Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zanjeer By Ayna Baig

اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک بند کمرے میں تھی۔ اس کے سر پر کوئی پٹیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے سر اوپر کرکے دیکھنا چاہا، مگر کمزوری اتنی کہ ایک انچ نہ ہل پائی۔ کیا ہوا تھا؟ وہ یہاں کیوں ہے اور کب سے ہے؟ وہ ماضی کو یاد کرنے لگی۔ سانسیں گہری ہورہی تھیں۔ سر پر ایک اور پٹی رکھی گئی۔ اس نے بولنے کی کوشش کی، مگر بول نہ پائی۔ ایک لالٹین اس کے سامنے میز پر رکھی تھی جس کی مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی بولنے کی، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ہمت ہارے بغیر وہ پھر سے کوشش کرنے لگی۔ لب کپکپائے اور لرزتے ہوئے ایک الفاظ لبوں سے آذاد ہوا۔ "ک۔ککون؟"۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔

"تمہاری چچی"۔ اس کے پیچھے بیٹھی عورت دھیرے سے بولی اور ایک پٹی پھر اس کے ماتھے پر رکھی۔ "شمیلہ؟"۔ ادھ کھلی آنکھوں سے سامنے دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھا۔ "ہاں میری دھی"۔ وہ پیار سے ہاتھ اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر بولیں۔ صالھہ نے پوری آنکھیں کھولیں۔ ایک دم ذہن میں جھماکا ہوا۔ وہ سفید کپڑے میں لپٹا وجود، خون اور چیخنے چلانے کی آوازیں اور اس کا بےہوش ہونا۔ ہاں اسے سب یاد تھا۔ اسے وہ لمحات یاد آئے تو سانسیں پھولنے لگیں۔دل زور زور سے دھرکنے لگا۔ وہ ساری طاقت جمع کرتی ہوئی اٹھ بیٹھی ۔ "چچی ارحم صاحب؟؟ " شمیلہ چچی نے اسے دیکھا، مگر کچھ کہا نہیں۔اب بھلا وہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر دہراتیں کہ وہ اب نہیں رہا؟۔ انہوں نے نظریں پھیرلیں۔ وہ ان کے جواب کا انتظار کرتی رہی۔ "ٹھیک ہے میں خود ہی پتا کرلیتی ہوں"۔ وہ ڈوپٹہ اٹھاتی ہوئی خود ہی دروازے کی جانب بڑھی۔ کمزوری کے باعث چال میں لڑکھراہٹ جاری تھی۔ "اس کو مرے ہوئے دو دن ہوچکے ہیں صالحہ!"۔ انہوں نے بھاگتی ہوئی صالحہ کو اطلاع دی۔ وہ بول نہیں رہی تھی بلکہ زنجیر سے اس کے پاؤں لپیٹ رہی تھیں۔ وہ الفاظ نہیں تھے، وہ خنجر تھے اور اس درد کی تکلیف ایسی تھی جیسے ایک زخم پر بار بار وار کیا جائے۔ اس نے تیزی سے پلٹ کر انہیں دیکھا۔