Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

زنجیر از قلم عینا بیگ۔
قسط ۳

“کون قتل ہوا ہے ثریا؟”۔ اس نے دھڑکتے دل اور کپکپاتے لبوں سے ساکت ہو کر پوچھا۔
“کوئی نہیں بتا رہا ہے ہمیں صالحہ۔ ابھی مرد نہیں آئے حویلی۔ ابھی صرف مشیروں سے خبر پہنچی ہے”۔ وہ ہاتھوں میں سر دیتے ہوئے بولی۔
صالحہ نے تھوک نگلا۔ کہیں حیدر ویر تو۔۔۔۔۔؟ سب سے پہلے زمینوں پر کون گیا تھا؟۔ اس کا دل سکڑنے لگا۔ وہ ماں کے پاس بھاگی۔
کچن سے اماں کی آتی آوازیں سن کر وہ کچن کی طرف بڑھی۔
وہ باورچیوں سے کھانا پکوارہی تھیں۔ باورچیوں کے ہاتھ پتیلیوں میں چمچہ گھماتے ہوئے تیزی سے چل رہے تھے۔ وہ حیران ہوئی کہ ابھی مرنے کی خبر آئی ہے اور اماں اتنا اطمینان سے کھانا پکوارہی ہیں۔
“اماں وہ۔۔۔” باقی الفاظ منہ میں رہ گئے۔ کہے تو کیا کہے کہ اماں مرا کون ہے یا میت کب گھر آئے گی؟ یا یہ کہے کہ ونی کا استقبال کیسے ہوگا؟۔
“ہاں دھی جلدی بول وقت کم ہے”۔ وہ ہاتھ میں پہنے سونے کی کڑے اتارنے لگیں۔
“کڑے کیوں اتار رہی ہو اماں؟”۔ وہ عجیب سی نگاہوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ اماں نے اس کی باتوں پر دھیان نہ دیا اور دھیرے دھیرے چل کر باہر آگئیں۔ ان کڑوں کو اتار کر ایک چھوٹے کپڑے میں رکھا اور جھمکے سمیت تمام زیور اتارنے لگیں۔ صالحہ انہیں دیکھتی رہی۔ اس کپڑے میں تمام زیور ڈال کر اسے پوٹلا بنا کر گڑھا لگائی اور اسے پکڑادیا۔

“جا میری دھی اسے میرے کمرے میں رکھ آ”۔ انہوں نے چھوٹی سی پوٹلی اس کی ہتھیلی میں دبا کر اس کی ہتھیلی بند کی۔
“اماں مگر ایک دم سب ساتھ میں کیوں اتار دیا؟۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا اماں”۔
وہ اپنی ماں کا چہرہ بہت غور دے دیکھ رہی تھی جہاں کوئی غم کے آثار نہ تھے۔
“کیا تجھے علم نہیں کہ حویلی میں کسی مرد کا قتل ہوگیا ہے؟”۔ وہ الٹا اسے حیرانی سے دیکھنے لگیں۔
“اماں مجھے علم ہے، مگر آپ یوں اچانک سے سارا زیور اتار کر دے رہی ہیں؟”۔
اماں نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔
“سوگ ہے صالحہ۔ موت پر اس حویلی کی عورتیں اپنا تمام زیور اتار دیتی ہیں اور صرف غم منایا کرتی ہیں”۔
صالحہ کا دماغ چکرانے کے قریب تھا۔ اس نے سر جھٹکا۔
“اماں قتل کس کا ہوا ہے؟”۔
“مرد آئیں گے تو ہی پتا چلے گا یا کسی ملازم کو بجھوانا پڑے گا”۔ ان کا لہجہ بے حد عام تھا۔

“اماں مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ حیدر ویراں کہاں ہے؟ کہیں انہیں ت۔۔۔” وہ گبھراتے ہوئے ابھی اپنا خدشہ ظاہر کر ہی رہی تھی کہ اماں نے ڈپٹ کر خاموش کروایا۔
“اے ہے رب اسے لمبی زندگی دے۔ وہ یہاں نہیں ہے!۔ شہر جاچکا ہے۔ اسی لیے میں اتنی مطمئن بیٹھی ہوں”۔ وہ کہتے ہوئے کچن میں چلی گئیں۔
