Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6


زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۶

فجر کی آذانیں اس کے کانوں میں داخل ہوئیں اور اس کی آنکھیں جھٹ سے کھلیں۔ وہ اٹھ کر بیٹھی اور سر پر چادر لے لی۔
“حی علی الصلوہ” کی آواز پر وہ آنکھیں پوری کھولتے ہوئے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ وضو کرکے نماز پڑھی اور دعائیں مانگیں۔ اس سب میں اسے ایک گھنٹہ لگا۔ دعائیں مانگنے بیٹھتی تو بھول جاتی کہ کتنا وقت گزرا ہے۔ اکثر اتنا وقت گزرتا کہ کمرہ صبح کی روشنی سے خود بھی روشن ہوجاتا۔ سوئیٹر اور شال سے خود کو لپیٹ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے گھڑی کی طرف نگاہ ڈالی اور خود چادر میں خود کو ڈھانپتی باہر نکل آئی۔ سخت سردی کے باعث باہر دھند چھائی ہوئی تھی۔ وہ زینے اتر کر نیچے آنے لگی۔ حویلی کے مرد سورہے تھے اور عورتیں جاگ گئی تھیں۔
“صالحہ تو جا کر تھوڑی دیر بعد چائے بنادینا ہم عورتوں کے لیے”۔
کچھ عورتیں کرسیوں پر بیٹھی تھیں۔ کچھ ادھر ادھر پھر رہی تھیں۔
“اماں کیا باورچی نہیں آئے کیا ابھی؟”۔
“نہیں کوارٹر میں ہی ہیں ابھی۔ ان کا وقت سات بجے ہے”۔
“اچھا”۔ وہ کچن کی طرف مڑنے لگی کہ سمیعہ تائی نے اسے روکا۔ اس نے پیچھے مڑ کر انہیں دیکھا جو ہاتھوں میں تسبیح لیے، اتری صورت اور نڈھال نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
“تجھے کام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں صالحہ۔ جو قاتل کی بہن اندر کھڑی ہے اس سے ہی بنوالے چائے”۔ انہوں نے کچن کی جانب اشارہ کیا۔ وہ ماں تھیں ۔ انہوں نے اپنا بیٹا کھویا تھا۔ اس نے ایک نظر انہیں دیکھا اور کچن میں بڑھ گئی۔
وہ لڑکی کچن میں سخت سردی میں دھلے ہوئے برتن پھر دھورہی تھی۔ صالحہ کو عجیب سی حیرت ہوئی۔ وہ کوئی سوئیٹر بھی نہیں پہنی ہوئی تھی اور کپکپارہی تھی۔
“یہ برتن پہلے سے ہی دھلے ہوئے ہیں۔ تم اسے اور کیوں دھو رہی ہو؟”۔ ا صالحہ کی آواز پر وہ لڑکی جھٹکے سے سہم کر مڑی۔
“مم۔میری نہیں غلطی۔ وہ۔۔وہ مجھے کہا گیا کہ میں۔۔۔رات کے دھلے برتن فجر میں دھویا کروں”۔ اسے لگ رہا تھا کہ صالحہ بھی اب برا برتاؤ کرے گی۔

“چھوڑدو برتن کو”۔ وہ نرمی سے کہتے ہوئے اسے پیچھے کرنے لگی۔
“ممم۔میں کرلوں گی پکا!۔ بس دس منٹ دے دیں اور خدارا”۔ وہ رونے لگی۔ صالحہ بے اسے دیکھا اور گہری سانس ہوا میں چھوڑی۔
“تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ رہا ہے لڑکی۔ تم یہیں میرے برابر کھڑی ہوجاؤ”۔ یہ کہتے ہوئے صالحہ برتن دھونے لگی۔
“آپ کیا کررہی ہیں”۔ وہ ڈررے ڈرتے پوچھنے لگی۔
اس کی آواز نہایت باریک تھی اور آواز سے ہی ظاہر ہوتا تھا کہ کوئی چھوٹی بچی بات کررہی ہے۔
“میں تمہارے حصے کے برتن دھورہی ہوں۔ باہر جاکر کہہ دینا کہ سارے برتن تم نے دھوئے ہیں۔ ٹھیک ہے؟”۔ اس کی طرف صالحہ نے مسکرا کر دیکھا تو وہ لڑکی اسے منہ کھولے حیرت سے دیکھنے لگی۔ نلکے سے ٹھنڈا پانی صالحہ کے ہاتھ پر پڑا تو صالحہ کو لگا اس کا خون جم جائے گا۔ اسے برابر میں کھڑی لڑکی پر ترس آیا کہ وہ لڑکی پتا نہیں کتنے دنوں سے یہ کام کررہی ہے۔

“کیا نام ہے تمہارا؟”۔ صالحہ نے نہایت نرمی سے پوچھا۔
وہ اس کے لہجے پر حیران رہ گئی۔
“رفاہ فاطمہ”۔ اس نے سردی سے کپکپاتے ہوئے بتایا۔
صالحہ نے اسے کپکپاتے دیکھا تو اپنی موٹی شال اتار کر اسے دے دی۔
“مجھے ضرورت نہیں ہے”۔ وہ جھجھکنے سے ذیادہ ڈری ہوئی تھی۔
“پہن لو رفاہ۔ میں جانتی ہوں تمہارے پاس کچھ نہیں”۔ باورچی خانے میں ذیادہ روشنی نہیں تھی جس کے باعث وہ اس کا چہرہ غور سے نہیں دیکھ پارہی تھی۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
“آپ مجھے ماریں گی نہیں؟”۔ اس نے آنسو پونچھتے ہوئے پوچھا۔
“ہائے میں کیوں اتنی پیاری سی لڑکی کو ماروں گی؟”۔ اسے حیرانی ہوئی اور افسوس بھی!

