Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

زنجیر از قلم عینا بیگ۔
پہلی قسط

سرد دنوں کی سرمئی شام! راتیں لمبی اور دن چھوٹے ہورہے تھے۔ کھلی کھڑکی سے ہوتے ہوئے ہوا اس کی لٹوں کو چھیڑ رہی تھی۔ چہرہ کھڑکی کی سمت تھا اور ہاتھ میں پکڑے صفحے کو لئے وہ پرجوش کھڑی تھی۔ ڈوپٹہ مسہری پر رکھا ہوا تھا اور بال چٹیا میں قید تھے البتہ کچھ آوارہ لٹیں شرارتی ہوا کی نظر تھیں۔
“یہ سوال بھی میں نے ٹھیک کیا تھا۔ واہ! مزہ آگیا صالحہ۔ پرچہ تو تیرا بڑا زبردست ہوا ہے امید ہے نمبر بھی اچھے آجائیں ورنہ تو آگے کیسے پڑے گی؟ نہیں نہیں صالحہ کو ابھی بہت پڑھنا ہے۔ کوئی آفسران تو ضرور بن جاؤں گی”۔ ارد گرد سے بیگانی وہ اپنی ہی کہی جارہی تھی۔
وہ اس حویلی میں نئی تو نہیں تھی۔ تو کیا وہ نہیں جانتی تھی اس حویلی کی لڑکیوں کے خواب صرف ٹوٹنے کے لئے ہی ہوتے ہیں؟۔
کمرے میں خاموشی پھیلی تو اسے گھنٹی کی آواز آئی۔ کوئی دوسرے کمرے سے گھنٹی بجا رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کون ہے اس لئے سب چھوڑ چھاڑ کر چادر سر پر پہن کر پورے وجود کو ڈھانپ کر بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ گھنٹی کی آواز میں تیزی آئی۔ وہ جو کوئی بھی تھا اب تیزی سے گھنٹی بجا رہا تھا۔ وہ اوپری منزل کے سب سے کونے والے کمرے کے دروازے کے سامنے کھڑی ہوئی۔ گھنٹی کی آواز اندر سے آرہی تھی۔ صالحہ نے اردگرد نظریں دوڑائیں کہ کہیں اسے کوئی دیکھ تو نہیں رہا۔ اوپری منزل ویران ہی رہا کرتی تھی۔ اس نے کمرے کے باہر لٹکے جالوں کو دیکھا اور گہری سانس لیتی اندر بڑھی۔ اندھیرے میں ڈوبا کمرہ صبح کے وقت بھی وحشتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کھڑکی کی طرف کھڑا ہوا وجود مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ ساکت نظریں صالحہ کے وجود پر اٹک گئیں۔ اس ساکت کھڑے وجود کے لبوں پر تب تک مسکراہٹ نہیں آئی جب تک صالحہ نے مسکرا اسے نہ دیکھا۔
صالحہ مدھم سی مسکراہٹ لبوں پر لائی۔
وہ شوق سے نہیں مسکراتی تھی۔ بلکہ اس لئے مسکراتی تھی کہ اسے دیکھ کر وہ ٹہھرا وجود بھی مسکرا اٹھتا تھا۔ اس کے بکھرے بالوں پر نظر پڑی تو صالحہ سر جھٹکتی گرد میں لپٹی سنگھار میز کی طرف بڑھی۔ وہ سنگھار میز کہلانے کے قابل ہی نہیں تھی۔ بلکہ اس بوسیدہ سی لکڑیوں کو سنگھار میز کہنا سنگھار میز کی گستاخی کرنے کے مترادف تھا۔ دراز جھٹکے سے کھولی تو دھول اڑی۔ صالحہ نے ڈوپٹہ ناک پر رکھا۔ اندر رکھا ٹوٹا کنگھا تھامے وہ اس کے قریب آئی۔ ہاتھ تھام کر نرمی سے بستر پر بٹھایا۔ اس کے بکھرے بال کھولے اور برابر میں رکھا ٹیپ چلادیا۔
“کوئی دل سے پوچھے
کیا حشر ہوا ہے روح کا
یا خدا یہ تیرے بشر
ظلم ہیں ڈھاتے ہم پر بہت
سانسیں بھی بےوجہ لے لیں
تو جرمانہ ہے اس پر بھی”
دھیمی آواز پر اس کے بالوں پر ہلکے ہاتھ پھیرتی کنگھی کے ساتھ ساتھ وہ ٹیپ سے نکلتی آواز کے ساتھ دھیما گنگنارہی تھی۔ سفید کپڑوں میں لپٹے وجود نے ہاتھ میں رکھی بیل ہاتھ بڑھا کر میز پر رکھی۔ اسے اب گھنٹی کی ضرورت نہیں تھی۔ اس کے پاس صالحہ تھی اور یہ گھنٹی بھی اسی کی دی ہوئی تھی۔
——————–——————–*
“ہم زمینوں سے ہو آئیں ہیں داجی”۔ سفید کرتا شلوار پہنے شرٹ نفاست سے پیچھے سے اٹھا کر وہ صوفے پر بیٹھا۔
“اچھا یے! ہمیں جانے سے قبل خبر کردیا کرو!”۔ وہ اپنا مخصوص سگار کا دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے بولے۔
“جو آپ کا حکم!”۔ وہ احتراماً بولا۔
اس حویلی کے مرد اور ان کی پرکشش چہرے! اپنا مقام رکھتے تھے۔
“شرجیل اس گھر کی عورتوں کو ہوش دلاؤ۔ لگتا ہے وہ کھانا پیش کرنا بھول گئی ہیں اس حویلی کی مکینوں کو”۔ داجی نے طنز کرکے منہ دوسری جانب پھیرا۔
“داجی میں دیکھتا ہوں”۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

