Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 20(Last)
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20(Last)
زنجیر از قلم عینا بیگ
آخری قسط
مغرب کی آذان سن کر سب نماز پڑھنے کے لیے اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ وہ جائے نماز پر نماز پڑھ کر اب بستر پر لیٹ گیا تھا۔ صالحہ واش روم سے کپڑے چینج کرکے نکلی۔ وجدان نے اس کی طرف کروٹ لیا۔ صالحہ نے نظریں پورے کمرے میں دوڑائیں۔ اس کا کمرہ اب تک ویسا ہی تھا جیسا وہ شادی سے پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔ وجدان اٹھ کر اس کی میز کے قریب آیا۔ ڈھیر ساری کتابیں جو شاید صالحہ کی تھیں وہ الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ صالحہ اسے دیکھ کر میز کے پاس آئی۔
“یہ کتابیں تو بڑی کام کی ہیں”۔ وہ تعجب سے ایک نیلی کتاب کو کھول کر دیکھنے لگا۔۔
“کرسی پر بیٹھ جائیں وجدان”۔ اس نے میز کی کرسی وجدان کے قریب کی تو وجدان اس پر بیٹھ گیا۔
“شکریہ صلہ”۔ وہ کہنے سے خود کو روک نہیں پایا تھا۔ صالحہ سرخ ہوئی۔ وجدان نے اس کی میز کی پہلی دراز کھولی۔ اس دراز میں صالحہ کے قلم رکھے تھے۔ اسے جان کر خوشی ہوئی تھی کہ صالحہ ہمیشہ سے اپنی چیزیں بہت اہتمام سے رکھتی ہے۔ اس نے دوسری دراز کھولی تو اس میں کسی کی تصویر تین حصوں میں پھٹی ہوئی رکھی تھی۔ اگر صالحہ کو معلوم ہوتا تو وہ وجدان کو میز کی طرف بھی نہ آنے دیتی۔
“یہ تصویر کس کی ہے؟”۔ اس نے ان تینوں حصوں کو دراز سے باہر نکالا۔ وہ تین حصے جب وجدان نے آپس میں ملائے تو وہ حیران ہوا۔ وہ کوئی لڑکا تھا جو تصویر میں مسکرارہا تھا۔ تصویر پلٹی تو اس پر کچھ لفظ لکھے نظر آئے۔ وہ انہیں جلد پڑھنے والا تھا کہ صالحہ نے سہم کر اس کے ہاتھ سے وہ تصویر چھین لی۔ وجدان نے مڑ کر حیرت سے صالحہ کو دیکھا۔
“یہ تصویر کس کی یے اور آپ نے ایسے کیوں ہاتھ سے لے لی؟”۔ اسے تھوڑا عجیب محسوس ہوا۔ صالحہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“نن۔نہیں وہ۔۔۔ چھوڑیں اس تصویر کو۔۔ میں اسے رکھ دیتی ہوں”۔ وہ بات گول کرتی الماری کا پٹ کھول کر تصویر رکھنے لگی۔ وجدان نے وہ جگہ بہت غور سے دیکھی جہاں صالحہ نے اسے چھپایا تھا۔ صالحہ کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہورہا تھا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“آپ۔۔۔ کک۔کچھ کھائیں گے؟۔ میں لے کر آؤں؟”۔ وہ پیشانی پر آئے پسینے کو صاف کرتی اس کی جانب آئی۔ وجدان بےساختہ مسکرایا۔
“پریشان کیوں ہورہی ہیں”۔ اس کے رخسار پر ہاتھ رکھتا وہ محبت سے بولا۔
“نہیں تو”۔ وہ جھٹ سے بولی۔ وجدان نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے خود سے قریب کیا۔ وہ اس کے سینے سے لگتی اگر خود کو نہ سنبھالتی۔ اس نے چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اس کے اس قدر قریب کھڑی تھی کہ اپنے چہرے پر پڑنے والی اس کی گرم سانسوں تپش محسوس کررہی تھی۔ دل تو جیسے بند ہوگیا تھا۔ شرم سے کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوچکی تھیں۔ وجدان نے اس کی پیشانی چومی۔ صالحہ کی پلکیں لرز اٹھیں۔ اس نے آنکھیں سختی سے بند کرلیں۔ دل میں ایک خواہش اٹھی کہ وجدان اس سے اظہارِ محبت کرلے۔۔۔ وہ انتظار کرنے لگی۔ مگر وہ اظہارِ محبت یوں نہیں کرنے والا تھا۔ وہ اسے اسلام آباد کی اس دکان سے خرید کر پھول پیش کرے گا اور پھر بتائے گا کہ زندگی کہ کس لمحے میں وہ اس کے دل میں داخل ہوئی۔ لمبے گھنے کھلے بال اس کے شانوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ صالحہ کا ایک ہاتھ وجدان کے شانے پر تھا جسے اس نے سختی سے پکڑ رکھا تھا۔ یکدم صالحہ کو وجدان کا چہرہ اپنے چہرے کے بہت قریب محسوس ہوا۔ وجدان نے اس کی بند آنکھوں کو باری باری چوما۔ اچانک کسی نے نیچے سے صالحہ کو آواز دی۔ وجدان چڑ کر پیچھے ہٹا۔
“مجھے نیچے بلا رہے ہیں۔ میں جارہی ہوں”۔ وہ ہنس کر دروازے کی جانب بڑھنے لگی۔
“رومینس کا بیڑا غرق کردیا”۔ وہ چڑ ہی تو گیا تھا۔ اس کی بات پر صالحہ زور سے ہنسی تھی۔
“اور ہاں صالحہ! میں رات صوفے پر نہیں سوؤں گا اور کتنی اچھی بات ہے نا۔ اس کمرے میں صوفہ ہے ہی نہیں”۔ وہ مسکراہٹ لبوں پر چپکاتا ہوا بولا تھا۔ صالحہ شرم کے مارے وہاں سے بھاگ نکلی۔ وہ پیشانی کجھاتا مسکرانے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“ثریا”۔ وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔ ثریا کچن میں حویلی کی عورتوں کے ساتھ کھانا بنارہی تھی۔
“جی”۔ اس نے شمیلہ بھابھی کے آگے کٹی ہوئی سبزیاں رکھیں اور چولہے کے قریب چلی آئی۔
“آپ نے جواب نہیں دیا؟”۔ اس کے سوال پر ہانڈی میں چمچ چلاتی ثریا نے مڑ کر اسے دیکھا۔ شاہ زل ویسے ہی کھڑا رہا۔ اس نے شاہ زل کو ایک تیز گھوری سے نوازا۔ بھلا حویلی کے افراد کے سامنے پوچھا جانے والا سوال تھا یہ؟۔
“ایسے کیا گھور رہی ہیں؟”۔ اس نے پھر سے جان بوجھ کر بلند آواز میں سوال کیا۔ ثریا کی تو آنکھیں ہی حیرے سے پھٹ گئی تھیں۔
“کیا مطلب ہے آپ کا شاہ زل صاحب”۔ اس نے دانت پیسے۔ شمیلہ چچی بے ماتھے پر بل ڈال کر شاہ زل کو دیکھا۔ صالحہ کرسی پر بیٹھی لسی کے لیے دہی پر کام کررہی تھی۔
“اس کو کام کرنے دو شاہ زل”۔ شمیلہ چچی نے ٹوکا۔ شاہ زل نے بنھویں اچکائیں۔
“اہا چچی اس لڑکی نے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے”۔
صالحہ نے نگاہ اٹھا کر بولتے شاہ زل کو دیکھا۔
“مجھے تو پہلے سے شک تھا خیر”۔ صالحہ نے گفتگو میں حصہ لیا۔
“ہائے ہائے میری بہن کتنے عرصے بعد حویلی آئی یے اور اسے کچن کے کاموں پر لگادیا۔ ویسے استانی جی ٹھیک کہا نا ثریا کے بارے میں”۔ وہ اس کے سامنے والی کرسی پر آبیٹھا۔ صالحہ کھلکھلائی۔
“بلکل ٹھیک۔ اس لڑکی کی شادی کرادو”۔ وہ ثریا کو ترچھی نگاہوں سے دیکھ کر بولی۔ ثریا نے جھٹکے سے مڑ کر صالحہ کو دیکھا۔
“اب حادثاتی طور پر آپ کی شادی ہوگئی ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب کی گوٹی گرائی جائے”۔ وہ تڑخ کر بولی۔ شاہ زل اور صالحہ کا قہقہہ گونجا۔
“مگر میری تو نہیں ہوئی”۔ شاہ زل نے افسوس میں سر نہیں میں ہلایا۔
“تو کرلیں آپ بھی!”۔ وہ جلد بازی میں بول گئی مگر جلد ہی اسے پچھتانا پڑا۔
“میں تو تیار ہوں آپ جب “قبول ہے” بولیں”۔ وہ لب کو کنارے سے دانتوں سے کاٹتا مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولا۔ ثریا سرخ ہوئی۔ اس نے خاموش رہنے میں عافیت سمجھی۔
“میں اماں کو جلد تائی کے پاس بھیجنے لگا ہوں اور یاد رکھیے گا ثریا۔ میں انکار نہیں سنوں گا”۔ لہجہ خطرناک حد تک سنجیدہ تھا۔ ثریا کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔ وہ خاموش رہی البتہ ہانڈی میں چمچ گھامتے ہوئے مبہم سا مسکرائی ضرور تھی۔
“میں جب سے آئی ہوں مجھے رفاہ نظر نہیں آئی؟۔ حیرت یے وہ میرے سامنے بھی نہیں آئی؟”۔ صالحہ کو یکدم یاد آیا تو حیرانی سے پوچھ بیٹھی۔ ثریا نے گہری سانس خارج کی۔
“وہ حویلی چھوڑ کر اپنے گھر جا چکی ہے”۔ وہ شاید اس کی آمد سے بےخبر تھی۔
“نہیں! وہ آچکی ہے۔ کمرے میں ہوگی”۔ شاہ زل نے بات کی تصحیح کی۔ ثریا نے ہانڈی پر ڈھکن لگایا۔
“کیا یہ سچ یے؟”۔ وہ حیران تھی جبکہ صالحہ الجھے دماغ سے دونوں کو باری باری دیکھ رہی تھی۔
“جی ثریا”. جواب کچن میں آتی رفاہ نے دیا تھا۔ “اسلام علیکم صالحہ باجی”۔ وہ ثریا کے گلے لگنے کے بعد صالحہ کے گلے سے لگی تھی۔ ثریا ایک دم خوش ہوئی تھی۔
“اچھا لگا تم لوٹ آئی”۔ وہ مسکرائی۔ صالحہ نے ثریا کی بات ختم ہونے کے بعد رفاہ کو دیکھا۔
“کیا مطلب تم ہمیشہ کے لیے حویلی چھوڑ کر چلی گئی تھی؟”۔