“جن کا قتل ہوا وہ آپ کے منگیتر تھے”۔
صالحہ کے دل پر ٹیس پڑی۔
“ہاں تو؟”۔وہ عام سے لہجے میں بولی۔
“تو آپ مجھے نہیں ماریں گی؟”۔
“تم نے قتل کیا تھا؟”۔ اس نے پلیٹیں سلیپ پر سجائیں۔
“ہاں”۔ لڑکی نے لب بھینچے۔
صالحہ کے حواس جنجھنائے۔
“پھر سے کہو؟”۔ وہ ششدر ہوکر بولی۔
“میرے بھائی نے کیا یا میں نے! بات تو ایک ہی ہے نا۔ سزا تو مجھے ہی ملنی تھی۔ بھائیوں کے ہر گناہ کی سزا بہن کے سر اور بہن کے گناہ کی سزا پر بہن ہی خود ذمہ دار ہوتی ہے”۔ وہ دھیمی آواز میں بولی۔
صالحہ خاموش ہوگئی۔
“میں نہیں ماروں گی تمہیں رفاہ۔ جس میں تمہاری غلطی ہی نہیں اس میں تمہارا کیا قصور؟۔ میں کوشش کروں گی کہ تمہیں اس ظلم سے بچاؤں۔ اچھا ایک بات تو بتاؤ تمہارا شوہر کہاں یے؟”۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ کہاں رہ رہی ہے۔
“میرا شوہر؟”۔ اس نے الجھ کر پوچھا۔
“لڑکی جس سے نکاح ہوا ہے تمہارا”۔
“میں نے انہیں دیکھا ہی نہیں کہ کس سے نکاح ہوا ہے میرا”۔ وہ نگاہیں جھکا کر بولی۔ صالحہ حیران ہوئی۔
“نکاح ہوا بھی ہے کہ نہیں؟”۔ اسے تھوڑا عجیب محسوس ہوا۔
“نکاح میں مولوی صاحب نے شرجیل بٹ کا نام لیا تھا”۔
صالحہ نام سن کر تھوڑا مطمئن ہوئی۔
“دیکھا نہیں اب تک انہیں؟”۔ صالحہ کے سوال پر اس نے نفی میں سرہلایا۔
“ہممم دکھا دوں گی”۔ اس نے چولہا جلا کر چائے کا پتیلا چڑھایا۔
وہ چپ رہی۔
“کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ میں عام زندگی نہیں جی سکتی۔ میں تو ونی ہوں نا؟ مجھ سے زبردستی سب کام کروائے ہیں”۔ اس کے اس طرح کہنے پر صالحہ کا دل حلق میں آگیا۔ اس کی باتیں اس کی صورت کی طرح معصوم تھیں۔
“الله پر یقین رکھو۔ ہم لوگوں کے خیالات کو بدل لیں گے”۔
اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
“آپ اس حویلی میں سب اچھی ہیں”۔ اس نے بچوں کی طرح اپنی ناک رگڑی۔
“یہاں اور بھی لوگ ہیں اچھے۔ تمہیں باری باری بتاؤں گی”۔ محبت سے کہتے ہوئے اس کا ماتھا چوما۔ روشنی سے باورچی خانہ روشن ہوچکا تھا۔ اس نے بتی بھی جلائی۔ اچانک گھنٹیوں کی مدھم آوازیں گونجنے لگی۔ صالحہ کی آنکھیں روشن ہوئیں اور وہ بغیر کسی ارادے کے باہر جانے لگی۔
“سب سے کہہ دینا کہ یہ چائے تم نے بنائی یے اور برتن بھی تم نے دھوئے ہیں۔ وہ میرا پوچھیں تو کہہ دینا ایک لڑکی اپنا آپ کسی کی آنکھوں میں دیکھنے گئی ہے”. یہ کہتے ساتھ وہ باہر نکل گئی۔ پیچھے کھڑی رفاہ حیران ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔ ہاں وہ سب سے منفرد تھی۔ وہ حویلی کے باقی لوگوں جیسی نہیں تھی۔ رفاہ کو وہ بہت اچھی لگی۔ اس کا دل صالحہ سے ایک اور ملاقات چاہ رہا تھا! بار بار ملاقات چاہ رہا تھا۔ وہ اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی۔
“چائے بنی یا میں آؤں ادھر؟”۔ باہر سے سیمعہ تائی کی آتی آواز اسے اندر تک لرزا گئی۔
“بب۔بن گئی”۔ یہ کہتے ساتھ وہ چائے کو چھاننے لگی۔
۔۔۔**۔۔۔
“میں آگئی پھپھو”۔ وہ نماز کی طرح ڈوپٹہ لیتے ہوئے ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔
ڈھلتے وجود نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرادیں۔
واقعی سب ڈھل جاتا ہے!۔
چاہے حسن ہی کیوں نہ ہو۔
مجبوریاں، حد سے زیادہ سختیاں، رویے سب بدل دیتے ہیں۔

