Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۹
صبح کا اجالا ہر سو چھا گیا تھا۔ صالحہ نے معمول کے مطابق اٹھ کر نماز پڑھی اور پھر کچن میں چلی آئی۔ گھر کا تمام کام کرتے کرتے دس بج گئے تھے۔ وہ نیچے کی منزل صاف کرچکی تھی۔ کمرے میں داخل ہوئی تو وجدان اس کو واڈروب سے ہڑبڑی میں کپڑے نکالتا دکھا۔
“مجھے کیوں نہیں جگایا صالحہ”۔ وہ جنجھلایا ہوا تھا۔
“آج تو حویلی جانا ہے نا؟۔ آپ چھٹی نہیں کریں گے کیا؟”۔ اسے حیرانی ہوئی۔
“میں دوپہر تک آجاؤں گا میرا جانا بےحد ضروری ہے”۔ وہ غصے میں نہیں تھا مگر آخری حد تک سنجیدہ ضرور تھا۔
“مجھے آپ نے بتایا نہیں ورنہ میں ضرور اٹھا دیتی اور یہ کپڑے بھی استری کردیتی”۔ اس نے وجدان کے ہاتھ میں اس کے آفس کے کپڑے دیکھے۔ وجدان نے اسے نظر بھر کر دیکھا۔
“میں خود کرلوں گا”۔ وہ جلدی میں تھا۔
“میں کردیتی ہوں”۔ اس کے خراب موڈ کو دیکھ کر وہ اس کے پیچھے لپکی۔
“میں نے کہا نا میں کرلوں گا صالحہ!”۔ وہ سختی سے بولا تھا۔ پیچھے آتی صالحہ وہیں رک گئی۔ وجدان اب جلدی سے کپڑے استری کررہا تھا۔ صالحہ کی پلکیں لرزیں۔ وہ استری کرکے واش روم میں گھس گیا جبکہ صالحہ کمرے کی صفائی میں لگ گئی۔ وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ اس کا جسم درد کررہا تھا۔ اس نے لان کا سوٹ نکال کر استری کیا اور وجدان کے واش روم سے نکلنے کا انتظار کرنے لگی۔ قریب پندرہ منٹ بعد وہ واش روم سے نکلا۔
“آپ کے لیے ناشتہ کیا بناؤں؟”۔ اس نے جھٹ سے پوچھا۔
“بھوک نہیں ہے مجھے”۔ لہجہ سپاٹ تھا۔ وہ خاموش ہوگئی۔ وہ اب بالوں میں کنگھا کررہا تھا۔
“آئم سوری”۔ آواز مدھم تھی۔ اس کے ان دو بولوں نے وجدان کو ساکت کردیا۔
“اس میں معافی کی ضرورت کہاں سے پیش آئی؟”۔ اب اسے اس بات پر غصہ آنے لگا۔
“میری غلطی تھی مجھے اٹھادینا چاہیے تھا آپ کو”۔وہ زمین کو تکتے ہوئے دکھ سے بول رہی تھی۔
“جب آپ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ مجھے آج جانا یے تو کیسے اٹھاتیں؟۔ آپ شاید واش روم جارہی تھیں”۔ اس نے استری ہوئے کپڑے دیکھے۔
“جی”۔ وہ مختصراً بولی۔
“تو جائیں”۔
“ناشتہ؟”۔
“آفس میں کرلوں گا”۔ کہتے ساتھ اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھاتا نیچے بڑھنے لگا۔ وہ روہانسی ہوگئی تھی۔
“اللہ حافظ”۔ وہ کمرا عبور کرہی رہا تھا کہ اس نے صالحہ کی آواز سنی۔ وجدان اس کی آواز میں نمی واضح محسوس کر گیا تھا۔ گردن پھیری تو نگاہ اس پر ٹک گئی۔ وہ بنا آنسو کے رورہی تھی۔ ناک رگڑنے سے سرخ ہورہی تھی۔ وجدان کی ماتھے پر چڑھی تیوریاں بحال ہوئیں۔ وہ پلٹ کر اس کی جانب آیا۔ صالحہ نے اس کے قریب آنے پر پلکوں کی بار جھکالی تھی۔ ناک اور آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں۔ اس نے ٹھوڑی ہلکی سی اٹھائی اور اس کی آنکھوں میں اپنا عکس دیکھا۔
“یہ آنکھیں لال کیوں ہورہی ہیں؟”۔ اس نے مدھم آواز میں اس کی آنکھوں کو تکتے ہوئے پوچھا۔ وہ یوں ہی گھٹ گھٹ سسکتی رہی۔
“ایسے رو کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہیں صالحہ بیگم؟۔ کہ میں بہت ظالم شوہر ہوں؟”۔ وہ مبہم سا مسکراتا اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا بولا۔ وجدان اس کے بہت قریب کھڑا تھا کہ صالحہ نے حیا سے چہرہ جھکالیا تھا۔ وہ اسے روکنا نہیں چاہتی تھی۔
“چہرہ جھکانے سے کیا ہوگا؟”۔ وہ شرارتاً مسکرایا تھا۔ صالحہ کے دل میں کچھ ہوا۔
“آپ کو دیر ہورہی تھی ابھی”۔ اس نے خفا خفا سی نگاہیں اس پر ڈالیں۔
“یہ انداز میرا دل لوٹ رہا ہے صالحہ”۔ وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہوا بےچارگی سے بولا۔ صالحہ نے آنکھیں پھاڑیں۔ اس کی سسکیاں ختم ہوچکی تھیں۔
“خیریت تو ہے نا؟”۔
“کیوں بھئی؟۔ اچھا خاصا شوہر ہوں آپ کا۔۔۔ اب میں آپ سے نہیں کہوں گا یہ تو کس سے کہوں گا؟”۔
وجدان کے انداز پر صالحہ شرمائی تھی۔ اس کے سرخ ہونے پر وجدان اس کی پیشانی چومنے سے خود کو روک نہ پایا۔ صالحہ کا جی چاہا سات پردوں میں چھپ جائے۔ وہ اپنا لمس اس کی پیشانی پر چھوڑ گیا تھا۔
“آپ کہیں گی تو شہوار سے کہہ دوں گا”۔ وہ ہنسی چھپاتے ہوئے بولا تو صالحہ نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ یہاں اس کی تیوریاں چڑھیں اور وہاں وہ اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھاتا نیچے بھاگا۔
“اللہ حافظ صلہ”۔ اس کے قہقہہ کی آواز گونجنے لگی تھی۔
“میرے پاس بھی بہت ایسے لوگ ہیں جن کا نام لے کر میں بھی آپ کو تنگ کرسکتی ہوں”۔ وہ چہرے کے زاویے بگاڑ کر کہنا نہیں بھولی تھی۔ “اور یہ صلہ کون ہے؟۔ شہوار کم تھی کیا؟”۔ دانت پیس کر وہ خود سے بڑبڑائی تھی۔ وہ اس کا پارہ چڑھا گیا تھا۔ اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں گھس گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“رفاہ”۔ ابا کی آواز پر وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر آئی۔
“جی ابا آپ نے بلایا؟”۔ ڈوپٹے کے پلو سے پیشانی کا پسینہ پونچھتے ہوئے بولی۔
“تم کام کررہی ہو؟”۔ انہوں نے اپنی عینک اتار کر اسے پسینہ میں لت پت دیکھا۔
“ابا گھر کی صفائی کررہی ہوں۔ اماں نے ماسی کی کام چوری پر اسے نکال دیا تھا”۔ وہ لہجے سے بہت تھکی تھکی معلوم ہورہی تھی۔ خالد صاحب نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ وہ محض سترہ سال کی تھی مگر پورا گھر اب بھی سنبھالی ہوئی تھی۔
“تمہارے شوہر کا فون آیا؟”۔
“میں نے ان سے کہہ دیا تھا کہ اب میں حویلی نہیں لوٹوں گی”۔ اس کے ارادے مضبوط تھے۔
“اس کے بعد کوئی فون نہیں آیا؟”۔ وہ اب بھی پرسکون تھے۔
“نہیں ابا”۔ وہ دور تخت پر بیٹھ گئی۔
“یہ تمہاری زبان نہیں”۔
“کون سی زبان ابا؟”۔
“کہ تمہیں شرجیل جیسے ذمہ دار، خیال رکھنے، محبت کرنے والے شخص کے ساتھ نہیں رہنا۔ یقیناً یہ تمہاری ماں اور تمہارے بھائی نے کہنے کو کہا ہے”۔ وہ جانتے تھے ان کی بیٹی کے لیے اچھا کیا ہے۔
