Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
زنجیر
از قلم عینا بیگ
قسط ۹
وہ کل پورا دن گھومتے پھرتے رہے تھے اس لیے گھر پہنچ جلدی تھک کر سوگئے تھے۔ صبح ایک بار پھر حیدر نے اسے اٹھادیا۔ تقریباً کوئی آٹھ بجے تھے جب وہ اس کو تیار ہونے کا اور سامان نیچے لانے کا کہہ کر نیچے چلا گیا تھا۔ وہ ہاتھ منہ دھوتی نماز پڑھ کر اپنا سامان تھامے نیچے آگئی۔ گزرا ہوا دن اس کے لیے زندگی کا یادگار دن بن چکا تھا۔ وہ سڑکوں پر ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بھاگے تھے!۔ وہ بھائی تھا اس کا! محافظ۔۔۔ وہ یہ سوچتی ہوئی گاڑی میں آبیٹھی۔
“ہم کہاں جائیں گے پہلے؟”۔ وہ اشتیاق بھرا لہجہ پھر سے لوٹ آیا۔
“مجھے یونیورسٹی میں صرف اسائمنٹ جمع کروانے جانا ہے۔ تم گاڑی میں بیٹھے رہنا جب تک میں پانچ منٹ میں اپنا اسائمنٹ جمع کروا آؤں گا”۔ وہ گاڑی تیز رفتار میں چلا رہا تھا۔
ایک اسکول سامنے سے گزرنے لگے تو حیدر نے گاڑی کی رفتار آہستہ کی۔
“یہ دیکھو! یہ اسکول ہے”۔ اس نے باہر کی طرف اشارہ کیا تو صالحہ نے جلدی سے باہر کا نظارا کیا۔ وہ لال بڑی سی عمارت تھی جہاں بچے یونیفارم پہنے داخل ہورہے تھے۔ اس کے دل نے بےاختیار خواہش کی کہ وہ یہاں پڑھانا چاہتی ہے۔ علم بانٹنا چاہتی ہے۔ اس کے دماغ میں لال عمارت رہ گئی اور سوچتی رہی کہ جب وہ شہر آئے گی تو یہاں کی استانی بنے گی۔ اسے وہ سب بےحد اچھا لگا۔
وہ عمارت اب بہت پیچھے رہ چکی تھی، مگر دل سے اور قریب۔۔۔ تقریباً دس منٹ کے بعد اس نے گاڑی یونیورسٹی کے آگے کھڑی کی۔
“یہ ہے میری یونیورسٹی”۔ وہ اپنی فائلز اٹھاتا گاڑی سے اتر گیا۔ صالحہ نے دونوں ہاتھ گاڑی کی کھڑکی پر رکھے اور باہر جھانکنے لگی۔ ایک اور خواہش نے دل میں جنم لیا۔ وہ اپنے ویر کی یونیورسٹی میں پڑھنا چاہتی تھی۔۔۔
اس کا رزلٹ کبھی بھی آسکتا تھا اور وہ خواب بن رہی تھی!۔ اس نے تب تک وہ عمارت دیکھی جب تک دل نہ بھر گیا۔ حیدر آیا اور گاڑی گاؤں کی طرف موڑ لی۔۔۔
حیدر گاڑی کو تیز رفتار سے چلا رہا تھا۔ آج جمعہ تھا اور اسے ہر حال میں آج ہی داجی سے بات کرنی تھی۔ وہ اب دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وہ شہر واپس آنا چاہتی تھی، مگر اسے معلوم تھا کہ یہ سال میں ایک بار ہی ہوا کرتا تھا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی قسمت اسے واپس یہاں ہمیشہ کے لیے لانے والی ہے!
۔۔۔۔۔۔ وہ حویلی میں داخل ہوتے ہی اوپر منزل کی طرف بھاگی۔ لاؤنج میں داخل ہوئی تو وہاں سب کو سلام کرتے ہوئے زینے چڑھنے لگی۔ “ارے بات تو سنو صالحہ! ہم سے بھی بات کرلو”۔ اسے عورتوں نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ “آتی ہوں” کا کہہ کر بھاگ گئی۔ حیدر پیچھے سے داخل ہوا تو اماں نے اس کا ماتھا چوما۔ “کیسا رہا سفر؟”۔ وہ عورتیں اب اشتیاق سے حیدر سے پوچھ رہی تھیں۔ “اتنا اچھا کہ صالحہ کل کا دن کبھی نہیں بھول پائی گی”۔ وہ زیر لب مسکراتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ اسے اپنے آپ کو داجی سے بات کرنے کے لیے تیار کرنا تھا۔ وہ داجی کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا داجی بستر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ “السلام علیکم داجی! ہم آگئے”۔ وہ سلام کرتا ہوا وہیں کھڑا رہا۔ “وعلیکم سلام۔ چلو اچھا ہوگیا۔ صالحہ کہاں ہے؟۔ کیا وہ ٹھیک ہے اب؟”۔ انہوں نے ٹہھر کر پوچھا۔ “مجھے لگتا ہے وہ اسے بھول گئی ہے۔ بہت خوش تھی وہ کل۔۔۔ کیا ہم بات کرسکتے ہیں؟ مجھے آپ سے کوئی فرمائش کرنی تھی داجی”۔ وہ اٹک اٹک کر بولا۔ داجی نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا۔ “کہو!”۔ “ابھی نہیں۔ وہ بات آرام سے کرنے کی ہے داجی۔ آپ مجھے وقت بتائیں تاکہ ہم اس وقت بات کرسکیں”۔ وہ جھک کر بہت ادب سے گفتگو کررہا تھا۔ “ایسی کون سی بات ہے؟ ٹھیک یے پھر شام کی چائے پر آنا ہمارے پاس”۔ وہ خونخوار نظریں اس پر جمائے بولے۔ “جی داجی بلکل”۔ وہ کمرے سے باہر نکلتا سکھ کا سانس لیتا اپنے کمرے میں چلاگیا۔ ابھی اسے اور بہت کچھ سوچنا تھا۔ اسے لفظوں کو ترتیب دینا تھا۔ اسے شام کے لیے خود کو تیار کرنا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
