Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۴

اس کی آنکھ کھلی تو وہ ایک بند کمرے میں تھی۔ اس کے سر پر کوئی پٹیاں رکھ رہا تھا۔ اس نے سر اوپر کرکے دیکھنا چاہا، مگر کمزوری اتنی کہ ایک انچ نہ ہل پائی۔ کیا ہوا تھا؟ وہ یہاں کیوں ہے اور کب سے ہے؟ وہ ماضی کو یاد کرنے لگی۔ سانسیں گہری ہورہی تھیں۔ سر پر ایک اور پٹی رکھی گئی۔ اس نے بولنے کی کوشش کی، مگر بول نہ پائی۔ ایک لالٹین اس کے سامنے میز پر رکھی تھی جس کی مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی بولنے کی، مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ہمت ہارے بغیر وہ پھر سے کوشش کرنے لگی۔ لب کپکپائے اور لرزتے ہوئے ایک الفاظ لبوں سے آذاد ہوا۔
“ک۔ککون؟”۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔

“تمہاری چچی”۔ اس کے پیچھے بیٹھی عورت دھیرے سے بولی اور ایک پٹی پھر اس کے ماتھے پر رکھی۔
“شمیلہ؟”۔ ادھ کھلی آنکھوں سے سامنے دیکھتے ہوئے پھر سے پوچھا۔
“ہاں میری دھی”۔ وہ پیار سے ہاتھ اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر کر بولیں۔ صالھہ نے پوری آنکھیں کھولیں۔ ایک دم ذہن میں جھماکا ہوا۔ وہ سفید کپڑے میں لپٹا وجود، خون اور چیخنے چلانے کی آوازیں اور اس کا بےہوش ہونا۔ ہاں اسے سب یاد تھا۔ اسے وہ لمحات یاد آئے تو سانسیں پھولنے لگیں۔دل زور زور سے دھرکنے لگا۔ وہ ساری طاقت جمع کرتی ہوئی اٹھ بیٹھی ۔ “چچی ارحم صاحب؟؟ ” شمیلہ چچی نے اسے دیکھا، مگر کچھ کہا نہیں۔اب بھلا وہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر دہراتیں کہ وہ اب نہیں رہا؟۔
انہوں نے نظریں پھیرلیں۔ وہ ان کے جواب کا انتظار کرتی رہی۔
“ٹھیک ہے میں خود ہی پتا کرلیتی ہوں”۔ وہ ڈوپٹہ اٹھاتی ہوئی خود ہی دروازے کی جانب بڑھی۔ کمزوری کے باعث چال میں لڑکھراہٹ جاری تھی۔
“اس کو مرے ہوئے دو دن ہوچکے ہیں صالحہ!”۔ انہوں نے بھاگتی ہوئی صالحہ کو اطلاع دی۔ وہ بول نہیں رہی تھی بلکہ زنجیر سے اس کے پاؤں لپیٹ رہی تھیں۔ وہ الفاظ نہیں تھے، وہ خنجر تھے اور اس درد کی تکلیف ایسی تھی جیسے ایک زخم پر بار بار وار کیا جائے۔ اس نے تیزی سے پلٹ کر انہیں دیکھا۔
“آپ جھوٹ کیوں بول رہی ہیں؟ آپ اس لیے یہ سب کہہ رہی ہیں تاکہ میں باہر نہ جاؤں؟”۔ وہ اب بھی یقین کرنے کو تیار نہ تھی۔ وہ کہہ کر پھر سے پلٹنے لگی۔
“اگر ایسا ہے تو اپنے کمرے کو ہی دیکھ لو صالحہ جو دو دن میں اتنا تبدیل ہوچکا ہے۔ وہ تصویریں جو شاید تم نے پھاڑی تھیں، وہ میں نے تمہاری دراز میں ڈال دی ہیں تاکہ کسی کی نظروں میں نہ آئیں۔ ہوش میں آؤ صالحہ”۔
