Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 13
No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۳
“آجائیں”۔ اس نے گھر پہنچ کر اس کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔ وہ اپنے بھاری شرارے کو بمشکل سنبھالتی باہر آئی۔
“مجھے ایک دو کام ہیں۔ ہوسکتا ہے انہیں مکمل کرکے ہی آؤں۔ میرا انتظار مت کیجیئے گا”۔ وہ نظریں چرا کر کہتا ہوا گاڑی کا دروازہ بند کرنے لگا۔ صالحہ خاموش ہی رہی۔
“آئیں میں کمرہ دکھادوں آپ کا”۔ دن ڈھل رہا تھا۔ وہ بمشکل اسے دیکھ پارہا تھا۔ اسے زینے نظر آسکیں اس لیے اس نے وہاں موجود تمام بلب روشن کردیئے۔ ایک اپنائیت سی تھی کہ یہ لڑکی اس کی ہے۔ ایک احساس تھا جو بہت عجیب تھا۔ وہ جب زینے چڑھ گئی تو پیچھے آتے وجدان کے لیے رک گئی تاکہ وہ راستہ دکھا سکے۔ گھونگھٹ میں اسے مشکل پیش آرہی تھی۔
“اس طرف”۔ اس نے اشارے سے رخ بتایا لیکن وہ گھونگھٹ کے باعث دیکھ نہ پائی۔ جب وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی تو وجدان نے اس کا گھونگھٹ آہستہ سے اٹھا کر دیکھا۔
“کیا ہوا؟”۔ اس نے صالحہ پوچھا تو صالحہ نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ آنکھیں ملیں اور وجدان ساکت ہوگیا۔ ایک سحر پیدا ہونے لگا۔ کنچی آنکھوں والی لڑکی۔۔۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا گویا اپنا آپ کھو رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں لگا کاجل وجدان کی کمزوری بن گیا تھا۔ تین بول نے اس لڑکی کو وجدان کا کردیا تھا۔ وہ اسے دیکھنے کا حق رکھتا تھا۔ صالحہ کی سانسیں گہری ہونے لگیں۔ ایک گھبراہٹ دل کو گھیری ہوئی تھی۔ ایک سوال ابھررہا تھا وجدان کے خیالوں میں۔۔۔ کیا وہ اسے قبول کرے گی؟ صالحہ نے گھبراہٹ کے عالم میں کچھ کہنے کی کوشش کی تو آواز نکل سکی۔ اس کے سرخ عنابی ہونٹ کپکپانے لگے۔
“کک۔کمرہ”۔ وہ ہکلاتے ہوئے بولی تو وہ چونکا۔
“جی؟”۔ اس کی آواز اتنی مدھم تھی کہ وہ سمجھ نہیں پایا تھا۔ وجدان نے “جی” کہتے ہوئے اپنے کان اس کے پاس کیے تھے تاکہ وہ آسانی سے سمجھ سکے۔ وہ اس کے اتنے قریب کھڑا تھا کہ وہ اس کی سانسوں کی آواز بھی محسوس کرسکتی تھی۔۔۔ صالحہ نے اپنا چہرہ اس کے کان کے قریب کیا اور بولنے کی کوشش کی
“کک۔کمرہ”۔ مدھم سی آواز ایک بار پھر لبوں سے نکلی۔ وجدان نے اس پیاری لڑکی کو دیکھا اور اثبات میں سرہلاتا سامنے سے ہٹ کر برابر میں آگیا۔
“وہ اس طرف ہے”۔ اس نے صالحہ کا گھونگھٹ اٹھا کر سیدھے ہاتھ کی جانب اشارہ کیا۔ اس کا ڈوپٹہ قدرے بھاری تھا اس لیے وجدان نے کمرے میں جانے تک اس کا گھونگھٹ اٹھائے رکھا۔ کمرے میں داخل ہوکر اسے بیڈ پر بٹھایا۔ کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا گلاب کے پھولوں سے سجایا ہوا یہ کمرہ کسی بھی شخص کے دل میں آسانی سے اتر سکتا تھا۔ بیڈ کو پھولوں کی بیلے لگا کر سجایا گیا تھا۔ وجدان نے اس کا سوٹ کیس زمین پر رکھا۔
“مجھے شاید تاخیر ہوجائے۔ میرا انتظار مت کیجیئے گا”۔ وہ زمین کر تکتے ہوئے کہتا ہوا مڑنے لگا۔
“اور اگر آپ کو کسی چیز کی ضرورت پیش آئے تو مجھے کال کرلے گا”۔ وہ رک کر کہتا پھر مڑنے لگا۔۔
“آپ کے پاس موبائل ہے؟”۔ وجدان پھر اس کے قریب آیا۔ صالحہ نے نفی میں سرہلایا تو اس نے گہری سانس لی اور بیڈ پر بیٹھا۔
“تو آپ کیسے رابطہ کریں گی مجھ سے؟”۔ اس سے دو قدم دوری پر بیٹھے وجدان نے اس کی کنچی آنکھوں میں دیکھنے سے گریز کیا تھا۔ صالحہ کا دل چاہا کہہ دے کہ جن سے خود رابطہ کرنا پڑتا ہے وہ ان لوگوں سے رابطہ ہی نہیں رکھتی۔ کمرے کی مدھم روشنی میں بھی وہ ایک دوسرے کو دیکھنے سے پرہیز کررہے تھے۔ وجدان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا اور سوچنے لگا وہ اس کا ہی تو ہے۔ جسے جلد یا بدیر اسی کی جانب لوٹ کر آنا ہے۔
“مجھے آپ سے جواب نہیں مل پایا”۔ اس نے ٹہھرے ہوئے لہجے میں کہتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔ ناک میں پہنی چمکتی لونگ وجدان کو ناچاہتے ہوئے بھی اسے دیکھنے میں محو کررہی تھی۔ صالحہ نے گھنی پلکوں کی بار اٹھا کر اسے دیکھا جس کے ڈمپل لب بھیچنے سے چہرے پر عیاں ہوئے تھے۔ وہ وجاہت سے مکمل مرد تھا۔ سامنے بند کھڑکی پر نگاہ ڈالی جس سے وہ ہونے والی رات کا منظر دیکھ پائی تھی۔ وہ اس گھر میں اکیلی ہوجائے گی اگر وہ چلا گیا۔ وہ کیا کہے؟ اس کے جواب کے انتظار میں وہ اسے تک رہا تھا، مگر اس کی دھڑکنیں اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئے بےربط چل رہی تھیں۔
“جانا ضروری ہے؟”۔ اس نے پریشانی سے وجدان کو دیکھ کر پوچھا۔ وجدان نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر اس کے لب دیکھے جسے وہ دانتوں سے کاٹ رہی تھی۔ کیا وہ اس کا ساتھ چاہتی تھی؟ کیا وہ چاہتی تھی کہ وہ اس کے ساتھ وقت گزارے۔ خوش فہمیاں دل میں جنم لینے لگیں۔