“ابا مگر میرے ساتھ ماضی میں جو کچھ ہوچکا ہے اس کے بعد میں وہاں کیسے رہ سکتی ہوں؟”۔ وہ لب بھینچ کر اپنے حق میں بولی۔ ابا کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“تمہارے ساتھ جو ہوا ماضی میں اس کا ذمہ دار تمہارا بھائی ہے! اور اسی کی بات مان لی تم نے؟۔ جو مسقبل میں ہوگا اس کا ذمہ دار بھی تمہارا بھائی ہوگا رفاہ بیٹے۔ شرجیل نے نکال تو لیا تمہیں ہر ظلم سے باہر؟۔ اس کی وفا اور محبت کا صلہ تم یہ دو گی؟ بیٹیاں اپنے گھر میں اچھی لگتی ہیں رفاہ”۔
رفاہ انہیں تکتی رہ گئی۔ اسے شرجیل کا اپنے لیے لڑنا یکدم یاد آیا۔
“مثال کے طور پر تم اسے چھوڑ بھی دیتی ہو تو کل کو تمہیں پھر سے کسی اور شخص سے شادی کرنی پڑے گی۔ لیکن یہ یاد رکھنا وہ کوئی اور شخص شرجیل نہیں ہوگا۔ وہ ایک مضبوط اور ذمہ دار شخص ہے بیٹے۔۔۔ کب تک تم یوں اماں اور بھائی کی ہاں میں ہاں ملاؤ گی؟۔ خود اپنا فیصلہ لو۔۔۔!”۔ وہ پوری آنکھیں کھول کر اس پر نگاہیں جمائے بیٹھے تھے۔ رفاہ سن بیٹھی تھی۔ شاید وہ ان کی بات تسلیم کررہی تھی۔
“اور فیصلہ کرنے میں جلدی کرو! ایسا نہ ہو کوئی تمہاری جگہ ہتھیالے”۔ اس ایک جملے میں اسے بہت کچھ سمجھا گئے تھے۔ اس کے دل میں ایک خوف کی لہر برپا ہوئی۔ شرجیل کے ساتھ کسی اور کو تصور کرنا نجانے کیوں محال ہورہا تھا۔ وہ تھوک نگلتی اثبات میں سرہلاتی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ بالوں پر تولیہ لپیٹتے، ڈوپٹہ سینے پر پھیلاتی نیچے چلی آئی۔ سورج چڑھ چکا تھا اور معمول کے مطابق آج زیادہ سردی نہیں تھی۔ گھر کا کام وہ مکمل کرچکی تھی۔ کچن میں داخل ہو کر اس نے چائے چڑھائی اور دودھ لینے فریج تک آئی۔ فریج کے دروازے پر ایک کاغذ چپکا تھا۔ وجدان کا اپنایا ہوا انداز یاد آیا تو سر حیا سے پھر جھک گیا۔ نجانے کیوں وہ اسے سوچنے لگی تھی۔ حالانکہ اسے گئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا۔ اس نے وہ کاغذ اٹھا کر نگاہوں کے آگے کیا۔
“ناشتہ نہیں کروایا مگر دوپہر میں بریانی بنا دے گا۔ میں جلد آنے کی کوشش کروں گا صلہ”۔ وہ لفظ یقیناً ہڑبڑی میں لکھے گئے تھے شاید اسی لیے لکھائی بہت خراب تھی۔ وہ اس بار چڑی نہیں تھی۔ بلکہ مسکرادی تھی۔ وہ صلہ اسے کہہ رہا تھا وہ جان گئی تھی۔ وہ ڈرتی تھی کہ کہیں محبت حد سے بڑھ گئی تو اپنا وجود نہ مٹادے۔ یہ الفاظ اس نے اپنے دل پر لکھ لیے تھے۔ وہ صالحہ کا نام محبت میں صلہ رکھ گیا تھا۔ نگاہیں بھٹک کر گھڑی کو اٹھیں تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔ وقت بہت زیادہ ہوگیا تھا اور یقیناً بریانی بنانے میں وقت لگنا تھا۔ اس نے چولہے پر چڑھی چائے کو نظر بھر کر دیکھا اور گیس بند کردی۔ اس کے پاس وقت کم تھا۔ نجانے کیوں اس کاغذ کو پڑھ کر اس کی بھوک ہی مٹ چکی تھی۔ اب جستجو تھی تو وجدان کی خواہش مکمل کرنے کی۔ اسے بریانی بنانے کی تیاری کرنی تھی۔ ساتھ ساتھ نگاہ موبائل پر بھی اٹھ رہی تھی۔ سلاد کے پیاز کاٹتے ہوئے چھڑی زیادہ چل گئی اور انگلی سے خون بہنے لگا۔ اس نے تیزی سے انگلی دانتوں کے بیچ دبالی۔ ایک کراہ زبان سے ادا ہوئی اور وہ مچلتی ہوئی ہاتھ زور زور سے ہلانے لگی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو یقیناً وہ روپڑتی مگر وجدان کا خیال آتے ہی درد کو فراموش کرگئی۔ دل میں جذبات تھے اس کے لیے جو پروان چڑھنے لگے۔ وہ اس کا شوہر تھا اور اس کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کے لب مسکرارہے تھے۔ اچانک کال آئی تو وہ بھاگتی ہوئی فون کی جانب آئی۔
“ہیلو”۔ نجانے لب پھر کیوں مسکرائے۔ بالوں کی چٹیا باندھے وہ میز کی کرسی پر بیٹھی گئی۔ الٹے ہاتھ کی انگلی میں اب بھی تکلیف تھی۔
“کوئی پرچی ملی؟”۔ وہ جان کر پوچھ رہا تھا اور وہ اس کی چلاکی پر ہنسی کا گلا گونٹھ رہی تھی۔
“نہیں تو۔۔۔ آپ کب آرہے ہیں؟”۔
“جواب سن کر تو دل کررہا یے اب نہ ہی آؤں”۔ آواز میں اکتاہٹ تھی۔
“تھکاوٹ ہورہی ہے؟”۔ صالحہ نے اس کی تھکاوٹ محسوس کی۔
“صلہ آپ وقت دیکھیں۔۔۔ ڈیڑھ بجنے کو ہے۔ ہاں تھک تو بہت گیا ہوں۔ کندھے اب تکلیف کررہے ہیں”۔ وہ یقیناً کام میں پھنسا تھا۔
“آپ گھر آجائیں”۔ وہ منمنائی۔ وجدان نے حیرت سے فون کو دیکھا۔ نہیں یہ یقیناً اس کا خواب تھا۔
“آپ خود سے بلا رہی ہیں؟”۔ وہ یہ بات کم از کم اس سے توقع نہیں کرسکتا تھا۔
“کندھوں میں درد ہورہا ہے آپ کے۔۔۔ میں کندھے دبادوں گی پھر آپ کھانا بھی کھالے گا”۔ نجانے کیوں اس کا درد صالحہ کو اپنے دل میں محسوس ہورہا تھا۔ وہ خوشگوار حیرت سے مسکرایا۔
“میری انگلیاں صفحوں پر چلتے چلتے تھک گئی ہیں”۔ وہ کیا کہنا چاہتا تھا؟۔
“کھانا میں اپنے ہاتھوں سے کھلادوں گی”۔ دل کی بات زبان پر آگئی مگر اسے افسوس نہ ہوا۔
“صوفے سے کمر کے درد میں اضافہ ہورہا ہے”۔ مسکراہٹ لبوں سے جانے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ کیسے کہے وہ صالحہ سے کہ تم مجبور کرتی ہو مجھے خود سے محبت کرنے کے لیے۔۔۔
“آپ بستر پر سوجائے گا”۔ کیوں ہورہی تھی وجدان کی محبت اس پر حاوی۔۔۔
“مگر میں آپ کو صوفے پر سونے نہیں دے سکتا”۔ وہ صاف صاف کچھ کہہ نہیں پارہا تھا۔
“میں نہیں سوؤں گی صوفے پر۔۔۔”۔ وہ لب بھینچ گئی۔
“میں جمعے کو واسٹ کوٹ نہیں پہنوں گا”۔ اسے یہی موقع لگا سب باتیں منوانے کا۔
“میں زبردستی نہیں کروں گی”۔ وہ نفی میں سرہلانے لگی۔
“میں گھر آجاؤں؟”۔ اس کا چہرہ سامنے محسوس ہوا تو وہ جلدی سے بول پڑا۔
“کہیں تاخیر نہ ہوجائے”۔ وہ کہہ کر حیا اور شرم کے مارے فون کاٹ گئی۔ وجدان نے بھی تاخیر نہیں لگائی۔ کیا یہ پھول خریدنے کا صحیح وقت تھا؟۔ وہ تاخیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی کنچی آنکھوں والی بیوی اسے پکار رہی تھی۔ ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ صالحہ اسے پکارے اور وہ نظرانداز کردے۔
۔۔۔★★۔۔۔
“ہم کب پہنچیں گے؟”۔ ہر پانچ منٹ بعد وہ حیدر سے یہی پوچھ رہی تھی۔
“جیا جان ہم جلد پہنچ جائیں گے”۔ وہ بظاہر مسکرا رہا تھا، مگر اندر خوف پھیل رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ صالحہ کے اسے دیکھ کر کیا تاثرات ہوں گے۔
“ان کے تحفوں کا بیگ ڈگی میں ڈالا تھا؟”۔ اسے یکدم یاد آیا۔
