Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۸
وہ نماز سے فارغ ہوکر حویلی کے اندر ابھی داخل ہی ہوئے تھے کہ وہاں کھلے کھلے سب کے چہرے ان کی حیرانی کا باعث بنے۔
“خیریت؟”۔ انہوں نے شاہ زل سے پوچھا جو مسکراتا ہوا انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔
“اب تو خیریت ہی خیریت ہے”۔ وہ اٹھ کر ان کے گرد چکر لگاتا ہوا بولا تھا۔ ہاتھ میں بلب کا خالی ڈبا تھا جسے وقتاً فوقتاً وہ اسے اچھال رہا تھا۔ شاہ جی نے آنکھیں پھاڑیں۔
“کیا ہوگیا لڑکے؟۔ سٹھیا گیا ہے کیا؟۔ صحیح صحیح بتا یہ سب کے چہرے کھلے کھلے کیوں ہیں؟”۔ انہوں نے پاس سے مسکرا گزرتی ثریا کو دیکھ کر پوچھا۔
“شادی میری ہوتی تو چہرہ میرا بھی کھلا کھلا ہوتا”۔ وہ اب بھی ان کے گرد ہی گھوم رہا تھا جیسے گھیر رہا ہو۔ ثریا لاؤنج کے دروازے پر ہی کھڑی تھی۔
“میرا کھلا کھلا ہے تو باقی سب کے چہرے اتنی صبح سویرے کیوں کھلے ہوئے ہیں؟۔ تعجب کی بات ہے آج حویلی کے مکین جاگے ہوئے ہیں”۔
“ارے اب بھی نہ جاگیں؟۔ اب تو جمعہ کے لیے تیاریاں کرنی یے۔۔۔ اب تو شادیانے بجنے ہیں”۔ وہ جیسے خیالی ڈھول بجارہا تھا۔ شاہ جی کے کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوئیں۔ اس موقع پر شرم انہیں بھی آگئی تھی۔
“لگتا ہے دلہے بھائی شرما رہے ہیں”۔ ثریا کھلکھلائی تھی۔
“دلہے بھائی اتنا شرمانا اچھا نہیں ہوتا۔ نکاح پر دستخط کرتے ہوئے اگر شرما گئے تو موقع ہاتھ سے چلا جائے گا”۔ وہ اب ساتھ مل کر انہیں چھیڑنے لگے تھے۔ شرجیل زینے اترتا نیچے آیا۔
“ارے آگیا میرا دوست”۔ شاہ جی فوراً شرجیل کی جانب بھاگے جو آستین کے کف فولڈ کرتا ہوا حالت انجوائے کررہا تھا۔
“لگتا ہے چھیڑن چھاڑی شروع ہوچکی ہے۔ واہ مزہ آگیا”۔
“ارے نہیں۔ ذرا انہیں سمجھاؤ۔ میں ان کے باپ کے برابر ہوں گا اور دیکھو یہ کیسی حرکتیں کررہے ہیں”۔ وہ اس کے کندھے سے آکر لگے تھے۔ دونوں ہی لمبے چوڑے تھے۔
“کیا کہہ رہے ہیں بشارت جی۔ اتنے بڑے گھوڑوں کے باپ کے برابر کہاں سے ہونے لگے؟”۔ اس نے بشارت حسین کی کمر تھپتھپائی تھی۔ اس کی بات پر جہاں شاہ جی کو غصہ آیا تھا وہیں شاہ زل اور ثریا نے ہنسنا شروع کردیا تھا۔
“کہنے میں کیا جارہا تھا؟۔ اخلاقاً کہہ رہا تھا میں تو”۔ انہوں نے دانت پیسے تھے۔
“دوست میں نے بھی اخلاقاً کہا ہے۔ ویسے بھی اب تو پھپھا بننے والے ہیں”۔
شاہ جی کو یقین نہ آیا کہ شرجیل بھی شاہ زل اور ثریا کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔
“استغفراللہ”۔ انہوں نے باقاعدہ اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا۔ “باخدا تم مجھے پھوپھا کہتے ہوئے جتنے منہوس لگ رہے ہو نا اللہ کی قسم کبھی نہیں لگے۔۔۔ حتی کہ بچپن میں بھی نہیں”۔ شاہ جی کے یوں کہنے پر شرجیل کا قہقہہ نکلا تھا۔
