Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

زنجیر از عینا بیگ
قسط ۱۵
اس نے گاڑی اسکول کے گیٹ پر روکی اور ہارن بجایا۔ چوکیدار نے اسے دیکھ کر پوچھا تو اس نے “مس صالحہ کو بجھوادیں”۔ کہہ کر اسے بلانے کا کہا اور خود گاڑی میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر میں صالحہ کسی استانی کے ساتھ باہر آئی۔ اس نے دوسری لڑکی کو خدا حافظ کہا اور مسکراتی وجدان کی طرف بڑھی۔
“اسلام علیکم”۔ اس نے مسکراتے ہوئے گاڑی کا دروازہ بند کیا۔
“وعلیکم سلام۔ کیسا گزرا دن؟”۔
“بہت اچھا۔ پتا ہے سب مجھے مس صالحہ کہہ رہے تھے حتی کہ دوسری ٹیچرز بھی”۔ وہ اتنی خوش تھی کہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کررہی تھی۔
“ظاہر ہے اب آپ ٹیچر ہیں”۔ وجدان ہنس دیا۔
“ہاں”۔ وہ اس کی بات کو محسوس کرکے دل سے مسکرائی۔ اچانک موبائل پر بپ ہوئی تو اس نے اپنا فون چیک کیا۔
“ابھی گھر جانا ہے یا پھر یونیورسٹی؟”۔ وجدان نے اسے موبائل میں غرق دیکھا تو خود کو پوچھنے سے روک نہ پایا۔
“یونیورسٹی جانا ہوگا۔۔ کلاس شروع ہونے والی ہے میسج آیا کلاس کے گروپ میں”۔ اس نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اس کا جواب دیا۔
“اور پھر دوپہر کا کھانا رہ جائے گا آپ کا؟”۔ اس نے بنھویں اٹھا کر پوچھا۔ صالحہ کی پل بھر میں رونے والی حالت ہوئی۔
“میں دوپہر کا کھانا بنا کر آنا بھول گئی۔۔۔ مجھے لگا تھا آج کلاس نہیں ہوگی مگر گروپ پر گیارہ بجے کا مسیج آیا ہوا ہے جو کہ میں نے اب دیکھا”۔ وہ روہانسی ہوئی۔ وہ اپنے بستے میں یونیورسٹی کی کتابیں ساتھ رکھتی تھی۔
“کوئی بات نہیں! میں آپ کو راستے میں سے کچھ دلادیتا ہوں۔۔۔”۔ اس نے گاڑی کی رفتار تھوڑی آہستہ کی۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔ میں آپ کی بات کررہی ہوں۔ آپ کیا کھائیں گے دوپہر میں”۔ وہ پریشان نظروں سے اپنی انگلیوں کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔ وجدان نے گردن پھیر کر اسے دیکھا جو اس کے لیے پریشان ہورہی تھی۔
“آپ پریشان ہورہی ہیں؟”۔ اس کے لبوں پر مبہم سی مسکراہٹ پھیلی۔ صالحہ نے نگاہیں اٹھائیں اور اسے دیکھ کر پھر جھکالیں۔
“آپ کو بھوک لگی ہوگی”۔ اسے محسوس ہوا جیسے وہ مسکرایا ہو۔
“خیر تو بھوک تو لگی ہے لیکن میں گھر جاکر سینڈوچ کھالوں گا۔ ابھی آپ کی کلاس شروع ہونے والی ہے”۔ اس نے بیک مرر دیکھتے ہوئے گاڑی سیدھے راستے موڑی۔ صالحہ خاموش ہوگئی۔ اس نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا اور باہر کے منظر سے لطف اندوز ہونے لگی۔
وجدان نے گاڑی یونیورسٹی کے آگے روکی۔
“آپ کی کلاس کب آف ہوگی؟”۔ وہ اپنا ہرا گاؤن اتاررہی تھی کہ وجدان نے اس سے پوچھا۔
“پانچ بجے تک”۔ اس نے گاؤن تہہ کیا اور بیگ میں رکھنے لگی۔ وہ بستہ پہلے ہی کتابوں اور فائلوں سے بھرا ہوا تھا۔ وجدان نے ہرے گاؤن پر ہاتھ جمایا اور اسے اٹھا کر پیچھے والی سیٹ پر رکھ دیا۔
“مس صالحہ آپ کا بستہ ہرا گاؤن برداشت نہیں کرسکتا اس لیے اسے یہیں رہنے دیں”۔ شریر انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ مگر صالحہ نے سوچا تھا کہ وہ اسے یہ موقع نہیں دے گی۔ چہرے ہر ہلکا تبسم پھیلا۔
“آپ کی بس کب تک آئے گی؟”۔ وجدان نے وقت دیکھا۔
“وہ پانچ بجے تک آجائے گی۔۔۔”
“مجھ سے رابطے میں رہیے گا۔ موبائل آن رکھیے گا اور ضرورت پڑنے ہر بلا جھجک کال کرے گا۔ بس نہ آئے تو پریشان مت ہوئے گا بلکہ مجھے اطلاع دے گا اور بس آجائے تو میسج کرکے ضرور آگاہ کریے گا”۔ وہ اسے تاکید کررہا تھا اور وہ چوں کی طرح اس کی باتیں نگاہیں نیچے کیے سن رہی تھی۔
“جی ضرور”۔ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
“میں تقریباً چھ بجے تک آفس سے گھر کے لیے نکل جاؤں گا”۔ وجدان نے جیب سے چابی نکالی اور اس کی جانب بڑھائی۔ یہ چابی اس نے کچھ دن پہلے ہی صالحہ کے لیے بنوائی تھی۔ “گھر میں داخل ہوجائیں تو بھی میسج کرکے اطلاع دیجیے گا۔ دروازہ اچھے طریقے سے لاک رکھے گا”۔ وہ اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا اور وہ بار بار ہاں میں سرہلارہی تھی۔
“جاؤں میں؟”۔ اسے خاموش ہوتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔ وجدان نے اس کے معصوم چہرے کو ایک نظر دیکھا اور اثبات میں سرہلادیا۔ وہ گاڑی سے اتر کر چادر لیپیٹتی اور بیگ تھامتی اندر چلی گئی۔ وہ جب تک اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوئی وہ اسے دیکھتا رہا۔ جب محسوس ہوا کہ وہ جا چکی ہے تو اس نے گاڑی میں چابی گھمائی۔ اب اسے گاڑی گھر کی جانب موڑنی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ گھر پہنچ کر فریج کنگھالنے لگا مگر اسے بریڈ نہ ملی۔ بھوک کی شدت سے اب پیٹ آوازیں دے رہا تھا۔ صبح چھ بجے کا کیا ناشتہ صبح ہی ہضم ہوگیا تھا۔ کباب تلتے ہوئے تیل کے ہلکے ہلکے چھینٹے اچھل کر اسے تڑپانے کا کام کررہے تھے۔ اس نے ہاٹ پاٹ کنگھالا تو وہ خالی تھا۔ اب وہ کوئی ایسی چیز تلاش کررہا تھا جس کے ساتھ کباب کو کھاسکے۔ اسے جلد سے جلد آفس پہنچنا تھا۔ تمام کوششیں بیکار گئیں تو وہ دو سِکے ہوئے کباب جو فریج میں رکھے تھے اور اب فرائینگ پین میں قریب جلنے والے تھے انہیں نکال کر اخبار میں لپیٹتا گھر لاک کرتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور سڑک پر لے آیا۔ اب وہ ساتھ ساتھ برابر والی سیٹ پر رکھے کباب بھی وقفے وقفے سے کھا رہا تھا۔ بھوک ناقابلِ برداشت ہورہی تھی ورنہ وہ آفس پہنچ کر ہی پیٹ بھرتا۔ وہ کباب بھی بقول اس کے خیال کے بہت جلدی ختم ہوگئے تھے۔ بھوک اب بھی بےحد لگی تھی مگر اب رات کا انتظار کرنا تھا۔ خالی اخبار فولڈ کرتا وہ آفس کے سامنے گاڑی روک کر اترا۔ بڑھ کر گارڈ کو چابی دی تاکہ وہ گاڑی پارک کرسکے اور عمارت میں داخل ہوگیا۔ اب وہ آفس میں ہی کچھ منگوا کر کھانے والا تھا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
