Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 5
No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۵
اس کی آنکھ کھلی تو اس وقت تین بج رہے تھے۔ اسے حیرت ہوئی کہ وہ اتنی دیر کیسے سو گئی تھی۔ کل رات کا واقعہ یاد آیا تو دل بوجھل ہوگیا۔ شمیلہ چچی کمرے میں داخل ہوئیں تو اسے بستر پر بیٹھا دیکھ کر اس کے قریب آئیں۔
“اٹھ جاؤ صالحہ۔ کیسی طبیعت ہے اب؟۔ چلو آؤ دیکھو کتنا پیارا موسم ہورہا ہے۔ تھوڑی دھوپ سینک لو باغ میں جا کر۔ جا میری دھی”۔
صالحہ نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا اور واش روم چلی گئی۔ وہ جب تک باہر آئی شمیلہ چچی اس کا کمبل اٹھا چکی تھیں۔ اس نے تولیہ سے منہ رگڑا اور سنگھار میز کے سامنے آ کر کھڑی ہوگئی۔ بال الجھے ہوئے تھے۔ تین دن سے ان بالوں پر کنگھا نہیں پھیرا گیا تھا۔ ایک ہاتھ سے اس کی چادر ٹھیک کرتیں چچی کی نظریں اس کے بالوں پر پڑیں۔
“آ صالحہ تجھے تیل لگادوں۔ پھر بال بھی سلجھا دوں گی۔ یہ دیکھ رہی یے تیری کھڑکی سے بھی کتنی دھوپ اندر آرہی ہے۔ تھوڑی دیر میں یہ بھی نہیں رہے گی اس لیے جلدی آجا”۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہیں سنگھار میز سے کنگھا اٹھا کر اسے زمین پر بٹھادیا جہاں دھوپ ذیادہ تھی۔ صالحہ نے سوئٹر پہن رکھا تھا جس پر پھولوں والی کڑاہی تھی۔ وہ تیل لے کر آئیں اور کرسی لگا کر اس کے پیچھے بیٹھ گئیں۔ وہ خاموش ہی رہی جیسے پہلے تھی۔ وہ اسے اب تیل لگارہی تھیں۔
“چچی”۔ اس کے لبوں سے الفاظ آذاد ہوئے۔
“ہاں دھی”۔ وہ اب اس کے سر پر کنگھا کررہی تھیں۔
“ثریا؟”۔
“مجھے علم نہیں صالحہ!۔ میں نے اسے صبح سے نہیں دیکھا”۔
“میں اس سے ملنے جاؤں گی”۔
“بال بن جائیں پھر چلی جانا”۔
“کیا کہوں گی میں اسے؟”۔
وہ ان سے پوچھ رہی تھی۔
“اللہ کا کلام سنانا۔ اسے صبر کا مفہوم بتانا۔ اس سے کہنا اس کی مغفرت کی دعا کرے۔ وہ اللہ کی ہی چیز تھی وہ اللہ کے پاس چلی گئی”۔ یہ بات صالحہ کے دل سکون اتار گئی۔
“اور؟”۔ اسے شمیلہ چچی کو سننا اچھا لگنے لگا۔
“وَاصۡبِرۡ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا”
“چچی۔ رات والی آیت بھی؟”
“ہاں میری دھی”۔ وہ اب اسکی چٹیاں بنارہی تھی۔
“اور؟”۔
“اس کو بول اللہ کا کلام پڑھ”۔
“اور”۔
وہ اس کے بال بنا چکی تھیں۔
“اور یہ کہ ثریا کو دیکھنے کے بعد اپنی افشاں پھپھی کو بھی دیکھ آ۔ تجھے اسے دیکھے آج تیسرا دن ہے”۔
صالحہ نے تیزی سے گردن موڑ کر انہیں دیکھا۔ انہیں کیسے معلوم کہ وہ افشاں پھپھی کو دیکھنے جاتی ہے؟۔ مگر وہ اسے راز افشاں ہونے والی مسکراہٹ سے دیکھ رہی تھیں۔
“ارے اب ایسے مت دیکھ!۔ میں جانتی ہوں تو اس سے ملنے جاتی ہے رات کو”۔
صالحہ مسکرادی، مگر جلد ہی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
“انہیں ان دو دنوں سے کھانا کون دینے جاتا رہا ہے چچی؟”۔ وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
“میں دینے جارہی تھی صالحہ۔ اور تجھے معلوم ہے کیا؟ وہ ہر بار میرے کمرے میں داخل ہونے پر تیرا انتظار کرتی تھی۔ میں جیسے ہی کنڈی کھٹکھٹاتی اسے لگتا صالحہ آئی ہے اور وہ مچلتی ہوئی دروازہ کھولتی، مگر مجھے دیکھ مرجھاتی”۔
صالحہ ان کو بہت غور سے سن رہی تھی۔
“پھر چچی؟”۔
