Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

.
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۲
وہ حویلی کو الوداعی نظروں سے دیکھ آئی تھی۔ اس نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس کی عمارت پر بھرپور نگاہ ڈالی تھی۔ پیچھے سے بیگ گاڑی سے نکالتا حیدر اس کے رکنے پر اسے تکنے لگا۔ یہ وہی گھر تھا جس میں وہ ٹہھرا کرتا تھا۔ وہ دروازہ ہاتھ سے کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔ شمیلہ بھابھی جو پھولوں سے گھر کو سجا رہی تھیں اس کی آمد پر بھاگی بھاگی آئیں۔
“ارے دلہن آگئی”۔ انہوں نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھرا اور پیشانی چومی۔
“میں نے تمہیں دو دن بہت یاد کیا”۔ وہ بہت محبت سے کہہ رہی تھیں۔ صالحہ نے پھیکا سا مسکرا کر پیچھے پھولوں سے سجا کر دیکھا۔

“یہ گھر کیوں سجایا ہے؟”۔ وہ ہر جذبات سے عاری ہوکر پوچھ رہی تھی۔۔
“شادی کا گھر ہے صالحہ”۔ انہوں نے اس کے چہرے کی لٹ کو کان کے پیچھے کیا۔
“شادی؟ نہیں نہیں شادی صرف ویر کی ہے! میرا جنا۔۔۔”َ وہ ابھی جملہ مکمل ہی کررہی تھی کہ شمیلہ نے اس کو کندھے سے پکڑ کر جنجھوڑ ڈالا۔
“نہیں صالحہ ایسا مت کہو خدارا۔۔۔ اپنے لیے نہیں تو میرا ہی احساس کرلو”۔ یہ کہے ہوئے ان کا لہجہ گیلا ہوگیا تھا۔۔ صالحہ نے انہیں دیکھا اور اثبات میں سرہلاتے ہوئے اندر بڑھ گئی۔ اسے ان پھولوں سے نفرت ہورہی تھی جو دیوار پر بہت خوبصورتی سے سجائے گئے تھے۔ ان پر نفرت بھری نگاہیں ڈال کر وہ سب کو حیران چھوڑ کر اوپر چلی گئی۔ کمرے میں داخل ہوکر اس نے پورے کمرے کا جائزہ لیا تھا۔ اس کمرے کی سجاوٹ دوسرے کمروں سے زیادہ تھی۔ بےدلی سے اس نے اپنا چھوٹا سا بستہ بیگ پر رکھا اور گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔ شام کے سائے پھیل چکے تھے۔ وہ سفر سے اس قدر تھک چکی تھی کہ بستر پر لیٹ کر اسے ایک تھکن سی اترتی محسوس ہورہی تھی۔ دل کے اندر شور اٹھا تھا اور باہر بہت سناٹا تھا۔ وہ ارحم کی پھٹی ہوئی تصویریں ساتھ لے کر آئی تھی۔ بیگ سے ارحم کی تصویریں نکالیں تو ایک افشاں کی بھی تصویر نکل آئی۔ ارحم کی وہ تصویریں اس نے بہت سنبھال کر رکھیں تھیں۔ ایک آنکھ سے آنسو نکلا اور چادر پر جذب ہوگیا۔ افشاں کی تصویر پر نگاہ پڑی تو وہ لب بھینچ گئی۔ اس کی یاد سے دل میں ایک درد اٹھا اور وہ آنکھیں موند گئی۔۔۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
“بس اب میں بہت تھک گیا ہوں وجدان”۔ وہ صوفے پر لیٹ چکا تھا۔ وجدان جو اسٹول پر چڑھا ہوا تھا، اس کی اس بات پر اسے گھور کر رہ گیا۔
“تمہاری یہ گھوریاں مجھ پر ایک فیصد بھی اثر نہیں کررہیں”۔ وہ اب آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں میچ چکا تھا۔
“تو نے کیا ہی کیا ہے اب تک؟”۔ وجدان نے پھول کی لڑی کو دیوار پر سجا کر غصے سے پوچھا۔
“آئے ہائے تو یہ نہیں کہہ سکتا وجدان! یہ گھر جو تو سجا ہوا دیکھ رہا ہے اس میں سے پچاس فیصد میرا ہاتھ ہے”۔ زید کا ہاتھ بےاختیار دل پر گیا۔
“یہ اتنا سا کام ہی تو کیا ہے بس؟”۔ اس نے کندھے اچکا کر کہا تو زید کا دل چاہا اس کا گلا دبادے۔
“میں گھر جارہا ہوں! اب بس بہت ہوگیا”، وہ تڑپ کر اٹھا تھا۔
“تمہیں گھر جانا ہے؟ پہلے یہ سارے پھول سجاؤ، یہ لائٹیں لگاؤ،۔۔۔۔” اس نے بات ابھی مکمل ہی نہیں تھی کہ زید نے بات کاٹنی چاہی۔
“برتن دھو، جھاڑو بھی لگاؤ، اگلے سال تک کا کھانا پکاؤ اور پھر چلے جاؤ”۔ وہ تڑخ کر بولا۔ وجدان کی ہنسی چھوٹی اور اس کے ڈمپل گہرے ہوئے۔ “اگر اپنے بچے ہیں تو وہ بھی دیدے، ان کے ڈائپر بھی چینج کرجاتا ہوں”۔ وہ مکمل طور پر چڑ چکا تھا۔ “دن ڈھلنے لگا ہے اور تجھے اپنے دوست کی کوئی پرواہ نہیں”۔ وہ اس قدر تھک چکا تھا کہ رودینے کو تھا۔ وجدان کا قہقہہ بےساختہ تھا۔۔۔