“تم کہاں جاریے ہو؟”۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی اور اب حیدر کو تیار ہوتا دیکھ رہی تھی۔
“زمینوں پر”۔ اس نے کالا واسٹ کوٹ پہنا ہوا تھا۔
“اور کب لوٹو گے؟”۔ اس کے قریب آکر اس کے کندھے کو نرمی سے جھاڑتے ہوئے پوچھنے لگی۔ حیدر نے اس کی طرف رخ موڑا۔
“تم جب کہو گی”۔ ہاتھوں کی انگلیوں سے جیا کے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتا ہوا وہ مسکرا کر بولا۔
وجیہہ کے چہرے پر تبسم پھیلا۔
“شام سے پہلے پہلے”۔ وہ جھٹ سے بولی۔
حیدر نے ٹہھر کر اسے دیکھا۔
“میرا وعدہ رہا”۔ کہتا ساتھ اس کے گال چھوتا سنگھار میز سے اپنا موبائل اٹھانے بڑھا۔
“ہم شہر کب جائیں گے؟”۔ وجیہہ کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ شہر جانے کا کتنی شدت سے انتظار کررہی ہے۔ اس کے سوال پر وہ خود کو رک کر آئینے میں دیکھنے لگا۔
“اسی ہفتے جائیں گے تم پریشان مت ہو”۔ اسی شہر میں کسی اپنے کا چہرہ یاد آیا تو دل بوجھل ہوگیا۔
“میں شرمندہ ہوں حیدر۔۔۔ میں نے اپنے بھائی کا استعمال کیا تھا”۔ وہ دکھ سے ٹوٹ کر بولی۔ حیدر کا چہرہ اس کی جانب اٹھا۔
“اور میں نے اپنی پوری بہن قربان کردی”۔ اس نے گہری سانس لی۔ “مگر وہ خوش ہے اس سے بڑی اور کیا بات ہوگی۔۔ مجھے اور کیا چاہیے محض ایک معافی کے۔۔۔ وہ میری ہے بہن ہے جیا۔ جن لڑکیوں کے اپنے بھائی ہوتے ہیں وہ لڑکیاں مشکل وقت اور پریشانی میں اپنے بھائیوں کو پکارتی ہیں۔۔۔ مگر وہ تو مجھ سے خفا ہے۔ میں اس کی یہ ناراضگی بہت جلد مٹا دوں گا”۔ وہ پھیکا سا مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا۔ وجیہہ نے اپنی گیلی آنکھیں رگڑیں اور چہرے پر پانی مارنے واش روم کی سمت بڑھ گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
بال اوپر کو اٹھے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں گھڑی اور کندھوں پر خاکی شال تھی۔ ہلکی ہلکی داڑھی جو اسے پروقار بناتی تھی، چہرے پر سج رہی تھی۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا تو اسے اندازہ ہوا کہ اسے پندرہ منٹ میں حویلی کی زمینوں کے لیے نکلنا ہے۔ وہ باغ سے ہوتا ہوا حویلی کے دروازے تک جانے لگا کہ باغ کے جھولے پر بیٹھی گم سم سی رفاہ کو دیکھ کر رک گیا۔ اس کی نگاہیں گھانس کو تک رہی تھیں اور ذہن الجھا ہوا تھا۔ جھولا آہستہ آہستہ آگے پیچھے ہورہا تھا۔ کچھ دیر وہ یوں ہی اس کی حالت پر غور کرنے لگا۔ وہ اتنی سن ہوئی بیٹھی تھی کہ اس کی موجودگی سے لاعلم تھی۔ وہ خود کو اس کی جانب بڑھنے پر روک نہ پایا۔
“کیا ہوا رفاہ؟”۔ اس نے اس کی ٹھوڑی پکڑ کر چہرہ اونچا کیا۔ اس کی یوں اچانک آمد کو دیکھ کر وہ یکدم پیچھے ہوئی۔ رفاہ کے یوں پیچھے ہٹ کر خوف سے دیکھنے پر شرجیل اسے دیکھتا رہ گیا۔ اب اسے کوارٹر سے اپنے کمرے میں شفٹ کرنا کافی حد تک ضروری ہوگیا تھا۔
“ایسے کیوں بیٹھی ہو تم؟”۔ وہ اس کے برابر میں آبیٹھا۔
“نن۔نہیں تو۔۔۔بس یونہی”۔ وہ نگاہیں اب بھی گھانس پر ٹکی تھیں۔
“وجہ بتاؤ رفاہ شرجیل؟”۔ چادر کے اندر سے نکلتی اس کی زلفوں کو دیکھ کر لہجہ نرم کرکے پوچھ رہا تھا۔
“بابا کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔ مگر ملنے کا دل نہیں ان سے”. وہ آبدیدہ ہوگئی تو کہتے کہتے رک گئی۔ شرجیل نے گردن پھیر کر اسے بہت غور سے دیکھا۔ اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں جس سے محسوس ہوتا تھا کہ یہ پہلے بھی روتی رہی ہے۔ اس کا دل کسی نے اپنی مٹھی میں جکڑا اور وہ اس کا ہاتھ پکڑتا اسے کھڑا کرنے لگا۔ رفاہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی۔ شرجیل اس بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کہ اسے باقی مردوں کے ساتھ زمینوں کے لیے نکلنا ہے، اس کا ہاتھ پکڑتا حویلی کے دروازے تک آگیا۔ باغ میں داخل ہوتا حیدر شرجیل کو رفاہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے اسے گاڑی میں بٹھاتا دیکھ سکتا تھا۔
“آپ کہاں لے کر جارہے ہیں”۔ وہ خوف سے سفید ہورہی تھی۔ اس کے سفید چہرے کو دیکھ کر وہ ٹھٹھکا۔ تو کیا وہ اس پر اب بھی اعتبار کرنے سے ڈرتی تھی۔
“شوہر ہوں تمہارا۔۔۔ کہیں ایسی جگہ نہیں لے کر جاؤں گا جہاں تم غیر محفوظ ہو”۔ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ ڈرائیونگ سیٹ پر آبیٹھا۔ چوکیدار نے دروازہ کھولا اور وہ گاڑی نکالتا زن سے بھگا گیا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ کلاس لے کر باہر ہی نکلی تھی کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“اسلام علیکم رابعہ”۔ اس نے خوش دلی سے سلام کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ جب سے یونیورسٹی کی شروعات ہوئی تھی اس کی رابعہ سے سرسری ملاقات ہوتی تھی۔ وہ اس کے ڈپارٹمنٹ میں اس کے ساتھ ہوا کرتی تھی۔
“وعلیکم سلام کہاں جارہی ہو؟”۔ رابعہ نے اس کے ہاتھ میں فائلز دیکھیں۔
“جی بس میں ذرا جلدی میں ہوں۔ بس آگئی ہے میری اور اگر وہ میرے بغیر چلی گئی تو میں وقت پر گھر نہیں جاپاؤں گی”۔ وہ دور کھڑی بس کو دیکھتے ہوئے پریشانی سے بولی۔