“شاید۔۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوگا”۔ رفاہ کے کہنے پر سب نے باری باری اسے دیکھ کر اثبات میں سرہلایا تھا۔
“قسمت اچھی ہے کہ شرجیل ویراں کل لوٹ آئیں گے”۔ ثریا کے بتانے پر وہ مبہم سا مسکرائی تھی۔ شاید یہی وقت تھا قسمت آزمانے کا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
رات کے کھانے پر حویلی کی بڑی میز سجی تھی۔ حویلی کے تقریباً تمام لوگ میز کے ساتھ لگی کرسیوں پر بیٹھے تھے۔ خوش گپیوں میں مصروف پورا خاندان ساتھ کھانا کھا رہا تھا۔
“ہمیں بہت خوشی ہے صالحہ کہ تم آہستہ آہستہ اپنے سارے خواب مکمل کررہی ہو”۔ شمیلہ چچی کے چہرے سے خوشی جھلک رہی تھی صالحہ نے گردن پھیر کر مسکراتے وجدان کو دیکھا۔
“تمہارا بہت شکریہ وجدان! ہماری صالحہ واقعی قسمت والی ہے کہ اسے تم جیسا شوہر ملا”۔ کبیر نے اپنی بیٹی کی قسمت پر رشک کیا تھا۔ مسکراتے وجدان کی مسکراہٹ کو بریک لگا۔
“ارے نہیں انکل۔ یہ تو میرا فرض یے”۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دل سے کہا تھا۔
افشاں نے وجدان کے سر پر محبت سے ہاتھ پھیرا۔ صالحہ کھل کر مسکرائی تھی۔ کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چل دیے۔ کل کا دن بہت مصروف گزرنے والا تھا یہ سوچ کر سب نے ہی جلدی سونے کا ارادہ رکھا ہوا تھا۔ وہ صالحہ کا کمرے میں آنے کا انتظار کررہا تھا۔ نگاہیں بھٹک کر الماری پر پڑیں تو اسے صالحہ کا وہ تصویر الماری میں چھپانا یاد آگیا۔ وہ الماری کا پٹ کبھی نہ کھولتا اگر وجدان کو صالحہ کا سہمنا یاد نہیں آتا۔ اسے زیادہ تلاش کرنا نہیں پڑا تھا۔ وہ تین حصوں میں بٹی ہوئی تصویر اسے صالحہ کے سامان کے نیچے سے مل گئی تھی۔ اس نے جلدی سے ان ٹکڑوں کو جوڑا اور پلٹ کر اس کے پیچھے قلم سے کچھ لکھا ہوا دیکھ کر پڑھنے لگا۔
“صالحہ ارحم بٹ”۔ ہونٹوں نے جنبش کی اور وہ ساکت رہ گیا۔ یہ تین لفظ تصویر کی پشت پر لکھے تھے “ارحم بٹ یعنی صالحہ کا سابقہ منگیتر”۔ اس کے لب بےساختہ ہلے۔ ماتھے پر فوراً بل نمودار ہوئے۔ ابھی وہ کچھ کرتا ہی کہ پیچھے سے دروازہ بند ہونے کی آواز آئی۔ وہ مڑا تو صالحہ نے اس کے ہاتھوں میں وہ تصویر دیکھی جو وہ خود چھپا کر گئی تھی۔ سانسیں سینے میں چڑھ گئیں۔ وجدان نے کچھ کہے بغیر وہ تصویر میز پر رکھی اور دروازہ کھولتا اسے تنہا چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ صالحہ کو محسوس ہوا جیسے وہ پھتر کی بن گئی ہو۔ ایک آنسو آنکھ سے نکلا اور گال پر بہنے لگا۔ ابھی تو بہار آنی تھی، ابھی تو زندگی میں دھنک باقی تھی۔ وہ اس کے پیچھے بھاگی۔ سب سوچکے تھے۔ حویلی اندھیرے میں گھری تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی وہ کہاں گیا ہوگا۔ اندازے سے وہ باغ میں داخل ہوئی تو وہ اسے درخت کے نیچے بینچ پر بیٹھا نظر آیا۔ دھیرے قدموں سے ڈولتے دل کو سنبھالتی وہ اس کے بلکل قریب آئی۔ وہ موبائل پر جھکا موصول ہوا کوئی میسج پڑھ رہا تھا۔
“وجدان”۔ ہونٹ لرزنے لگے۔ اسے یہ جان کر کیسا لگا ہوگا کہ اس کی بیوی اس سے پہلے کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ دل کی دھڑکنیں لمحوں کے حساب سے چل رہی تھیں۔ وہ اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ بےتاثر چہرے سے بیگانگی برت رہا تھا۔
“ارحم مم۔میرے سابقہ منگیتر تھے۔۔۔”۔ اب چھپا کر کیا کرنا تھا یہ سوچ کر وہ خود سے ہی بول پڑی۔ وہ بےحرکت پہلے جیسا ہی بیٹھا رہا۔ ارحم کے ذکر پر اس کی خود کی حالت غیر ہونے لگی۔
“کھیت اور زمینوں کے معاملے میں دشمنی پیدا ہوگئی تھی اور۔۔۔ ان کے ایک شخص نے ارحم کو قتل کردیا۔۔۔”۔ وہ ٹہھر کر آنسو ضبط کر کے بتارہی تھی۔ نگاہ اٹھا کر دیکھا تو وجدان ابھی بھی بےحس و حرکت سر جھکائے موبائل پر نظریں مرکوز کیا ہوا تھا۔
“آپ جواب کیوں نہیں دے رہے؟”۔ اس کی بےحسی پر وہ روہانسی ہوگئی۔ بھلا کوئی اتنی بھی لاتعلقی برتتا ہے؟۔
“وجدان کیا اس بات پر ہمارا رشتہ خراب ہوگا؟”۔ دور لگے مدھم بلب کی ملگجی سی روشنی میں اگر وہ نگاہ اٹھاتا تو رخسار پر بہتے اس کے چمکتے آنسو دیکھ پاتا۔ صالحہ کو غصہ چڑھنے لگا۔
“کیا آپ کو حیدر ویراں نے میری پہلی منگنی کے بارے میں نہیں بتایا تھا؟۔ وجیہہ نے تو بتایا ہوگا۔ میں مان ہی نہیں سکتی کہ آپ اس بات سے لاعلم رہے ہوں گے”۔ وہ بلند آواز میں روتے ہوئے بولی۔ لہجہ انتہائی مضبوط تھا۔ وجدان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔
“ہر کسی کو محبت ہوتی ہے اور مجھے بھی تھی۔ ماننے کی بات کی جائے تو میں یہ بھی نہیں مان سکتی کہ آپ نے اپنی زندگی میں کبھی محبت نہ کی ہو۔۔۔ ہر انسان کرتا ہے اور یہ ایک فطری عمل ہے۔ آپ سے پہلے کیا میری زندگی رکی ہوئی تھی؟۔ نہیں نا؟۔ یا پھر میں آپ کے آنے کا انتظار کررہی تھی کہ محبت کرسکوں! محبت بتا کر نہیں ہوا کرتی وجدان قریشی! محبت خود سے ہوتی ہے۔ راہ چلتے شخص سے جو ہوجائے وہ بھی محبت ہی ہوتی ہے”۔ وہ اس پر چیخ رہی تھی اور وجدان اسے ٹکر ٹکر تک رہا تھا۔
“کیوں خاموش بیٹھے ہیں بولتے کیوں نہیں”۔ جواب نہ ملا تو وہ جنجھلا گئی۔
“دیکھ رہا ہوں”۔ وہ آہستہ آواز میں بولا۔
“کیا دیکھ رہے ہیں؟”۔ اس کی آواز قدرے بلند تھی۔ صالحہ کے اس سوال پر اس نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا۔
“رشتہ ختم کرنے کا تو نہیں سوچ رہے؟”۔ بمشکل اس نے الفاظ ادا کیے تھے۔ “اگر سوچ رہے ہیں تو مجھے زیادہ افسوس نہیں ہوگا۔ جانتے ہیں کیوں؟۔ کیونکہ ایک تو یہ کہ میں صالحہ ہوں! میری نیت میرے اللہ کے سوا صرف وہ جانتے ہیں جو میرے اپنے ہیں۔ دوسرا یہ کہ حال میں بیٹھی ہوئی صالحہ اپنا ماضی بدل نہیں سکتی”۔ آنسوؤں کے بہتے دریے کے درمیان اس کے لیے کہنا محال ہورہا تھا۔ وجدان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“کیا اول فول بولی جارہی ہیں؟۔ میں نے کچھ کہا آپ سے؟۔ کوئی سوال کیا؟۔ خود سے سب کچھ جلدی اخذ نہیں کیا کریں”۔ لہجہ یکدم سخت ہوگیا تھا۔ وہ صالحہ کو ڈرا ہی تو گیا تھا۔ وہ اسے پہلے دن والی ڈری سہمی صالحہ لگ رہی تھی۔
“آپ نے کچھ کہا ہی تو نہیں”۔ وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔
“اور صحیح کہا آپ نے! محبت سب کو ہوتی ہے۔ مجھے بھی ہوئی تھی کسی زمانے میں بھورے بالوں والی لڑکی سے۔۔۔”۔ لہجہ یہ کہتے اب سخت نہیں تھا البتہ سنجیدگی ہر لفظ سے ٹپک رہی تھی۔ صالحہ کا دل رک سا گیا۔
“کک۔کون تھی وہ؟”۔ ہکلاتے ہوئے پوچھا۔
“میں بتانا پسند نہیں کرتا کیونکہ میں ماضی کو دہرانا نہیں چاہتا۔۔۔ آپ کے ساتھ جب زندگی شروع کی تو سب کو پسِ پشت رکھ دیا تھا”۔
صالحہ سن کھڑی اس کی باتیں سن رہی تھی۔
“مگر نام تو بتا سکتے ہیں”۔
“کیا میں نے آپ سے ارحم کا نام پوچھا تھا؟۔ بس ایک دفعہ کہیں سے سنا تھا جسے فوراً خیالوں سے رفع دفع کردیا تھا”۔ اس کے سختی سے کہنے پر صالحہ کے رخسار پر موٹے موٹے آنسو بہنے لگے۔ وہ پل بھر میں لب بھینچ گیا۔ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اسے خود سے قریب کیا۔
“اذیت ایسے ہی دے دیں مگر یوں رو کر میرے دل پر چیرا نہ لگائیں خدارا”۔ باری باری اس کے ہاتھوں کو چوم کر آنکھوں پر عقیدت سے لگائے۔ وہ اس کی محبت پاکر اور زیادہ رونے لگی۔
“آپ ناراض ہیں مجھ سے”۔ وہ بتارہی تھی شاید۔۔۔
“نہیں میں ناراض نہیں ہوں صلہ۔۔۔ آپ نے جو مجھے ارحم کی کہانی سنائی میں سب کچھ پہلے سے جانتا ہوں۔ کچھ بھی میرے لیے نیا نہیں ہے”۔ اس کے تاثرات بحال ہوئے تھے۔
“یعنی آپ خفا نہیں ہیں؟”۔
“کس بات پر خفا ہوں گا حالانکہ کوئی بات ہی ایسی نہیں”۔ مبہم سی مسکراہٹ لبوں پر پھیلی۔
“تو یوں کمرے سے کیوں چلے آئے؟”۔
وہ لب بھینچ گیا۔
“یہ دیکھنے کہ آپ میری فکر میں پیچھے آتی ہیں یا نہیں”۔