“آپ کو میرے منہ سے یہ لفظ اچھا نہیں لگا؟”۔
“نہیں! تم تو دوست ہو۔۔۔ تمہارے اور میرے درمیان پہلے دوستی کا رشتہ ہے”۔ وہ مسکرائے تھے۔ ان کے لبوں پر آجانے والی مسکراہٹ نے شرجیل کے چہرے پر بھی تبسم پھیلادیا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“مس صالحہ اور مس الماس کی برنچ ڈیوٹی ہے۔ جائیں اور ڈیوٹی دیں”۔ ایک ٹیچر اندر آئی تھیں اور رجسٹر سے دیکھ کر بتارہی تھیں۔ وہ دونوں جو سب کے ساتھ گپے ماررہے تھے منہ لٹکاتے باہر آگئے۔
“بھوک لگی ہے یار صالحہ اور تمہارا لنچ بھی ختم ہوگیا ہے”۔ وہ صالحہ کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بول رہی تھی۔
“اگر آج یہ لوگ تنخواہ دے دیتے ہیں تو میں تمہیں کینٹین سے کچھ دلادوں گی”۔ صالحہ نے اپنی نازک انگلیوں سے اس کا سر دبایا۔
“تنخواہ؟۔ آئے ہائے صالحہ کیا یاد دلادیا۔ کہتے ہیں ابھی ایک دو دن ٹہھر کر مل جائے گی۔ تمہیں یاد ہے مس عروبہ نے کیا کہا تھا؟۔ کہہ رہی تھی colour day (کلر ڈے) منائیں گے۔ اب پتا چلا مجھے ہماری تنخواہ کیوں لیٹ ہورہی ہے۔ ظاہر ہے کلر ڈے ہمارے پیسوں سے کررہے ہیں”۔ اس نے افسوس سے سامنے مس عروبہ کو رنگ برنگے پینٹ لاتے ہوئے دیکھا۔
“وہ دیکھ رہی ہو ان کے ہاتھ میں اتنے رنگ کے سامان؟۔ وہ ہمارے پیسوں کا ہوگا”۔ الماس کی لاجک پر صالحہ کی ہنسی چھوٹ گئی۔ بھلا شہر کے اتنے بڑے اسکول کو تنخواہ تاخیر سے دینے کی ضرورت اس لیے کیوں پیش آئے گی۔ یقیناً کوئی اور معمالہ ہوگا۔
“لگتا ہے کچھ زیادہ ہی بھوک ہے تمہیں۔ آؤ میں کچھ کھلادوں کینٹین سے”۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑنے لگی مگر الماس نے نفی میں سرہلایا۔
“بچوں کا لنچ کھالیتے ہیں۔ ویسے بھی دو منٹ کو ہم بیٹھیں گے تو کافی بچے لنچ کا پوچھ لیں گے۔ آجاؤ”۔ وہ یہ کہتے ساتھ اسٹیج پر ہی بیٹھ گئی۔
“تم بچوں کا لنچ کھاؤ گی؟”۔ صالحہ کو حیرانی ہوئی۔
“بچوں کا لنچ ان سے چھین کر تھوڑی کھاؤں گی۔ وہ خود کھلاتے ہیں یار”۔
اتنے میں دو تین بچے ان کے پاس آئے اور اپنا لنچ باکس آگے کرنے لگے۔
“مس آپ بھی لیں”۔ وہ تینوں بیک وقت بولے تھے۔
“واہ۔ کیا کیا لائے ہو؟”۔ الماس نے ان کے ڈبوں میں جھانکا۔
“ٹیچر میرے تو نگٹس ہیں”۔ ایک نے کہا۔ وہ تینوں ہی خوش تھے جیسے ان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہو۔
“مس صالحہ”۔ مس عروبہ نے دور سے ہی آواز لگائی تھی۔ صالحہ نے پلٹ کر انہیں دیکھا۔
“جی مس”۔
“آپ کو آفس میں بلایا جارہا ہے”۔ وہ کہتے وہاں چلی گئی تھیں۔
“آفس میں؟”۔ الماس بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میرا تو دل دھک دھک کررہا ہے الماس”۔ اسے پریشانی نے آلیا تھا۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔ تم ہو کر آؤ”۔ اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اس نے اسے آگے کیا تو صالحہ آفس کی طرف بڑھ گئی۔