“ویر نے میری پیشانی چومی۔ میں بےیقین ہوگئی تھی سچ میں۔ مجھے یقین ہی نہ آیا کہ میرا ویر میری امیدوں سے بھی زیادہ اچھا ہے۔ اس نے مجھے کیا کیا نہیں دکھایا پھپھو!۔ اپنی یونیورسٹی اور شہر کا ایک اسکول بھی دکھایا۔ آپ کو پتا ہے افشاں پھپھو! جب میں نے ویر کی یونیورسٹی دیکھی تو میرا دل مچل اٹھا۔ یہ وہی یونیورسٹی ہے جہاں حویلی کے مرد بھی پڑھتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی جاؤں! میں بھی پڑھوں اور۔۔۔ ساتھ ساتھ اسکول میں بھی پڑھاؤں”۔ وہ گفتگو کے آغاز میں خوش تھی مگر اختتام اس نے دکھ سے کیا۔ افشاں کا چہرہ اس کے ساتھ مرجھایا۔ صالحہ نے جب افشاں کو اداس دیکھا تو بات بدلنے لگی۔
“خیر یہ بتائیں آج آپ کے لیے کونسا جوڑا نکالوں؟”۔ اس کی اس بات پر افشاں حیران ہوئی۔
“پھپھو آج تو جمعہ یے! آج تو آپ اچھے کپڑے پہنیں گی نا؟”۔ اس نے ان کی پریشانی ختم کی اور بےرنگ کپڑوں میں سے کوئی رنگ تلاش کرنے لگی۔
ابھی وہ دیکھ ہی رہی تھی کہ گھنٹی کی آواز پر مڑی۔ پیچھے دیکھا تو وہ ایک جوڑے کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔ صالحہ نے ان کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا۔ وہ ایک سفید رنگ کے کپڑے کی طرف اشارہ کررہی تھیں۔
“اتنا بےرنگ کپڑے کیوں پہنتی ہیں پھپھو۔۔۔ چلیں آپ جیسا چاہیں گی ویسا ہی ہوگا۔ میں یہ کپڑے استری کردیتی ہوں”۔ وہ سادہ سا سفید جوڑا اٹھائے باہر نکل گئی۔ افشاں نے اٹھ کر کھڑکی سے باہر جھانکا۔
اب وہ بےزبان اس کو کیا بتائے کہ بےرنگ دنیا میں بےرنگ کپڑے ہی پہنے جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ شام کے پانچ بجے تھے۔ حیدر وقت دیکھتا لاؤنج میں آگیا۔ داجی وہیں بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ وہ تمام مرد جو زمین سے لوٹے تھے وہاں محفل لگائے بیٹھے تھے۔ “او تو آگیا حیدر؟۔ بتا کیا فرمائش ہے تیری”۔ وہ مسکرا رہے تھے۔ اس وقت ان کا موڈ اچھا تھا۔ “کیا ہم تنہائی میں بات نہیں کرسکتے داجی؟”۔ وہ باقی مردوں کو دیکھتے ہوئے بولا۔ “ایسی کونسی فرمائش ہے جو سب کے سامنے نہیں بتاسکتے؟”۔ انہوں نے بھنویں اچکائیں۔ حیدر نے یہ سوچ کر گہری سانس لی کہ کہیں داجی کا موڈ نہ تبدیل ہوجائے۔ “میں شادی کرنا چاہتا ہوں داجی”۔ وہ بالآخر کہتا ہوا نظریں جھکا گیا۔ داجی کو تعجب نہیں ہوا۔ “ہاں تو کردیتے ہیں تیری شادی ثریا سے۔ کونسی بڑی بات ہے؟ ویسے بھی ارحم کی موت نے حویلی والوں کے دل افسردہ کردیے ہیں۔ اچھا ہے تیری شادی ہوگی تو رونقیں واپس آئیں گی”۔ حیدر نے لب بھینچے۔ “مگر داجی۔۔۔۔” وہ رک گیا۔۔ ایک خوف نے اندر جنم لیا۔ “کیا؟”۔ “میں ثریا سے شادی نہیں کرنا چاہتا”۔ اس نے آنکھیں میچ کر جلدی سے یہ بات کہہ دی۔ سب خاموش ہوگئے۔ شبیر صاحب کے ہونٹ سل گئے۔ وہ ان کے بیٹی کا منگیتر تھا۔ “کیوں؟”۔ داجی نے بنھویں اچکائیں۔ “کوئی وجہ تو نہیں ہوتی نا داجی۔ مجھے کسی اور سے کرنی ہے شادی”۔ وہ اس وقت جس حالت میں تھا اگر اس کا بدن بھی کاٹا جاتا تو شاید لہو بھی نہ نکلتا۔ “اس میں بھی کوئی مسلہ نہیں۔ تم حویلی کی کسی اور لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو تو ٹھیک ہے نام بتاؤ ابھی تاکہ ہم دیکھیں اور وٹہ سٹہ کردیں۔ ویسے بھی ارحم مر چکا ہے اور صالحہ اس کی منگیتر تھی۔۔۔”۔ انہوں نے بات ابھی مکمل نہیں کی تھی کہ حیدر نے بات کاٹی۔ “میں حویلی کی کسی لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ مجھے شہر میں کوئی پسند ہے”۔ وہ آخر کہہ گیا تھا اپنی دل کی بات۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی چھاگئی۔ “کیا مطلب ہے اس بات کا؟”۔ داجی غرائے۔ “بات سیدھی ہے داجی۔ میں اس کو پسند کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں”۔ داجی نے غصے میں میز پر زور سے ہاتھ مارا مگر حیدر نے اپنی بات نہ روکی۔ “وہ میری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ اور۔۔۔۔ اور سب آپ کی خواہش کے مطابق ہوگا داجی۔ اس کا ایک بھائی بھی ہے جو صالحہ سے شادی کرنے کے لیے راضی ہے۔ دیکھیں اب ارحم نہیں رہا تو صالحہ کی شادی کیسے ہوگی؟۔ اور وٹہ سٹہ کے مطابق اس کی شادی اس کے بھائی سے ہوجائے گی داجی”۔ حیدر جذباتی ہوتے ہوئے سب کہہ گیا۔ “اس کا بھائی راضی ہے؟”۔ “جی د۔داجی”۔ وہ ہکلاتے ہوئے بولا۔ “تم جانتے تھے تمہاری منگنی ثریا سے ہوچکی تھی”۔ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ دوارے کمرے میں بیٹھی عورتیں حیران ہوگئیں۔ صالحہ افشاں کے کمرے میں تھی اس لیے جان نہ پائی۔ “آپ صحیح کہہ رہے ہیں مگر داجی مجھے اس سے شادی نہیں کرنی تھی۔ آپ جیسا کہیں گے ویسا ہی ہوگا مگر میری شادی اسی سے کروادیں جو میری خواہش ہے”۔ وہ گڑگڑایا۔ “تم جانتے ہو وٹہ سٹہ ہوگا”۔ داجی نے خونخوار نظروں سے دیکھا۔ “ہاں ویسا ہی ہوگا۔۔۔ وٹہ سٹہ ہی ہوگا داجی۔۔۔ میں اس کے بھائی سے آپ کو ملوانا چاہتا ہوں”۔ جب حیدر کو لگا معاملہ ٹھنڈا ہورہا یے تو وہ جلدی سے بول پڑا۔ “ٹھیک ہے اتنا بڑا مسلہ نہیں یہ پھر۔۔۔ ہم اس سے کل ملنا چاہیں گے۔ اس لڑکے کو کل بلوالو۔۔۔ بات چیت کرکے تاریخ پکی کردیں گے”۔ داجی کا غصہ ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ وہ اب مصلحت سے کام لیتے ہوئے اسے اپنا فیصلہ سنانے لگے۔ “کل اتنی جلدی؟”۔ حیدر کو حیرانی ہوئی۔ “ہاں کل!”۔ وہ اپنی بات پر جمے رہے۔ حیدر گہری سانس لیتا زینے چڑھتا چکا گیا۔ اس کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ داجی مان گئے۔ داجی کے ساتھ بیٹھے شبیر بٹ میں تو اتنا حوصلہ بھی نہیں تھا کہ اپنی بیٹی کے لیے آواز اٹھاتے۔۔۔ وہ داجی سے یہ بھی نہیں کہہ پائے کہ ان کے سامنے انہی کے مرے ہوئے بیٹے کا نام مت لیں۔ انہیں تکلیف ہوتی ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
“یہ داجی کیوں چیخ رہے تھے ثریا؟ پھپھو کے کمرے تک آواز آرہی تھی اس لیے میں جلدی سے نیچے آگئی”۔ وہ پھولی سانسوں اور اڑے ہوئے حواسوں کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔ ثریا نے نظر بھر کر اسے دیکھا اور کندھے اچکا لیے۔
“حیدر اور داجی کے درمیان شاید کوئی بحث ہوئی ہے۔ اسی لیے داجی چیخے تھے۔ اب اس بات کا علم مجھے بھی نہیں کہ بات کیا ہوئی تھی ان کے درمیاں”۔
صالحہ بستر بیٹھ گئی۔
“داجی حیدر ویراں کی اکثر باتیں نہیں مانتے۔ انہیں چاہیئے کہ ان کی خواہش پوری کریں”۔ وہ اداس آنکھیں زمین پر جمائے بیٹھی تھی۔
“ہم نہیں جانتے کہ اس بار حیدر نے کیا بات کی ہے۔ اس لیے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے صالحہ”۔ اس نے نماز کی طرح ڈوپٹہ باندھا۔
“مجھے یقین ہے کہ کوئی غلط چیز کی خواہش نہیں کی ہوگی ثریا”۔
ثریا نے کوئی جواب نہ دیا اور نماز کے لیے کھڑی ہوگئی۔ وہ تھوڑی دیر اسے یوں ہی یک ٹک دیکھتی رہی پھر کچھ سوچ کر باہر آگئی۔ آج کل ویسے ہی ثریا خاموش رہا کرتی تھی۔ بھائی کی موت نے اسے خاموش کردیا تھا۔ وہ زیادہ تر وقت عبادت کرتے ہوئے گزارتی یا پھر صالحہ سے گفتگو کرتے ہوئے۔ شمیلہ چچی کی آواز آئی تو صالحہ ان کے کمرے میں آگئی۔
وہ جائے نماز پر دعا مانگ کر بیٹھی تھیں۔
“کیسی ہو صالحہ؟ مجھ سے ملی بھی نہیں؟”۔ انہوں محبت بھرا شکوہ کیا تو وہ کان پکڑتی بچوں کی طرح ان کے قریب آبیٹھی۔