“پھر؟ پھر یوں ہوا کہ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ آج صالحہ کو ضرور بھیجوں گی۔ اس کی پریشانی کی ایک اور وجہ تمہاری بیماری بھی تھی۔ حالانکہ میں نے اسے آگاہ نہیں کیا تھا کہ تم بیمار ہو۔ مگر تمہاری غیرموجودگی اسے بس یہی سمجھاتی رہی کہ کچھ برا ہوا ہے تمہارے ساتھ۔ وہ اشاروں سے پوچھتی کہ ارحم کی موت پر صالحہ کو گہرا صدمہ تو نہیں لگا نا!۔ وہ پورا پورا وقت تمہارے بارے میں پوچھتی رہی۔ پورے دو دن سے وہ گھنٹیاں بجائی جارہی ہے، مگر اس کی گھنٹی کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ بے زبان ہے تو اس لیے گھنٹی بجاتے بجاتے ہاتھ دکھ گئے، مگر اس کی صالحہ نے دو دن سے اس کے کمرے میں جھانکا نہیں۔ اس کی اب یہ حالت ہے کہ اگر اب ایک دن اور اسے تیرا چہرہ نظر نہ آیا تو وہ مرجائے گی صالحہ! اسے یہ دوسرا گہرا صدمہ لگے گا!”۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئیں۔
“پہلا؟”۔
“تجھے سب خبر ہے صالحہ۔ تو پھر تو کیوں پوچھ کر جی جلا رہی ہے میرا؟”۔ وہ نڈھال ہوگئی تھیں۔
“مجھے دھندلا سا یاد ہے چچی!۔ علیحدہ سے کسی نے نہیں بتایا”۔
“میں جارہی ہوں”۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“وہ پہلا کون سا صدمہ تھا چچی؟”۔ وہ پھر سے پلٹ کو بولی۔ وہ ٹہھر گئیں۔
“جب افشاں کو بےزبان کردیا تھا اور جب اس کی خوشی کو افشاں سے ہی دور کردیا تھا۔ افشاں کی خوشی! یعنی وہ شخص!”۔ وہ کہتی ساتھ چادر سے خود کو ڈھانپتیں تیزی سے باہر نکلیں۔ صالحہ سناٹے میں آگئی۔ ایک شخص؟ یہ کوئی پہیلی نہیں تھی جسے وہ سمجھنے میں دیر لگاتی۔ حویلی میں ایک غیر شخص کی بات ہورہی تھی اس کا مطلب بہت کچھ تھا۔ افشاں پھپھو کے ذکر میں ایک مرد کا ذکر آیا تھا۔ اسے تجسس پیدا ہوا۔ داجی کے بےرخی اور افشاں پھپھو سے دوری! وہ تو ان کی بیٹی تھیں نا!۔ تو پھر کیوں۔۔۔۔ اس بے یک دم سوچا۔
اوہ۔۔۔۔ بیٹی تھیں تبھی تو یہ سب ہوا۔ وہ لڑکی تھیں۔
وہ تلخی سے مسکراتی اٹھ کھڑی ہوئی۔
۔۔۔**۔۔۔
“ثریا تم یوں اندھیرے میں کیوں بیٹھی ہو؟”۔ وہ کمرے میں داخل ہوئی جہاں ثریا بیٹھی تھی۔
کسی کی موجودگی پا کر ٹریا نے سرعت سے کچھ الماری میں رکھا۔ صالحہ نے تجسس سے اسے دیکھا۔ وہ اب گہری سانس ہوا میں چھوڑ کر صالحہ کو دیکھ رہی تھی۔
“مجھے لگا کوئی اور آیا ہے جبھی الله کی کتاب چھپادی۔ ورنہ یہ لوگ مجھے پاگل سمجھتے!”۔ اس نے کتاب الماری سے نکال کر میز پر رکھی اور کرسی پر بیٹھ گئی۔
“مگر کیوں؟”۔ اسے حیرت ہوئی۔
“ایک لڑکی جس نے اپنی بھائی کی موت تک صرف ایک یا دو دفع قرآن کو ہاتھ لگایا ہو! اور اس کے بعد اپنے بھائی کی موت پر قرآن کھولا ہو، مگر اب کثرت سے پڑھنا چاہتی ہو تو اسے کہا جائے گا کہ یہ اپنے بھائی کی موت کی وجہ سے صدمہ میں پڑھ رہی ہے۔ ہوسکتا ہے حویلی والوں کو ڈر ہو کہ میں اس کلام کو پڑھ کر بغاوت نہ کرجاؤں؟۔ خیر یہ بات بھی سچ ہے کہ بھائی کی موت نے ہی مجھے اللہ کے قریب کیا ہے”۔ اس نے ڈوپٹہ اوڑھا اور نرمی سے قرآن کے صفحے پلٹنے لگی۔ صالحہ حیران رہ گئی۔
“مجھے بہت خوشی ہے ثریا کہ تم نے خود کو اللہ کے قریب کرلیا۔ تم ٹھیک ہو نا ثریا؟”۔
“میں نے قبول کرلیا ہے اپنے بھائی کی موت کو۔ موت برحق ہے جو سب کو آنی ہے۔ ہاں اس کی تدفین والے دن میں بہت روئی تھی، مگر میں نے سنبھال لیا خود کو صالحہ۔ کیا تم ٹھیک ہو؟”۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا جو اسے تکنے میں محو تھی۔ صالحہ کے دل میں ایک دم تکلیف اٹھی۔