“اسلام علیکم یس میم”۔ وہاں ایک دو اور لوگ تھے۔
“وعلیکم سلام مس صالحہ۔ تشریف رکھیے”۔
صالحہ چیئر آگے کرکے بیٹھ گئی۔
“آپ جانتی ہیں کہ آپ سیکنڈری سیکشن کی ٹیچر ہیں جبکہ آپ کی تعلیم مکمل نہیں۔ اس وقت ہمیں آپ کو سیکنڈری کی نویں جماعت دینا مجبوری تھی کیونکہ اس وقت ہمیں اس کلاس کی ٹیچر کی اشد ضرورت تھی، مگر آج ہم نے ایک ٹیچر کو سیکنڈری کے لیے سیلیکٹ کرلیا ہے۔ وہ کل سے جوائن کریں گی”۔ وہ بہت تحمل سے بات کررہی تھیں۔ صالحہ کے اندر سناٹا چھاگیا۔
“ہم چاہتے ہیں آپ پرائمری کی طرف آجائیں۔ آپ نے کہا تھا کہ آپ نے آگے بھی ایڈمینش لے لیا ہے۔ ہم چاہیں گے آپ وہ مکمل کریں اور جب تک ہمارا پرائمری سیکشن دیکھیں”۔ وہ رکی سانسوں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔ ساکت نظریں ان پر ٹہھر سی گئی تھیں۔
“آپ نے جواب نہیں دیا؟”۔
“جج۔جی میم۔۔۔ مجھے میری کلاس بتادیں”۔ وہ ہکلا کر بولی تھی۔
“ہم چاہتے ہیں کہ آپ تیسری جماعت کی کلاس ٹیچر بن جائیں کیونکہ آپ کو نویں جماعت کی کلاس ٹیچر ہوتے ہوئے ذمہ داریاں اچھی پوری کرتے دیکھا ہے”۔
“جی میم”۔ سن دماغ سے اس نے پھر حواب دیا۔
“آپ کی تنخواہ میں پہلے سے کچھ کمی آئے گی کیونکہ جماعت میں فرق آیا یے۔ آئیندہ دنوں میں تنخواہ بڑھنے کے چانسز ہیں”۔
“جی میم”۔
“شکریہ ہمارے ساتھ کاپریٹ کرنے کے لیے”۔
“جی” وہ اثبات میں سرہلاتی مرے مرے قدموں سے باہر آئی۔ اسے اپنی تنخواہ کم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا، مگر اسے سیکنڈری سے پرائمری لانے کا افسوس تھا۔ اس کے آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو نکلنے لگے تھے جب وہ الماس کے قریب آئی تھی۔ الماس اسے دیکھ حیران ہوگئی تھی۔ نجانے اب کیا ہونے والا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ لاؤنج سے ہوتا ہوا باغ میں آیا۔ موسم اس قدر خوبصورت تھا کہ اس کا جی چاہا یہی کرسی لگا کر بیٹھ جائے۔ لگتا تھا کہ کچھ وقت میں ہی بارش ہوجائے گی۔ وہ حویلی کے پیچھے دوسرے زینے پر بیٹھی تھی جب شاہ زل وہاں داخل ہوا۔ حویلی کا یہ حصہ اکثر سنسان ہی رہا کرتا تھا۔
“آپ؟”۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہوئی تھی۔ ایک تو یہ شخص ہر جگہ اس کے پیچھے آجایا کرتا تھا۔
“میں نے سوچا کہ آپ کہ سوچوں میں دخل اندازی کرنی چاہیے”۔ وہ مسکرایا تھا۔ اچانک بادل کی آواز پورے گاؤں میں گونجی۔
“لگتا ہے بادل آپس میں ٹکرائے ہیں”۔ وہ فلک کو تکتے ہوئے جیسے اسے بتارہی تھی۔
“جی کچھ ایسا مجھے بھی لگتا ہے”۔ اس کی بنھویں آسمان کو دیکھ کر اوپر کو اٹھی تھیں۔