“او اچھا چلو تم جلدی سے چلے جاؤ پھر۔۔۔ تم سے کل ملاقات ہوتی ہے”۔ اس کی بات پر صالحہ نے اثبات میں سرہلایا اور بس میں بیٹھنے کے لیے بس کی جانب بڑھنے لگی۔ پانچ بج کر دس منٹ ہوچکے تھے۔ وہ اس قدر تھک چکی تھی کہ اس سے اب چلا نہیں جارہا تھا۔ پانچ منٹ بعد ڈرائیور نے بس آگے بڑھائی تو اس کی جان میں جان آئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“کہاں لے کر جارہے ہیں؟”۔ رفاہ نے لب کاٹتے ہوئے پوچھا۔ شرجیل کو محسوس ہوا وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہے۔
“کیا تم مجھ سے اجنبیت محسوس کررہی ہو؟ یا میری موجودگی تمہیں غیر محفوظ سی لگ رہی ہے؟”۔ گاڑی کی رفتار زیادہ تیز نہیں تھی۔ رفاہ نے نظریں موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ محسوس کرسکتا تھا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے۔
“ایسی بات نہیں ہے مگر۔۔۔”۔ اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑدی۔ شرجیل کے دل میں ہول اٹھا۔
“مگر کیا رفاہ؟ باتیں ادھوری مت چھوڑا کرو”۔ اپنے برابر میں بیٹھی اس چھوٹی سی لڑکی کو وہ گاڑی چلاتے ہوئے بمشکل دیکھ پایا تھا۔
“مگر داجی کو پتا چلا تو۔۔۔۔”۔ اب کی بار شرجیل نے اس کی بات کاٹی۔
“میں “تمہارا” لگتا ہوں یا داجی؟”۔ وہ برہم ہوا تو وہ لب کاٹنے لگی۔
“مگر پوچھ تو سکتی ہوں نا کہ کہاں لے کر جارہے ہیں؟”۔ کچھ دیر کے وقفے سے اس نے پھر پوچھا۔
“میں جہاں لے کر آنا چاہتا تھا تمہیں وہاں لے کر آگیا ہوں”۔ اس نے گاڑی گاؤں کے ایک بڑے گھر کے سامنے روکی۔ رفاہ نے ناسمجھی میں کھڑکی سے باہر جھانکا تو ٹھٹھک گئی۔ دل کی دھڑکنیں بےربط چلنے لگیں۔ اس نے جھٹکے سے مڑ کر اسے دیکھا۔ آنکھیں حیرت اور بےیقینی سے پھٹنے کو تھیں۔ شرجیل ماتھے پر بل ڈالے اس کے تاثرات کا اندازہ کرنے لگا۔ پل بھر میں رفاہ کی رنگت پیلی ہوئی تھی۔ وہ اس س اسب کی توقع کم از کم شرجیل سے نہیں کرسکتی تھی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
“حیدر؟ شرجیل کہاں ہے؟”۔ داجی اپنا کرتا جھاڑ کر کھڑے ہوئے تھے۔
“ش۔شرجیل”۔ حیدر ہچکچایا۔ اب وہ انہیں کیا بتائے وہ اپنے بیوی کے ساتھ کہیں باہر گیا ہے۔
“ایسے ہکلا کیوں رہے ہو؟ ہمیں زمینوں کے لیے نکلنا یے حیدر! شرجیل کہاں ہے بتاؤ”۔ وہ برہم ہوئے۔
“وہ باہر گیا ہوا ہے داجی رفاہ۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے زبان دانتوں میں دبا گیا۔ داجی کی بنھویں ماتھے پر چڑھیں۔
“رفاہ کے ساتھ”۔ وہ یکدم چیخے۔ حیدر کی سانسیں اکھڑنے لگیں۔
“نہیں داجی۔ رفاہ تو اپنے کوارٹر میں ہے۔ بس وہ یونہی میری زبان پھسل گئی”۔ وہ بات چھپاتا ہوا دل ہی دل میں شرجیل کو کوسنے لگا۔
“اچھا؟۔ تو جاؤ! رفاہ کو بلا کر لاؤ فوراً”۔ وہ سرد لہجے میں بولے تھے اور اس حکم پر حیدر کی گویا جان نکل گئی تھی۔
“جج۔جی داجی ابھی بلا کر لایا”۔ وہ الٹے قدموں واپس آیا اور باغ میں آکر سکھ کا سانس لینے لگا۔ اب صرف ایک ہی راستہ تھا۔ اس نے شرجیل کو کال ملائی۔
“ہیلو ہاں؟؟”۔ اس نے کال اٹھاتے ہی پوچھا تھا۔
“جلدی گھر پہنچو! داجی کو خبر ہوگئی ہے کہ تم رفاہ کو لے کر گئے ہوئے ہو”۔ حیدر پھولی سانسوں سے باغ میں ٹہلتے ساتھ بولا۔
“داجی کو کیسے علم ہوا؟”۔ دوسری طرف وہ زیادہ حیران نہیں ہوا تھا۔
“میری ہی زبان پھسل گئی”۔ وہ بالوں کو اپنی مٹھی میں کرتا ہوا بولا۔
“اچھا ہوا۔۔۔ میں بھی کوئی ایسا موقع پیدا کرنا چاہتا تھا”۔ وہ بلا کا مطمئن معلوم ہوتا تھا۔
“غضب ہوجائے گا شرجیل! گھر پہنچو جلدی!”۔ حیدر کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا جو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا تھا۔
“اصل غضب تو میرے آنے پر شروع ہوگا”۔ شرجیل دوسری جانب ہنسا تھا۔ “فوراً نہیں آرہا میں! اپنا کام کرکے آؤں گا۔ ایسا کرو جب تک تم داجی کا پارا چڑھاؤ۔۔۔”۔ ایک شاطر مسکراہٹ سے سامنے دیکھتا ہوا وہ اسے تاکید کررہا تھا۔
“تو پاگل ہوگیا ہے کیا؟”۔ حیدر چیخ اٹھا۔
“یہی سمجھ لو!”۔ اس نے برابر بیٹھی رفاہ پر نگاہ ڈالی جو اب بھی پیلی ہوئی رنگت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ “کال رکھ رہا ہوں کیونکہ ابھی اپنے۔۔۔ سسرال آیا ہوں”۔ اس نے نگاہ اس بڑی عمارت پر دوڑائی جس کے باہر بنی کیاری کے اوپر ایک بلب جلا ہوا تھا۔ “اور ہاں! حویلی کے ملازم شاہ جی کو کہہ دو کہ تیاری پکڑ لیں اور ہوسکے تو پھولوں کا انتظام کرلیں!”۔ وہ معنی خیز لہجے بولا۔ حیدر یہ باتیں سمجھنے سے قاصر تھا۔
“پھول؟ اور شاہ جی کیوں؟”۔ وہ الجھا۔
“شاہ جی کیوں؟ اس کا جواب جاننے کے لیے میرے آنے کا انتظار کرو۔۔۔ پھول یا تو شادی کے لیے اور اگر بات نہ مانی گئی تو کسی نہ کسی کی قبر پر تو چڑھیں گے۔۔۔”۔ وہ استہزایہ ہنسا اور کال رکھ دی۔
“آپ مجھے یہاں کیوں لائے ہیں شرجیل؟”۔ وہ اب تک یوں ہی ساکت بیٹھی تھی۔ شرجیل نے گردن پھیر کر اسے دیکھا تو تکتا رہ گیا۔
“میرے ساتھ چلو”۔ لمحے گزرنے لگے تو وہ چونک کر بولا اور گاڑی کا دروازہ کھولتا باہر نکل گیا۔ آج تو لگتا تھا حویلی میں قیامت آنے والی یے۔
۔۔۔★★۔۔۔