“ارے یار۔۔۔ چل یہ میں کرلیتا ہوں یہ چھوٹا موٹا کام! جب تک تو آرام کرلے پھر کہیں باہر چلیں گے۔۔۔”۔ وپ اب اسٹول سے اتر چکا تھا اور فیری لائیٹس کی تھیلیاں باری باری کھول رہا تھا۔۔
“ڈنر کریں گے باہر”۔ زید نے چمک کر اپنی خواہش کا اظہار کیا جس پر وجدان نے تیزی سے نفی میں سرہلایا۔
“آج ڈنر تو باہر نہیں ہوپائے گا کیونکہ آج میں بہت مصروف ہوں۔۔۔ تجھے ہوٹل کی چائے پلادوں گا تو فکر نہ کر!”۔
زید نے ناک منہ کے نقشے بگاڑ کر اسے بڑبڑاتے ہوئے کوسا۔ وجدان اس سب میں صرف مسکراتا ہی رہا تھا۔ اس کے اندر اب خاموشی چھا چکی تھی۔۔۔ وہ ابھی کسی کو سوچنا نہیں چاہتا تھا، ہاں مگر رات کو!۔ کسی کو سوچے گا، سوچتے سوچتے اس کے خیالوں میں غرق ہوجائے گا۔ مگر یہ آخری بار ہوگا۔۔۔ جنوری کی آج آخری تاریخ تھی اور فروری کی پہلی تاریخ کو وہ کسی کو اپنی زندگی میں قبول کرے گا۔۔۔ ہر سوچ کو پس پشت رکھ کر وہ چاہے گا کہ وہ دل سے بھی اس کا ہی رہے۔۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
جعمرات کا دن ڈھلا اور رات آگئی۔ سارا دن وہ بولائی بولائی پھرتی رہی۔ اپنوں کے درمیان غیر بن کر! وہ گھر کے گارڈن میں بیٹھی تھی کہ شمیلہ بھابھی بھی اس کے سامنے کرسی پر آبیٹھیں۔
“ایک عورت جب بھی اپنی بیٹی کو رخصت کرتی ہے تو اس سے پہلے کچھ نصحیتیں بھی کرتی ہے۔۔۔ میں تمہاری ماں نہیں ہوں صالحہ مگر۔۔۔ میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتی ہوں”۔ وہ کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے تھے۔
“کسی کو یاد کررہی ہونا تم؟”۔ انہوں نے خاموش بیٹھی صالحہ کو دیکھ کر پوچھا تو صالحہ نے دھیرے سے اثبات میں سرہلایا۔
“یہ جو تصویریں ہاتھ میں دبائی ہوئی ہو اسے کل یہیں چھوڑ جانا۔ ساتھ لے کر کسی دوسرے کی یادیں اپنے شوہر کے گھر نہیں جانا صالحہ”۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا تاکہ گرماہٹ پیدا ہو۔
“تصویریں چھوڑ جاؤں گی مگر یادیں تو ناممکن ہیں نا چچی؟”۔ اس نے پھٹی ہوئی تصویر کو جوڑنے کی کوشش کی۔
“مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔ یہ سوچ لینا کہ تم کسی کی بیوی بن جاؤ گی۔۔۔ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی صالحہ۔۔۔ وہ شخص کل اپنا آپ تمہارے نام کرے گا اور تم اپنے جذبات بھی اس کے نام نہیں کرپاؤ گی کیا؟”۔ شمیلہ چچی نے اس کی آنکھوں میں اپنا جواب کھوجنا چاہا۔ صالحہ نے نگاہ اٹھا کر انہیں دیکھا۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ وہ شخص! صالحہ نہیں جانتی تھی وہ کیسا ہے مگر اس شخص کا بھی حق تھا کہ اسے ایسی بیوی ملے جو صرف اس کی رہے۔۔۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور اپنی مٹھی آگے کی۔۔۔ شمیلہ بھابھی نے اپنا ہاتھ کیا تو اس نے تصویریں ان کے ہاتھ میں رکھ دیں۔ وہ مبہم سا مسکرادیں۔
“تم بات بہت جلدی سمجھ جاتی ہو صالحہ”۔ انہوں نے اٹھ کر اس کی پیشانی چومی تو وہ پھیکا سا مسکرادی۔
“سچی بات تھی تبھی تو سمجھ گئی چچی”۔ وہ لبوں پر زبردستی مسکراہٹ لائی اور قدم گھسیٹتے آگے بڑھ گئی۔ شمیلہ بھابھی نے ان تصویروں کو غور سے دیکھا تھا۔ وہ اپنا دل ان کی ہتھیلی پر چھوڑ گئی تھی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب وہ لاؤنج میں سیگریٹ پھونکتا کسی کی یاد میں تصویر دیکھنے میں مگن تھا۔ وہ اپنے ٹیرس پر لگے جھولے پر آڑا ترچھا لیٹا ہوا تھا۔ آنکھیں شدتِ ضبط سے لال ہورہی تھیں۔ پتا نہیں کیا خیال آیا اور سیگریٹ زمین پر پھینک دی۔ زید صحیح کہتا ہے وہ کبھی میری نہیں تھی۔۔۔ کبھی نہیں!