“ہوں”۔ وہ خوش تھی کیونکہ وہ بھائی سے ملنے والی تھی۔ پہاڑوں کے شہر کو دیکھنے والی تھی۔ کتنا وقت ہوگیا تھا وجدان کو دیکھے۔ کتنے مکانات اپنے پیچھے چھوڑتے وہ آگے بڑھ رہے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔
“میں نہیں جانتا ثریا کچھ بھی”۔ وہ اپنی ضد پر اب بھی قائم تھا۔
“شاہ زل صاحب میں خطروں کی کھلاڑی نہیں ہوں”۔ وہ بھی اڑی رہی۔
“مگر میں اپنے دوست کو پریشان نہیں دیکھ سکتا”۔ وہ سنجیدہ تھا۔
“اور میں جھوٹ بول کر اسے غمگین نہیں کرسکتی”۔ اس نے نگاہیں پھیریں۔
“مگر وہ لوٹ آئے گی!”۔ وہ پریشان تھا۔
“اور پھر اس کے شوہر نے داجی کی لاٹھی میرے گلے پر رکھ کر دبادینی ہے”۔ ثریا نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“آپ کو میرے ہوتے ہوئے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگاسکتا”۔ وہ برہم ہوا۔
“وہ آپ سے زیادہ جانتے ہیں اپنی ماؤں بہنوں کی عزت کرنا! میں نے مثال پیش کی ہے صرف”۔
“خدا کا واسطہ ہے آپ کو! وہ شہر سے لوٹنا بھول جائے گا”۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟”۔ وہ جنجھلائی۔
“اس کے پاس جب لوٹنے کا جواز نہیں ہوگا تو وہ کیوں پلٹے گا ثریا جی؟”۔ بات گہری تھی۔ ثریا خاموش ہوگئی۔
“فون ملائیں”۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔ شاہ زل کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے جھٹ فون ملا کر ثریا کے ہاتھوں میں موبائل دیا۔ بیل جارہی تھی اور وہ مقابل شخصیت کے کال اٹھانے کا انتطار کررہے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔
اس نے لال رنگ کا کڑاھی والا سوٹ پہنا تھا۔ ہونٹوں پر ہلکی لال لپ اسٹک لگا کر لمبے بالوں کو سلجھانے لگی۔ آج دل کررہا تھا کہ وجدان کے آنے پر تیار ہوجائے۔ صبح بغیر ناشتے کے وہ صرف اس کی وجہ گیا تھا۔ اس کے لیے کسٹرڈ بنا کر فریج میں رکھ آئی تھی۔ گاڑی کے ہارن بجنے پر وہ بال باندھے بغیر ہی نیچے بھاگی۔ اس کے خیال میں نہ آیا کہ اس کے بال کھلے رہ گئے ہیں۔ گھنے کالے بال کمر سے نیچے تک لہرارہے تھے۔ جھٹ سے پورا دروازہ کھول دیا تاکہ وہ گاڑی اندر لاسکے۔ گاڑی میں بیٹھا وجدان تھوڑا حیران بھی ہوا تھا۔ نجانے اسے کیسے معلوم ہوا تھا کہ ہارن بجانے والا وجدان تھا جبکہ اس نے دروازہ پوچھ کر نہیں کھولا تھا۔ وہ گھر کے اندر گاڑی لا کر پارک کرنے لگا۔ وہ ویسے ہی کھلی باچھوں کے ساتھ کھڑی رہی۔ یاد آنے پر کہ دروازہ کھلا ہے ماتھے پر ہاتھ مارا اور دروازہ بند کرنے لگی۔ وجدان بیک مرر سے اس کی حرکت دیکھ کر مسکرایا۔ یہ لڑکیاں اپنے گھر کے مردوں کو ان کی گاڑی یا موٹرسائیکل کے ہارن سے ہی پہچان لیتی ہیں۔
“صلہ۔۔۔”۔ اس نے آواز لگائی۔
“جی”۔ وہ گاڑی کے دروازے کی جانب آئی۔
“یہ لیپ ٹاپ بیگ پکڑے گا ذرا۔۔۔ میں گاڑی لاک کرلوں”۔ دیکھے بغیر لیپ ٹاپ بیگ صالحہ کی جانب بڑھایا جسے صالحہ نے جھٹ سے تھام لیا۔ وجدان نے دیکھ بھال کر گاڑی لاک کی اور اس کی جانب مڑا۔ وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ اسے حیرت ہوئی۔ اس نے گول گھوم کر چاروں طرف دیکھا مگر وہ وہاں نہیں تھی شاید اوپر چلی گئی تھی۔
“جادو گرنی! میرے بغیر ہی یہاں سے غائب ہوگئی”۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر بڑبڑاتا ہوا اندر داخل ہونے لگا۔ لاؤنج میں آکر اس نے جوتے اتارے۔ پورا گھر بریانی کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ وجدان کی بھوک جیسے جاگ اٹھی تھی۔ اتنے میں صالحہ کی کچن سے آواز آئی۔
“میں کھانا لگا رہی ہوں”۔ وہ جلدی میں لگ رہی تھی۔ اس کی آواز پر وہ مسکرایا۔
“میں فریش ہوکر آرہا ہوں جلدی سے میز پر کھانا لگادیں”۔ وجدان جوتے اٹھاتا اوپر بھاگا۔ صالحہ نے اپنی زخمی انگلی دانتوں میں دبائی اور اثبات میں سرہلایا جیسے وہ سامنے کھڑا ہو۔ وہ خود اسے اس حالت میں نہیں دکھانا چاہتی تھی۔ اسے فریش ہونے کا موقع دیتی میز پر کھانا سجانے لگی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“ہیلو؟۔ اسلام علیکم”۔ موبائل سے آواز آئی تھی۔ شاہ زل نے اپنے سے ایک اوپر سیڑھی پر بیٹھی ثریا کو دیکھا۔
“وعلیکم سلام۔ ہاں رفاہ میں ثریا بات کررہی ہوں۔۔ کیسی ہو تم؟”۔ اس نے شاہ زل کے اشارے پر بات کا آغاز کیا۔
“اوہ ثریا آپ؟۔ میں ٹھیک ہوں الله کے فضل سے”۔ ثریا اس کی آواز میں صاف خوشی محسوس کرسکتی تھی۔
“میں بھی ٹھیک ہوں۔ اصل میں شاہ زل بہت پریشان ہیں۔ تم جانتی ہو نا وہ شرجیل ویراں کے کتنے گہرے دوست ہیں؟”۔ ثریا نے شاہ زل کو دانت پیس کر دیکھا۔
“جی”۔ وہ سمجھ نہ پائی کہ شرجیل کا ذکر کیوں کیا گیا یے۔
“ہاں وہ پریشان ہورہے ہیں شرجیل ویراں کل رات سے حویلی میں نہیں ہیں۔ کہیں وہ تم سے تو ملنے نہیں آئے تھے؟”۔ وہ اسے پریشان نہیں کرنا چاہتی مگر شاہ زل کی ضد کے آگے مجبور ہوگئی تھی۔
رفاہ کا چہرہ پل بھر میں زرد ہوا تھا۔ اس نے فون کو کان سے ہٹا کر دیکھا۔
“ننن۔نہیں۔۔۔ میرے پاس تو نہیں آئے”۔ اس کا ڈرا ڈرا لہجہ ثریا اور شاہ زل کا کام کر گیا۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے ہم دیکھ لیتے ہیں”۔ وہ یہ کہہ کر جان بوجھ کر کال رکھنے لگی۔
“ممم۔مگر وہ کہاں ہیں؟”۔ اس کی آواز فون سے برآمد ہوئی۔ ثریا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔
“انہوں نے ہمیشہ کے لیے شہر جانے کی بات کی ہے”۔ اس نے ٹہھر کر جواب دیا۔
“مگر کیوں؟”۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔
“تم نے یہ بندھن توڑنے کا فیصلہ جو لے لیا ہے رفاہ۔ وہ بہت زیادہ دلبرداشتہ ہیں۔ افشاں پھپھو کی شادی کے بعد وہ حویلی چھوڑ دیں گے”۔
دوسری طرف خاموشی چھا گئی۔ ثریا انتظار کرتی رہی مگر کوئی جواب نہ آیا۔ شاہ زل کے ماتھے پر بل پڑے۔ اس سے اور انتظار نہ کیا گیا اس لیے اس نے ثریا کے ہاتھ سے فون چھین کر اپنے کان سے لگایا۔