“آپ نے کہا تھا کہ پھولوں سے حویلی کو سجائیں گے”۔ اس نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے پوچھا۔
“آپ چاہتی ہیں تو ضرور سجائیں گے”۔ مبہم سی مسکراہٹ۔۔ جو اس پر نگاہیں پڑتے ہی لبوں پر آجایا کرتی تھی۔
“اور پھول؟”۔
“ہاں اس سے بھی”۔ اس نے حامی بھری۔
“لائٹیں بھی”۔ اس نے خوشی سے آنکھیں پھاڑیں۔
“ہاں وہ بھی”۔
“اور بھی بہت کچھ”۔ خوشی کے مارے وہ دوسرے زینے پر کھڑی ہوگئی تھی۔
“اور کیا؟” وہ سینے پر ہاتھ باندھے دیوار سے ٹیک لگائے اس سے پوچھنے لگا۔ دل یک دم چاہا وہ بولتی رہے۔
“اور کیا کیا ہوتا ہے؟”۔ وہ سوچنے لگی۔
“نکاح ہوتا ہے”۔ وہ معنی خیز لہجے میں مسکرایا۔
“ارے بھئی وہ تو ظاہر ہے پھپھو کا ہوگا”۔ وہ جنجھلائی۔
“ہاں ایک اور نکاح بھی ہوسکتا ہے”۔ شاہ زل نے بمشکل مسکراہٹ چھپائی۔
“ہاں مگر شجر کے سسرال والے ابھی صرف منگنی ہی کرنا چاہتے ہیں”۔ وہ اتنی بھی بھولی نہ تھی کہ اس کی بات کا اشارہ نہ سمجھ پاتی مگر وہ بات گول کرنا بھی جانتی تھی۔ شاہ زل نے سر جھٹکا۔
“اس بات کو چھوڑیں”۔
“آپ شہر سے یہ سب سامان لے آئیں”۔ ثریا نے خواہش کی تو وہ اسے دیکھتا رہ گیا۔ لمبی موٹی چٹیا اس کے کندھے سے لٹکی جھول رہی تھی۔
“آپ کہتی ہیں تو لے آؤں گا، مگر سجاوٹ میں آپ کو پچاس فیصد ہاتھ بٹانا ہوگا”۔ شاہ زل یہ سوچ کر مسکرایا تھا کہ کہیں کہیں مطلبی ہونا بھی اچھا ہوتا ہے۔
“ہاں وعدہ رہا”۔ وہ زینے اتر کر نیچے آئی۔
“نکاح کریں گی؟”۔ اسے جاتے دیکھا تو جھٹ سے بولا، مگر جلد ہی زبان دانتوں میں دبالی۔
ثریا ماتھے پر بنھویں رکھ کر مڑی۔
“کس سے؟”۔
“لڑکے سے”۔ گھبراہٹ کے مارے اس سے کچھ نہ سوجا۔
“ظاہر ہے لڑکے سے ہی کی جاتی ہے”۔ ثریا نے سینے ہر ہاتھ باندھے۔
“ہاں تو کرلیں نا”۔
“لڑکا کون؟”۔
“کک۔کوئی بھی ہو آپ کا مسلہ نہیں”۔ وہ کیا اول فول بکا جارہا تھا۔
“شرمانے کی آخری حد میں ہیں آپ۔۔۔ ہکلا ہکلا کر تھک نہیں رہے اس لیے الٹا سیدھا بولے جارہے ہیں”۔ وہ ہنسنے لگی۔
“نروس ہورہا ہوں”۔ وہ نگاہیں زمین پر گڑا کر بولا۔
“آپ کے لیے لڑکی دیکھی ہے میں نے۔۔۔”۔ اس کے نروس ہونے کا فائدہ اٹھاتی ہوئی بولی تھی۔
آئے کیا انہوں نے آئینہ تو نہیں دیکھ لیا۔ شاہ زل نے بےاختیار سوچا تھا۔
“کون؟”۔
“وہ ہے بھی بہت خوبصورت اور اسے چاہیے بھی آپ جیسا لڑکا”۔
اوہ اب تو یقین ہوگیا تھا کہ وہ اپنی بات نہیں کررہی تھی۔
“مجھے فرق نہیں پڑتا۔ بس اتنا چاہتا ہوں کہ جسے میں چاہتا ہوں وہ بھی چاہنے لگے”۔ وہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔ “بس اتنا چاہتا ہوں ثریا”۔
“چلیں پھر آپ ہی بتادیں لڑکی”۔ ثریا نے ہار مانی۔
“پیچھے آئینے میں دیکھیں”۔ اس نے پیچھے ٹوٹے ہوئے آئینے کی طرف اشارہ کیا۔ وہ مڑی تو ساکت رہ گئی۔ وہ اس کا ہی عکس تھا۔ سانسیں گویا بےربط چلنے لگیں اور دل دھڑکنے لگا۔
