Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7


زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۷

“بس اور نہیں ویر! اب تو میں تھک گئی ہوں۔ کب تک پہنچیں گے؟”۔ وہ اکتا کر پہلو بدل کر بولی۔
حیدر نے گاڑی ایک بڑے ریسٹورینٹ کے سامنے روکی۔
“ہم پہنچ گئے ہیں صالحہ”۔ وہ مسکراتا ہوا بولا۔
صالحہ اور وہ دونوں ساتھ ہی اپنی اپنی سائیڈ سے اترے۔
“کہاں جانا ہے اب؟”۔ وہ فکرمندی سے بولی۔ حیدر گھومتا ہوا اس کی سمت آیا اور اس کا ہاتھ تھام کر سڑک پار کرنے لگا۔
“مضبوطی سے تھام لو مجھے ویر۔ ورنہ میں کسی کی گاڑی کے نیچے آجاؤں گی”۔ اس کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔
حیدر نے اسے اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“میرے ساتھ چلو”۔ اس کو آگے کرتے ہوئے وہ دونوں اب ساتھ سڑک پار کررہے تھے۔ رش اس سڑک بہت ذیادہ تھا۔ حیدر نے اس کا ہاتھ ریسٹورینٹ کے باہر چھوڑا تھا۔
“میں اپنی چادر ٹھیک کرلوں پھر اندر چلیں گے”۔ اس نے جلدی سے اپنی چادر ٹھیک کی اور ایک ہاتھ سے چادر سے چہرے کو چھپایا۔ اب اس کی صرف آنکھیں نظر آرہی تھیں۔ حیدر اس دیکھتا ہوا اثبات میں سرہلاتا اندر کی طرف بڑھ گیا۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے آنے لگی۔ لوگوں کا ایک ہجوم ریسٹورینٹ میں موجود تھا۔ وہ اپنے پردے کی فکر کرتے ہوئے ایک ہاتھ سے چہرہ ڈھانپے جلدی جلدی اس کے پیچھے آرہی تھی۔ حیدر رک کر کسی کو ڈھونڈنے لگا۔ وہ اسے دیکھ نہ پائی اور تیزی سے اس سے ٹکرا گئی۔ حیدر گلاسز اترتا پیچھے مڑا۔
“ویر مجھے ساتھ لے کر چلو ورنہ میں کھوجاؤں گی”۔ وہ روہانسی ہوگئی۔ حیدر کے دل میں کچھ ہوا اور اس نے تیزی سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“میرے ساتھ چلو! آجاؤ”۔ اسے تھامتے ہوئے وہ ہجوم سے نکلتا ہوا اسے ایک میز پر لے آیا جہاں پہلے ہی دو لوگ بیٹھے تھے۔ اس نے صالحہ کا ہاتھ چھوڑا اور سامنے بیٹھے شخص سے ہاتھ ملانے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ سامنے بیٹھے شخص نے بھی بنھویں اچکا کر ہاتھ آگے بڑھایا۔ حیدر چھوٹتے پسینے کے ساتھ کرسی پر بیٹھا۔ صالحہ اس کے پیچھے ہی کھڑی رہی۔
“بیٹھ جاؤ صالحہ”۔ اس نے صالحہ کو کھڑا دیکھا تو اس کے لیے بیٹھے بیٹھے ہی کرسی کھینچی۔ وہ سامنے بیٹھے دو نفوس کو دیکھ کر تھوڑی خوفزدہ اور حیران ہورہی تھی۔ وجدان نے اسے دیکھنے سے گریز کیا۔ وہ بس حیدر کو سپاٹ لہجے میں تک رہا تھا۔ صالحہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے کرسی پکڑی اور اس پر بیٹھتی چلی گئی۔ حیدر کے مقابل بیٹھی وجیہہ نے صالحہ کی طرف خوش اسلوبی سے ہاتھ آگے بڑھایا جسے اس نے کچھ گھبرا کر پکڑا۔
“یہ کون ہیں”۔ اس نے حیرانی اور الجھے لہجے سے برابر بیٹھے حیدر سے پوچھا۔
“یہ وجدان ہیں اور یہ جیا۔۔۔ مطلب۔۔ وجیہہ ہیں۔ انہیں سے ملاقات کرنی تھی مجھے”۔ وہ زبردستی مسکراتا ہوا سپاٹ بیٹھا وجدان کو دیکھ کر بولا۔

“تو کیسے ہیں حیدر بٹ”۔ اس نے سر تا پیر اسے دیکھا۔ جیا نے بھائی کو ایک نظر دیکھ کر سامنے حیدر کو دیکھا۔
“میں ٹھیک ہوں۔ آپ کیسے ہیں؟”۔ اس نے اپنے آپ کو کمزور نہ کرنے کے لیے گلاسز اتار کر سامنے رکھے اور پھیل کر بیٹھ گیا۔
“دو تین دن پہلے تک بہت حد ٹھیک تھا”۔ وہ بہت کچھ کہہ گیا تھا۔ “خیر ہم باتوں کی طرف آتے ہیں”۔ وجدان نے گہری نگاہوں سے اسے دیکھا۔ اتنے میں ویٹر قریب آیا جسے حیدر نے روک دیا اور بعد میں آنے کو کہا۔
“جی بلکل! ہماری ملاقات اس لیے ہی طے پائی تھی”۔ اس نے خود کو ریلکس کرتے ہوئے جواب دیا۔

“کیا وٹہ سٹہ ہی اس مسلہ کا حل ہے؟”۔ اس نے بنھویں اچکا کر حیدر سے پوچھا۔
“یہ کوئی مسلہ نہیں ہے! میری خوشی ہے بھائی”۔ جیا تڑپ کر بولی۔
“خوشی تمہاری ہے وجیہہ! میرا تو مسلہ ہے۔ جب بڑے بات کررہے ہوِ تو درمیان میں نہیں بولتے! مجھے بات کرنے دو حیدر سے”۔
حیدر نے لب بھینچے۔
“یہی ایک حل ہے۔ حویلی میں بغیر وٹہ سٹہ کی شادی نہیں ہوتی”۔ اس نے وجدان کی آنکھوں میں جھانکنا چاہا کہ وہ چاہا کیا ہے۔ صالحہ بے چین ہوئی بیٹھی ان کی گفتگو سمجھنے سے قاصر تھی۔۔ اس نے اب بھی اپنے چہرے کو مکمل ڈھانپا ہوا تھا۔