“مجھے اندھیرے اور تنہا ہونے سے ڈر لگتا ہے”۔ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ حویلی میں اتنے لوگوں کے درمیان بھی وہ تنہا ہی تھی، اس نے یہ کہہ دیا۔
“بہتر”۔ وہ اٹھ کر وارڈروب کی جانب بڑھا اور اپنے کپڑے نکال کر چینج کر آیا۔
“میں نیچے لاؤنج میں جارہا ہوں۔ آپ ایزی ہوجائیں”۔ وہ کہتا آپس میں ہاتھ رگڑتا نیچے چلا گیا۔ صالحہ نے اس کے جانے کے بعد گہری سانس لی۔ اپنی تمام تر جویلری اتار کر انہیں سنگھار میز پر رکھ دی۔ لونگ اتارنے کے لیے ہاتھ بڑھائے مگر روک لیے۔ وہ اسے اچھی لگی اس لیے اتارنا مناسب نہ سمجھا۔ اس کا عروسی لباس اتنا بھاری تھا کہ اب اسے چلنے میں دشواری محسوس ہورہی تھی۔ جیسے تیسے چلتے ہوئے وہ سوٹ کیس تک آئی اور اسے اٹھا کر بیڈ پر رکھا۔ اس کا ڈوپٹہ اس کے کام میں دخل اندازی کرنے لگا تو اس نے اتار کر بیڈ پر رکھ دیا۔ چادر وجدان نے کمرے میں آتے ہی اتار کر بیڈ پر رکھ دی تھی۔ دروازہ کھلا ہوا تھا اور وہ نیچے تھا۔ سوٹ کیس میں رکھے بہت سے کپڑوں کے درمیان اس نے ہلکے ہرے رنگ کا سوٹ نکالا اور مڑنے لگی کہ کسی سے ٹکرا گئی۔ مقابل شخص نے یہ سوچ کر اس کا بازو پکڑا کہ کہیں وہ گر نہ جائے۔ حواس ایک بار پھر منجمند ہوئے اور ٹکرانے والے کو ساکت نظروں اور بکھری دل کی دھڑکنوں سے دیکھنے۔ اپنے آنچل کے بغیر وہ اس کے بہت قریب کھڑی تھی۔ وجدان کی سانسیں گویا تھم گئیں اور وہ اس کانچ سی لڑکی کو دیکھنے لگا جسے دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ اگر اس کو ہاتھ بھی لگایا تو میلی ہوجائے گی۔ صالحہ بیڈ سے چادر لینے مڑی تو اس کے بازو اس کے گرفت میں تھا جس کی وجہ سے وہ وجدان سے ٹکرا گئی۔ اس نے پہلے وجدان کو دیکھا اور پھر اپنے بازو کو جو وجدان کے ہاتھوں کی قید میں تھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے میں اتنا مصروف تھا کہ بھول گیا تھا کہ اس کے بازو پر اس کی گرفت مضبوط ہوچکی ہے۔ صالحہ کی دور ہٹنے کی کوشش اب تک جاری تھی۔ اسے احساس تب ہوا جب سحر ٹوٹا۔۔۔ وہ نظریں جھکا گئی تھی اور اس کے دیکھنے کا محور سامنے سے ہٹ گیا۔ وہ تیزی سے پیچھے ہوا۔
“مم۔میں وہ رر۔ریموٹ لینے آیا تھا۔۔۔ لاؤنج کے ٹی وی کا ریموٹ”۔ وہ نظریں زمین پر مرکوز کیے بات اس کے علم میں لاتا سائیڈ میز کی جانب بڑھا۔ صالحہ نے بیڈ پر سے چادر اٹھائی اور اس میں خود کو گھیر لیا۔ نیوی بلو ٹی شرٹ پر وہ کالا ٹراؤزر پہنا تھا اور اس کے ہاتھ دراز کنگھال رہے تھے۔ اسے وہاں ریموٹ نہ ملا تو وہ صالحہ کی پیچھے والی میز کی جانب آیا اور دراز کھول کر ریموٹ تلاش کرنے لگا۔ وہ وہیں ساکت کھڑی اس لمحے کو یاد کرکے جھینپ رہی تھی۔ اسے ریموٹ نہ ملا تو وہ سر کجھاتا شرمندہ ہوتا زید کو کال ملانے لگا۔
“تو نے ریموٹ کہاں رکھا ہے لاؤنج کے ٹی وی کا؟”۔ اس کے کال اٹھاتے ہی اس نے پوچھا تھا۔ نظریں ایک بار پھر صالحہ کی جانب اٹھیں۔ وہ زمین کو تک رہی تھی۔
“اچھا ٹھیک”۔ جواب پا کر وہ کال رکھتا الماری سے ریمورٹ نکال کر کمرے کی دہلیز عبور کرگیا۔ تین چار قدم آگے چلا ہوگا کہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی تو وہ بےجا شرمندہ ہوتا سر کجھاتے ہوئے نیچے چلا گیا۔ اسے دیکھ کر وہ خود کو سنبھال نہیں پایا تھا۔ کنچی آنکھیں اس کے حواسوں پر چھا چکی تھیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
“دلہن کو کمرے تک چھوڑ آئے؟”۔ شمیلہ جو جائے نماز پر بیٹھی تھیں انہوں نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پوچھا۔ طلعت جو ابھی کپڑے تبدیل کرکے آئی تھیں صوفے پر بیٹھ کر اس کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئیں۔
“ہاں”۔ انہوں نے لمبی سانس ہوا کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔
“کل صبح حویلی کے لیے نکلنا ہے۔ شہر میں آج ہماری آخری رات ہے”۔ شمیلہ نے میز سے تسبیح اٹھائی۔
“ابھی تک یہ آسرا ہے کہ صالحہ کے شہر میں ہیں۔ دور ہیں مگر ایک شہر میں ہیں۔۔۔ گاؤں کس دل سے جاؤں گی؟”طلعت چھت کو گھور رہی تھیں۔
“یہ چھوڑیں کہ گاؤں کس دل سے جائیں گی۔۔ یہ سوچیں افشاں کو کیا منہ دکھائیں گے۔۔۔ ہر بار جھوٹ کا سہارا لیتے لیتے تو میں اب تھک چکی ہوں”۔ انہوں نے کہتے ہوئے صالحہ کی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے۔
“عجیب کشمکش سے دوچار ہوں میں۔ اب نہیں سہے جاتے یہ حویلی کے اصول۔۔۔ باخدا جب سے شہر آئی ہوں ایسا لگ رہا ہے حوالات سے چھوٹ کر آئی ہوں”۔ وہ نڈھال لہجے میں بولیں۔ “آج جانا میں نے کہ بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے دل کیسے خون کے آنسو روتا ہے”۔