“بھلا ایسا بھی کوئی کرتا ہے؟”۔ اس نے بنھویں آپس میں ملائیں۔ وجدان ہنس پڑا۔ ٹھنڈ کا احساس بڑھ رہا تھا۔ رات گہری تھی اور ٹھنڈ بڑھ چکی تھی۔ اب باقاعدہ بات کرتے ہوئے منہ سے دھواں نکلتا محسوس ہورہا تھا۔ ٹھنڈ کے باعث صالحہ کو اچانک چھینکے شروع ہوگئیں۔ وجدان نے فکرمندی سے آنکھیں سکیڑیں۔ دونوں ہاتھ اب بھی وجدان کے ہاتھوں میں دبے تھے۔ اس نے صالحہ کو اپنے اور قریب کیا۔
“آئیں کمرے میں چلتے ہیں”۔ وہ اٹھ کر اس کو خود سے لگاتا کمرے میں لے جانے لگا۔ صالحہ غصے میں اس کے سینے پر دباؤ ڈال کر پیچھے ہٹی۔ وہ اسے پکڑ لیتا اگر وہ بدک کر پیچھے نہ ہٹتی۔
“مجھے نہیں جانا اب کمرے میں۔۔۔ آپ جانتے ہیں میں کتنا ڈر گئی تھی آپ کے یوں بنا کوئی بات کیے جانے سے؟۔ اب میں بھی نہیں جاؤں گی۔۔۔ آپ چلے جائیں اب کمرے میں”۔ ایک ناراض نگاہ اس پر ڈال کر وہ واپس آکر بینچ پر بیٹھ گئی۔ سردی اسے کانپنے پر مجبور کررہی تھی مگر وہ ایسے ماننے بھی نہیں والی تھی۔ وجدان تیزی سے اس کے قریب آیا۔
“سردی بہت ہورہی ہے صالحہ! ٹھنڈ لگ جائے گی۔ اچھا میں مانتا ہوں میں نے غلط کیا مگر آپ اس وقت مجھے تکلیف دے کر اچھا کررہی ہیں؟”۔ وہ بات مکمل کرکے اس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ وہ منہ پھیرے جواب میں کچھ نہ بولی۔ وجدان کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے۔
“مجھے غصہ آجائے گا صلہ”۔ وہ سنجیدگی کے آخری حدوں پر تھا۔ صالحہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے ہی گھور رہا تھا۔
“اچھا تو کیا کریں گے پھر؟”۔ وہ جان گئی تھی اسے کیسے قابو کرنا ہے۔ وجدان نے بڑھ کر اپنا ایک پاؤں صالحہ کے برابر بینچ پر اٹھا کر ٹکایا۔ وہ مکمل اسے گھیرے کھڑا تھا۔
“اگر مجھے غصہ آگیا تو میں۔۔۔”۔ وہ جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ گیا۔ چہرے کے تاثرات خطرناک حد تک بگڑ چکے تھے۔ صالحہ کے دل میں خوف پیدا ہوا۔
“ت۔تو کیا؟”۔ بمشکل منہ سے نکلا۔ وجدان نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کی جانب جھکایا۔ خاموشی کا وقفہ طویل ہوا تو خوف بھی بڑھنے لگا۔ اس نے آنکھیں سہم کر میچ لیں۔ لمحہ نہیں گزرا تھا کہ صالحہ کی چیخ سے خاموش فضا میں شور پیدا ہوا۔ وجدان اسے گود میں اٹھا چکا تھا۔
“تو میں گود میں اٹھا کر خود کمرے تک لے جاؤں گا”۔ شرارت سے کہتا وہ اسے دیکھ کر آنکھ دبا گیا۔ صالحہ کی دھڑکنوں کی رفتار تیز ہوئی۔
“یہ کیا کررہے ہیں کوئی دیکھ لے گا وجدان”۔ وہ رودینے کو تھی۔
“تو دیکھ لے بھئی اچھا خاصا محبت میں تڑپایا گیا شوہر ہوں”۔ وہ ہنس کر کہتا وہ لاؤنج سے اندر داخل ہوا۔ چاروں طرف خاموشی اور اندھیرے کا راج تھا۔
“مجھے زمین پر اتاریں میں وعدہ کرتی ہوں خود چلتے ہوئے کمرے تک جاؤں گی پکا”۔ وہ چیخے مارتی گڑگڑانے لگی۔
“آج آپ کو اٹھایا تو اندازہ ہوا کہ آپ میرے آفس جانے کے بعد دوبارہ ناشتہ کرتی ہوں گی یقیناً”۔ اس کے تاثرات سے لگ رہا تھا جیسے صالحہ بہت بھاری ہو۔۔۔
“میں موٹی تو نہیں”۔ وہ اسے گھور کر بولی۔ اس کا ایک ہاتھ وجدان کے شانے پر تھا جس کی وجہ سے وجدان کو تکلیف ہورہی تھی۔ وہ اس کا کندھا پکڑی ہوئی نہیں تھی بلکہ دبوچی ہوئی تھی۔
“ہاں بس ذرا جلدی تک کمرے میں پہنچ جائیں ورنہ میری کمر ٹوٹ جائے گی۔۔۔”۔ وہ اب سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔
“اب ذرا کم بولیں کیونکہ آپ بہت بھاری ہیں اور ذرا بھی ہلی جلیں تو آپ سمیت میں بھی گروں گا”۔ اس کی بات میں ستر فیصد مبالغہ آرائی شامل تھی۔ وہ جانتی تھی وہ محض اسے چھیڑ رہا ہے۔ نجانے صالحہ کو کیا ہوا وہ اس کا چہرہ تکنے لگی۔ ہلکی ہلکی بڑھی ہوئی شیو میں وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ لب بھینچنے پر گہرے ڈمپل چہرے پر عیاں تھے۔ کھڑے نین و نقش والا وہ شخص اس کا شوہر تھا۔ اللہ نے اسے بہتریں مردوں میں سے ایک مرد سے نوازا تھا۔ وہ جتنا شکر کرتی اتنا ہی کم تھا۔ وہ بھی کچھ نہ بولی۔ وجدان تیزی سے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ صالحہ نے آنکھیں میچ کر اس کے سینے پر سر رکھ لیا۔ وہ حیران ہوا تھا اس کے انداز پر۔۔۔اسے یقین تھا کہ اس کی زندگی میں بہار آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
رات کے تین بج رہے تھے۔ صالحہ اور وجدان کی آوازیں جائے نماز پر بیٹھی افشاں کو واضح سنائی دیں تھیں۔ یہ آوازیں ان دونوں کے کمرے سے آرہی تھیں۔ صالحہ شاید کھلکھلارہی تھی اور وجدان اسے کچھ بتا رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر قبل اسے باغ سے صالحہ کی چیخنے کی آوازیں بھی آئی تھیں۔ افشاں کا دل کٹ گیا تھا۔ وہ نیچے اتر کر اس کے پاس جانا چاہتی تھی مگر یہ سوچ کر رک گئی تھی کہ یہ میاں بیوی کا معاملہ ہے۔ اس وقت نجانے وجدان اسے ایک برا شوہر محسوس ہوا تھا۔ مگر یہ بھی محض خیال ہی رہا۔ وہ ایک بہترین شوہر تھا وہ یہ جان گئی تھی۔ اب کی بار دونوں کی ہنسی کی آوازیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بلند تھی۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی۔۔۔ صالحہ خوش تھی یہ سوچ کر افشاں کو بھی خوشی ہورہی تھی۔ افشاں کا کمرہ صالحہ کے برابر والے کمرے میں سیٹ کیا گیا تھا۔ کل اس کا نکاح تھا اور پھر شام تک رخصتی انجام پانی تھی۔ وہ اس حویلی کو چھوڑ کر جانے والی تھی۔ وہ کوئی نو عمر لڑکی نہیں تھی جس کے دل کی دھڑکنیں اپنی شادی کا سن کر بے ربط چلنے لگیں، جو خواب بننے لگے اور حیا سے سرخ ہوجائے جب جب اپنے ہونے والے شوہر کا نام سنے۔ وہ سوچ رہی تھی کاش اس کے پاس زبان ہوتی۔۔۔ تو وہ دنیا کے سامنے چیخ کر کہتی کہ میری زندگی کے وہ پل لوٹاؤ جسے میں نے تم ظالموں کے ظلم پر ایک اندھیرے میں گزارے۔۔۔ ہاں اسے خوشی تھی کہ وہ اب بشارت حسین کی بیوی بننے والی یے مگر اب وہ بات نہیں رہی تھی۔ وہ مچلتے جذبات نہیں تھے۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ کل کیسی دلہن لگے گی؟۔ جس کے چہرے پر ہلکی جھریاں ہوں گی، جس کے بال پانچ فیصد بال سفید ہوں گے، جو بےزبان ہو گی۔۔۔ بھلا وہ جچے گی شادی کے جوڑے میں؟۔ بڑھاپے کی طرف جانے والی عورت شادی کے جوڑے میں بیٹھی نوعمر لڑکی بننے کی کوشش کررہی ہوگی۔ اب تو کھلنے کی عمر اس کے بھتیجے بھتیجیوں کی تھی۔۔۔ جیسے صالحہ یا شرجیل۔۔۔ اس شخص کا نام افشاں کے نام کے آگے لگنے جارہا تھا جسے اس نے اپنی جوانی سے مانگا تھا۔ اب اللہ اس شخص سے اس کو نواز ہی رہا یے تو وہ کیوں ناشکرا پن کرے؟۔ اس نے سنا تھا کہ بشارت اس کا علاج کروانے شہر لے کر جائے گا۔ وہ گہری سانس خارج کرتی جائے نماز سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کا کل نکاح تھا اور رات بہت گہری ہوگئی تھی۔ اسے اب سوجانا چاہیے۔ وہ بستر پر بیٹھی اور پھر لیٹ گئی۔ آنکھیں موندیں مگر نیند نہ آئی۔ اس نے آنکھیں کھولی نہیں۔۔۔ بس بند ہی رکھیں کہ نیند بھی آہی جائے گی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“نکاح کتنے بجے یے؟”۔ لرزی ہوئی آواز کانوں پر پڑی تو وہ لالٹین لے کر اس بوڑھے وجود کی جانب آئے۔
“ابا جان بعدِ نماز ظہر۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی شامل ہوں مگر آپ چل نہیں سکتے”۔ دکھ چہرے پر واضح تھا۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔ بیٹے۔۔۔ میری بہو سے مجھے ضرور ملوانا جب گھر لے آؤ”۔ وہ ایک باپ تھا جو بستر پر لیٹا بیٹے سے خواہش کا اظہار کررہا تھا۔ شاہ جی مسکرائے۔
“کیوں نہیں ابا”۔ لالٹین میز پر رکھ کر وہ ان کا کمبل ٹھیک کرنے لگے۔
“کب آؤ گے اب؟”۔ کمزور نگاہیں اپنے بیٹے پر ڈالیں۔ یہ آنکھیں اس کو دیکھنے کے لیے کب سے تڑپ رہی تھیں۔