” ایک گلاس پانی بجھواؤ کسی ملازم کے ہاتھوں!”۔ نخوت سے کہتے ہوئے ایک حکم اور دیا گیا۔

“جی داجی”۔ وہ دیوار پر لگی سونے کی گھڑی کو دیکھتے ہوئے باہر نکل آیا۔
“شمیلہ چچی کھانا لگوادیں ورنہ یہ حویلی داجی کی چیخوں کی آوازوں سے گونجے گی”۔ کچن میں موجود چچی کو اس نے خبردار کیا۔
“ہائے اوئے اتنی دیر کیسے ہوگئی۔ کہاں مرگئے یہ تمام باورچی”۔ وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی ہوئی باہر نکلیں۔
“کہاں مر گئے ہو جاؤ ناشتہ لگاؤ میز پر۔۔۔ ورنہ سب کی آج ہی چھٹی کردوں گی میں”۔ ساڑھی کا پلو صحیح سے ارد گرد پھیلاتیں وہ اب ان پر غصہ کررہی تھیں۔
“آہستہ آواز رکھیں چچی! حویلی کی عورتیں ذرا سا اونچا بولیں یہاں کے مردوں کو سخت ناپسند ہے”۔ سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔
“اس حویلی کے مرد اور ان کی پسند”. وہ نخوت سے بڑبڑاتی رہ گئیں۔
——————-——————*
“کیا کررہی ہے میری گڑیا؟”۔ اس کی ناک دباتے ہوئے وہ اسے پھر سے تنگ کرنے آگیا تھا۔

“بھائی میری ناک تو چھوڑیں”۔ وہ اس کا ہاتھ اپنی ناک سے دور کرتے ہوئے بولی۔
“چلو اچھا چھوڑدیتے ہیں اب بتاؤ کیا کررہی ہو؟”۔ ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر اب وہ اس کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔
“اسائمنٹ”۔ وہ منہ بسور کر رونے والی شکل بنا کر بولی۔ اسے اس کی صورت پر ڈھیر سارا پیار آیا۔ اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگا کر چھوڑا۔
“لاؤ میں بنادوں تمہارا اسائمنٹ!”۔ اس نے سامنے رکھا لیپ ٹاپ اٹھا لیا۔
“وجدان بھائی آپ آفس سے تھک کر آئے ہیں۔ لائیں مجھے دیں میں کرلوں گی۔ آپ آرام کریں”۔ اس نے لیپ ٹاپ لینے کی کوشش کی۔
“وجدان قریشی اپنی بہن کے لئے قربان بھی ہوسکتا ہے! یہ تو بہت چھوٹی سی چیز ہے”۔ اب وہ لیپ ٹاپ کو گود میں رکھے اس کا اسائمنٹ دیکھ رہا تھا۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ گئی۔
“مگر وجیہہ قریشی کو اپنے بھائی کا خیال ہے اور وہ چاہتی ہے کہ اس کا بھائی آرام کرے”۔ وجدان نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“مگر اب وجدان قریشی اس کمرے سے تب تک نہیں ہلنے والا جب تک وہ اپنی گڑیا کا کام مکمل نہ کرلے”۔
وجیہہ نے ہنس کر وجدان کے گال کھینچ ڈالے۔
“ٹھیک ہے پھر میں اب سونے لیٹ رہی ہوں”۔ وہ انگڑائی لیتے ہوئے بولی۔
“سوجاؤ تاکہ صبح یونیورسٹی فریش فریش جاسکو”۔ وہ اس کا گال تھپک کر بولا اور لیپ ٹاپ اٹھا کر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ وجیہہ نے برابر سے چادر اٹھائی اور سونے لیٹ گئی۔
وجدان صوفے پر بیٹھ کر ساری رات جاگنے والا تھا۔
——————-——————-*
“میرا نام صالحہ کبیر بٹ ہے اور میں اس حویلی کی ایک خوبصورت۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ بہت خوبصورت۔۔ بلکہ مہا خوبصورت لڑکی ہوں”۔ ہاتھ میں صفحہ تھامے وہ ایک بار پھر پرجوش تھی۔ سورج آہستگی سے ابھرہا تھا۔ بستر پر سوتی ثریا کسمسائی۔
“صالحہ اب تو بخش دو! اب کون سی تقریر کررہی ہو؟”۔ ثریا بیزاری سے بولی۔
“جی تو ناظرین یہ ہے ثریا بانو اور یہ میرے ویر کے ساتھ منسوب ہے! بدقسمتی سے یہ میری مستقبل کی بھابھی ہے”۔
اب موضوع “ثریا نامہ” شروع ہوچکا تھا۔
ثریا نے کانوں پر ہاتھ رکھ لئے۔
“افو ہو بس کر دو یار! پوری رات نیند میں بھی یہی سب کرتی رہی ہو۔ نہ تو سوتے میں چین ہے اور جاگے میں تو ہلاکو خان بنی ہھرتی ہو! کہتی ہوں فردوس چچی کو کہ اپنی دھی کو سمجھائیں”۔

