Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۲
صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی کچن میں ناشتہ کی خوشبو پھیل گئی تھی۔
“داجی ناشتہ لگادیا ہے”۔ روبی نے جھکی نظروں اور آہستہ آواز میں اطلاع دی۔
“آرہا ہوں دھی! تو جا”۔ جواب دے کر پانی کا گلاس لبوں سے لگایا۔ روبی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کچن میں چلی گئی۔
“کیا کوئی آج زمینوں پر گیا ہے؟”۔ ناشتہ کی میز پر بیٹھتے ہوئے داجی نے پوچھا۔ ایک رعب تھا جو ان کے لہجے کو اور خوفناک بناتا تھا۔
“ہم ناشتہ کے بعد جائیں گے بعد داجی”۔ شاہ زل نے کہتے ہوئے لسّی سے بھرا گلاس منہ کو لگایا۔ داجی نے اثبات میں سرہلایا۔
ہر طرح کے لوازمات میز پر سجے تھے۔
“افشاں کو کھانا پہنچھادیا؟”۔ انہوں سمیعہ تائی کی طرف دیکھا تو سمیعہ تائی نے گڑبڑا کر شجر اور صالحہ دیکھا۔ کچن سے آتی صالحہ نے ہاتھ میں تھامی ٹرے کی جانب اشارہ کیا۔
“داجی ہم وہیں جارہے ہیں”۔ صالحہ نے شجر کو اشارہ کیا تو شجر بھی ساتھ آگئی۔ افشاں کے کمرے کا دروازہ دھیرے سے کھول کر دونوں اندر آگئے۔ اس کمرے میں کوئی بتی بھی نہیں تھی البتہ پنکھا تھا جس کی رفتار آہستہ تھی۔ کھڑکی سے باہر جھانکتی عورت پلٹی۔
“پھپھو۔ یہ ناشتہ لائے ہیں ہم”۔ شجر نے اطلاع دی۔ اس عورت نے ان دونوں کو دیکھا اور بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔ پرہیزی کھانا ان کے سامنے بیڈ پر رکھ کر صالحہ ان کے تاثرات کا جائزہ لینے لگی۔
“کھالیں گی نا کھانا؟ میں کھلا دوں آپ کو؟”۔ صالحہ نے اس عورت کے قریب آکر اس کا ہاتھ پیار سے پکڑا۔ افشاں نے مسکرا کر اثبات میں سرہلایا اور اشارہ دیا کہ وہ کھالے گی کھانا۔
وہ عورت کوئی ذیادہ بڑی نہیں تھی۔ لگ بھگ پینتس سال کی بےحد خوبصورت تھی۔
“کسی چیز کی ضرورت پیش آئے گی تو کیا کریں گی؟”۔
اس عورت نے برابر میں پڑی گھنٹی اٹھا کر اسے ادھر ادھر ہلایا جس سے وہ بج اٹھی۔
“بلکل۔۔ فوراً بجا دے گا۔ میں آجاؤں گی افشاں پھپھو”۔
اس کی بات پر وہ عورت پھیکا سا مسکرا اور اس کے گال کر چھو کر پیار کرنے لگی۔ شجر نے قریب آکر ان کا کھانا ان کے اور پاس کیا۔
“میں آؤں گی تو آپ میری مہندی لگائے گا”۔ صالحہ نے ان کا ہاتھ پکڑا تو وہ مسکرا کر اثبات میں سرہلانے لگیں۔
“شجر، صالحہ!”۔ نیچے سے آتی داجی کی دھاڑ پر وہ دونوں سہم کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ اس عورت نے پہلےان دونوں کو دیکھا اور آتی دھاڑ کی سمت کو!
“لگتا ہے سیڑھیوں سے چڑھ کر کوئی آرہا ہے”۔ شجر نے ڈر کر صالحہ کا ہاتھ سختی سے پکڑا۔
“تم لوگ کیا کررہے ہو اتنی دیر سے؟ داجی چلا رہے ہیں نیچے آؤ! کیا تمہیں علم نہیں افشاں کے پاس ذیادہ وقت ٹہھرنا منع ہے! فوراً نیچے آؤ”۔ سمیعہ تائی نے انہیں گھورا اور پیچھے بیٹھی عورت کو دیکھ کر مڑ گئی۔
“ہمیں ابھی جانا ہے! مگر ہم آئیں گے”۔ صالحہ نے انہیں یقین دلایا۔
“رات کے اندھیرے میں ہمارا انتظار کیجئے گا۔ دروازہ لاک نہیں کیجئے گا”۔ صالحہ نے انہیں تاکید کی اور شجر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے نیچے بڑھ گئی۔ اس عورت نے پھیکی مسکراہٹ سے انہیں جاتا ہوا دیکھا اور پھر اپنے سامنے رکھے کھانے کو۔ ایک دم دل اچاٹ ہوگیا اور وہ اٹھ کر کھڑکی کے سامنے آکھڑی ہوئی۔ اس کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا انہیں کانپنے پر محبور کررہی تھی مگر وہ ان سب سے بےنیاز ہو کر باہر جھانکنے لگی۔
یہ رسمِ دنیا ہے۔
مل کر بچھڑنا ہے
کبھی بچھڑ کر ملنا۔
مگر مجھے حق چاہئے۔
حق چاہئے اپنے جینے کا!