“حوصلہ رکھیں بھابھی اور دعا کریں وہ خوش رہے۔ اس کا شوہر اسے خوش رکھے اور وہ اپنے شوہر کی خوشی کی وجہ بنے”۔ انہوں نے ان کی کمر تھپتھپائی تو وہ اثبات میں سرہلانے لگیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ گھر کی چھت پر تنہا کھڑی تھی کہ کوئی زینے چڑھ کر اوپر آیا۔ قدموں کی چاپ محسوس کرکے اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو شاہ زل کھڑا تھا۔
“آپ؟”۔ اس نے حیرانی سے پوچھا۔ رات کے تین بجے وہ چھت پر کیوں آیا تھا۔
“میں بھی یہی پوچھنے لگا تھا”۔ وہ کھسیانا ہوا۔ ثریا نے اس کی بات کو نظرانداز کرکے چھت کی منڈیر پر دونوں ہاتھ رکھے اور آسمان تکنے لگی۔
“اسلام آباد واقعی بہت خوبصورت شہر ہے”۔ وہ اس سے تھوڑا دور منڈیر پر کہنیاں جما کر بولا۔
“آپ نے دیکھا ہی کتنا ہے جو یہاں کے قصیدے پڑھ رہے ہیں”۔ اس نے آسمان دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ وہ مبہم سا مسکرایا۔
“میں تعلیم کے لیے اسی شہر میں موجود یونیورسٹی آیا کرتا ہوں”۔ اس نے جیسے ثریا کے علم میں اضافہ کیا۔ محبت وقت تو مانگتی ہے مگر زیادہ تاخیر نہیں۔ اس نے جیب سے سیگریٹ نکالی اور لائٹر جلایا۔
“جی اچھا”۔ ثریا نے مختصراً جواب دیا۔ اندھیرے میں لائٹر کا شعلہ نظر آیا تو ثریا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
“آپ سیگریٹ پیتے ہیں؟”۔ اسے قدرے حیرانی ہوئی۔ شاہ زل کا ہاتھ جو سیگریٹ جلانے لبوں تک جارہا تھا راستے میں رک گیا۔ وہ سٹپٹایا اور ہونٹوں میں دبی سیگریٹ نکالی۔
“پیتا تو نہیں ہوں مگر آج دل چاہ رہا ہے”۔ یہ کہہ کر اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ ثریا نے بنھویں اچکا کر اسے دیکھا۔
“آج ہی دل چاہ رہا ہے؟”۔ لہجے میں صاف سنجیدگی تھی۔ وہ اس کا چہرہ تکتا رہ گیا۔ وہ اسے لاجواب کرگئی تھی۔
“میں آج بہت خوش ہوں”۔ وہ کچھ دیر کے وقفے سے بولا۔ چہرے پر خوشی واضح تھی۔
“اس لیے سیگریٹ نوش فرما رہے تھے؟”۔ وہ طنز کررہی تھی یا سادگی سے سوال! وہ سمجھ نہ پایا۔
“شاید”۔ وہ سرکجھاتا ہوا بولا۔ “خوشی کی وجہ نہیں پوچھی آپ نے؟”۔ اس نے ملگجی سی روشنی میں اس کا چہرہ بغور دیکھنے کی کوشش کی۔
“میں حق نہیں رکھتی”۔ اس نے ماتھے بل ڈال کر سنجیدگی سے جواب دیا۔
“حق چاہیے؟”۔ نگاہوں میں سرور تھا جو ثریا کی بنھویں اچکا کر دیکھنے سے ٹوٹ گیا۔
“میں سب سمجھ رہی ہوں”۔ ثریا نے اسے گھورا۔
“یعنی دشواری پیش نہیں آئے گی اظہار کرنے میں؟”۔ وہ منہ ہی منہ بڑبڑا کر ہنسا۔
“جی کچھ کہا آپ نے؟”۔ وہ اس کی بڑبڑاہٹ سن چکی تھی مگر انجان بنتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“نہیں بس یونہی”۔ وہ زبردستی مسکرایا۔ “میں اس لیے خوش ہوں کیونکہ حیدر کی شادی ہوگئی ہے”۔ اس کے کہنے پر ثریا نے اسے دیکھا۔ چہرے نے رنگ بدلا۔ وہ سامنے دیکھ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا۔
“اس سب میں آپ کو کیوں خوشی ہورہی ہے؟”۔ دل دکھ سے بھرا تھا مگر انداز میں مضبوطی تھی۔
“بھائیوں کی طرح یے۔ خوشی نہیں ہوگی بھلا؟”۔ وہ بات گول مول کرگیا۔ ثریا نے گہری سانس لے کر ہوا میں چھوڑی۔
“آپ کیوں آہیں بھررہی ہیں؟”۔
“آپ اتنے سوال کیوں کررہے ہیں؟”۔ اس نے اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر گڑا کر پوچھا۔
“آپ اداس ہیں؟”۔ وہ باز نہ آیا۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟”۔
“میں نہیں پوچھ رہا”۔ اس نے نفی میں سرہلایا۔
“ہاں آپ کے پھیپھڑے پوچھ رہے ہیں”۔ وہ طنزیہ بولی۔
“میرا دل پوچھ رہا ہے”۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا۔
“کونسی پہیلی بوجھوانا چاہتے ہیں؟”۔ وہ جنجھلا گئی۔
“آپ خود بوجھیں”۔ نگاہیں اس کے چہرے سے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
“یہ بھی میں ہی بوجھوں؟”۔ اس نے بنھویں آپس میں ملائیں۔
“تو کیا میں بوجھوں؟”۔ کیا عجیب بحث تھی جو دونوں کے درمیان چل رہی تھی۔ وہ جس کو سوچنے کے لیے یہاں کھڑی تھی اسے وقتی طور پر بھول گئی تھی۔ چاند بادلوں میں چھپنے لگا۔
“تو کیا میں بوجھوں؟”۔
“یا اللہ کتنے سوال کرتی ہیں آپ”۔ اب کی بار جھنجھلانے کی باری شاہ زل کی تھی۔ وہ اس کا سوال وقت کی مناسبت دیکھ کر اسی پر پلٹا گیا تھا۔ وہ اس کی ہوشیاری پر دل ہی دل میں داد دیتی رہ گئی۔ شاہ زل نے اپنی تازہ شیو پر ہاتھ پھیرا۔ وہ قد میں اس کے کندھے تک آتی تھی۔ اسے شاہ زل کو دیکھنے کے لیے چہرہ اونچا کرنا پڑرہا تھا۔
“جتنی گردن اونچی ہورہی ہے آپ کی اس حساب سے مجھے لگتا ہے کہ گردن ہی گرجائے گی”۔ وہ اپنی مسکراہٹ بمشکل ضبط کرتا ہوا بولا۔ ثریا نے اپنی لمبی سی چٹیا آگے کی اور ناک بنھویں چڑھا کر اسے گھورنے لگی۔
“آپ ہی اتنے لمبے ہیں”۔
“تو آپ کیوں ہے اتنی چھوٹی؟”۔ وہ اب اس کی بات کو انجوائے کررہا تھا۔
“یہ میرے اختیار میں نہیں”۔ چاند کی ملگجی سی روشنی میں وہ سامنے کی جانب دیکھتے ہوئے بولی۔