“میں شاہ زل بات کررہا ہوں۔ دیکھو رفاہ اگر لوٹ کر آنا چاہتی ہو تو تاخیر مت کرو۔ میں اسے روک لوں گا مجھے یقین یے۔ اور اگر تم شرجیل کے پاس واپس نہیں آنا چاہتی تو بھی مجھے آگاہ کردو! میں پھر شرجیل کو گاؤں چھوڑنے سے نہ روکوں”۔ ثریا لب بھینچ گئی تھی۔ شاہ زل نے بات ختم کی اور جواب کا انتظار کرنے لگا۔ اس بار بھی دوسری طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جب برداشت ختم ہونے لگی تو شاہ زل غصے میں کال کاٹ دی۔
“اس کی نیت لوٹنے کو ہی نہیں ہے”۔ اس نے غصے میں موبائل پھینکا۔
“اس کی زندگی کے فیصلے لینے والے ہم نہیں! اسے جو ٹھیک لگے گا وہ صرف وہی کرے گی۔ ہم صرف دعا کرسکتے ہیں”۔ اسے شاہ زل کا موبائل پھینکا قطعی نہیں بھایا تھا۔ وہ اب بھی لال بھبھوکا چہرہ لیے غصے میں کھڑا تھا۔
“موبائل اٹھائیے شاہ زل صاحب۔ غصے میں پھینکنے کی عادت اچھی نہیں ہوتی”۔ ثریا سنجیدگی سے حکم دے رہی تھی۔ شاہ زل نے اس کا رویہ محسوس کرکے موبائل اٹھا لیا۔
“شرجیل ویراں کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ ہم نے رفاہ کو کال کی تھی”۔ اس نے شاہ زل کو بتایا تو شاہ زل نے اثبات میں سرہلایا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ سفید کرتا شلوار پر آستین کے کف فولڈ کرتا سیڑھیاں اترتا نیچے آرہا تھا۔ میز سجی ہوئی تھی۔ صالحہ کچن سے نکلی اور رائتہ رکھنے میز تک آئی۔ وجدان نے اسے بہت غور سے دیکھا تھا۔ لال کرتی پر سفید پاجاما اور گہرا لال ڈوپٹہ۔ چہرے پر ہلکا میک اپ جو اسے اور خوبصورت بنارہا تھا۔ اس کے قدم بےاختیار اس کی جانب اٹھے۔ وہ کچن میں واپس پلٹ رہی تھی کہ وجدان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وہ اس کے سینے سے ٹکراتی ٹکراتی بچی۔ اس نے نگاہ اٹھا کر وجدان کو دیکھنے کی کوشش ہی مگر شرم و حیا نے اسے آنکھیں اٹھانے کی اجازت نہ دی۔
“مجھے کچن میں جانا ہے”۔ اس نے جھٹ سے سر کو جھکا لیا۔
“مجھے سلام کیوں نہیں کیا؟”۔ وجدان نے مسکرا کر اس کے جھکے چہرے کو اٹھانے کی کوشش کی۔
“اسلام علیکم”۔ وہ جھٹ بولی۔
“جی کچھ کہا؟”۔ اس نے جیسے کچھ نہ سننے کی اداکاری کی۔
“کان بھی خراب ہوگئے؟”۔ اس کا یہ جملہ بےساختہ تھا۔ صالحہ نے زبان دانتوں میں دبائی۔
“اب میں اتنا بھی بیمار نہیں”۔ اپنے ہاتھ اس کے رخسار پر رکھ وہ بہت محبت سے بولا تھا۔ صالحہ کا تو حال ایسا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔
“کچن میں جانا یے مجھے”۔ وہ منمنائی۔
“جس کے لیے تیار ہوئی ہیں اسے تو اپنا دیدار کروائیں”۔ صالحہ کے دونوں ہاتھ وجدان کے قابو میں تھے۔ اس وقت وہ سیدھا اس کے دل میں اتررہی تھی۔ صالحہ نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور تھوڑا پیچھے ہٹ کر اپنا جوڑا اسے دکھایا۔ ہاتھ اب بھی وجدان کے ہاتھوں میں دبے تھے۔
“بہت خوبصورت”۔ زبان یہ کہنے سے خود کو روک نہ پائی۔ وہ اسے ساکت کرگئی تھی۔ وجدان نے اس کے لمبے گھنے بال اپنے ہاتھوں میں لے کر محسوس کیے۔ اس کی آنکھوں میں لگا سرمہ اس کے حسن کو اور بڑھاوا دے رہا تھا۔ وہ گھبراہٹ کے عالم میں اب بھی ویسی ہی کھڑی تھی۔ وجدان نے اسے اپنی جانب کھینچا اور سینے سے لگالیا۔ وہ ساکت اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی۔ کب تک وہ اسے گلے لگائے کھڑا رہا تھا صالحہ اندازہ نہیں کر پائی۔۔۔ اس کے گرد ہاتھوں سے بانہوں کا حصار باندھ کر جیسے اسے محفوظ کررہا تھا۔ صالحہ کا سر وجدان کے کشادہ سینے پر تھا۔ پل بیتنے لگے اور پھر منٹ۔۔۔ وجدان نے اسے خود سے دور نہیں کیا۔ وہ اس کے چہرے کے تاثرات جاننا چاہتی تھی مگر وجدان کا ایک ہاتھ اس کے سر پر تھا جس سے اب وہ اس کے بال دھیرے دھیرے سہلارہا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت سے وہ دونوں ہی دوچار تھے۔ ایک عجیب احساس۔۔۔ صالحہ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اچانک وجدان نے اس کو اپنے سینے سے دور کیا۔ وہ جیسے اس کے اشاروں پر چل رہی تھی۔ اس کے ماتھے ہر بوسہ دیتے ہوئے وہ صرف یہ سوچ رہا تھا کہ صالحہ وجدان صرف اس کی ہے! یہ عورت اللہ نے اس کے حصے میں دی تھی۔۔۔
“اللہ نے آپ کو میری قسمت میں لکھ کر بہت کرم کیا ہے مجھ پر۔۔۔”۔ اس کا ہاتھ تھام کر وہ بہت جذب سے کہہ رہا تھا۔ صالحہ کی کنچی حیرت سے پھٹنے کو تھی۔ وہ مسکرایا اور اس کی آنکھوں کو چوم کر اس کے ہاتھوں کی پشت چومنے لگا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وہ اس کی اسیر ہی ہوگئی تھی۔
“آپ کو بھوک لگی ہوگی نا؟۔ میں نے بہت دل سے آپ کے لیے کھانا بنایا یے”۔ اس کے لیے پریشان ہوتی صالحہ کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
“میری صالحہ نے میرے لیے کھانا بنایا ہے؟”۔ یہ جذبوں کی شرارت تھی۔ صالحہ نے ہاں میں سرہلایا۔
“دل سے؟”۔ وہ نجانے کیوں اسے بلکل بچوں کی طرح ٹریٹ کررہا تھا۔ صالحہ نے پھر ہاں میں سرہلایا۔
“کھانا کھائیں؟”۔ وہ پوچھ بیٹھی۔ وجدان مسکرایا۔
“اب محبت سے بنایا ہے تو ضرور کھائیں گے”۔ اس کو پکڑتا وہ میز کے قریب آیا۔
“میں پانی کا ایک اور گلاس لے آتی ہوں”۔ اس نے میز پر ایک ہی گلاس رکھے دیکھا تو ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکال کر کچن میں جانے لگی۔ وجدان نے اس کے ہاتھ کو چھوٹنے نہیں دیا۔
“ایک گلاس کافی ہے! بس اب کہیں نہیں جائیں”۔اس کے لیے میز کی کرسی آگے کرتا ہوا وہ بولا تھا۔ صالحہ وجدان کے انداز پر شرمائی شرمائی بیٹھی۔
“آخری بار بریانی زید کی شادی پر کھائی تھی”۔ وہ آپس میں ہاتھ مل کر للچائی نظروں سے بریانی کو دیکھ رہا تھا۔ “اور اس سے پہلے اپنی شادی پر۔۔۔”۔ کتنے وقت کا بریانی کا ترسا ہوا تھا۔ صالحہ مسکرائی۔
“میں نکال دیتی ہوں آپ کو بریانی”۔ اس نے پلیٹ تھام کر اسے کھانا نکال دیا۔ اس کی زلفیں بار بار اس کے چہرے پر آرہی تھیں جسے وہ جنجھلا کر کان کے پیچھے کررہی تھی۔ وجدان بنھویں ماتھے پر رکھ کے اس کی حرکت نوٹ کرنے لگا۔
“میں بال باندھ کر آتی ہوں وجدان”۔ وہ بال پیچھے کرکے سمیٹتی ہوئی بولی۔
“کیوں؟”۔ وہ اسے یوں کھلے بالوں کے ساتھ اچھی لگ رہی تھی۔
“بال تنگ کررہے ہیں”۔
“مگر مجھے تو اچھے لگ رہے ہیں”۔ گہری نگاہ اس کے چہرے پر ڈال کر کو وہ بہت محبت سے اس کے دل میں داخل ہورہا تھا۔
