہ کا رخ چولہے کی طرف تھا۔ اس کا دل کانپ اٹھا تھا یہ جان کر کہ وہ “اس” شخص کے نکاح میں ہے۔ چہرے سے وہ بہت غصے والا اور سخت لگتا تھا۔ لمبا چوڑا وہ شخص چہرے کے تاثرات سے ہی جابر لگ رہا تھا۔ چہرے پر ہلکی مونچھے تھیں بلاشبہ اسے پہلی نظر میں وہ بے حد ہینڈسم لگا مگر اسے شرجیل کی خوبصورتی کا کیا کرنا تھا؟ وہ تو ونی تھی۔ وہ چہرہ اسے یاد آیا تو اس کا دل زور سے دھک دھک کرنے لگا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے پتی ڈال کر تھوڑی دیر بعد دودھ بھی ڈال دیا۔
“چائے بنی؟”۔ تائی کی زوردار آواز پر وہ جلدی جلدی کپ میں چائے نکالنے گی۔
“آگگ۔گئی ہے چائے”۔ ٹرے میں چائے سجاتی وہ لاؤنج میں آگئی۔ سمیعہ تائی کے برابر میں شرجیل بیٹھا ہوا تھا۔ اس کو دیکھ کر ایک دم اس کا ہاتھ کانپا اور چائے کی ٹرے زمین پر گرگئی۔ چائے کا کپ اس کے پاؤں پر گر کر ٹوٹا۔ گرم کھولتی ہوئی چائے اس کے پاؤں پر لگی اور وہ اس کی تکلیف سے چیخنے لگی اور ہاتھ سے منہ کو دبالیا۔ شرجیل آنکھیں پھاڑے اس کی حالت دیکھ رہا تھا۔ وہ ابھی دیکھ ہی رہا تھا کہ سمیعہ تائی اٹھیں اور اسے بالوں سے پکڑ کر دو چانٹے لگائے۔ وہ پہلے ہی تکلیف سے دہری ہورہی تھی اب تڑپ ہی اٹھی۔ پاؤں میں کانچ چھبنے کے باعث خوب بہہ رہا تھا اور سمیعہ تائی سب چیزوں سے بےخبر اسے ماررہی تھیں۔ شرجیل کی پلکیں کانپیں۔
“سلیقہ ہے تجھے؟۔ ایک چائے کا کپ مانگا تھا وہ بھی توڑ دیا۔ تیرا باپ ہمارے در پر تجھ کو چھوڑ کر گیا یے۔۔۔ تیرا کوئی نہیں ہے یہاں! جان سے ماردیں گے اود خبر تک نہ ہونے دیں گے ہم”۔ وہ ہر جملہ پر اسے ایک نہ ایک تپھڑ ضرور ماررہی تھیں ۔ اس کے بال تائی کے ہاتھ میں تھے اور وہ اسے کھنیچ رہی تھیں۔ شرجیل ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے اسے یوں ہی بغیر پلک جھپکے دیکھ رہا تھا۔ وہ یونہی دیکھتا رہا جب تم اسے لگا وہ دیکھ سکتا ہے۔ مگر پھر وہ منہ پھیر کر اٹھ کھڑا ہوا۔ جب تک تائی کا دل نہیں بھرا وہ ان کے قابو میں رہی تھی۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ارحم کے قاتل کی بہن تھی۔ وہ جاچکا تھا اور سمیعہ بھی مار مار کر تھک چکی تھیں۔ ان کی آنکھیں اب گیلی ہوکر لال ہورہی تھی۔ وہ وہیں زمین پر پڑی رہی کہ اب سکت بھی نہ تھی اٹھنے کی۔ کوئی پانچ منٹ بعد کسی کے قدموں کی چاپ محساس ہوئی۔ رفاہ آنکھیں ایک طرف جمائے سن پڑی تھی۔ کوئی اس پر تیزی سے جھکا تھا اور اسے دونوں ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے کوارٹر کی طرف لے جانے لگا۔ اس نے جاننے کی کوشش کرنی چاہی مگر بےسود۔۔ اس کے جسم کا ہر حصہ تکلیف کررہا تھا۔ وہ جو کوئی بھی تھا دونوں ہاتھوں سے اسے کھینچتا چلا جارہا تھا۔ اس کے اپنے ہی رشتوں نے اسے تکلیف دی تھی۔ وہ تکلیف مار کھانے کی تکلیف سے بہت ذیادہ تھی۔ یہاں رواج نہ تھا “ظلم کے خلاف” آواز اٹھانے کا۔۔۔
۔۔۔**۔۔۔
“چلو اٹھو صالحہ! جلدی سے اٹھ جاؤ۔ تمہیں شہر کی سیر کراتا ہوں”۔ وہ اس کا دروازہ مستقل بجا رہا تھا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ صالحہ سورہی ہے۔ جائے نماز پر بیٹھی صالحہ اٹھ کر دروازہ کھولنے بڑھی۔ دروازہ کھولا تو حیدر نکھرا نکھرا تیار کھڑا تھا۔
“تم اٹھی ہوئی ہو؟”۔ وہ حیران ہوا مگر جلد ہی مسکرادیا۔
“ہاں میں نماز پڑھ رہی تھی”۔ اس نے دروازہ پورا کھول کر زمین پر بچھی جائے نماز دکھائی۔ اسے دیکھ کر وہ سرہلاتا ہوا اندر آگیا۔