کھڑکی باغ کی طرف میں کھلتی تھی۔ وہ عورت گھانس کو تک رہی تھی۔ کتنے سال ہوگئے اس نے گھانس پر قدم نہیں رکھا۔ اسے محسوس نہیں کیا۔ قدم رکھتے ہی ٹھنڈ کی جو لہر بدن میں دوڑتی ہے وہ اب سے بھول چکی تھی۔ اس گھانس کا لمس بھی بھول چکی تھی۔ سفید جوڑا پہن رکھا تھا اور یہی پہن کر رکھنا تھا۔ اس کے پاس تھے بہت جوڑے مگر سارے ہی سفید۔۔۔۔
رسموں سے بغاوت نے اسے زمین پر لاپٹخا تھا۔
——————-——————*
“ایک بات پوچھوں وجدان؟”۔
“تمہیں اجازت کی ضرورت کب سے پڑنے لگی؟”۔ فائلوں سے سر اٹھا کر اس نے سامنے بیٹھے زید کو دیکھا۔
“میں بہت دنوں سے دیکھ رہا ہوں تمہیں! تم اتنے بجھے بجھے کیوں پھررہے ہو؟”۔ وہ اسے غور سے دیکھا رہا تھا، جیسے گہرائی تک جاننے کی کوشش کررہا ہو۔
“ہم آفس ٹائم کے بعد بات کریں گے”۔ وہ اس کا سوال نظرانداز کرکے پھر سے فائلوں میں جھک گیا۔
“مگر میں ابھی جاننا چاہتا ہوں!”۔
وجدان نے ہارے ہوئے انداز میں اسے دیکھا اور گہری سانس لے کر رہ گیا۔
“تم کسی چیز سے بے خبر تو نہیں!”۔ وجدان نے تھکے تھکے لہجے میں کہتے ہوئے کہنیاں آفس ٹیبل پر ٹکائیں اور سر ہاتھوں میں گرالیا۔
“تم ابھی تک اسے ہی سوچتے ہو؟”۔ وہ آنکھیں پھاڑے وجدان کو دیکھ رہا تھا۔
“میں اسے بھولا ہی نہیں زید!”۔
“اور اسے تمہارا نام بھی اب یاد نہیں ہوگا”۔ زید نے اسے سمجھانا چاہا۔
“مگر میں نے تو محبت کی ہے”۔ وہ ہار ماننے کو تیار ہی نہ تھا۔
“محبت تم نے کی ہے، اس نے نہیں! وہ صرف تمہارے قریب تمہاری۔۔۔۔۔”
“شٹ اپ زید! خدارا! ایسا کہہ کر کم از کم میرا دل تو نہ دکھاؤ”۔ وجدان نے دکھ سے میز پر ہاتھ مارا۔
“جو سچ ہے وہی بتارہا ہوں وجدان قریشی! تمہاری عقل کا پردہ پھٹ گیا ہے سلوا لو”۔ زید کا لہجہ تلخ ہوا۔
“میری بس ہوگئی ہے۔ میں واقعی تم سے بحث نہیں کرسکتا۔ تم ابھی جاؤ اور مجھے میرا کام کرنے دو! شام میں ہوتی ہے تم سے ملاقات ابھی تھوڑی دیر میں مجھے وجیہہ کو لینے بھی جانا ہے”۔ اس نے فائلیں درست کیں۔
“شام میں ملاقات ہی ہوگی”۔ زید اٹھ کھڑا ہوا۔ “اللہ کرے وہ کبھی تمہارے پاس لوٹ کر نہ آئے” اپنی گاڑی کی چابی اس کی میز سے اٹھاتا ہوا وہ یہ دعا کرنا نہ بھولا تھا۔
وجدان ششدر ہوا۔
“تم مجھے بدعا دے رہے ہو؟”۔ وہ اس بات کی توقع زید سے قطعی نہیں کررہا تھا۔
“کیونکہ میں جانتا ہوں وہ کس طرح کی لڑکی ہے۔ اس نے کسی اور کے لئے تمہیں چھوڑدیا۔ وہ تمہارے قریب بھی صرف اس لئے آئی تھی کہ تم دولتمند ہو اور جب اسے تم سے زیادہ دولتمند شخص مل گیا وہ تیرا کچھ سوچے بغیر اس کی جانب چل دی اور تو چاہتا ہے وہ پلٹ تیرے پاس آئے؟ جو ایک کا نہ ہوسکا وہ دوبارا کیسے اس کا ہوجائے گا؟ وجدان قریشی آنکھیں کھولو اور دیکھو یہ دنیا صرف محبت سے نہیں چلتی۔ محبت کرو مگر اس کی محبت کے چکر میں اپنی عقل نہ گنوا بیٹھو۔ اس دن میں تمہارے گھر آیا تھا تو دیکھی تھی میں نے سنگھار میز پر اس کی تصویر!”۔
وجدان چونکا۔ ہاں وہ تصویر جو اسے دو تین دنوں سے نہیں مل رہی۔
“وہ کہاں ہے؟ میں اسے دو دنوں سے ڈھونڈ رہا ہوں”۔
“پھینک دی پھاڑ کر تمہارے ہی گھر کے ڈسٹ بن میں”۔ زید کے چہرے پر مکمل سکون طاری تھا۔ وجدان نے پہلے صدمے سے اسے دیکھا اور پھر مٹھیاں بھینچیں۔
“تم یہ کیسے کرسکتے ہو؟”۔ وہ پوری قوت سے چلایا۔
“میں تمہارے لئے کچھ بھی کرسکتا ہوں۔ چلو اچھا ہوا اب اس کی کوئی نشانی نہیں بچی”۔ وہ اب پرسکون تھا اور مسکرا رہا تھا کہ اچانک وجدان مسکرایا۔
“تم نے ایک تصویر پھاڑی ہے۔ میرے پاس دس سے زائد تصویریں ہیں اس کی!”۔ مسکراتا ہوا وہ پھر سے اپنی کرسی پر آبیٹھا۔ زید کی مسکراہٹ سمٹی۔ کیا شخص تھا یہ؟۔
“وہ بھی پھاڑدوں گا آہستہ آہستہ۔۔۔” وہ کڑھ کر رہ گیا۔