“خاموش رہو لڑکی! اگر اتنا ہی مجھ سے مسئلہ ہے تو اپنے کمرے میں کیوں نہیں سوئی؟”۔ صالحہ نے اسے گھورا۔
“تم جانتی ہو میرے کمرے میں کل رات جنگلوں سے الّو گھس آیا تھا”۔ جواباً گھورا گیا۔
“او ہو تو کسی مرد کو بلواکر نکلوالیتی”۔ صالحہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔

“مشورہ تو ایسے دے رہی ہو جیسے تم جانتی نہیں کہ رات کے وقت مردوں کے کمروں میں انہیں بلانے جانا بھی منع ہے صالحہ کبیر بٹ!”۔ اس نے صالحہ کو باور کروایا۔
“افو ہو کیا فضول بات ہے نا؟ بھلے سے کچھ ہوجائے مگر رات کے وقت مردوں کے کمروں میں مدد مانگنے نہیں جاسکتے، چاہے وہ مرد اس کا باپ، بھائی ہی کیوں نہ ہو!”۔ صالحہ چڑ سی گئی۔
“کسی کے سامنے مت کہہ دینا ایسا! تمہاری لاش برآمدے میں لٹکادیں گے! حویلی والے لاش کتوں کے لئے بھی نہیں چھوڑتے”۔ وہ جمائی لیتے ہوئے پھر سے لیٹ گئی “اور ہاں! اب خدارا کوئی تقریر نہ کرنا!”۔

“اگر تمہارے کمرے میں الّو گھس آیا تھا تو کیا تمہیں صرف میرا ہی کمرہ دکھا تھا ثریا بانو! اس حویلی میں کتنے کمرے خالی بھی ہیں اور اس کمرے سے بڑے بھی ہیں!”۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا صفحہ جھٹکا دے کر پھینک دیا۔
“مجھے رات کے اندھیرے میں تمہارا ہی کمرہ نظر آیا” وہ لحاف منہ تک ڈال چکی تھی۔
“ویر کو بتاؤں گی اسکی منگیتر کو اپنی نند کے کمرے میں آنے کا بہت شوق ہے”۔ وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تو لحاف میں چھپی ثریا کے گال دہکنے لگے۔ ہاں یہ احساس بھی بے حد خوبصورت تھا۔
——————-——————*
وجیہہ یونیورسٹی جانے کے لئے اٹھی تو صوفے پر سوتے وجدان پر نظر پڑی۔ وہ کام کام کرتے کرتے یہیں سوگیا تھا۔ اسے دکھ کے ساتھ ساتھ اس پر پیار بھی آیا۔
“بھائی آپ میرے بستر پر سوجائیں! میں ویسے بھی اب تیار ہونے جارہی ہوں”۔ بازو اور گالوں پر آہستہ سے تھپک کر اسے اٹھانے لگی۔
“ہمم۔۔ ہاں؟ صبح ہوگئی کیا؟ اتنی جلدی؟”۔ وہ اٹھ کر کمرے میں پھیلی روشنی کو آنکھوں کو چندھیا کر دیکھ رہا تھا۔
“جی بھائی! آئیں بیڈ پر سوجائیں!”۔ وہ اسے سہارہ دے کر اٹھانے لگی۔
“نہیں نہیں تمہیں یونیورسٹی چھوڑنا ہوگا اور پھر ایک گھنٹے بعد مجھے بھی نکلنا ہے آفس”۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
“بھائی آپ ڈرائیور کیوں نہیں رکھ لیتے؟ ہمیں تو کوئی پیسوں کا مسئلہ ہی نہیں! گھر میں اتنی ملازمائیں ہیں تو ایک ڈرائیور کیوں نہیں؟ روز پریشانی پالتے ہیں۔ مجھے چھوڑنا پھر گھر آکر ناشتہ کرکے خود تیار ہوتے ہیں اور پھر آفس اتنا دور ہے ڈرائیو کرتے کرتے تھک جاتے ہیں! پھر چھٹی کے وقت بھی مجھے پِک کرکے گھر ڈراپ کرنا اور پھر خود آفس بھاگنا! اوپر سے کمپنی کے مالک ہیں تو ذمہ داریاں بھی بہت ہیں! میرے لئے ڈرائیور رکھوالیں تاکہ وہ روز مجھے چھوڑ دیا کرے”۔ اس سے روز یوں بھائی کو اتنا کام کرتے دیکھا نہیں جاتا تھا۔ اس لئے اس نے تجویز پیش کی۔