کچھ دیر کی خاموشی چھا گئی۔
“تو اور کیا مراحلوں سے مجھے گزرنا پڑے گا؟”۔ وہ تھوک نگلتا ہوا کچھ دیر بعد بولا۔
“آپ کو حویلی آنا ہوگا اور۔۔۔۔۔” وہ صالحہ کی موجودگی کی وجہ سے خاموش ہوگیا۔
“ادھوری باتیں کرنے کے بجائے آپ اپنا جملہ مکمل کرلیں”۔ وجدان کی بات پر حیدر نے لمبی سانس لی۔
“اور رشتہ مانگنا ہوگا۔ جب تک میں حویلی میں اس سب کے متلعق بتادوں گا”۔ وہ صالحہ کی طرف دیکھنے سے گریز کرنے لگا۔ صالحہ نے حویلی کا نام سنا تو حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ اسے گبھراہٹ ہونے لگی۔
“ویر مجھے یہاں سے جانا ہے”۔ وہ منمناتے ہوئے بولی اس کا بازو پکڑتے ہوئے بولی۔ وجدان کی نظریں صالحہ کی طرف اٹھی اور وہ خود کو اسے دیکھنے سے روک نہ پایا۔ کنچی آنکھیں اور اس پر گہرا کاجل۔ وہ آنکھیں دیکھ کر ہی ساکت ہوگیا تھا مگر جلد ہی خود کا سنبھال بھی لیا۔
“تھوڑی دیر رک جاؤ صالحہ! ہم چلتے ہیں”۔ اس نے صالحہ کا ہاتھ سہلایا۔
“مجھے وقت اور دن بتادے گا۔ میں آجاؤں گا”۔ وجدان نے ٹہھرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“یہ صالحہ ہے۔ میری بہن”۔ اس نے صالحہ کی طرف اشارہ۔
“اور صالحہ یہ وجیہہ ہے۔۔ میری یونیورسٹی میں پڑھتی ہے اور یہ اس کا بھائی ہے۔ نام وجدان قریشی”۔ اور صالحہ حیران ہوتی ان دونوں کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ اس کی یونیورسٹی میں پڑھنے والی لڑکی اور اس کے بھائی سے کیوں ملاقات کررہا ہے اور اسے کیوں تعارف کروارہا ہے۔
وجدان نے صالحہ کو دیکھا، مگر پھر نظریں چرا گیا۔ وہ اب حیدر کو دیکھ رہا تھا۔ اس کی مردانگی کو داد دے رہا تھا کہ کیسا بھائی ہے یہ!
“خیر! میں اب اجازت چاہتا ہوں۔ مجھے بتادے گا کہ کب آنا ہے حویلی۔ ہوسکتا ہے آپ سوچ رہے ہوں کہ میں نے آپ کے بارے میں کچھ جاننے کی کوشش نہیں کی تو میں بتادوں اس سب مجھے دلچسپی نہیں۔ اور اگر کچھ الٹا سیدھا بھی نکل ہی آتا ہے تو وجیہہ نے کونسی میری سن لینی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میرا دل اب تھوڑا اور بھی دکھے۔ فیصلہ تو یہ کرچکی ہے۔ میری کوئی بات یا تکلیف اب اس کے آگے معنی نہیں رکھتی۔ چلو وجیہہ”۔ وہ تلخی سے کہہ رہا تھا یا دکھ سے! وہ سمجھ نہ پایا۔ وجیہہ کا دل کٹ کر رہ گیا اور صالحہ تو الجھے ذہن کے ساتھ ہی بیٹھی تھی۔
ایک نظر حیدر کو دیکھ کر وجیہہ اپنا پرس اٹھاتی وجدان کے پیچھے چلی گئی۔
“یہ کیا ہورہا ہے؟”۔ صالحہ نے اب کی بار اسے مکمل طور پر جنجھوڑ ڈالا۔
“ہ۔ہاں؟ وہ۔۔ کچھ نہیں آجاؤ چلو!” وہ گڑبڑاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ تیزی سے اس کے پیچھے پیچھے جارہی تھی۔ ایک بار پھر لوگوں کے ہجوم کو چیرتی ہوئی وہ باہر نکلی تھی۔ کھلے آسمان کے نیچے کھڑے ہوکر اس نے لمبی سانس ہوا میں چھوڑی گویا جو وحشت اسے اندر ہورہی تھی وہ ہوا میں تحلیل ہوگئی۔
ابھی وہ کچھ کہتی کہ حیدر نے اس کا ہاتھ پکڑا اور سڑک پار کرنے لگا۔ یہ سب کچھ اچانک ہورہا تھا۔ ایسے میں وہ ایک ہاتھ سے اپنا چہرہ چادر سے بمشکل چھپاتی اس کے پیچھے کھنچی چلی جارہی تھی۔ حیدر اس کا ہاتھ چھوڑنے پر قطعی رضامند نہ تھا۔ صالحہ کا “میں کھوجاؤں گی” والی بات اسے اور سہما گئی تھی۔ ایسے میں سڑک کے اس پار کھڑا وہ شخص جو گاڑی میں بیٹھنے کے لیے دروازہ کھول رہا تھا اس کی نگاہ صالحہ کی جانب اٹھی۔ ایک جھٹکے سے صالحہ کی ہاتھوں کی گرفت اپنی چادر پر ڈھیلی ہوئی اور اس کا چہرہ بےپردہ ہوگیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب وجدان نے اس کا چہرہ ناچاہتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ ایک بار پھر دیکھیں اس نے کنچی آنکھیں اور اوپر سے کاجل۔۔۔ ایک گہرا تل اس کے دائیں گال پر تھا۔ وجدان کی دھڑکنیں تیز ہوئیں۔ اس نے اپنی نظریں ناچاہتے ہوئے جھکائیں۔
“بھائی؟”۔ گاڑی سے وجیہہ کی آواز آئی تو وہ ہڑبڑاتا ہوا جواب دیتا گاڑی میں بیٹھ گیا۔ گاڑی میں چابی گھماتے ہوئے وہ مسلسل سامنے دیکھ رہا تھا جہاں صالحہ نے اپنا چہرہ پھر ڈھانپ لیا تھا اور اب گاڑی میں بیٹھ رہا تھا۔