“دیکھتے ہیں!” وجدان مسکرایا۔
“میں ابھی جارہا ہوں وجدان مگر اس بارے میں سوچنا ضرور! تم نے اسے سے محبت کی تھی۔ اس سے نکاح کرنا چاہا تھا مگر نکاح سے پہلے ہی اسے تم سے ذیادہ اچھا لڑکا مل گیا اور وہ چھوڑ گئی تمہیں! کیوں چھوڑ گئی یہ سوچ لینا صرف۔۔۔ باقی باتیں تمہیں خود سمجھ آئیں گی اور جب سب باتیں پتا چل جائیں تو ان تصویروں کو جلادینا ورنہ میں اس لڑکی کو کسی طرح سے ڈھونڈ کر زندہ جلادوں گا”۔ وہ دانت پیس کر بھڑاس نکال رہا تھا۔
“یہ تمہارا معاملہ نہیں! دور رہو اس سب سے”۔ وجدان نے دو ٹوک بات کی۔
“مگر تم میرے دوست ہو۔ کیا دنیا میں لڑکیوں کی کمی ہوگئی ہے؟ جب کوئی لڑکی تمہیں مخاطب کرتی ہے تو انتہائی سرد لہجے میں تم بات کرتے ہو۔ میری بھی شادی ہوجائے گی اگلے مہینے! تم نے تنہا زندگی گزارنے کا فیصلہ تو نہیں کرلیا؟ یاد ہے وہ ہماری یونیورسٹی میں بیا نام کی لڑکی تھی؟”۔ وہ ایک ساتھ سارے سوالات کررہا تھا۔
“بیا؟”۔ وہ ناسمجھی میں بولا۔
“بیا اسے پیار سے کہتے تھے۔ اصل نام تو انابیہ تھا۔ یاد آیا؟”۔
“ہممم ہاں آگیا یاد”۔ وہ فائلز پر اب دستخط کررہا تھا۔
“وہ تم سے بات کرنا چاہتی ہے”۔
“کیوں بھئی؟” وہ چونکا۔
“ایک لڑکی بات کرنا چاہ رہی ہے اس کا اور مطلب کیا ہوسکتا ہے”۔
“وہ مجھے اپنا بھائی بنانا چاہتی ہے تو میں ضرور بات کروں گا”۔
زید منہ کھولے اسے دیکھتا رہ گیا۔
‘اگر یہی بہن تم نے اس دھوکے باز عورت کو بنائی ہوتی تو آج بہت خوش ہوتے اور شاید ایک بچہ بھی گود میں ہوتا”۔
وجدان ہنس دیا۔ اس کے گالوں پر ڈمپل گہرے ہوئے۔
“مجھے لگتا ہے وہ بیا تمہیں پسند کرتی ہے۔ اس سے بات تو کرو”۔
“وہ کرتی ہے پسند! مگر میں نہیں!”۔
“اس پاگل عورت سے محبت کر بیٹھا ہے”۔ وہ دانت پیس کر بڑبڑایا۔
“کچھ کہا؟”۔ وجدان نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ اس کے گھنے بال اس کے سر جھٹکے سے اٹھانے پر ہلے تھے۔
وہ ایک خوبصورت مرد تھا۔
“کچھ نہیں کام کرو اپنا”۔ وہ چڑ کر بولا اور چیئر پر پھر سے بیٹھ گیا۔
“تم جا نہیں رہے تھے؟”۔
“جی نہیں ارادہ بدل لیا”۔ وہ اس کی باتوں سے اب چڑ چکا تھا اس لئے جواب بھی چڑ کر دے رہا تھا۔
وجدان پھر سے کام کی طرف متوجہ طرف ہو گیا۔ زید اس کا جائزہ لینے لگا۔
قد کاٹھ اس کی لمبی تھی۔ جم وہ روز کی بنیاد پر جاتا اس لئے اس کے بھرے بھرے بازو تھے۔ نشیلی آنکھیں اور ہلکی ہلکی موچھیں پھر گال پر گہرا ڈمپل۔ نقشہ کھڑا تھا! کسی کو بھی وہ پہلی ہی جھلک میں متاثر کرسکتا تھا۔ گھنے کالے بال اور جب وہ سر کو جکھاتا تو بال آنکھوں کو چھپالیتے۔ اس کی ڈریسنگ بھی کمال تھی۔ عام طور پر وہ جینز پر کالر والی شرٹ پہنتا تھا اور اکثر کف فولڈ ہوتے تھے۔ وہ ہر لڑکی کا آئیڈیل تھا مگر وہ دل کسی ایک کو دے چکا تھا۔ اس لڑکی کو جو ہر کسی کی ہوجاتی تھی۔
——————-——————–*
“باورچی سے کہہ آؤ کہ مردوں کے زمینوں سے لوٹتے کھانا لگا دیا جائے”۔ سمیعہ تائی نے اپنی دھی ثریا کو حکم دیا۔
“جی امّاں”۔ اثبات میں سرہلاتی وہ چادر لپیٹتی باورچی کو خبر دینے آئی۔
“بی بی مجھے لگتا ہے کہ انہیں زمینوں سے آنے میں تاخیر ہوجائے گی اور داجی تو ایک بجے کھانے کا حکم دیتے ہیں!”۔
“کیا کرسکتے ہیں! ہوسکتا ہے داجی کے کھانے وقت سب لوٹ آئیں! آپ تیار رکھئیے گا اور ہاں۔۔ وہ۔۔ افشاں پھپھو کے لئے کیا بنوارہے دوسرے باورچیوں سے؟” اسے یک دم یاد آیا تو پوچھ لیا۔
“پرہیزی کھانا ہے جو بن رہا ہے ساتھ ساتھ”۔ اس نے چولہے پر چڑھی دوسری دیگچی کی جانب اشارہ کیا۔
“کیا ان کے کھانے کی ٹرے ان کے کمرے سے خالی آتی ہے؟”۔
“جی نہیں! کھانا جیسا جاتا ہے ویسے ہی آتا ہے!”۔