“ڈنڈے سے لٹکا کریں قد بڑھتا جائے گا، مگر خیال رکھے گا کہ مجھ سے لمبی نہ ہوجائیں”۔
“آج ہم ساتھ کھڑے ہیں کل کو ساتھ بھی نہیں ہوں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور سب اپنی اپنی زندگیوں میں مشغول ہوجاتے ہیں”۔ اس نے اپنی کہنیاں دیوار پر ٹکائی اور اس پر ٹھوڑی رکھ دی۔
“ایسا ضروری نہیں”۔ وہ تیزی سے نفی میں سرہلا کر بولا۔
“ظاہر ہے یہی ہونا ہے اور کیا ہوگا اس کے سوا”۔ اس نے کندھے اچکائے۔ ماحول میں خاموشی کا راج تھا۔ ہلکی سرد ہوا میں اس کی زلفیں اڑرہی تھیں۔
“وقت بدلتے دیر نہیں لیتی۔ حویلی کے لوگوں نے بھی حیدر کے لیے آپ کو سوچا تھا مگر وقت نے سب کے ارادے بدل دیے”۔ وہ اپنے مخصوص سنجیدے لہجے میں بولا۔ ثریا نے تکلیف سے آنکھیں میچ لیں۔ وہ اپنے خیالوں سے جتنا حیدر کو دور رکھنا چاہتی تھی وہ اتنا ہی اس پر سوار ہورہا تھا۔
“سچ کڑواہ ہوتا ہے نا؟”۔ وہ چاند کو تکتے ہوئے مدھم آواز میں پوچھنے لگی۔ شاہ زل نے اس کی پھیکے ہوتے چہرے کو دیکھا۔
“کسی کے آپ سے رخ موڑ جانے سے زندگی رک تو نہیں جاتی؟ وہ تو چلتی رہتی ہے۔ آپ کی زندگی کی کہانی میں لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ زندگی کی کتاب کا وہ صفحہ پلٹ گیا ہے۔ اسے دوبارہ دہرانا کیوں چاہتی ہیں؟۔ جو ورق پلٹ گیا اسے پھر پلٹ کر دیکھنا کہاں کی بیوقوفی ہے؟۔ ایسے میں ہم اپنے سے قریب ہونے والوں کو بھی خود سے دور کردیتے ہیں۔ یہ رسمِ دنیا ہے بدلنا، بچھڑنا! جو آکر چلا جاتا ہے تو اس کے پیچھے اپنا آپ بےحال نہیں کرتے”۔ آنکھیں چھوٹی کرکے وہ سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کرگیا۔ ثریا زرد پتوں کی مانند اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے۔ زندگی بھلا کہاں رکتی ہے؟۔ زندگی منزل تو نہیں! یہ تو صرف راستہ ہے! کسی تک پہنچنے کا۔۔۔
“آپ کی باتیں مجھے متاثر کررہی ہیں”۔ وہ دھیمی آواز میں مبہم سا مسکرا کر بولی۔
“مجھے اچھا لگا”۔ وہ نگاہیں اس کے چہرے پر جما کر بولا۔
“مگر میں یہ نہیں سمجھ پارہی کہ یہ آپ کیوں سمجھارہے ہیں مجھے؟”۔ اس نے نظروں کا رخ اس کی جانب موڑ کر الجھ کر پوچھا۔ اس کی بات پر وہ بےچارگی سے نفی میں سرہلاتا ہوا ہلکا سا ہنسا۔
“اپنے دل کے حال سے نکل جائیں تو دوسروں کے دلوں میں بھی جھانک کر معلوم کیجیے گا کہ یہ بندہ کیوں آپ کو سمجھا رہا ہے اور یقین جانیے! جس دن آپ میرے دل کا حال جان گئیں! اس دن آپ سب سمجھ جائیں گی۔ یہ دل ہر جگہ نہیں پگھلتا ثریا جی”۔ وہ اپنے دل کی سمت اشارہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹتا گیا۔ وہ چونکے اس کو پلٹ کر دیکھتی رہی۔ شاہ زل نے بات مکمل کی اور اسے چاند کے نیچے تنہا چھوڑ گیا۔ قدموں کی آواز اس سے دور ہوتی چلی گئی اور وہ اپنے آپ کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ یہ تنہائی اندر سے کہیں ماررہی تھی۔ وہ گہری سانس ہوا میں خارج کرتی ایک بار پھر چاند تکنے لگی۔
۔۔۔★★۔۔۔
معمول کے مطابق صبح چھ بجے ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ کسمسا کر پوری طرح سے ہوش میں آئی تو یاد آیا کہ وہ اب حویلی میں نہیں ہے۔ دل میں ہول اٹھنے لگا۔ اپنا ڈوپٹہ سرہانے سے اٹھا کر پہنتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔ نظروں نے پورے کمرے کا طواف کیا۔ سامنے صوفے پر نگاہ پڑی تو دھڑکنیں گویا رک گئیں۔ وہ سامنے صوفے پر خود کو سمیٹتا سورہا تھا۔ سخت سردی میں بنا کسی کمبل یا چادر کے وہ کروٹیں لینے پر مجبور تھا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ وہ بستر سے اتر کر زمین پر کھڑی ہونے لگی۔ فرش ٹھنڈا تھا تو اس نے بچاؤ کے لیے چپل پہن لی۔ اپنے آپ کو چادر میں لپیٹتے ہوئے بنا کوئی آواز کیے واش روم چلی گئی۔ آذان ہوئے کافی وقت ہوچکا تھا۔ جائے نماز ڈھونڈ کر وہ کپکپاتی نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔ عشاء کی نماز پر وجدان سے قبلہ پوچھ لیا تھا۔ پرندوں کی چہچہاٹ وہ بند کھڑکی کے اندر سے بھی محسوس کرسکتی تھی۔ نماز پڑھتی صالحہ کے برابر صوفے پر ہی دنیا سے بیگانہ وہ سورہا تھا۔ وہ اس کا سردی سے ٹھٹھرنا محسوس کرسکتی تھی۔ سلام پھیر کر اس نے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور دعا مانگنے لگی۔ اسے ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا جو اسے کانپنے پر مجبور کررہی تھی، کہیں سے داخل ہوتی محسوس ہورہی تھی۔ اس نے نگاہیں دوڑائیں تو کھڑکی کو تھوڑا سا کھلا پایا۔ اس نے جائے نماز تہہ کرکے سنگھار میز پر رکھی اور کھڑکی بند کرنے لگی۔ روشنی آہستہ آہستہ کمرے میں پھیل رہی تھی۔ وجدان کے سردی سے ٹھٹھرنے پر اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ رات سے یونہی ٹھٹھرہا تھا۔ اسے نہیں معلوم وہ کب کمرے میں آیا اور صوفے پر سوگیا۔ صالحہ کا دل ایک دم کانپا۔ اس کو وجدان پر ترس آنے لگا۔ لب بھینچتی وہ تیزی سے بستر سے لحاف اٹھاتی اس کی جانب آئی۔ گہری نیند سوتے وجدان کے گھنے کالے بال اس کے منہ چھائے ہوئے تھے۔ ہلکی ہلکی شیو پر معصوم چہرہ صالحہ کو اچھا لگا۔ وہ اس کا شوہر تھا یہ احساس صالحہ کے لیے عجیب تھا۔ اس نے آہستگی سے بنا کوئی ہلچل مچائے اس کو لحاف اوڑھا دیا۔ وہ ویسے ہی سوتا رہا جیسے سورہا تھا۔ صالحہ کو سردی محسوس ہوئی تو اس نے اپنی موٹی شال اپنے گرد پھیلا لی۔ نیند مکمل اڑ چکی تھی۔ بیڈ کے پشت سے ٹیک لگائے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔ پھولوں سے گھرا کمرہ دیکھ کر اس کا دل گھبرانے لگا تھا۔ اسے پھولوں سے وحشت ہورہی تھی۔ اس کی سانسوں کی رفتار بڑھنے لگی۔ یہ پھول اس کی اندر کی وحشت بڑھا رہے تھے۔ اس کا دل چاہا تمام پھول نوچ پھینکے مگر وہ اس وقت کسی نئے رشتے کے تحت کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ عجیب دل سوز لمحے تھے۔ جب اس سے برداشت نہ ہوا تو وہ آہستہ آہستہ بنا آواز کیے پھول اتارنے لگی۔ بیڈ پھولوں کی لڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ اس نے تمام لڑیاں اور پھولوں کے بکے سمیٹ کر سنگھار میز کی دراز میں رکھے ایک بڑے شاپر میں ڈال دیے۔ یہ سب کرنے میں اسے آدھا گھنٹا لگا تھا۔ دل میں بڑھتی گھبراہٹ اب کم ہوگئی تھی۔ ساڑھے سات بجنے کو تھے جب وجدان کی آنکھ کھلی۔ وہ کبھی نہ اٹھ پاتا اگر گھڑکی سے آنے والی سورج کی شعاعیں اس کی آنکھوں میں نہ پڑتیں۔ آنکھیں پوری طرح سے کھلیں تو اس نے خود پر لحاف محسوس کیا۔ اس نے چونک کر لحاف دیکھا اور پھر سامنے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہوئی صالحہ کو۔ ایک دم اسے کمرہ بھی خالی خالی محسوس ہوا مگر وہ جان نہ پایا۔ صالحہ نے اسے دیکھ کر پھر سے نگاہیں جھکا لی تھیں اور وجدان اسے دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ اسے یہ لحاف کس نے اوڑھایا۔ گھر میں صالحہ کے سوا کوئی نہ تھا اور یہ ثابت ہوگیا کہ لحاف اوڑھانے والی صالحہ ہی تھی۔ بےیقینی سے اسے دیکھتے ہوئے وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ صالحہ اسے دیکھنے سے گریز کررہی تھی۔ واش روم کی چپل پیر میں پہنتا وہ واش روم سے فریش ہو آیا۔ ابھی وہ خالی کمرے کو دیکھ کر سوچتا کہ اس نے پھولوں سے بھرا بندھا شاپر کونے میں لاوارثوں کی طرح پڑا دیکھا۔ حیرانی سے آنکھیں پھٹ گئیں اور نگاہیں فوراً صالحہ کی جانب اٹھیں۔ وہ اب بھی بیڈ کی چادر کو تک رہی تھی۔ یہ بات عام نہیں تھی! اتنی صبح کسی کو یہ خیال آتا ہے بھلا؟ وہ سمجھ گیا کوئی اسے اندر سے ستارہا یے۔ وہ دھیرے سے چلتا ہوا اس کی جانب آیا اور بیڈ سے نیچے ہی زمین پر جھک کر ٹانگوں کے بل بیٹھ گیا۔
“یہ پھول کیوں اتارے آپ نے؟”۔ بظاہر نرمی سے پوچھنے والے وجدان کا لہجہ صالحہ کو خفا خفا سا اور ہلکا سخت لگا۔ وہ تھوگ نگل کر چادر کو آنکھیں پھاڑے خوف سے دیکھنے لگی۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر وجدان جان گیا کہ وہ اندرونی طور پر ابھی ٹھیک نہیں ہے۔
“کیا اچھے نہیں لگتے آپ کو پھول؟”۔ اس کی کنچی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتا وجدان بہت نرمی سے پوچھ رہا تھا۔
“مجھے پھول نہیں اچھے لگتے اس لیے میں نے اتار دیے”۔ صالحہ اسے دیکھنا نہیں چاہتی تھی کہ نظر ملی تو دل کی دھڑکنیں بڑھ جائیں گی۔
“کیوں”۔ اب کی بار بھی لہجے میں نرمی ہی تھی۔
“پھولوں سے میرے دل وحشتیں بڑھنے لگ گئی ہیں”۔ پھولوں سے محبت کرنے والی لڑکی آج انہیں پھولوں سے ناپسندیدگی کا اظہار کررہی تھی۔ وجدان نے اس کے جملے پر غور کیا۔ اس کا مطلب تھا اسے پھولوں سے نفرت ہوئے کچھ ہی وقت ہوا ہے۔
“اسی لیے میں نے سب اتار دیے ورنہ میرا دم گھٹ جاتا۔ اب اچھے نہیں لگتے مجھے یہ پھول”۔ نگاہیں خود بہ خود وجدان کی جانب اٹھیں اور وجدان اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ یہ کنچی آنکھوں والی لڑکی اب اس کی تھی! اس کی ذمہ داری تھی!۔ وہ اس کی باتوں کا مطلب سمجھ رہا تھا۔ اب وہ نہیں سمجھتا تو اور کون سمجھ سکتا تھا۔
“کوئی بات نہیں! ہوسکتا ہے پھولوں سے نفرت وقتی ہو؟”۔ کنچی آنکھوں کو تکتے ہوئے وہ بمشکل لفظ ادا کر پایا تھا۔ صالحہ نے نگاہیں جھکا لی تھیں۔ ایک بار پھر سحر ٹوٹا اور وہ گڑبڑایا۔
“م۔میں ناشتے کا انتظام کرتا ہوں”۔ وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ پیچھے بیٹھی صالحہ نے بےچارگی سے سامنے سنگھار میز پر نگاہ دوڑا کر خود کو آئینے میں دیکھا اور پھر دروازے سے نکلتے وجدان کو۔ داستانیں مختلف تھیں مگر منزل ایک ہی!