“میں تمہارے معاملے میں کسی پر بھی اعتبار نہیں کر سکتا۔ کسی غیر مرد کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔ پورا دن گھر میں نہیں ہوتا میں! اس لئے کسی غیر مرد کو بھی نہیں رکھ سکتا تمہاری حفاظت کے لئے! یہ ہمیشہ یاد رکھنا اپنوں کے سوا کوئی اپنا نہیں ہوتا! اور مجھے کوئی پریشانی اور تھکن نہیں ہوتی! تمہیں البتہ ضرور ہوجاتی ہوگی! اس لئے کہتا ہوں تمام کام نبٹا کر جلدی سوجایا کرو گڑیا! اور ہاں میں نے تمہارا اسائمنٹ بنادیا ہے۔ سمبٹ کرادینا۔ تم تیار ہوجاؤ میں فریش ہوکر آتا ہوں”۔ اس کا گال کھینچتے ہوئے وہ مسکراتا ہوا باہر نکل گیا۔ وجیہہ بھی کھل کر مسکرائی۔ بھائی بھی ایک نعمت ہے! اللہ نے ماں باپ لے لئے مگر بھائی کا ساتھ دیا تھا۔ بھائی اتنا اچھا ہو تو ماں باپ کی کمی محسوس نہیں ہوتی! وہ محبت سے اس کو جاتا دیکھ رہی تھی۔
——————–——————-*
“وییییییییییر”۔ وہ سیڑھیاں تیزی سے اترتے ہوئے حیدر کو بلند آوازیں لگارہی تھی۔
“حیدر ویراں!”۔ ڈوپٹہ سر سے کھسک کر کندھے پر آگیا۔
“صالحہ!”۔ تیز گرجدار آواز سے وہ سہم اٹھی۔ یہ دھاڑ داجی کے کمرے سے آئی تھی۔ اس کی سانسیں اٹک گئیں۔ اس نے جلد سے ڈوپٹہ سر پر ڈالا۔
“ادھر آؤ”۔ ایک اور دھاڑتی آواز اس کا دل ہولا گئی۔ داجی اپنے کمرے میں اسے بلا رہے تھے۔ آس پاس کھڑے لوگ بھی خاموش ہوگئے۔
وہ ڈرتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ لال بھبھوکا چہرہ لئے وہ اسے خونخوار نظروں سے گھوررہے تھے۔
“اس حویلی میں کسی عورت کی آواز بلند ہونا سختی سے منع ہے! کاٹ کر پھینک دیں گے ہم!”۔ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ صالحہ کانپ اٹھی۔ آنکھیں بھیگنے لگیں۔
“ایک آنسو بھی نہیں نکلنا چاہئے آنکھ سے! اس حویلی کی عورتوں پر رونا بھی حرام ہے”۔ ایک اور دھاڑ پر وہ جلدی جلدی آنکھیں صاف کرنے لگی۔
“کہتا ہوں میں کبیر سے کہ اپنی دھی کی زبان کو لگام دے ورنہ جو حال تیری پھپھو کا کیا تھا تیرا بھی کردیں گے ہم”۔ وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولے۔ اسے پھپھو کی حالت یاد آئی تو ضبط کرنا مشکل ہوگیا۔ آنسو آنکھوں کی دہلیز پر آکھڑے ہوئے۔
“ہماری ہی غلطی ہے جو تم عورتوں کو بارھویں تک پڑھنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ بارھویں پڑھ کر تم عورتوں کے اندر بغاوت جاگ جاتی ہے! اب اس حویلی کی کوئی لڑکی دسویں سے ذیادہ نہیں پڑھے گی! یہ ہمارا حکم ہے! اور جسے نہیں منظور وہ ہمارے سامنے یہ بات کرے! اگر حویلی کی کسی عورت کی آواز ذرا بھی بلند ہوئی تو وہ انجام کی خود ذمہ دار ہوگی! حویلی کی رسموں کے خلاف اگر کوئی جائے گا تو ہم سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ اور ہم اپنی بات سے پھرتے نہیں”۔ داجی کی آنکھیں خون اگل رہی تھیں۔ اسے لگا کہ وہ تھوڑا وقت اور کھڑی رہی تو روح جسم سے علیحدہ ہوجائے گی۔
“سمجھ آئی؟”۔ لہجے میں بلا کی سختی تھی۔
“جی۔۔ داجی”۔ وہ ہکلائی۔