ثریا نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“مجھے نہیں لگتا بی بی کہ وہ کچھ کھاتی ہیں”۔ وہ گول چمچ اب تھوڑی تیزی سے دیگچی میں گھما رہا تھا۔
“آپ کو لگتا ہے کہ وہ کھا کر آرام محسوس کرتی ہوں گی؟” اس نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔ باورچی کا کام ایسے سوالوں کا جواب دینا نہیں تھا! اس لئے وہ خاموش رہا۔
“جب حلق سے تکلیف کے مارے کھانا اترتا ہے تو تکلیف راتوں کی نیند اڑادیتی ہے۔ وہ عورت کیسے کھائے گی؟”۔ تلخ لہجے میں مسکرا کر کہتے ہوئے وہ باورچی خانے سے باہر نکلی۔ زینے چڑھ رہی تھی کہ رک کر نیچے کونے والے عالیشان کمرے کی طرف دیکھا جو داجی کا تھا۔
“سورہے ہیں چین سے حویلی کی لڑکیوں کی نیندیں اڑا کر”۔ وہ دل میں کہہ کر نفرت سے سر جھٹکتی اوپر بڑھ گئی۔
——————–——————-*
اس کی آخری امید بھی ختم ہوگئی تھی۔ حویلی والوں نے اس کے خوابوں کو آگ لگادی تھی۔
وہ بچپن میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔
مگر یوں ہوا کہ بڑھتے ہوئے وقت نے سوچ بدل دی۔
اب اسے استاد بننا تھا۔ وہ اسکول میں پڑھانا چاہتی تھی۔
وہ ڈاکٹر ہی بنتی اگر حویلی کی رسموں کو جان نہ لیتی۔
اس نے قرآن پڑھا۔
اس نے اسلام میں عورت کا مقام جانا۔
پہلے پہل جب وہ چھوٹی تھی اور قرآن کا علم نہ تھا تو وہ یہی سمجھتی کہ شاید اسلام نے عورت کا رتبہ یہی رکھا ہے جو حویلی والوں نے اپنی عورتوں کا رکھا ہے۔ مگر وہ جب قرآن سے جڑی تو اس نے جانا کہ عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ یہ رسم و رواج کی پابندی نقصان دہ ہے۔ عورت کو اپنی پسند ظاہر کرنے کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔
ذیادہ مطالعہ کرنے سے اسے اور بہت سی باتیں معلوم پڑیں۔ جیسے کہ دوسری قوموں کی مشابہت کرنے سے منع کیا گیا۔
اس نے یہ بھی جانا کہ دین میں اضافہ کرنا بدت ہے۔
حویلی والے پیرو فقیروں کے بہت ماننے والے تھے۔ ہفتے میں ایک دن طے تھا جب حویلی کی تمام عورتیں مزاروں پر جاتی تھیں۔
یہ قبروں میں موجود لوگ! جب یہ زندہ تھے تو انہیں رزق دینے والا کون تھا؟ ایک اللہ!
کسی کے وسیلے سے اللہ سے مانگنا غلط ہے۔
جو قبروں میں لیٹے ہیں وہ بےیار و مددگار ہیں! وہ خود اللہ کے سہارے پر ہیں وہ تمہیں کیا دیں گے؟
اس نے حدیثوں کا مطالعہ کیا۔
“محمد (صہ) کی حدیث بھی پڑھی جس میں آپ (صہ) نے فرمایا تھا کہ تم قبروں کو عبادت گاہ مت بنانا، میں (محمد صہ) تمہیں اس سے منع کرتا ہوں”۔
اس نے وہاں جانا ترک کردیا تھا، مگر پھر حویلی کی عورتیں اس کی ذہنیت سمجھنے کی کوشش کرنے لگیں۔ وہ کھوجنے لگیں کہ کہیں یہ بغاوت پر تو نہیں اتر آئے گی؟ وہ اس کو زبردستی لے کر جانے لگیں مگر وہ وہاں جاکر بس ادھر اْدھر پھرا کرتی۔ نہ کہتی نہ بولتی۔ بس یک ٹک سب کو دیکھتی۔
وہ سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸ جسے اس نے زبانی کی ہوئی تھی وہ پڑھتی۔
صم بکم عمی فھم لا یرجعون •
(یہ) بہرے اور گونگے ہیں اور اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے۔
اس کی باتوں اور نظروں کے ارتکاز نے ان سب کو خبردار کردیا۔ ثریا جان گئی تھی کہ کبھی نہ کبھی صالحہ بغاوت ضرور کرے گی۔
ثریا اسے سراہتی اگر اسے یہ خوف نہ ہوتا کہ حویلی والے اگر یہ سب جان گئے تو صالحہ کو قتل کردیں گے یا رسموں کی بھینٹ چڑھادیں گے!
اس نے آس پاس جب اتنی جہالت کو عروج پر پہنچتے دیکھا تب اس نے اپنا خواب بدل لیا۔
اب وہ ایک استاد بننا چاہتی۔ وہ اس دور سے جہالت ختم کرنا چاہتی تھی مگر جب بڑی ہوئی تو یہ بات سہنا بھی آسان نہیں تھا کہ حویلی کی عورت بلا ضرورت باہر نہیں جاتیں اور جب جاتی ہیں تو ٹولی بنا کر جاتی ہیں مگر علیحدہ علیحدہ نہیں!