“میں صبر کرنے کی بہت کوشش کررہی ہوں ثریا۔ امید ہے سب ٹھیک ہوجائے گا، مگر میرا دل کسی اور کی طرف مائل نہیں ہوگا ثریا۔ محبت بار بار نہیں ہوتی”۔ اس کی آنکھوں کے کنارے گیلے ہوگئے۔ وہ بس اب تھک چکی تھی روتے روتے۔ محبت کا خاتمہ ہوچکا تھا۔ اس کا دل کسی نے زور سے بھینچا۔
ثریا رونا نہیں چاہتی تھی، مگر اس کی گفتگو سے وہ اپنے بھائی کے لیے ایک بار پھر آنسو بہا بیٹھی۔ یہ اب ساری زندگی کا دکھ تھا۔ ثریا نے خود پر قابو کرنا چاہا۔ وہ آخری دم تک ضبط کررہی تھی۔ لب بھینچ لیے اور ہاتھ جو قرآن کے صفحے پلٹ رہے تھے، یک دم رک گئے۔ نظر قرآن کے صفحے پر پڑھی تو ساکت رہ گئیں۔
“وَاِنۡ عَاقَبۡتُمۡ فَعَاقِبُوۡا بِمِثۡلِ مَا عُوۡقِبۡتُمۡ بِهٖۚ وَلَئِنۡ صَبَرۡتُمۡ لَهُوَ خَيۡرٌ لِّلصّٰبِرِيۡنَ ۞
ترجمہ:
اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے”۔
اس نے سورل نحل کی ۱۲۶ آیت پڑھی اور ساکت رہ گئی۔
اللہ نے اس کے سامنے سب کھول کر رکھ دیا۔ صالحہ اسے بےحس و حرکت دیکھ رہی تھی۔ ثریا یک دم مسکرادی۔ اس نے نظریں اٹھا کر اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا اور پھر سے مسکرادی۔
“یہ دیکھو صالحہ۔ اللہ نے مجھے کیا دکھایا”۔ اس نے قرآن صالحہ کے آگے کیا۔
صالحہ نے اسے دیکھا۔
“اب معلوم ہوا کہ اللہ کیسے دکھاتا ہے”۔ وہ مسکرائی تھی۔ ثریا نے قرآن چوم کر رکھ دیا اور اٹھ کر بستر پر آ بیٹھی۔ اسے یوں مطمئن دیکھ کر صالحہ کے دل کو سکون پہنچا۔
“میں افشاں پھپھو کو دیکھ کر آتی ہوں ثریا”۔ وہ دل پر بوجھ رکھتی باہر نکلنے لگی۔
“ذرا اس عورت کو بھی دیکھ آؤ جو برتن مانجھ مانجھ کر تھک گئی ہے۔ جس کے ہاتھوں میں چھالے اور زخم بڑھ گئے ہیں۔ اس کو مرہم کون لگائے گا؟”۔ وہ پانی کا گھونٹ گھونٹ بھرتی اسے بتارہی تھی۔
صالحہ شاک ہوگئی۔ اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ وہ یہ کیسے بھول سکتی تھی اس حویلی میں اب ونی بھی ہے۔ لمحہ بھر حیران ہونے کے بعد اب وہ خاموش تھی۔ وہ ارحم کے خون کے بدلے میں آئی تھی۔ تھوڑی دیر کے لیے اس کے دل میں اس لڑکی کے لیے رقابت پیدا ہوگئی۔ مگر جب اس بارے میں غور سے سوچا تو اپنا خیال جھٹک دیا۔ وہ زینے اترتی نیچے آئی۔ اماں صوفے پر بیٹھی کچھ بن رہی تھیں۔
“تو اٹھ گئی صالحہ؟”۔ وہ چمک کر بولیں۔
“ہاں”۔ وہ پھیکا سا مسکرائی۔ آنکھیں کسی کو تلاشنے لگیں۔ اسے ارحم کی یاد بھی شدت سے آئی۔ ایک شخص کی کمی اس حویلی میں اسے بہت زیادہ محسوس ہوئی۔ اس کا دل اجڑ چکا تھا۔ اب کوئی مستقبل بھی نہیں تھا۔ وہ صبر کررہی تھی کیونکہ اس کے پاس یہی ایک راستہ تھا۔ آنکھیں اب تک نم تھیں اور لہجہ گیلا۔
“تو رو رہی یے؟ حیدر تجھے کل شہر لے کر جانے والا ہے۔ تیاری کرلے”۔
“میں تھک گئی ہوں اماں”۔ وہ تھکے انداز میں کہتی ان کے برابر میں بیٹھ گئی۔ شہر جانے کی خوشی بھی نہ ہوئی۔ یہ جگہ وہی تھی جہاں ارحم کی میت کو رکھا گیا تھا۔ وہ ایک کرب سے گزر رہی تھی۔ اس کے سر میں درد ہونے لگا، اس لیے اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔
“اب کہاں جارہی ہے تو؟ کچھ کھایا تو نے؟ حیدر کہاں ہے؟” اماں نے سوالوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔
صالحہ کو کوفت محسوس ہوئی۔
“اماں اوپر جارہی ہوں اور کچھ بھی نہیں کھایا میں نے۔ میرا دل نہیں”۔ ابھی وہ زینے چڑھتی کہ کسی نسوانی چیخ پر بوکھلاگئی۔