یہ آج تیسرا دن تھا جو وہ درشہوار کی یاد کے بغیر گزار رہا تھا۔
“بھائی کیسا لگا آپ کو حیدر؟”۔ وجیہہ کی آواز اس کو واپس کھینچ لائی۔
“ہاں؟ کون؟”۔ وہ ہڑبڑایا۔
“میں حیدر کی بات کررہی ہوں”۔ اسے تھوڑا عجیب محسوس ہوا۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا اور اب گردن موڑے وجیہہ کو دیکھ رہا تھا۔
“جو اپنی بہن کا دیدار کسی غیر مرد کو کروانے لائے اس کے بارے میں کچھ اچھا سننا پسند کرو گی یا برا؟”۔ اس کا لہجہ قطعی سخت نہ تھا اور نہ وہ طنز کررہا تھا۔ عام سے لہجے میں ماتھے پر بل ڈالے اب وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔ وہ وہاں نہیں تھیں اور نہ اس کی گاڑی۔ دن ڈھل رہا تھا اور اب اندھیرہ چھا جانے کی دیر تھی۔
“وہ آپ کے لیے ہی لایا تھا اسے اور آپ اسے برا کہہ رہے ہیں”۔ وجیہہ نخوت سے بولی۔ وجدان کو حیرانی ہوئی۔
“میں بھی تو ایک بہن کا بھائی ہوں۔ میں اپنی گردن کٹواسکتا ہوں مگر اپنی بہن کو کسی غیرمحرم کے سامنے نمائش نہیں کروانے لا سکتا۔ اس لڑکی کے تاثر اور رویے سے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے بھائی کی ان چالوں سے واقف نہیں۔ اپنے آپ کو اس کی جگہ رکھ کر سوچو! دل نہ کانپے تو بتانا۔۔۔” منہ پھیر کر آخری جملہ کہتے ہوئے اس نے گاڑی آگے بڑھائی۔ وجیہہ خاموش ہو گئی۔ وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا۔ وہ نظریں پل بھر میں جھکا گئی۔ وجدان کا دل چاہا اس خوبصورت موسم میں ایک بار پھر ٹیپ چلادے مگر اس کے دل میں پہلے ہی ہول اٹھ رہا تھا۔ اسے اسے ان کنچی آنکھوں کا خیال بار بار آرہا تھا۔ کالی چادر کا چہرے سے سرکنے یاد آیا تو وہ سرجھٹک گیا۔ وہ اپنا چہرہ ڈھانپی ہوئی تھی۔ وجدان کو برا لگ رہا تھا۔ وہ خود کو مکمل ڈھانپے ہوئی تھی اور وجدان نے اسے دیکھ لیا تھا۔ اسے نہیں دیکھنا چاہیئے تھا۔ اگر وہ چادر سے پردہ کررہی تھی تو اسے نظر کا پردہ کرلینا چاہییے تھا۔
“وہ کب تک ہیں یہاں؟”۔ اس نے وجیہہ سے پوچھنا چاہا۔
“شاید ایک دو دن تک!”۔ وجیہہ جو کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی اس نے سوچ کر جواب دیا۔ وجدان نے اثبات میں سرہلایا اور سامنے دیکھتے ہوئے گاڑی چلانے لگا۔ دن ڈھل رہا تھا اور ٹھنڈ بڑھ رہی تھی۔ سانس چھوڑتے ہوئے دھؤواں منہ سے نکل رہا تھا۔ اسے اپنا آپ اس بھرے شہر میں تنہا لگنے لگا۔ اسے لگا وہ تنہا سفر کررہا ہے ایک اجنبی شہر میں! کسی خیال کے تحت اس نے گاڑی چلاتے چلاتے باہر کی جانب دیکھا تو اسے کچھ ایسا دکھا کہ دیکھتا چلا گیا۔ ایک شخص اپنے چھوٹے سے بچے کو سینے سے لگائے جارہا ہے۔ اس کی کمر پر ساتھ ساتھ تپھک بھی رہا ہے جیسے اسے سلارہا ہو۔ ساتھ چلتی اس بچے کی ماں نے بےاختیار اپنا ہاتھ اس کے بالوں میں پھیرا۔ وجدان کو لگا جیسے وہ اس بچے کی جگہ ہو اور اس کے ماں باپ اس کو بہلاتے تھپتھپاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ باہر کا نظارا دیکھنے میں اتنا محو تھا کہ سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔ ان کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا اگر وہ اچانک بریک نہ لگاتا۔ گاڑی کو بریک لگاتے ہوئے خیال آیا کہ وجیہہ نے سیٹ بیلٹ نہیں پہنی ہوئی۔ بریک لگا اور وجیہہ کہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو پیچھے کھینچا۔ اس سب میں وہ تو سامنے سے ٹکرا گیا مگر وجیہہ بچ گئی۔ وجیہہ کا سر ڈیش بورڈ سے لگتا اگر وجدان اپنا ہاتھ اس کے ماتھے پر نہ رکھتا۔ اس سب میں بھی وہ وجیہہ کو نہ بھولا تھا۔ وہ جھٹکا اتنا زور کا نہیں تھا مگر جب وجدان کا سر سامنے لگا تو وجیہہ چیخ اٹھی۔
“بھائی”۔ اس نے اسے ہلانا چاہا مگر وہ ویسے ہی سامنے کی طرف جھکا ہوا تھا۔ اس کے دل میں یکدم خدشہ پھیل گیا۔ وہ اٹھ کیوں کہیں رہا تھا۔ وجیہہ کو خوف محسوس ہونے لگا۔ تنہائی آڑے آگئی۔ اسے لگا وہ تنہا ہوگئی ہے۔ قریب تھا کہ آنکھوں کے سامنے اندھیرہ چھا جاتا کہ وجدان نے سر اٹھایا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔ سر جھکنے کی وجہ سے اس کے بال ماتھے پر آگئے تھے۔ وجیہہ کی جان میں جان آئی۔ اس نے لپک کر بھائی کو کندھے سے پکڑا اور چہرہ اپنی جانب گھمایا۔ ماتھے سے تھوڑا تھوڑا خون بہہ رہا تھا۔ لوگ آس پاس دیکھنے کو جمع ہونے لگے۔