اس نے ہمت نہیں چھوڑی۔
اس نے بارھوی مکمل کرکے شہر یونیورسٹی جانے کا سوچا ہوا تھا تاکہ وہاں اسکول میں پڑھا سکے۔ اس طرح حویلی والوں کو بھی خبر نہ ہوگی۔
اس رات وہ تنہا کمرے میں بہت روئی۔ اس لئے نہیں کہ داجی نے اسے بارھوی سے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی! بلکہ اس لئے کہ وہ استاد نہیں بن پائے گی۔ ارحم نے بھی اس کے جذبات نہیں سمجھے تھے۔ وہ ہمیشہ سے اسے دوسرے مردوں سے مختلف پائی تھی مگر یہ خوش فہمی بھی جلد ختم ہوگئی تھی۔ آج کل وہ بس قرآن کا مطالعہ اور اپنے رزلٹ کی فکر کررہی تھی۔ وہ بہت چھوٹی تھی جب فضیلہ باجی کے ساتھ ہوتا ظلم نے اسے سہما دیا تھا اور افشاں پھپھو پر ہوئے ظلم پر اس نے سختی آنکھیں میچ لی تھیں۔ حویلی افشان پھوپھو کی چیخوں سے گونجتی تھیں۔ لگ بھگ صالحہ اس وقت پانچ چھ سال کی تھی۔
حویلی میں لڑکیوں کی تعداد بہت کم تھی۔
ایک یہ خود۔ ایک ثریا جو سمیعہ تائی کی دھی تھی اور، شجر، اور روبی جو شمیلہ چچی کی دھی تھیں اور فضیلہ باجی تھیں جو صندل چچی کی بیٹی تھی۔ صندل چچی تو فضیلہ باجی کی پیدائش پر ہی اللہ کو پیاری ہوچکی تھیں۔
البتہ لڑکوں کی تعداد ذیادہ تھی۔
“سنا ہے زمینوں پر آج کل بہت جھگڑے ہو رہے ہیں! دوپہر کے کھانے کے دوران حویلی کے مرد بتارہے تھے”۔ ثریا نے مونگ پھلی کا دانہ اچھال کر منہ میں ڈالا۔
صالحہ جو قلم کتاب پر رگڑ رہی تھی، اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
“کیوں؟”۔
“یہ نہیں معلوم مگر سنا ہے کہ آج کل لڑائیاں چل رہی ہیں! دعا کرو کوئی قتل نہ ہو ورنہ کوئی لڑکی خون بہا میں جائے گی یا آئے گی ونی بن کر”۔
صالحہ کا دماغ سن ہوگیا۔
“یہ مردوں کے چکر میں بھی عورتیں ہی ان کے حصے کی سزا بھگتی ہیں۔ جاہل لوگ”۔ اس نے سر جھٹکا۔
“مگر کیا کرسکتے ہیں اب صالحہ؟ یہ ساری رواج و رسمیں ہماری حویلی میں ہمیشہ سے ہیں”۔
” مگر ان کا خاتمہ کرسکتے ہیں”۔
ثریا ہنس دی۔
“ان کا خاتمہ ممکن نہیں صالحہ! بغاوت مت کرنا کبھی۔ اس لئے کیونکہ میں تمہیں یہاں کی رسموں کی بھینٹ نہیں چڑھتے دیکھ سکتی”۔
“میں تمہارے ویر کی منگیتر ہوں ثریا! داجی کے اصولوں کے مطابق ہی سب ہورہا ہے”۔ وہ پھر سے ڈائری میں جھکی۔ ثریا سوچ میں پڑ گئی۔
“صالحہ”۔ اس نے دھیمی آواز میں اسے پکارا۔
“جی”۔۔
“مجھے لگتا ہے تمہارے حیدر ویراں شاید مجھ سے شادی کے بعد خوش نہ رہیں”۔ لفظوں میں دکھ واضح تھا۔
صالحہ نے چونک کر سر اٹھایا۔
“کیوں؟”۔
“مجھے لگتا ہے وہ اس رشتے سے خوش نہیں”۔ اس نے دکھ کے ساتھ لب بھینچے۔
صالحہ نے گہری سانس لی۔ اگر ویر کی ثریا سے شادی نہ ہوئی تو ارحم سے صالحہ کی شادی بھی ممکن نہیں! وہ خاموش رہی۔
“تم نے اس کی ہی زوجہ بننا ہے جس کو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہے۔ اس لئے غمزدہ نہ ہو!”۔ اس کی باتیں دل موہ لینے والی تھیں اس لئے ثریا اس سے بات کرنا ذیادہ پسند کرتی تھی۔
“تم اتنے یقین سے کیسے کہہ لیتی ہو صالحہ؟”۔ وہ اس کا چہرہ کھوجتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“کیا تم نے قرآن ترجمہ کے ساتھ پڑھا ہے ثریا؟”۔
ثریا نے اس کی بات پر غور کیا اور پھر سر جھٹک کر ہنس دی۔
“میں نے صرف عربی پڑھی ہے”۔
“ترجمہ بھی پڑھا کرو۔ تمہیں پتا چلے گا کہ اللہ کتنا بڑا مہربان ہے اور یہ بھی کہ اسلام میں عورت کا کیا مقام ہے! جب تم قرآن کو اپنے دل میں اتار لو گی تو تمہیں آس پاس جو جہالت نظر آئے گی، دیکھ کر تمہارا دل چاہے گا یہ سب ختم کردو۔ قرآن کو پڑھنا اور سمجھنا ضرور!”۔
وہ اسے نصیحت کررہی تھی۔
“میں ضرور پڑھوں گی صالحہ! مجھے تم جیسا یقین چاہئے، حوصلہ چاہئے”۔ وہ جذب سے بولی۔
صالحہ مسکرادی۔
“بہت دیر ہوگئی ہے! مجھے جانا ہے”۔ صالحہ نے اٹھ کر ڈائری میز پر رکھی اور چادر نما ڈوپٹہ پورے وجود پر لپیٹ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔
“کہاں جارہی ہو صالحہ؟”۔ ثریا نے گھڑی دیکھی جو دو بجا رہی تھی۔
“افشاں پھپھو کے پاس۔ وہ یقیناً میرا انتظار کررہی ہوں گی۔ میں نے انہیں امید دلائی تھی”۔
ثریا کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔
“کوئی دیکھ لے گا صالحہ”۔ اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“کوئی نہیں دیکھے گا۔ سب سو ریے ہیں”۔ وہ بے پرواہی سے بولی۔
“کوئی گرم چیز پہن جاؤ صالحہ۔ ٹھنڈ بڑھ رہی ہے”۔ اس نے برابر رکھا صالحہ کا سوئیٹر اسے اچھال کر دیا۔ اچھے سے پہن کر اس نے خود کو گرم محسوس کیا اور پلٹ گئی۔
——————–——————–*
رات کی چاندی میں وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکتا کسی کو سوچنے میں محو تھا۔
“دل ہے یہی کہ مڑجاؤ صنم تم!”