“تھوڑی دیر میں باورچی آپ کا ناشتہ بنا دیں گے”۔ وہ کنگھا لے کر بستر پر ان کے پیچھے بیٹھیں۔
افشاں نے گردن موڑ کر اس کو بال بنانے سے روکنا چاہا، مگر صالحہ خفا خفا سی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ اس کے تاثرات بلکل بچوں جیسے تھے۔ کچھ لمحے اس کو دیکھنے کے بعد وہ کچھ اشارہ کیے بغیر رخ آگے موڑ گئیں۔ وہ اس کو منع بھی نہیں کرسکتی تھیں۔ ان کے بس میں یہ بھی نہیں تھا۔
“پھپھو! ویر مجھ کو شہر بھی لے کر جارہا ہے”۔ اس نے مسکراتے ہوئے بتایا۔ افشاں کے چہرے نے رنگ بدلا۔

اس نے پیچھے مڑ کر صالحہ کو آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ صالحہ پریشان ہوئی۔
“آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں پھپھو؟۔ وہ تو بس مجھے گھمانے لے کر جارہا ہے۔ آپ اس لیے پریشان ہورہی ہیں نا کہ میں آپ سے دور ہوجاؤں گی؟”۔ افشاں نے کچھ اشارہ دیے بغیر رخ موڑ لیا۔ وہ اب سامنے دیکھ رہی تھی۔
“آپ کو مجھ سے کوئی دور نہیں کرسکتا اور نہ مجھے آپ سے!۔ میں دو دنوں میں آجاؤں گی پھپھو۔ ویر کو کتنا خیال ہے نا میرا؟۔ واقعی اس جیسا بھائی میرے لیے خوش نصیبی ہے”۔ وہ بڑے مان سے بتارہی تھی۔ افشاں ساکت ہوئی بیٹھی اس کے مان پر گھبرارہی تھی۔ اسے آنے والا وقت اور ذیادہ ڈرا رہا تھا۔ ایک نئے خوف نے دل میں جنم لیا۔ بغیر مطلب کے کام کبھی حویلی کے مرد نہیں کیا کرتے تھے۔ اور ان سے بڑھ کر یہ بات اور کون جان سکتا تھا۔
۔۔۔**۔۔۔

وہ مزار کے گیٹ سے چھپ کر نکلتی ہوئیں وہاں سے دور جانے لگیں۔
“کیا جانا ٹھیک ہوگا بھابھی؟”۔ وہ ڈر رہی تھی۔
“اب کی بار مل کر تمام باتیں بتادینا اسے افشاں۔ اور یہ بھی کہ تمہارا اس سے آئندہ ملنا ناممکن ہے”۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے تیزی سے چل رہی تھیں۔
وہ دریا کنارے کھڑا تھا۔ اس کو دیکھ کر افشاں کی دل کی دھڑکن بڑھ گئی۔ ان دونوں کی طرف اس شخص کی پشت تھی۔ اچانک سے وہ گھوما تو وہ سامنے سے آرہی تھیں۔ اس کی نظریں بے اختیار جھک گئیں۔
شمیلہ نے قریب آکر افشاں کا ہاتھ چھوڑدیا۔ دونوں نے چادر سے منہ ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ شخص سوائے افشاں کی آنکھوں کے کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔

“اسلام علیکم”۔ اس نے جھک کر سلام کیا اور زمین کو تکنے لگا۔
سفید شلوار قمیض پر کالی دھاریوں والی شال پہنے وہ لمبا چوڑا شخص نظریں جھکائے اس سے گفتگو کررہا تھا۔
“وعلیکم سلام”۔ افشاں کی رنگت سفید لٹھے کی مانند ہوگئی۔ اسے ڈر تھا کہ اب وہ کیا بات کرے گا۔ ۔
“کیسی ہیں آپ؟”۔ بشارت حسین کے یوں پوچھنے پر شمیلہ بھابھی کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں۔ جس قدر احترام و عزت اس کی باتوں میں تھیں بلکل اسی طرح اس کی آنکھوں میں بھی تھی۔ اس نے ایک بار بھی نظریں اٹھا کر افشاں کو نہیں دیکھا۔
“میں ٹھیک ہوں”۔ افشاں نے دھیمی آواز سے کہا۔ سر سے پیر تک ڈھنپی ہوئی صالحہ جس کی صرف آنکھیں دکھ سکتی تھیں اس نے بھی نظریں اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی وجاہت سے بھر پور شخص کو نہیں دیکھا۔
“آپ سے ایک بات پوچھوں؟”۔ گھمبیر آواز میں وہ قدرے ادب سے بولا۔ افشاں کا دل حلق میں آگیا۔ وہ اس سے کیا پوچھنے والا تھا۔ شمیلہ بھابھی بس اس شخص کی شخصیت دیکھنے میں مصروف تھیں۔ جس کی آواز افشاں کے لیے بے حد نرم تھی۔ جو اتنی عزت دیتا تھا کہ بات کرنے سے پہلے بھی اجازت مانگتا تھا۔ وہ حیران تھیں۔ حویلی کے مردوں کا اس سے مقابلہ ناممکن تھا۔ جو اس سے اتنی محبت کرتا تھا کہ اس کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ افشاں نے اثبات میں سرہلایا۔
“کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟”۔ لہجہ عام سا تھا یا التجائی وہ جان نہ پائیں۔
افشاں کی سانسیں بےربط چلنے لگیں۔ اس کا دل گویا کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا۔ وہ کیا کہے؟ ہاں یا۔۔۔۔ ناں؟۔ اس کی ہونٹ کپکپانے لگے۔ چند لمحے لگے تھے اسے داجی اور ان کا رویہ یاد آنے میں۔ کتنے برسوں کی محبت تھی!۔ وہ سفرِ محبت میں ہار جائے گی وہ جانتی تھی، مگر ہمت نہیں ہارے گی۔ جیتنے کی ہر ممکنہ کوشش کرے گی، مگر وہ یوں چپ نہیں رہے گی۔ وہ کوشش اس لیے بھی کرے گی تاکہ بعد میں دکھ نہ رہے کہ کوشش نہیں کی! اگر ہار جائے گی تو یہ تسلی پھر بھی رہے گی کہ کوشش تو کی!۔
اس کی حیا سے نظریں جھک گئیں۔ رخسار ایک دم گلابی ہوگئے۔
“مجھے قبول ہے بشارت، مگر۔۔۔”وہ جملہ مکمل کر نہ پائی اور اداس ہوگئی۔ بشارت نے تیزی سے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی چادر اس کے چہرے سے سرک چکی تھی۔ نظر پڑتے ہی بشارت نے جھٹکے سے چہرہ پھر نیچے جھکا لیا۔ افشاں نے تیزی سے اپنی چادر درست کی۔
“مگر کیا؟”۔ بشارت حسین کے دل میں ہول اٹھنے لگا۔
افشاں نے لب بھینچ لیے۔ اس کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے۔ وہ انتظار کرتا رہ گیا، مگر افشاں کے لبوں سے ایک الفاظ نہیں نکل پایا۔ اس کی ہمت نہ ہوئی تو اس نے شمیلہ بھابھی کو نظریں اٹھا کر دیکھا۔
“چلیں بھابھی”۔ آواز رندھی ہوئی تھی۔
بشارت کبھی سر نہ اٹھاتا اگر اس کی رندھی آواز اور اس کی بات نہ سن لیتا۔
افشاں نے شمیلہ کا ہاتھ تھاما اور مڑنے لگی۔ اس منزلِ لاحاصل کو پانے کی چاہت کا ختم ہونا ناممکن تھا۔ شمیلہ بھابھی دکھ سے اس کے ساتھ چل پڑیں۔

“آپ نے اپنا جملہ مکمل نہیں کیا۔ محبوب کبھی بھی ادھوری بات نہیں کرتے افشاں جی”۔ وہ تک زمین کو رہا تھا، مگر مخاطب اس لڑکی سے تھا جو اس کی راتوں کی نیند بھی چرانے میں ماہر تھی۔ افشاں کے بڑھتے قدم رک گئے۔ وہ ابھی بھی نہیں رکنا چاہتی تھی، مگر اس کے الفاظ افشاں کے پاؤں پر زنجیر باندھ گئے تھے اور وہ دو قدم بھی آگے چلنے سے قاصر ہوگئی تھی۔
“ایک بے یارو مددگار شخص کی محبت بھی آپ کو نہیں روک پا رہی افشاں جی”۔ وہ تڑپ کر نظریں اٹھا کر بولا۔ شمیلہ نے اس کو بشارت کی طرف پلٹانا چاہا، مگر اس نے نفی میں سرہلایا۔
“پلٹنے سے امید بندھ جاتی بھابھی”۔ ایک دم مرجھایا ہوا چہرہ اور مرجھاگیا۔
“کیا میں قبول نہیں؟”۔ بشارت نے پیچھے سے آواز دی۔
یہ وہ سوال تھا جس پر وہ سرعت سے مڑی تھی۔ نگاہیں اس سے جا ملیں اور کنچی آنکھوں کو دیکھ کر ہی نگاہیں پھر سے جھکادی گئیں۔
“محبت کا چرچا میں سرِ بازار کرنے کے قائل نہیں بشارت حسین۔ اگر قائل ہوتی نا تو پورا گاؤں ہمارا نام ایک ساتھ پکارتا”۔ اس کی اب بھی آواز رندھی ہوئی تھی۔
“تو پھر کیا روک رہا ہے آپ کو افشاں جی؟ حویلی والے مان جائیں گے”۔ وہ جان گیا تھا اسے کیا خوف یے۔ افشاں کا رنگ بدلا۔
“اگر حویلی والے مان جاتے تو شمیلہ بھابھی بھی یہاں نہیں ہوتیں ابھی بشارت حسین۔ میری زبان کاٹ دی جائے گی۔۔۔ مجھے لہولہان کردیا جائے گا، مگر اس شخص سے شادی نہیں کی جائے گی جو میری محبت ہو۔ یہ ظالموں کی بستی ہے”۔ اس کے آنسو رخسار پر بہنے لگے۔ بشارت کا دل چاہا یہی خود کو زمین پر گاڑ لے۔
“مگر ہار نہیں ماننی چاہیئے افشاں جی۔ محبت میں تو بلکل نہیں۔ یہی وقت ہوتا ہے جب دو لوگ اپنی محبت کا ثبوت دیتے ہیں”۔