وہ ٹھٹھکی۔ اس نے نگاہیں پورے کمرے میں دوڑائیں۔ کمرہ دھول اور مٹی میں اٹا ہوا تھا۔ صاف لگ رہا تھا کہ صفائی نہیں ہوئی ہے۔ چونکہ اس کے کمرے کی کھڑکی سے جنگل نظر آتا تھا اور ہواؤں کا رخ بھی اس جانب کو ہوتا تو کمرہ بہت جلدی ہی گندہ ہوجایا کرتا تھا۔ وہ اکثر کھڑکی بند رکھتی تھی۔ اس کمرے کو واقعی دو دن سے صاف نہیں کیا گیا تھا۔ وہ سہمی۔ نگاہیں کھڑکی کی جانب اٹھیں اور وہ مرے مرے قدموں سے کھڑکی کی طرف بڑھی۔ کھڑکی پر بھاری پردے لگے تھے۔ اس نے کونے سے ذرا سا ہٹا کر نیچے جھانکنے کی کوشش کی۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ سامنے جنگل تھا اور نیچے ان کا باغ۔ رات بہت تھی جس کی وجہ سے حویلی کی لائٹیں بھی بند تھیں۔ لگتا تھا سب سوگئے تھے۔ اسے باغ میں چھوٹا سا آگ کا شعلہ سا محسوس ہوا تو وہ رک اسے بغور دیکھنے لگی۔ وہ داجی تھے جو اپنے مخصوص سگار پی رہے تھے۔ اس نے جلدی سے کھڑکی کھولی۔ کھڑکی کھلتے ہی سرد ہوا کی لہر اندر داخل ہوئی جس نے اسے کانپنے پر مجبور کردیا تھا۔ پیچھے مسہری سے کمر ٹکائے بیٹھیں شمیلہ چچی نے شال اوڑھ لی۔ وہ اسے روکنا نہیں چاہتی تھیں۔
صالحہ نے ہواؤں کو نظرانداز کرتے ہوئے نیچے دیکھا۔ داجی شال اوڑھے آرام دہ کرسی پر بیٹھے تھے۔ لالٹین ان کے سامنے پلاسٹک کی میز پر رکھی تھی۔ وہ اتنے مطمئن بیٹھے تھے، اسے یقین نہ آیا۔ وہ پلٹی اور اپنے کمرے کی دیوار پر لگے کیلنڈر دیکھنے لگی۔ بلآخر اسے یقین ہو ہی گیا۔ ہاں وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔ کیلنڈر میں آج کے دن پر مارک لگا ہوا تھا۔ اس کا دل پھٹنے کے قریب تھا۔ ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔
“آج اس کا سوئم تھا صالحہ”۔ ایک اور انکشاف۔ صالحہ ساکت رہ گئی۔ اس کا دل بےتحاشہ دھڑکنے لگا۔ اس نے دیوار کی طرف پیٹھ کی اور اس کے سہارے بیٹھتی چلی گئی۔ اس کے ہونٹ لرزنے لگے۔
“چچی۔۔۔” وہ اس نے لرزتے ہوئے گردن موڑ کر برابر بستر پر بیٹھی چچی کو دیکھا۔ چچی تڑپ اٹھیں۔
“ہاں میری دھی”۔
“میرے دل کی تکلیف بڑھ رہی ہے چچی”۔ وہ رو نہیں رہی تھی۔ وہ صرف بےجان ہوئے وجود کے ساتھ انہیں اپنے دل کا حال بتا رہی تھی۔ وہ چپ رہیں۔ کہتیں بھی تو کیا کہتیں؟۔ وہ یہ باتیں محدود لوگوں سے ہی کرسکتی تھی۔ شمیلہ چچی ان محدود لوگوں میں سے ایک تھیں۔
“میں کیا کروں اب چچی؟”۔ وہ پوچھ رہی تھی۔ کوئی تو حل ہوگا اس درد کا؟ جیسے ہر بیماری کی دوا ہوتی ہے، جیسے ہر سوال کا جواب ہوتا ہے۔ یقیناً اس کا بھی کوئی حل ہوگا۔
ایک آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ کر گالوں تک آیا تھا۔
ہاں اس کا بھی ایک جواب تھا!۔
“صبر! صبر کر میری دھی”۔
صالحہ نے سر اٹھایا۔
“مگر اس کا زخم بہت گہرا ہے اور تکلیف بے پناہ ہے چچی۔ کیسے صبر کروں؟”۔ وہ تڑپتے ہوئے بولی۔