کھلے آسمان کے نیچے بیٹھا وہ ہاتھوں میں دبائی شہوار کی بےشمار تصویریں دیکھنے میں محو تھا۔
“کہاں ڈھونڈوں تمہیں اب میں؟۔ کیوں چھوڑ گئی مجھے؟ کوئی کسی اپنے کو کیسے بھول سکتا ہے؟ کیوں کانٹوں سی فطرت اپنا لی تم نے؟”۔ وہ زندگی میں پہلی بار کسی عورت کے لیے اتنا رویا تھا۔ وجدان چہرہ بار بار رگڑ رہا تھا اور چہرہ بار بار بھیگ رہا تھا۔ “دیکھو آج میں کتنا بےبس ہوگیا ہوں”
کبھی تم لوٹ کے آؤ
مجھے بس اتنا سمجھاؤ
کہاں سے سیکھ لی تم نے
ادا مجھ کو بھلانے کی
تمہیں مجھ سے شکوہ تھا
یا کوئی بھی شکایت تھی
زحمت تو ذرا سی تھی
نہ کی کوشش کی بتانے کی
بھلا یوں چھوڑ کر اپنا
کوئی اپنوں کو جاتا ہے
مسلسل دکھ کی بارش میں
جیون بھر رلاتا ہے
ابھی تو ریت گیلی ہے
بنے اپنے گھروندوں کی
ابھی سب نقش باقی ہیں
گئے قدموں پہ لوٹ آؤ
مجھے بس اتنا سمجھاؤ
کہاں سےسیکھ لی تم
ادا مجھ کو بھلانے کی
اس نے خود سے تہیہ کیا تھا کہ اگر کبھی زندگی میں وہ اسے ملی یا پلٹ کر آئی تو وہ اس سے پوچھے گا! اپنا گناہ پوچھے گا اور اس کی بےوفائی کا پوچھے گا۔۔۔
کل اس کا نکاح تھا اور یہ تصویریں اب بھی اس کے ہاتھ میں تھیں۔ اس نے لائٹر جیب سے نکال کر جلایا۔۔۔ یہ کام اس کے لیے بہت مشکل تھا۔ آنکھ آنسو بہا رہی تھی اور دل یہ سب کرنے سے انکاری تھا۔ وہ تصویریں جلا رہا تھا اور محسوس اپنا دل جلتا ہوا کررہا تھا۔ وہ جل کر راکھ ہوتی گئیں اور اپنا لمس وجدان کے ہاتھوں سے کھوتی گئیں۔ وہ جیسے جیسے جل رہی تھیں گویا وجدان کا دل جل رہا تھا۔۔
“تمہیں دیکھنے کا آخری سہارا بھی ختم”۔ وہ کرب سے بول رہا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ اپنی شکل کھوگئیں اور وجدان کے ہاتھوں محض راکھ رہ گئی۔ وہ اسے بھول جانے کی اپنے رب سے دعا مانگنے لگا۔۔ جھولے سے اترنے کے لیے قدم زمین پر رکھے تو ایک ٹھنڈ کی لہر پورے بدن پر دوڑ اٹھی۔ وہ زمین پر کھڑا ہوکر چلتا ہوا منڈیر تک آیا۔ تنہا چاند تھا اور وجدان تھا!۔
“بس یہیں تک ساتھ تھا شہوار میرا اور تمہارا!”۔ اس نے کہہ کر لب بھینچے تھے۔ “اب ایک بار بھی اور تمہیں نہیں سوچوں گا”۔ آنکھیں سختی سے میچ کر کھولیں اور لائیٹر جیب میں رکھتے ہوئے وہ وجیہہ کے کمرے میں چلا آیا۔ وہ گہری نیند میں لحاف سے خود کو محفوظ کیے سورہی تھی۔ وہ کل رخصت ہوجائے گی یہ سوچ کر اس کا دل بھر آیا تھا۔ اس کے قریب آکر وہ اس کے سرہانے بیٹھ گیا۔لٹیں جو چہرے پر سمائی ہوئی تھیں انہیں دھیرے سے پیچھے کرتے ہوئے اس کی پیشانی چوم کر اسے بہت محبت سے تکنے لگا۔ وہ سوتے میں کوئی چھوٹی بچی لگ رہی تھی۔ وجدان اس کے سرہانے آہستگی سے لیٹ گیا اور اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ وہ ہلکا سا کسمسائی اور بھائی کی موجودگی پاکر اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹا کر اپنے ہاتھوں میں سختی سے پکڑلیا اور آنکھیں موند لیں۔ وجدان مبہم سا مسکرایا۔