“کل شام تک آجاؤں گا ابا۔۔۔ ہمیشہ کے لیے۔۔۔ آپ کے پاس! پھر کہیں نہیں جاؤں گا بس آپ کی خدمت کروں گا۔۔۔ تھک گیا ہوں اتنا طویل عرصہ اس حویلی میں گزار کر۔۔۔ میرا مقصد اور میری دعائیں قبول ہوچکی ہیں اب وہاں کیا ٹہھرنا ابا۔۔۔ اب تو بس اپنے گھر میں رہوں گا”۔ وہ باری باری ان کے دونوں ہاتھ چوم کر بولے۔ بوڑھا لاچار آدمی ایک دم مسکرایا۔ آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔ اس سے بڑی اور کیا خوشی کی بات ہوسکتی تھی۔
“میں انتظار کروں گا بشارت”۔ وہ اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتے ہوئے بولے۔ بشارت نے محبت میں ان کی پیشانی چومی۔
۔۔۔★★۔۔۔
صبح کے سات بج ریے تھے جب وہ گاؤں واپس جانے کے لیے گاڑی چلا رہا تھا۔ بیک مرر سے اس نے پچھلی سیٹ میں رکھا شاہ جی کا سوٹ دیکھا اور نگاہیں پھر سے آگے کرلیں۔ اسے جلد سے جلد حویلی پہنچنا تھا۔ سڑکیں ٹریفک سے خالی تھیں۔ وہ سکون سے گاڑی چلا رہا تھا۔ موسم بہت خوبصورت تھا۔۔۔ اس کے راستے میں ایک قبرستان پڑتا تھا۔ وہ قبرستان کے پاس سے گزرنے لگا تو اندر موجود قبریں نظر آنے لگیں۔ وہ آگے بڑھ جاتا اگر کسی کو یاد کر کے رکتا نہیں۔۔۔ گاڑی کو یکدم بریک لگے اور اس کا سر اسٹئیرنگ پر لگتے لگتے بچا۔ اس نے گہری سانس خارج کرتے ہوئے اسٹئیرنگ کو پھٹتی آنکھوں سے دیکھا۔ دل میں ایک تکلیف اٹھی۔ کوئی اپنا یہاں رہتا تھا۔ اس سے بہت دور ایک لڑکی یہاں رہا کرتی تھی۔ جانے کس کوتاہی پر ماری گئی تھی اس کی باجی۔ وہ تیزی سے گاڑی سے اترا اور قبرستان کے گیٹ کو عبور کرتا قبر ڈھونڈنے لگا۔ “شرجیل مجھے لگتا ہے وہ مجھے ماردے گا”۔ ایک آواز اس کے کانوں میں گونجی تھی اور آنکھ سے نکلنے والے آنسو کو وہ روک نہیں پایا تھا۔ وہ ساری فون کالز اسے یاد تھیں۔ دوسری قبروں کے برابر سے نکلتے ہوئے وہ ایک پکی قبر کے پاس آیا تھا جس پر بڑا بڑا فضیلہ اور اس کے ساتھ چچا کا نام لکھا تھا۔ “شرجیل مجھے لگتا ہے میری روح کہیں دفن ہوگئی یے۔۔۔ بس باقی یے تو جسم”۔ وہ آنسوؤں سے روتے ہوئے جھٹکے سے اس قبر کے پاس بیٹھا۔ آنسو تھے کے بس بہے جاریے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ رگڑا۔ فاتحہ پڑی اور پھر سے بیٹھ گیا۔ قبر کی مٹی شرجیل کے کپڑوں پر لگ گئی۔ اس نے موبائل نکال کر بہت پرانی ریکارڈنگز نکالیں جو اس نے اپنے پاس محفوظ کی ہوئی تھیں۔ وہ بہت سارے ریکارڈنگز تھی جسے وہ باری باری کر کے سن رہا تھا۔
“ہیلو؟۔ شرجیل؟۔ دیکھو باجی سے ناراض مت ہو! تم تو جانتے ہو میرا حال۔۔۔ بہت مشکل ہے میرے لیے یہ سب قابو کرنا۔۔۔ تم نے کال کی تھی مگر میں اٹھا نہیں سکی۔۔۔ دیکھو باجی سے بات کرلو”۔ وہ اسے منا رہی تھی کیونکہ وہ اس سے ناراض تھا۔ ناراضگی بھی محض اس لیے تھی کیونکہ وہ اس سے ملنے گاؤں نہ آسکی تھی۔ روتے روتے اب ہچکیاں بندھ گئیں۔
“شرجیل۔۔۔ تو میرا پرا ہے نا؟۔ تیری بہن داجی کو کبھی معاف نہیں کرنے والی! کبھی بھی نہیں۔۔۔ مجھے جہنم میں دکھیل دیا گیا یے شرجیل۔ انہوں نے اپنے خون کو جہنم میں پھینک دیا شرجیل”۔ فضیلہ باجی کی آواز رندھ گئی تھی۔
“مجھے معاف کردیں باجی”۔ وہ قبر کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بول رہا تھا۔ “میں بچا نہیں پایا آپ کو اس درندے سے”۔ روتے ہوئے گڑگڑا کر شرجیل معافی مانگ رہا تھا۔
“تو جانتا ہے نا مجھے سانپوں سے کتنا ڈر لگتا ہے؟. گاؤں میں بھی جب تم مجھے ڈرایا کرتے تھے تو میں کتنا رویا کرتی تھی؟۔ وہ شخص اپنے پاس ایک کالا چھوٹا سانپ رکھتا ہے۔ تاکہ مجھے ڈرا سکے۔ ایک کمرے میں بند کردیتا یے اور جب مجھے سانپ سے ڈراتا ہے میری چیخیں نکل جاتی ہیں اور اکثر میں اپنے حواس کھو بیٹھتی ہوں۔ وہ بہت ظالم یے شرجیل۔ مگر تو میری اماں کو نہ بتانا۔۔۔ وہ مرجائیں گی اگر تو نے انہیں بتایا تو۔۔۔ بہت مشکل سے رخصت کیا ہے مجھے۔۔۔ بہت روئی ہیں وہ اس ظلم پر۔۔۔ داجی کو اس ظلم سے بہت روکا مگر ظالم کسی کی سنتے ہیں؟۔ انہیں سزا صرف اللہ دیتا ہے شرجیل۔۔۔ اور دیکھنا اللہ بہت جلد پلٹائے گا ظالموں پر اپنا عذاب۔۔۔”۔ ریکارڈنگ اس نے جس دل سے سنی تھی یہ صرف وہ ہی جانتا تھا۔ اس نے قبر کی مٹی مٹھی میں دبائی۔
“میرا جسم خون میں لت پت ہے۔ اس نے مجھے بہت مارا ہے اور اب ایک کمرے میں زمین پر مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ دعا کرو میں مرجاؤں شرجیل”۔ اسے یاد آیا وہ اس بات پر کتنا چیخا تھا کہ وہ ایسی دعا کرنے کو کیوں کہہ رہی ہیں؟۔ وہ رو پڑی تھیں۔ “مرجانے کی دعا نہ کروں تو اور کیا کروں شرجیل؟۔ میں مرجاؤں گی نا تو ان تکلیفوں سے جان چھٹ جائے گی۔ میں اپنے اللہ کو مرنے کے بعد بتاؤں گی کہ میرے ساتھ اس ظالم شخص نے کیا کیا ہے۔۔۔ میں اپنے خدا کو ایک ایک بات بتاؤں گی شرجیل! بس تم اللہ سے کہنا اپنی فضیلہ کو اپنے پاس بلالے”۔ وہ جانتا تھا وہ کس تکلیف میں یہ سب کہہ رہی ہیں۔ بھلا کوئی عام شخص ایسی باتیں کرسکتا تھا؟۔ وہ کس تکلیف سے گزررہی تھیں وہ جانتا تھا۔ وہ مر ہی تو گئیں تھیں۔۔۔ نہیں! بلکہ وہ مار ہی تو دی گئی تھیں۔۔۔ اپنے ظالم شوہر کے ہاتھوں وہ قتل ہوگئی تھیں۔
“میری اماں کو کہنا کہ فضیلہ بہت خوش ہے اپنے گھر میں۔۔۔ اس کا شوہر بہت اچھا ہے۔ انہیں نہ بتانا کچھ بھی ورنہ وہ جیتے جی مرجائیں گی۔ ان کے ساتھ اب شجر بھی ہے۔ اگر انہیں کچھ ہوگیا تو شجر کو کون پالے گا؟۔ کہیں وہ بھی رسم و رواج کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔ ماں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ میں ایک کمزور عورت ہوں شرجیل! ایک ایسی عورت جو خود کے لیے بھی نہ لڑ پائی۔۔۔”۔
وہ نڈھال ہوگیا تھا وہ ریکارڈنگ سنتے سنتے۔
“میں مرجاؤں تو کسی کو قبرستان کا پتہ نہ دینا۔ وہ مجھے ماردے گا اس بات کا مجھے اب یقین ہوگیا ہے۔ نہیں جانتی کہ شہر کے کونسے قبرستان میں جا کر گاڑ دے۔ تم جب بھی شہر آؤ مجھے اس سکون والی جگہ میں ضرور ملنے آنا۔۔۔ تم مجھے شہر کے قبرستانوں میں ڈھونڈلو گے شرجیل مجھے یقین ہے”۔ یہ اس کی آخری کال ریکارڈنگ تھی۔ اس کے بعد اس ظالم درندے صفت انسان نے انہیں ماردیا تھا۔ وہ مرگئیں مگر کچھ الفاظ اس کے کانوں میں گونجتے چھوڑ گئیں۔
“میرے مرنے کے بعد وہ شخص مجھے جہاں دفنائے گا اس قبرستان کا پتہ داجی کو نہیں معلوم ہونا چاہیے۔ تم سب کو بتانا کہ تم نے مجھے بہت ڈھونڈا مگر میں نہیں ملی۔۔۔ مجھ سے وعدہ کرو شرجیل! وعدہ توڑنے سے پہلے یہ سوچ لینا کہ تمہاری بہن فضیلہ نے تم سے یہ وعدہ کیا تھا”۔ وہ باتیں، یادیں، ملاقاتیں ذہن میں رہ گئی تھیں۔ اس نے کہا تھا وہ اپنے اللہ کو ایک ایک بات بتائے گی۔ ان کے شوہر کی پچھلے دنوں ٹرک کے نیچے آنے سے اموات ہوگئی۔ یہ خبر جب اسے ملی تو وہ چپ ہوگیا تھا۔ داجی کو جب اللہ نے حکمرانی دی تو وہ فرعون کی طرح ظالم بن گئے۔ اور جب اللہ نے چھینا تو وہ گاؤں کے سب سے لاچار آدمی بن گئے۔ وہ فضیلہ باجی کی قبر پر حاضری دینے کے بعد ارحم کی قبر پر بھی جائے گا یہ اس نے سوچ لیا تھا۔ کتنے لوگ ظلم سے مرگئے تھے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
سورج کی کرنیں جب چہرے پر پڑیں تو آنکھیں چندھیانے لگیں۔ بمشکل آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا۔ نگاہ برابر میں سوتے وجدان پر پڑی اور پھر اس کے دونوں ہاتھوں میں دبے اپنے ہاتھ پر۔۔۔ وہ لب کاٹنے لگی۔ وجدان کا چہرہ صالحہ کے لمبے کھلے بالوں سے گھرا ہوا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ بھینچ کر اپنے چہرے کے قریب کیا ہوا تھا۔ وہ ہاتھ چھڑانے لگی مگر کامیاب نہ ہوسکی۔ شرم کے مارے گال گلابی ہونے لگے مگر وہ ڈھیٹ سوتا ہوا شخص ہلنے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے دیوار پر لگی گھڑی دیکھی جو بارہ بجا رہی تھی۔ اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹنے لگیں۔ آج افشاں پھپھو کا نکاح تھا اور وہ اتنی تاخیر کرکے اٹھی تھی۔