“اچھا ہے۔۔۔ تو چلو جاؤ کچھ گرم پہنو اور باہر آجاؤ۔۔۔ میں نیچے جارہا ہوں”۔ حیدر مسکراتا ہوا باہر نکلنے لگا۔
“مگر آپ کو یونیورسٹی نہیں جانا تھا ویر؟”۔ اسے اچانک یاد آیا۔
“نہیں میں کل چلا جاؤں گا۔۔۔ سوچ رہا ہوں آج تمہیں پورا شہر گھماؤں”۔ وہ چابی گھماتا ہوا بولا۔
“پھر ابھی بنالیتی ہوں میں”۔ وہ کچن جانے کے لیے نکلنے لگی مگر حیدر نے روک لیا۔
“ناشتہ بھی باہر کریں گے۔ اب جلدی سے چلو”۔ وہ بستر سے اس کی شال اور سوئیٹر اٹھاتا اسے لے کر نیچے جانے لگا۔
“ارے مجھے چادر تو ٹھیک سے پہننے دیں”۔ وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کرنے لگی۔
“جب میں گاڑی میں چابی لگاؤں گا تب تک تم خود کو ٹھیک کرلینا۔۔۔ ویسے بہت ٹھنڈ ہے صالحہ یہاں”۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑتا تیزی سے زینے اتررہا تھا اور صالحہ ہنستے ہوئے سنبھل کر اترنے کی کوشش کررہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔ “یہاں بہت ٹھنڈ ہے ویر”۔ وہ ہر پانچ منٹ بعد ایک ہی جملہ دہرارہی تھی حالانکہ صالحہ نے ایک سوئٹر، شال کے ساتھ ساتھ حیدر کی جیکٹ بھی پہن رکھی تھی۔ حیدر نے اپنی جیکٹ اتار کر خود اسے پہنائی تھی۔ صالحہ کے لیے وہ لمحہ بہت خوبصورت تھا جب اس کے ویر نے اپنی پرواہ چھوڑ کر اس کی پرواہ کی تھی۔ “ارے ابھی وہ دو کپ چائے لائے گا صالحہ۔ دیکھنا پھر نہیں لگے گی سردی”۔ وہ ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا جس کے باہر تخت لگے تھے۔ اکا دکا لوگ تھے جو دوسرے تخت بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔ اس علاقے میں آبادی کم محسوس ہوتی تھی۔ “اوئے چھوٹے! جلدی لے آ”. حیدر نے آواز لگائی۔ صالحہ خود کو بہت محفوظ محسوس کررہی تھی۔ اسے کسی قسم کا خوف نہیں تھا کیونکہ اس کا ویر اس کے پاس تھا۔ وہ شہر اس کی ذمہ داری پر آئی تھی۔ تخت پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی صالحہ نے چہرہ چادر سے چھاپایا ہوا تھا۔ یہ کھلا علاقہ تھا اور دور تک آبادی نظر نہیں آرہی تھی۔ تھوڑی دیر میں ایک چغوٹے بچے نے ان کے تخت پر چائے اور ناشتہ رکھا۔ صالحہ نے اس بچے کر بہت غور سے دیکھا۔ وہ بچہ دبلا پتلا سا تھا مگر موٹے سوئٹر میں صحت مند لگ رہا تھا۔ گلے میں مفلر پہنے ہوئے، بال بکھرے ہوئے تھے۔ ناک سردی کے باعث لال ہورہی تھی۔ اسے وہ بچہ بہت پیارا لگا۔ اس نے بڑھ کر اس کا گال پکڑا اور ہلکا سا کھینچا۔ صالحہ نے اپنے پرس نما بیگ سے نکال کر اسے کچھ پیسے آگے بڑھائے جسے اس نے کچھ شرماتے ہوئے پکڑلیے۔ حیدر ان دونوں کو صرف تھا جارہا تھا۔ وہ بچہ واپس اپنی چھوٹے سے ہوٹل میں جاچکا تھا۔ مگر صالحہ کو وہ سامنے کھڑا نظر آرہا تھا۔ وہ اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ “صالحہ تمہاری چائے ٹھنڈی ہو جائے گی”۔ حیدر نے اپنی چائے لبوں سے لگاتے ہوئے کہا۔ وہ مسکرا دی اور اپنی پلیٹ کی طرف بڑھی۔ “مجھے اپنی یونیورسٹی دکھائیں گے نا؟”۔ اسے یاد آیا تو وہ چمک پر پوچھنے لگی۔ “ہاں مگر آج نہیں! کل ہماری واپسی ہے گاؤں میں تو اس سے پہلے کل اپنا اسائمنٹ جمع کروانے جاؤں گا۔ تم بھی چلنا اور یونیورسٹی دیکھ لینا”۔ وہ بات کے آخر میں مسکرایا۔ “اور پھر کل آپ مجھے اسکول بھی دکھائے گا”۔ وہ خوش ہوگئی تھی۔۔۔ “ضرور!”۔ اس نے پراٹھے توڑ کر منہ میں ڈالا۔ صالحہ نے چائے کا گھونٹ بھرا اور اپنے دائیں طرف آسمان دیکھا۔ کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہوکر اسے لگا وہ آزاد ہے یہاں۔۔۔ ایک آزاد پنچھی کی طرح۔۔۔ جہاں نہ حویلی والوں کی سختیاں ہیں نہ پیروں میں ان کے ہاتھوں سے باندھی گئیں زنجیر۔ وہ جب حویلی سے نکلی تھی تو اسے محسوس ہوا تھا کہ اس کے پاؤں میں بندھی زنجیر کسی نے کھول دی ہو۔۔ اسے محسوس ہوا تھا کہ اب وہ جو چاہے کرسکتی ہے۔۔۔ “اب ہم کہاں جائیں گے؟”۔ اسے حیدر سے باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔ “جہنم”. وہ چڑ کر بولا۔ “کیوں؟”۔ وہ اپنی دونوں بنھویں آپس میں ملا کر بولی۔ “وہاں بھنا ہوا گوشت ملے گا”۔ وہ بھی گھور کر بولا۔ “ویررررر۔۔۔ صحیح بتائیں”۔ وہ جنجھلا کر اس کی ٹانگ پر ہاتھ مار کر بولی تو وہ ہنسنے لگا۔ “فمہیں بتاؤں ہم کہاں جائیں گے؟”۔ وہ اس کا صبر آزما رہا تھا۔ “ہاں”۔ وہ چمک کر بولی تو وہ تخت پر کھڑا ہوگیا۔۔ “ہم جائیں گے دامنِ کوہ کی چوٹی پر موجود مونال ریسٹورینٹ”۔ وہ اس خاموش ماحول میں ہاتھ پھیلا کر زور آواز سے بولا تو اس کی آواز گونجی اور پلٹ کر آئی۔ صالحہ کو یہ سب اتنا اچھا لگا کہ وہ سامنے کو تکتی رہی جہاں سے آواز پلٹ رہی تھی۔ حیدر نے ہاتھ پکڑ کر اسے بھی تخت پر اپنے برابر کھڑا کیا۔ “اور پھر کہاں جائیں گے؟”۔ اسے اچھا لگنے لگا تو حیدر کا بازو پکڑ لیا۔ “ہم مونال ریسٹورینٹ شام میں جائیں گے۔۔۔ جب تک اسلام آباد گھوماؤں گا تمہیں”۔ وہ اس کے گرد حصار قائم کرتا ہوا بولا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے خود سے قریب کیا۔ “ایک بات کہوں؟”۔ وہ نظریں اٹھا کر اجازت مانگنے لگی۔۔۔ چہرے پر معصومیت سجائے وہ اتنے پیار سے پوچھ رہی تھی کہ حیدر نے اس کی پیشانی چوم لی۔۔۔ وہ بھائی کو حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔ “ایسے دیکھ رہی ہو جیسے کبھی پیار نہیں کیا”۔ وہ سر جھٹک کر ہنس کر بولا۔ “ہاں مگر ایسے تو کبھی پیار نہیں کیا”۔ وہ ہنستے ہوئے اس کے اور قریب ہوگئی۔ “تو کر تو دیا آج؟ اگر اب بولی کچھ تو تمہیں کھائی سے پھینک دوں گا”۔ وہ قہقہہ لگاتا ہوا اس کو کھینچتا ہوا اور وہ “نہیں نہیں” کرتی کھینچی چلی جارہی تھی۔ “آؤ تمہیں پھینکوں کھائی میں”۔ وہ اسے مستقل کھینچ رہا تھا اور وہ چیخ رہی تھی۔ “نہیں بولوں گی اب نہیں بولوں گی”۔ جب اس نے یہ کہا تو حیدر نے اسے چھوڑدیا۔۔۔ وہ ہرممکنا کوشش کررہا تھا کہ وہ ارحم کو بھول جائے۔ “ویر میرا دل چاہ رہا ہے میں یہاں پر ہی رہ جاؤں”۔ اس نے چہرہ آسمان کی طرف کرکے کہا۔ “اسی لیے کھائی میں پھینکنے کی آفر دے رہا تھا۔ پھر تم یہیں رہ جاتی”۔ وہ ہنستا ہوا شرارتاً بولا۔ “میں مذاق نہیں کررہی”۔ وہ اپنی لال ہوتی چھوٹی ناک رگڑتے ہوئے بولی۔ “وہ دیکھو ویر۔۔۔ سورج ابھرتا کتنا اچھا لگ رہا ہے”۔ اس کی بات پر حیدر نے سر اٹھا کر سامنے کے منظر کو دیکھا۔ ہاں واقعی دل موہ لینے والا منظر تھا۔ وہ حیرت سے منہ کھولے سامنے دیکھی جارہی تھی۔ جب اس کا منہ حیرت سے ذیادہ کھلا تو حیدر کو مستی سوجی اور اس نے اپنے پینٹ سے ٹشو نکال کر اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ یہ سب اچانک تھا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نہ پائی۔ حیدر ہنستا ہوا بھاگنے لگا۔ اسے ایک دم غصہ چڑھا اور وہ منہ سے ٹشو نکال کر پھینکتی اس کے پیچھے بھاگی۔ وہ نہیں جانتی وہ کب تک اس کے پیچھے بھاگتی رہی اور کتنا دور آگئی۔ آخر دو، تین منٹ بعد جب حیدر کو لگا وہ لوگ کافی آگے آگئے ہیں اور جگہ کافی سنسان ہے تو وہ رک گیا، مگر وہ نہیں رکی۔ وہ بھاگتے ہوئے اس کے قریب آرہی تھی کہ حیدر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔ وہ بھی رک گئی اور سانسیں بحال کرنے لگی۔۔۔ حیدر واپس آیا اور اس کی کمر تھپتھانے لگا۔ “ہم بہت دور نکل آئیں ہیں صالحہ۔۔۔ اب واپس بھی پیدل چلنا ہوگا گاڑی تک!”۔ اس نے دور کھڑی گاڑی جو چھوٹی سی نظر آرہی تھی اس کی طرف اشارہ کیا۔ صالحہ کی ٹانگیں دکھنے لگیں۔ “ہائےےےے۔۔۔۔ اب مجھے نہیں جانا۔۔۔ ایک کام کرتے ہیں ویر! ایسا کرتی ہوں میں روڈ پر بیٹھ جاتی ہوں جب تک آپ گاڑی تک جائیں اور یہاں تک لے آئیں”۔ وہ میسنی شکل بناتی ہوئی نیچے بیٹھ ہی رہی تھی کہ حیدر نے اسے بازو سے پکڑ کر اٹھایا۔ “میری شکل پر بےوقوف لکھا ہے؟”۔ وہ اسے گھورتا ہوا کھینچنے لگا۔ “اچھا اچھا چل رہی ہوں”۔ وہ اس کے ساتھ جلدی جلدی چلنے لگی۔ “کپ تک پہنچے گے؟؟”۔ تھوڑی دیر بعد وہ تھک گئی تو اکتا کر بولی۔ “بس بس دوپہر تک رک جاؤ پہنچ جائیں گے”۔ وہ اس کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔ “میں تھک گئی ہوں”۔ وہ بیزاریت سے بولی۔۔ “آؤ چلتے چلتے ہاتھ جھلاتے ہیں”۔ وہ جو اس کا ہاتھ تھامے ہوا تھا، جھلانے لگا۔ وہ دور سے کوئی بچھڑے یار لگ رہے تھے۔ صالحہ کی ہنسی رکنے میں نہیں آرہی تھی۔ “ہوٹل والے انکل کہیں گے یہ دونوں پاگل ہوگئے ہیں”۔ وہ قہقہہ لگاتے ہوئے بولی۔۔۔ “ارے تو کیا ہوا۔۔ ہمیں صرف خود کو دیکھنا ہے۔۔۔ آؤ چلو! اب دیکھو ہم گاڑی سے بے حد قریب ہیں۔ دیکھتے ہیں سب سے پہلے کون بھاگ کر گاڑی کو چھوتا ہے”۔ انہوں نے ایک دوسروں کو تالی ماری اور بھاگنے لگے۔۔۔ حیدر صالحہ کا یہ دن یادگار بنانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ بعد میں جب بھی صالحہ کو اس کی یاد آئے تو وہ اس دن کا سوچ کر مسکرادے۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ وہ جو کچھ کرنے والا ہے اس کے بعد صالحہ کو رنج بھی ہوگا اور ہوسکتا ہے وہ حیدر سے ہر تعلق توڑ لے۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ اس کی شادی کے بعد وہ اس سے ملاقات کرتی ہے کہ نہیں۔۔۔ وہ آہستہ بھاگنے لگا تاکہ صالحہ جیت جائے!۔ اور یہی ہوا۔۔ وہ جیت گئی اور خود سے ہی اپنی جیت پر خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔۔۔ “ویر ہار گیا”۔ اس نے بلند آواز میں کہا تھا وادی گونج اٹھی۔۔۔ آواز پلٹ کر آنے لگی اور حیدر گاڑی سے ٹیک لگائے مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔ مستقبل کا سوچ کر اسے تکلیف ہورہی تھی۔۔ وہ اسے اپنے ویر کی موجودگی میں خود کو محفوظ محسوس کررہی تھی۔ اسے لگا وہ ایسا نہیں کر پائے گا۔۔۔ وہ اس چھوٹی سی لڑکی کو زندگی کا دوسرا رخ نہیں دکھا پائے گا۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں تو وہ جلدی سے بات بدلنے کے لیے بولا۔ “گول گپے کھاؤ گی؟”۔ “ہاں”۔ وہ تیزی سے اثبات میں سرہلاتی بولی۔ “چلو تمہیں وہ بھی کھلائیں گے لیکن اب جلدی سے گاڑی میں آکر بیٹھ جاؤ! بہت ہوگیا۔۔۔”۔ وہ اس سے اتنا ذیادہ فری پہلی بار ہوا تھا۔ صالحہ نے اسے دیکھا اور مسکرا کر گاڑی میں آبیٹھی۔ یہ کونسی جگہ ہے ویر؟”۔ وہ وہی رہ جانا چاہتی تھی اس لیے پوچھنے لگی۔ “کیوں؟ میں نہیں بتاؤں گا ورنہ تم میرے بغیر یہاں آجاؤ گی۔۔ اب ہم جب بھی آئیں گے یہاں ساتھ آئیں گے”۔ اس نے صالحہ کو تالی ماری اور گاڑی اسٹارٹ کرکے آگے بڑھالی۔ صالحہ کھڑکی سے باہر منظر دیکھنے لگی۔ وہ حویلی والوں کو بھی بھول چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔
وہ مستقل اس کے سر پر گرم پٹایاں کررہی تھیں۔ یہ کمرا رفاہ کے استعمال میں تھا۔ ایک چھوٹا اور بدبودار کمرہ جو ہیڈ کوارٹر کا حصہ تھا۔ دروازے پر ہلکی دستک ہوئی تو انہوں نے سہم کر پیچھے دیکھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور سفید رنگ کا پردہ جو اتنے سالوں میں پیلا اور میلا ہوچکا تھا اس کے باہر انہیں ایک شخص کھڑا نظر آیا۔ وہ یہ سوچ کر سہمنے لگیں کہ انہیں کسی نے دیکھ تو نہیں لیا۔۔۔ یا پھر ان کے شوہر تو نہیں آئے۔۔ جلدی سے پردہ ہٹایا تو سانسیں بحال کریں۔
“یہ لیں چچی”۔ اس نے ٹیوب آگے بڑھائی تو شمیلہ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔
“کیوں آئے ہو؟”۔
“بس یہ ٹیوب دینے آیا تھا”۔ وہ ان سے آنکھیں ملا کر بات کرنے کے بجائے زمین کو تک رہا تھا۔
“کس حیثیت سے؟”۔ وہ سخت لہجے میں اس سے پوچھ رہی تھیں۔
جواب سادہ اور آسان تھا مگر۔۔۔
“وہ۔۔۔” اس نے کہتے کہتے نظریں چچی کی طرف اٹھائیں اور الفاظ کچھ سوچ کر منہ میں ہی روک لیے تھے۔
“یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا؟ اس وقت تو منہ پھیر لیا تھا تم نے۔۔۔ میں نے بہت کوشش کی تھی تمہارے بچپن سے تمہاری تربیت کرنے کی! افسوس کہ میری تربیت کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔ میں ماضی میں نئی آنے والی نسلوں یعنی تم لوگوں کی تربیت کررہی تھی کہ تم لوگ اوروں جیسے نہ بنو۔۔۔ میری تربیت کے تم گواہ ہو مگر افسوس کہ میری تربیت سے تمہارے اندر ذرہ برابر فرق نہ آیا شرجیل”۔ وہ افسوس کررہی تھیں اور وہ نظریں جھکائے پلکیں کپکپائے خاموشی سے زمین کو تکا جارہا تھا۔
“لے جاؤ ٹیوب! وہ اندر بیہوش پڑی چھوٹی سی لڑکی تمہاری کچھ نہیں لگتی”۔ وہ سخت لہجے میں کہتی مڑنے لگیں۔
“وہ میری بیوی۔۔۔۔”۔ وہ شمیلہ چچی کے چہرے کے تاثرات دیکھتا پھر رک گیا اور نظریں جھکالیں۔
“بیوی مانتے ہو اسے؟ یا صرف نکاح کرکے بیوی بول دیا؟”۔ وہ پلٹنے لگیں۔
“نہیں چچی۔۔ خون بہت ذیادہ بہا ہے اس کا۔۔۔ کانچ کے ٹکڑے نکال کر یہ ٹیوب لگادیں”۔ وہ التجائی نظروں کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ انہوں نے ایک گھوری اس پر ڈال کر ٹیوب پکڑی اور اندر چلی آئیں۔ وہ چھوٹے اور خستہ حال پلنگ پر نیم بے ہوش پڑی تھی۔ وہ اس کے پیروں میں چھبی کانچ پہلے ہی نکال چکی تھیں۔ پاؤں سے رستہ خون صاف کرکے انہوں اسے ٹیوب لگا کر پٹی کردی۔۔
آدھے گھنٹے بعد اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے ماتھے پر پٹیاں کررہی تھیں۔ وہ خوف سے اٹھ کر بیٹھی مگر پاؤں کی تکلیف نے کراہنے پر مجبور کردیا۔
“کیا ہوا رفاہ۔ لیٹ جاؤ تمہاری طبیعت خراب ہے”۔ وہ مسکرا کر بولیں کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ انہیں بھی باقیوں جیسا سخت سمجھے گی۔
“آپ۔۔۔ مجھے یہاں کون لایا؟”۔ وہ ہکلائی۔
“میں لائی ہوں اپنی گڑیا کو ادھر۔۔۔”
“آپ۔۔۔ مجھے ماریں گی؟”۔