صالحہ کو اطمینان ہوا، مگر دکھ بہت ہوا اپنی ماں کی سوچ پر کہ اگر اپنا بیٹا ہوتا تو ایک واویلا مچا دیتیں۔ خیر یہ اس حویلی کی ہر عورت کا معاملہ تھا۔ وہ کپڑے کا پوٹلہ اماں کے کمرے میں رکھ آئی۔ لگتا تھا میت کے ساتھ ونی بھی آنے والی تھی۔ دو مردے اس گھر میں آنے والے تھے۔ اسے دو باتیں جاننے کا بہت تجسس پیدا ہوا۔ ایک یہ کہ موت کس کی ہوئی ہے؟ اور دوسرا یہ کہ ونی کو کس کے نکاح میں دیا گیا ہے۔ گھر میں سوگ کی کیفیت تھی۔ جن عورتوں کے بیٹے زمینوں پر تھے ان ماؤں کا دل حلق میں آچکا تھا!۔ وہ سہمی ہوئی تھیں کہ کہیں ان کا بیٹا تو نہیں مارا گیا؟۔ ثریا بولائے بولائے حویلی میں پھررہی تھی۔
صالحہ ارحم کے کمرے کے سامنے سے گزری تو اسے یاد آیا کہ وہ بھی تو صبح سے زمینوں پر تھا۔ یہ خیال آنا تھا کہ وہ سہمتے ہوئے نیچے بھاگی۔ اس کی سانسیں بری طرح پھولنے لگیں۔ نیچے اتری تو ایک ملازم کھڑا تھا جو شاید باہر سے ہی آیا تھا۔ سامنے سے ثریا بھی اسے دیکھ کر اپنی جگہ پر ہی رک گئی تھی۔
“ارحم صاحب ٹھیک ہیں رشید بابا؟”۔ اس نے پھولی سانسوں سے جلدی سے پوچھا۔ پیچھے کھڑی ثریا کا بھی دل زور سے دھڑکنے لگا۔ اسے بھی یہی خدشہ لاحق تھا کہ کہیں اس کا بھائی تو قربان نہیں ہوا۔

“نہیں بی بی! شرجیل صاحب کا قتل ہوا ہے اور ارحم صاحب کا قاتل کی بہن سے نکاح!”۔ رشید صاحب نے زمینوں کا حال سنایا اور جھک کر آگے بڑھ گئے۔ صالحہ جو کچھ اور ہی سمجھ بیٹھی تھی، اس کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوا۔ وہ ساکت رہ گئی۔ ثریا نے نے آنکھیں پھاڑ کر حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ داجی ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟۔ حویلی میں ایک کہرام مچ گیا۔ زاہدہ چچی اپنے بیٹے کے موت کا سن کر چیخنے لگیں۔ وہ زمین پر سر پکڑ کر بیٹھتی چلی گئی۔ سمیعہ تائی حیران تھیں، مگر دل ہی دل میں شکر ادا کررہی تھیں کہ ان کا بیٹا موت کے منہ میں جانے سے بچ گیا۔ صالحہ نے دونوں ہاتھ چہرے پر رگڑے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ کیا ہورہا ہے۔ ڈوپٹہ سر سے ڈھلک کر کندھوں پر آگیا۔ اب کیا ہوگا؟ داجی بھلا ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟۔ وہ اس کا منگیتر تھا!۔ کیا زمینوں پر اور حویلی کے لڑکے نہیں تھے جو یوں ارحم کا نکاح پڑھادیا؟۔ اس کے گال آنسوؤں سے تر ہوچکے تھے۔ وہ چیخ کر اوپر کی جانب بھاگی۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے بھلا؟۔ وہ اتنی تیزی سے کمرے کی جانب بھاگ رہی تھی کہ اس کا ڈوپٹہ صرف ایک کندھے پر لٹکا تھا۔ ثریا کے دل پر ٹیس پڑی۔ اس کا دل چاہا کہ صالحہ کے پیچھے جائے، مگر یہ سوچ کے نہ گئی کہ اسے ابھی اکیلا چھوڑدینے میں ہی عافیت تھی۔ حویلی میں عورتوں کی رونے کی آوازیں بلند ہورہی تھیں۔ وہ کمرے میں پہنچی اور زور سے دروازہ بند کیا۔ آنکھیں مکمل بھیگی ہوئی تھیں۔ ارحم ایسا کیسے کرسکتا تھا؟۔ کیا اس نے منع نہیں کیا داجی کو ایسا کرنے سے؟۔ اس نے اپنی سائیڈ میز کی دراز کھولی اور اس میں موجود ارحم کی تصویریں نکالیں۔ ایک ایک نظر ان پر ڈال کر سب کو باری باری پھاڑ کر تصویریں دراز میں ڈال دیں۔ اسے غصہ آنے لگا۔ آنسوؤں میں اور تیزی آگئی۔ وہ جانتی تھی کہ وہ حق کی بات پر بھی آواز نہیں اٹھا سکتی کیونکہ وہ عورت ہے۔ اس کی ہمت ٹوٹنے لگی۔ کیا ارحم نے اس کے بارے میں ایک بار بھی نہ سوچا؟۔ کیا اس کی محبت اس حد تک کمزور تھی؟۔ روتے روتے ہچکیاں بندھ گئیں۔ پاس رکھا موبائل اٹھایا اور حیدر کو کال ملانے لگی۔ وہ اپنا غم صرف اپنے ویر کو سنانا چاہتی تھی۔ ڈوپٹہ ایک طرف کو پڑا تھا اور بال مکمل پونی سے الگ ہوچکے تھے۔ کثرت سے دل کررہا تھا کہ ویر فون اٹھالے۔ ایک ایک لمحہ اس پر بھاری پڑرہا تھا۔
————————*
“جیا سمجھنے کی کوشش کرو یار”۔
وہ دونوں ہی کینٹین میں بیٹھے تھے۔
“کیا سمجھنے کی کوشش کروں حیدر؟۔ تم اصل بات بتا کیوں نہیں دیتے کہ تم رشتہ لانا ہی نہیں چاہتے؟”۔ وہ اسے سے خفا تھی۔
“جیا میں ابھی کچھ نہیں کرسکتا”۔ وہ ہمت ہارنے لگا تھا۔ ایک دم اس کے موبائل پر بیل بجی تھی جو اس نے جنجھلا کر بغیر نام پڑھے ہی کاٹ دی تھی۔
“تم نے اپنے حویلی والوں کو میرے بارے میں ابھی تک بتایا بھی نہیں؟۔ کیا تمہارا ارادہ بھی ہے رشتہ لانے کا یا یونہی ٹرخاتے رہو گے؟”۔ اس نے سامنے رکھے جوس کے گلاس کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔
“اتنا آسان نہیں یے انہیں بتانا!۔ میں تمہیں کیسے بتاؤں کہ حویلی والے۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے رک گیا۔
“حویلی والے۔۔۔ کیا؟”۔ وہ چونکی۔ اس کی زبان کو تالا پڑگیا۔ وہ یہ بات کہنے سے ہمیشہ سے ڈرتا آیا تھا۔ وہ اس کو یک ٹک ساکت نظروں سے دیکھ رہا تھا اور وجیہہ اس کے جواب کا انتظار کررہی تھی۔
“تم نے بتایا نہیں حیدر؟”۔ وہ اپنے ماتھے پر بل ڈال کر بلند آواز میں بولی۔ حیدر نے تھوک نگلا۔ وہ اب بھی چپ ہی رہا۔
“کیا تم بتاؤ گے حیدر یا میں جاؤں؟”۔ اس بار آواز پہلے سے ذیادہ اونچی تھی۔
“حویلی والے وٹہ سٹہ کے بغیر شادی نہیں کرتے”۔ وہ جنجھلا کر جلدی سے بولا اور نظریں پھیرلیں۔ حیدر اس کے چہرے کے تاثرات نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ وجیہہ کے چہرے نے رنگت بدلی۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“کیا مطلب اس بات کا؟”۔ وہ ناسمجھی میں بولی۔
“مطلب یہ کہ ہماری شادی اس صورت میں ہی ممکن ہے اگر میری بہن تمہارے بھائی کے ساتھ بیاہ دی جائے۔ حویلی والے بغیر وٹہ سٹہ کے شادی نہیں کرتے ہیں وجیہہ”۔ وہ تھک چکا تھا یہ باتیں اپنے اندر رکھ کر۔ اس لئے آج دل ہلکا کر ڈالا۔
“یعنی کک۔کہ”۔ وہ ہکلائی۔