“صبر سے بہترین کوئی حل نہیں صالحہ”۔ وہ اٹھ کر شال ارد گرد لپیٹتے ہوئے کھڑکی کی جانب آئیں۔

“صالحہ کیا تجھے نہیں معلوم کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے؟”۔
صالحہ نے بےساختہ انہیں دیکھا۔
“یا تو نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۵۳ نہیں پڑھی؟”۔چچی لالٹین اٹھا کر اس کی طرف مڑیں۔
اسے یقین نہ آیا۔ چچی اور اللہ کی باتیں؟ اللہ کا کلام؟۔
“یہ کلام؟”۔ صالحہ کے لہجے میں حیرت واضح تھی۔
“اس حویلی کے مرد اور عورتیں اتنا گم ہیں اپنے آپ میں کہ اللہ سے دوری اختیاد کرلی ہے۔ یہ رسوم و رواج جن کی زد میں یہ حویلی ہے، کیوں ہے؟۔ یہ فضول رسم و رواج اللہ سے دوری کا ہی تو نتیجہ ہے۔ تمہیں حیرت ہورہی ہے ہوگی کہ میں قرآن اور اللہ کی باتیں کررہی ہوں۔ میں تم سے یہ باتیں کبھی نہ کرتی اگر تم صالحہ نہ ہوتی۔ میں بہت عرصے سے جانتی ہوں کہ تم قرآن کا مطالعہ کرتی ہو۔ میں بھی کررہی ہوں مطالعہ اور بہت کچھ بدلا ہے میں نے اپنے اندر!۔ کافی مہینے ہوگئے ہیں مجھے مطالعہ کرتے ہوئے”۔
یہ بات صالحہ کے لیے واقعی ناقابلِ یقین تھی۔
“اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے صالحہ!۔ صبر کرو”۔ انہوں نے کھڑکی بند کرکے پردے لگا دیئے۔ صالحہ ان کو سنتی رہی۔ وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی۔ اس کے آنکھیں بہنے لگیں۔ ارحم کی یاد شدت اختیار کررہی تھی۔ اسے یک دم ثریا کا خیال آیا۔ اگر صالحہ نے اپنا منگیتر کھویا تھا تو صالحہ نے اپنا بھائی!۔
“ثریا کیسی ہے چچی؟”۔
“اس نے تو بھائی کھویا ہے اپنا۔ وہ صرف روتی رہی تھی۔ تم اس سے ملنے جاؤ صالحہ۔ اس سے باتیں کرو وہ بہل جائے گی”۔ چچی نے اسے ہاتھ بڑھایا جسے تھام کر وہ کھڑی ہوگئی۔
“وہ کہاں ہے؟”۔ وہ دم بخود ہوکر بولی۔
“اسے کہاں ہونا چاہیئے؟”۔ انہوں نے پلٹ کر اسے دیکھا۔
“میں اس سے ملنے جارہی ہوں”۔ وہ کچھ سوچے بغیر اپنا فیصلہ سناتی باہر نکلنے لگی۔
“تم ٹھیک نہیں ہوں صالحہ۔ تم بیمار ہو میری دھی”۔ انہوں نے پیچھے سے اسے پکارنا چاہا۔
“میں اس سے ملنا چاہتی ہوں چچی”۔ وہ اپنی چادر سنبھالتی دروازہ کھولنے لگی۔ ابھی باہر نکلی ہی تھی کہ کسی نے اسے مضبوطی سے پکڑ کر اندر دکھیلا۔ اندھیرے کے باعث وہ اس کا چہرہ نہ دیکھ پائی۔
“صالحہ کہاں جارہی ہو”۔ وہ حیدر تھا جو اسے باہر جانے سے روک رہا تھا۔ اس کی آواز پہچانتے ہی صالحہ کے آنسو آنکھوں سے نکل کر گالوں سے ٹپکنے لگے۔ وہ اس کے گلے لگ گئی۔ ہاں اسے صرف اپنے ویر کی ہی ضرورت تھی۔ وہ اس کے گلے لگتے ہی روتی چلی گئی۔ آنسو تیزی سے بہتے رہے اور حیدر کی شرٹ کو بھگوتے رہے۔ حیدر ساکت رہ گیا۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ صالحہ اس کے گلے لگی ہو۔ اسے اپنی بہن پر بےتحاشہ ترس آیا۔ وہ روتی جارہی تھی اور حیدر میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اسے بہلائے۔ وہ ویسے ہی ساکت کھڑا رہا۔ اسے ارحم کی موت کا دکھ تھا، مگر اس کی موت سے اسے یہ آسانی ہوگئی تھی کہ اب صالحہ کو قربان کرنا آسان ہوگیا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور بال سہلانے لگا۔ نظریں سامنے کی طرف مرکوز تھیں جہاں دیوار تھی۔ شمیلہ چچی صرف اس کی حرکت نوٹ کررہی تھیں۔ حیدر کے ماتھے پر سوچوں کی لکیریں عیاں ہوئی۔ اس کا ایک ہاتھ مسلسل اس کے بالوں سہلارہا تھا۔ وہ اسے تسلی نہیں دے رہا تھا، بلکہ یہ سوچ رہا تھا کہ صالحہ ابھی تو قربان بھی ہونا ہے۔ ابھی تو اور ٹوٹنا ہے۔ میں جانتا ہوں صالحہ کبھی اپنے بھائی کو “نا” نہیں کہے گی۔ ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ ذہن منصوبہ بنارہا تھا کہ اب کیا کیا جائے۔ وہ اس قدر ہچکیوں سے رونے لگی تھی کہ حیدر کو لگا وہ یہ سب نہیں کرپائے گا۔ اس کی محبت حاوی ہونے لگی۔ دماغ اور دل لڑرہے تھے۔ اور پھر یوں ہوا کہ۔۔۔
“جاؤ بستر پر سونے لیٹ جاؤ۔ ابھی باہر کہیں نہیں جاؤ۔ دیکھو تم نے میری شرٹ بھی بھگودی۔ تم دو دن بعد ہوش میں آئی ہو صالحہ!۔ تمہیں بخار ہے آرام کرو”۔ یہ کہتے ساتھ وہ اسے خود سے جدا کرتا بستر تک لے آیا اور بٹھادیا۔ وہ بھائی کو دیکھتی رہ گئی۔ اسے اپنا ویر تھوڑا بدلا ہوا محسوس ہوا۔
“چچی مجھے تھوڑا کام ہے تو آپ اسے دیکھ لیں۔ میں باہر سے ہو آتا ہوں”۔ وہ تھوک نگلتا صالحہ کو دیکھنے سے گریز کررہا تھا۔ شمیلہ چچی نے کوئی جواب نہ دیا، البتہ وہ اسے غور سے دیکھ ضرور رہی تھیں۔ وہ نظرانداز کرتا باہر نکل گیا۔

—**—
رات کا پتا نہیں کونسا پہر تھا جب وہ گھر میں داخل ہوا۔ دروازے کو کس کر لاک لگا کر چابی کوٹ کی جیب میں رکھی اور پارک ہوئی گاڑی پر نظر ڈالتا آگے بڑھ گیا۔ پورا دن مصروفیت میں گزرا تھا جس کے باعث وہ تھک چکا تھا۔ اسے پوری امید تھی کہ پچھلے دو تین دن کی طرح وہ آج بھی اس کا انتظار کرتی سو چکی ہوگی۔ سرد دنوں کی رات تھی۔ پورا اسلام آباد دھند میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتا لاؤنج میں داخل ہوا۔ کپکپاتے ہوئے اس نے لاؤنج کا دروازہ بند کیا۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ لیپ ٹاپ بیگ کندھے پر ٹکاتا دونوں ہاتھ آپس میں رگڑتا ہوا وہ جلد از جلد کمرے میں پہنچنا چاہتا تھا۔ زینے چڑھتا ہوا پہلی منزل پر پہنچا۔ اس کے کمرے کے بازو والا کمرہ جیا کا تھا۔ وہ یقیناً اس سے ناراض ہوگی۔ اپنے کمرے کا ہینڈل ابھی گھمایا ہی تھا کہ پیچھے سے یک دم کسی نے لائٹ جلائی۔ وہ وہیں ٹھٹھک گیا بلکہ سہم گیا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اب وہ پکڑا گیا۔ مجرموں کی طرح پیچھے پلٹا اور سامنے کھڑی اس لڑکی کو ندامت سے دیکھنے لگا جو دونوں ہاتھ سینے پر باندھے اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی۔ کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