“دفع ہوجاؤ”۔ اتنی زور سے چلانے پر انہیں کھانسی ہونے لگی۔ ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس تھاما اور لبوں سے لگایا۔ وہ آنسو پونچتے باہر نکلنے لگی۔ اندر آتے حیدر کو دیکھ کر وہ لمحہ بھر کو رکی تھی۔ حیدر نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے تو دل چیر سا گیا تھا۔ وہ لمحہ بھر کو ہی رکی تھی صرف! پھر آنکھیں رگڑتے وہاں سے چلی گئی۔ وہاں کھڑے حیدر کو اس کے لئے افسوس ہوا تھا۔ صالحہ کو ابھی اور دکھ سہنا تھا۔ اسے حویلی والوں کے لئے ایک مثال قائم کرنی تھی۔ ایسی مثال جسے داجی آئندہ کی آنے والی نسلوں کو دے کر دھمکیاں دیں گے! جیسے آج افشاں پھپھی اور فضیلہ باجی کی مثال دے کر حویلی کی عورتوں کو دھمکاتے ہیں۔ صالحہ کو قطعی علم نہ تھا کہ اس کی زندگی کا دوسرا رخ کوئی اور نہیں بلکہ اس کا بھائی حیدر ویراں ہی دکھانے والا تھا۔
——————————————————–
“ہیلو حاد؟”۔
“وجیہہ؟ ہاں!”۔ مقابل شخص کی آواز موبائل سے ابھری۔
“تم شہر نہیں آئے؟”۔ وہ خفگی سے بولی۔
“نہیں! یہاں کام بہت ہے۔ اس اتوار کو آنے کو پوری کوشش ہے!”۔
“تمہاری پڑھائی کا بھی حرج ہورہا ہے!”۔
“جانتا ہوں جیا! زمینوں پر ہوں ابھی۔ آج جمعہ ہے تو اتوار کو آؤ گا شہر! پھر انشاءاللہ پیر کو یونیورسٹی میں ہی ملیں گے! ایک ہفتہ ہوگیا اور تمہیں دیکھا بھی نہیں!”۔ لہجے میں اداسی صاف سنی جاسکتی تھی۔
“ہاں لیکن تمہیں میری فکر نہیں! تم حویلی والے ایسے ہی ہوتے ہو!” وہ خفا ہوئی۔
“ہائے ہم نے کیا کردیا اب؟”۔ حاد نے الزام پر دہائی دی۔
“تو اور کیا؟ ایسا نہ ہو تمہارے بزرگ تمہاری شادی کروادیں زبردستی اور میں یہاں یوں ہی رہ جاؤں”۔ وہ نظریں پھیر کر بولی۔
“ایسا نہیں ہوسکتا کبھی! یہ جیا کا حاد صرف اس کا ہی رہے گا!”۔ اس نے مسکرا کر اپنی محبت کا یقین دلایا۔ جیا موڈ خراب ہونے کے باوجود بھی مسکرادی۔ ایک یقین سا تھا اس پر! بس یہ یقین ٹوٹے نہ ورنہ دل ٹوٹ جائے گا۔
———————————–*
“میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں اماں! یوں نہ کریں”۔ وہ ماں کے پاؤں میں بیٹھی گڑگڑارہی تھی۔
“تجھے ہر بار حویلی کی اصول کیوں یاد دلانا پڑتے ہیں؟ یہاں عورت ذیادہ نہیں پڑھ سکتی! تیری وجہ سے کل باقی لڑکیوں کی شامت آگئی! داجی نے گیارھوی اور بارھوی بھی منع کردی۔ شکر کر میری دھی تو نے بارھوی تک تو پڑھ لیا۔ ورنہ یہاں کی عورتیں ذیادہ پڑھ جائیں تو وہ باغی ہوجاتی ہیں! ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو اس حویلی کی کڑیوں کو پھر سے جاہل بنادے؟”۔ ساڑھی کا پلو سنبھالتے ہوئے انہوں نے اس کا ہاتھ اپنے پاؤں سے دور کیا۔
“اماں ویراں بھی تو پڑھتا ہے شہر کی یونیورسٹی میں! ہم کیوں نہیں اماں؟” آنسو بےجا بہنے لگے۔
“ہش۔۔ہششش مردوں کے ساتھ اپنا موازنہ مت کر! یہاں کی عورتوں کا پلو سر سے کھسک جائے تو اس کی سزا بھی منعقد ہے اور یہاں کے مرد باہر جا کر کچھ بھی کرتے پھریں کوئی فرق نہیں پڑتا! سمجھ آئی ہے تجھے؟ اب کچھ مت بول جا یہاں سے”۔ اماں ڈوپٹہ گھونگھٹ کے انداز میں ڈالنے لگیں۔