“بلکل! اگر وجدان بھائی کی شادی صالحہ سے ہوگی تو ہی ہم دونوں شادی کرپائیں گے!”۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟۔ وہ نہیں مانیں گے!”۔ وجیہہ نے پریشانی سے ہاتھوں میں سر گرالیا۔
“کوشش کرو! وہ تمہاری بات کبھی بھی نہیں ٹالیں گے!” اس نے وجیہہ کی ہمت بندھانی چاہی۔
“مگر۔۔۔” وہ اپنا کوئی جملہ مکمل نہیں کر پارہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیسے ہوگا۔
“وہ تمہاری کوئی خواہش نہیں ٹالتے جیا۔۔۔ دیکھنا وہ مان جائیں گے”۔
وجیہہ کے ہاتھ ڈھیلے پڑ گئے۔ اس نے سانس ہوا میں چھوڑی۔
“یہ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں یے حیدر۔ میں کیسے کہوں گی انہیں؟”۔ وہ پریشانی سے دونوں ہاتھوں سے ماتھے سے بالوں تک سختی سے ہاتھ پھیر کر بولی۔
“وہ مان جائیں گے”۔ وہ ایک ہی بات دہرا رہا تھا۔
“یہ شادی کا فیصلہ ہے حیدر!۔ کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں جس کے لئے میں رو رو کر مانگ لوں۔ وہ خود بھی ایک لڑکی کو بہت چاہتے تھے۔ وہ دل توڑ گئی ہے ان کا۔ بھائی پہلے ہی اتنا ٹوٹے ہوئے ہیں۔ وہ اس لڑکی کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کریں گے”۔ وجیہہ کبھی بھی رودینے کو تھی۔
“دیکھو میں بھی تو اس سب میں اپنی بہن قربان کررہا ہوں؟۔ جبکہ میں یہ جانتا ہوں کہ وہ میری تائی کے بیٹے کی منگیتر ہے۔ اگر میں اپنی بہن تمہارے لیے قربان کرسکتا ہوں تو تم کیوں نہیں؟۔ دیکھو جیا!۔ ہم اگر ایک ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں ایسا ہی کرنا ہوگا۔ میں حویلی نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر میں نے حویلی چھوڑ بھی دی تو میں کیا کروں گا؟۔ اگر میں سب سے ہٹ کر چلا تو ہوسکتا ہے کہ جائیدادوں سے وہ مجھے عاق بھی کردیں جو کہ میں قطعی نہیں چاہتا۔ ہماری گاؤں میں لاتعداد زمینیں ہیں جیا۔ وہ ہمارے لیے ہی تو ہیں۔ میں انہیں اپنے ہاتھ سے نکلتا نہیں دیکھ سکتا۔ مجھے تم سے شادی کے لئے اپنی بہن کو بھی زبردستی دینا ہوگا جبکہ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں وہ دل میں ارحم بٹ کو بہت چاہتی ہے۔ میں بھی تو اپنے دل کے لئے اپنی بہن کو قربان کررہا ہوں؟۔ تم بھی اپنے بھائی کو منالو”۔ وہ اسے سمجھا رہا تھا اور وہ سر ہاتھوں میں گرائے اسے سن رہی تھی۔
“اگر بھائی نہیں مانے تو؟”۔ اس نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
“میں زمینیں نہیں چھوڑ سکتا جیا۔ اگر میں نے وٹہ سٹہ کے بغیر حویلی والوں کے خلاف جاکر شادی کی تو وہ مجھے اپنی جائیداد سے عاق کردیں گے۔ مجھے حویلی سے نکال دیں گے۔ میں اپنی جائیداد نہیں چھوڑنا چاہتا۔ وہ زمینیں ہمارے مستقبل کے لیے کافی ہیں۔ میں دو ٹوک لہجے میں بات کرتا ہوں تم سے کہ میں حویلی کی دولت نہیں چھوڑ سکتا۔ مجھے اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہے”۔