شمیلہ چچی کی نظریں ساکت ہوگئیں۔ اب جو ہر شخص اس کے ساتھ عنایت کرتا تھا وہ سہم کر سب سے پہلے یہی پوچھتی تھی۔۔۔
“نہیں میری جان۔ سوچو میرا نام کیا ہے؟”۔
رفاہ مطمئن ہوئی اور ان کا نام سوچنے لگی۔
“مجھے یاد نہیں آرہا لیکن شاید آپ وہی ہیں جو صالحہ باجی کے اچھے لوگوں کی لسٹ میں شامل ہیں”۔ اس کے یوں کہنے پر وہ ہنس دیں۔
“ہاں ہوسکتا ہے۔۔ مجھے “شمیلہ اماں” کہو”۔ انہوں نے اس کے بال بکھیڑے تو وہ اپنے آپ کو آرام دہ محسوس کرنے لگی۔
“آپ واقعی مجھے نہیں ماریں گی؟”۔ اسے اب بھی خوف تھا۔
“نہیں میری جان”۔ انہوں نے بڑھ کر اس کا ماتھا چوما اور سینے سے لگالیا۔۔
رفاہ کو ان کے ہر انداز پر اپنی ماں یاد آئی جنہوں نے روتے ہوئے اسے رخصت کیا تھا۔ اس کے آنسو بہہ نکلے۔ وہ ان کے گلے لگی رہی۔۔ شمیلہ چچی اس کی کمر تھپتھپانے لگیں۔
“اب تم ٹھیک ہوجاؤ گی”۔ وہ اسے امید دلا رہی تھیں اور وہ ان کی باتوں پر سر ہلارہی تھی۔ وہ دونوں یہیں کرسکتی تھیں کیونکہ وہ دونوں اپنی اپنی جگہ بےبس تھیں۔
۔۔۔**۔۔۔
چوکیدار نے دروازہ کھولا تو وہ اسے سلام کرتا اندر بڑھ گیا۔
“زید کہاں ہے؟”۔ اس نے صفائی کرتے ملازم سے پوچھا۔
“وہ اپنے کمرے میں ہیں آپ اوپر چلے جائیں”۔ وہ جواب دیتا ہھر کام میں مشغول ہوگیا اور وجدان زینے چڑھتا اوپر چلا آیا۔
کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب نہ آیا۔ باتھروم سے پانی گرنے کی آواز پاکر وہ سمجھ گیا کہ وہ باتھ روم میں ہے۔ وہ دروازہ کھولتا ہوا اندر آگیا۔ اس کے بستر پر وہ موبائل نکال کر بیٹھ گیا۔۔۔ پندرہ منٹ اور گزر گئے وہ باہر نہیں آیا۔ البتہ گانا گانے کی آوازیں ضرور آرہی تھیں۔ وجدان نے وقت دیکھا اور بستر سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ شام کے چھ بجنے کو تھے اور وہ جلدی آفس سے بھی اس کے لیے آیا تھا۔ جتنی بیہودہ آواز میں وہ گانا گا رہا تھا وجدان کا دل چاہا باتھ روم کے دروازے پر لات ماردے۔ پندرہ منٹ اور گزر گئے اور وجدان کی بس ہوگئی۔ زید بہت وقت لگایا کرتا تھا باتھ روم میں۔ وجدان جوتوں سمیت اس کے بستر پر لیٹ گیا اور تہہ ہوا کمبل اوڑھ لیا۔ اسے نہیں معلوم وہ کب تھک کر سوگیا۔ آنکھ تو تب کھلی جب اس کے چہرے پر کوئی جھکا ہوا تھا اور اس کے بالوں کا پانی ٹپک ٹپک کر وجدان کا چہرہ ہوش میں لارہا تھا۔ جھٹ سے آنکھ کھلی اور زید کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر خوف سے چیخ اٹھا۔ اس کے یوں چیخنے پر زید کی بھی چیخ نکل گئی اور وہ پیچھے کو ہٹا۔
“تو پاگل ہے کیا؟ ایسے بھی کوئی اٹھاتا ہے؟”۔ وجدان نے چیختے ہوئے تکیہ کھینچ کر اسے مارا۔۔۔
“تو تو گدھے گھوڑے بیچ کر کیوں سویا ہوا تھا؟”۔ وہ بھی جوابًا چیخا۔
وجدان نے غصے سے اسے دیکھا ۔
“”بالوں کا پانی تو صاف کرلیتا۔۔۔ لیلی کی طرح منہ پر جھکا ہوا تھا۔
“تو کوئی مجنوں نہیں ہے جو تیرے اوپر لیلی جھکے گی”۔ زید جو ٹراؤزر کے اوپر شرٹ پہننے کے لیے وارڈروب کھول رہاتھا، وجدان کی تپا گیا۔
وجدان غصے سے اٹھا اور زید کو مارنے بھاگا۔ زید نے اسے دیکھا تو دور ہٹنے لگا مگر وجدان نے اسے آلیا تھا۔ ایک زوردار تھپڑ کی آواز گونجی ساتھ ایک کان پھاڑ دینے والی چیخ بھی ۔ زید کی کمر پر وجدان کی پانچ انگلیاں چھپ چکی تھیں اور اب وہ تڑپ رہا تھا۔
“کچھ بتانے آیا تھا تجھے مگر اب نہیں بتاؤں گا”، وجدان غصے سے کہتا مڑنے لگا.