“آپ کو تو آج سب ہی اچھا لگ رہا ہے”۔ وہ کہنے سے خود کو روک نہ پائی۔ وہ قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔ کھانا کھاتے ہوئے بھی مسلسل اسے دیکھ رہا تھا۔ صالحہ اس کی نگاہوں کی تپش خود پر محسوس کررہی تھی۔ وہ وجدان کی وجہ سے صحیح سے کھانا بھی نہیں کھا پارہی تھی۔ آج دل کچھ معمول سے ہٹ کر دھڑک رہا تھا۔ حالانکہ وہ پہلی بار تو وجدان کے ساتھ کھانا نہیں کھارہی تھی۔۔۔ مگر بھی نئی نویلی دلہن سا خود کو محسوس کررہی تھی۔ وجدان اس کے ہر انداز پر لطف اندوز ہورہا تھا۔ یکدم بیل بجی تو صالحہ نے الجھے ہوئے انداز میں وجدان کو دیکھا۔ بھلا اس وقت کون ہوسکتا تھا؟۔ وجدان بھی حیرت کا مظاہرہ کرتا اگر اسے فوراً یاد نہ آتا کہ جیا اور حیدر گھر آنے والے تھے۔ وہ حلق میں پانی انڈیلتا باہر کی سمت بھاگا۔ صالحہ کو بےجا حیرانی اور پریشانی ساتھ ہوئی۔ وہ سہم کر اس کے پیچھے آنے لگی۔ وجدان دروازہ کھول چکا تھا۔ وہ ابھی گیٹ تک نہیں پہنچی تھی مگر جان گئی تھی کہ کون آیا ہے۔ حیدر کے سلام کی آواز سنی تو اپنی جگہ ساکت رہ گئی۔ کوئی اپنا اس سے بہت دور سے ملنے آیا تھا۔ دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ وہ چادر نہیں پہنی ہوئی تھی مگر اس کا لال ڈوپٹہ اس قدر بڑا تھا کہ چادر کی طرح اسے خود میں ڈھانپا ہوا تھا۔ وجدان کے ہنسنے کی آواز سنائی دی۔ صالحہ قدم بڑھاتی باہر کی جانب آئی۔ حیدر اس کے ساتھ ہاتھ ملائے کھڑا تھا جب اس کی نگاہ صالحہ پر اٹھی تھی۔ اسے وہ پہلے والی صالحہ نہیں لگی تھی جو ہر وقت خود کو بےرنگ کپڑوں اور پھیکے رنگ کی چادر میں لپیٹ کر رکھا کرتی تھی، جس کے بال ہمیشہ چٹیا میں قید رہتے تھے اور وہ نڈھال گھوما کرتی تھی۔ یہ تو کوئی الگ صالحہ تھی جو شوخ رنگ کے بڑے سے ڈوپٹے میں خود ڈھانپی کھڑی تھی۔ جس کے بال اس کی کمر سے نیچے کھلے لہرارہے تھے اور جس کا چہرہ گلاب کی مانند محسوس ہورہا تھا۔ وہ ساکت نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کو دیکھنے سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ وجدان کے ساتھ کتنی خوش ہے۔
“اسلام علیکم جیا”۔ اس نے بڑھ کر جیا کو سلام کیا۔ جیا اسے دیکھ کر خوش ہوگئی تھی، مگر حیدر وہیں کھڑا رہ گیا تھا۔
“آئیں اندر آجائیں”۔ وہ جگہ دیتی ان کو آگے چلنے کا کہنے لگی۔ وجدان نے ایک نظر صالحہ کو دیکھا اور پھر حیدر کو۔۔۔ لاتعلقی واضح نظر آرہی تھی۔ وہ کیسے بتائے کہ اس کا دل حیدر کو دیکھ کر مچل اٹھا ہے مگر وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی۔
“ہم لینے آئے ہیں آپ لوگوں کو”۔ لاؤنج پر بیگ رکهتے ہوئے جیا نے بتایا تھا۔ چہرے پر الگ ہی قسم کی مسرت تھی۔ صالحہ نے وجدان کو حیرت سے دیکھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
“لینے آئے ہیں؟”۔ وہ الجھی۔
“حویلی کے لیے۔۔۔ افشاں پھپھو کا نکاح ہورہا یے صالحہ!۔ شاہ جی سے”۔ صالحہ ہل نہ سکی۔ کیا واقعی اس کی دعاؤں میں اتنی صدق تھی کہ اللہ نے اسے قبول کردیا؟۔ پل بھر میں ہی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔ دعائیں قبول ہوگئی تھیں۔ وہ ہچکیاں لیتے ہوئے بھاگ گئی۔ وجدان کی نظروں نے اس کا آخر تک پیچھا کیا۔
“وہ روپڑی حیدر”۔ آنکھیں حیرت کا مظاہرہ کررہی تھی۔ حیدر نے اس سمت دیکھا جہاں سے صالحہ گزری تھی۔
“حویلی میں اس سے زیادہ کسی اور کو خوشی نہیں ہوسکتی”۔ لہجہ سنجیدہ تھا۔ وجدان اسے سر تا پیر دیکھا تھا۔ وہ صالحہ کے پیچھے جانا چاہتا تھا مگر جیا اور حیدر کو یوں چھوڑ کر جانا مناسب نہیں لگ رہا تھا۔
“بھائی وہ رورہی ہے۔ آپ کو جانا چاہیے”۔
“نہیں جیا۔۔۔ وہ اللہ کا شکرادا کرنے گئی ہے۔ وہ لوٹ آئے گی جب اللہ کے حضور شکرادا کرلے گی۔ تم لوگ کھانے کی میز پر آجاؤ۔ صالحہ نے بہت مزیدار بریانی بنائی ہے”۔ چہرے پر مسکراہٹ ہنوز تھی۔ حیدر نے اپنے بہنوئی کو غور سے دیکھا۔ اسے سمجھ نہ آیا کہ اس کا کیا ہوا فیصلہ اچھا نکلا یا برا ثابت ہوا۔ آج صالحہ اتنے بڑے گھر کی مالکن تھی۔ اس کے پاس بہترین شوہر تھا جس کی باتوں سے لگتا تھا کہ وہ صالحہ سے محبت کرتا ہے۔ اس سب میں جو تعلق خراب ہوا وہ بھائی بہن کا تھا۔ وہ اٹھ کر میز کی کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے۔ وجدان کا دل چاہ رہا تھا کہ صالحہ کو نیچے بلا لے آئے، مگر یوں جانا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔
“میں ٹرے میں اور بریانی لے آتا ہوں”۔ وہ جیا کی طرف دیکھ کر مسکراتا ٹرے اٹھانے لگا۔
“ارے بھائی آپ کیوں لائیں گے میں لے آتی ہوں”۔ وہ بھائی کو کچن میں جاتے دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
“جیا جان تم بیٹھ جاؤ۔ مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ اپنی بہن سے اس کے میکہ میں کام کرواؤں”۔ اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے وہ محبت سے بولا تھا۔ وہ بھائی کی محبت پر نم آنکھوں سے پھر بیٹھ گئی۔ وہ کچن میں جاچکا تھا جب صالحہ نیچے اتری۔ سرخ ہوتی ناک سے سر سر کرتی وہ ادھر ادھر وجدان کو تلاشنے لگی۔
“جیا کھانا کھاؤ نا۔۔۔ میں پانی کا جگ بھر کر لاتی ہوں”۔ وہ حیدر کو ایک نظر دیکھ کر جیا سے کہتی کچن میں مڑی۔ حیدر سے نوالہ حلق میں اتارنا مشکل ہوگیا تھا۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں”۔ اس نے حیرت سے سلیپ پر رکھی ٹرے اٹھائی۔ وجدان نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”۔ نگاہیں فکرمندی کا ثبوت دے رہی تھیں۔
“میں ٹھیک ہوں اور بہت زیادہ خوش ہوں”۔ چہرے سے گویا خوشی ٹپک رہی تھی۔ وجدان نے گہری سانس خارج کی۔
“آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا صالحہ”۔ وہ ٹرے اس کے ہاتھوں سے لینے کی کوشش کرنے لگا۔ وہ الجھی۔
“یہ ٹرے کیوں لے رہے ہیں؟۔ مجھے بریانی ڈالنی یے اس میں”۔ وہ اس کے ہاتھوں میں ٹرے کو جانے سے روکنے لگی۔
“میں نکال رہا ہوں بریانی آپ باہر جاکر بیٹھیں صلہ”۔ وہ تحمل مزاجی سے تاکید کرنے لگا۔
“نہیں جی۔ میں نکال رہی ہوں اور اگر کام کرنے کا شوق پیدا ہورہا ہے تو یہ لیں جگ! اس میں ٹھنڈا پانی بھرلیں”۔ اس نے جگ آگے کیا جسے وجدان نے اسے گھورتے ہوئے تھام لیا۔ بریانی نکال کر وہ میز پر رکھنے لگی۔