“تو نے اب تک برتن نہیں مانجھے؟”۔
آواز سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ کچن میں سمیعہ تائی ہیں۔ وہ کسی پر چلا رہی تھیں۔ زوردار تھپڑ پڑنے کی آواز آئی اور ایک لڑکی باہر منہ کے بل گری۔ وہ ششدر رہ گئی۔ وہ سالہا، سترہ سال کی ایک معصوم سی لڑکی تھی جس کا چہرہ اب تھپڑ سے لال ہوچکا تھا۔ اس نے بڑھ کر اسے اٹھانا چاہا، مگر پاؤں میں گویا زنجیر بندھ گئی۔
“اوہ تو یہ ہے ونی”۔ اس نے بےاختیار سوچا۔ دل میں ایک بار پھر رقابت پیدا ہوئی۔ اس نے قدم بھی اس چھوٹی سی لڑکی کی طرف نہ بڑھایا جو زمین پر گری تڑپ رہی تھی۔ وہ اسے ارحم کی یاد ایک بار پھر دلاگئی تھی۔ وہ اوروں کی طرح یہی سوچنے لگی کہ یہ لڑکی ارحم کے خون کے بدلے آئی ہے!۔ اس سے بڑا بھی اس لڑکی کا کوئی اور جرم ہوسکتا تھا کہ وہ ارحم کے قاتل کی بہن ہے؟۔ اتنے میں کچن سے سمیعہ تائی آئیں اور اسے بالوں سے پکڑ کر اٹھایا۔ صالحہ کا دل برا ہوا۔
“میرا بیٹا مارا گیا ہے تیرے ویر کے ہاتھوں!۔ میں تجھے نہیں چھوڑوں گی”. انہوں نے اسے بال سے پکڑ کر کچن کے اندر دھکا دیا۔
“دس منٹ کے اندر دوپہر کے برتن نہیں دھلے تو اب تو تجھے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ میں کیا کروں گی”۔ وہ اب کچن میں تھی اس لیے اسے دیکھ نہیں پارہی تھی۔ صالحہ نے منہ پھیر کر قدم اوپر کی جانب بڑھالیے۔ دل نے اس لڑکی کو دیکھنے کی خواہش کی، مگر ارحم کی موت کا دکھ تھا اس لیے وہ اس کے قاتل کی بہن کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتی تھی۔ وہ زینے چڑھتی چلی گئی۔ زینے ختم ہوتے ہی ثریا کھڑی تھی۔ سر پر چادر اور سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے تھی۔
“اگر ایسا کرو گی تو کیا فرق رہ جائے گا تم میں اور حویلی والوں میں؟”۔ وہ رکی نہیں تھی۔ کہتے ساتھ کمرے میں مڑگئی تھی۔ صالحہ نے اس کی بات پر تھوک نگلا۔ وہ مرے مرے قدموں سے سب سے اوپری منزل جانے کے لیے چڑھنے لگی۔ ثریا ٹھیک کہہ رہی تھی۔ اس لڑکی کا اس سب میں بھلا کیا قصور؟ اس کے تو وہم و گمان میں نہیں ہوگا کہ اس کے بھائی نے کسی کا قتل کردیا تھا۔ ہر مرد کی سزا عورت کیوں بھگتی ہے؟۔ صالحہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ بیوی بھی اس شخص کی بنی ہے جو ان حویلی کے معاملوں میں بہت سخت ہے۔ صالحہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ظلم نہیں ہونے دے گی۔ یہ سوچتے سوچتے اسے یہ بھول گیا تھا کہ وہ اب افشاں کے دروازے کے سامنے کھڑی ہے۔ اس منزل پر ہمیشہ سے خاموشی کا راج رہا تھا۔ وہی دھول مٹی میں اٹی ہوئی منزل، وہی جالے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اسے کمرے کے اندر ہلچل محسوس ہوئی۔ کوئی تیزی سے دروازہ کھولنے آرہا تھا۔ کچھ لمحے اور گزرے اور دروازہ کھل گیا۔ وہ اندر داخل ہوئی۔ وہ عورت دروازے کا کنڈہ پکڑے کھڑی تھی۔ صالحہ نے اسے دیکھ کر مسکرانا چاہا، مگر اس سب سے پہلے ہی اس کے آنسو چھلک گئے۔ افشاں نے جھٹ سے اسے گلے سے لگالیا۔
وہ روتی گئی اور وہ بےزبان عورت اس کو تپھتپھاتے رہی۔ جانے کتنی رونے اور کہنے کے بعد اب وہ پرسکون افشاں کی گود میں سر رکھے لیٹی تھی۔