صالحہ نے اپنے گیلے بالوں کو تولیہ سے جھٹک کر کھڑکی کے پردے برابر کیے۔ اس نے گھر پہنچتے ہی وجدان کو اپنے گھر پہنچنے کا میسج کردیا تھا۔ وقت دیکھا تو ساڑھے چھ ہونے کو تھے۔ وہ کبھی بھی آنے والا تھا۔اس نے بال سکھائے اور اپنا بڑا سا ڈوپٹہ سر پر رکھ کر اپنے آپ کو بھی اس میں چھپایا دیا۔ سائے لمبے ہورہے تھے۔ آج معمول سے کچھ کم سردی تھی۔ صالحہ نے آگے بڑھ کر کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دیے اور جھولنے والی کرسی کو کھڑکی تک گھسیٹ کر لے آئی۔ دن کی تھکن اس نے کرسی پر جھولتے جھولتے نکال دی۔ اس کے خوابوں کو وجدان نے آج مکمل کردیا تھا۔ وہ اب وجدان کو سوچنے لگی۔ یقیناً وہ اس کی بن مانگی دعا تھا۔ وہ یوں ہی وجدان کو سوچنے میں محو تھی کہ گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔ اس آواز کو وہ ہزار شور کے درمیان میں بھی پہچانتی تھی۔ اس نے پیروں میں چپل پہنی اور تیزی سے نیچے بھاگنے لگی۔ وہ آج کہاں خود کو گم کرلے وہ سوچنے لگی۔گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور صالحہ اپنی انگلیوں کے ناخنوں کو دانتوں کے بیچ رکھتی اپنا دماغ چلانے لگی۔ وہ آج پھر اسے ڈھونڈے گا وہ جانتی تھی۔ اس نے ایک کمرہ دیکھا جو اسٹور روم تھا اور اندر گھس گئی۔ آہستہ سے دروازہ بند کیا تاکہ آواز نہ پیدا ہو۔ وہ اسٹور روم اندر سے بہت بڑا تھا۔ اس نے بلب دیکھا تو اس کا بٹن ڈھونڈنے لگی۔ دروازے کے برابر میں ہی وہ بٹن موجود تھا جسے اس نے کھول دیا تھا۔ روشنی ہوئی اور اسے وہاں موجود سامان دیکھنے میں آسانی پیدا ہوگئی۔ اس نے وہ نیلا تھیلا دیکھا جس میں بہت سے پھول تھے۔ آرٹیفیشل پھولوں کو دیکھ کر وہ جان گئی تھی کہ یہ وہ ہی پھول تھے جو اس نے اپنے کمرے سے اتار کر تھیلے میں رکھےتھے۔ وہ تھیلا کھول کر آہستہ آہستہ انہیں دیکھنے لگی۔ اچانک قدموں کی چاپ اسے بہت قریب سے محسوس ہوئی تو اس نے اپنے ہاتھ تھیلی سے دور کرلیے تاکہ تھیلی سے آواز پیدا نہ ہو۔ اچانک دروازہ کھلا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ وجدان اسے دو منٹ میں تلاش کرچکا تھا۔ صالحہ ایک بار پھر ہار گئی تھی اور نگاہیں جھکا کر زمین کو تک رہی تھی۔ وہ اسے دیکھنے قریب آیا۔ نگاہیں زمین کو اب بھی سجدہ کررہی تھیں۔ وجدان کا دل چاہا کہ اس کی ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر کرے مگر وہ یہ نہیں کرسکتا تھا۔
“آپ یہاں؟”۔ اس نے کہتے ساتھ اسٹور روم پر نظر دوڑائی۔
“میں وہ سوچ رہی تھی کہ رات کے لیے آٹا گوندھ لوں اس لیے آگئی”۔ اسے کوئی جواب نہ سوجا تو یہی کہہ بیٹھی مگر پھر زبان دانتوں میں دبالی۔ اس کے جواب پر وہ کھکھلا اٹھا۔
“اسٹور روم میں آٹا کہاں سے آیا؟”۔ اس کی جھکیں پلکوں پر نظریں ٹکاتے ہوئے اس نے مسکرا کر پوچھا تھا۔ وہ جانتا وہ جھوٹ کیوں بول رہی ہے۔۔۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے سامنے وجدان قریشی کھڑا تھا۔
“مجھے دیکھ کر جتنا مرضی خود کو چھپالو صالحہ وجدان! مگر تمہارا وجدان تمہیں آج کی طرح ہمیشہ ڈھونڈ نکالے گا”۔ وہ یکدم خود سے دل میں کہتا بظاہر مسکرایا۔ صالحہ نے لب کاٹے۔
“کیا آپ اپنا چہرہ اوپر کریں گی”۔ اس نے اپنی تڑپ ظاہر کرنی چاہی۔ صالحہ کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“کک۔کیوں؟”۔ اس نے ہکلاتے ہوئے جھکی نظروں سے پوچھا۔ وہ اس کی آنکھوں کو دل میں اتارنا چاہتا تھا۔ وجدان اس کے سوال کا جواب سوچنے لگا۔ وہ کیا بہانہ کرے؟۔
“آپ سے کوئی بات کرنی ہے”۔ کم وقت میں اسے یہی جواب سوجا۔ صالحہ نے نگاہیں بےاختیار اٹھائیں اور یہ وہی لمحہ تھا جب وہ اس کی آنکھوں کو دیکھ پھر سے ساکت ہوگیا تھا۔ صالحہ کو حیا نے آلیا تو نگاہیں جھکا گئی۔ اپنی دھڑکنوں کی آواز صالحہ کو اپنے کانوں میں بجتی محسوس ہورہی تھی۔ گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ اس کی پلکیں مسلسل کانپ رہی تھیں۔
“مم۔میں جاؤں”۔ بمشکل اس نے الفاظ ادا کیے تو وجدان اس کی گھبراہٹ کا لطف لینے لگا۔
“آپ نے آٹا تو گوند ہی لیا ہوگا۔۔۔ کہاں ہے؟”۔ وہ مسکراہٹ چھپاتا ارد گرد ایسے دیکھنے لگا جیسے واقعی آٹے کی بالٹی دیکھ رہا ہو۔ صالحہ نے گھبراہٹ کے عالم میں اسے دیکھنے سے گریز کیا۔
“مجھے جانے دیں”۔ اس کی آواز وجدان کے کانوں میں پڑی تو وہ مسکرادیا۔
“جی میں نے آپ کو کب روکا ہے”۔ کہتا ساتھ راستے سے ہٹ گیا۔ اس سے پہلے وہ تیزی سے نکل کر بھاگتی وہ ایک دم پھر سامنے آگیا۔ وہ جو دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی اس کے سامنے آجانے کی وجہ سے اس سے ٹکراتی ٹکراتی بچی۔
“وہ باہر زید آیا ہوا ہے میرا دوست۔۔۔ کچھ تحفے بھی لایا ہے آپ کے لیے”۔ اس نے میٹھے لہجے میں بتایا۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا اور اپنی سر کی چادر ٹھیک کرتی وجدان کے پیچھے باہر آئی۔
“میں چائے بنا کر لے آتی ہوں”۔ اس نے وجدان کی نگاہوں سے اوجھل ہونا چاہا مگر وہ بھی وجدان تھا۔
“نہیں اس کی ضرورت نہیں! وہ میری جیب ہلکی کروا کر ہی گھر تک آیا ہے۔ آپ آجائیں میرے ساتھ”۔ وہ اسے کچن میں جانے سے روکتا، اسے اپنے پیچھے آنے کا کہہ کر ڈرائینگ روم کی طرف بڑھ گیا۔ صالحہ نے گہری سانس ہوا کے حوالے کی اور اس کی پیچھے ڈرائینگ روم میں داخل ہوئی۔
“اسلام علیکم بھابھی”۔ زید احترام میں کھڑا ہوا۔ صالحہ نے اپنا چہرہ چادر میں چھپایا ہوا تھا۔
“وعلیکم سلام زید بھائی”۔ وہ جواب دیتے ہوئے وجدان کے بازو میں بیٹھی۔
“مزاج کیسے ہیں آپ کے؟ سنا ہے استانی بن گئی ہیں؟ بہت خوشی ہوئی”۔ زید نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
صالحہ مسکرائی۔
“الحمداللہ۔۔۔”۔ اسے دونوں سوالات کے جواب ایک ہی لفظ میں دکھے۔ وجدان نے بیٹھے بیٹھے ہی سامنے میز سے پانی کے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور صوفے سے ٹیک لگا کر پینے لگا۔
“میں بھی بس وہی کہہ رہا تھا وجدان سے کہ اب ایسی کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرنا کیونکہ بھابھی تو اب استانی بن گئی ہیں تمہیں اپنے شاگردوں کی طرح دھو ڈالیں گی”۔ اس کی بات پر جہاں پانی پیتے وجدان کو اچھو لگا وہیں صالحہ کی ہنسی نکل گئی۔
“بےغیرت انسان”۔ وجدان نے دانت پیس کر دل ہی دل میں اسے گالیوں سے نوازا۔
“ہاں تو بھابھی جان یہ ایک تحفہ میری طرف سے۔۔۔” کہتے ساتھ زید نے خوبصورت گفٹ پیپر میں لپٹی کوئی چیز اس کی جانب بڑھائی۔