“اماں میں نے بھی ویراں کے ساتھ اس کی یونیورسٹی میں پڑھنا ہے!”۔ وہ ہاتھ جوڑ کر بلکنے لگی تھی۔
“دیکھ اگر تجھے شہر جا کر یونیورسٹی دیکھنی ہے تو تجھے حیدر کے ساتھ بجھوادوں گی! تو دیکھ آنا شہر بھی، مگر پڑھنے کا شوشہ آئندہ مت چھوڑنا ورنا یہاں کی رسموں کی زد میں آجائے گی! مرد جتنا بھی پڑھ لے اسے زمینیں ہی سنبھالنی ہے! داجی جانتے ہیں ان کے اندر بغاوت نہیں پیدا ہوگی! اب جا چل یہاں سے ورنہ تمہارا باپ آجائے گا۔ تو جانتی یے نا یہاں کے مردوں کو؟ اور افشاں کے کمرے سے روز گزرا کر تجھے عبرت حاصل ہوگئی۔ اب جا دفع ہو صالحہ! یہاں داجی کی مرضی چلتی ہے! یہاں کی رسموں کو توڑنے کی کوشش مت کرنا! جا یہاں سے اب ایسا نہ ہو کوئی دیکھ لے ہمیں یہ گفتگو کرتے ہوئے!”
وہ روتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی۔