“میں جانتی ہوں ہار ہی ملے گی، مگر مجھے اس رب پر یقین یے۔ میں ہمت نہیں ہاروں گی۔ ہماری آئندہ ملاقات آخری ملاقات ہوگی بشارت حسین!” یہ بات اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہی تھی۔ بشارت ساکت ہوگیا۔
“کک۔کیوں؟”۔
“اگلی بار آؤں گی تو زندگی کا فیصلہ ہاتھ میں ہوگا۔ وہ پرچہ آگے بڑھاؤں گی اور اگر اس میں لکھا ہوگا کہ دیا جلتا رہے گا تو اس کا مطلب ہوگا افشاں کو اپنے سامنے کھڑے شخص سے کوئی دور نہیں کرسکتا”۔ اس کی پلکیں جھکیں۔ اس شخص نے مسکراتے ہوئے لب بھینچ لیے۔ شمیلہ بھابھی کے دل سے دعا نکلی تھی کہ ان دونوں کے لبوں پر یوں ہی مسکراہٹ رہے۔
“کیا میں کچھ کہوں؟”۔ بشارت نے اجازت مانگی۔
“جی کہیے”۔
“میں اس کہانی کا دوسرا رخ نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ میں چاہتا۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ کہ دیا یوں ہی جلے رہے”۔
“کون ظالم نہیں چاہتا یہ بشارت صاحب”۔ وہ مسکراتے ہوئے پلٹ گئی۔ وہ تب تک یوں ہی کھڑا رہا جب تک وہ دونوں اس کی نگاہوں سے اوجھل نہیں ہوگئیں۔ وہ دعا کرنے لگا کہ افشاں کو بشارت حسین کا کردیا جائے۔
۔۔۔**۔۔۔
“صالحہ؟”۔ حیدر کی نیچے سے آواز آنے پر وہ سر پٹ نیچے دوڑی۔
“میں جارہا ہوں شہر۔ سامان تو باندھ لیا ہوگا تم نے جاؤ لے آؤ۔ تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گا”۔ وہ نظریں چراتا ہوا بولا۔
“کب؟”۔ اس کا چہرہ کھل اٹھا۔
“ابھی فوراً جانا ہے۔ جلدی آجاؤ جب تک میں داجی کے علم میں لے آؤں یہ بات”۔ وہ مڑنے لگا۔
“کیا تھوڑی اور دیر نہیں رک سکتے؟ میں ثریا سے مل کر جانا چاہتی ہوں”۔ دل تھا کہ بول دے “افشاں پھپھو سے بھی”، مگر ہمت نہ ہوئی۔
“نہیں میرے پاس وقت نہیں ہے۔ جلدی آجاؤ نیچے” وہ مڑے بغیر بولا اور قدم بڑھالیے۔ وہ گہری اداس بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے سانسیں بھر کر زینے چڑھتی چلتی چلی گئی۔ کمرے میں پہنچ کر کچھ ضروری سامان باندھا اور نیچے اتر آئی۔