“میرے اندر رقابت کے جذبات پیدا ہوگئے تھے پھپھو۔ میں نے اسے نظرانداز کردیا اور۔۔۔ اور اس کو ظلم سے بچایا بھی نہیں پھپھو۔ کیا فرق رہ گیا مجھ میں اور حویلی والوں میں؟ ثریا ٹھیک کہتی ہے۔ پھپھو مجھے کیا ہوگیا ہے؟۔ ارحم کی یاد دل میں بڑھتی جارہی ہے”۔
اور اس سب میں افشاں صرف اسے تکتی رہی، تھپھتاتی رہی۔
“میں نے تین دن سے قرآن بھی نہیں پڑھا پھپھو۔ میں اچھی نہیں ہوں نا؟”۔ وہ روہانسی ہوگئی۔ پھپھو نے نفی میں سرہلایا اور اسے اشاروں میں سمجھانے لگیں کہ “نہیں صالحہ۔۔۔ تم بہت اچھی ہو!”۔ جب صالحہ ذیادہ نےچین ہونے لگی تو پھپھو نے اپنے برابر رکھی میز سے ایک پرچہ نکالا۔ وہ خستہ حال صفحہ کا ٹکڑا تھا جسے اس نے صالحہ کو پکڑایا تھا اور صالحہ اس صفحے کو کھولے بغیر ہی سمجھ گئی تھی کہ اس میں کیا لکھا ہے۔ وہ ایک دم مسکرا کر پھپھو کو دیکھنے لگی۔ اس نے پرچہ کھولا۔
“تم صالحہ ہو! ایک نیک اور صالحہ لڑکی بن جاؤ”۔ یہ پڑھ کر ایک پیار بھری نگاہ پھپھو پر ڈالی جو اب اس امید پر اسے دیکھ رہی تھیں کہ وہ اب ان کی بات سمجھ گئی ہوگی۔ اس نے پرچہ تہہ کرکے ان کی طرف بڑھایا۔
“اگلی بار جب بھی میں بھٹکوں تو مجھے یہی پرچی تھمائے گا پھپھو”۔
صالحہ نے کنچی آنکھوں سے کنچی آنکھوں میں جھانکا۔ افشاں نے اس کی آنکھوں میں اپنی جوانی دیکھی۔ وہ بنی بنائی افشاں تھی۔
“تم میری جوانی ہو صالحہ”۔ اس نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دل میں سوچا۔ وہی نین نقش۔ وہی ادائیں اور وہی دل موہ لینے والی باتیں۔ چھوٹی خواہشیں اور وہی دل میں پنپتی کسی کی محبت۔ اسے اپنا ماضی یاد آنے لگا۔
۔۔۔**۔۔۔
حویلی میں لوگوں کی چہل پہل تھی۔
“بھابھی بھابھی”۔ وہ شوخ چنچل لڑکی اپنا آنچل لہراتے ہوئے بھاگ رہی تھیں۔
“سمیعہ بھابھی کیا آپ جانتی ہیں شمیلہ بھابھی کہاں ہیں؟”۔ وہ بیتاب ہوتی نظروں سے ادھر اْدھر ڈھونڈنے لگی۔ آواز اتنی مدھم اور خوبصورت کہ محسوس ہوتا تھا کہ کوئی چھوٹی بچی کی آواز ہے۔
“وہ باہر کچن میں ہے چندا”۔ سمیعہ نے مسکرا کر اس شوخ لڑکی کو دیکھا جو یہ سن کر ہی کچن کی جانب بھاگ گئی تھی۔
“بھابھی جلدی چلیں میرے ساتھ”۔ وہ شمیلہ کو پکڑ کر کھینچنے لگی۔
“ارے لڑکی دو منٹ رک جاؤ!۔ مجھے کھانا پکوالینے دو باورچیوں سے ورنہ داجی بہت چیخیں گے”۔ ان کی کلائی افشاں کے ہاتھوں میں تھی اور وہ مسلسل انہیں کھینچ کر زبردستی کہیں لے کر جارہی تھی۔
“آپ ابھی چلیں”۔ وہ معصوم سے ضدی لہجے میں بولی۔
“مگر تم یہ تو بتاؤ ہوا کیا ہے افشاں بچے؟”۔ وہ اس کے ساتھ پیچھے پیچھے آنے لگی۔
“ملاقات کرنی ہے کیونکہ اسے کوئی اہم کرنی ہے مجھ سے بھابھی”۔
“اہم بات؟”۔ ان کا دل دھڑکا۔
“ہاں بھابھی۔” اس کی آنکھیں چمکیں۔
“کیسی اہم بات؟”۔
“ہوسکتا ہے وہ اپنے والدین کو حویلی لانا چاہتا ہو میرے حوالے سے؟”۔ وہ امید سے بولی۔
شمیلہ دھک سے رہ گئیں۔
“کیا ہوا بھابھی؟”۔ وہ ان کی حالت سمجھ نہ پائی۔
“داجی نہیں مانیں افشاں۔۔۔ کوئی نہیں مانے گا!۔ بشارت حسین کے بارے میں کسی مرد کو نہیں معلوم!”۔
افشاں کا چہرہ مرجھایا۔
“بھابھی یہ محبت بہت انمول ہے میرے لیے۔ میں داجی سے بات کروں گی بھابھی۔ میں چپ نہیں رہوں گی۔ میں اپنے ساتھ غلط نہیں ہونے دوں گی”۔
شمیلہ کی سانسیں گہری ہونے لگیں۔ اس کے ارادے صحیح نہیں تھے۔
“تم کیا کرو گی افشاں؟”۔ انہوں نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