۔۔۔★★۔۔۔
“حیدر اتنی صبح کیوں اٹھا رہے ہو؟”۔ وہ جنجھلا کر آنکھیں بند کرتی بولی۔
“داجی ناشتے پر بلا رہے ہیں”۔ وہ نہا دھو کر تیار اب آئینے کے سامنے کھڑا بال بنارہا تھا۔
“مگر اتنی صبح ابھی تو آٹھ بجے ہیں”۔ وہ کسمساتی ہوئی بولی۔
“ناشتے اسی وقت پر ہوتا ہے جیا۔ اب جلدی سے اٹھ جاؤ ورنہ داجی کے چیخنے کی آواز آئے گی۔ بارہ بجے تک داجی اور باقی افراد کو حویلی کے لیے نکلنا ہے”۔ وہ مڑ کر اس کے کپڑے بیگ میں سے نکالتا ہوا بولا۔
“میں یونی جانے کے علاوہ کبھی اتنی جلدی نہیں اٹھی۔۔۔”۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں بولی۔ “تم نے کیا داجی سے بات کرلی کہ میں اور تم دو دن بعد حویلی آئیں گے؟۔ یونیورسٹی ختم ہوگئی ہے باقی کاغزات کے مسائل نبٹانے کے لیے وقفے وقفے سے یونیورسٹی جانا ہوگا”۔ اس نے پاؤں میں باتھ روم کے سلپرز پہنے اور کپڑے پکڑتی واش روم کے دروازے پر کھڑی ہوکر پوچھنے لگی۔
“نہیں۔۔۔ ابھی گفتگو کرنی ہے”۔ کلون خود پر چھڑکتا ہوا وہ اس بات پر پریشان ہوا تھا۔ وجیہہ سر ہلاتی واش روم میں چلی گئی جبکہ حیدر اپنے کپڑے سمیٹنے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
کمرے میں ملگجی سی روشنی میں بیٹھی افشاں کے لب صالحہ کے لیے دعا مانگتے مانگتے تھک چکے مگر دل نہیں۔۔۔ آج تیسرا دن اس کے بغیر لگ چکا تھا۔ اب اسے کون سنبھالے گا؟ اب وہ کس کی سنے گی؟۔ جب تھک گئی تو کھڑکی کے پاس آکر نیچے باغ میں جھانکنے لگی۔ معمول کے مطابق آج وہی شخص جس کا چہرہ دیکھنے کی انہیں خواہش تھی ان کی طرف پشت کیے کھڑا گنگناتا ہوا پودوں کو پانی ڈال رہا تھا۔ کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے وہ چاہتے ہوئے بھی ان کی آواز صاف نہیں سن پارہی تھی۔
تمہاری یاد آتی ہے تو ہم آنسو بہاتے ہیں
گزرے تھے کبھی جو ساتھ دن وہ یاد آتے ہیں،
اسی امید پر ہم نے کھلا رکھا ہے دروازہ،
سنا ہے شام ہوتے ہی بچھڑے لوٹ آتے ہیں
حقارت سے نہ دیکھو اہلِ ساحل طوفان کو،
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کنارے ڈوب جاتے ہیں
وہ ابھی بھی گنگنا رہے تھے، مگر افشاں انہیں واضح سننا چاہتی تھی۔ اس کے لیے دل نے اس شخص کے لیے اپنائیت محسوس کی تھی۔ کہیں وہ گنگنانا بند نہ کردیں اس نے جلدی سے کھڑکی کے دونوں پٹ کھولے۔ ہوا کے باعث وہ دونوں دیوار سے جا کر ٹکرائے اور آواز پیدا ہوئی۔ پودوں کو پانی ڈالتا وہ وجود ساکت ہوگیا۔ تیز ہوا کے باعث ڈھیلے جوڑے میں قید وہ گھنے لمبے بال آذاد ہوئے اور لہرانے لگے۔ ایک امید لیے وہ شخص پلٹا اور ساکت رہ گیا۔ افشاں کی آنکھیں پھٹ گئیں اور ششدر ہوئی وہ انہیں دیکھنے لگی۔ دھڑکنیں رکتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ نیچے کھڑے اس شخص کے ہاتھ سے پودوں میں پانی ڈالنے والا کنستر چھوٹا اور گھانس پر گرگیا۔ دماغ میں جھماکہ ہوا اور جو یاد آیا وہ تھا پیلا جوڑا، لال چادر اس میں سے نکلتی آوارہ لٹیں۔۔۔ دماغ میں پھر جھماکہ ہوا اور اب لال جوڑا، گہرا کاجل، چمکتی ہوئیں کنچی آنکھیں۔۔۔ کتنے سالوں کی دوری تھی جو اب وہ ایک دوسرے کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ کر پوری کررہے تھے۔ عمر ڈھل رہی تھی مگر جذبات ویسے ہی تھے۔
“محبت کا چرچا میں سرِ بازار کرنے کے قائل نہیں بشارت حسین۔ اگر قائل ہوتی نا تو پورا گاؤں ہمارا نام ایک ساتھ پکارتا”۔ وہ الفاظ جو برسوں پہلے دشمنِ جاں نے دہرائے تھے آج انہیں اپنے کانوں میں گونجتے محسوس ہورہے تھے۔ وقت گویا رک چکا تھا۔ بالآخر کتنے ہی عرصے بعد اس نے اپنے محبوب پر نگاہ ڈال ہی لی تھی۔
“یہ ظالموں کی بستی ہے بشارت حسین”۔ آواز شاہ جی کے کانوں میں گونج رہی تھی۔۔۔ وہ دیکھتے رہے مگر کب تک دیکھتے رہتے؟۔ حیا نے آلیا اور انہوں نے نگاہیں نیچے کرلیں۔ وہ اب بھی نامحرم ہی تھے ایک دوسرے کے لیے۔ محرم بنانے کی خواہش میں کتنے سال گزر گئے مگر آج بھی دیکھا تو بھی نامحرم کی حیثیت سے۔۔ اوپری منزل پر کھڑی افشاں چیخ کر پیچھے ہوئی تھی۔ اس کی آواز حویلی میں کافی برسوں بعد گونجی تھی۔ زبان میں تکلیف ہوئی اور روتی بلکتی اپنی تکلیف کم کرنے لگی۔ دل کی دھڑکنیں تیزی سے دھڑک رہی تھیں۔ وہ شخص یہاں کیا کررہا تھا۔ وہ اسے ماردیں گے۔۔۔ حویلی والے اسے ماردیں گے۔۔۔ وہ بھاگ کر کھڑکی کی جانب آئی اور نیچے جھانکنے لگی۔ باغ میں کوئی نہ تھا۔ شاہ جی حیا کے باعث بمشکل نظریں چراتے پہلے ہی اندر جاچکے تھے۔ نظریں اس شخص کو تلاشنے لگیں۔ وہ چیخ چیخ کر کہنا چاہتی تھی یہاں سے چلے جاؤ بشارت حسین۔۔۔ عشق کی وادی برباد ہوچکی ہے۔ یہ ظالموں کی بستی ہے۔۔۔ وہ دیا ان ظالموں کے ہاتھ لگ چکا تھا اور انہوں نے اسے پیروں تلے روند کر چکنا چور کردیا تھا۔ مگر وہ کچھ بول نہ سکی۔۔۔ اس کی زبان کی تکلیف بےجا تھی مگر فکر صرف وادی عشق کے اس مسافر کی تھی۔۔۔۔ وہ اسے ماردیں گے۔۔۔ وہ پھولتی سانسوں اور تیز دھڑکتی دھڑکنوں سے اس شخص کو سوچنے لگی۔۔۔ اس کی گئی وفا کو سوچنے لگی۔ وہ بھی اس کے بعد دھرا کا دھرا رہا اور وہ بھی نہ بدلی۔ وہ دونوں جیت گئے وفاداری نبھانے میں! دماغ میں جھماکہ ہوا اور وہ سن ہوگئی۔ وہ یہاں ابھی نہیں آیا تھا یقیناً۔۔۔ وہ یہاں پہلے سے تھا۔۔۔ یہ وہی تو تھا جو گنگناتا تھا صرف اس کے لیے۔۔۔ جس کی ہر صبح اس کی گنگناہٹ سے ہوتی تھی۔ یہ وہی شخص تھا جس کی آواز کا درد محسوس کرکے اسے اپنائیت سا محسوس ہوتا تھا۔ اسے حیرانی ہوئی۔۔۔ اس نے خط میں اسے گاؤں چھوڑ جانے کی تاکید کی تھی مگر وہ نہیں گیا۔۔۔ وہ کیوں نہیں گیا افشاں؟۔ وہ اب خود سے سوال کررہی تھیں۔۔۔ کیونکہ۔۔۔ کیونکہ اس کے خون میں وفا ہے۔ کیونکہ اس نے پاک محبت کی ہے۔۔۔ ایک سچی اور پاک محبت!۔ جس کے لیے پہلے کبھی نگاہیں نہ اٹھیں اسے کتنے برسوں بعد دیکھ کر بھی اس شخص نے نگاہ جھکالی۔۔ وہ چاہتا تو اسے دیکھنے میں محو سے محو تر ہوجاتا۔۔۔ وہ کون ہے حویلی کا؟۔ اس کی شناخت؟۔ وہ دل پر ہاتھ رکھے بےیقین اور ساکت نظروں سے حیران بیٹھی یقین کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ کھڑکی اب بھی کھلی تھی اور ہوا تیزی سے اندر داخل ہورہی تھی۔۔۔ بڑھتی عمر نے اسے بالوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے دیا۔ وہ اب بھی اتنی ہی حسین تھی۔ جیسے پھولوں کے گھر سے آئی ہوئی شہزادی۔۔۔ مگر چہرہ جھریاں زدہ ہورہا تھا۔ کنچی آنکھوں پر گھنی پلکوں کی باڑ بھی ویسی تھی۔ وقت کی بےرحمی نے اس کے سنہرے برس چھین لیے تھے۔۔۔ ناقابلِ یقین لمحوں میں شکست دیتی ہوئی زندگی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ دونوں ساتھ کمرے سے باہر آئے تھے اور اب ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھنے لگے تھے۔
“آجاؤ بہو”۔ داجی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور حیدر کے برابر بیٹھنے کو کہا تو وہ لال ہوتے رخسار کے ساتھ حیدر کے برابر میں بیٹھ گئی۔ طلعت نے مسکرا کر اپنی بہو کو دیکھا جو شرماتے جھجھکتے لقمے منہ میں ڈال رہی تھی۔
“حویلی چل کر بہترین استقبال کریں گے”۔ داجی خوش تھے اور کبیر اپنی دھی کی کمی محسوس کررہے تھے۔ ان کی بات پر وجیہہ نے حیدر کو دیکھا تو حیدر نے بمشکل داجی کو۔
“داجی میں چاہ رہا تھا کہ دو دن یہیں رہ لوں۔ یونیورسٹی کے کچھ مسائل حل کرنے ہیں”۔ آواز مدھم تھی۔ داجی نے ناک بنھویں چڑھائیں۔
“کون سے مسائل؟”۔ انہوں نے تڑخ کر پوچھا۔
“ان گنت ہیں۔۔ اور بعد میں بار بار آنا بھی ہوگا جب تک یونیورسٹی ہماری مکمل ختم نہیں ہوجاتی”۔ اس نے ناشتے کا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے بتایا۔ داجی نے لب بھینچے اور کچھ نہ کہا۔ وہ سمجھ گیا کہ اجازت مل چکی ہے اور پلیٹ کی طرف متوجہ ہوگیا۔ طلعت اور کبیر کو ذرہ برابر فرق نہ پڑا کیونکہ وہ اپنی اولاد کے فیصلے بھی خود کرنے کا اختیار نہیں رکھتے تھے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ ناشتے کی اطلاع دینے کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ سے ٹیک لگائی آنکھیں موندے بیٹھی تھی۔
“ناشتہ لے آیا ہوں میں”۔ اسے اطلاع دے کر وہ نگاہیں جھکاتا کمرے سے نکل گیا۔ صالحہ نے گھڑی دیکھی تو نو بج رہے تھے۔ چپل پیروں میں پہن کر کمرے سے باہر آئی اور گھر کا جائزہ لینے لگی۔ وہ پہلی منزل پر کھڑی تھی۔ سامنے کی جانب ایک کمرہ تھا جو شاید وجیہہ کا تھا۔ دائیں جانب ایک اور کمرہ تھا جو شاید لاک تھا۔ الٹے ہاتھ پر سیڑھیاں تھیں۔ وہ ریلنگ کے سہارے سیڑھیاں اتر کر لاؤنج میں داخل ہوئی۔ لاؤنج بےحد کشادہ تھا اور سامنے بڑی ایل ای ڈی لگی تھی۔ خاکی صوفے پر وجدان بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اسے کچن میں جانا تھا مگر اسے رستہ معلوم نہیں تھا۔
“سنیں”۔ مدھم آواز میں اس نے وجدان کو پکارا تھا۔ وجدان نے اس کی آواز پر گردن موڑ کر دیکھا۔ وہ ٹی پنک جوڑے میں سیدھا اسے اپنے دل میں اترتی محسوس ہوئی۔
“جی کہیں”۔ اس نے لب بھینچے کھڑی صالحہ کو نرمی سے جواب دیا۔
“کچن کہاں ہے؟”۔ اپنی مخروطی انگلیاں مڑوڑتے ہوئے وہ پیشانی پر لکیریں ڈالتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ وجدان نے اس کے ہاتھ دیکھے اور پھر اس کا تاثرات! وہ نروس تھی۔
“آپ کے پیچھے دائیں طرف”۔ صوفے کی پشت پر ہاتھ پھیلاتے ہوئے وہ آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا اور کچن میں جانے لگیں۔
“میں نے چائے چڑھائی ہوئی ہے اور فرائینگ پین بھی ہلکی آنچ پر رکھ دیا ہے۔ وہ گرم ہوجائے تو میں انڈے فرائی کردوں گا اور بریڈ بھی لے آیا ہوں۔ آپ کے لیے یہ ناشتہ مناسب ہے؟”۔ اس نے کچن کی جانب بڑھتی صالحہ کو روکا۔
“جی میں انڈا فرائی کردیتی ہوں”۔ وہ لب کاٹتے ہوئے کہتی مڑنے لگی کہ وجدان اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ کل ہی دلہن بن کر آئی ہیں۔ اچھا نہیں لگے گا کہ اگلے دن سے ہی کام شروع کردیں۔ میں بنادیتا ہوں ناشتہ”۔ وہ کہتے ہوئے کچن میں آگیا اور فریج سے انڈے نکالنے لگا۔ صالحہ تھوک نگلے کچن کے دروازے کی چوکھٹ پر کھڑی تھی۔ وہ اب انڈے تل رہا تھا اور بریڈ کو ٹرے میں سلیقے سے سجا رہا تھا۔ چائے میں دودھ وہ انڈہ فرائی پین میں ڈالنے سے پہلے ہی ڈال چکا تھا۔ اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر ناجانے کیوں وجدان کا دل چاہا کہ اس سے بات کرے۔ اب وہ کسی سوال کی تلاش میں تھا۔
“آپ کے بیگز میں جتنا سامان ہے وہ آپ وارڈروب میں رکھ لے گا۔ میں نے وارڈروب میں آپ کے لیے کافی اسپیس چھوڑی ہے”۔ وجدان نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے انڈہ پلیٹ میں نکالا۔
صالحہ کو اس کے بتانے پر یاد آیا کہ اس کے بیگز میں کپڑوں اور دیگر اشیاء کے سوا اس کے اہم کاغزات بھی ہیں۔ ہر سرٹیفکیٹ اور مارک شیٹس تھیں جو وہ حویلی سے کسی امید پر ساتھ لائی تھی۔