“مجھے افشاں پھپھو کے پاس بیٹھ کر وقت کا اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ آج تو نماز بھی وہیں پڑھی میں نے “۔ وہ مسکرا کر کہتی ان کے ہاتھوں کی چوڑیوں کو آگے پیچھے کرنے لگی۔
“مبارک ہو تمہیں صالحہ! الله نے کامیابی دی ہے تمہیں”۔ وہ محبت سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر بولیں۔
“کیوں کیا داجی مجھے آگے پڑھنے پر مان گئے؟”۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔
“دعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی تمھاری! ان شاءاللہ۔۔ مگر ابھی میرے منہ سے خوشخبری تو سن لو۔۔۔ تم پاس ہوگئی ہو صالحہ! مبارک ہو”۔ یہ سننا تھا کہ صالحہ ساکت ہوگئی۔ آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور وہ ان کے گلے لگ گئی۔
“کیا سچ میں چچی؟”۔
“اللہ نے تمھاری محنت کا صلہ دیا ہے صالحہ۔ جاؤ شکرانہ پڑھو اور سب کو خبر سناؤ”۔ وہ اس کی پیشانی چوم کر بولیں۔
“کس کو سناؤں یہ خوشخبری؟ اماں کو؟ جنہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ابا کو؟ جن سے بات ہی ایک ہفتے پہلے ہوئی تھی۔ یا داجی کو؟ جو یہ سن کر الٹا مجھ پر ہی بھڑک جائیں گے”۔ اس نے کچھ سوچ کر سر جھٹکا۔
“صرف ان کو جن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ تمھاری خوشی میں خوش ہوں گے۔ افشاں کو سناؤ، ثریا کو،رفاہ کو۔۔۔”وہ کہتی جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ صالحہ نے انہیں انہماک سے دیکھا۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ وہ وہاں سے بھاگتی ہوئی افشاں کے پاس آئی اور اسے خوشخبری سنائی۔ اس نے اپنے پسندیدہ لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے خوشی دیکھی۔ اس نے ثریا کو بتایا اور پھر وہ رفاہ کو ڈھونڈتے کچن تک چلی آئی۔ وہ شام کے برتن دھورہی تھی۔
اس کے پاؤں پر بینڈج بندھی تھی اور پیشانی پر پٹی۔ صالحہ نے اسے دیکھا تو ششدر رہ گئی۔
“یہ کیا ہوا ہے تمہیں”۔ وہ اس کے قریب آئی اور دونوں ہاتھوں سے اسے اپنی جانب موڑا۔
“میں کچھ پوچھ رہی ہوں رفاہ!”۔ جواب نہ آنے پر صالحہ نے سختی سے پوچھا۔
“کک۔کچھ نہیں وہ بس۔۔” وہ ہکلائی۔
“”وہ کیا رفاہ؟ تم کیسے اتنی زخمی ہوئی؟”۔
“سس۔سمیعہ تائی نے۔۔۔” ۔ رفاہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
“تمہارا شوہر کہاں تھا؟”۔ صالحہ کی تیوریاں چڑھیں۔
“وہ وہیں بیٹھے تھے”۔ اس نے سر جھکا کر جواب دیا۔
“مجھے پورا واقعہ بتاؤ”۔ اس نے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
رفاہ کے ہونٹ پل بھر کو کانپے اور اس نے روتے ہوئے پورا واقعہ گوش گزار کردیا۔
خون آلود آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے صالحہ نے پورا واقعہ سنا تھا۔
“اور تم چپ رہی؟”۔
“آپ کیا چاہتی ہیں صالحہ باجی کہ میں کچھ بولوں؟؟ نن۔نہیں مم۔میں کچھ نہیں بول سکتی۔۔ وو۔وہ مجھے مار دیں گے”۔ وہ اور ذیادہ رونے لگی۔
“یعنی تمہارے راستے کے پتھر مجھے ہٹانے پڑیں پڑیں گے؟؟۔ ٹھیک ہے! یہ کام بھی اتنا مشکل نہیں”۔ اس نے اس کو بازؤوں سے پکڑا اور کھینچتے ہوئے باہر لے جانے لگی۔
“کیا کررہی ہے باجی آپ؟”۔ وہ خود کو چھڑانے لگی مگر صالحہ اسے مضبوطی سے پکڑتے ہوئے باغ میں لے آئی جہاں شرجیل درخت کے نیچے کھڑا سگریٹ پھونک رہا تھا۔ صالحہ نے رفاہ کا بازو اس کے قریب لاکر چھوڑا تھا۔
شرجیل حیران کھڑا اسے دیکھنے لگا۔ لہجہ حسب معمول سخت تھا۔
“اس کو کیا ہوا شرجیل صاحب؟۔ یہ زخمی کیوں ہے؟”۔ وہ بنا ڈرے پوچھنے لگی۔ شرجیل نے سر تا پیر پہلے صالحہ کو دیکھا اور پھر پیچھے کھڑی رفاہ کو۔
“مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟”۔ وہ بنا کوئی تاثر دیے پھر سے سامنے دیکھنےلگا۔