وہ اپنی لالچ کو مستقبل کی حفاظت کا نام دے رہا تھا۔ وجیہہ سمجھ نہ پائی بلکہ وہ یہ سوچ کر سہم گئی کہ کہیں وہ اسے نہ چھوڑدے۔
“اور ہم دونوں کا کیا؟”۔
“میں تمہیں نہیں چھوڑنا چاہتا جیا”۔ وہ قدرے جذب سے بولا تھا۔
“تم اپنی زمینیں مت چھوڑنا حاد۔ بھائی کو ماننا ہوگا میری خوشی کے خاطر!۔ ہمیں اپنا مستقبل محفوظ بھی کرنا ہے۔ میں بھائی کو بتاؤں گی آج کل میں!۔ تمہارے بارے میں بھی اور تمہاری حویلی کی رسموں کے بارے میں بھی۔ وہ مان جائیں گے”۔
وجیہہ کے منہ سے یہ سب سنتے ہوئے اس کی باچھیں کھل اٹھیں۔
“تم سچ کہہ رہی ہو؟”۔ اسے قطعی امید نہیں تھی کہ وہ اتنی جلدی مان جائے گی۔
“بلکل!”۔ وہ مسکرائی۔ وہ اسے کھونا نہیں چاہتی تھی بلکل ایسے جیسے وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔ ہاں وہ ایک دوسرے سے دل محبت کرسکتے تھے۔ چار سال کی محبت قطعی جھوٹی نہیں ہوسکتی۔
اسی وقت موبائل پر پھر بیل بجی تو اس نے نام پڑھا۔ “صالحہ” نام جگمگا رہا تھا۔ صالحہ کے پاس کوئی بڑا موبائل نہیں تھا بلکہ ایک چھوٹا بٹن والا موبائل تھا۔ یہ سب چیزیں حویلی والوں سے دور تھیں۔ وہ ایک دفع حیدر کے ساتھ شہر آئی تھی تو حیدر نے اسے چھپکے سے یہ موبائل دلایا تھا۔ حالانکہ اس موبائل پر وہ میسج کے سوا کچھ نہیں کرسکتی تھی، مگر یہ بھی صالحہ کے لیے بہت خاص تھا کیونکہ یہ اس کے ویر نے دلایا تھا یہ کہہ کر کہ حویلی میں کسی کو مت بتانا ورنہ اس بات پر بھی قیامت برپا ہوجائے گی۔ اس کا نام دیکھ کر ہی اسے اپنی بہن کی بری قسمت کا خیال آیا۔ اس نے کال اٹھا کر کان سے فون لگایا۔
“ہیلو”۔ اس نے آغاز کیا۔ دوسری طرف سے جو روتے ہوئے ہچکیوں کے ساتھ بتایا گیا تھا اسے سن کر اس کی آنکھیں پھٹتی چلی گئیں۔
“کیا؟ شرجیل کا قتل؟ ارحم؟ نکاح؟”۔ وہ ہکلاتے ہوئے لفظ ادا کررہا تھا۔ وجیہہ کے ماتھے پر بل پڑے۔ وہ یک دم پریشان ہوئی۔
“ہاں! میں تھوڑی دیر میں نکلتا ہوں گاؤں کے لیے تم رو مت!”۔ اسے تنبیہہ کرتے ہوئے کال کاٹی اور اٹھ کھڑا ہوا۔
“حویلی کے حالات ٹھیک نہیں ہیں جیا۔ مجھے جانا ہوگا۔ شرجیل کا قتل ہوگیا ہے اور ارحم کا ونی سے نکاح۔ مجھے جانا ہے ابھی”۔ وہ ہڑبڑاتے ہوئے اٹھ کھڑ
وجیہہ نے تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔
“میں حالات کو وہاں پہنچ کر آگاہ کروں گا”۔
“ٹھیک ہے حاد۔ تم کب آؤ گے اب؟”۔ وہ پریشان ہوگئی تھی۔ وہ شہر آیا بھی تو کتنے دنوں بعد تھا اور اب اتنی جلدی چلا جائے گا۔
“جلدی واپسی ممکن نظر نہیں آرہی!۔ میں کوشش کروں گا جیا۔ تم اپنے بھائی سے بات کرلینا”۔ وہ کہہ کر رکا نہیں تھا۔ “خدا حافظ” کہتا اداس نظروں سے آگے بڑھ گیا تھا۔ وجیہہ نے ہاتھ میں پہنی گھڑی کی طرف نگاہ ڈالی۔ وجدان آنے والا تھا۔ اسے جاننا صرف اتنا تھا کہ ان کی زندگی کی کہانی رخ کس طرف موڑتی ہے۔