“میں کیا کروں گی بھابھی؟ میں داجی سے کہوں گی کہ میں اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی ہوں!۔ میں اپنے اوپر زبردستی نہیں چاہتی!۔ میں کہہ دوں گی”۔ دھوپ اس کی آنکھوں پر پڑی تو کنچی آنکھیں چمکنے لگیں۔ چمکنے کی وجہ آنکھوں سے نکلنے والا پانی بھی تھا۔ اس کی آنکھیں کب گیلی ہوئیں اسے علم نہ ہوا۔
“آپ بس ہماری ملاقات کروادیں آخری بار۔ یہ خط و کتابت اب مجھ سے نہیں کی جاتی بھابھی۔ وہ شخص میرے رگ رگ بسا ہوا ہے”۔ وہ قدرے جذب سے انہیں بتارہی تھی۔
شمیلہ بھابھی جانتی تھیں کہ اس حویلی کی عورتیں خواب بہت بنتی ہیں، مگر وہ خواب پورا نہیں ہوتا۔
“شام میں سب مزار جائیں گے۔ ملازم سے کہو بشارت حسین سے کہے پرانی والی جگہ ملنے آئے”۔
افشاں کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے ملازم کو خبر دی اور کمرے کی طرف جانے لگی۔ چادر سے سر مکمل ڈھانپا ہوا تھا۔ وہ چلتے چلتے ایک دم کسی سے ٹکڑاگئی۔
“آئے پھپھو مجھے لگ گئی”۔ وہ ننھا وجود توتلی زبان میں بولا۔
“ارے پھپھو کی جان۔۔۔ کمرے میں آجاؤ پھپھو کے”۔اس کو گود میں اٹھا کر وہ اپنے کمرے میں لے آئی۔ وہ اس کو گود میں لیے زینے چڑھتی چلی گئی۔ اوپر منزل میں داخل ہوئی جو بہت خوبصورت تھی۔ جہاں ہر رنگ سے دیواروں کو سجایا ہوا تھا۔ داجی نے اپنی بیٹی کے لیے اس منزل کو خوب سجایا تھا۔ افشاں نے کمرے کا دروازہ کھولا اور اسے گود میں لیے اندر داخل ہوئی۔ حویلی کے تمام کمروں میں سب سے خوبصورت کمرہ صرف اس کا تھا۔ ایک بڑا آئینہ جو دیوار پر لگا تھا۔ رنگوں سے بھرپور کمرہ۔
“صالحہ نے وہ آیت سیکھی؟”۔ افشاں نے بچی کو میز پر بٹھایا۔
“جی پھپھو”۔ اس نے اثبات میں سرہلایا۔
“الله تعالیٰ سے دعا مانگی؟”۔
اس بچی نے پھر اثبات میں سرہلایا۔
“کیا مانگی صالحہ نے دعا؟”۔ وہ اس بچی کو غور سے دیکھنے لگی۔ اسے لگا وہ اپنے بچپن کو دیکھ رہی ہے۔
“اللہ میاں صالحہ ٹو (کو) صالحہ بناڈے (بنادے)”۔ وہ کھلکھلا کر بولی تو افشاں بھی مسکرادی۔
“اللہ کریں صالحہ بڑی ہوکر نیک اور صالحہ لڑکی بنے۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کے اور قریب ہوتی جائے گی۔ چلو صالحہ۔ اب یہ اپنی چھوٹی سی چادر اوڑھو! اب ہمارا قرآن پڑھنے کا وقت ہے۔ ہم نے وعدہ کیا تھا نا کہ اب ترجمہ بھی سمجھیں گے”۔ وہ اسے گود میں اٹھاتی اس کے سفید گالوں کو چومتی الماری کھولنے لگی۔
“کونسا والا اسکارف پہنے گی پھپھو کی گڑیا”۔ اس نے محبت سے صالحہ سے پوچھا۔ صالحہ کی آنکھیں چمکیں۔ وہ اس کے گلے سے لگی ایک گلابی اسکارف کی جانب اشارہ کرنے لگی۔
“اوہ یہ تو میرا اسکارف ہے جو کہ آپ کی پھپھو کو بہت پسند ہے”۔ وہ منہ بسور کر اسے دیکھ کر بولی۔ صالحہ نے اداسی سے اسے دیکھا۔
“مگر مجھے۔۔۔۔۔ ٹو (تو)۔۔۔۔ یہی والا چاہئیے نا”۔ اس نے منہ بسور لیا۔ افشاں نے اس کے ننھے سے ہاتھ پکڑ یے باری باری چومے۔
“مجھے یہ والا اسکارف پسند ہے لیکن مجھے تو صالحہ بھی بہت پسند ہے۔ چلو یہ اسکارف صالحہ پہنے گی”۔ اس نے اسکارف نکال کر اسے پہنایا اور قرآن نکالنے لگی۔
“میں کرچی (کرسی) پر یٹھ جاؤں؟” وہ معصومیت سے پوچھنے لگی تو افشاں نے اثبات میں سرہلایا۔
“یہ رہا قرآن یعنی الله میاں کا کلام”۔ یہ کہتے ہوئے اس نے میز پر قرآن رکھا۔ صالحہ کرسی پر کھڑی ہوگئی۔
“اور صالحہ کا قاعدہ کہاں ہے پھپھو؟”۔ اس سے پہلے صالحہ پھر ناراض ہوتی افشاں جلدی سے اس کا قاعدہ لے آئی۔
“یہ رہا”۔ اس کو محبت سے قاعدہ آگے بڑھایا۔