“آپ سے کبھی نہیں پوچھتی اگر آپ اس کے شوہر نہیں ہوتے”۔ اس نے دوبدو جواب دیا۔
شرجیل کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔
“وہ آپ کی بیوی ہے شرجیل بٹ۔ تائی اسے ماررہی تھیں اور آپ دیکھتے رہے؟؟”۔ صالحہ نے اسے غصے سے گھورا۔
اس کے یوں کہنے پر وہ پیچھے کھڑی ڈری سہمی رفاہ کو دیکھنے لگا۔
“تو کیا کرنا چاہئے تھا مجھے؟”۔ اس نے نرمی سے پوچھا۔
“آپ کو سینہ چوڑا کرکے پوچھنا چاہیے تھا کہ میری بیوی کو ہاتھ کیسے لگایا”۔
“یہ ونی بن کر آئی ہے صالحہ”۔وہ دیکھنا چاہتا تھا وہ کب تک ہمت رکھتی ہے۔
“ونی؟ کون سی ونی؟ ونی وہ ہی نا جو مظلوم ہوتی ہے؟ یہ سب دین سے دوری کا نتیجہ ہے۔ قرآن پڑھیں شرجیل صاحب! یہ قاتل کی بہن ہے ناکہ قاتل ہے۔۔۔ اس کے بھائی نے قتل کیا ہے اس نے نہیں! یہ کیوں سزا کاٹ رہی ہے؟ جسے سزا کاٹنی چاہیے وہ آرام سے زندگی گزاررہا ہوگا”۔ وہ خونخوار لہجے میں بولی۔
“جو درس مجھے دے رہی ہو جاؤ داجی کو دو! یہاں دم نہیں نکل رہا وہاں دم ہی نہیں رہے گا”۔ وہ استہزایہ ہنسا۔
“میں داجی کے منہ پر بھی یہ کہنے کی ہمت رکھتی ہوں۔ اپنے آپ تک ہر ظلم برداشت کیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ظلم ہوتا ہوا بھی دیکھوں۔ میں بھی افشاں کی ہی بھتیجی ہوں۔ یوں چپ تو نہیں رہوں گی”۔ وہ اس کو گھورتے ہوئے بولی۔
“یہ بھی یاد رکھنا داجی نے پھر کیا کیا تھا!”۔ وہ ذو معنی لہجے میں بولا۔
“بےزبان ہوجاؤں گی مگر حق بجانب رہوں گی”۔ وہ ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھی، اتنا تو شرجیل جان گیا تھا۔ وہ خاموش ہوگیا۔
“آپ کا دل نہیں پگھلتا؟”۔ صالحہ حیران تھی۔ رفاہ نے اس کا بازو سختی سے پکڑلیا تھا۔
“بیوی ہے یہ آپ کی۔۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ اگر کوئی ظلم کررہا تو ظالم کے ساتھ مل جاؤ؟؟ بلکہ ظلم کو روکیں شرجیل صاحب۔۔ اس حویلی میں کوئی تو ہمدرد ہو اس کا!۔ اور آپ کو تو حق بھی حاصل ہے۔بہت افسوس ہوا مجھے”۔ وہ اس پر افسوس کرتی ہوئی رفاہ کا ہاتھ پکڑتی مڑگئی۔ پیچھے کھڑے شرجیل کے ہاتھ سے سگریٹ گھانس پر گرگئی۔ وہ ان دونوں کو دیکھتا رہا۔ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہوگئیں تو نیچے پڑی سگریٹ کو جوتے سے مسلا گویا حویلی کی رسم و رواج مسل رہا ہو جو اسے اللہ سے اتنی دور کر گئیں۔ وہ کیسے بتائے صالحہ کو کہ وہ رفاہ کی اکیلی ہمدرد نہیں ہے! اس نے گردن اٹھا کر اوپر منزل پر موجود کھڑکی کو دیکھا جہاں سے ایک عورت جھانک رہی تھی۔ اتنے سالوں بعد آج یوں نظر بھر کر دیکھا تھا ایک جان سے پیارے نے۔۔۔ یہ وہ عورت تھی جو اسے کئی سالوں پہلے دنیا کی خوبصورت ترین عورت لگتی تھی۔۔۔ ایک فرشتہ صفت انسان لگتی تھی۔۔ ایک کنچی آنکھوں والی پری لگتی تھی۔۔ ایک خوابوں میں رہنے والی لڑکی لگتی تھی۔۔۔ وہ اتنا چھوٹا تھا اس وقت کہ اپنی جان سے پیاری پھپھو کی طرفداری بھی نہ کرسکا۔۔۔ اور اب اتنا بڑا ہوچکا تھا کہ یہ رسم و رواج اکیلے ختم کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا۔ وہ عورت اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اس کے چہرے پر موجود جھریاں اس بات کی گواہ تھیں کہ یہ بہت ہمت والی عورت ہے۔ جس کو بےزبان کردیا گیا مگر یہ زندہ رہی۔۔ جس کا دل پیروں تلے کچل دیا گیا مگر پھر بھی وہ زندہ رہی۔۔۔ وہ عورت اب پیچھے ہٹ چکی تھی۔ وہ کھڑکی سے دور ہوچکی تھی مگر شرجیل پھر بھی اوپر دیکھ رہا تھا۔ سورج غروب ہورہا تھا ۔ آنکھوں پر سورج کی ہلکی شعائیں پڑیں اور آنکھیں پانی بہانے لگی، مگر اس نے نظریں نیچے نہیں کیں۔ باغ میں شاہ جی داخل ہوئے اور اب اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھ رہے تھے۔ وہ دشمن جان کا کمرہ تھا، مگر دشمن جان وہاں موجود نہیں تھا۔ کسی کے قدموں کی چاپ محسوس ہوئی تو وہ آنکھ کا پانی صاف کرتا شاہ جی کو دیکھنے لگا۔ وہ شخص بڑی عمر کا تھا مگر سینہ چوڑا اور کشادہ تھا۔ مضبوط بازو اور چہرے پر جھریاں وقت کے ساتھ اب ذیادہ نمایاں ہورہی تھیں۔ اسّی فیصد بال سفید تھے۔ وہ اس ہمت والے شخص کو دیکھ رہا تھا جو اپنی محبت کے لیے خود کو بھول گیا تھا۔ جس نے اپنی جوانی امیدوں پر گزاردی اور کوئی امید اب تک بر نہیں آئی تھی۔