“یا خدایا”۔ وہ ہڑبڑا کر اسے تپھکنے لگی۔ “وجدان میرا ہاتھ چھوڑیں مجھے جانا یے”۔ مگر مجال ہے وہ کسمسایا بھی ہو۔ اچانک اسے کوئی خیال آیا اور وہ اس پر عمل کرتی اپنا چہرہ اس کے کان کی طرف لائی۔ “وجدان” یک دم چیخ اس کے کان میں ماری تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ “یا اللہ”۔ کان میں انگلی گھماتا وہ خمار آلود لہجے میں بولا۔ صالحہ نے اپنا ہاتھ ہٹایا اور بستر سے اتر کر زمین پر کھڑی ہوگئی۔
“اللہ خیر کرے۔۔۔ یہ کیا طریقہ ہے مجازی خدا کو اٹھانے کا؟”۔ اسے گھورتا ہوا وہ بہت بےچارگی سے بولا تھا۔
“پھپھو کا نکاح ہے اور جمعہ بھی ہے۔ آپ اب تک سورہے ہیں۔ میں کپڑے نکال کر استری کررہی ہوں آپ کے! پہن لے گا”۔ وہ کہتی سوٹ کیس میں سے اپنا اور اس کا جوڑا نکالنے لگی۔ وجدان بستر پر ٹیک لگا کر اسے تکنے لگا۔
“آپ کیا پہن رہی ہیں؟”۔ وہ انگڑائی لیتا ہوا پوچھ رہا تھا۔ صالحہ نے اس کو اپنی گہری ہری فراک دکھائی۔ دس سے پندرہ منٹ میں اس نے وجدان اور اپنا جوڑا استری کرکے بستر پر رکھ دیا تھا۔
“پیلے میں نہانے جاؤں گی پھر آپ جائے گا”۔ اپنے کپڑے بستر سے اٹھاتی وہ واش روم میں گھس گئی۔ اتنے میں دروازے پر کھٹکا ہوا تو وہ تیزی سے بستر سے اتر کر کھڑا ہوگیا۔ شاید کوئی انہیں بلانے آیا تھا۔ وہ خاموش رہا اور کچھ نہ بولا۔ صالحہ واش روم سے نکلی تو وہ اسے آگاہ کرتا ہوا خود واش روم میں گھس گیا۔ اس نے فوراً فوراً کمرہ سمیٹا اور تیار ہونے لگی۔ جب تک وہ واشروم سے نکلا وہ نیچے جا چکی تھی۔ جمعے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ مرد مسجد میں جانے کو تیار بیٹھے تھے۔ نکاح حویلی میں ہونا طے پایا تھا۔ لاؤنج کے دروازے سے شرجیل داخل ہوا تھا۔
“اسلام علیکم”۔ بلند آواز میں سلام کرتا وہ پہلی فرصت میں صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا۔
“وعلیکم سلام۔ ویراں آگیا”۔ صالحہ خوش تھی اسے دیکھ کر۔۔۔
“او ہو پھپھو کی چہیتی آگئی ہے”۔ اس نے اوپر سے نیچے تک صالحہ کو دیکھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول کو اور خوبصورت بنا رہی تھی۔
“میں تو کل شام ہی آگئی تھی”۔ وہ بڑا سا ہرے رنگ کا ڈوپٹہ سر پر پہنی ہوئی تھی۔ “شاہ جی کہاں ہیں؟”۔
“وہ اپنے گھر گئے تھے۔ آتے ہوئے انہیں ان کے کپڑے دے آیا ہوں۔ ان شاء اللہ نماز کے بعد ہی آئیں گے اب”۔ وہ حالات سے مطمئن تھا۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا۔
“شرجیل جاؤ نہا دھو آؤ! نماز کو جانا ہے”۔ کبیر صاحب سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے۔
“اچھا پھر میں آتا ہوں”۔ وہ صالحہ کو کہتا سیڑھیاں چڑھتا چلا گیا۔
“صالحہ بیٹی وجدان کہاں ہے؟ مسجد کے لیے نکلنا ہے؟”۔ کبیر صوفے پر بیٹھ گئے۔
“ابا میں دیکھتی ہوں”۔ وہ پلٹنے لگی، مگر وجدان کو سیڑھیاں اترتے دیکھ کر رک گئی۔ ظہر کی آذان شروع ہوگئی۔
“چلو میاں اور تمام لوگ بھی آجائیں! مولوی صاحب نماز کے فوراً آجائیں گے۔ شرجیل وضو کرکے خود سے آجائے گا مسجد”۔ کبیر صاحب نے سب کو باری باری آواز لگائی اور لاؤنج کے گیٹ سے باہر نکل گئے۔ صالحہ افشاں کے کمرے میں مڑگئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
سرخ فراک پہنی وہ لال جھمکیاں کانوں میں ڈالنے کی کوشش کررہی تھی۔ نیچے چوڑی دار لال پاجامہ اور گولڈن خوبصورت سینڈل اس پر بہت جچ رہا تھا۔ بمشکل جھمکیاں پہنتی اب وہ چوڑیاں پہننے کی تیاری کرنے لگی۔ پلٹ کر بستر سے ڈبہ اٹھانے مڑی کہ کمرے میں آتے شرجیل کی حیرت کا مظاہرہ کرتی آنکھوں کو دیکھ ٹہھر گئی۔ وہ بےیقینی سے اسے تکتا رہا۔ وہ وہیں کھڑی رہی۔ نہ وہ بولا نہ رفاہ نے کچھ کہا۔ شرجیل کے ماتھے پر گہرے بل نمودار ہوئے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ رفاہ کب حویلی آئی۔۔۔ تو کیا وہ اس سے طلاق نہیں لینا چاہتی؟۔ یا پھر وہ اپنا فیصلہ بدل گئی۔ ڈوپٹہ شانے پر پھیلا ہوا تھا۔ شرجیل نے سر تا پیر دیکھ کر اس کی طرف سے نگاہیں موڑ لیں۔ شال اتار کر بستر پر پھینکی اور وہ الماری سے کپڑے نکالنے لگا۔ رفاہ نے خود کو نظر انداز ہوتے ہوئے صاف محسوس کیا تھا۔ اس کے کپڑے مٹی لگنے سے گندے ہورہے تھے۔ وہ ہر چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کپڑے نکالتا واش روم میں گھس گیا۔ وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔ دماغ سن رہ گیا تھا۔ وہ کیسے اس سے منہ موڑ گیا تھا۔ مگر یہ سوچ کر خود کو تسلی دی کہ اتنی ناراضگی کا تو اس کا حق بنتا ہی تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
افشاں کو نماز پڑھتے ہی تیار کردیا گیا تھا۔ سفید نگوں والی خوبصورت سی قمیض پر اسی رنگ کا پاجامہ تھا۔ ہلکا گلابی بھاری ڈوپٹہ تھا جو اس پر گھونگھٹ کی طرح ڈالا گیا تھا۔ صالحہ کی نظر کتنی دفعہ دیکھ کر بھی نہیں بھر رہی تھی۔ کنچی آنکھوں والی لڑکی کنچی آنکھوں کو دیکھ رہی تھی۔ میک اپ صرف نام کا کیا تھا کیونکہ اسے میک اپ کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ مرد حویلی لوٹے تو نکاح کا شور اٹھا دیا۔ مولوی صاحب آگئے تھے اور شاہ جی کا انتظار ہورہا تھا۔
“دلہا کہاں یے بھئی؟”۔ کبیر نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“لو جی! وہ ہی نہیں آیا ابھی تو۔۔۔” شبیر ہنسنے لگے۔ صالحہ بھی کھلکھلادی۔ تقریباً دس منٹ بعد ہی شاہ جی نے لاؤنج کے اندر قدم رکھا تھا۔
“تاخیر تو نہیں کر آیا میں؟”۔ واسٹ کوٹ درست کرتے وہ بہت ہڑبڑی میں لگ رہے تھے۔
“نہیں جی! ہمیں تو لگ رہا ہے نکاح کروانے کی ہمیں ہی جلدی ہے”۔ شرجیل صوفے پر آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا۔
“انسان کا بچہ بن”۔ شاہ جی نے ڈپٹا۔ شرجیل نے مڑ کر اپنے باپ کو دیکھا جو مسکرا رہے تھے۔
“اچھے خاصے انسان کا بچہ ہوں”۔ وہ معصوم قطعی نہیں تھا۔ شاہ نے ایک گھوری سے اسے نوازا۔
“چلو جی نکاح کا آغاز کرتے ہیں”۔ شاہ زل نے بحث و مباحثہ سے بچنے کے لیے کہا۔ اس خوبصورت دن میں ایک خوبصورت جوڑے کا نکاح پڑھایا گیا تھا۔ افشاں سے دستخط اس کے کمرے میں ہی لیے گئے۔ نجانے کیوں ایک دفعہ بھی دستخط کرتے ہوئے اس کا ہاتھ نہیں کانپا تھا۔ شاید اسے معلوم تھا کہ وہ ایک محفوظ ہاتھوں میں جارہی ہے۔ وہ شخص کبھی اسے رسوا نہیں کرسکتا تھا۔ صالحہ نے افشاں کی پیشانی چومیں۔ آنکھیں چھلک پڑی تھیں افشاں کو دیکھ کر۔۔۔ وہ افشاں بشارت حسین بن چکی تھی۔۔۔
“بہت خوبصورت لگ رہی ہیں آپ پھپھو! میرا دل کررہا ہے آپ کو بس دیکھتی رہوں! بہت پیاری! بہت خوبصورت! اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے! ساری دعائیں ایک ساتھ قبول ہوگئیں پھپھو”۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں کہتی ہوئی پھر سے ان کی پیشانی چومنے لگی۔ افشاں رونا نہیں چاہتی تھی مگر خود پر قابو نہیں رکھ پائی۔ شمیلہ نے ٹشو سے اس کا چہرہ تھپکا۔
“مولوی صاحب چلے گئے ہیں! افشاں کو باہر لے آؤ”۔ مردوں کی طرف سے موصول ہوا پیغام طلعت لے کر آئی تھیں۔ صالحہ نے ان کے گرد ڈوپٹہ پھیلایا۔ اس کے لیے مردانے میں اب کوئی نامحرم نہیں تھا۔ ایک شوہر تھا اور باقی سب بھائی یا پھر بھتیجے۔۔۔ اسے لاؤنج میں لے آیا گیا تھا۔ پیچھے سے دیکھنے پر معلوم ہوتا تھا کہ جیسے وہ کوئی نوعمر، دبلی پتلی لڑکی ہو۔۔۔ سچ صرف چہرہ دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا۔ شاہ جی سامنے صوفے پر بیٹھے تھے۔ نگاہیں نیچی تھی۔ اس نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی ایک نظر بشارت حسین پر ڈالی اور پھر اپنے بھائیوں پر۔۔۔ وجدان بشارت حسین کے صوفے کے پیچھے کھڑا تھا۔ کبیر سمیت سب بھائیوں نے باری باری اسے گلے سے لگایا تھا۔ نم انکھیں باری باری چھلک رہی تھیں۔ شرجیل نے پھپھو کے دونوں ہاتھوں کو چوم لیا تھا۔ رفاہ پیچھے ہی کھڑی مسکرا رہی تھی۔ سب سے مل کر وہ شاہ جی کے بلکل سامنے والے صوفے پر بیٹھی تھی۔ گہری سانس خارج کرتے ہوئے بشارت حسین نے پہلی بار اپنا حق سمجھتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ نگاہیں اس پر پڑیں تو وہ ہٹ نہ سکیں۔ دل زور سے دھڑکنے لگا۔۔۔ افشاں اپنے بھائی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور وہ اپنی بیوی کو دیکھ کر ساکت بیٹھے تھے۔ خوبصورتی کا مجسمہ ان کی نظروں کے سامنے تھا۔