“میں اپنے اہم کاغزات جو میری تعلیم سے متعلق ہیں وہ کہاں رکھوں؟”۔ اسے سوائے اس بات کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ وجدان نے پلٹ کر اسے دیکھا جو اپنی تعلیمی کاغزات کے لیے پریشان ہورہی تھی۔
“وارڈ روب میں لاکر ہے آپ وہیں رکھ کر لاک لگادے گا۔ آپ گاؤں میں کہاں تک پڑھی ہیں؟”۔ اس کا دل کیا یوں ہی سوال کرنے کا۔
“بارھوی تک”۔ صالحہ کے چہرے پر عجیب مسرت چھائی۔ لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ عیاں ہوئی۔ وجدان کو حیرانی ہوئی۔ اسے لگا وہ میٹرک پاس ہوگی یقیناً اسے پڑھنے اشتیاق تھا۔
“آگے پڑھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟”۔ اس نے یہ سوال اس کی آنکھوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ صالحہ کا جھکا چہرہ جھٹکے سے اٹھا۔ آنکھوں میں بےیقینی تھی۔
“آپ پڑھائیں گے؟”۔ کھلے چہرے سے اس نے بہت امید سے اس سے پوچھا۔
“اگر آپ ارادہ رکھتی ہیں تو میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ پڑھیں”۔ وہ دم بخود مسکراتا ہوا بولا۔
“اور جاب؟۔ جاب کرنے دیں گے؟”۔ وہ اپنی خواہشات بلا جھجک آگے رکھنے لگی۔ وجدان الجھا۔
“پیسوں کی ضرورت تو نہیں۔۔۔ میں آپ کو ہر ماہ کے آغاز میں پیسے دیا کروں گا”۔ اسے لگا وہ پیسوں کی وجہ سے جاب کرنے کا کہہ رہی ہے۔ صالحہ کا چہرہ ہلکا پھیکا ہوا۔
“میں استانی بننا چاہتی ہوں”۔ زیر لب کہتے ہوئے اس نے بتایا۔
“آپ کو شوق ہے؟”۔ وہ اب انڈے تل چکا تھا اور ٹرے میں رکھ رہا تھا۔
“بچپن میں ڈاکٹر بننے کا شوق تھا مگر کبھی خواہش اظہار کرنے کا موقع نہ ملا۔ ایسے میں شوق ہی بدل دیا۔ میں استانی بننا چاہتی ہوں”۔ لہجہ قدرے دھیما تھا۔
“آپ کو یونیورسٹی میں داخلہ میں کراؤں گا صالحہ میرا یقین کریں! مگر کیا آپ اسکول اور یونیورسٹی دونوں ساتھ مینج کر پائیں گی؟”۔ وہ اب چائے چھان رہا تھا۔
“مم۔ممم۔میں سس۔سب کرلوں گی۔۔۔ میں کرلوں گی پکا”۔ خوشی سے وہ پھولے نہ سمارہی تھی۔ بےیقینی سے وہ اچھل پڑی تھی مگر احساس ہونے پر اب حیا سے نظریں جھکا گئی تھی۔ شادی کے اگلے دن ہی اسے بہت خوبصورت تحفہ ملا تھا۔ وجدان اس کے یوں خوشی سے اچھلنے پر مسکرایا تھا۔ وہ کتنا اچھا تھا جو بنا کسی بحث کے اس کی بات مان گیا تھا۔
“ٹھیک ہے میں نے ویسے ہی دفتر سے چھٹی لی ہوئی ہے۔۔ دو تین دنوں کی چھٹی باقی ہے اور ہم اس چھٹی میں یہی کام انجام دینے والے ہیں۔ وہ مسکراتا ہوا اس کے برابر سے ٹرے لیتا ہوا نکلا۔ وہ اسے خود سے مانوس کرنا چاہتا تھا۔
“سچی؟”۔ وہ اب بھی بے یقین کھڑی تھی۔ وجدان نے اس کے انداز پر نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسے مسکراتے ہوئے کسی جزبے کے تحت تکتا رہا۔ صالحہ کو احساس ہوا کہ وہ بہت زیادہ ایکسائیٹڈ ہوگئی ہے۔
“جی بلکل سچ! اب آپ میری ذمہ داری ہیں”۔ نظریں چراتا ہوا وہ ناشتہ میز پر رکھتا ہوا بولا۔ صالحہ کو اس کی بات ہر نئے رشتے کا احساس ہوا۔
“پرسوں جا کر ایڈمیشن کروائیں گے اور پھر آپ کچھ ہی دنوں میں کسی اسکول میں اپلائے کرلے گا”۔ وہ اب اس کے لیے کرسی آگے کررہا تھا۔
“لال عمارت والا اسکول”۔ اس کے منہ سے جھٹ نکلا اور وہ لب بھینچ گئی۔ وجدان اس کی بات پر مڑا۔
“کونسی لال عمارت”۔ میٹھے لہجے میں پوچھتے ہوئے اس نے باورچی خانے کی چوکھٹ پر کھڑی صالحہ کو دیکھا۔
“میں ویر کے ساتھ آئی تھی شہر کچھ ہفتوں پہلے۔۔۔ اس کی یونیورسٹی دیکھی تھی اور گزرتے ہوئے اسکول کی لال عمارت”۔ وہ آنکھیں بڑی کرکے جوش سے بتارہی تھی۔ “میں اپنے ویر کی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتی ہوں اور اس بڑی لال عمارت میں استانی بن کر پڑھانا چاہتی ہوں۔ وہ لال عمارت والا اسکول بہت بڑا تھا”۔ وہ معصومیت سے اپنی خواہشات کا اظہار کررہی تھی۔
“کیا لال عمارت جس کے چھت پر بہت بڑا جھنڈا لگا ہے؟”۔ وہ اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھنے لگا۔ صالحہ نے تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔
“جی جی۔۔۔ وہ جھنڈا بہت بڑا ہے”۔ سر تیزی سے ہاں میں ہل رہا تھا۔
“جس کا دروازہ پیلا ہے؟”۔ وہ بمشکل مسکراہٹ ضبط کررہا تھا۔
“جی۔ آپ جانتے ہیں؟”۔ اس کا جوش بڑھتا جارہا تھا۔
“ہاں وہ ہمارے گھر کے پیچھے ہی مقیم ہے”۔ وہ کھل کر مسکراتا ہوا بولا۔ صالحہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
“میں آپ کو کمرے کی کھڑکی سے دکھاؤں گا اور ہاں وہ واقعی بہت بڑا اسکول ہے”۔ اس نے ساتھ اسے ناشتے کی میز پر بیٹھنے کو کہا اور خود کھڑا رہا۔ صالحہ کے قدم بڑھے اور وہ آہستگی سے کرسی ہر بیٹھ گئی۔ وہ اب بھی کھڑا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا تو یقیناً وہ ان کمفرٹیمبل محسوس کرے گی اور ناشتہ بھی مکمل نہیں کرسکے گی۔ یہ میز صرف دو لوگوں کے لیے ہی تھی جس پر کبھی وجیہہ اور وجدان بیٹھتے تھے۔ صالحہ نے اس کی بات پر سر یلایا اور جھجھکتے ہوئے ناشتے کی پلیٹ میں جھکی۔ وہ اسے اچھا لگا تھا۔ چائے کے گھونٹ بھرتا وجدان اتنا تو جان گیا تھا کہ اسے خود سے مانوس کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ اسے خوف تھا کہ اس لڑکی کی کنچی آنکھیں وقت کے ساتھ ساتھ اس کے جینے کی وجہ نہ بن جائیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