“تو پھر کب تک چلنے کا ارادہ ہے حویلی؟۔ ہم نے پہلے ہی افشاں پھپھو کے نکاح کے جوڑے کا آرڈر دے دیا تھا اس لیے بس اب جاتے ہوئے میں اور حیدر دکان سے جوڑے اٹھالیں گے”۔ صالحہ نے مڑ کو وجدان کو دیکھا جو تھکا تھکا سا محسوس ہورہا تھا۔
“میں بہت زیادہ خوش ہوں حویلی جانے کے لیے۔ مگر ابھی نہیں۔۔۔ وجدان تھوڑے تھکے ہوئے ہیں اس لیے شام تک حویلی کے لیے نکلیں گے تاکہ وجدان تب تک آرام کرسکیں”۔ اپنی خوشی کے پیچھے وجدان کی صحت نہیں بھولی تھی۔ وجدان حیران ہوا تھا۔ جیا کی باچھیں کھلی تھیں یہ دیکھ کر کر کہ اس کی بھابھی اس کے بھائی کا خیال رکھ رہی ہے۔ اس سب میں صالحہ نے حیدر سے سرسری سی بات کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کی تھی۔ وہ بھی زیادہ تر خاموش رہا تھا۔
“میں نے تمہارا کمرہ کھول دیا یے جیا۔ سفر کی تھکاوٹ ہوگی تم دونوں کو اس لیے جاؤ آرام کرلو”۔ اس نے قریب آکر بہن کو کس کر گلے لگایا۔ اسے بتایا کہ وہ اسے سب میں کتنی یاد آئی۔ بہن کو بیاہنا آسان نہیں ہوتا ایک بھائی کے لیے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
عصر کا وقت تھا اور وہ اپنی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ دل بہت زور زور ہل رہا تھا۔ وہ چلا جائے گا اگر وہ نہ لوٹی۔۔۔
“لیکن یہ یاد رکھنا وہ کوئی اور شخص شرجیل نہیں ہوگا۔ وہ ایک مضبوط اور ذمہ دار شخص ہے بیٹے۔ کب تک تم یوں اماں اور بھائی کی ہاں میں ہاں ملاؤ گی؟۔ خود اپنا فیصلہ لو۔۔۔!”۔ اسے ابا کے الفاظ یاد آئے۔ اسے کیا فیصلہ لینا چاہیے وہ الجھی ہوئی تھی۔ یہاں رہی تو ابا ٹھیک کہتے ہیں کبھی نہ کبھی تو شادی کرنی پڑے گی۔
“ابا سچ کہتے ہیں کہ وہ کوئی اور شخص شرجیل نہیں ہوگا”۔ اس کے لب خود سے ہی ہلے تھے۔ ماتھے پر الجھن کے آثار تھے۔ اس نے نیچے جھانکا تو ابا گاڑی کے شیشے صاف کرتے دکھائی دیے۔ جانے کیوں شاہ زل نے کہا کہ اگر وہ لوٹ کر آنا چاہتی ہے تو اسے پہلے ہی بتادے تاکہ وہ شرجیل کو گاؤں چھوڑنے سے روک لے۔ وہ کچھ دیر کھڑی سوچتی رہی اور پھر ابا کو دیکھا۔ اس نے ابا کے کہے پر عمل کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ فیصلہ کرنے میں تاخیر مت کرنا اور اس نے واقعی تاخیر نہیں کی تھی۔
“ابا۔۔۔”۔ اس نے ابا کو آواز لگائی۔ انہوں نے عینک سنبھال کر اوپر دیکھا۔
“ہاں بیٹے؟”۔
“ابا حویلی چھوڑ آئیں گے؟”۔ لب بھینچے ہوئے تھے۔ ابا نے حیرت سے اسے دیکھا اور ہنسنے لگے۔
“آجاؤ پھر نیچے جلدی سے”۔ ان کے ہاتھ کے اشارے پر وہ سامان سمیٹنے لگی۔ کہیں تاخیر نہ ہوجائے اور منزل تک پہنچنے کے راستے بند نہ ہوجائیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
سفید رنگ کے کرتے شلوار پر وہ کائی رنگ کی شال لپیٹتا چابی گھماتا گاڑی تک آیا تھا۔ شاہ جی جو حویلی کے گیٹ سے اندر داخل ہوئے تھے اسے دیکھ کر چلتے ہوئے اس کے قریب آئے۔
“کہاں برخوددار؟”۔ اسے گاڑی کا دروازہ کھولتے دیکھا تو بنھویں اچکا کر پوچھ بیٹھے۔
“شہر اور کہاں”۔ وہ مسکرایا۔
“اوہ ہاں یاد آیا”۔ وہ جواباً مسکرائے۔ شرجیل نے ہاتھ میں پہنی گھڑی پر نگاہ ڈالی۔
“آپ جا نہیں رہے؟”۔
“کہاں؟”۔
“اپنے والد سے ملنے؟”۔ اس نے شاہ جی کو یاد دلانا چاہا۔
“ہاں بس کچھ دیر میں نکلنے ہی والا ہوں”۔ مسکرایٹ ہنوز لبوں پر قائم تھی۔ وہ مسکرایا۔
“پھر میں بھی چلتا ہوں”۔ اس نے ہاتھ آگے بٹھایا جسے شاہ جی تھام لیا۔
“کب لوٹو گے؟”۔
“کل صبح تک۔۔۔ نکاح بعدِ نماز ظہر شروع ہوگا”۔ اس نے اطلاع دی۔ شاہ جی کے دل میں کچھ عجیب سا برپا ہوا۔ وہ مسکرائے اور اثبات میں سرہلانے لگے۔ وہ ایک بار پھر جواباً مسکراتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ نگاہ اپنی ہی منزل کے ٹیرس پر اٹھی۔ آج وہاں کوئی نہیں کھڑا تھا۔ رفاہ جب سے شرجیل کے کمرے میں شفٹ کی گئی تھی۔ کمرے سے زیادہ وہ ٹیرس پر کھڑے ہو کر وقت گزارتی تھی۔ گاڑی ریورس کرتا وہ حویلی کے باہر لے آیا۔ اس نے وقت دیکھ کر گاڑی گھمالی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ لوگ جیا اور حیدر کے نکلنے کے پانچ منٹ بعد نکلے تھے۔ کیونکہ حیدر کا ارادہ افشاں پھپھو کے کپڑے جو آرڈر پر بنوائے تھے لے کر آنے کا تھا۔ وجدان اس کو سیدھا حویلی لے کر نہیں جانے والا تھا۔ شہر کی خوبصورتیوں سے لطف اندوز ہوئے بغیر اس نے گاؤں میں قدم نہ رکھنے کی گویا قسم کھائی ہوئی تھی۔ گاڑی کی رفتار اس نے صالحہ کے کہنے پر آہستہ کی تھی۔
“کہاں جارہے ہیں؟”۔ وہ مسکرا رہی تھی کیونکہ اس منصوبے میں وہ بھی شامل تھی۔
“ہم جائیں گے پہلے شام کی چائے پیئں گے۔ وہ شہر کے کچھ کنارے پر مقیم ہے”۔ وہ گردن پھیر کر اسے دیکھنے لگا۔
“آپ کو غزل پسند ہے صلہ؟”۔ وہ ٹیپ رکارڈ چلانا چاہتا تھا۔ صالحہ نے نگاہ موڑ کر اسے دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ غزل سننا چاہتا ہے۔
“میں چلاؤں غزل؟؟”۔ اس نے لب کاٹتے ہوئے پوچھا تو وجدان نے اثبات میں سرہلایا۔ صالحہ نے آگے بڑھ کر ٹیپ رکارڈ چلایا۔ غزل شروع ہوچکی تھی۔
محبت روٹھ جائے تو
اسے بانہوں میں لے لینا
بہت ہی پاس کرکے تم
اسے جانے نہیں دینا
صالحہ کی آنکھیں پھٹیں۔ وہ جھینپ سی گئی۔ وجدان نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔ مسکراہٹ لبوں پر خود سے آئی۔ وہ لال ٹماٹر بنی نظریں نیچی کیے بیٹھی تھی۔ صالحہ نے ٹیپ رکارڈ بند کردیا۔ وجدان نے حیرت سے گاڑی روکی۔ علاقہ قدرے سنسان تھا۔
“آج غزل اچھی نہیں آرہی ہیں”۔ سر ویسے ہی جھکا ہوا تھا۔
“مجھے تو اچھی لگی تھی”۔ وہ افسوس سے بولا۔
“میرے پاس ایک غزل کی کتاب ہے۔ ہم جب شہر واپس لوٹیں گے تو میں آپ کو دکھاؤں گی”۔ اس نے رخ اس کی جانب موڑا۔
“ہاں مگر مجھے ابھی کوئی غزل سننی ہے۔ کیا آپ کو کوئی غزل یاد ہے؟”۔ اس نے گاڑی آگے بڑھائی۔ صالحہ سوچنے لگی۔
“مجھے کوئی بھی غزل پوری نہیں یاد۔۔۔”
اس نے ڈیش بورڈ پر سے ایک کتاب اٹھا کر صالحہ کی گود میں رکھی۔
“چلیں اس میں سے پڑھ کر ہی کوئی سنادیں”۔