“سوجاؤ کیونکہ تمہیں صبح پارلر بھی جانا ہے”۔ وہ اٹھنے لگا مگر وجیہہ نے اس کا ہاتھ اور مضبوطی سے پکڑ لیا جیسے جانے سے روک رہی ہو۔ لبوں پر مسکراہٹ پھیلی اور وہ اس کے پاس ہی لیٹ کر آنکھیں موند گیا۔ بھائی کی موجودگی پاکر وجیہہ نے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کیا تھا۔ تھکاوٹ کے باعث وہ جلد ہی نیند کی وادیوں میں کھوگیا تھا۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
“صالحہ اٹھ جاؤ دیکھو کتنی دیر ہوگئی ہے۔۔ سمیعہ بھابھی نے شہر کی مہنگی بیوٹیشن کو بلایا ہے تمہارے لیے۔۔ وہ کبھی بھی پہنچتی ہوگی”۔ طلعت نے صالحہ کو ہلا کر اٹھایا جو فجر کی نماز پڑھ کر سوگئی تھی۔
“اٹھ گئی ہوں اماں”۔ وہ لیٹے لیٹے ہی آنکھیں کھولتے ہوئے بولی۔
“ناشتہ لائی ہوں منہ ہاتھ دھو کر اسے کھالو۔ باقی افراد کھانا کھا چکے ہیں۔ تمہارا عروسی لباس استری کرکے رکھ دیا ہے۔ تیاری مکمل ہے”۔ وہ اس کا لحاف لپیٹ رہی تھیں۔
“کتنے بج رہے ہیں؟”۔ اس نے بےدلی سے پوچھا۔
“بارہ بج گئے ہیں۔ حیدر کے سالے نے وقت اور جائے مقام بتادیا ہے۔۔۔ دو بجے تک ہر حال میں ہال میں موجود ہونا ہے”۔ وہ اسے آگاہ کرتیں کمرے سے چلی گئیں۔ صالحہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ اب گہری گہری سانس لے رہی تھی۔ وقت جیسے جیسے بڑھ رہا تھا اس کے اندر کی وحشتیں بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ وہ اٹھ کر فریش ہو آئی۔ اس کی بھوک گبھراہٹ کے باعث مٹ چکی تھی۔ اپنا سینہ مسلتے ہوئے اپنے دل کا غبار باہر نکالنے کی کوشش کررہی تھی۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ باہر سے مسلسل شور کی آواز آرہی تھی۔ اسے کمرے کے باہر قدموں کی چاپ محسوس ہوئی۔ ہلکی آواز میں دروازہ کھلا تو صالحہ نے دروازے کی سمت دیکھا۔
“بیوٹیشن آگئی ہے”۔ پھیکا مرجھایا چہرہ مسکرا کر بولا تھا۔ صالحہ نے تھوک نگلا۔
“وہ سنگھار کا آغاز کریں گی تو میں تمہارا عروسی لباس کمرے میں لے آؤں گی”۔ ثریا نے دروازہ پورا کھول کر بیوٹیشن کو اندر بلالیا۔
“یہ ہیں دلہن؟”۔ وہ اپنے کچھ بیگز کے ساتھ اندر آئی تھیں۔ ثریا نے اثبات میں سرہلایا اور کمرے کو بلب جلا کر روشن کیا۔ پردوں کو کھڑکیوں کے سامنے سے ہٹایا تو کمرا روشن ہوگیا۔ صالحہ کی آنکھوں میں روشنی پڑی تو آنکھیں چندھیا گئیں۔
“آپ کو اگر فریش ہونا ہے تو ہوجائیں۔۔۔ پھر میں کام شروع کروں گی”۔ وہ اپنے میک اپ بیگز کھولنے لگی۔
“میں تمہارا عورسی جوڑا یہیں لے آتی ہوں”۔ ثریا اسے دیکھتی مڑ گئی اور وہ ایک بار پھر چہرے پر پانی مارنے واشروم چلی گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“تو تیار نہیں ہوا؟”۔ زید اس کے گھر میں ابھی داخل ہوا تھا اور اب اسے گارڈن میں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوگیا تھا۔
“نہیں وہ ابھی جیا کو پارلر سے لینا ہے اور۔۔۔۔” وہ ابھی بات مکمل کر ہی رہا تھا کہ زید نے بات کاٹی۔
“وقت دیکھا ہے تو نے؟”۔ اس کے غصہ کرنے ہر وجدان نے واچ دیکھی۔
‘ہاں وقت تو بہت ہوگیا ہے”۔ اسے وقت کا احساس ہوا تو اٹھ کھڑا ہوا۔ “کیا کروں اب؟”۔ چہرے پر پریشانی واضح تھی۔