“آنسو پونچھ صالحہ! حویلی کی عورتیں روتی نہیں!”۔ صالحہ نے اپنی ماں کو دیکھا تھا۔ اس کا دل چاہا چیخ پڑے کہ یہاں کی عورتیں انسان نہیں کیا؟ وہ اپنے اوپر ہوتے ظلم پر رو بھی نہیں سکتیں؟
مگر وہ خاموشی سے دوسرے کمرے میں چلی گئی۔ ایک اور امید تھی اس کے پاس!
ارحم شبیر بٹ! اس کا تایا کا بیٹا۔
——————————————*
وہ سر پر ڈوپٹہ لپیٹتی تیزی سے زینے اتررہی تھی۔
“شمیلہ چچی وہ ارحم صاحب کہاں ہیں؟”۔ شمیلہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں تو ان سے پوچھ لیا۔
“وہ تو زمینوں پر ہے ابھی! شام تک آئے گا شاید”۔
صالحہ کا چہرہ مرجھا گیا۔
“کیا ہوا صالحہ دھی؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟” اس کو پریشان دیکھ کر وہ چونکی۔
“نہیں چچی بس ویسے ہی”۔
“تجھے اس سے بات کرنی تھی؟”۔

“ہاں باورچی خانے کے لئے ذرا سامان منگوانا تھا۔ ملازم کو بولا ہے لسٹ بنا کر دے دے۔ میں ارحم صاحب کو دے دوں گی وہ باہر ملازم سے منگوالے گا!”۔ اس نے جھوٹ بول دیا۔ شمیلہ چچی نے اسے غور سے دیکھا تھا اور مسکرا اوپر چلی گئی تھیں۔ وہ حویلی کے تمام نوجوانوں کو ویراں بولا کرتی تھی اور ارحم شبیر بٹ کو صرف ارحم صاحب! ایسے میں وہ اس کے دل کا حال جانتی تھیں۔ پیچھے کھڑی صالحہ اداس ہوگئی۔ اب اس سے ملاقات رات میں ہوسکتی تھی! جب حویلی والے سوجائیں گے۔
——————–———————*
“اسلامُ علیکم بھائی”۔ وہ گاڑی میں بیٹھتی ہوئی بولی۔
“وعلیکم سلام گڑیا! دن کیسا گزرا؟”۔ وہ گاڑی بڑھاتے ہوئے بولا۔
“گزر گیا! اور پتا ہے کیا اسائمنٹ بھی سمبٹ ہوگیا۔ آپ نے بہت اچھا بنایا تھا بھائی”۔ وہ وجدان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر گویا اسے سراہا رہی تھی۔ وہ ہنس پڑا۔
“یہ تو اچھا ہوگیا!”۔
“ہاں جی!”۔ وہ مسکرائی۔ “بھائی وہ دیکھیں گول گپے والا” تھوڑی دیر بعد اسے کچھ دور گول گپے والا نظر آیا تھا۔
“کھانے ہیں؟”
“ہاں جی”
“رک جاؤ گاڑی سائیڈ ہر کھڑے کرنے دو”۔ اس نے سائیڈ پر گاڑی روکی۔
“بہت سارے لائیے گا!”۔ وہ چہک کر بولی۔
“ہاں پوری ریڑھی لے آتا ہوں”۔ وجدان نے اسے گھورا۔
“سچ میں؟؟؟”
“اوئے نہیں! ذیادہ نہیں لارہا طبیعت بگڑ جائے گی ورنہ” وجیہہ کو گھورتا وہ باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد دو تھیلے اس کی گود میں لاکر رکھے۔
“تھینک کیو بھائی”۔ وہ تھیلوں کو کھول کھول کر دیکھنے لگی.
“گھر میں کھانا تیار بنا ہوا ہوگا۔ پہلے کھانا کھالینا پھر یہ الم غلم!”۔
“یہ الم غلم نہیں ہے” وہ چڑ کر بولی۔
“یہ صحت کے لئے بھی اچھا نہیں ہے”۔
گاڑی گھر کے سامنے روکی۔ گاڑی سے اتر کر وہ اس کے ساتھ ہی اندر چلا گیا۔ ایک گلاس پانی لبوں سے لگا کر اب وہ خود کو بہتر محسوس کررہا تھا۔
“میں جارہا ہوں اللہ حافظ! اپنا خیال رکھنا”۔ کہتا ساتھ باہر نکل گیا۔
——————————————————–
وہ سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں جارہا تھا۔ گھڑی رات کے دو بجا رہی تھی۔
“ہشش ہشش۔۔ ارحم صاحب ادھر”۔ آواز کس کر اسے اپنی جانب متوجہ کروایا۔
“ہمم ہاں؟ کیا آپ سوئی نہیں؟”۔ ارد گرد نظریں دوڑائیں کہ کہیں کوئی دیکھ نہ رہا ہو۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے”۔ ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑتے ہوئے وہ بےبسی سے بول رہی تھی۔
اس نے صالحہ کے چہرے کا جائزہ لیا۔
“ٹھیک ہے! داجی سورہے ہیں؟”۔ وہ مان گیا۔
“جی وہ تو دس بجے ہی سوجاتے ہیں” اس نے داجی کی کمرے کی طرف دیکھ کر بتایا۔
“باہر باغ میں آجاؤ”۔ وہ باہر کی جانب مڑ گیا۔ صالحہ سر ڈھکتی اس کے پیچھے پیچھے جانے لگی۔

“ہاں کیا ہوا صالحہ؟ آپ پریشان کیوں ہیں؟ مجھے پتا ہے آپ کس لئے پریشان ہیں! ہم دونوں کے لئے نا؟ دیکھیں اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے! یہاں وٹہ سٹہ کا رواج ہے اور اب میری بہن آپ کے حیدر ویر کی منگیتر ہے! اس طرح وٹہ سٹہ سے ہماری بھی شادی ہوجائے گی۔ میں تو بہت خوش ہوں”۔ وہ اس سے کچھ دور ہوکر کھڑا تھا۔ حویلی کے مرد اور عورت کے درمیان چھ قدم کا فاصلہ ہونا ضروری تھا اگر وہ میاں بیوی نہ ہوں تو!
“نہیں ارحم صاحب! مجھے اس بات کی پریشانی نہیں ہے۔ میں پڑھنا چاہتی ہوں جیسے ویر اور باقی مرد پڑھ رہے ہیں! داجی نے منع کردیا ہے مگر میں پڑھنا چاہتی ہوں”۔
“تو پڑھ کر کیا کریں گی آپ صالحہ؟ جب آپ کی شادی ہم سے ہی ہونی ہے۔ ویسے بھی آپ عورتیں ذیادہ پڑھ کر باغی ہوجاتی ہیں۔ داجی نے ٹھیک ہی منع کردیا۔ میں بھی یہی سب چاہتا تھا مگر آپ کی وجہ سے کچھ نہ بولا”۔
“کیا بغاوت آجائے گی ارحم صاحب؟ اور آپ مردوں کو بھی تو اجازت یے نا پڑھنے کی!” وہ گھٹی گھٹی سی آواز میں بول رہی تھی۔
“فضیلہ باجی اور افشاں کا یاد نہیں آپ کو؟”
“فضیلہ باجی تعلیم سے باغی نہیں ہوئی تھیں بلکہ انہوں نے صرف بارھویں پاس کیا ہے اور افشاں پھپھو تو۔۔۔” وہ تو حقیقت میں کسی بھی چیز سے باغی نہیں ہوئی تھیں۔ وہ ان کا حق تھا۔ وہ حق جو اسلام نے بھی دیا تھا۔