“زید بھائی مگر اس کی ضرورت نہیں تھی”۔ وہ ہچکچانے لگی تو زید مسکرایا۔
“یہ آپ کی شادی کا تحفہ جو مجھ پر ادھار تھا”۔ اس نے تحفہ آگے بڑھایا تو صالحہ نے “جزاک اللہ” کہہ کر اسے تھاما۔
“آپ کے لیے چائے بنا کر لاتی ہوں”۔ وہ مسکرا کر کھڑی ہونے لگی۔
“نہیں بھابھی اس تکلف کی ضرورت نہیں۔۔ آپ کے شوہر کی جیبیں خالی کروا چکا ہوں”۔ وہ دانت باہر نکالتا، تیز نظروں سے گھورتے وجدان کو دیکھنے لگا۔
“چلیں جیسے آپ کی مرضی”۔ وہ تحفہ میز پر رکھتے ہوئے بولی۔
“ایک اور چیز جو میں لایا تھا۔۔ خاص طور پر آپ کے لیے! بھلے آپ وجدان کو نہ لے کر آئیں مگر آپ کا آنا ضروری ہے”۔ اس نے ایک کارڈ آگے کیا جسے وجدان نے تھام کر صالحہ کو پکڑایا۔
“بڑی مشکل سے شادی ہورہی ہے اس کی”۔ وجدان نے ہنس کر زید کو دیکھا تو اس نے اثبات میں سرہلایا۔
“کہہ تو صحیح رہے ہو”۔ وہ کھسیانا ہوا۔ صالحہ جو کارڈ پر جھکی ہوئی تھی، اس نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔
“مبارک ہو زید بھائی۔۔۔ پرسوں ہے شادی؟؟”۔ اس کی باچھیں خوشی سے کھل اٹھیں۔
“جی بھابھی اور پرسوں آپ کو ہر حالت میں آنا ہے”۔ اس نے سنجیدگی سے تاکید کی تو صالحہ نے مبہم سا مسکرا کر اثبات میں سرہلایا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“کون آیا ہے خالد؟”۔ ایک کمزور وجود بستر پر لیٹا تھا۔
“تمہاری بیٹی آئی ہے صائمہ”۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اور ہاتھ رفاہ کے کندھے پر تھا۔
“میری بیٹی؟”۔ وہ عورت تیزی سے اٹھی اور رفاہ کو دیکھ کر ساکت ہوگئی۔ شرجیل باہر لاؤنج میں ہی بیٹھا تھا۔
“رفاہ میری بیٹی”۔ انہوں نے جھٹکے سے اسے گلے لگایا تو رفاہ نے ان کے سینے میں منہ چھپالیا اور گھٹ گھٹ کر رونے لگی۔ باہر بیٹھا شرجیل انہیں دیکھ تو نہیں سکتا تھا مگر محسوس ضرور کرسکتا تھا۔ ایک گھنٹے اس کا یونہی گزر گیا۔ جاتے وقت صائمہ خاتون نے شرجیل کو پیار کیا تھا اور رفاہ کا خیال رکھنے پر دعا دی تھی۔ اصل کہانی تو تب شروع ہوئی تھی جب رفاہ کے بھائی فرہاد نے اسے گلے لگایا تھا اور اس کا ماتھا چوما تھا۔ وہ رفاہ کے سامنے گڑگڑایا تھا۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے حویلی سے نکال لے گا اور یہ سن کر شرجیل کے قدموں کے نیچے سے زمین نکل گئی تھی۔ اس نے تھوک نگل کر بےاختیار رفاہ کو دیکھا تھا مگر وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ وہ اپنے بھائی کو نم آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اتنا سب کچھ ہرگز اس لیے نہیں کررہا تھا کہ رفاہ کو خود سے دور کرسکے۔۔۔ واپسی پر اس کا مزاج نہ چاہتے ہوئے بھی برا ہورہا تھا۔
“ہیلو؟”۔ موبائل پر آتی کال اس نے ریسیو کی۔
“کہاں ہو بچے؟۔ یہاں ہنگامہ مچا ہوا ہے”۔ مقابل شخص کی آواز سن کر ہی اس کا خراب موڈ بحال ہوگیا تھا۔
“شاہ جی آرہا ہوں میں”۔ وہ بےحد نرمی سے بولا۔
“کیا کہو گے داجی سے؟”۔ وہ بےچارگی سی پوچھ رہے تھے۔
“سب کچھ۔ وہ سمجھتے ہیں میں نہیں جانتا کہ ارحم کی موت کیسے ہوئی؟ مگر یہ بات ان کے لیے ناقابل یقین ہوگی کہ میں سب کچھ جانتا ہوں”۔ وہ تھک چکا تھا اب راز رکھتے رکھتے۔ رفاہ اس کی بات پر چونکی۔
“اگر انہوں نے غصے میں آکر افشاں کے ساتھ کچھ کردیا تو میں بےقابو ہوجاؤں گا میرے بچے۔ میں افشاں پر اب کوئی ظلم برداشت نہیں کرسکتا”۔ وہ اب بھی شاید درخت کے نیچے ہی کھڑے تھے۔
“میں چاہتا ہوں آپ بےقابو ہوجائیں۔ اپنے دل کی بھڑاس نکالیں۔ میں آرہا ہوں آپ کی طرف سے افشاں پھپھو کو مانگنے”۔ اس نے کہہ کر کال رکھی اور گاڑی کی رفتار تیز کی۔
“داجی کو علم ہوگیا؟”۔ اس نے رفاہ کی آواز پر اسے گردن پھیر کر دیکھا تو ششدر رہ گیا۔ وہ زرد ہوچکی تھی۔
“تم کیوں اتنا پریشان ہورہی ہو؟”۔ اس نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔
“اب کیا ہوگا؟ وہ کیا کریں گے اب؟”۔ اس کے لب لرزنے لگے۔
“کچھ نہیں ہوگا”۔ وہ سختی سے دانت پیس کر بولا۔ “تسلی رکھو اور حالت درست کرو۔ جب تک میں ہوں تمہیں کسی چیز کے لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”۔ اس کے لہجے میں بلا کی سختی تھی۔ رفاہ سیدھی ہوکر سامنے دیکھنے لگی۔ اس کے دل میں طرح طرح کے اندیشے جنم لینے لگے۔ شرجیل خود کو آنے والے وقت کے لیے تیار کررہا تھا۔ دل میں کہیں نہ کہیں شکست کھانے کر اندیشہ تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“کہاں ہے شرجیل”۔ داجی کی غصے میں رگیں پھول رہی تھیں۔ ان کی چیخیں حویلی والوں کو ہولا رہی تھیں۔
“یہاں ہے شرجیل”۔ وہ پیچھے سے اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑے لاؤنج میں داخل ہوا۔ رفاہ کانپتے ہوئے اپنا ہاتھ جو اس کے ہاتھ میں تھا اسے دیکھ رہی تھی۔
“کہاں تھے اس ونی کو لے کر تم کمبخت؟۔ کہاں گئے تھے بےشرم”۔ وہ پوری قوت سے چلائے تھے۔
“ونی آپ کے لیے ہوگی! میرے لیے بیوی ہے میری”۔ وہ ان سے زیادہ چیخ کر ان کی تصحیح کرگیا تھا۔ داجی نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا۔ وہ ان کی زندگی میں پہلا شخص تھا جس نے ان سے زیادہ اونچی آواز میں بات کی تھی۔ وہاں موجود تمام مرد اور عورتیں ششدر اور ساکت کھڑے تھے۔
“وہ ارحم کے بدلے میں آئی ہے۔ وہ ونی ہے”۔ انہوں نے اپنی لاٹھی زور سے زمین پر پٹخی۔
“ارحم کے بدلے میں اس کے بھائی کو آنا چاہیے تھا!۔ یہ میری بیوی بن کر آئی ہے”۔ اس کے تاثرات خطرناک حد تک پھیل چکے تھے۔ وہ کسی پر رحم کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔
“کہاں گل چھڑے اڑا رہے تھ۔۔۔۔” وہ ابھی کہہ ہی رہے تھے کہ شرجیل نے ان کی بات کاٹی۔