“شادی تمہاری ہے مجھ سے پوچھ رہے ہو کیا کروں؟ یا خدایا”۔ وہ جنجھلا ہی اٹھا تھا۔
“تم تو تیار ہوکر آئے ہو”۔ اس نے مسکراتے ہوئے زید کو دیکھا جو سفید کرتے شلوار پر آف وائٹ کوٹی پہنا ہوا تھا۔
“ہاں! جبکہ میں دلہا بھی نہیں ہوں”۔ اس نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے جملہ ادا کیا۔
“تو اب میں کیا کروں”۔ وہ بےانتہا نروس تھا اور اب پریشانی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ زید کا دل چاہا ہنس دے مگر اس نے اپنا رویہ سخت ہی رکھا۔
“آدھے گھنٹے میں تیار ہو کر نیچے آؤ اور یہ گاڑی جو سجانے کے لیے لے کر گیا تھا میں سج کر آگئی ہے۔ پھر وجیہہ کو پارلر سے لے کر سیدھا ہال پہچنا۔ باقی کا انتظام میں دیکھ رہا ہوں”۔ وہ کہتا گاڑی کی چابی اس کے ہاتھ دے کر پلٹنے لگا۔ وجدان بھی پھر سے وقت دیکھتا اثبات میں سرہلاتا اوپر چلا گیا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“بے انتہا خوبصورت”۔ ثریا کے لبوں سے جو لفظ ادا ہوا تھا وہ بےساختہ تھا۔ اس نے گھنی پلکیں اٹھا کر ثریا کو دیکھا جو دم بخود اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے دیکھنے عورتیں کمرے میں جمع ہونے لگیں۔ صالحہ نے نظریں اٹھا کر خود کو آئینے میں دیکھا۔ خوبصورتی سے ترشے ہوئے ہونٹوں پر گہری لال لپ اسٹک اس کے حسن کو چار چاند لگا رہی تھی۔ کنچی آنکھوں پر نفاست سے پھیرا کاجل قیامت ڈھارہا تھا۔ اس نے انگلیوں سے اپنے آنکھوں پر آتی لٹ کو پیچھے کیا تو چوڑیاں کنکھنا اٹھیں۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ شمیلہ نے اس کے اندر ایک افشاں کو دیکھا۔ صالحہ کے دل نے افشاں موجودگی کی تمنا کی۔ ہاتھوں پر اس نے بھری بھری مہندی کی جگہ صرف گول ٹپا اور انگلیوں کے پوریں رنگوائی تھی۔ طلعت نے اس کا ماتھا بےاختیار چوما۔ وہ آج یہ مان گئی تھیں کہ ان کی بیٹی نے ان کا نہیں بلکہ افشاں کا حسن چرایا یے۔ شمیلہ کے لبوں سے بےساختہ دعا نکلی تو وہاں بیٹھے نفوس نے آمین کہا۔
“دس منٹ میں ہال کے لیے نکلنا ہے”۔ ثریا نے ہرے رنگ کی کرتی پہنی تھی اور نیچے پٹیالہ شلوار۔
وہ اسے دیکھنے میں اتنا محو تھی کہ داجی کی دھاڑ پر ہوش میں آئی۔
“باہر لے کر آؤ صالحہ کو۔۔۔ گاڑی میں بٹھاؤ بہت تاخیر کردی تم لوگوں نے”۔ طلعت اثبات میں سرہلاتی اس پر چادر ڈالتی ہوئی اس کو اٹھنے میں مدد دینے لگی۔
۔۔۔★★۔۔۔

“انسان کا بچہ لگ رہا ہے”۔ زید نے اسے اوپر سے نیچے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ وجدان مسکرایا۔سفید کرتا شلوار پر کالی نفیس کوٹی پہنے کوئی شہزادہ لگ رہا تھا۔ بالوں کو جیل لگا کر کھڑے کیے گئے تھے۔ ہاتھوں میں واچ تھی جس پر وہ بار بار نگاہ ڈال رہا تھا۔ گال پر پڑتے گہرے ڈمپل کے تو کیا کہنے تھے۔ وہ کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا تھا۔

تو نے تو کہا تھا تو مجھ سے پہلے پہنچ جائے گا ہال؟ میں اور جیا کب سے پہنچے ہوئے ہیں”۔ اس بنھویں اچکائیں۔ زید نے چہرے کے زاویے بگاڑے۔