“کیا میں پھپھو کو اپنے جانے کا بھی نہیں بتا سکتی؟”۔ وہ دکھ سے سب سے اوپری منزل کو دیکھ کر سوچنے لگی۔
“تم آگئی؟”۔ وہ داجی کے کمرے سے باہر نکلا تھا۔
“ہاں”۔ صالحہ دھیمی آواز میں بولی۔
“چلو باہر آجاؤ”۔ اس کو اشارہ کرتے ہوئے اس نے گاڑی کی چابی اٹھائی اور باہر نکل گیا۔ مرے مرے قدموں سے اس کے پیچھے چلتے ہوئے صالحہ نے ایک بار پھر اوپری منزل کو دیکھا تھا۔
“صالحہ اگر نظارہ ہوگیا ہو تو گاڑی میں بیٹھ جاؤ! مجھے شام سے پہلے پہلے کہیں پہنچنا ہے”۔ وہ معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
“آگئی ویر”۔ اس نے قریب آکر گاڑی میں اپنا چھوٹا سا بیگ رکھا اور آگے آکر بیٹھ گئی۔
“اللہ حافظ صالحہ۔ اللہ تجھے اپنی امان میں رکھے۔ خوب مزے کرنا”۔ اوپر سے آتی آواز پر اس نے نگاہیں اٹھائیں۔ اماں اسے پہلی منزل سے ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ اس کے لبوں پر مسکراہٹ تک نہ آئی۔ وہ نگاہیں نیچے کرلیتی اگر اسے اپنی اماں کی منزل کی اوپر والی منزل پر ایک عورت جھانکتی نہ ملتی۔ جو اسے مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلا رہی تھی۔ صالحہ نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔
“اللہ حافظ”۔ وہ اب اور تیزی سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔ اماں کو کچھ دیر بعد احساس ہوا کہ وہ اسے ہاتھ نہیں ہلا رہی۔ انہوں نے اس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اوپر مڑ کر سر اٹھا کر دیکھا۔ وہ انہیں نہیں! اپنی پھپھو کو ہاتھ ہلا رہی تھی۔ ہاں! اسے اپنی ماں سے اتنی انسیت نہیں تھی جتنی اپنی پھپھو سے تھی۔ گاڑی دھواں اڑاتی آگے بڑھ چکی تھی اور وہ ایک نظر اس عورت کو دیکھ کر گاڑی کو دیکھ رہی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔ وہ نہا کر واشروم سے نکلی اور بالوں کو تولیہ میں لپیٹنے لگی۔ وہ کوئی گھنٹے پہلے ہی سوکر اٹھی تھی۔ یونیورسٹی سے چھٹی کی تھی کہ آج حیدر سے ملاقات طے پائی تھی۔ ڈھیلے ڈھالے سے ٹراؤزر پر ڈھیلی سی ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ گھڑی پر نظر ڈالتی وہ تولیہ لپیٹتی کمرے سے باہر نکلی۔ باہر نکل کر اس نے سب سے پہلے تمام لائیٹس جلائیں۔ اسے لگا کہ وجدان دفتر میں ہے اس لیے کھٹکھٹائے بغیر اندر داخل ہوگئی۔ بستر پر لیٹا وجدان گہری نیند میں تھا۔ وہ حیران ہوئی۔ ایک دفع پھر گھڑی دیکھ کر اس نے اس کے کمرے کی لائیٹ جلائی۔ منہ پر روشنی پڑی تو وہ کسمساتا ہوا کروٹ لے گیا اور کمبل سر تک اوڑھ لیا بلکل ایک چھوٹے سے بچے کی طرح۔ وجیہہ تھوک نگلتے ہوئے اس کے قریب آئی اور مسہری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ “آپ کو آفس نہیں جانا؟”۔ آواز قدرے دھیمی تھی۔ اس سوتے وجود میں ذرا بھی ہلچل نہیں ہوئی۔ اس نے ایک بار پھر اسے آواز دی، مگر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ ایک دم اس کے خراٹے گونجنے لگے۔ جیا کا دل چاہا دل کھول کر ہنس دے۔ اس نے محبت سے ہاتھ آگے بڑھایا اور اس کے بازو پر ہاتھ رکھا۔ وہ ہاف سلیوز شرٹ پہنا ہوا تھا۔ ایک دم ٹھنڈا ہاتھ خود پر محسوس کیا تو تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔ جیا بھی ٹھٹھک گئی۔ سر اٹھا کر دیکھا تو وجیہہ بیٹھی تھی۔ کچھ لمحے اسے یوں ہی دیکھ کر وہ گہری سانس لیتا ہوا اٹھ بیٹھا اور پیر بستر سے نیچے لٹکالیے۔ وہ سانس روکے یوں ہی پیچھے بیٹھی تھی۔ وجدان کی اس کی طرف پیٹھ تھی۔ “آپ۔۔۔۔ آفس۔۔ نہیں گئے؟”۔ اس نے نگاہیں جھکا کر پوچھا۔ “چھٹی لی ہے تمہاری وجہ سے”۔ دونوں ہاتھوں سے بالوں کو سختی سے پیچھے کر کے سر تھاما۔ “ملاقات کی جگہ؟”۔ اس نے تھوگ نگل کر آنکھیں جھپک کر پوچھا۔ “یہ بھی تم بتادو! چلے جاؤں گا تمہارے ساتھ”۔ کہتا ساتھ ایک نظر اسے دیکھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ وارڈروب سے کپڑے نکالے اور واش روم کی طرف مڑنے لگا۔ “کچھ گرم پہن لو۔ ٹھنڈ ہورہی ہے بیمار پر جاؤگی”۔ سادے سے لہجے میں کہتے ہوئے وہ واش روم کا دروازہ کھولتا اندر چلاگیا۔ وجیہہ بند دروازے کو تکتی رہ گئی۔ چاہے جتنی بھی ناراضگی ہو وہ اس کی پرواہ کرنا نہیں چھوڑسکتا تھا۔ مرے مرے قدموں سے اپنے کمرے کی جانب مڑ گئی۔ ۔۔۔۔۔۔
“اور کتنا وقت ویر؟”۔ وہ اب بیٹھے بیٹھے تھک چکی تھی اس لیے منہ بسور کر پوچھنے لگی۔
“بس پہنچنے والے ہیں صالحہ!”۔ کالے چشمے کے پیچھے سے دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا۔
“ویر تم اپنے والے فلیٹ لے کر جاؤ گے نا؟”۔ اس نے قدرے اشتیاق سے پوچھا۔
“ہاں، مگر ابھی نہیں۔ ابھی مجھے کسی سے ملاقات کرنے جانا ہے”۔ اس نے گاڑی کی رفتار اور بڑھائی۔
“مجھے گھر میں اکیلا چھوڑ کر مت جانا۔ میں اکیلے کیا کروں گی؟ مجھے تو کچھ معلوم بھی نہیں”۔ وہ پریشانی سے بولی۔
“تمہیں ساتھ لے کر جارہا ہوں۔ پہلے میں کسی سے ملاقات کروں گا۔ پھر ایک گھنٹے بعد ہم نکل آئیں گے وہاں سے۔۔۔ تم رات میں کیا کھاؤ گی صالحہ؟”۔