“داجی بس! بس کردیں میں اور برداشت نہیں کر پاؤں گا”۔ اس نے اتنی بلند آواز میں کہا تھا کہ باہر درختوں سے پرندوں کی اڑنے کی آواز آئی تھی۔ “اور کتنا کریں گے ظلم داجی؟۔ یہ سب مرد حضرات اور ان کی بیویاں خاموش دہ سکتی ہیں مگر میں اتنی سکت نہیں رکھتا۔۔۔”۔
“کون سا ظلم کردیا تم لوگوں پر کم بختوں جو یوں منہ پر آکھڑے ہو؟”۔ وہ بے یقینی سے پوچھنے لگے۔ آواز میں اب بھی بلا کی سختی تھی۔
“کیا چاہتے ہیں انگلیوں پر گن کر بتاؤں؟”۔ شرجیل کی نظروں میں حقارت تھی۔
“صالحہ کی شادی کیا کردی تم لوگ تو اسے میرا کیا گیا ظلم ہی سمجھ بیٹھے”۔ وہ کھانسنے لگے تو شمیلہ نے ان کی طرف پانی بڑھایا۔ وہ اےنا چیخ نہیں پارہے تھے۔ ان کی کھانسی ان کے چلانے میں دخل دے رہی تھی۔ ان کا جی چاہا شرجیل کا منہ نوچ لیں۔
“افشاں کون تھی داجی؟؟ فضیلہ کون تھی؟۔ بشارت حیسن کون تھا؟۔ ارحم کون تھا؟”۔ شرجیل نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے سب کے نام گنوائے۔ وہ ارحم کے نام پر سٹپٹائے۔
“ارحم کا نام کہاں سے آیا؟”۔ ان کا بوکھلانا واجبی تھا۔ شرجیل حقارت سے ہنسا۔
“آپ کو کیا لگتا ہے میں نہیں جانتا کہ ارحم کیسے مرا؟”۔ وہ رفاہ کا ہاتھ چھوڑتا ایک شان سے چلتا ہوا ان کے قریب آیا۔ سمیعہ تائی اور شبیر کا دل منہ کو آیا۔ وہ حیرت سے دونوں کو دیکھنے لگے۔
“اس کا قتل ہوا تھا اس ونی کے بھائی کے ہاتھوں”۔ وہ چیخے۔
“چیخنے کی ضرورت نہیں ہے داجی۔ اپنی بات منوانے کے لیے چیخ میں بھی سکتا ہوں”۔ اس نے معنی خیز لہجے میں انہیں بہت غور سے دیکھا۔
“کیا آپ کو لگتا ہے میں نہیں جانتا کہ اس کے قتل کا آپ کو پہلے سے علم تھا. آپ پہلے سے جانتے تھے کہ وہ ہماری حویلی میں سے کسی نہ کسی کو تو موت کی گھاٹ اتاریں گے۔ جب آپ اپنے ملازم سے اس بات کا ذکر کررہے تھے اس وقت میں آپ کے کمرے کی کھڑکی کے باہر ہی کھڑا تھا داجی۔ آپ نے ارحم کو پہلے ہی بھیج دیا یہ کہہ کر کہ آج زمینوں کو ذرا جلدی دیکھ آؤ۔ آپ جانتے تھے کہ کسی نہ کسی کا قتل ہوگا اور سچ تو یہ ہے کہ آپ نے پہلے سے ہی تہیہ کرلیا تھا کہ قاتل کی بہن سے شادی کس کی کروانی ہے۔ میں جانتا ہوں آپ نے مجھے کیوں چنا۔ اس لیے کیونکہ آپ یہ جانتے تھے کہ میں ایک وہ خاموش طبع انسان ہوں جو آپ کے ہر فیصلے پر سر جکھالیتا ہے۔ اب نہیں رہوں گا میں خاموش۔ کیوں کی تھی فضیلہ باجی کی اس مخصوص بڑی عمر کے شخص سے شادی؟۔ اس لیے کیونکہ آپ کو لالچ تھا ان کے شوہر کی زمین کا! اس نے ایک زمین کے کاغزات آپ کے آگے رکھے نہیں اور آپ نے فضیلہ کا رشتہ طے کردیا۔ کیا کریں گے اتنی دھن دولت کا جب جانا ہی دو گز کی زمین میں ہے؟۔ وہ مرگئی تڑپ تڑپ کے اس شخص کے ہاتھوں داجی”۔ فضیلہ کے ذکر پر شرجیل کے آنسو بہہ نکلے۔ شمیلہ چچی اپنی مری ہوئی بیٹی کے ذکر پر زمین پر ڈھہ گئیں۔ “کتنا مارتا تھا وہ شخص انہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس حویلی میں وہ صرف مجھے فون کال کرکے اپنے ساتھ ہونے والے تشدد کی اطلاع دیتی تھیں۔ اپنی ماں کو یہ سوچ کر ایک فون نہیں کیا کہ چچی یہ سن کر مرجائیں گی۔ آپ کو کیا لگتا ہے داجی مجھے ہر دو ہفتے بعد شہر جانے کا شوق ہے؟۔ میں کیوں جاتا ہوں کبھی سوچا ہے؟ کبھی سوچا آپ نے جب میں شہر سے پلٹتا ہوں تو دو دن تک اپنے کمرے سے کیوں نہیں نکلتا؟ میں ان کی قبر ڈھونڈنے جاتا ہوں داجی۔ کہاں کہاں ڈھونڈا انہیں مگر نہیں مل پائی وہ لڑکی مجھے۔۔۔ اپنی جان دے بیٹھی آپ کی لالچ میں۔۔۔ اس ماں پر رحم نہ آیا آپ کو جو اس ظلم ہر بھی فقط آپ کا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔ افشاں کو جانتے ہیں کون ہے وہ عورت؟”۔ داجی کو لگا وہ اور سہہ نہیں پائیں گے۔ شجر اپنی بہن کا سوچ کر نڈھال ہورہی تھی۔ سمیعہ ہچکیاں لے رہی تھیں اور تمام مرد اپنے باپ، دادا کو نفرت سے دیکھ رہے تھے۔ “وہ عورت کون ہے جو اوپر منزل میں تنہا رہتی ہے؟ وہ شخص جس کا نام بشارت حسین ہے وہ کون ہے جانتے ہیں آپ!؟۔ آپ جتنا جانتے ہیں مجھے اس کا علم ہے مگر جتنا میں جانتا ہوں اس کا آپ کو علم نہیں”۔ وہ شاہ جی کو پکڑ کر آگے لایا تو شاہ جی نے تیز نظروں سے داجی کو دیکھا۔
“کون یے یہ شخص؟۔ ایک وفادار ملازم کے اوٹ میں کون ہے یہ شخص جانتے ہیں آپ؟”۔ وہ پوری قوت سے چیخا تو سب نے شاہ جی کو دیکھا۔ جو جانتے تھے وہ نظریں جھکا گئے اور جو لا علم تھے وہ حیرت سے دیکھنے لگے۔
“اسے بشارت حسین کہتے ہیں داجی”۔ اس نے ایک ایک لفظ چپا کر ادا کیا۔ داجی کی سٹی گم ہوگئی۔ موجود لوگوں نے آنکھیں پھاڑ کر اس شخص کو دیکھا۔ حویلی میں سکوت کا عالم چھا گیا۔ شرجیل یہ کیا کہہ رہا تھا؟۔
“کون ہے بشارت حسین؟؟ افشاں کا ذکر پر یاد آیا؟۔ جو اپنی محبت کے لیے اپنی زندگی داؤ پر لگا گیا اس کا مقابلہ آپ سے کہاں داجی۔ آپ کو یہ محبت کی باتیں سمجھ نہیں آتیں کیونکہ آپ کے لیے دولت ہی سب کچھ ہے۔ کیا جرم تھا اس معصوم عورت کا جس کو آپ نے بےزبان کردیا؟ جس کی زندگی چھین لی؟”۔ اس نے بشارت حسین کا ہاتھ اٹھایا۔ “یہ شخص صرف انتقام کے لیے کھڑا ہے داجی۔ بس کچھ کر نہیں پاتا بیچارا کیونکہ بے بس ہے نا! افشاں پھپھو کے لیے خود کو برباد کرنے کو بھی تیار ہے۔ اپنی عیاشیوں کی زندگی چھوڑ کر یہ شخص برسوں سے غلامی کی زندگی جی رہا ہے سوچا ہے کیوں؟۔ مگر اب اور نہیں داجی! آپ کو لگتا ہے یہ آپ کے سب بیٹے اور پوتے آپ سے ہمدردی رکھتے ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ بےانتہا نفرت کا نام سنا ہے؟۔ وہ کرتے ہیں آپ سے یہ سب! لاوا سمجھتے ہیں؟۔ لاوا بھرا ہے سینے میں انتقام کا۔ حیرت تو یہ ہے کہ کسی بھی بھائی نے اپنی بہن کے حق میں ایک لفظ نہ منہ سے نکالا۔۔۔ اس کی طرفداری نہیں کی۔ میں آپ سے بہت نرمی سے! بہت محبت سے بشارت حسین کا رشتہ افشاں بٹ کے لیے مانگتا ہوں۔۔۔ کیا آپ کو قبول ہے یہ رشتہ؟”۔ اس نے صوفے پر ڈھے داجی سے پوچھا۔