“چائے کا کپ”۔ شاہ جی نے کپ آگے بڑھایا۔
“شکریہ بشارت جی!”۔ اس نے شکریہ ادا کیا۔
“ہمت کی داد دیتا ہوں! کل تمہاری بیوی پر تشدد کیا گیا اور تم اب تک چپ ہو”۔ وہ بولتے بولتے لب بھینچ گئے۔۔۔
شرجیل نے لمبی سانس ہوا میں چھوڑی۔
“وہ کثر کر گئی ہے پوری بشارت جی!”۔ وہ بیزاری سے بولا۔
“کون؟”۔ وہ حیران ہوئے اور اپنا کپ لبوں سے لگایا۔
“پھپھو کی جڑواں”۔ وہ منہ کے زاویے بگاڑ کر بولا۔
“اوہ۔۔۔ صالحہ”۔ وہ کہتے ہوئے مسکرائے۔ شرجیل نے ان کے ساتھ کھڑے ہوکر چائے پی اور ان کے ہاتھ میں کپ دیتا مڑ گیا۔
حیدر اور داجی کی بیچ ہونے والی بحث میں شرجیل موجود تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس سب کے بھینٹ صالحہ بہت جلد چڑھ جائے گی۔ وہ یہ بات چاہتا تو صالحہ کو بتاسکتا تھا۔۔۔ مگر ہاں۔۔۔ بری خبر جتنی دور رہے اسی میں ہی عافیت ہے۔ وہ یہ بات شاہ جی کو بھی نہیں بتاسکتا تھا۔ وہ ایک بار پھر اندر سے مرجائیں گے وہ جانتا تھا۔ وہ حویلی میں سب سے ذیادہ اسے بیٹیوں کی طرح چاہتے تھے۔ وہ بلکل افشاں تھی اس لیے وہ ان کے دل قریب اور تھی۔
وہ ثریا کو بھی خود نہیں بتائے گا کہ وہ شخص جس کا نام حیدر ہے وہ تمہارا نہیں ہے۔۔۔
وہ افشاں کو خود سے نہیں بتائے گا کہ آپ کی چہیتی قربانی دینے والی ہے حیدر کے لیے۔۔۔۔
وہ رفاہ کو نہیں بتائے گا کہ اس کی باجی جانے والی ہے اس سے بہت دور۔۔۔
چار عورتیں!
افشاں، صالحہ، رفاہ، ثریا
چار الگ کہانیاں!
۔۔۔۔۔۔ حیدر سے بات کرکے وہ اب پریشان بیٹھی تھی۔ وجدان گھر آچکا تھا۔ اپنے اندر ہمت جمع کرتی وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی۔ “آجاؤ”۔ اندر سے آواز آئی تو وہ دروازہ کھول کر اندر آگئی۔ وہ صوفے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔ “بھائی۔۔۔ حیدر کا فون آیا تھا ابھی”۔ اس نے اطلاع دی۔ وجدان نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ “کیا کہہ رہا ہے؟”۔ اپنی گردن سے ٹائی اتارتا وہ تھکے تھکے سے لہجے میں بولا۔ “آپ کو حویلی کل جانا ہوگا۔۔۔ اس نے گاؤں اور حویلی کا تفصیلی پتا بتادیا ہے آپ کو میسج پر۔۔ آپ دیکھ لے گا۔۔۔ کل صبح نکلیں گے تو دوپہر کو پہنچ سکیں گے”۔ وہ کہہ کر رکی نہیں بلکہ باہر نکل گئی۔ وہ اس کا ری ایکشن نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔کمرے میں بیٹھے وجدان کا دل کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا تھا۔ اس نے موبائل کھولا تو حیدر نے ایڈرس بھیجا ہوا تھا۔ اس کو بیزاری محسوس ہوئی تو موبائل بستر پر پھینک دیا۔ دل ایک دم ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔ وارڈ روب سے کپڑے نکالتا وہ واش روم میں گھس گیا۔ ۔۔۔۔۔۔
صبح ہوئی اور حسبِ معمول وہ نماز پڑھ کر باورچی خانے کی طرف بڑھی۔
“چائے بنارہی ہوں جس نے بنوانی ہے بتادیں”۔ صالحہ کچن میں بڑھی تو رفاہ وہاں پہلے ہی کھڑی تھی۔
“تم کب آئی؟”۔ اس نے مسکرا کر پوچھا۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے”۔ رفاہ مبہم سا مسکرائی۔
“موسم بہت اچھا ہورہا ہے نا؟”۔ صالحہ نے کچن کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔
“باجی مجھے لگتا ہے بارش ہوجائے گی”۔ وہ بھی باہر جھانکنے لگی۔۔۔
“اتنا مت جھانکو کہ کھڑکی سے ہی باہر گرجاؤ”۔ صالحہ نے ہنستے ہوئے اسے پیچھے کیا۔ رفاہ بھی مسکرادی۔
“تمہارے شوہر کی بینڈ بجادی میں نے۔۔۔”۔ وہ ہنستے ہوئے بولی تو رفاہ خاموش ہوگئی۔
“مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے”۔ وہ چائے کا پانی چڑھاتے ہوئے بولی۔
“کیوں؟”۔ صالحہ کو ذیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔
“آپ کو نہیں لگتا؟”۔ اسے الٹا اس پر حیرت ہوئی۔
“پہلے لگتا تھا مگر اب نہیں”۔ وہ دھیما سا مسکرائی۔
“رفاہ محسوس کرو۔۔۔ مٹی کی خوشبو آرہی ہے۔۔۔ آج بارش ہوجائے گی ان شاءاللہ”۔ رفاہ نے اس کی بات پر دل سے آمین کہا۔
“میری چائے کہاں ہے؟”۔ سمیعہ تائی کی آواز آئی تو رفاہ کانپنے لگی اور جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔ اس کی حرکت نوٹ کرتے ہوئے صالحہ نے آواز لگائی۔
“تائی میں بنا رہی ہوں سب کی ساتھ چائے”۔
“نہیں وہ میری بنائے گی اور اگر بدذائقہ چائے ہوئی تو بار بار بنائے گی”۔ وہ دانت پیس کر بولیں۔ صالحہ نے رفاہ کو دیکھا جس کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ وہ پتیلی میں پانی بھرنے لگی تو صالحہ نے نلکا بند کردیا۔ آٹھ بجنے لگے تھے۔
“چھوڑ دو! میں دیکھ لوں گی”۔ کہتے ساتھ ٹرے نکالی اور چائے چھاننے لگی۔ صالحہ نے چائے ٹرے میں سجا کر سب کو پیش کی۔ سمیعہ تائی کو آگے بڑھائی مگر انہوں نے بنھویں اچکا کر حیرت سے اسے دیکھا۔
“رفاہ کہاں ہے؟ وہ چائے نہیں لائی میری؟”۔ ان کی آواز میں صاف غصہ تھا۔
“نہیں۔۔۔ میں نے منع کردیا تھا اسے۔۔۔ اس کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی اور دو دفع چائے کیوں بنے تو میں نے اسے روک لیا۔ زخم بھرے نہیں ہیں اس کے ابھی”۔ وہ کہہ کر خاموش ہوگئی اور چائے کی پیالی سامنے میز رکھ دی۔۔۔ تائی کو ایک دم غصہ آیا۔ وہ جھٹکے سے کھڑی ہوئیں تو میز کو جھٹکا لگا اور پیالی گر کر ٹوٹ گئی۔ رفاہ باہر باورچی خانے کے دروازے پر فق رنگت لیے کھڑی تھی۔ پیچھے زینے اترتے ہوئے شرجیل نے سب دیکھا تھا۔ تائی اس کی طرف بڑھیں تھی۔ صالحہ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔ انہوں نے رفاہ کو مارنے کے لیے ہاتھ ابھی اٹھایا ہی تھا کہ پیچھے سے شرجیل کی آواز گونجی۔
“رک جائیں تائی”۔ تائی کا ہاتھ ہوا میں رک گیا۔ انہوں نے گردن موڑ کر شرجیل کو دیکھا جو آخری زینے پر کھڑا تھا۔
“فوراً اپنے کوارٹر میں جاؤ رفاہ”۔ اس کی رعب دار سخت آواز گونجی تو رفاہ کا دل حلق میں آگیا۔ وہ یک ٹک لرزتی پلکوں سے اسے دیکھنے لگی۔
“تمہیں سمجھ آرہی یا وہاں آ کر بتاؤں؟”۔ وہ اس بار دانت پیس کر بولا تھا۔ آنکھیں کی تپش رفاہ کو اپنی جلد میں گھستی محسوس ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ بھاگتے ہوئے ہیڈکوارٹر میں چلی گئی۔
تائی اسے حیرت سے دیکھنے لگیں۔ وہ رکا نہیں بلکہ لاؤنج پار کرنے لگا۔ جاتے جاتے صالحہ کے سامنے رکا ضرور تھا۔
“
شروعات کیسی لگی؟”۔ وہ مدھم آواز میں سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔صالحہ نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر اسے دیکھا جو سامنے دیکھتے ہوئے اس کے جواب کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے رفاہ کو تائی سے بچالیا تھا ۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا جیسے کہہ رہی ہو شروعات اچھی کی گئی ہے۔ وہ ہلکا سا ہنسا اور سر جھٹک کر آگے بڑھ گیا۔ثریا بےیقینی سے حالات سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔۔۔ اسے یقین نہیں آیا کہ شرجیل اپنی بیوی کے لیے بولا ہے۔ ایک ایسا شخص جو ہمیشہ داجی کے فیصلوں پر سر جھکاتا ہوا آیا ہے۔ صالحہ کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ آئی اور وہ زینے چڑھتی چلی گئی۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