“تم ٹھیک ہو؟ کہاں لگی چوٹ؟ ہسپتال جانے کی ضرورت تو نہیں؟”۔ وجدان نے الٹا اس پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔
“مجھے کچھ نہیں ہوا، مگر آپ کی بلیڈنگ ہورہی ہے۔ ہسپتال کی طرف موڑ لیں گاڑی”۔ اس نے پریشانی سے کہا اور اس کے زخم کو دیکھنے لگی۔ لوگ جمع ہوتے جارہے تھے۔ وجدان نے گاڑی سے باہر ہاتھ نکال کر اشارہ دیا کہ سب ٹھیک یے اور گاڑی آگے بڑھالی۔
“نہیں۔ ذیادہ چوٹ نہیں ہے بےحد معمولی سی ہے۔ اب ہمیں گھر چلنا چاہئیے”۔ اس نے مختصراً بتایا اور گاڑی چلانے لگا۔ وجیہہ ششدر رہ گئی۔
“تو پھر اٹھنے میں دیر کیوں لگی؟”۔ اس کے دماغ میں کچھ باتیں کنھکنے لگی۔
“دل نہیں چاہ رہا تھا حیقیقت میں واپس آنے کا۔ خیر گھر آگیا ہے”۔ وہ گاڑی کو بریک لگاتا ہوا بولا۔
وجیہہ نے اسے تکتی رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔ “وہ کون تھے اور تم ان سے کیوں مل رہے تھے”۔ وہ اپنا چھوٹا سا بیگ گاڑی کے پیچھے والی سیٹوں سے نکالتی ہوئی پوچھنے لگی۔ حیدر نے گاڑی سے اتر کر گلاسز اتاریں۔ “تم جان جاؤ گی آہستہ آہستہ”۔ چلتا ہوا اس کی طرف آیا اور اس کا ہینڈ بیگ کندھے پر ڈالتا اس کا ہاتھ تھامتا اندر بڑھ گیا۔ صالحہ کو اس کا یوں ہاتھ تھامنا اچھا لگا تھا۔ وہ اس کے پیچھے ایسے آرہی تھی جیسے کسی بھٹکی ہوئی چھوٹی بچی کو آسرا مل گیا ہو۔ وہ ایک بڑے گھر میں اس کا ہاتھ تھامے داخل ہوا۔ وہ گھر مکمل طور پر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ “یہ تمہارے گھر پر تالا کیوں ڈلا ہوا تھا ویر؟”۔ وہ اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی لاؤنج کے صوفے پر اپنا چھوٹا بیگ اس کے کندھے سے اتار کر رکھنے بڑھی۔ “گرجاؤ گی صالحہ اندھیرہ ہے! میں چل تو رہا ہوں ساتھ تمہارے! پھر بیگ کیوں اتارا میرے کندھے سے؟”۔ وہ ماتھے پر بل ڈال کر گھورتے ہوئے بولا۔ “آپ کے کندھے درد کر جاتے جبھی اتار لیا”۔ اس کے جواب نے حیدر کے قدم جکڑ لیے۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے وہی کھڑا رہا۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اسے وہ بیگ تھامے تو پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے۔ “یہ اندھیرا کیوں یے ویر؟”۔ صالحہ کے ماتھے پر الجھی لکیریں نمودار ہوئیں۔ “ہر ابھرتا دن کے اندر خوف ہوتا کہ اسے ڈھلنا بھی ہے۔ اندھیرہ پھیلنا بھی”۔ اس کا لہجہ کچھ الگ تھا۔ وہ پلٹ کر اس کی آنکھوں میں بنا کوئی تاثر دیے تکنے لگی۔ حیدر نے اس کی کنچی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ وہی ساکت کھڑا تھا اور یہاں صالحہ الجھی!۔ وہ ابھی کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ حیدر نے ہڑبڑا کر پلکیں جھپکیں۔ “اندھیرہ؟ اندھیرہ تو ہونا ہی صالحہ ہم نے بتیاں نہیں جلائیں گھر کی۔ اور تالا؟ تالا اس لیے ڈالا تھا میں نے کیونکہ میں اسے یوں چھوڑ کر گاؤں نہیں آسکتا تھا۔ شہر میں چوریوں اور ڈکیتیوں کا بہت ذیادہ خدشہ ہوتا ہے”۔ وہ اپنے آپ کو ریلیکس کرتا ہوا گھر کی چابیاں جیب میں ڈالتا لاؤنج میں بڑھنے لگا۔ مگر صالحہ کی آنکھیں وہیں جمی رہ گئیں جہاں کھڑے ہوکر اس نے وہ بات کی تھی۔ حیدر نے لائیٹ جلائی اور گھر کا وہ حصہ روشن ہوگیا۔ “کہاں ہو صالحہ؟ پیچھے کہاں رہ گئی؟ آؤ دیکھو لاؤنج میں آکر۔ جب تم پچھلی بار آئی تھی تو یہ صوفہ دیوار کے ساتھ لگا تھا مگر اس کے بعد میں نے اس کی جگہ تبدیل کردی تھی۔ یہ کالے صوفے تمہیں پسند ہیں نا؟ یہ دیکھو”۔ وہ لاؤنج میں کھڑا اسے آوذ دیتا رہا، مگر جب وہ نہ آئی تو اس کا ہاتھ پکڑتا اندر لے آیا۔ وہ بھی اس کے پیچھے چلتی چلی گئی۔ “تمہیں اپنے کمرے کا رستہ یاد ہے نا؟ یا پھر وہ بھی بھول گئی”۔ وہ مسکراتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا۔ “ہاں مجھے یاد ہے ویر”۔ وہ زبردستی مسکرائی۔ یہ گھر بھی حویلی والوں نے خرید رکھا تھا۔ جب بھی کوئی حویلی کا مرد شہر پڑھنے آتا تو وہ اسی گھر میں رہا کرتا۔ جیسے شازل، مگر چونکہ وہ اب تھوڑا کم شہر آتا تھا اس لیے یہ گھر تقریباً حیدر نے ہی سنبھالا ہوا تھا۔ “کیا کھاؤ گی؟”۔ اس نے صوفے پر گرنے کے انداز پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔ “کچھ بھی کھالوں گی”۔ وہ کھڑی رہی۔ “چلو میں ایسا کرتا ہوں رات کے لیے کچھ ہلکا پھلکا آرڈر کرلیتا ہوں۔ ورنہ ذیادہ کھانے سے بدہظمی ہوجائے گی”۔ وہ اٹھ کر اس کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔ “ہاں ٹھیک تو کہہ رہے ہیں”۔ وہ بیگ کندھے پر ڈالے ساتھ ساتھ چل کر اپنے کمرے میں آگئی۔ “میں نے ملازم سے کہلوا کر تمہارا کمرہ صاف کروادیا تھا۔ تم آرام کرو جب تک کھانا نہیں آجاتا۔ میں کھانا اپنے ہی کمرے میں کھاؤں گا کیونکہ مجھے کل یونیورسٹی جانا ہے اور اسائمنٹ بھی جمع کروانا ہے”۔ وہ مسکراتا ہوا اسے کہتا دروازہ بند کرتا باہر نکل آیا۔ یہ کمرہ دوسری منزل پر تعمیر تھا۔ اندر بستر پر بیٹھی صالحہ نے گہری سانس ہوا میں چھوڑ کر بیگ کھولا۔ اس کا موڈ یکدم بدل گیا تھا۔ اسے اب پھپھو اور ارحم کی یاد آرہی تھی۔ اس کے کمرے میں ایک بڑی کھڑکی تھی جسے اس نے بہت مشکل سے کھولا۔ کھڑکی کے کھلتے ہی تیز ہوا اس کے جسم کو چھوتی ہوئی آگے بڑھی۔ اسے کپکپی چڑھنے لگی تو وہ جلدی سے اپنے ساتھ لائی موٹی شال اوڑھنے لگی۔ باہر ٹریفک کی وجہ سے بہت شور تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس آکر دونوں ہاتھوں کی کہنیاں کھڑکی پر ٹکا کر آسمان دیکھنے لگی۔ رات بڑھتی جارہی تھی اور دھند میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ اسے افشاں پھپھو کی یاد آنے لگی۔ “انہوں نے کھانا کھایا بھی کہ نہیں؟ کیا کسی نے ان کو پوچھا ہوگا میرے بعد؟۔ وہ تو میرے بغیر کھانا بھی نہیں کھاتیں”۔ وہ خود سے بڑبڑاتی اور پریشان ہونے لگی۔ وہ آج کی رات یونہی کھڑکی کے پاس کھڑے رہ کر گزارنا چاہتی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
گھنے بال چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھے۔ وہ چنچل لڑکی مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اس کے لمبے کمر تک بال ہمیشہ اس کی خوبصورتی کی وجہ رہے تھے۔ اس نے وہ تصویر میز پر رکھی اور دوسری اٹھائی۔ وہ دوسری تصویر میں عام سا پیلا حوڑا پہنی ہوئی تھی۔ لمبی گھنی پلکیں نیچے کو جھکی ہوئی تھی اور رخسار ہلکے گلابی ہورہے تھے۔
“تم پیلے جوڑے میں بہت خوبصورت لگتی ہو”۔ وہ دل کی بات اسے بتا رہا تھا۔
“اس بات کا علم مجھے ہے”۔ وہ اکڑ سے کہتی مگر پھر خود ہی ہنسنے لگتی۔
“ہاں تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ تم کتنی خوبصورت ہو۔۔۔ تم کتنی اچھی ہو اور۔۔۔۔۔”
“بس کردو۔۔۔۔ کہیں نظر نہ لگ جائے”۔ وہ بات کاٹتی خود پر ناز کرنے لگی۔
“تمہیں میری نظر نہیں لگے گی شہوار”۔ وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے اپنائیت ڈھونڈ رہا تھا مگر اس کی آنکھوں میں اس کے لیے کچھ نہ تھا۔
وہ لمحے یاد آتے ہی وہ ایک بار پھر اذیت سے گزرنے لگا۔ اس کو اپنے دل میں درد محسوس ہوا۔
یادیں ٹوٹیں اور وہ چلتا ہوا آئینہ کے سامنے آکھڑا ہوا۔ سرد ہوائیں اسے کپکپانے پر مجبور کررہی تھیں مگر اس نے ایک نظر موٹی جیکٹ کو دیکھا اور پھر سے آئینہ دیکھنے لگا۔ اس کی پیشانی پر لگا وہ زخم جس پر کچھ دیر پہلے تک خون بہہ رہا تھا اب جم چکا تھا۔ بال بکھرے ہوئے اور آنکھیں خمار آلود۔ بکھری شیو جسے اس نے ایک ہفتے سے نہیں بنائی تھی۔
“تمہاری محبت میرے اندر تک جڑیں پھیلا رہی ہے شہوار!۔ مجھے خود سے دور مت کرنا! ورنہ میں مرجاؤں گا”۔
اسے باتوں کے ساتھ ساحلِ سمندر کی تیز ہوائیں اور ڈوبتا سورج بھی یاد آیا۔
“محبت میں کون مرتا ہے وجدان قریشی؟”۔ تیز ہوا کے باعث اس کے بال ہوا میں لہرارہے تھے۔ وجدان کی آنکھیں پھٹی تھیں اور اس نے جھٹکے سے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ آنکھیں حیرت اور بےیقینی سے پھٹنے کو تھیں مگر نگاہیں جس پر تھیں وہ شخص خاموشی کا لبادہ اوڑھے سامنے کو دیکھ رہا تھا۔