“آپ کو غزلیں اتنی زیادہ پسند ہیں؟”۔ وہ ششدر اس کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہی تھی۔
“جی اس سے بھی کہیں زیادہ”۔ نظر بھر کر اس کی حیران آنکھوں میں دیکھا تھا۔ وہ کنچی آنکھیں جو اترتی دھوپ میں چمک رہی تھیں۔ صالحہ نے خوشی کے مارے آنکھیں پھاڑیں۔
“یا اللہ۔۔۔ پھر تو آپ میرے ہی بھا۔۔۔۔۔”۔ وہ خود کو کہنے سے بمشکل روک پائی تھی۔ گاڑی جھٹکے سے رکی اور وجدان نے ششدر ہو کر اسے دیکھا۔
“مطلب شوہر ہیں”۔ وہ کھسیانی ہوئی۔ وجدان کے ماتھے پر بل پڑے اور وہ اسے گھورنے لگا۔
“بس اس کی ہی کمی رہ گئی تھی”۔ وہ بڑبڑاتا ہوا گاڑی چلانے لگا۔ موڈ ایک دم ہی بگڑ گیا تھا۔
“میں آپ کو غزل سناتی ہوں”۔ وہ اس کا لہجہ بھانپتے ہوئے کتاب کھولنے لگی۔
یہ کب کہتی ہوں تم میرے گلے کا ہار ہوجاؤ
وہیں سے لوٹ جانا تم جہاں بےزار ہوجاؤ
ملاقاتوں میں وقفہ اس لیے ہونا ضروری ہے
کہ تم اک دن جدائی کے لیے تیار ہوجاؤ
بہت جلد سمجھ میں آنے لگتے ہو زمانے کو
بہت آسان ہو تھوڑے بہت دشوار ہوجاؤ
وہ اتنی خوبصورتی سے پڑھ رہی تھی کہ وجدان اسے بار بار گردن پھیر کر دیکھ رہا تھا۔ اس کی آواز میں ایک سرور تھا۔
بلا کی دھوپ سے آئی ہوں میرا حال تو دیکھو
بس اب ایسا کرو تم سایۂ دیوار ہوجاؤ
ابھی پڑھنے کے دن ہیں لکھ بھی لینا حالِ دل اپنا
مگر لکھنا تبھی جب لائقِ اظہار ہوجاؤ۔۔۔
غزل ختم ہوچکی تھی اب وہ صفحے پلٹ کر کوئی دوسری غزل ڈھونڈ رہی تھی۔
“پروین شاکر میری پسندیدہ فہرست میں شامل ہیں۔ میں ان کی تقریباً ہر غزل ہڑھ چکا ہوں”۔ وہ بتا رہا تھا اور وہ سن رہی تھی۔
“واقعی؟۔ کیا آپ کے پاس ان کی غزلوں کی کتاب ہے؟”۔
“کیا آپ نے میری لائبریری دیکھی؟۔ اگر دیکھی ہوتی تو یہ پوچھنا نہ پڑتا صلہ”۔ اس نے گاڑی منزل آنے پر روکی۔ “ہم آگئے ہیں”۔ وجدان گاڑی کا دروازہ کھول کر اترا۔ صالحہ نے سامنے دیکھا تو آنکھیں ساکت رہ گئی۔ یہ جگہ بھولنے والی نہیں تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں اسے حیدر لایا تھا۔ جہاں بیٹھ کر انہوں نے چائے پراٹھا کھایا تھا اور دنیا جہاں سے بےخبر ہوکر کئی گھنٹوں باتیں کی تھیں۔ سڑک کے سیدھے ہاتھ پر کھائی تھی اور بائیں ہاتھ پر ہوٹل اور چٹیل میدان۔ آبادی سے بہت دور۔۔۔ یہ سڑک وہ کیسے بھول سکتی تھی جس پر وہ اور حیدر ساتھ بہت دور تک بھاگے تھے۔ وجدان نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا۔ وہ لب بھینچ کر گاڑی سے اتری۔۔۔ ہوٹل کے باہر ویسے ہی تخت لگے تھے۔
“یہ جگہ بہت پرسکون ہے۔ یہ دیکھیں!”۔ اس نے ہوٹل کی طرف اشارہ کیا۔ “الٹے ہاتھ پر ہوٹل ہے اور سیدھے ہاتھ پر۔۔۔”
“بہت گہری کھائی۔ یہ ایک لمبی سڑک ہے جو کہاں جاتی یہ نہیں معلوم”۔ وہ اس کی بات کاٹتی خود بات مکمل کرگئی۔ وہ حیران ہوا۔
“آپ جانتی ہیں؟”۔ وہ آہستہ آہستہ ہوٹل کی طرف چلتے ہوئے آرہے تھے۔
“ویر کے ساتھ آئی تھی ایک دفعہ! اس کے بعد ہی آپ سے ملاقات ہوئی تھی ریسٹورینٹ میں”۔ وہ اسے بتاتی ارد گرد دیکھ رہی تھی۔
“اوہ۔۔۔”۔ اس کے چادر پر چھپے چہرے پر نگاہ ڈالتا ہوا اثبات میں سرہلانے لگا۔
“آئیں تخت پر بیٹھتے ہیں”۔ ان کو دیکھ کر ایک چھوٹا بچہ بھاگ کر آیا۔ صالحہ نے اسے پہچاننے میں لمحہ نہیں لگایا۔ اسے دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ صالحہ کو نہیں بھولا تھا۔ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا جو وہ اس کا چہرہ بھول جاتا۔ کنچی آنکھوں کو دیکھ کر وہ مسکرادیا تھا۔ اسی سردیوں میں اس کی دوسری بار اس سے ملاقات ہوئی تھی۔ صالحہ نے ایک بار پھر اپنے مخصوص چھوٹے سے بیگ میں سے کچھ پیسے نکالے اور اس کے آگے بڑھائے۔ اس نے جھجھکتے شرماتے وہ پیسے تھام لیے۔ اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر صالحہ مسکرائی تھی۔ وہ ہنس دیا۔ وجدان دونوں کو باری باری دیکھ رہا تھا۔
“لگتا ہے یہ آپ کو پہچان گیا یے”۔ شریر لہجے میں وہ بچے کے گال کھینچنے لگا۔ صالحہ نے ہنسی دبائی۔
“دو کپ جائے اور کیک”۔ اسے آرڈر زبانی یاد کرواتا ہوا وہ اپنے پرس میں سے صالحہ کی دیکھا دیکھی اسے پیسے نکال کر دینے لگا۔
“بل کھانے کے بعد ادا کروں گا۔ یہ پیسے تم خود رکھنا”۔ اس کے بال سہلاتا وہ بہت پیار سے بولا تھا۔ اپنے ہاتھ میں اتنے سارے نوٹ دیکھ کر وہ بچہ خوشی سے ہوٹل میں بھاگ گیا تھا۔
“جو خوشی ہمارے لیے چھوٹی ہوتی ہے وہ ہی ان کے لیے بہت بڑی ہوتی ہے”۔ صالحہ کچھ ٹہھر کر بولی۔ وجدان نے اس کی بات پر اکتفا کیا تھا۔
موسم کی خوبصورتی ماحول کو بھی خوبصورت بنا رہی تھی۔ پرندوں سے آسمان گھرا تھا۔
“موسم کتنا خوبصورت یے وجدان”۔ وہ تخت پر کھڑی ہوگئی۔ وجدان ہنسنے لگا۔
“میرے دل کا موسم اج بہت مشابہت رکھتا یے باہر کے موسم سے۔۔۔”۔
صالحہ نے وجدان کو دیکھا۔
“اچھا؟۔ مگر مجھے لگا کہ میرا دل شاید اس شام سا ہوگیا ہے”۔ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔
وجدان مسکرایا۔
“وجدان”۔ اس نے پکارا۔
“صلہ”۔
“ٹہلیں؟۔ لمبا لمبا؟۔ جب تک چائے نہیں آجاتی ہم ان سڑکوں کو اپنا اسیر بناتے ہیں”۔ وہ تخت سے نیچے اتر کر کھڑی ہوئی۔ وجدان اسے غور سے دیکھنے لگا۔ اپنا اسیر بنانے کے بعد اب یہاں کی سڑکوں کو بھی اپنا اسیر بنانے کی اجازت مانگ رہی تھی۔ کیا چاہتی ہے یہ لڑکی۔ ہوٹل میں رش نہیں تھا۔ کہیں دور دور دو تین لوگ بیٹھے تھے۔
“چلیں نا میرا دل چاہ رہا ہے”۔ اس نے کچھ سوچ کر پہلی بار اس کا ہاتھ خود سے تھاما۔ وہ حیران کم ساکت زیادہ رہ گیا تھا۔ جیسے زبان خاموش رہ گئی ہو۔ نجانے اب کونسا سحر اس کنچی آنکھوں والی نے پھونکا تھا کہ وہ بول بھی نہیں پارہا تھا۔
“یعنی آپ نہیں آرہے۔ ٹھیک ہے میں جارہی ہوں اور ہاں! بھٹک جاؤں تو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں”۔ ایک ناراض نگاہ اس پر ڈال کر اس کی کنپٹی پر انگلی سے چھو کر مڑنے لگی۔ اس سے دور جانے پر وجدان کے ہاتھوں سے اس کا ہاتھ چھوٹ رہا تھا۔ صالحہ کی اسی ادا نے وجدان کو اٹھنے پر مجبور کیا تھا۔
“اگر بارش ہوجاتی تو کتنا اچھا ہوتا نا؟۔ مجھے بارش میں بھیگنا پسند ہے”۔ وہ یہ کہہ سکتی تھی کیونکہ اس نے ایک رات گھر کے گیٹ پر سو کر نہیں گزاری تھی۔ وجدان کا تو رنگ ہی سفید پڑگیا تھا۔