“معافی؟”۔ وہ سر جھکا کر ایک آنکھ چھوٹی کرتے ہوئے ندامت سے پوچھنے لگا۔
جیا نے نفی میں سرہلایا۔
“گنجائش بھی نہیں؟”۔
“بلکل بھی نہیں”۔
اوہ تو کسی قیمت بھی رعایت نہیں بخشی جائے گی۔ وجدان نے گہری سانس لی۔
“میں جلدی آنا چاہتا تھا مگر۔۔۔۔ آئم سوری جیا بھائی کی جان! ایک ہفتے سے بہت بوجھ ہے کام کا۔ میں تقریباً ایک ہفتے سے روز ہی تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ جلدی آؤں گا رات کو، مگر اتنا بوجھ ہوتا ہے کام کا کہ تم سے کیا ہوا وعدہ توڑنے پر مجبور ہوجاتا ہوں”۔ وہ شرمندہ تھا۔ جیا نے اسے گھورا جو بہت معصومیت سے بتارہا تھا۔ اسے یک دم اپنے بھائی پر پیار آیا۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ آپ کپڑے تبدیل کرکے میرے کمرے کے ٹیرس پر آجائیں”۔ وہ خفگی سے رخ موڑتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وجدان نے کھلی کھڑکی کو دیکھا جہاں سے کھلا آسمان نظر آرہا تھا۔
“اتنی رات ہورہی ہے۔ کیا بات اتنی ضروری ہے۔ کہیں اس کو کوئی پریشان تو نہیں کررہا؟”۔ وہ سوچتا ہوا کپڑے تبدیل کرنے اندر بڑھا۔ کپڑے نکال کر پانچ منٹ میں باہر آیا۔ جیا نے اس سے اہم بات کرنی تھی اور یہ بات اسے اور ستارہی تھی۔ اس نے افراتقری میں کپڑے تبدیل کیے۔ کالی فل سلیو شرٹ پر بلیک ٹراؤز اور کالی شال سے خود کو ڈھانپ کر وہ کمرہ بند کرتا باہر نکل آیا۔ دونوں ہاتھ آپس میں رگڑے تاکہ گرماہٹ پیدا ہو۔ اسے بہت بھوک لگی تھی۔ دل نے کافی پینے کی تمنا کی۔ وہ جیا کا دروازہ ہلکا سا ناک کرکے اندر داخل ہوا۔ وہ ٹیرس میں لگے جھولے پر بیٹھی تھی۔ جیا کی وجدان کی طرف پیٹھ تھی۔ اس نے مڑ کر وجدان کو دیکھا اور چہرہ آگے کی طرف کرلیا۔ وجدان کو لگا وہ اب تک ناراض ہے، مگر ایسا نہ تھا۔ وہ اس کے کمرے سے چلتا ہوا اس کی طرف آیا اور اس کے برابر جھولے پر بیٹھ گیا۔ وہ پہلے جھولے اپنے پاؤں سے ہلکا ہلکا جھلا رہی تھی، مگر اب وجدان بھی اس شامل ہوگیا تھا۔ اندھیری رات تھی اور بس ایک مدھم سا بلب کمرے میں چل رہا تھا۔ اب وہ آسمان کو تکنے میں اکیلی نہیں تھی، وجدان اس کے ساتھ تھا۔ کیا نظارہ تھا جو وجدان کا دل لوٹ کر لے گیا تھا۔ اسلام آباد کی خوبصورتی اسے پگھلا رہی تھی۔ چار سو دھند چھائی ہوئی تھی۔ دور دور چھوٹی چھوٹی جگمگاتی لائٹیں تھیں۔ دھند کی وجہ سے دور پہاڑ بہت مشکل سے نظر آرہے تھے۔ کالا آسمان ایسا لگ رہا تھا جیسے کالے کپڑے پر موتی ٹانگ دیئے ہوں۔ اسلام آباد ہو اور خوبصورت نہ ہو، یہ ناممکن تھا۔ وہ دونوں آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ وجدان نے گہری سانس ہوا میں چھوڑی تو دھواں نکلتا محسوس ہوا۔ کیا نظارہ تھا سامنے کا!۔ وہ دونوں اس میں محو سے محو تر ہوتے جارہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جیا ہڑبڑائی۔ وہ بھول گئی تھی اسے گفتگو کرنی ہے۔ اس نے گردن موڑ کر بھائی کو دیکھا۔ رنگت بدلنے میں لمحہ نہیں لگا۔ وہ کیسے کہے گی وہ بات؟۔ کیا بولے؟ اور شروعات؟ وہ کیسے کرے گی؟ اس کی پلکیں کانپنے لگی۔ وجدان اسے دیکھ نہیں رہا تھا، مگر اس کے تاثرات کو محسوس کرسکتا تھا۔ وہ بظاہر سامنے دیکھ رہا تھا۔ وجدان نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تو جیا نے چہرہ آگے کرلیا۔
“جیا گڑیا۔ تمہیں کچھ بتانا تھا۔ دیکھو اب میں ہوں تمہارے پاس۔ کہو”۔ مدھم آواز میں وہ اسے بہت پیار سے دیکھ رہا تھا۔ جیا نے بےاختیار لب بھینچے۔ وجدان کے کندھے تھکن کی وجہ سے دکھنے لگے تو وہ اپنے سے دبانے لگا۔ وہ تھکا ہوا تھا، مگر پھر بھی اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔
“بھائی وہ۔۔۔۔” اس کے ہونٹ یک دم کپکپانے لگے۔
“کیا جیا۔۔۔ ایسے ادھوری بات نہ کرو۔ مجھے گبھراہٹ ہورہی ہے۔ کیا پریشانی ہے بتاؤ”۔

“بھائی وہ۔۔۔۔ آپ۔۔۔ میں۔۔۔۔۔” وہ ہکلانے لگی۔ وہ کہنا چاہتی تھی، مگر کہہ نہیں پارہی تھی۔ “بھائی۔۔ وہ۔۔۔ کہہ رہی تھی۔۔۔ کہ آپ میرے لیے کیا کرسکتے ہیں؟”۔ وہ بس اتنا ہی کہہ پائی۔
وجدان نے اسے بغور دیکھا۔
“تم جانتی ہو نا میں کتنا پیار کرتا ہوں؟۔ جان تک قربان کرسکتا ہوں میں اپنی! صرف تمہارے لیے۔ میرا تمہارے سوا ہے ہی کون اس دنیا میں؟۔ تمہارے لیے تو کچھ بھی کرسکتا ہوں”۔ وہ اسے سن رہی تھی۔
“کیا کرسکتے ہیں؟” وہ ساکت ہوئی اس سے پوچھ رہی تھی۔
“جان قربان کرسکتا ہوں گڑیا”۔ وہ مسکرایا۔
“جان کی قربانی نہیں چاہئیے”۔ وہ اٹکتے ہوئے بولی۔
“تو؟”۔ وہ سمجھا نہیں۔
“وہ رشتہ لانا چاہتا ہے بھائی”۔ وہ بالآخر بول پڑی۔
وجدان حیران ہوا۔
“کون؟”۔
“وہ جو میرے ساتھ یونیورسٹی کے چار سالوں سے ساتھ ہے۔ حیدر!”۔ اس کہہ کر آنکھیں میچیں۔
پھر یوں ہوا کہ کچھ وقت خاموشی چھاگئی۔ اس نے جیا کو سر تا پیر دیکھا۔ اسے پتا ہی نہ چلا کہ وہ اتنی بڑی ہوگئی ہے۔
“تم۔۔تم اسے۔۔۔ پسند کرتی ہو؟”۔ وہ اس حیدر نامی شخص سے ملا بھی نہیں تھا، مگر اس کی رضا چاہتا چاہتا تھا۔
جیا نے دھیرے سے اثبات میں سرہلایا۔
“تو کیا اب۔۔۔ مطلب اب؟”۔ وجدان کو کچھ سوج نہیں رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔
“وہ گاؤں میں رہتا ہے”۔
اس کی آواز وجدان کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی اور اس نے آنکھیں پھاڑ کر جیا کو دیکھا تھا۔ وہ لمحہ بھر کر شاک رہ گیا۔