“مگر یہ محبت شدت اختیار کرچکی ہے”۔ وہ اپنی محبت پر شک پرداشت نہیں کرسکتا تھا۔ وہ اپنی محبت کو قتل ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
“یہ بات ابھی سمجھ نہیں آئے گی تمہیں وجدان۔ مگر کبھی نہ کبھی”۔ اس کا آنچل ہوا لہرا رہا تھا اور وہ اسے بمشکل قابو کررہی تھیں۔
اور حال میں کھڑے وجدان قریشی کو اب سمجھ آیا کہ ہاں وہ ٹھیک ہی تھی۔
بھلا محبت میں بھی کوئی مرتا ہے؟۔ اگر کوئی محبت میں مرتا تو آج وہ یقیناً زندہ نہ ہوتا۔ ہاں وہ ٹھیک کہتی تھی۔
مگر۔۔۔۔ مگر نہ تو میرے دل سے محبت مر رہی یے اور نہ مجھے مار رہی ہے۔۔۔ نہیں۔۔۔۔! ہاں وہ مجھے مار رہی ہے! اندر سے! وہ مجھے اندر سے مار رہی ہے اور روز مارتی ہے جب میں اس کا چہرہ تصویروں میں دیکھتا ہوں۔
زید ایسا کیوں کہتا ہے؟ وہ یہ کیوں کہتا ہے کہ اس نے صرف میری دولت سے محبت کی تھی۔ بھلا کوئی صرف دولت کے لیے کسی انسان سے شادی کرنے کا وعدہ کیسے کرسکتا ہے؟۔ اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لب بھینچے تو اس کے ڈمپل گہرے ہوئے۔

اسے یاد آیا کہ کچھ مہینوں پہلے جب زید اس پر خوب چلایا تھا۔۔۔
“یہ ایک طرفہ محبت ہے وجدان! ایک طرفہ! تمہاری طرف سے! وہ تمہیں نہیں چاہتی تھی یہ بات کیوں نہیں مان لیتے؟؟؟؟” وہ چیخ رہا تھا اور وجدان اس کے اس انداز پر جی جان سے مسکرایا تھا۔ یہ وہ مسکراہٹ تھی جس کی شروعات میں وہ کھل کر مسکرایا تھا مگر یہ مدھم پھیکی مسکراہٹ سے ہوئی تھی۔ اب بھلا وہ زید کو کیا بتاتا کہ وہ اب جان چکا ہے کہ وہ ایک طرفہ ہی محبت تھی۔ مگر ہاں کیا کہتے ہیں؟؟۔ وہ ایک لفظ۔۔۔ “تسلی”۔۔ خود کو تسلی دینا بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔
وہ اب کچھ اور سوچنے لگا۔
میں کسی سے محبت کرتا ہوں مگر شادی کسی اور سے کررہا ہوں!۔ تو کیا میں اس کے ساتھ خوش رہ پاؤں گا؟۔ نہیں۔۔۔۔ مجھے یہ نہیں کہنا چاہیے!۔ کیا وہ میرے ساتھ خوش رہ پائے گی؟ اس کے ساتھ بھی زبردستی ہورہی ہے جس کا اسے ابغی علم نہیں شاید!۔ کیا وہ ایک ایسے انسان کے ساتھ رہ پائے گی جو اپنا دل کسی کو پہلے ہی دے چکا ہے؟۔ جس کا دل ہر طرح کے جذبات سے خالی ہے؟۔ کیا اس کو ایسے شخص ملے گا جو پہلے ہی کسی کو دل دے چکا ہے؟۔ کیا وہ اس کی خواہشات پوری نہیں کرسکے گا؟۔ اور سب سے مشکل سوال۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ اس سے اظہارِ محبت نہیں کرے گا؟۔
اس کی سانسیں گہری ہونے لگی اور دل زور سے دھڑکنے لگا تو اس نے اپنا سینہ مسلا۔
“یعنی ایک جان نہیں دو جان برباد ہوں گی! ایک اس کی اور صالحہ کی”۔
وہ کیا کرے اب؟۔ وہ کیسے روکے وجیہہ کو کہ اپنے بھائی کے ساتھ ساتھ کسی کی بہن کا دل نہ دکھاؤ! زندگی نہ برباد کرو ہماری!۔ میں تو مکمل ٹوٹ چکا ہوں اور اذیت جانتا ہوں۔ اس چھوٹی سی لڑکی کا دل نہ توڑو۔ ایسا نہ کرو کہ اسے رشتوں پر سے اعتبار ہی اٹھ جائے۔ وہ چھوٹی لڑکی اپنے بھائی سے ہی نفرت کرنے لگے جس نے اپنی خواہش کے لیے اسے کسی سے شادی کرنے پر مجبور کیا۔ اس نے اس چھوٹی لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا ہے۔۔۔ نہیں خدارا! وہ بہت معصوم ہے۔۔۔ وہ یہ تکلیف کیسے برداشت کرے گی۔ میں تو اس کا ہم عمر بھی نہیں!۔ وہ اب اپنی چھوڑ کر اس کے لیے پریشان ہونے لگا۔
دھیرے دھیرے چلتا ہوا باہر ٹیرس پر آگیا۔ کھلے آسمان پر دھند کا ڈیرا تھا۔ اس نے آسمان کی طرف چہرہ کیا۔
دھند کے باوجود چاند ہلکا روشن تھا۔
ایک بار پھر یہ چاند اور میں تنہا تھے۔
تنہائی مٹتے کیوں نہیں مٹ جاتی؟۔
پہلے ماں باپ چھوڑ گئے۔۔۔ پھر اس کی محبت۔۔۔ اور پھر سے میں تنہا ہونے جارہا ہوں۔
وہ جیا کی شادی خوشی خوشی حیدر سے کردیتا اگر وہ یوں اسے قربان کرنے کا نہیں کہتی۔ اگر جیا کی خوشی کے بدلے اسے قربان ہونا تھا تو وہ کچھ نہیں کہے گا۔ جہاں اتنے سال اپنی خوشی کے لیے کچھ نہیں کیا وہاں کچھ اور سال ایسے ہی گزار لے گا۔۔۔ وہ اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے گا مگر۔۔۔۔ وہ سوچتے سوچتے رک گیا۔۔۔
ہاں وہ کوشش کرے گا!۔ وہ کوشش ضرور کرے گا۔
اس نے اپنی نم ہوتی آنکھوں کو سختی بند کرلیا۔ حقیقت دیکھنے کا دل نہیں اب اور۔۔۔۔!