“بارش تیز ہوگی تو شہر بھیگ جائے گا”۔ وہ بس اتنا ہی بول پایا تھا۔
“پھوار یا بوندا باندی ہی سہی”۔ اس نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا جو اس کے ہر انداز پر حیران ہورہا تھا۔ اس کا ہاتھ پکڑ کر صالحہ نے مضبوطی سے دبایا تھا۔ وہ دونوں سڑک کے بیچوں بیچ دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے تھے۔
“کیسا محسوس کررہی ہیں؟”۔ وہ دھیرے سے اس کے کان میں بولا تھا۔
“اچھا لگ رہا ہے”۔ مسکراہٹ لبوں سے دور ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
“کیوں کیا صالحہ آپ نے۔۔۔”۔ وہ دکھ سے نفی میں سرہلاتا ہوا بولا۔ وہ چونکی۔
“کیا وجدان؟”۔ اسے لگا اس سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہے۔
“یہ انداز یہ باتیں آپ کی مجھے کمزور کررہی ہیں”۔ لہجہ کافی حد تک کمزور تھا۔ وہ اسے تکتی رہی۔ وجدان نے بھی نگاہیں اس پر سے نہ ہٹائیں۔ صالحہ نے حیا کے مارے نگاہیں نیچی کرکے تسلسل توڑ دیا۔
“بہت ٹہل گئے۔ اب واپس چلتے ہیں کہیں وہ ہمارا انتظار نہ کررہے ہوں”۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑتی تیز تیز چلنے لگی کہ کہیں ہاتھ چھوٹا تو بچھڑ نہ جائے۔ وہ اپنی صلہ کے جواب کا منتظر رہا مگر وہ بات موڑ گئی تھی۔ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد وہ جلد اسے جواب دیدے گی وہ جانتا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ حویلی میں داخل ہو کر بھاگتی ہوئی سب سے پہلے افشاں کے گلے سے لگی تھی۔ افشاں خوشی سے نہال ہوگئی تھی۔ البتہ وجدان سب بڑوں سے مل کر اب صالحہ سے کچھ دور لاونج کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ افشاں اسے بار بار چوم رہی تھی جیسے اس کے ہونے پر بےیقین ہو۔ کبیر اور طلعت بڑھ کر اپنی بیٹی کو گلے لگانا چاہتے تھے مگر خود پر ضبط کیے کھڑے تھے۔ افشاں مڑی تو وجدان کی اسے دیکھ کر آنکھیں پھٹ گئیں۔ وہی کنچی آنکھیں اور وہی چہرہ مگر بہت ہلکی جھریاں۔۔۔ اس کی حالت عجیب ہوئی۔ اس نے مڑ کر ایک نظر طلعت اور کبیر کو دیکھا اور پھر صالحہ کو۔۔۔ کبیر نے اسے کچھ کوجھتے دیکھا تو اسے سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔
“کیا ہوا برخوددار؟”۔
وہ گڑبڑایا۔
“نہیں کچھ نہیں۔ میں باہر سے آتا ہوں”۔ وہ بہانہ کرتا کھلی فضا میں سانس لینے باغ میں چلاگیا۔
صالحہ پیچھے جاتی مگر اماں ابا کو دیکھ کر رک سی گئی۔ بڑھ کر ان کے گلے سے لگ گئی۔ یہ دوری بھی کیا دوری تھی۔ ایک لڑکی کے لیے زندگی میں مشکل وقت ماں باپ کو چھوڑ کر دوسرے گھر جانا ہوتا ہے۔
“ہمیں آئے تو آدھے گھنٹے سے زیادہ ہوگیا۔ آپ لوگ کیا گھر سے دیر سے نکلے تھے؟”۔ جیا پوچھ رہی تھی۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا۔ سب بہت بہتر اور اچھی حالت میں تھے۔ وہ ثریا کے کس کے گلے لگی تھی۔ اس کی بہن جیسی دوست جو تھی۔ حیدر وہیں صوفے کے برابر کھڑا تھا۔ لب خاموش تھے البتہ نظریں ہر جگہ دوڑ رہی تھیں۔ وہ سب سے مل کر باغ میں آگئی تھی۔ وجدان گہری سوچ میں غرق بینچ پر بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں کو سینے پر باندھ کر وہ گھانس کو تک رہا تھا۔
“وجدان آپ باہر کیوں آگئے؟”۔ وہ اس کے بلکل سامنے آکھڑی ہوئی۔ نگاہوں کا تسلسل ٹوٹا اور نظریں اس پر اٹھیں۔
“میں جان گیا ہوں کیونکہ اب سب کچھ!”۔ ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کیا جان گئے ہیں؟”۔ وہ حیران تھی۔
“آپ کبیر انکل کی بیٹی نہیں ہیں”۔ وہ ہوچھ رہا تھا یا بتارہا تھا وہ سمجھ نہ پائی۔
“کیا مطلب؟”۔ وہ الجھی۔
“وہ افشان پھپھو۔۔۔ آپ یقیناً ان کی بیٹی ہیں میں بتارہا ہوں آپ اس بات سے غافل ہیں”۔
صالحہ زور سے ہنسی۔
“وہ میری پھپھو ہیں وجدان۔۔۔ اور میں ہوبہو ان جیسی ہوں”۔ اس نے محبت سے بینچ پر بیٹھے وجدان کو دیکھ کر سمجھایا۔ وجدان نے نفی میں سرہلایا۔
“میں نہیں مانتا”۔
“وہ غیر شادی شدہ ہیں وجدان صاحب۔ کل ان کا نکاح ہے”۔ وہ دھیما سا ہنسی۔
“یا اللہ کس خاندان میں داخل ہوگیا میں۔۔۔ بھلا پھپھو سے کوئی اس قدر بھی مشابہت رکھتا ہے؟”۔ وہ اب بھی حیران تھا۔
“میں رکھتی ہوں”۔ وہ اس کے بالوں پر انگلیاں پھیر کر بولی۔ اس کے اس انداز پر وہ جی جان سے مسکرایا۔
“یقین نہیں آرہا۔ جب تک آپ کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ نہیں دیکھوں گا بےیقین رہوں گا”۔
“اللہ اکبر! کیا کہہ رہے ہیں۔ اب باتیں بات میں کریں گے آپ کو سب اندر بلارہے ہیں”۔ اسے جانے کے لیے رستہ دیتی وہ پیچھے ہٹی۔ وہ لاؤنج کی طرف بڑھنے لگا تھا کہ اچانک مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔
“مجھے لگتا ہے آپ کو گود لیا ہے۔ سوچیے گا ضرور اس بارے میں”۔ وہ شریر لہجے میں کہنا بھولا نہیں تھا۔ صالحہ ناچاہتے ہوئے بھی ینس پڑی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
گاڑی حویلی کے سامنے رکی تھی۔ وہ خالد صاحب کو اللہ حافظ کہتی حویلی کے گیٹ پر آئی۔ چوکیدار نے چادر میں چھپے چہرے کو پہچان کر دروازہ کھول دیا۔ اپنا سامان اٹھا کر وہ لاؤنج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ شاہ زل لاؤنج کے دروازے پر کھڑا اس کو باغ سے آتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
“رفاہ تم؟”۔ اسے بےجا حیرانی ہوئی تھی۔
“جی”۔ وہ اس کے سامنے خاموش کھڑی ہوگئی۔
“شرجیل شہر چلا گیا”۔ شاہ زل کے کہنے پر اس نے بےساختہ سر اٹھایا۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“وہ چچ۔چلے گئے؟۔ ایسا نہیں ہوسکتا”۔ اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکلنے کی دیر تھی جب شاہ زل فوراً بول پڑا۔
“وہ کل واپس آرہا ہے رفاہ! ضروری کام سے گیا ہے شہر! کل پھپھو کے نکاح سے پہلے لوٹ آئے گا”۔ مسکراہٹ دباتا وہ باہر چلا گیا۔ رفاہ کے حواس بحال ہوئے۔ اس کا غم سے دل پھٹ جاتا اگر یہ بات سچ ہوتی۔ لاؤنج خالی تھا۔ وہ سامان اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