“انتظامات کرواتے کرواتے تاخیر ہوگئی”۔ وہ ہال میں اکیلے کھڑے تھے۔
“مجھے جیا سے ملنا ہے یار میں نے اسے دیکھا بھی نہیں”َ وجدان نے لب کانٹے۔
“کیوں بھائی؟ تو ہی تو لایا ہے اسے پھر کیسے نہیں دیکھا؟”۔ زید قدرے حیران ہوا۔
“اس کی سہیلیاں اس کے ساتھ آئی ہیں پارلر سے۔۔ قسم خدا کی اتنا دل کررہا تھا اس سے ملنے کا مگر جیسے ہی پارلر کے اندر داخل ہوا ہوں اس کی دوستوں کی بھر مار دیکھ کر واپس شرم سے باہر آگیا”۔ وہ جھینپ کر بتارہا تھا۔ زید نے اسے سر تا پیر دیکھا جو دوست ہوکر بھی اس کے دل میں سیدھا اتررہا تھا۔
“شرم کرلے! آج بیوی والا ہوجائے گا اور باتیں دوسری لڑکیوں کی کررہا ہے”
وجدان اس الزام پر تڑپ کر رہ گیا۔
“اللہ اللہ ایسا کیا کردیا میں نے؟ بھئی میں اپنی بہن سے ملنا چاہتا تھا مگر جب اندر گیا تو اس کی سہیلیاں کھڑی تھیں تو میں شرمندگی سے باہر آگیا۔۔ بس! پھر وہ اسے بلکل چادر میں ڈھانپ کر باہر لائی تھیں تو اس وجہ سے بھی نہ دیکھ سکا۔ بات بھی نہ ہو پائی کہ گاڑی میں اس کی سہیلیاں ہی آپس میں باتیں کررہی تھیں”۔ اس نے بےچارگی سے نفی میں سرہلایا۔ زید ابھی کچھ کہتا ہی کہ ایک لڑکی برائیڈل روم کے دروازے پر کھڑے ہوکر وجدان کو پکارنے لگی۔ وجدان اثبات میں سرہلاتا اس کے قریب جانے لگا تاکہ جان سکے وہ کیا کہہ رہی ہے۔
“اس سے کہنا بیوی والا ہونے والا ہوں میں اب تو پکارنا چھوڑدو”۔ زید پیچھے سے ہنس کر آواز لگانا نہیں بھولا تھا۔ وجدان خونخوار نگاہیں اس پر ڈالتا اس لڑکی کے قریب پہنچا۔
“جی”۔ نگاہیں زمین پر ٹکا کر بولا۔
“وجیہہ آپ کو بلا رہی ہے”۔ وہ مسکراتے ہوئے کہتی برائیڈل روم میں چلی گئی اور وہ یہ سوچ کر پریشان ہوا کہ وہ اتنی ساری لڑکیوں میں برائیڈل روم میں داخل کیسے ہوگا۔ برائیڈل روم کا دروازہ کھولا تو وجیہہ اس کے سامنے ہی کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر وہ یہ بھول گیا کہ آس پاس بھی لوگ کھڑے ہیں۔ وہ حسن کی مورت لگ رہی تھی۔ وجدان اپنے دل پر قابو نہ رکھ پایا اور اسے گلے سے لگالیا۔اس کی گڑیا آج اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ اس کے سامنے دلہن بن کر کھڑی تھی۔۔ وہ اس کی پیشانی چوما جارہا تھا اور لرزتے ہوئے کہتا جارہا تھا کہ میری گڑیا بڑی ہوگئی۔۔۔ آنکھ سے آنسو بہنے لگے تو وجیہہ نے آبدیدہ ہوکر اس کی کمر سہلائی۔ وجدان اس کے اس اندز پر ہچکیوں سے رونے لگا اور اسے کس کر خود سے گلے لگالیا۔ آس پاس اس کی سہیلیاں بھی بھرے دلوں سے مسکراتے ہوئے دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھتے رکھتے بےقابو ہوگیا۔ اس کا چہرہ وجیہہ کے آنچل میں چھپ گیا تھا۔ وہ روتی جارہی تھی اور ساتھ بھائی کی کمر سہلاتی جارہی تھی۔ وجدان تب تک اس کے گلے لگے رہا جب تک زید نے دروازہ کھٹکھٹا کر حویلی والوں کی آمد کی خبر نہ دی۔ خود کو وجیہہ سے دور کرتے ہوئے اس کی پیشانی چوم کر باہر آگیا اور آنکھیں صاف کرنے لگا۔ وہ جانتا تھا وہ جب تک اس کے ساتھ کھڑا رہے گا روتا رہے گا۔ حویلی والوں کے ساتھ دوسرے مہمانوں کی آمد بھی ہوچکی تھی۔ صالحہ کو پورا چادر سے ڈھانپ کر گھونگھٹ پہنا کر برائیڈل روم لے جانے لگے۔ شمیلہ بھابھی نے اس کا شرارہ نیچے سے اٹھایا ہوا تھا تاکہ اس کے پیروں سے نہ الجھ سکے۔ وجدان کے برابر سے گزار کر اسے برائیڈل روم لے جایا گیا۔ اس نے جاتی صالحہ کو ایک نظر دیکھا تو اس کی موجودگی سے ہی اس کی سانسیں رک سی گئیں۔ سامنے سے آتے حیدر اور داجی نے بڑھ اسے سلام کیا تو وہ بھی بمشکل مُسکراتے ہوئے ان کا جواب دینے لگا۔۔۔ ہال میں رونق وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ تھوڑا اور وقت گزرا تو مولوی صاحب آگئے۔ آخری وقت پر داجی نے ایک اور نیا شوشہ چھوڑدیا جو تھا نکاح پہلے وجدان اور صالحہ کا کیا جائے گا۔ وہ چار و ناچار حامی بھرنے پر مجبور ہوگیا۔ زید دانت پیس کر رہ گیا۔ صالحہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا جب اسے نکاح کے لیے باہر بلایا گیا تھا۔ بےجان ہوتے وجود سے وہ شمیلہ اور ثریا کے ساتھ اسٹیج تک لائی گئی تھی۔ سیڑھیاں چڑھا کر اسے وجدان کے برابر لا بٹھایا تھا۔ وہ اب بھی پوری چادر میں خود کو ڈھانپی ہوئی تھی۔ گھونگھٹ کے باعث سر جھکا ہوا تھا۔ نکاح شروع کردیا گیا تھا اور صالحہ کی سانسیں وجدان کی سانسوں سے زیادہ تیز چلنے لگیں۔
“صالحہ بٹ بنت کبیر بٹ آپ کا نکاح وجدان قریشی ولد واجد قریشی بعوض بارہ لاکھ روپے آپ کے مہر سکہ رائج الوقت آپ کے نکاح میں دیا جاتا ہے۔ کیا آپ کو قبول ہے؟”۔ یہ اس امتحان کا سوال تھا جس کا جواب اس نے کبھی کسی اور کے لیے سوچا تھا۔
ہاں گنوادیا۔۔۔
دل ریزہ ریزہ گنوادیا۔۔۔
دل بیٹھنے لگا اور اسے محسوس ہوا کہ بہت جلد اس کی سانسیں تھم جائیں گی۔
دلِ معتبر سنبھلنے میں نہیں آرہا تھا۔ حواس منجمند ہونے لگے اور ہاتھ کپکپانے لگے۔ برابر میں وجدان سانس روکے بیٹھا تھا۔ ایک غیر اپنا بننے جارہا تھا۔ شرجیل کے پیچھے کھڑی رفاہ کا دل گویا حلق میں تھا۔ صالحہ کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں۔ حیدر اپنی اڑی رنگت سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کبیر بٹ نے تھوک نگل کر اپنے ہاتھوں کو مٹھی بنا کر بھینچ لیا تھا۔ وہ جو ارحم کے برابر بیٹھنے کے خواب دیکھتی تھی آج کسی انجان کے برابر میں بیٹھی تھی۔

“قبول ہے”۔ ایک آواز نکلی تھی لبوں سے کپکپاتی، سہماتی۔۔۔ کبیر صاحب جنہوں نے گھبرا کر مٹھی بھینچی تھی اس کے قبول کرنے پر مٹھی خود ہی ڈھیلی ہوگئی۔ تین دفعہ یہ الفاظ مولوی صاحب کے تین بار سوال کرنے پر لبوں سے نکلے تھے ۔ نکاح نامہ آگے بڑھایا اور دستخط کرنے کا کہا گیا۔ اس نے لرزتے ہاتھوں سے قلم اٹھایا اور اپنی زندگی ایک دستخط کرکے اس کے نام کردی! بس! اب صالحہ کا موت تک کا ساتھ اس شخص کے ساتھ تھا۔ ارحم کی یاد کو اس نے دستخط کرتے ہی ہوا میں تحلیل کردیا اور گہری سانس لے کر سیدھا ہو کر بیٹھ گئی۔
م