یہ جملا اس نے کتنے سال پہلے اپنی کتاب میں لکھا تھا اس لڑکی کو سوچ کر۔
“ان چار سالوں میں میری محبت میں صرف اضافہ ہی ہوا ہے درشہوار”۔
سالوں پہلے وجدان نے ایک بار پھر اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔
وہ سن رہی تھی مگر لہجے میں اب وہ جذبات نہیں تھے۔ وہ اس سے اپنے اظہار کے جواب میں ہمیشہ کی طرح محبت کے اظہار ملنے کا انتظار کرتا تھا، مگر اس کی طرف سے سوائے “اچھا” کے کوئی جواب نہ آیا۔ وہ پہلی بار حیران ہوا۔
“کیا تم اپنی طرف سے اظہارِ محبت نہیں کرو گی؟” وہ شکوہ کن لہجے میں بول رہا تھا۔
“تھک گئی ہوں میں بار بار اظہار کرکے۔ ضروری نہیں کہ ہر دفعہ اظہار ہی کیا جائے”۔ وہ جنجھلا اٹھی۔
وہ متحیر ہوا۔ اس کا دل گویا کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا۔
اسے یاد آیا جب وہ یونیورسٹی کے آخری سال میں تھا اور اپنے دوستوں کے ساتھ عمارت کے باہر گارڈن کی گھانس پر بیٹھا باتیں کررہا تھا تو وہی لڑکی اس کی طرف آئی تھی۔
“کیا ہم بات کرسکتے ہیں؟”۔
اور وہ ہمیشہ کی طرح جنجھلا گیا تھا۔
“معاف کیجیئے گا مگر نہیں”۔ اس نے منہ پھیر کر سرد لہجے میں جواب دیا۔
“مگر۔۔۔” وہ ممنائی۔
“میں نے آپ سے کہا تھا درشہوار علی کہ میں آپ کو پسند نہیں کرتا”۔ اس نے تیز نظروں سے اس بھورے بالوں والی لڑکی کو دیکھا۔
“مگر میں پسند کرتی ہوں آپ کو”۔
زید اس سب میں صرف اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو اپنی منوانے کی کوشش کررہی تھی۔
“تو۔۔۔؟” وجدان نے بنھویں اچکائیں۔
وہ لڑکی اداس نظروں سے دیکھتے ہوئے پلٹ گئی۔
زید کو ایک دم ہمدردی ہوئی۔
وہ غصے سے وجدان کو گھورتے ہوئے اٹھا اور اس لڑکی کے پیچھے بھاگا۔
“ہیلو”۔ اس نے مسکرا کر اسے پکارا۔
وہ رک گئی۔
“ہیلو” وہ پھیکا سا مسکرائی۔
“میں وجدان کی طرف سے معذرت کرتا ہوں”۔ چہرے پر شرمندگی واضح تھی۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ وہ شاید ابھی بات نہیں کرنا چاہتے”۔
“وہ آپ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتا”۔ اس نے کہہ کر زبان دانتوں میں دبائی۔
“پتا نہیں ایسا کیوں ہے؟ حالانکہ میں انہیں بہت پسند کرتی ہو”۔
“میں اس سے بات کروں گا آپ کے بارے میں”۔
درشہوار نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ آنکھوں میں امید کی کرنیں نمودار ہوئیں۔
“ہاں۔ آپ اس سے دوستی کرنے کی کوشش کیجیئے گا” وہ اسے امید دلا رہا تھا کہ وہ سب ٹھیک کردے گا اور پھر اس نے ایسا ہی کیا تھا۔ ایک ہفتہ۔۔۔ پورا ایک ہفتہ اس نے وجدان کو سمجھانے اور اس کی سوچ بدلنے میں لگائے تھے۔
“میں اس سے محبت نہیں کرتا زید”۔ وہ جھلا کر بولا تھا۔
“تم اس سے دوستی تو کرکے دیکھو۔ وہ واقعی اچھی لڑکی ہے”۔ ایک ہفتے کی جدوجہد کے بعد وہ ان کی بات کروانے میں کامیاب ہو ہی گیا تھا۔
شروع کے دنوں میں وجدان ہمیشہ چڑا کرتا۔ پھر وقت گزرا تو سب اچھا لگنے لگا۔ وہ اچھی لگنے لگی، اس سے بات کرنا اچھا لگنے لگا۔ وہ اس کی طرف ڈھلتا گیا۔ ایسے میں زید درشہوار کو نوٹس کرنے لگا۔ وہ دیکھنے لگا کہ درشہوار کی ڈیمانڈز دن بہ دن بڑھ رہی ہیں۔ وہ تقریباً روز ہی وجدان سے کسی نہ کسی چیز مطالبہ کرتی۔ زید صرف سنتا، دیکھتا، مگر خاموش رہتا۔ ایک سال میں اتنا کچھ بدل گیا تھا۔ وہ جو اس سے ہمیشہ چڑتا آیا تھا اب اس پر دل ہار بیٹھا تھا۔ یونیورسٹی ختم ہونے کو تھی۔ یونیورسٹی کے آخری دن چل رہے تھے۔ زید یونہی ایک کمرے کے باہر گزررہا تھا۔ اندر کچھ لڑکیاں آپس میں گفتگو کررہی تھیں۔ وجدان کے نام پر وہ ٹھٹھکا اور وہیں کھڑا ہو کر باتیں سننے لگا۔
“کیسی گزررہی ہے زندگی وجدان کے ساتھ۔ سبحان تمہاری تلاش میں ہے۔ اس کی کل کال آئی تھی۔ وہ تم سے بات کرنا چاہتا ہے درشہوار۔ تمہیں اسے نہیں چھوڑنا چاہئے تھا”۔ اس کی دوست افسوس سے نفی میں سرہلا رہی تھی۔