۔۔۔**۔۔۔
وہ آدھی رات کو باورچی خانے سے پانی پی کر پلٹی تھیں کہ کسی کی اچانک موجودگی سے یکدم گھبرائیں۔ جب مقابل کھڑے شخص نے ہاتھ میں پکڑی لالٹین کو اپنے چہرے کے سامنے کیا تو ان کی تھوڑی ہمت بندھی۔
“آپ؟۔۔۔ مجھے اچانک یوں آکر ڈرا دیا”۔ وہ اب آس پاس دیکھ رہی تھیں کہ کوئی موجود تو نہیں۔

“اب تو عادی ہوجانا چاہیئے آپ کو شمیلہ بھابھی”۔ وہ ذیادہ بڑی عمر شخص نہیں تھا مگر چہرے پر پختگی تھی۔
“کیوں آئیں ہیں شاہ جی؟۔ آپ کو کتنی دفعہ خبر دار کیا ہے یوں نہ آیا کریں رات کو۔ حویلی میں کسی نے دیکھ لیا تو وہ سب جان جائیں گے”۔ وہ چہرہ ڈھانپے ہوئی خوفزدہ تھیں کہ کوئی انہیں دیکھ نہ لے۔
“یہ آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ میں کیوں آیا ہوں؟۔ آپ تو سب جانتی ہیں نا۔ کتنے سال گزر گئے شمیلہ بھابھی۔ مگر میری خواہش میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا”۔ وہ لالٹین میز پر رکھتا انہیں دیکھ کر بولا۔

“آپ کی تو محبت میں بھی فرق نظر نہیں آتا مجھے”۔ لہجہ کچھ عجیب سا تھا مگر وہ سمجھ گیا۔

“وہ لڑکی میری زندگی کی خوشی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اپنی زندگی کے کتنے سال اس حویلی میں یہ سوچ کر گزاردیے کہ کبھی اس سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔ کبھی اسے اپنا بنانے کا موقع ملے گا شمیلہ بھابھی”۔ ایک آس تھی اس کی باتوں میں۔ کیا شخص تھا جس کی امید ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
“وہ اب لڑکی نہیں رہی شاہ جی!۔ اس کا چہرہ اب ڈھل رہا ہے۔ مجبوریاں تو حسن بھی ڈھال دیتی ہیں اور اس کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے۔ اس کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ میں ایک مردے کو دیکھ رہی ہوں۔ شاہ جی۔۔۔ وہ ماضی والی نہیں رہی۔۔۔”۔ ان کی آواز تر ہوگئی تھی یہ سب بتاتے بتاتے۔۔۔
“وہ لڑکی ہی ہے میرے لیے شمیلہ بھابھی۔۔۔ آخری بار اسے۔۔۔ اسے میں نے۔۔۔ ک۔کب دیکھا تھا کچھ یاد ہے آپ کو؟ کتنے سال ہوگئے شمیلہ بھابھی اسے دیکھے ہوئے؟؟ انگلیوں پر گنے سالوں کو۔۔۔ گننے کو انگلیاں کم نہ پڑیں تو بتائیے گا۔ آپ کے ہی تو ہاتھ میں اس کا ہاتھ تھا جب میں نے اسے دیکھا۔ عزت و احترام سے میری نگاہیں اٹھ نہیں رہی تھیں مگر دیکھنے کی چاہ بھی تو دل میں چھپائی ہوئی تھی۔ وہ آخری دن تھا جس دن میں نے اسے دیکھا۔۔۔ پھر وہ دیا۔۔۔ وہ دیا شمیلہ بھابھی۔۔۔ وہ دیا۔۔۔ کہاں ہے وہ دیا جس کا ذکر وہ اپنی باتوں میں کرتی تھی۔۔۔ وہ دیا بجھ گیا نا۔۔۔ میں اس دن کا انتظار شدت سے کررہا تھا جب وہ بھاگتی ہوئے میرے پاس آتی اور ہاتھ میں پرچا پکڑا کر خود کو چادر میں ڈھانپ کر کہتی۔۔۔
“لیں۔۔۔ پڑھیں بشارت حسین۔۔۔”۔ اور میں؟؟ میں کپکپاتا اسے کھولتے ہوئے۔ اور وہ کہتی “گھبرائیے نہیں۔ وہ دیا جلتا رہے گا”۔۔۔
مگر ایسا کیوں نہیں ہوا شمیلہ بھابھی۔۔ کیوں اس کی جگہ ایک ملازم بھاگتا ہوا آیا اور اس نے مجھے پرچا پکڑایا۔ میں اسے نظروں سے ڈھونڈتا رہ گیا مگر وہ نظر نہ آئی۔ حیرانی سے وہ پرچا کھولا تو۔۔۔ پتا چلا کہ وہ دیا تو بجھ چکا ہے۔۔۔ اس خط میں مجھے سختی سے تنبیہ کی گئی تھی کہ میں یہ گاؤں چھوڑ دوں ورنہ مجھے ماردیں گے یہ لوگ۔۔۔ وہ خط۔۔۔ وہ۔۔۔ خط اس لڑکی نے لکھا تھا جس کے لیے میں تڑپتا رہا۔۔۔ میں خوف سے بھاگ جاتا گاؤں چھوڑ کر اگر مجھے اس کنچی آنکھوں والی لڑکی سے محبت نہ ہوتی۔ ملازم نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ حویلی والے آپ کی تلاش میں ہیں مگر یہ اچھا ہے میرے لیے کہ انہوں نے مجھے کبھی دیکھا نہیں اس لیے پہچاننے میں مشکل ہوگی۔ میں بھاگا نہیں بلکہ ایک ہفتے کے اندر اندر بہت مشکلوں سے حویلی آیا۔۔۔ میں نے سوچا تھا کہ ایسے اس سے بات کرنا آسان ہوجائے گا اس لیے جو ملازم میرے پاس خط لے کر آتا تھا اس نے میری سفارش کروا کر میری نوکری یہاں لگوادی۔ کبھی سوچا ہے ایک اتنے بڑے باپ جس نے دھن دولت میں نام کمایا ہوا ہو اس کا بیٹا حویلی والوں کا باورچی کیوں بنا؟ کتنے سال ہوگئے مجھے یہاں پر اس سوال کا جواب میرے چہرے پر موجود جھریاں بتائیں گی آپ کو۔۔۔ صرف ایک دفعہ بات کرنے دیں۔ خدارا۔۔۔ کتنے سال ہوگئے یہ خواہش آپ کے قدموں میں رکھتے رکھتے”۔ آنکھوں سے آنسو ٹپک کر اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے۔ وہ شخص اتنے سالوں میں پہلی بار تھک کر رویا تھا۔ شمیلہ بھابھی کا دل کٹ گیا۔۔۔
“وہ بول نہیں سکتی شاہ جی۔ اس سے گفتگو کیسے کریں گے آپ؟”۔ گیلی آواز کے ساتھ وہ پوچھ رہی تھیں۔
“تو کیا ہوا؟ محبوب کی تو خاموشی بھی سننے کی لائق ہوتی ہے۔ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔ میری نگاہیں اس کے چہرے پر نہ اٹھیں گی مگر میرے لیے یہ ہی بہت ہے کہ وہ میرے سامنے ہے۔۔۔ اتنے سالوں میں کیا اسے میری موجودگی کا بھی علم نہیں ہوا؟۔ جو اس امید پر اب تک زندہ ہے کہ ایک دن وہ اسے مل جائے گی۔ میں اب بھی اس کی ہی چاہ رکھتا ہوں۔ میرے دل میں اسے اپنا محرم بنانے کی اب بھی چاہ ہے۔ جوانی گزاردی اس حویلی میں۔۔۔ خواہش اب بھی ہے دل میں کہ بڑھاپا اس کے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں”۔ وہ باتیں دہراتے دہراتے تھک چکا تھا اس لیے چپ ہوگیا۔
“اسے بےزبان کردیا گیا تھا تمہاری غیرموجودگی میں۔ میں جانتی ہوں جب وہ بری طرح تڑپ رہی تھی اپنی زبان کی تکلیف کی وجہ سے۔ جب وہ بےزبان ہوچکی تھی اس کے بعد ہی اس نے خط لے کر سب سے چھپا کر ملازم کو آپ کی طرف بھیجا تھا۔ اتنی تکلیف میں بھی اس عورت کو آپ کی ہی فکر ہی تھی شاہ جی۔ اس کی بےزبانی کی وجہ اس کی بغاوت ثابت ہوئی تھی۔ وہ اس حویلی کی آج تک کی آنے والی نسلوں میں پہلی عورت تھی جس نے اپنے باپ کے سامنے کھڑے ہوکر کہا تھا کہ وہ اس پر ناحق ظلم نہیں کرسکتے۔۔ اس نے کہا تھا وہ اسی نکاح نامہ پر دستخط کرے گی جس پر نام بشارت حسین کا درج ہوگا۔ اس حویلی میں پہلی بار ایک عورت پوری قوت سے چیخی تھی صرف اپنے حق لیے!۔ صرف اس لیے کہ اس کی شادی وہاں کروائی جائے جہاں اس کی رضامندی ہے۔ باقی باپ کی ہر بات ہر کہا مانتی تھی بس۔۔۔ یہ نہ مان سکی۔۔۔ اس شوخ، چنچل، معصوم اور اپنی زندگی میں رہنے والی لڑکی کو ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا تھا۔ میں نے دیکھا تھا جب داجی نے اپنی ہی بیٹی کے منہ میں وہ جلتا ہوا انگارا ڈالا تھا۔ وہ تڑپ رہی تھی معافی مانگ رہی تھی۔ بھلا سوچو حویلی کے کسی عورت کے منہ سے غیر شخص کا نام سن کر حویلی کے مرد خاموش رہ سکتے ہیں کیا؟۔ خون بہنے لگا منہ سے مگر داجی کا دل نہیں پگھلا۔ وہی رسم و رواج کی دیوار اس کے اوپر گرگئی اور اسے اسی کے کمرے میں تنہا پھینک دیا گیا۔ سب سے لاڈلی تھی وہ اس حویلی کی اور آج کسی کو اس کی موجودگی یا غیر موجودگی کی بھی پرواہ نہیں بشارت حسین”۔
وہ سن رہا تھا یہ داستان اور دل تکلیف کررہا تھا۔ محبت جان لے رہی تھی اس کی اور وہ مر بھی نہیں رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ یہ باتیں جانتا نہیں تھا۔۔۔ وہ سب جانتا تھا مگر ہر بار یہ داستان سنتے ہوئے اس کی روح کانپتی تھی۔۔۔ وہ بات ختم کرکے اب اسے تک رہی تھیں۔
“شاہ جی چلے جائیں۔ ابھی بہت رات بھی ہوگئی ہے”۔ وہ چادر سے آنسو پونچھتی اوپر مڑگئیں کہ اب اور سکت نہ تھی اور کچھ کہنے کی۔۔۔۔
۔۔۔**۔۔۔