“ہاں مت بتانا۔۔ سننے کو ترس نہیں رہا میں”۔ وہ بھی برابر غصے سے کہتا ہوا مڑنے لگا۔
“ہاں نہیں بتاؤں گا کہ میں اگلے مہینے کس سے شادی کررہا ہوں”۔ وہ بھی تڑخ کر جواب دیتا باہر نکلنے لگا.
زید کے یکدم کان کھڑے ہوئے۔ وہ بھاگتا ہوا اس کے سامنے آکھڑا ہوا۔
“تم نہیں جاسکتے”۔ اس نے ہاتھ پھیلا کر اس کا راستہ روکا۔
“مجھے بات نہیں کرنی تم سے”۔ وہ منہ پھیرگیا۔
“مجھے نہیں معلوم کہ اگر لیلی مجنوں سے روٹھ جائے تو وہ کیسے مانے گی۔ تجھے پتا ہے تو بتا تاکہ میں بھی کوشش کروں”۔ وہ وجدان کو مجنوں کہہ رہا تھا۔ وجدان نے اسے دیکھا تو وہ مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہا تھا۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ مسکرادیا مگر دکھ سے۔۔
زید نے اس کے تاثرات جانچے جس کی آنکھیں اب نم ہورہی تھیں۔ آنکھوں کے گرد حلقے نمایا ہورہے تھے اور ہونٹ کپکپانے لگے تھے۔ وہ کیسے بتائےگا اسے اپنا حال؟
“تم ٹھیک ہو؟”۔ زید نے بنھویں اچکا کر اس کو بازوؤں سے تھاما۔
“میں ٹھیک نہیں ہوں”۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں نفی میں سرہلاتا ہوا بولا اور اس کے گلے لگ گیا۔ وہ روتا رہا اور زید حیران اور پریشان اس کی کمر سہلاتا رہا۔
قربت کی تیری پیاس ہے ویسے تو ٹھیک ہوں
ایک درد دل کے پاس ہے ویسے تو ٹھیک ہوں
اگر ہو کچھ امید تو ہوجاؤں پرسکون
ایک بےوجہ سی آس ہے ویسے تو ٹھیک ہوں
۔۔۔٭٭۔۔۔
“کیا افشاں پھپھو کا کھانا بن گیا شاہ جی؟۔ ثریا کچن میں باورچی سے پوچھنے آئی تھی۔
“سب سے پہلے انہی کا بنوالیتا ہوں میں”۔ کھانے سے بھری ٹرے انہوں نے مسکرا کر اس کے سامنے رکھی۔
“پرہیزی؟” اس نے تمام ڈھکن اٹھا کر دیکھے۔
“جی بی بی جی۔۔۔پرہیزی کھانا ہی تو بنتا ہے ان کا”۔ وہ دھیما سا مسکرایا۔
“چلو اس حویلی میں صالحہ کے بعد کسی کو تو خیال ہے ان کا”۔ وہ گہری سانس بھرتی ٹرے لے کر مڑگئی۔
پیچھے کھڑے شاہ جی نے اپنے جھریوں زدہ ہاتھوں کو دیکھ کر اس دروازے کو دیکھا تھا جہاں سے ابھی تھوڑی دیر پہلے ثریا گزری تھی۔
“یہ سلسلہ تو بہت پرانا ہے۔ ایک عمر اسے بن دیکھے گزاردی ہم نے!” انہوں نے کرب سے آنکھیں میچیں۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
“تم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ تم تنہا ہو؟” وہ دونوں ٹیرس پر رکھے تخت پر بیٹھے تھے۔ وجدان خاموش تھا۔ اپنے دل کی تمام باتیں کھول کر اب وہ خاموش ہی رہنا چاہتا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آرہا جیا نے ایسے کیا! وہ کیسے کرسکتی ہے ایسے؟”۔ وہ حیران تھا۔