“میں اسے چھوڑ چکی ہوں۔ اس بات کو بھی اب ڈھیرھ سال گزر گیا ہے”۔ لہجے میں بےپراوہی واضح تھی۔
“اگر ایسا تھا تو اسے محبت کا جھانسا کیوں دیا تم نے؟”۔
“وہ قابل نہیں تھا میرے۔ وہ میرے خواہشات کا احترام نہیں کرسکتا تھا”۔
“اس نے ہر ممکنہ کوشش کی ہے کہ تمہارے سوچوں کے معیار تک اترے”۔
“وجدان اس سے بہتر ہے”۔ نظریں پھیر کر جواب دیا۔
“کیونکہ وہ دولتمند ہے؟”۔
“بلکل!”۔ وہ مسکرائی۔ زید کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔
“اور اگر تمہیں اس سے ذیادہ اچھا لڑکا مل گیا تو وجدان کو بھی چھوڑ دو گی؟”۔ وہ لڑکی حیران تھی۔
“بلکل”۔ لپ اسٹک لبوں پر لگاتے ہوئے اس نے آپس میں ہونٹ ملا کر پھیلائی۔
“اور محبت؟”۔
“محبت کے لئے اپنی خواہشات کو ماردوں؟ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا”۔
زید کا سر چکرانے لگا تھا۔ وجدان محبت کی انتہا پر تھا اور ایسے میں اسے روکنا اس کی بربادی سے کم نہ تھا۔
اس نے اسے سمجھانا چاہا مگر وہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ چار سال ایسے ہی گزر گئے۔ اس لڑکی کے لئے محبت اس کے اندر بڑھتی گئی۔ زید اس وقت کو کوستا رہا جب اس نے اس کی بات وجدان سے کروائی تھی۔
چار سال گزر گئے۔ وہ وجیہہ سے دن رات درشہوار کی باتیں کیا کرتا۔ وجیہہ اسے نام سے نہیں بلکہ بھابھی ہی کہہ کر پکارنے لگی۔
پھر یوں ہوا کہ ایک دن جب وجدان نے نکاح کی بات چھیڑی تو گڑبڑا گئی۔ اس سے لڑنے لگی اور آج تک وجدان اس کے لڑنے کی وجہ ڈھونڈتا رہتا ہے۔ وہ اب منہ پھیر کر بات کیا کرتی تھی۔ وہ حیران رہ جاتا۔ وہ جب پکارتا، وہ سرد لہجے میں جواب دیتی۔ وہ ٹھٹھک جاتا۔ ایک دن اسے پکڑ کر جنجھوڑ ہی ڈالا اور پوچھ ہی لیا کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے۔ ایک لفظ نکلا تھا سرد لہجے میں۔ جسے وجدان کو سمجھنے میں تاخیر لگی۔
“جدائی”۔ وہ ساکت رہ گیا۔
“میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں وجدان۔ میں اب تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ معذرت”۔ وہ کہہ کر چلی گئی، مگر وہ وہیں رہ گیا۔ زید نے اسے اس سب سے نکالنے کی کوشش کی مگر وہ باہر نکلنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے تہیہ کرلیا تھا کہ یا تو وہ اس کا انتظار کرے گا یا شادی ہی نہیں کرے گا۔ ایک ایکسیڈنٹ میں ماں باپ گزر گئے تھے۔ وہ کالج میں تھا جب ماں باپ گزر گئے۔ باپ کا بزنس سنبھالتے ہوئے کئی سال گزر گئے۔ وہ اس سال انتیس کا ہونے والا تھا۔ اگلے ماہ زید کی شادی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اب وجدان بھی شادی کرلے۔ کچھ سالوں میں وجیہہ کی بھی شادی ہوجائے گی۔ وہ کب تک یونہی تنہا زندگی گزارے گا؟ درشہوار کو بھی اس کی زندگی سے گئے کافی سال گزر گئے تھے۔
اس نے مڑ کر گھڑی دیکھی۔
رات کے تین بج رہے تھے۔ اس کی سوچوں میں وہ اب تک قبضہ کئے بیٹھی تھی۔ گہری سانس لیتے ہوئے اس نے سیگریٹ کا دھواں ہوا میں چھوڑا۔
اسے خود نہیں معلوم تھا کہ وہ کب تک یوں تنہا زندگی گزارنے والا تھا۔ وہ کبھی جو شوخ چنچل ہوا کرتا تھا اب مکمل خاموش ہوگیا تھا۔ ماں باپ کی موت کے بعد اس نے ہر کسی سے بات چیت کم کردی تھی۔ وہ ٹوٹ گیا تھا اور پھر کچھ سالوں بعد ایک لڑکی اسے مکمل توڑ گئی۔
اس نے تصویر پر نگاہ ڈالی۔ وہ گلابی رنگ کا کام کا سوٹ پہنی، اونچی پونی بنائے ہوئے، اسے اپنی طرف دیکھتے ہوئے محسوس ہورہی تھی۔ وہ تصویر کو غور سے دیکھنے لگا۔ ہاتھ میں پہنی اس کی ڈائمنڈ رنگ وجدان کی ہی دی ہوئی تھی جو اب بھی درشہوار کے ہی پاس تھی۔ اس انگھوٹی کی فرمائش بھی درشہوار نے ہی کی تھی۔ وہ سانس بھرتا ہوا اپنی قسمت کو ہی کوسنے لگا، مگر اسے امید تھی۔ اسے امید تھی کہ وہ لوٹ کر ضرور آئے گی۔ وہ کیا کرے۔ زید کی آتی کال نے اسے ایک بار پھر گھڑی کی طرف مبذول کیا۔ فون اٹھا کر اسے کان سے لگایا۔ یہ رات گزرنے کا پتا بھی نہیں چلے گا۔ کیونکہ زید کال پر تھا۔