“یہ وہ گھٹیا شخص ہے؟”۔ داجی کی سانسیں گہری ہونے لگیں۔ ان کے لبوں سے الفاظ کٹ کٹ کر ادا ہوپارہے تھے۔
“کون سا گھٹیا پن دکھادیا اس شخص نے؟ وفا کرنا گھٹیا پن تو نہیں۔ میں پھر سوال دہراتا ہوں!۔ کیا آپ کو یہ رشتہ قبول ہے”۔ اس نے پھر سختی سے پوچھا۔
“میں یو۔۔۔۔” انہوں نے کچھ کہنا چاہا مگر لفظوں نے ساتھ نہ دیا۔
“کیا آپ کو رشتہ قبول ہے؟ ہاں یا ناں؟”۔ شرجیل نے بات کاٹی۔
“میری بیٹی افشاں”۔ داجی نے یہ کہتے ہوئے رونا شروع کردیا۔
“یہ کیا کیا آپ نے ابا؟”۔ کبیر نے غم سے نڈھال ہوتے ہوئے پوچھا۔
“میری بیٹی افشاں کو بلاؤ خدارا”۔ وہ چیخنے لگے۔
“وہ اسی صورت میں آئے گی جب آپ رشتہ قبول کریں گے”۔ شبیر ٹوٹے لہجے میں کہتے ہوئے آگے آئے۔
شرجیل نے مڑ کر کانپتی رفاہ کو دیکھا۔
“مجھ سے سب نے غداری کی ہے”۔ وہ چیخنے لگے۔
“ابا جی آپ رشتہ قبول کرتے ہیں یا نہیں؟”۔ مسرور اپنی بیوی شمیلہ کی حالت دیکھتے ہوئے آگے آئے۔
“میری بیٹی کو بلاؤ”۔ ان کی حالت بگڑنے لگی۔
“ہمیں یہ رشتہ قبول ہے”۔ کبیر نے بلند آواز میں کہہ کر شاہ جی کو دیکھا۔ شاہ جی کا سفید پڑتا چہرہ نہال ہوا۔ انہیں یقین ہی نہ آیا اور وہ ششدر رہ گئے۔ جس کا کب سے سوچا تھا وہ خواب اب پورا ہو ہی گیا۔ داجی کی حالت بگڑنے لگی تو ان کے بیٹے ان کی جانب بڑھے۔ انہیں دیکھ کر محسوس ہورہا تھا کہ انہیں فالج کا دورہ پڑرہا ہے۔ شرجیل نے رفاہ کا ہاتھ تھاما اور اسے اپنی طرف کرتے ہوئے ایک نظر شاہ جی کو دیکھ کر کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ وہ بات رفاہ سے شروع ہوئی تھی اور ختم بشارت حسین پر ہوئی تھی۔ شاہ جی اشارے سے اسے اوپر جانے کو کہا اور کہا کہ وہ داجی کی طبیعت سنبھال لیں گے۔ شرجیل نے اثبات میں سرہلایا تھا۔ دور دور کھڑے ثریا اور شاہ زل نے بلا ارادہ ایک دوسرے کو دیکھا۔ لب دونوں کے خاموش تھے۔ اس نے شاہ زل کو آنکھوں کے اشارے سے داجی کی طرف بڑھنے کو کہا تو شاہ زل اثبات میں سرہلاتا ان کے قریب بڑھا۔ اس کہانی کا خاتمہ کیسے ہوگا اس حویلی کے مکین یہ جاننا چاہتے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔
دو دن اور بیت گئے۔ آج زید کی شادی تھی اور وجدان نے پورا دن زید کے ساتھ گزارا تھا۔ وہ تیار ہورہی تھی اور وجدان شاور لے رہا تھا۔ صالحہ نے گھڑی پر نگاہیں اٹھا کر دیکھا۔ آٹھ بجنے کو تھے اور اب اسے تیاری میں تیزی پکڑنی تھی۔ اس نے ٹی پنک رنگ کی کرتی اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ اس پر ہلکا پھلکا میک اپ کرکے وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگی۔ جھمکیاں نکال کر کان میں پہنی اور وہ اب مکمل تیار ہوچکی تھی۔ یہ جوڑا اور جیولری وجدان نے اسے ایک دن پہلے ہی جا کر دلائے تھے۔ اس کی پسند دیکھ کر صالحہ عش عش کر اٹھی تھی۔ وہ بواش روم سے شاور لے کر نکلا۔
“میری کالی شال کہاں ہے؟”۔ تولیہ سے بال رگڑتے ہوئے اس نے صالحہ سے پوچھا تھا۔
“یہ بیڈ پر ہے”۔ اس نے واڈروب سے اپنی سینڈل نکال کر پہنی۔ وجدان سفید کرتے پر کالی شال پہنتا آئینے کے سامنے کھڑا ہوا۔ اب وہ تیزی سے کنگھے کو بالوں پر چلا رہا تھا۔
“آپ تیار ہیں؟”۔ اسے بنا دیکھے پوچھا۔
“جی بس چادر لیلوں”۔ وہ اس کے برابر آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی تو وجدان کا بالوں پر چلتا ہاتھ رک گیا۔ آنکھوں پر مسکارا لگانے پر اس کی گھنی پلکیں اور گھنی ہوگئیں۔
“کیا یہ مسکارا زیادہ لگ رہا ہے؟”۔ صالحہ نے اپنا آپ جب آئینے میں دیکھا تو اسے مسکارا بہت زیادہ محسوس ہوا۔
“یہ بہت خوبصورت ہے”۔ وجدان نے آئینے کے عکس میں آتی صالحہ کی آنکھوں کو دیکھتا ہوا بولا۔ صالحہ نے بھی اس کا عکس آئینے میں دیکھا۔ کالی شال اس پر بہت سوٹ کررہی تھی۔
“ہم لیٹ ہورہے ہیں”۔ اس نے نگاہیں جھکا کر بتایا اور پیچھے ہٹ گئی۔ وجدان کا اس کا “ہم” کہنا بےحد اچھا لگا۔ وہ مسکراتا ہوا پلٹا تو صالحہ کی نظر اس کے گہرے ڈمپل پر پڑیں۔
“آپ نے تحفہ رکھ لیا”۔ اس کی نگاہیں بار بار صالحہ کی جانب اٹھ رہی تھیں۔
“جی”۔
“چلیں؟”۔ وجدان نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھا۔ صالحہ نے اثبات میں سرہلایا اور ساتھ اپنی چادر اوڑھی۔ وجدان نے چابی میز سے اٹھائی اور دونوں نیچے بڑھ گئے۔
۔۔۔★★۔۔۔
صالحہ کو ہال اور یہاں کے انتظامات اچھے لگ رہے تھے۔ وہ دونوں اسٹیج پر بیٹھے زید اور اس کی بیوی امرحہ سے مل آئے تھے۔ پورے فنکشن میں وجدان کی نظریں صالحہ کو تکنے میں مصروف تھیں۔ جب آنکھوں سے آنکھیں ملتی تو صالحہ تیزی سے نگاہیں چرا لیتی۔ ایسے میں اس کے گال اور زیادہ دہکنے لگتے۔ ان اداؤں سے وجدان لطف اندوز ہورہا تھا۔ زید ان دونوں کے پاس اسٹیج سے اتر کر ملنے آیا۔
“ًٹھیک ہیں بھابھی آپ؟”۔ اس نے وجدان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر صالحہ سے پوچھا۔ صالحہ نے مسکرا کر اثبات میں سرہلایا۔
“آپ کو بہت مبارک ہوئی بھائی”۔ وہ اس کے لیے سچ میں خوش تھی۔
“جزاک اللہ بھابھی اور بتائیں”۔ زید نے ایک نظر اپنی دلہن کو اسٹیج پر دیکھا جو گھونگھٹ ڈالے بیٹھی تھی۔ صالحہ اور وہ دونوں اب آپس میں بات کررہے تھے۔ وجدان سامنے ہال میں داخلے کی جانب دیکھتے ہوئے ان کی باتیں ساتھ ساتھ سن کر مسکرا رہا تھا۔ تقریبا نو بجے کا وقت تھا جب ہال کے دروازے سے ایک ایسی شخصیت داخل ہوئی جسے دیکھ کر وجدان کا رنگ اڑا۔ اس نے سرعت سے زید کو دیکھا۔