وہ آئینے کے سامنے کھڑا ٹائی پہن رہا تھا۔ اس کا دل ایک دم اچاٹ ہوچکا تھا۔۔ اس بھری ہوئی دنیا سے دل بیزار ہوچکا تھا۔۔۔ وہ کیسے کہے اسے نہیں جانا! وہ کیسے کہے وہ قربانی دینا نہیں چاہتا۔۔ وہ عورت اس کے دل میں بسی ہوئی ہے۔ وہ کیسے اس کی یاد دل موڑ لے؟ اس کے اندر ایک لاوا بن رہا تھا۔۔۔ اس کا دل چاہا کہ کھلے آسمان کے نیچھے وہ تنہا ہو اور وہ اپنے دل کی آواز چیخ چیخ کر نکالے۔۔۔
آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ ہورہی تھیں۔ وہ مڑا اور اپنا تکیہ زمین پر پھینک دیا، لحاف اور بستر کی چادر الٹ دی اور پھر بھی دل نہیں بھرا تو وہ پوری قوت سے چیخنے لگا۔۔۔
بازو والے کمرے میں سوتی وجیہہ کی آنکھ سہم کر کھلی۔۔۔
وجدان کو لگا کہ اب اس کا دل مطمئن ہوگیا ہے تو وہ پھولتی سانسوں اور نڈھال چہرے سے آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ بلیک شرٹ پر اسی رنگ کا کوٹ اور بلیک پینٹ تو وہ پہلے ہی پہنا ہوا تھا۔۔۔ اب بندھی ہوئی کالی ٹائی ٹھیک کرنے لگا۔۔۔ اس کی تیاری مکمل تھی۔ موبائل اور والٹ جیب میں رکھتے ہوئے ایک نظر بال دیکھے اور چابی اٹھاتا ہوا نیچے جانے لگا۔ باہر جانے کے لیے دروازہ کھولا تو سامنے وجیہہ کھڑی تھی۔۔۔ وجدان نے پلٹ کر گھڑی دیکھی تو نو بج رہے تھے۔
“تم نے تو چھٹی کی تھی تو اتنی جلدی کیوں اٹھ گئی پھر؟”۔ وہ حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پوچھنے لگا اور باہر آگیا۔ وجیہہ خاموش رہی۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ چیخا کیوں تھا۔۔۔
“کیا ہوا؟؟۔۔۔ او اچھا اچھا میری چیخنے پر اٹھی ہو؟۔ او سو سوری وہ چوہا تھا کمرے میں تو پہلی نظر میں تو میری بھی چیخیں نکل گئیں، مگر پھر میں نے ماردیا یے اسے۔۔۔ جاؤ تم سوجاؤ۔۔ میں حویلی کے لیے نکل رہا ہوں۔ ہوسکتا وہاں سے آفس چلا جاؤں پھر رات میں ہی گھر آؤں”۔ وہ مسکراتا ہوا بتارہا تھا گویا اسے مطمئن کررہا تھا۔۔۔ اس نے ایک بار پھر اس کا چہرہ دیکھا جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں اور وہ بھی بولتے بولتے چپ ہوگیا۔
“اچھا میں جارہا ہوں”۔ کچھ لمحے رک کر نظریں چراتا کر کہتا ہوا وہ مڑگیا۔ گاڑی میں بیٹھ کر چابی لگائی اور بددلی سے گاڑی اسٹارٹ کرکے نکال کر باہر لے آیا۔
چلو آج کا دن بھی گزر جائے گا۔ وہ سوچ کر خود کو تسلیاں دینے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“داجی وہ آنے والے ہیں۔۔۔” حیدر نے اطلاع دی تو داجی نے اثبات میں سرہلایا۔ دوپہر کا ایک بجنے لگا تھا۔
“ہم نے پورا انتظام کر رکھا ہے۔ ایک بات یاد رکھنا حیدر۔۔۔ ہم مان گئے ہیں کیونکہ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر شادی کی تاریخ ہم دیں گے”۔ وہ سفید کرکراتا کرتا شلوار پہنے ہوئے تھے اور اس پر ہلکی براؤن شال۔
“جی داجی۔۔۔ سب آپ کے مطابق ہوگا”۔ اس کے لیے اتنا ہی بہت تھا کہ داجی مان گئے۔ سب مرد اکھٹا تھے اور عورتیں بےخبر تھیں کہ کون آرہا ہے جس کے لیے اتنی صفائیاں کروائی گئی ہیں۔
صالحہ نے حیرانی سے سب دیکھ رہی تھی۔ وہ باغ میں رفاہ کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
“رفا۔۔۔ ہم باورچی خانے کے سارے کام ابھی کرلیتے ہیں تاکہ بعد میں بارش کے مزے لے سکیں”۔ وہ آسمان کو دیکھنے لگی جہاں کالی گھٹا چھائی ہوئی تھی۔
“ہاں باجی۔۔۔ مجھے بھی لگتا ہے کہ کچھ دیر بعد بارش شروع ہوجائے گی”۔ وہ بھی مٹی کی خوشبو سونگھ رہی تھی۔
“چلو پھر جلدی سے اندر آجاؤ”۔ وہ تیز چلتی ہوا سے خود کو محفوظ کرتی اس کا ہاتھ پکڑتی اندر بڑھ گئی۔
آدھے گھنٹے بعد ایک عجیب شور مچا۔۔
“مہمان آگئے۔۔ مہمان آگئے”۔
چوکیدار نے دروازہ کھولا اور ایک کالی گاڑی اندر آکر پارک ہوئی۔ گاڑی میں بیٹھا وہ شخص اندر سے ہی حویلی کا باہر کا نظارا کرنے لگا۔ گلاسز آنکھوں سے اتار کر ڈیش بورڈ پر رکھے اور گہری سانس لیتا گاڑی سے اترنے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