——————-——————*
“پھپھو۔ زمینوں پر جھگڑے ہورہے ہیں کہیں کوئی مرد قتل نہ ہوجائے”۔ اس نے سہم کر افشاں کا ہاتھ تھاما۔
اس ٹھہرے وجود کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوا۔
“اگر مقابل حویلی والوں میں سے کوئی مرد قتل ہوا تو میں نہیں جاؤں گی پھپھو ونی بن کر۔ میں نہیں جاؤں گی۔ میں اڑ جاؤں گی”۔صالحہ ان کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے سر کو دائیں بائیں نفی میں تیزی سے ہلانے لگی۔
افشاں پھپھو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر سہلایا اور تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔ وہ پھپھو کو انہماک سے دیکھنے لگی۔
وہ عورت سفید دودھیا رنگت کی حامل تھی۔ کنچی آنکھیں۔ صالحہ بنی بنائی افشاں تھی۔ آنکھوں سے لے کر چہرے کی رنگت تک وہ افشاں پر گئی تھی۔ بڑی بڑی آنکھیں اور آنکھوں پر گھنی پلکوں کی باڑ تھی۔ وہ بہت ذیادہ خوبصورت نہیں مگر کسی کو متاثر کرنے کی قابل ضرور تھی۔ اس نے سارا حسن اپنی پھپھو سے چرایا تھا ماں باپ کی تو صرف بیٹی تھی۔ بولنے کا طریقہ ہو یا سوچنے کا نظریہ۔ وہ بنی بنائی افشاں تھی، بلکہ وہ افشاں ہی تھی۔ پینتس سال کی وہ عورت اب بھی حسن کا کرشمہ تھی، مگر وقت اس کا حسن اس سے چھیننے کی کوشش کررہا تھا۔
“اگر میرے ساتھ زبردستی کی گئی تو؟ اگر میری رضامندی شامل نہ ہوئی تو؟”۔
اس کے سوالات پر عورت تیزی سے سر نفی میں ہلانے لگی۔
اس کی آنکھیں خوف سے پھٹ گئیں اور اس کے نفی میں سر ہلانے میں تیزی آئی۔
“آپ فکر نہ کریں۔ میں منع کردوں گی”۔ وہ زیر لب مسکرائی۔
وہ عورت پرسکون ہوئی۔ رات ڈھلنے لگی۔ صالحہ نے افشاں کی گھنٹی اٹھا کر اس کی سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور اپنا چہرہ اس عورت کی گود میں رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ نیند اس پر جلد ہی حاوی ہوگئی تھی۔ افشاں اس کے بالوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے باہر کی جانب دیکھنے لگی۔
“بس کسی پر برا وقت نہ آئے”۔ دل میں کہتے ہوئے وہ گود میں سر رکھی صالحہ کے لئے دعائیں مانگتی رہی، اور ساتھ حویلی کی تمام لڑکیوں کے لئے۔۔۔
——————-——————*
اس عورت نے اسے جنجھوڑ کر اٹھایا تھا۔ صالحہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔
“کیا ہوا پھپھو؟”۔
اس نے گھڑی کی جانب اشارہ کیا جو صبح کے گیارہ بجا رہی تھی۔ صالحہ حیران و پریشان زمین پر کھڑی ہوئی۔
“ہائے اللہ! کہیں سب کو معلوم نہ پڑگیا ہو کہ میں آپ کے پاس تھی ورنہ پتا نہیں کیا ہوگا میرا”۔ ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے وہ نیچے بھاگی۔
نیچے پہنچی تو ایک عجیب سی ہڑبڑی مچی تھی۔ ہر ایک کے حواس بوکھلائے ہوئے تھے۔
ثریا تخت بیٹھی بےچارگی سے نفی میں سر ہلارہی تھی۔ وہ ٹھٹھک گئی۔ ثریا نے صالحہ کر دیکھا جو ساکت نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کک۔کیا ہوا ہے ثریا؟”۔ کچھ دور کھڑی وہ زرد پڑتے چہرے کے ساتھ اس سے پوچھ رہی تھی۔
ثریا بوکھلاتے حواسوں کو بمشکل قابو کرتے ہوئے اسے کچھ بہت غلط ہونے کا اشارہ کرنے لگی۔
صالحہ کے لب کانپنے لگے۔
“ونی”۔ ثریا کے لبوں سے ایک کانپتا لفظ آذاد ہوا۔
صالحہ کا دل زور دھڑکنے لگا۔ سنسی سی لہر پورے وجود میں پھیلی۔
“آئے گی یا۔۔۔۔ ج۔جائے گی؟” وہ ہکلا کر بولی۔
“آئے گی”۔ ثریا کے جواب پر اس نے درد سے آنکھیں میچیں۔
——————-——————-*