“جو بنے گا کھالوں گی”۔ وہ اپنے ناخن چباتے ہوئے بولی۔
“ناخن مت چباؤ”۔ اس نے ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ جھڑکا۔ “چلو میں تمہیں شہر کا برگر اور اس جیسی چیزیں کھلاؤں گا”۔ اس نے صالحہ کو خوش کرنا چاہا۔
“ہاں اور وہ۔۔ وہ بھی۔۔۔ وہ کیا تھا؟ ارے وہی جو پچھلی بار کھلایا تھا”۔ وہ ذہن پر زور دینے لگی۔

“وہ پزا تھا صالحہ”۔ وہ زور سے ہنس دیا۔
“ہاں مجھے وہ کھانا ہے۔۔ کھلاؤ گے نا؟”۔ بہت ہی معصوم سی صورت بنائے وہ پوچھ رہی تھی۔
“ہاں ہاں ضرور!۔ جب تک ہم شہر میں ہیں ہم صرف وہی کھائیں گے جو صالحہ کہے گی”۔ حیدر کے یوں کہنے پر کھل اٹھی۔
“ہاں نا وہی تو۔۔۔ اب شہر کونسا ہر ہفتے جانا ہوتا ہے میرا”۔ ثریا بےچارگی سے بولی۔
“اب تو کچھ دنوں بعد تم ہمیشہ کے لیے یہیں آجاؤ گی صالحہ”۔ وہ منہ سے کہہ نہیں پایا تھا مگر دل میں ضرور دہرایا تھا۔
“ہاں تو چلو بس ایک جگہ جانا ہے پھر۔۔۔”
“کہاں ملاقات کرنی ہے؟ مطلب جگہ؟”۔ صالحہ نے بات کاٹی۔
“ہاں وہ جس سے ملاقات کرنی ہے اس کا ابھی آئے گا میسج”۔ وہ ابھی بتا ہی رہا تھا کہ فون میں بپ ہوئی.
“لگتا ہے آگیا ہے”۔ سرعت سے کہتے ہوئے موصول ہوا میسج دیکھنے لگا۔
“تو پتا چلا کہاں ہے؟”۔ اس نے چادر کا پلو دانتوں سے کھینچتے ہوئے پوچھا۔
“ریسٹورنٹ میں”۔ وہ میسج دیکھ چکا تھا اور اب موبائل جیب میں رکھ رہا تھا۔
“ریسٹورینٹ؟”۔
“ہاں”۔
“جہاں کھانا ملتا ہے؟”۔ اس کی آنکھیں چمکیں۔
“ہاں صالحہ۔ الحمداللہ بارھویں پاس کرنے والی ہو اور یہ نہیں پڑھا کہ شہروں میں ریسٹورینٹ ہوتے ہیں؟”۔ و ہ دھیرے سے ہنسا۔
“ہاں تو پڑھا ہے لیکن دیکھا نہیں نا”۔ وہ بھی روٹھتے ہوئے بولی۔
“ارے؟ پچھلی بار شہر جب لایا تھا تو ریسٹورنٹ لے کر گیا تھا! بھول گئی کیا؟ جہاں تمہیں چمچ سے کھانے میں ذرا سی پرابلم بھی ہورہی تھی”۔ وہ پھر سے ہنس دیا تھا۔
“اوہ وہ تھا ریسٹورنٹ۔ سمجھ گئی ہوں میں ویر۔ اب ہم شہر آ ہی گئے ہیں تو تم مجھے اپنی یونیورسٹی دکھاؤ گے نا؟۔ اور ہاں بہت سارے اسکول بھی دکھانا۔ شہر تو بڑے ہوتے ہیں اور یہاں کے اسکول بھی بڑے ہوں گے. مجھے دکھاؤ گے نا؟”۔ وہ اپنے دل میں جاگتی خواہشوں کو دبا نہیں پائی۔ حیدر نے گردن موڑ کر صالحہ کو دیکھا۔
“ہاں سوچ رہا ہوں تمہاری اس دفع تمام خواشات پوری کردوں۔ ہوسکتا ہے اس کے بعد تم میرے ساتھ شہر ہی نہ آسکو”۔ اس کی آواز یہ کہتے ہوئے کپکپائی تھی۔
“ہائے تو کیا میرا ویراں مجھے اگلی بار نہیں لے کر آئے گا”۔ وہ گاڑی کی سیٹ پر آلتی پالتی مار کر بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ باتیں حیدر کو اندر سے اور خاموش کر گئی۔
“دیکھو پتا بھی نہیں چلا تمہیں اور ہم شہر میں داخل بھی ہوچکے ہیں!۔ اب تو ملاقات کی جگہ بھی دور نہیں۔ بس پانچ منٹ اور پھر ریسٹورنٹ آجائے گا”۔