“اسے کچھ مت کہو زید۔۔۔ چھوڑ دو۔۔۔ وہ جس چیز میں خوش ہے اسے خوش رہنے دو۔ یاد ہوگا تمہیں جب میرے ماں باپ کی میتیں میرے سامنے رکھی تھیں تو جتنا مجھے اپنے لیے دکھ تھا اتنا وجیہہ کے لیے بھی۔۔۔ وہ بہت چھوٹی تھی زید۔۔ بہت چھوٹی تھی۔ اگر میرے باپ کا بزنس نہیں ہوتا تو یقیناً ہم یتیم خانے میں ہوتے۔۔ سامنے میت پڑی تھی اور وہ پورے گھر میں بھاگ دوڑ کررہی تھی کیونکہ اسے سمجھ نہیں تھی۔۔ وہ کھیل رہی تھی، ہنس رہی تھی کیونکہ اسے علم نہیں تھا کہ اس کی دنیا اجڑگئی ہے۔۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا تھا زید! میں نے اس وقت سوچا تھا کہ وجیہہ کو کبھی یہ محسوس نہیں ہونے دوں گا کہ وہ بن ماں باپ کے پلی ہے۔ میں کیسے کہہ دوں اب کہ اپنی خوشی سے دور ہٹ جاؤ صرف اپنے بھائی کے لیے؟ وہ خوش ہے! اسے خوش رہنے دینا چاہتا ہوں”۔ وہ ٹکٹکی باندھے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر کی خاموش چھا گئی۔
“اس لڑکی کو قبول کرلو گے؟”۔ وہ وقفے سے پوچھنے لگا۔
“یہ سوال نہ صرف میرے لیے ہے بلکہ اس لڑکی کے لیے بھی! کیا وہ مجھے قبول کرلے گی؟”۔ اس نے زید کی آنکھوں میں دیکھا۔
“اپنی زندگی کیوں تباہ کررہے ہو؟”۔ اس نے پھر پوچھا۔
“یہ سوال بھی اس کے لیے بھی ہے! کیوں ہورہی ہے اس کی زندگی برباد”۔ اس نے پھر جواب دیا۔
“کیا تم نے اسے دیکھا؟”۔
“ہاں میں نے اسے دیکھا۔ وہ کنچی آنکھوں والی لڑکی بہت معصوم لگی مجھے! تمہیں پتا ہے وہ خود کو پردے میں ڈھانپی ہوئی تھی۔ مجھے اچھا لگا اس کا یوں غیرشخص سے پردہ کرنا! میں نے اس کا چہرہ تب دیکھا جب چادر اس کے چہرے کو بےنقاب کرگئی۔ مجھے لگتا ہے اسے خبر نہیں! مجھے ڈر لگنے لگا ہے۔۔۔ اگر اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تو اس کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جائے گا زید!”۔
“اللہ تمہیں کامیابی دے۔۔ تمہیں خوشیاں دے اور ہوسکتا ہے کہ اللہ کی کوئی مصلحت ہو اس سب میں”۔ وہ اسے صرف دعائیں دے سکتا تھا۔
“مجھے خوف صرف اس بات کا ہے کہ کیا میں اسے وہ سب دے سکوں گا جو ایک عام لڑکی اپنے شوہر سے چاہتی ہے؟ اظہارِ محبت! تعریف! اور ہر وہ چیز جو ایک محبت کرنے والا شوہر کرتا ہے۔ مجھے کل رات پھر سے اس کی بہت آئی زید۔۔ وہ تصویریں! وہ۔۔۔ میری جان لے لیں گی!۔ میری محبت میں شدت تھی زید! مجھے تو اس کے آنے والے خیالوں سے بھی محبت ہے۔ میری سوچ کا محور یے وہ”۔ وہ تڑپتے ہوئے بتارہا تھا۔
“تمہیں اسے بھولنا ہوگا”۔ زید نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔
“کیسے؟ ہھولنے کے لیے بھی اسے سوچنا پڑے گا زید”۔ وہ تکلیف سے اپنا سر ہاتھوں میں دیتا ہوا بولا۔
“ایک بہترین حل ہے میرے پاس”۔
“کیا؟”۔
“تصویریں جلادو! اس کو بھلادو یہ سوچ کر کہ اب تمہاری زندگی میں کوئی اور آنے والا ہے اور وہ تمہاری ذمہ داری بننے والا ہے! تم کوشش کرو! دھوؤاں بنا کر یادوں سے نکال دو! وہ لڑکی بھی ایک محبت کرنے والے شوہر کی چاہ رکھتی ہوگی وجدان! تمہیں بدلنا ہوگا وجدان! اپنے لیے نہیں تو آنے والی کے لیے!”۔ وہ زید کی بات بہت غور سے سن رہا تھا۔ وہ کوشش کرے گا!۔ کوئی بھی کام یا چیز ناممکن تو نہیں!
۔۔۔**۔۔۔