“کیا کہا؟ گاؤں؟ میں تمہیں گاؤں نہیں بجھواؤں گا۔ اسی شہر میں رہو گی تم۔ میں خود سے دور کیسے کرسکتا ہوں؟”۔
“اوہو بھائی خدارا۔ بچی نہیں ہوں میں اب!۔ یونیورسٹی کا آخری سال چل رہا ہے۔ اپنا فیصلہ میں خود کر سکتی ہوں!۔ مجھے مشوروں کی نہیں مدد کی ضرورت ہے۔ کہ اگر میں آپ دل کے قریب ہوں تو آپ کو میری مدد کرنی ہوگی”۔
وجدان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ کیسے لمحوں میں اسے جھڑک گئی تھی۔ وجدان کو اس وقت وہ چھوٹی بچی نہیں لگی تھی جس کے لیے وہ ہمیشہ حساس رہتا آیا تھا۔
“کیسی مدد؟”۔
“ان کی حویلی میں ایک رواج ہے کہ وہ وٹہ سٹہ کے بغیر شادی نہیں کرتے”۔
“کیا؟ کیا مطلب ہے اس بات کا؟”۔ وجدان نے حیرانی سے پوچھا۔ جیا کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
“اس کی بب۔بہن کی شادی جب تک آپ سے نہیں ہوگی۔ ہماری شادی بھی نن۔نہیں ہوسکے گی”۔ وہ ہکلانے لگی۔
“تو؟”۔ اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے۔
“میں اس کے بغیر مرجاؤں گی بھائی۔ اگر وہ مجھے نہ ملا تو میں نہیں رہ پاؤں گی۔ آپ اس کی بہن سے شادی کرلیں۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہیں وجدان بھائی۔ پھر اپنی گڑیا کے لیے یہ بات مان لیں”۔
وہ کہتے ساتھ روتی جارہی تھی اور وجدان اسے ہونقوں کی طرح تکا جارہا تھا۔ یہ بات جیا اچھے طریقے سے جانتی تھی کہ اس کے دل میں صرف درشہوار ہے۔ وہ اسے بھول نہیں سکتا، مگر پھر بھی؟۔ وہ اس کے دل کا گلا گھونٹنے کو کہہ رہی تھی۔ ہاں! وہ اسے قربان ہونے کا کہہ رہی تھی۔ یہ ناقابلِ یقین تھا۔ بےیقینی کا آنکھوں پر ٹہھرا تھا۔ چار سال کی محبت کے لیے وہ اپنے بھائی کا دل ٹکڑے ٹکڑے کررہی تھی۔ وجدان کو محسوس ہوا اب وہ اس کی گڑیا نہیں رہی ہے۔ اب وہ بچی نہیں رہی وہ ساکت رہ گیا۔ اتنی سردمہری اپنے بھائی کے لیے جس نے اپنی محبت کو اس پر تمام کردیا۔ وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا۔ اس کا دل چاہا صاف منع کردے۔ وہ فیصلہ کرچکا تھا۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ جیا نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وجدان جانے لگا۔
“آپ جواب دیے بغیر نہیں جاسکتے بھائی”۔ جیا پیچھے سے بولی تو وہ تھم گیا۔
“مجھے منظور یے وجیہہ۔ اس سے کہنا مجھ سے ملاقات کرے”۔ سرد بظاہر ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔ جیا نے تھوک نگلا۔ آج شاید پہلی بار وجدان نے سرد مہری سے اس کا پورا نام لیا تھا۔ نہ اسے گڑیا کہا، نہ جیا۔ سکوت کا عالم چھاگیا۔ کمرہ کھلنے کی اور پھر بند ہونے کی آواز آئی۔ وہ جاچکا تھا۔
۔۔۔**۔۔۔

وہ اپنے کمرے میں داخل ہوا اور جھٹ سے فون جیب سے نکال کر جیا کو کال ملانے لگا۔
“ہیلو جیا؟”۔