ولوی صاحب نے وجدان کی طرف رخ موڑا اور اس سے اظہار مانگا۔ وہ شہوار کو کل رات ہی خیالوں سے نکال چکا تھا اس لیے فورا “قبول ہے” کہہ دیا۔ نکاح مکمل ہونے پر “مبارک ہو” کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ وجدان اٹھا تو داجی اور کبیر صاحب سمیت سب مردوں نے اسےگلے لگایا۔۔۔ صالحہ کو روم میں واپس بھجوادیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وجیہہ اور حیدر کا نکاح پڑھایا گیا۔ وجدان خوش تھا کیونکہ اس کی بہن خوش تھی۔ مسکراہٹ وجیہہ کے لبوں سے جدا ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ تقریب میں کھانے کا آغاز ہوا تو حیدر اور وجدان دوسرے انتظامات دیکھنے لگے۔ زید کو ایک میز پر پلیٹ سجا کر بیٹھتے دیکھا تو کان سے پکڑ کر کام پر لگایا۔ تقریب اس کی امید سے زیادہ اچھی گزری۔ داجی کے لب مستقل مسکرا رہے تھے اور وہ خود پھولے نہ سمارہے تھے۔ تقریب کا اختتام ہورہا تھا اور دلہنوں کو چادر سے مکمل ڈھانپ لیا تھا۔ حویلی والوں نے اپنی خاندانی چادر اپنی بہو کو پہنائی تھی۔ شمیلہ بھابھی نے صالحہ کا ہاتھ وجدان کی طرف بڑھایا تھا جسے اس نے کچھ ہچکچاہٹ سے تھام لیا تھا۔ اس کے ہاتھوں پر اس کی گرفت ڈھیلی تھی۔ دونوں کو ساتھ باہر لایا گیا تھا۔ دو گاڑیاں سجی کھڑی تھیں جس میں سے ایک وجدان کی تھی۔ وجیہہ کو گاڑی میں بٹھایا جارہا تھا تو وہ صالحہ کا ہاتھ چھوڑتا اپنی بہن کی جانب بڑھا۔ حیدر اسے تھام کر گاڑی میں بٹھا رہا تھا۔ وجدان نے وجیہہ کے سر پر ہاتھ رکھا اور حیدر کو دیکھا۔ حیدر نے اس کی التجائی نظریں دیکھیں جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ اس کی بہن کا خیال رکھا جائے۔ وجدان کو دیکھ کر اسے اپنی بہن یاد آئی۔ اس نے اثبات میں سرہلایا اور صالحہ کی جانب بڑھا۔ صالحہ کا چہرہ بھاری ڈوپٹہ اور چادر کی وجہ سے جھکا ہوا تھا۔ حیدر نے بڑھ کر اس کا گھونگھٹ اٹھایا۔ وہ بےخبر تھی حیدر کی موجود گی سے اس لیے بنا کچھ کہے نیچے ہی دیکھتی رہی۔

“صالحہ۔۔”۔ بےساختہ اس کا نام لبوں سے نکلا تو صالحہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ حیدر اس کانچ کی گڑیا کو دیکھ رہا تھا جو اس کی بہن تھی۔ جس کی کنچی آنکھیں حیرت کا مظاہرہ کررہی تھیں۔ وہ اتنی خوبصورت لگ رہی تھی کہ حیدر کا دل چاہا اس کی پیشانی چوم لے۔ سب انتظار کررہے تھے کہ وہ اب کچھ کہے گا۔ وجدان نے مڑ کر دونوں کو دیکھا تھا۔ وہ ابھی کچھ کہتا ہی کہ صالحہ نے اپنا گھونگھٹ نیچے کرلیا۔ حیدر کا دل چاہا اپنا آپ زمین میں گاڑ دے۔ باہر سے اسے زبردستی گلے لگایا اور اس کا سر تھپکتا، آنکھوں میں آتے آنسو صاف کرتا گاڑی تک آیا۔ شمیلہ نے صالحہ کو وجدان کی گاڑی میں بٹھادیا۔ وجدان بمشکل وجیہہ کو خود سے دور کرتا اپنی گاڑی کی جانب بڑھا جہاں صالحہ کو پہلے ہی بٹھادیا تھا۔ دو گاڑیاں الگ الگ سمت بڑھی تھیں۔ وجدان نے گاڑی موڑلی تھی اور اپنے برابر بیٹھی صالحہ کی موجودگی محسوس کررہا تھا۔ شام کے سائے پھیل رہے تھے اور دل کی وحشتیں بڑھ رہی تھیں۔ دونوں کے دلوں میں ایک خوف تھا۔۔۔ کیا اس کا شریکِ حیات اسے دل سے قبول کرے گا؟۔
۔۔۔★★۔۔۔