“بارھویں پڑھ کر ہی اتنی ہمت آگئی تھی اور جہاں تک بات افشاں پھپھو کی ہے صالحہ! تو آپ جانتی ہیں. جب یہاں کے مردوں کو نہیں پسند ان کی عورتوں کا باہر جانا یا ذیادہ پڑھنا تو کرتے کیوں ہیں آپ لوگ ایسا؟ میں خاموش ہوں صالحہ تو صرف آپ کی وجہ سے!”۔
“تو کیا آپ کی بھی رضامندی نہیں ہے؟ مجھے لگا تھا ابھی نہیں مگر آپ سے شادی کے بعد آپ مجھے اجازت دے دیں گے”۔ وہ اسے باقی مردوں سے تھوڑا مختلف سمجھی تھی مگر یہ کیسے بھول گئی وہ اس حویلی کا ہی مرد ہے۔ اسے ان جیسا ہی ہونا ہے!

“جی نہیں! میری رضامندی نہیں ہے۔ ویسے بھی آپ کو پڑھ کر کرنا کیا ہے؟ جب شادی کے بعد چولہا سنبھالنا ہے، شوہر کی خدمت کرنی ہے تو پڑھنے کا کیا فائدہ؟ میں نہیں چاہتا کہ افشاں پھپھو کی طرح کوئی بغاوت جنم لے آپ کے اندر! اور ہاں بغاوت جنم لے بھی لے تو اس حویلی کے مردوں کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ عورتیں کچھ بھی کرلیں مگر چلنی حویلی کے مردوں کی ہی ہے۔ اب دیکھیں مثال کے طور پر اگر آپ باغی ہوجاتی ہیں اور اس گھر کے رسموں کے خلاف جاتی ہیں تو کوئی آپ کی نہیں سنے گا۔ شادی آپ کی مجھ سے ہی ہوگی کیونکہ میری بہن آپ کے بھائی کی منگیتر ہے۔ وٹہ سٹہ ہوتا ہے اور اس طرح آپ کو میرا ہی ہونا پڑے گا!”۔ سپاٹ لہجے میں کہتے ہوئے وہ اسے خبردار کررہا تھا یا سمجھا رہا تھا صالحہ یہ خود نہ جان سکی۔ اس نے سوچا تھا وہ اس کا ساتھ دے گا۔

“تو کیا مرد باغی نہیں ہوتے؟ پہلے حویلی کے مرد بارھویں تک پڑھتے تھے مگر پھر فرقان چاچو نے بھی بغاوت کی اور آگے بھی پڑھنے کی ضد کی تھی۔ فرقان چاچو کو پڑھنے کی اجازت کیوں دی ارحم صاحب؟”۔ وہ اس کی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ عورتیں سر جھکا کر بات کرتی تھیں تو وہ بھی زمین کو یک ٹک گھوررہی تھی۔
“آپ اپنا موازنہ مردوں سے مت کریں! ہم مرد ہیں!”۔ اکڑ سے بتایا جیسے صالحہ کو معلوم نہیں۔ ” ہم کچھ بھی کرلیں ہم نے زمینیں ہی سنبھالنی ہے۔ یہ وراثت ہم مردوں کی ہی ہے! ہم آپ لوگوں کی طرح باغی ہوکر کم از کم یہاں کی رسموں سے نہیں منہ موڑتے! ہم حویلی چھوڑنے کی ضد نہیں کرتے اور ہم چھوڑ کر بھی کیوں جائیں؟ یہ وراثت، یی زمینیں ہمارے لئے کافی ہے۔ آپ لوگ کے اندر جب بھی بغاوت جنم لیتی ہے! آپ لوگ سب سے پہلے حویلی کی رسموں اور حویلی سے دور ہونے کا سوچتے ہیں! معاف کیجئے گا مگر آپ کو لگتا ہے میں اس سب میں آپ کی مدد کروں گا تو آپ کی غلط فہمی ہے۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں جبھی کچھ نہیں کرسکتا۔ رات بہت ہوگئی ہے۔ اندر چلیں کیونکہ پیچھے جنگل ہونے کی وجہ سے الّو کے آنے کا خطرہ ہوتا ہے”۔ سپاٹ اور تلخ لہجے میں کہتا ہوا وہ اندر چلا گیا۔ وہ جان گئی تھی کہ وہ اس کی اس خواہش کا احترام نہیں کرسکتا ہے۔ سب راستے ختم ہوچکے تھے۔ وہ آگے بڑھ چکا تھا اور وہ پیچھے اپنی سسکیاں روک رہی تھی۔ آواز کوئی سن نہ لے اس لئے منہ ہر ہاتھ رکھ لیا۔ آنسو تھے کہ رکنے کے نام نہیں لے رہے تھے۔ وہ بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہو۔
—————–—————-