“زید تو نے یہ کیا کیا”۔ وہ زید کو کندھے سے پکڑ کر دکھیل کر کہا۔
“کیا ہوا بھائی؟”۔ زید نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
“تو نے اسے بلایا ہے؟”۔ وجدان کی آنکھیں تیزی سے سرخ ہوئی تھیں۔
“کسے؟”۔ اس نے حیرانی سے باہر دروازے کی جانب دیکھا تو خود بھی کھٹک گیا۔
“مم۔میں نے اسے نہیں بلایا! بھلا میں کیوں بلانے لگا”۔ اس نے آنکھیں پھاڑ کر ان کی طرف چل کر آتی لڑکی کو دیکھا۔
“تو پھر؟”۔ وجدان سیدھا ہوا۔
“یہ تو اسی سے معلوم پڑے گا۔ ویسے تمہیں پگھلنے کی ذرا ضرورت نہیں ہے! اپنی بیوی کے پاس جاؤ جو حالات سمجھنے کی کوشش کررہی ہے”۔ زید نے صالحہ کی جانب جانے کا اشارہ کرکے اسے
حکم دیا۔
“تو ساتھ چل میرے! میں جانتا ہوں وہ میرے پاس ضرور آئے گی جب صالحہ کو میرے برابر میں کھڑا دیکھے گی”۔ وجدان زید کے ساتھ صالحہ کے قریب آیا۔
“کیا ہوا؟”۔ صالحہ نے پریشانی سے پوچھا۔
“کک۔کچھ نہیں”۔ وجدان ہکلایا۔
“ہیلو”۔ اس نے زید کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ زید نے اس سے ہاتھ ملایا۔
“تم؟”۔ زید کے لہجے میں سنجیدگی چھائی۔
“ہاں میں! سوچا تم نے تو بتایا نہیں تو خود ہی مل آؤں”۔ وہ ہرے رنگ کے سوٹ میں گہرہ کاجل لگائے ہوئی تھی۔
“ہیلو مسٹر وجدان”۔ نگاہیں اس پر اٹھیں تو ہاتھ بھی آگے بڑھایا۔ وجدان کا دل گویا بند ہوگیا تھا۔ کیا اسے بھی ہاتھ بڑھانا چاہیے؟ وجدان نے یک ٹک اس کی طرف بڑھے اس کے ہاتھ کو دیکھا اور خود صالحہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ کندھے سے پکڑ کر اسے خود سے قریب لگایا۔ صالحہ کی کچھ سمجھ نہ آئی تھی اور وہ شرم سے چور سر بھی نہیں اٹھا پارہی تھی۔
“میٹ مائی وائف! صالحہ وجدان”۔ اس نے مسکرا کر صالحہ کو آگے کیا۔ درشہوار نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ پیچھے کیا۔
“او تو یہ ہے تمہاری بیوی”۔ اس نے صالحہ کو سر تا پیر دیکھا۔ “پتا چلا تھا مجھے کہ تمہاری شادی ہوگئی۔ سوچا تم سے بھی مل لوں”۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ زبردستی مسکرا رہی تھی۔ زید کو پیچھے سے کسی نے آواز دی تو وہ اس کا کندھا دباتا اسٹیج پر چلا گیا۔ صالحہ کو اس لڑکی کا اپنے شوہر کے ساتھ اتنا بےتکلف ہونا ذرا نہیں بھا رہا تھا۔
“کیسی ہو صالحہ؟۔ میں تمہارے شوہر کی کبھی یونیورسٹی فیلو تھی!”۔ وہ مسکرا کر خود ہی اپنا تعارف کرنے لگی۔
“اوہ۔۔۔ اچھا اچھا”۔ اس نے وجدان کو دیکھ کر درشہوار کا جواب دیا۔
“اور بتاؤ وجدان؟ کیسے ہو کیا کررہے ہو آج کل؟”۔ وہ اب اس سے مکمل باتیں کررہی تھی۔ صالحہ کو وہ حد سے زیادہ بری لگی۔ اس نے یہ سوچ کر پانی کا بہانہ بنایا کہ وجدان اس کے جانے پر درشہوار سے بات ختم کردے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ پانی پی کر وہیں واٹر کولر کے پاس کھڑی رہی۔ درشہوار اس سے باتوں میں مگن تھی اور وجدان سنجیدہ لہجے میں اس کی باتوں کا جواب دے رہا تھا۔ دس منٹ گزر گئے مگر وجدان نے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ صالحہ کہاں ہے۔ صالحہ کا خیال خیال ہی رہ گیا۔ اس کا دل چاہا درشہوار کا منہ نوچ لے مگر ضبط بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ وہ بھلا ایسا کیسے کرسکتی تھی؟۔ وہ وہیں کھڑی رہی۔ نگاہیں بھٹک بھٹک کر دونوں پر جاتیں اور پھر وہ نظریں چرا لیتی۔ وجدان نے خود پر نگاہوں کی تپش محسوس کی تو گردن پھیر کر سامنے صالحہ کو اپنی جانب دیکھتا پایا۔ آنکھیں ملیں اور صالحہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے اسے کوئی فرق نہ پڑتا ہو۔ وہ پہچان گیا کہ وہ جیلس ہورہی ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ گہری ہوئی۔ وہ درشہوار کی پوری بات سنے بغیر ہی چلتا ہوا اس کی جانب آیا۔ پیچھے کھڑی درشہوار نے اسے روکنا چاہا مگر وہ روک نہ پائی۔ وہ حق نہیں رکھتی تھی اسے روکنے کا۔۔۔ بے اختیار دکھ سے اس نے وجدان کو دیکھا اور ایک بار پھر پچھتانے لگی۔
وہ صالحہ کے پاس جاچکا تھا۔
“کیا مزہ نہیں آرہا آپ کو یہاں؟”۔ وہ شریر مگر بظاہر سنجیدہ لہجے میں پوچھنے لگا۔ صالحہ ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے اسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
“آپ کیوں آگئے؟”۔ اس نے دور کھڑی درشہوار کو ایک نظر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“کیونکہ بیوی آپ ہیں! آپ کے پاس ہی تو آنا تھا”۔ وہ بھی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جواب دے رہا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ اب بھی قائم تھی۔
“کوئی ضرورت نہیں آپ کو میری پاس آنے کی۔۔۔ لگتا ہے درشہوار آپ کو بلانا چاہتی ہے۔ اسے باتیں کر آئیں”۔ مدھم آواز میں وہ نروٹھے پن سے کہتی اسٹیج کی طرف بڑھ گئی اور اسے تنہا کرگئی۔ اس نے وجدان سے ناراضگی مول لی تھی۔ وجدان نے نچلا لب دانتوں میں دبایا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو درشہوار اب بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر وہ اب صرف صالحہ کو ہی دیکھنا چاہتا تھا۔ جو ماضی تھا اسے ماضی ہی رہنے دینا چاہتا تھا۔ اب وہ وقت نہیں تھا کہ وجدان شہوار کے لیے تڑپے۔ صالحہ کی یہ باتیں معمولی نہیں تھی۔ وہ دل میں اس کے لیے سچے جذبات رکھتی تھی وہ یہ جانتا تھا۔ بس اب آگے کی راہیں اتنی دشوار نہیں تھیں۔ وہ کھل کر ایک بار پھر مسکرایا تھا۔ تو کیا وہ اسے اس طرح چاہنے لگی یے جیسے وہ چاہنے لگا ہے؟۔ دل کے رستے گزرتے دنوں کے ساتھ آسان ہوتے جارہے تھے۔ عنقریب اسے اپنی منزل ملنے والی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