“بشارت! ہم چاہتے ہیں کہ رخصتی شام تک ہو۔۔۔ تاکہ افشاں ہم سے اور ابا جان سے ایک بار پھر مل لے”۔ کبیر نے التجا کی تھی جس پر شاہ جی فوراً مان گئے تھے۔
“جو بہتر لگے آپ کو”۔
” چلو پھر کھانا لگواؤ”۔ انہوں نے بلند آواز میں کہا۔ وجدان کی صالحہ پر نگاہ پڑی تو ٹہھر سی گئی۔
“یا اللہ یہ لڑکی تیار ہوگئی مگر مجھے ایک بار بھی نہیں دکھایا اپنے آپ کو”۔ وہ بڑبڑاتا اس کی جانب بڑھا۔ وہ کچن میں پلٹ رہی تھی جب اس کا ہاتھ وجدان نے پکڑا اور کھینچتا زبردستی باغ میں لے آیا۔
“ایسے کوئی سب کے سامنے ہاتھ پکڑتا ہے کیا؟”۔ وہ مصنوعی غصے میں بولی۔ وجدان نے ایک آئبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“حالانکہ وہ “کوئی” شوہر بھی ہو؟ حد ہوتی ہے ویسے! اتنا تیار ہوئی ہیں اور ذرا توفیق نہیں ہوئی کہ شوہر کو بھی اپنی تیاری دکھا آئیں”۔ وہ لمحے بھر میں شکوہ کر گیا۔ صالحہ نے ہنسی دبائی۔
“میرے شوہر نے کب دکھائی مجھے اپنی تیاری؟”۔ وہ بھی نگاہیں پھیر کر بولی۔ وجدان نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔
“میں نے کونسی چوڑیاں پہنی ہیں اور میک اپ کیا ہے؟۔ سیدھا سادھا کرتا شلوار پہنا ہوا ہوں۔ اس میں کیا دکھانا؟”۔ اس کی بات پر وہ کھل کر ہنسی۔ وہ منہ پھیر گیا۔ وہ جان گئی تھی کہ وہ اب اس سے روٹھ گیا ہے۔
“اچھے لگ رہے ہیں آپ”۔ وجاہت سے بھرپور وہ شخص اس کے بلکل قریب کھڑا تھا۔ صالحہ نے اسے رشک بھری نگاہوں سے دیکھا۔ وہ سیدھا ہوکر کھڑا ہوا۔
“سچ میں؟ ہینڈسم لگ رہوں نا؟”۔ وہ اپنے کالر درست کرتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ اپنی تعریف پر یکدم پھیلی تھی۔
“آپ کو شک ہے؟”۔ وہ ہنس کر بولی۔
“شک تو نہیں ہے مگر آپ کی منہ سے پہلی بار سنا ہے تو یقین کررہا ہوں”۔ اس نے اپنے کالر کھڑے کیے۔
“آپ تو اترانے لگے؟ بس اب اتنے بھی اچھے نہیں ہیں آپ!”۔ وہ اس کو عرش سے فرش تک لاتے ہوئے بولی۔
“میرے ساتھ کہیں چلیں گی تو معلوم پڑے گا کہ کتنا عظیم شخص آپ کے حصے میں آیا ہے۔ رشک کریں گی خود پر!”۔ وہ کہنا کیا چاہ رہا تھا۔ اس کی اتراہٹ پر صالحہ نے آنکھیں چندھیا کر اسے دیکھا۔
“مطلب؟؟”۔
“مطلب یہ کہ آپ بہت خوش قسمت ہیں کہ یہ ہینڈسم بندہ آپ کے حصے میں آیا ہے۔ ورنہ لڑکیاں تو۔۔۔”۔ وہ بات مکمل کرلیتا اگر صالحہ بات نہ کاٹتی۔
“پٹ پٹ گرتی رہتی تھیں۔۔۔ لڑکیاں تھیں یا جوئیں؟۔ جو گرتی ہی رہتی تھیں؟۔ ویسے یہ آج کل کے ہر شوہر کا جملہ ہے۔ مطلب ایک آدھ لڑکی کے لڑکوں کو دیکھ کر کیا حواس کھو بیٹھیں لڑکوں کے دماغ آسمانوں پر پہنچ جاتے ہیں”۔ وہ اس کی بات خود مکمل کر گئی۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھتا رہ گیا۔
“ایسی بھی بات نہیں اب! چاہیں تو زید سے پوچھ لیں۔ وہ بتائے گا آپ کو۔۔۔”۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔ صالحہ نے خود کو خوش قسمت محسوس کیا۔ اس کی ہر بات سچ تھی۔ وجدان نے اس کا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگایا تھا۔
“پہلے تو وہ تمام مرد آجائیں جو شادی شدہ ہیں”۔ لاؤنج کے دروازے پر کھڑے ہو کر شاہ زل نے آواز لگائی تھی۔
“کیوں بھئی؟۔ کون سی سزا منعقد کی ہے شادی شدہ مردوں کے لیے؟”۔ وجدان نے شرارت سے پوچھا تھا۔
“ہماری کہاں جرات وجدان صاحب! آپ کی بیوی کافی ہے”۔ شاہ زل نے ہنسنے ہوئے جواب دیا تھا۔
“جب نکاح نامے پر دستخط کیے تھے اسی وقت عمر قید کی سزا ہوگئی تھی۔ اب کوئی سزا بڑی نہیں لگتی”۔ وہ صالحہ کی طرف ترچھی نگاہوں سے دیکھتا ہوا بولا۔ صالحہ نے اسے گھورا تھا۔
“زبردستی نہیں کی تھی کسی نے! نہیں کرتے دستخط”۔ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر بولی۔
“بس بس بعد میں لڑیے گا! ابھی ذرا تصویر اتروا لیں۔۔۔ ہم شادی شدہ حضرات کی ان کی بیویوں کے ساتھ تصویریں لے رہے ہیں”۔ شاہ زل نے اشارہ کرکے بتایا اور اندر چلا گیا۔ وجدان کے چہرے پر مسرت پھیلی اور اس نے مڑ کر صالحہ کا ہاتھ پکڑا۔
“چلیں پھر تصویریں اترواتے ہیں”۔ وہ اسے کھینچنے لگا مگر وہ جانے کو کسی صورت تیار نہیں تھی۔
“انہوں نے ان حضرات کو نہیں بلایا جنہوں نے نکاح نامے پر دستخط کرنے پر عمر قید کی سزا حاصل کی ہے”۔ وہ چڑ کر بولی۔ وجدان کا قہقہہ جاندار تھا۔ وہ اس کے ہنسنے پر بےچارگی سے نفی میں سر ہلانے لگی۔
“جو شوہر اپنی استانی بیوی کی قدر نہیں کرتے ان کا انجام بہت برا ہوتا ہے”۔ وہ سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے بڑے اطمینان سے بولی۔ وہ اس کے قریب آیا۔
“مگر یہ استانی ایک بزنس مین کی بیوی ہے”۔ اس کی کنچی آنکھوں میں خود کا کھو کر وہ سحر انگیز لہجے میں بولا تھا۔ صالحہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔
“شوہر چاہے وزیرِ اعظم کیوں نہ ہو! بیوی کے سامنے اس کی پھر بھی نہیں چلتی”۔ وہ ذہین بہت تھی وہ یہ پہلے سے جانتا تھا۔ وہ ہنس پڑا۔
“میں ان کنچی آنکھوں کو خود سے دور نہیں کرسکتا صالحہ۔۔۔”۔ اسے خود سے قریب تر کرتے ہوئے اس کی آنکھوں کے سحر میں پھر سے کھو گیا تھا۔
“کیوں؟”۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ دل نے خواہش کی کہ وجدان اپنی محبت کا اظہار کردے۔۔۔ پھر وہ بھی بتائے گی اسے کہ وہ وجدان کے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ وہ خاموش رہا اور کچھ نہیں بولا۔ صالحہ انتظار کرتی رہ گئی۔ وجدان نے شرارت سے لب بھینچے اور اسے کھینچتا اندر لے جانے لگا۔
“آئیں اندر چلتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں ہماری ساتھ کچھ تصویریں ہوں”۔
صالحہ اس کی پشت تکتی رہ گئی۔ وہ شخص اظہار کیوں نہیں کرنا چاہتا تھا؟۔ اس نے ساتھ کھڑے ہو کر بہت سی تصویریں کھنچوائی تھیں۔ سسرالی دعوت میں وہ بہت خوش نظر آرہا تھا۔
دن امید سے زیادہ اچھا گزرا۔ افشاں مسکرا رہی تھی۔ دوپہر گزری اور شام آئی۔ رخصتی کا وقت ہونے لگا تو افشاں کو چادر سے گھونگھٹ اوڑھادیا۔ باقاعدہ پورے پردے میں اسے گاڑی تک لے جایا گیا تھا۔ صالحہ کی آنکھیں برسنے لگی تھیں۔ اس نے سختی سے وجدان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔ رفاہ باغ کی دیوار کے ساتھ کھڑی افشاں کو رخصت ہوتے دیکھ رہی تھی۔ ہوا کے باعث اچانک اس کی چادر سر سے ڈھلک گئی۔ وہ اس بات سے بےخبر ہی تھی۔ شرجیل لاؤنج سے ہوتا ہوا باغ تک آیا۔ اسے باہر نکلنا تھا مگر تمام عورتیں راستے میں کھڑی تھیں۔ نگاہ بھٹک کر رفاہ کے کھلے سر پر پڑی تو وہ اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کے پلو کو اٹھا کر اس کا سر ڈھانپ گیا۔ وہ مڑی مگر تب تک وہ آگے کو نکل گیا تھا۔ چہرے پر وہی بردباری اور سنجیدگی۔ وہ لب بھینچ گئی۔ حیدر افشاں کو گاڑی میں بٹھانے میں مدد دے رہا تھا۔ اسے محسوس ہوا تھا کہ افشاں چادر کے اندر شاید رورہی ہے۔ اس نے آخری بار اپنی پھپھو کو گلے سے لگایا اور گاڑی میں بٹھا آیا۔ شرجیل کا دل گویا کسی نے مٹھی میں بند کیا ہوا تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس کی پھپھو نہیں بلکہ بہن رخصت ہورہی ہو۔ بشارت گاڑی میں آگے بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر میں ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھالی۔ اب نہ کوئی درخت کے نیچے رات کے وقت کھڑے ہو کر اوپر والی منزل کو تکنے والا تھا اور نہ کوئی کھڑکی پر کھڑے ہو کر کسی کی غزل سننے والی تھی۔ وہ دونوں آپس میں مل چکے تھے۔ صالحہ پھپھو کی موجودگی میں روئی نہیں تھی۔۔۔ اسے رونا تب آیا جب وہ اسے رخصت کرکے باغ میں آکر کھڑی ہوئی۔ وہ روئی تو بس روتی چلی گئی۔ اپنے باپ اور پھر شوہر کے سینے سے لگ کر۔۔۔ وہ اس کی خوشی میں بےحد خوش تھی مگر اس کی کمی ابھی سے محسوس کرنے لگی تھی۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ حویلی میں ایسا دن بھی آئے گا جب عورت کو عزت دی جائے گی۔ وجدان اس کی کمر سہلاتا چپ کروانے لگا۔ اسے سمجھانے لگا کہ اس کی پھپھو اب خوش رہنے والی ہیں۔ اس نے صالحہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ جب بھی کہے گی وجدان اسے ضرور افشاں سے ملوانے لے کر جائے گا۔ اس وعدے پر وہ خاموش ہوگئی تھی۔ شاید دل کو سکون مل گیا تھا۔ شام بھی گزر گئی۔ رفاہ سونے کے لیے لیٹنے لگی تھی جب شرجیل کمرے میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر اس نے فوراً سونے کا ارادہ ترک کرلیا۔
“شرجیل”۔ اس کے منہ سے بےساختہ نکلا۔ وہ جو سنگھار میز کی جانب بڑھ رہا تھا، رک گیا مگر مڑا نہیں۔۔۔
“کہو”۔ لہجہ سخت تھا۔
“معافی مانگوں گی تو معاف کریں گے؟”۔ اس نے تھوک نگل کر پوچھا۔ وہ استہزایہ ہنسا۔
“تم معافی کیوں مانگو گی؟۔ تمہیں تو طلاق چاہیے نا؟. مگر معذرت کے ساتھ یہ والی خواہش آپ کی میں پوری نہیں کر پاؤں گا”۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے سنگھار میز کے پاس آکر رکا۔ رفاہ کی آنکھیں نم ہوئیں۔
“مجھے طلاق نہیں چاہیے شرجیل۔ مجھے معافی چاہیے”۔ وہ روتے ہوئے بولی۔ اس کی آواز پر وہ اس کی جانب مڑ کر آیا۔
“تمہیں طلاق نہیں چاہیے؟۔ یہ بھی تمہارے اس فضول سے بھائی نے بولا ہوگا؟۔ حیرت ہے پہلے طلاق کی پٹیاں تمہارے گھر والوں نے تمہیں پڑھائیں اور پھر طلاق نہ لینے کی بھی پڑھا دی؟۔ بہت حیرت ہے ویسے! تمہارے بھائی نے زندگی میں پہلی بار کوئی اچھا کام کیا ہے! طلاق نہ لینے کا تم سے بول کر۔۔۔ ہونہہ”۔ ایک ایک لفظ چباتا ہوا وہ اپنے اندر کی بھڑاس نکال رہا تھا۔ اس کے رونے میں روانی آگئی۔
“ایسی بات نہیں ہے شرجیل۔۔۔ بھائی نے مجھے کچھ نہیں کہا ہے”۔ اس نے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے چھپالیا۔
“اوہ یعنی اس نے زندگی میں کوئی اچھا کام ہی نہیں کیا”۔ لہجہ قدرے تلخ تھا۔
“آپ کی ناراضگی مجھ سے ہے تو مجھے کہیں جو بھی کہنا ہو! خدارا میرے بھائی کو کچھ نہ کہیں شرجیل”۔ وہ دیوار سے لگ کر کھڑی تھی۔ شرجیل نے اپنا ایک ہاتھ اس کے برابر دیوار پر جمایا۔
“تم تو آزادی چاہتی تھی نا رفاہ شرجیل؟۔ چند دن اپنے قاتل بھائی کے گھر میں رہ کر پتا چلا؟۔ جو شخص ایک دفعہ قتل کرسکتا ہے وہ دوسرا قتل کرتے ہوئے بھی نہیں کانپ سکتا!۔ بہت شوق چڑھ رہا تھا نا تمہیں ہر جگہ ونی بن کر جانے کا؟۔ ایک بات یاد رکھنا رفاہ! ہر دوسرا شخص تمہارا بھائی ہوسکتا ہے مگر ہر کوئی شرجیل نہیں ہوسکتا!” وہ انگلی اٹھا کر اسے کیا باور کروانے کی کوشش کررہا تھا وہ اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔
“میں سمجھ گئی ہوں شرجیل”۔ وہ ہچکیوں کے درمیان بولی۔
“کاش تم پہلے سمجھ جاتی۔۔۔ میرا اعتماد توڑنے کے بعد تمہیں ہر چیز سمجھ آگئی ہے”۔ وہ طنزیہ بولا۔ وہ تکلیف سے آنکھیں میچ گئی۔
“میں معافی مانگتی ہوں آپ سے”۔ رفاہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔
“اور اگر میں معاف نہ کروں تو؟”۔ اس نے تلخی سے پوچھا۔
“میں گھر چلی جاؤں گی۔۔۔ شاید میں قابلِ معافی ہی نہیں”۔ وہ زار و قطار رورہی تھی۔
“تم واقعی قابلِ معافی نہیں رفاہ”۔ وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولا تھا۔ رفاہ نے ساکت نظروں سے اسے دیکھا۔ اس کے ایک ایک لفظ میں اسے حقارت محسوس ہوئی تھی۔ شاید وہ نہیں چاہتا تھا کہ رفاہ حویلی میں رہے۔ اس نے تھوک نگل کر شرجیل کو دیکھا۔ کیا وہ ان ڈھکے چھپے الفاظوں میں اسے حویلی سے نکل جانے کو کہہ رہا تھا؟۔ وہ کسی کا انتظار نہ کرتی ہوئی اپنا سوٹ کیس نکالنے بڑھی۔ دو قدم ہی چلی ہوگی جب شرجیل نے اس کا ہاتھ پکڑ کر پوری قوت سے اسے کھینچ کر دیوار سے لگایا۔ اس کا سر دیوار سے لگتے لگتے بچا تھا۔
“آئیندہ حویلی چھوڑنے سے پہلے ایک بات ضرور ذہن میں رکھنا! تمہارا شوہر تمہارے ساتھ صرف اس وقت کھڑا ہے جب تک تم حویلی میں ہو! اگر حویلی سے اس ارادے سے کبھی نکلی کہ پلٹ کر نہیں آؤ گی تو حویلی کے دروازے تم پر بند ہوں نہ ہوں مگر میرے دل کے دروازے تم پر بند ہوجائیں”۔ وہ دھمکی آمیز لہجے میں خبردار کررہا تھا۔ رفاہ نے سہم کر اس کی آنکھوں میں دیکھا۔
“ایسا کبھی نہیں ہوگا شرجیل”۔
“ایسا کبھی ہونا بھی نہیں چاہیے ورنہ قتل اب کی بار میں کروں گا! وہ بھی تمہار فضول سے بھائی کا”۔ اس کے چہرے سے صاف معلوم ہورہا تھا کہ وہ صرف دھمکی دے رہا یے۔ ورنہ قتل جیسے بڑے گناہ میں وہ کبھی بھی اپنا نام نہ لکھوائے۔
“سمجھ آئی؟”۔ اس کا جواب نہ پا کر وہ دھاڑا۔
“آگئی ہے”۔ اس نے سہم کر سانسیں بحال کرتے ہوئے جواب دیا۔
“اچھی لڑکی”۔ اس کے گال پکڑ کر چہرے کے تاثرات بحال کرتا ہوا بولا اور بستر پر جا بیٹھا۔
“آپ اب ناراض تو نہیں نا؟”۔ وہ اس کے پیچھے آئی۔
“ناراض تو اب نہیں مگر سزا پھر بھی ملے گی۔ آخر کو میری کی گئی گہری محبت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے تم نے”۔ آستین کے کف فولڈ کرتا ہوا وہ بہت اطمینان سے بولا۔ سزا؟؟ وہ لرز اٹھی تھی۔ کہیں وہ سزا اسے شرجیل سے دور نہ کردے۔۔۔ وہ کیسے کہے شرجیل سے کہ وہ اب اس سے دور نہیں جانا چاہتی۔۔۔
“کیسی سزا؟”۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ شرجیل نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا جو اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
“کل صبح گلابی جوڑا پہنو گی جو میں تمہارے لیے لایا تھا۔ پورا تیار ہوگی اور ساتھ جھمکے بھی پہنو گی۔۔۔ پھر رات میں پیلی کرتی جس پر لال کڑھائی ہے۔۔۔ ایک ہفتے تک خوب تیار ہو گی حویلی میں اور جب بھی تیار ہوگی سب سے پہلے مجھے دکھاؤ گی”۔ وہ اسے سنجیدگی سے گھور رہا تھا اور وہ حیران کھڑی اس کی شکل دیکھ رہی تھی۔
“جواب؟۔ ہاں یا ناں؟”۔ آواز بلند تھی۔ وہ اس بار بھی اس کی شکل دیکھتی رہی پھر یکدم اتنی زور سے ہنسی کہ شرجیل نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرادیا۔ وہ یہ سزا خوشی خوشی پوری کرنے والی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
صالحہ ثریا کے کمرے سے نکلی تو حیدر سامنے سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ مڑ کر اپنے کمرے میں جانے لگی تھی جب حیدر نے آواز دی۔
“صالحہ”۔ وہ مڑی۔
“جی؟”۔ لہجہ سخت بلکل نہیں تھا۔
“مجھے بات کرنی ہے”۔ بمشکل اس نے اپنے اندر بات کرنے کا حوصلہ پیدا کیا تھا۔
“مجھے شاید وجدان بلا ریے ہیں”۔ وہ بات بناتی وہاں سے گزر جاتی اگر حیدر اسے یہ بول کر نہ روکتا۔
“اپنے ویر کی بات مان لو صالحہ”۔ وہ رک گئی تھی جب حیدر نے یہ کہا تھا۔ وہ اسے چھت پر لے آیا تھا۔
“نہیں جانتا کہ بات کہاں سے شروع کی جائے مگر کہنے کو بہت کچھ ہے صالحہ۔ جانتا ہوں میں! مجھ سے برا اس دنیا کا اور کون بھائی ہوگا بھلا؟۔ محبت کے لیے میں نے اپنے قیمتی رشتوں کی ناراضگی پال لی۔۔۔”۔ وہ کہہ رہا تھا اور وہ نگاہیں نیچی کیے سن رہی تھی۔