“ہاں حاد”۔
“تم نے بات کی؟”۔
“ہاں ہو گئی ہے بھائی سے بات۔ انہوں نے کہا وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں”۔
یہ بات حیدر کے دل کو تسکین پہنچا گئی۔
“میں پرسوں آؤں گا جیا اور ہاں! میرے پاس موقع ہے صالحہ کو لانے کا!۔ میں اسے بہانے سے لاسکتا ہوں اور ویسے بھی وہ ارحم کی موت کی وجہ سے بہت ڈسٹرب ہے! وہ بھی صالحہ کو دیکھ کر تسلی کرلے گے۔ میں اسے پرسوں ساتھ لے آؤں گا۔ ملاقات کا وقت ان سے پوچھ کر بتادینا”۔
“یہ بہتر ہوگا حیدر۔ تم اسے لے آنا۔ میں انہیں کل بتادوں گی”۔
“کیا وہ واقعی آسانی سے مان گئے؟”۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
“ہاں حیدر۔ مگر وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے تھے۔ ان کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ میں ایسی کوئی خواہش کا اظہار کروں گی۔ وہ بہت تکلیف میں گئے ہیں حیدر۔ میں نے تو یہ بھی نہ سوچا کہ وہ کسی سے محبت کرتے تھے۔ حیرت ہے انہوں نے میری محبت کا احترام کیا”۔ اب یہ سب ہی ہونا تھا۔ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی۔ وہ واقعی تکلیف میں تھا۔ وہ اپنے بھائی کا دل پیروں تلے روند گئی تھی۔ اپنے لہجے اور فیصلے سے۔ وہ اس سب کی توقع اس سے نہیں کرتا تھا۔ اب بھی اپنے کمرے میں بستر پر اوندھا لیٹا جیا کی باتوں کو ہی سوچ رہا تھا۔ بھوک کا یہ عالم تھا کہ اب پیٹ میں درد ہورہا تھا اور تھکن سے آنکھیں بند ہورہی تھیں، مگر وہ سوچ رہا تھا کہ کہاں اس سے کوتاہی ہوئی۔ آج اس نے درشہوار کی تصویر بھی نہ دیکھی اور نہ اسے سوچا۔ نیند اس پر حاوی ہونے لگی۔ وہ سوگیا اور مکمل خاموشی کا راج چھا گیا۔
۔۔۔**۔۔۔
دوپہر کے دو بجے تھے۔ حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔ نہ تو داجی کی دھاڑ نہ کچن سے آتی کھٹ پٹ۔
“اماں میں چاہتا ہوں صالحہ کو دو دن کے لیے شہر لے جاؤں تاکہ وہ سنبھل بھی جائے اور بہل بھی جائے”۔ اس نے اماں سے اجازت مانگی۔
اماں کی ایک دم سے آنکھیں چمکیں۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے حیدر۔۔۔ تو اسے لے جا۔ صالحہ کی کیفیت دیکھ کر داجی بھی انکار نہیں کریں گے۔ تو داجی کو بتادے کہ تو اسے شہر دکھانے جارہا ہے”۔

“تو پھر میں کل چلا جاؤں؟”۔
“ہاں اور اسے بتا بھی دے تاکہ وہ خوش ہوجائے۔ وہ بہت اداس یے حیدر۔ بہل جائے گی”۔ ان کا چہرہ یہ کہتے ہوئے مرجھا سا گیا۔
حیدر نے اثبات میں سرہلایا اور وہاں سے چلا گیا۔ وہ ان کا سامنا دیر تک نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ارحم کی موت اس کے لیے فائدہ ثابت ہوئی تھی۔ لبوں پر شیطانی مسکراہٹ عیاں ہوئی اور اسے محسوس ہوا کہ اسے جلد کامیابی حاصل ہونے والی ہے۔
۔۔۔**۔۔۔