حیدر کے منہ سے شہر کا نام سن کر وہ تیزی سے کھڑکی کی طرف رخ کر بیٹھ گئی اور باہر جھانکنے لگی۔ باہر سے آتی ہواؤں سے اس کا ڈوپٹہ اس کے سر سے کھسکنے لگا مگر اس نے مضبوطی سے تھام لیا۔ شہر کی روشنیاں اور سڑکوں پر شور اسے اپنی جانب متوجہ کررہا تھا۔ حیدر کے دل پر بوجھ پڑا۔ اس نے گاڑی کی رفتار کم کرلی تاکہ صالحہ باہر کا نظارہ سکون اور آرام سے کرسکے۔ صالحہ بہت غور غور سے سب دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار آئی ہو۔ وہ ارحم کا غم بھلا نہیں سکتی، مگر کوشش کررہی تھی۔ اس کا دل ارحم کی محبت سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں کسی تیسرے کی جگہ نہیں تھی۔ وہ مسکرا کر ایک نظر ویر کو دیکھ کر پھر سے باہر دیکھنے لگی۔ آنے والے ہر لمحوں سے بےخبر وہ کنچی آنکھوں والی اپنا اس شہر میں آنا خوش قسمتی سمجھ رہی تھی۔
۔۔۔**۔۔۔
“تیار ہوگئی ہو تو باہر آجاؤ۔ میں گاڑی میں انتظار کررہا ہوں”۔ اس کا دروازہ ناک کرتے ہوئے اسے بتاتا ہوا وہ نیچے بڑھ گیا. کالے پینٹ کوٹ پر نفاست سے بال بنائے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر بیٹھا۔ آج کے لیے وہ اپنا دل مردہ کرچکا تھا۔ اسے یاد آیا وجیہہ نے کہا تھا وہ اپنی بہن کو ساتھ لائے گا تاکہ وہ اسے دیکھ سکے۔ وجدان نے ہنکارا بھرا.
“کتنا بےغیرت بھائی ہوگا جو اپنی بہن کو ایک اجنبی مرد کے سامنے نمائش کروانے لائے گا”۔ وہ کڑوے پن سے مسکرایا۔
“میں آگئی ہوں”۔ وہ دروازہ کھولتی اس کے برابر والی سیٹ ہر بیٹھ گئی۔
“کہاں جانا ہے؟”۔ اس نے گردن موڑے بغیر پوچھا۔ کھڑے نقوش اور ماتھے پر پھیلے بل اسے غصہ والا ثابت کررہے تھے مگر وہ ایسا نہیں تھا۔ وہ اسے غور سے دیکھ رہی تھی۔ یہ واقعی سچ تھا کہ وہ ایک خوبصورت مرد تھا اور اس وقت وہ اسے عام دنوں سے زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔ جب جواب نہ موصول ہوا تو وجدان نے لب بھینچے جس سے اس کے ڈمپل گہرے ہوئے۔ وجیہہ ہڑبڑائی اور اسے ریسٹورنٹ کا نام بتانے لگی۔ وہ آنکھیں چھوٹی کرتے ہوئے اسٹیرنگ کو گھورتے ہوئے پتا نوٹ کرنے لگا۔ وجیہہ پتا بتا کر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگی۔ ایک دفع بھی مڑ کر وجیہہ کو دیکھے بغیر اس نے گاڑی چلادی۔ بس دل اب اداس ہوچکا تھا۔ ایک اداس دل کے ساتھ ایک اداس شام!۔ اس کا دل چاہا گاڑی کی رفتار آہستہ کرلے۔ بےچینی میں بڑھتی جارہی تھی۔ اس نے ٹیپ پر غزل لگائی۔

میں اداس راستہ ہوں شام کا۔
مجھے آہٹوں کی تلاش ہے۔
یہ ستارے سب ہیں بجھے بجھے
مجھے جگنوؤں کی تلاش ہے
یہ خوشی ہے مجھ سے خفا خفا
مجھے زندگی کی تلاش ہے
میری پیاس میں وہ طلب نہیں
مجھے تشنگی کی تلاش ہے
ایک ہجوم سا ہے رواں دواں
مجھے دوستوں کی تلاش ہے

یہ اس کے ساتھ دوسری بار تھا جب اس نے یہ غزل بھی خود پر محسوس کی۔ ایسا لگتا ہے سب اس کے لیے لکھا گیا۔ دل میں اب تکلیف ہورہی تھی۔ کسی اپنے کی بے رخی جھیلی ہے اس دل نے۔ گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔ یہ شام بھی شاید اس کی طرح ہی اداس تھی۔ وہ جانتا تھا وجیہہ اس کا کرب محسوس نہیں کرسکتی۔ وہ اس جیسی محبت نہیں کرسکتی۔
۔۔۔**۔۔۔