“میں چاہ کر بھی ماضی نہیں بدل سکتا اب! سچ کہوں تو تمہیں خوش دیکھ کر ماضی بدلنے کی خواہش بھی نہیں رکھتا”۔ یہ رشتہ اتنا حساس تھا کہ حیدر کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تھے۔
“آپ کیا چاہتے ہیں؟”۔ وہ موم بن رہی تھی۔
“چاہتا ہوں تم مجھے معاف کردو۔ ایک بار حیدر ویراں بول دو جیسے پہلے بولا کرتی تھی”۔ وہ بہت آس سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ وہ زیادہ دیر خفا نہیں رہ پائی تھی۔ وہ مان گئی تھی اور اس خاموش فضا میں جہاں نہ ایک انسانی آواز تھی اور نہ پرندوں کی! وہ وہاں زور سے حیدر ویراں بولی تھی۔ آواز پلٹ کر اپنے پاس آتی اسے محسوس ہوئی۔ وہ بڑھ کر اس کے گلے سے لگ گئی تھی۔
اس کے بھائی سے چوک ہوگئی تھی! ایک ایسی چوک جس سے اس کی زندگی میں بہار آگئی تھی۔۔۔ وہ معافی نہیں بھی مانگتا تو بھی وہ اسے بہت پہلے معاف کرچکی تھی۔۔۔ وہ اس کا ویراں تھا۔۔۔۔اور صالحہ اس کی بہن۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ رات کے اس پہر بشارت حسین نے افشاں سے کہا تھا کہ وہ دنیا میں دوسری عورت ہے جس کے ہونے پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے رہے ہیں۔ ایک ان کی ماں! اور ایک ان کی بیوی۔ اس رات انہوں نے کھل کر اس سے باتیں کی تھیں۔ وہ اپنی کی گئی ہر بات کا جواب اس کے منہ سے سننا چاہتے تھے مگر یاد کرنے پر کہ وہ بے زبان ہے وہ خاموش ہوگئے تھے۔ وہ پیدائشی بے زبان نہیں تھی! اس کا علاج ممکن تھا۔ اور حال میں بیٹھے بشارت حسین عرف شاہ جی نے اپنی شریکِ حیات سے وعدہ کیا کہ وہ اس کا علاج کروائیں گے۔ وہ اسے اپنے دل سے نکلنے کا موقع نہیں دیں گے۔ بقایا زندگی ہاتھ تھام کر گزاریں گے۔ کیا ہوا اگر دیا بجھ گیا تو؟۔ وہ ساتھ مل کر نئے سرے سے دیا جلائیں گے۔ وہ اپنے عشق کی داستان آگے بڑھائیں گے۔ افشاں ان کی زندگی میں ہونے والا ایک خوبصورت حادثہ تھی۔ وہ ان کی افشاں تھی۔ وہ اسے بتائیں گے کہ انہیں زندگی کے کون سے حصے میں غزلیں بھانے لگیں۔۔۔ تب جب وہ ان کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر ان کا کھڑکی پر آنے کا انتظار کرتے تھے۔۔۔ وہ اسے یہ بتانے والے تھے کہ کیسے انہوں نے اتنی عمر اس کے انتظار میں گزاری۔۔۔ وہ خط اب بھی محفوظ تھے ان کے پاس! افشاں کا لکھا ہر خط ان کی پرانی الماری میں بند تھا۔ ان کی اپنی ہی داستان تھی۔۔۔ ایک الگ سی۔۔ نجانے کون سی؟۔ شاید داستان عشق تھی یا داستانِ ظلم۔۔۔ نہیں! ان کی داستان معمولی نہیں تھی۔۔۔ اس میں عشق بھی تھا اور ظلم بھی۔۔۔ اور اس داستان کا موضوع “وفا” تھا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
دو دن اور گزر گئے۔ وہ شہر واپس جانے کے لیے سامان گاڑی میں رکھ رہا تھا۔ صالحہ اس کو سامان ڈگی میں ڈالتے دیکھ رہی تھی۔ اس نے یونہی کالے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو بھٹک کر شرجیل اور رفاہ پر پڑی۔ وہ دونوں اپنے ٹیرس پر کھڑے اس خوبصورت موسم کا مزہ لے رہے تھے۔ شرجیل نے رفاہ کے گرد ہاتھوں کا حصار بنایا ہوا تھا۔ وہ شاید کچھ بول رہی تھی اور شرجیل اسے بڑے انہماک سے سن رہا تھا۔
“صالحہ چلیں؟”۔ وہ سامان رکھ چکا تھا۔ وہ پلٹی۔
“جی”۔ گاڑی میں بیٹھ کر اس نے کھڑکی کھولی اور پلٹ کر حویلی کو دیکھنے لگی۔ گاڑی کچھ منٹوں بعد ہی حویلی کے باہر نکل آئی تھی۔ کئی گھروں اور حویلیوں کو اپنے ہیچھے چھوڑ کر وہ شہر میں قدم رکھ رہے تھے۔ آج بارش کی پیشن گوئی تھی۔
“جانتی ہیں میں اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کو خود سے دور کیوں نہیں کرنا چاہتا؟”۔ وہ سیدھی لمبی سنسان سڑک تھی جس پر وہ دونوں اکیلے تھے۔ سڑک کے سیدھی طرف ریگستانی علاقہ تھا اور دور دور پہاڑ محسوس ہوتے تھے۔۔۔ جبکہ الٹے ہاتھ پر بھی بلکل یہی مناظر تھے۔ ریگستانی علاقہ اور دور دور پہاڑ۔۔۔
“کیوں؟؟”۔ اس نے گردن پھیر کر اسے دیکھا۔
“کیونکہ وہ کنچی آنکھوں والی لڑکی میرے جینے کی وجہ بن گئی یے۔ اس سے دور رہنا اب میرا محال ہے”۔ وہ اظہارِ محبت بالآخر کرگیا تھا۔ صالحہ ششدر ہوئی اسے دیکھنے لگی۔
“میری شریکِ حیات میری کمزوری بن چکی یے۔ کہتے ہیں کبھی کسی کو اپنی عادت نہیں بنانا چاہیے۔۔۔ مگر آپ کی تو مجھے لت لگ گئی ہے”۔ وہ کہتے کہتے ہنس پڑا تھا۔ گاڑی اسلام آباد میں ہی تھی۔ دور ایک دکان تھی جس کے قریب آکر وجدان نے جھٹکے سے گاڑی روکی۔ وہ اس کی باتوں کے سحر سے ابھی نکلی ہی نہیں تھی۔ وہ گاڑی سے اترا اور اس چھوٹی سی دکان کے پاس چلا آیا۔
“ایک خوبصورت پھولوں کا بکے چاہیے”۔ وہ مسکرا کر اس بوڑھے کو بتا رہا تھا۔ وہ بوڑھا شخص اسے دیکھتے ہی پہچان گیا۔
“کیا پہلا والا بکے کسی کام آیا؟”۔ وہ بہتر پھولوں کے درمیان اس کے لیے بہتریں پھولوں کو تلاش کررہے تھے۔ وہ گاڑی میں بیٹھی ان کی گفتگو سن رہی تھی۔ وہ حیران ہوئی۔۔۔ پہلا والا بکے؟۔
“نہیں انکل! مگر امید ہے یہ والا کام کرجائے گا”۔ وہ کھلکھلایا تھا۔ بوڑھا مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلانے لگا۔ اچانک بارش شروع ہوئی تھی۔ ایک دم تیز اور دھواں دھار۔۔۔ نگاہیں آسمان کو اٹھیں۔
“لگتا ہے آج کی رات شہر بھیگ جائے گا”۔ ایک بار پھر یہ الفاظ دہرائے تھے۔۔۔
“جانے کیا ہوگا کسے خبر؟”۔ وہ ایک بکے جلدی سے اس کے ہاتھوں میں رکھتے ہوئے بولے۔
“مگر آپ کے پھول مرجائیں گے”۔ انہیں ان کے پھولوں کی فکر کھائی جانے لگی۔ وہ بوڑھا ایسے مسکرایا تھا جیسے کوئی پھول مرجھائے ہوں۔ اس نے اپنے پرس میں سے پھولوں کی قیمت سے زیادہ پیسے نکالے اور ان کی جانب بڑھائے۔
“مگر یہ تو پھولوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہیں میرے بچے”۔ وہ اس بار حیران نہیں ہوئے تھے۔۔۔ ہاں مگر نم آنکھوں سے مسکرائے ضرور تھے۔
“لگتا ہے آپ نے مجھے اب تک اپنا بیٹا نہیں سمجھا۔۔۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ آج مجھے پچھلی بار کی طرح گیٹ کے باہر نہیں سونا پڑے گا”۔ وہ گاڑی کے دروازے کی طرف بھاگتا ہوا بول رہا تھا۔ تیز بارش کی وجہ سے آواز سننے میں مشکل ہوئی تھی۔ گاڑی کا دروازہ کھول کر وہ جھٹ سے بیٹھا اور اس کے ہاتھ میں پھولوں کا بکے پکڑایا۔
“انا احبك۔ میں نے سوچا تھا اپنی محبت کا اظہار تب کروں گا جب پھولوں کا بکے آپ کو دوں گا۔۔۔ میں نے اپنی خواہش کی تکمیل کرلی صالحہ وجدان اور میں جانتا ہوں! میں محبت کے اس سفر میں قطعی اکیلا نہیں”۔ اس کا اشارہ صالحہ کی جانب تھا جو خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھی۔ اسے پھولوں سے بہت محبت تھی۔ جو ماضی میں تھی وہ وقتی نفرت تھی۔
“یہ کون سی زبان ہے؟”۔ اس نے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو سے اپنی سانسوں کو مہکایا۔
“یہ عربی زبان ہے۔۔۔” انا احبك” اس کے معنی ہیں کہ مجھے آپ سے محبت ہے”۔ وہ اسے حیرانی سے تکتی رہ گئی۔ وجدان گاڑی سڑک پر ایک بار پھر سے چلانے لگا۔ خالی سڑک پر وہ دونوں اور ان کی محبت کا راج تھا۔ بادل برس رہے تھے۔ صالحہ نے بڑھ کر ڈیش بورڈ سے کتاب اٹھائی اور اسے کھول کر صفحے پلٹنے لگی۔ ایک غزل سامنے آئی تو کچھ یاد آنے پر وہ مسکرادی۔ اس نے پڑھنا شروع کیا۔
محبت روٹھ جائے تو
اسے بانہوں میں لے لینا
بہت ہی پاس کرکے تم
اسے جانے نہیں دینا
وہ دامن چھڑائے تو
اسے تم قسم دے دینا
دلوں کے معاملوں میں تو
خطائیں ہو ہی جاتی ہیں
تم ان خطاؤں کو
بہانہ مت بنا لینا
محبت روٹھ جائے تو
اسے جلدی منالینا
وہ غزل مکمل کررہی تھی اور وہ پرسکون ڈرائیونگ کرتا اس کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو دل پر محسوس کررہا تھا۔ مسکرانے کے باعث اس کے ڈمپل گہرے ہورہے تھے۔ محبت عادت بن جائے تو کبھی سکون دیتی ہے تو کبھی تکلیف۔۔۔ مگر وہ اس کی عادت نہیں جینے کی وجہ بنتی جارہی تھی۔
تمت بالخیر