————-————*
“اتنی چپ چپ کیوں ہو وجیہہ؟”۔ بلیک پینٹ کوٹ پر کالی ٹائی، آنکھوں پر حیرت لیے اس سے سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ وجیہہ کا دل گویا حلق میں آیا۔
“نہیں وہ بس۔۔۔۔ کچھ نہیں میں۔۔ وہ۔۔” اسے اتنی جلدی کوئی بہانہ نہ مل پایا۔
“کیا ہوا؟۔ کوئی بات ہے؟ کیا تمہیں کچھ چاہئیے؟”۔ وہ چونکا۔
دل چاہا بول دے کہ “آپ کی قربانی”۔
اسے خود پر افسوس ہوا کہ وہ کیسی بہن ہے جو اپنے بھائی کی محبت کا فائدہ اٹھانے لگی ہے۔
“مجھے آپ سے بات کرنی ہے بھائی، مگر ابھی نہیں”۔ وہ بول پڑی کہ کبھی نہ کبھی تو کہنا ہی تھا۔ دل نے منع کیا، مگر دل کو تھپک دیا۔ وہ چار سال کی محبت کے لیے اپنے بھائی کی بائیس سال کی محبت اور شفقت بھلا رہی تھی۔
“کیا کوئی خاص بات ہے گڑیا؟”۔ اس کے یوں گڑیا بولنے پر وجیہہ کو رونا سا آنے لگا۔ اسے لگا وہ اس لقب کے قابل نہیں ہے۔
“ہاں بھائی۔ ہم اس موضوع پر رات میں بات کریں گے”۔ اس کے لب کپکپانے لگے تو اس نے پہلو بدلا تاکہ اپنا آپ ریلکس کر سکے۔
————–————*
مغرب تک میت کو حویلی لے آیا گیا تھا۔ داجی نے دھاڑ کر عورتوں کو خاموش کروایا۔ زاہدہ چچی تڑپ کر رہ گئیں۔ دل چاہا کہ چیخیں چلائیں کہ کیا وہ اپنے بیٹے کی موت کا غم بھی نہیں مناسکتیں۔ وہ بھاگتی ہوئی میت کی طرف آئی تھیں۔ باقی سب عورتیں بھی آس پاس ہی کھڑی تھیں۔ سب افسوس کررہے تھے۔ وہ اپنے بیٹے کا چہرہ آخری بار دیکھنے کے لئے اس کے قریب آ کھڑی ہوئیں۔ اس کے چہرے سے چادر اٹھاتے ہوئے ہاتھ مسلسل کانپ رہے تھے۔ صالحہ زینے اتر کر نیچے آئی تھی اور اب دیوار پکڑے کھڑی تھیں۔ آنسو مسلسل بہے جارہے تھے۔ زاہدہ چچی نے چادر اٹھائی۔ آنکھیں حیرت سے پھٹیں اور وہ چیختے ہوئے پیچھے ہٹیں۔ پیچھے سے شرجیل دروازے سے اندر داخل ہوا۔ سمیعہ تائی جو اپنے بیٹے کا نکاح کا سن کر تھوڑی مطمئن بیٹھی تھیں، چیختے ہوئے میت کی جانب بڑھیں۔
“ہمارا بیٹا مرگیا سمیعہ”۔ شبیر بٹ صدمے کی حالت میں بولے۔
“ارحم”۔ چادر میں لپٹا ان کا جوان بیٹا خون میں لت پت تھا۔ وہ چیختے ہوئے اس کی جانب بڑھیں۔صالحہ فق ہوئی رنگت کے ساتھ سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۔ وجود ڈھیلا پڑرہا تھا۔ وہ جو سر پر ڈوپٹہ ڈالنے لگی تھی، ہاتھ ڈھیلے ہوگئے اور ڈوپٹہ زمین پر گر گیا۔ شرجیل ساکت سی نظریں ارحم کے بےجان ہوئے وجود پر ڈالے ہوا تھا۔ اس بھرے مجمع میں پیچھے دروازے سے حیدر نے قدم رکھا۔ بندوق کی گولیاں ارحم کے سینے میں پیوست تھیں اور رنگت سفید لٹھے کی مانند ہورہی تھی۔ صالحہ کی آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا اور وہ زمین پر اوندھا منہ گر گئی۔ حیدر نے اس مرے ہوئے شخص کو دیکھا اور سہم کر پیچھے ہٹا۔ وہ خبر غلط تھی جو ان تک پہنچی تھی۔ شرجیل کا نکاح ہوا تھا اور ارحم کا قتل۔۔۔۔
————————*