“کتنا سارا پڑھائیں گی؟”۔ اس نے چمک پوچھا۔
“جتنا سارا آپ کو یاد ہوگا۔ صالحہ تو اچھی بچی ہے نا؟”۔ افشاں نے گھنی پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“ہاں پھپھو”۔ وہ اب کرسی پر بیٹھ کر قاعدہ کھولنے لگی۔
“ہم اس ٹے (کے) بعد کیا کریں گے پھپھو؟”۔
“اس کے بعد پھپھو آپ کو کہانیاں سنائیں گی۔ الله تعالیٰ کی باتیں بھی بتائیں گی”۔ اس نے اسکارف پہنا۔
“اماں لوگ جائیں گے آج بھی۔ آپ ٹو (تو) آج بھی نہیں جائیں گی نا؟”۔ اس کا اشارہ مزار کی طرف ہے۔
“میرا دل نہیں چاہتا وہاں جانے کا صالحہ۔ اس لیے میں مزار نہیں جاتی نا۔ ہم تو الله کے بندے ہیں اس لیے صرف الله سے مانگتے ہیں۔ لیکن آج آپ کی پھپھو کو کام ہے!۔ وہ آج جائیں گی”۔ وہ اس شخص کو یاد کرکے مسکرائی۔
“آپ بھی دعا مانگیں گی؟”۔ وہ چمک کر بولی۔ وہ چھوٹی بچی تھی اس لیے اسے ابھی خبر نہ تھی۔
“میں سیدھا اللہ سے دعا مانگوں گی صالحہ۔ کسی کے وسیلے سے نہیں”۔ وہ مبہم سا مسکرائی۔
“وسیلہ کیا ہوتا ہے؟”۔
پھپھو نے اسے محبت سے دیکھا۔
“آپ کو پتا چل جائے گا صالحہ، مگر آپ کسی کو مت بتانا میرے بارے میں۔ یہ ایک راز ہے؟”۔ اس نے صالحہ سے ہاتھ ملایا۔
“راز؟ میں کسی کو نہیں بتاؤں گی؟”۔ وہ بہت آہستہ آواز میں حیران ہوکر بولی۔
“بلکل۔ آپ تو پھپھو کی جان ہیں نا”۔
“سب کہتے ہیں پھپھو صالحہ جیسی دکھتی ہیں”۔ صالحہ ایسے بولی جیسے کوئی راز کی بات بتارہی ہو۔
افشاں ہنس دی۔
“بلکل ٹھیک کہتے ہیں۔ میں بلکل تم پر گئی ہوں”۔ وہ ہنس کر بولی۔
“اور ہماری آٹھوں (آنکھوں) کا رنگ بھی نا؟”۔ وہ اب پوچھ رہی تھی۔
“ہاں وہ بھی ملتا ہے صالحہ۔ ہم دونوں ایک جیسے ہیں”۔ وہ اس کا گال چومنے لگی۔
“صالحہ افشاں ہے اور افشاں صالحہ”۔ وہ خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔
صالحہ افشاں کی دوائی تھی اور افشاں؟ افشاں صالحہ کا مرہم!
۔۔۔**۔۔۔
اس نے گاڑی کا ہارن بجا کر جیا کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ وہ دوستوں سے ہاتھ ملاتی خدا حافظ کہتی گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔
اس نے گردن موڑ کر وجدان کو دیکھا جو سنجیدگی سے آگے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ انتظار کرتی رہی کہ وہ اب اسے گڑیا کہہ کر پکارے گا اور اس سے اس کا حال چال پوچھے گا، مگر وہ کچھ نہ بولا۔ وہ تھوڑی دیر خاموش رہی مگر پھر بول پڑی۔
“بھائی؟”۔ اس نے تھوک نگل کر پوچھا۔ وہ اب بھی کچھ نہ بولا۔
“بات سنیں”۔
“ہممم؟”۔ اس نے بغیر دیکھے اسے جواب دیا۔
“میری طرف کیوں نہیں دیکھ رہے؟ مجھے آپ سے بات کرنی ہے”۔
“آنکھوں سے نہیں کانوں سے سنتا ہوں”۔ اس نے دوبدو جواب دیا۔ لہجہ قطعی سخت نہ تھا۔
جیا کا دل بھر آیا۔
“حیدر کل آرہا ہے۔ آپ اسے اپنی ملاقات کا وقت بتادیں۔ وہ کل اپنی بہن کو بھی لائے گا”۔ اس نے دھیمی سی کانپتی آواز میں بتایا۔ وجدان نے ہنکارا بھرا۔
“اپنی بہن کو کیوں لارہا ہے؟”۔
“تاکہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ دیکھ سکیں کہ۔۔۔۔۔۔” وہ ہکلائی۔
“میری شادی کس سے ہورہی ہے۔” وجدان نے بات کاٹ کر تلخی سے مسکرا کر جملہ مکمل کیا۔ وجیہہ نے تھوک نگلا۔
“کل کا کہہ دوں؟”۔ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“میں نے منع کرنا ہے تو تم نے کون سی سن لینی ہے وجیہہ۔ بلالو کل”۔ لہجے میں تلخی واضح تھی۔ جیا اسے حیرانی سے دیکھنے لگی۔ اس کا ایسا لہجہ جیا نے پہلی بار دیکھا تھا۔
“شام کا وقت دیدو”۔
“جج۔جی”۔ اور پھر گہری خاموشی۔ ایسی خاموشی جو کل شام تک ان دونوں کے درمیان رہنے والی تھی۔
وجدان نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ وہ اسے دیکھنے سے گریز کررہا تھا۔ اسے گاڑی چلاتے ہوئے کوفت ہونے لگی۔ وہ کوشش کرنے لگا کہ اپنی حالت سمجھ سکے۔ دل ایک دم دنیا سے اچاٹ ہوگیا۔ سب اجنبی سا لگنے لگ گیا۔ اسے لگا اس دنیا میں کوئی اس کا اپنا نہیں ہے جو اس کا ہمدرد ہو۔ جو اس سے محبت کرتا ہو۔ وہ کیوں درشہوار کو الزام دے جبکہ اس کی اپنی بہن بھی اس کی محبت داؤ پر لگا رہی تھی۔ وجدان اپنی بہن کو اس کی خواہش پر انکار بھی نہیں کر پارہا تھا۔ لگتا تھا محبت حاوی ہوگئی۔ اس نے اپنا ذہن دوسری طرف لگانے کے لیے ٹیپ چلادیا۔ ٹیپ میں کوئی شخص غزل پڑھ رہا تھا۔
“جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے
مری زندگی کی جو آس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”
(خوبصورت مردانہ گھمبیر آواز میں وہ غزل پڑھی جارہی تھی۔ ماضی کی محبت کا اس کے دل میں اب تک بسیرا تھا۔ یہ غزل اس کے دل میں ہول اٹھارہی تھی۔ بھلا سچی محبت کبھی دل سے بھی نکلتی ہے؟)۔
“جنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل، وہی لوگ ہیں مرے ہمسفر
مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”
“مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے عذاب اور ستائیں گے
میری عمر بھر کی جو پیاس تھے، وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”۔
(وہ اس غزل کو اپنے اوپر محسوس کرنے لگا۔ دل نے شدت سے خواہش ظاہر کی کہ اس غزل کے شاعر کا نام جانا جائے، مگر اسے معلوم نہیں تھا۔ جیا بازو میں بیٹھی اس کی کیفیت کو ماتھے پر بل ڈالے جانچ رہی تھی۔ وجدان کے دل کو اسی وقت ٹھیس پہنچی تھی جب اس کی گڑیا نے کل اس سے بات کرتے ہوئے اسے جھڑکا تھا۔ جیا واقعی یہ تکلیف محسوس نہیں کرسکتی تھی جو وہ ابھی خود کررہا تھا۔)
“یہ خیال ہیں سارے عارضی، یہ گلاب ہیں سارے کاغزی
گلِ آرزو کی جو باس تھے، وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”
“جنہیں کرسکا نہ قبول میں، وہی شریک راہ سفر ہوئے
جو میری طلب میری آس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”
(وجدان کی آنکھیں حیرت پھٹ گئیں۔ غزل کے لفظ گویا وجدان پر ہی لکھے گئے تھے۔ ہاں وہ اس لڑکی کو قبول نہیں کر پائے گا۔ اس صورت میں تو بلکل بھی نہیں کہ وہ کسی کو اپنا دل دے بیٹھا ہے۔ وہ اس سے بچھڑ چکی ہے۔ محبت وجدان کے لیے اس لڑکی کے دل میں ختم ہوچکی تھی)۔
“یہ جو رات دن میرے ساتھ ہیں وہی اجنبی کے ہیں اجنبی
وہ جو دھڑکنوں کی اساس تھے وہی لوگ ہم سے بچھڑ گئے”
وجدان نے تکلیف سے تھوک نگلا اور فوراً سے وہ ٹیپ ریکارڈر بند کردیا۔ وہ غزل ختم ہوچکی تھی اور یہاں اس کی تکلیف بڑھ چکی تھی۔ گھر بھی آچکا تھا اور گاڑی بھی رک چکی تھی۔ وجیہہ اس کے تاثرات نوٹ کرنے لگی۔ اس نے ہارن بجایا تو کسی ملازمہ نے دروازہ کھول دیا۔
اس نے تیزی سے گاڑی اندر بڑھائی اور اپنی طرف کا دروازہ کھولتا ہوا، اپنے آنسو ضبط کرتا ہوا اندر کی طرف بھاگ گیا۔ وہ اپنے قابو میں بھی نہیں تھا۔ خود پر اختیار ہی کھو بیٹھا تھا۔ جیا گاڑی میں بیٹھی ہونقوں کی طرح اس کی پشت تکتی رہ گئی۔
۔۔۔**۔۔۔