“کیا کہتی ہیں پھر آپ؟ کیا وہ مانے گی؟”۔ وہ پوچھ کر لب بھینچ گیا تھا۔ اندر ڈر نے گھیرا ہوا تھا۔ کہیں اس کا جواب انکار نہ ہو۔
“مجھے آئینے میں کوئی نظر نہیں آیا”۔ وہ سپاٹ لہجے میں کہتی مڑنے لگی۔
“نظر نہیں آیا یا دیکھنا نہیں چاہتیں؟”۔ وہ یکدم بولا۔
“میری منگنی ٹوٹ چکی ہے”۔
“نکاح بھی ٹوٹا ہوتا تو بھی یہی بولتا”۔
“کیا اچِھا لگے گا ایک لڑکی جس کی منگنی ٹوٹی ہوئی ہے۔۔۔”۔ وہ جملہ مکمل کر ہی رہی تھی کہ اس نے بات کاٹنی چاہی۔
“کہاں لکھا یے کہ یہ اچھا نہیں لگے گا؟۔ فرق یہاں کسی کو نہیں پڑتا۔ اور ویسے بھی آپ کی منگنی نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف رسماً بات ہوئی تھی”۔
وہ خاموش رہی۔
“جواب کیا ہے آپ کا؟ یہ سوچ کر دے گا کہ ایک لڑکا محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر بدلے میں محبت مانگ رہا یے”۔ اس نے گہری سانس خارج کی۔
ثریا اچانک سرخ ہوئی۔
“اور اگر میں نے منع کردیا تو؟”۔ مسکراہٹ لب بھینچ کر چھپادی تھی۔
“تو میں چھت کی اسی جگہ سے کود جاؤں گا جہاں رات میں آپ کھڑی ہوتی ہیں”۔ وہ بھی مٹھی بھینچ کر جیسے دھمکی دے رہا تھا۔
“اور پھر سجاوٹ کون کرے گا حویلی کی؟”۔ ثریا نے بنھویں اچکائیں۔ شاہ زل ششدر ہوا۔ اسے حویلی کی سجاوٹ کی پڑی تھی؟
“آپ کو سجاوٹ کی فکر ہے؟؟؟”۔
“نہیں فکر تو زمین کی بھی ہے کیونکہ آپ کے کود جانے پر زمین ٹوٹے گی تو اچھا نہیں لگے گا۔۔۔ اور ہھر شادی بھی ہے پھپھو کی تو اس میں اور کام بڑھ جائے گا”۔ وہ دھیما سا مسکرائی۔
“نہیں مرنے کے بعد سمینٹ فرش پر خود بھر جاؤں گا”۔ وہ جل بھن کر بولا تھا۔ وہ مسکرائی تھی۔
“آپ جواب کب دیں گی؟”۔ وہ جیسے انتظار کررہا ہو۔
“آپ چاہتے ہیں ابھی دوں؟”۔ اس نے آئبرو اچکائی۔
“آپ کیا چاہتی ہیں؟”۔ وہ ہر بات پر اس کی خواہش پوچھتا تھا۔
“سوچنا پڑے گا”۔
“سوچنے سے کیا ہوگا؟ اچھا خاصا ہنڈسم اور وجاہت سے بھرپور مرد ہوں”۔ وہ جیسے خود کو آئینے میں دیکھ کر بولا تھا۔ اسے منہ میاں مٹھو بنتے دیکھا تو وہ کھلکھلادی۔
“ہر اچھائی اور ہر خامیاں نکالوں گی پھر اس کی فہرست بناؤں گی۔ جس کا پلڑا بھاری ہوگا اس کے مطابق جواب دے دوں گی”۔ وہ شرارتاً بولی۔
“چلیں اب مجھے کوئی فکر نہیں۔۔۔ پھر یقیناً فیصلہ میرے حق میں ہوگا”۔ اس کی آنکھوں میں جو محبت تھی وہ ثریا سے چھپ نہ سکی۔ وہ جس قدر اس پر مہربان ہوتا تھا اس سے گویا ثریا کے لب سل گئے تھے۔ وہ وجاہت سے بھرپور ایک مرد تھا۔ جو سب سے پہلے اس سے “آپ کیا چاہتی ہیں؟” پوچھا کرتا تھا۔ یعنی اس کی مرضی!۔ اس کو ٹھکرانا ہیرے کو ٹھوکر مارنے کے مترادف تھا، مگر وہ یوں آسانی سے ماننے والی نہیں تھی۔ حیا بھی مشرقی لڑکیوں کو کتنی جلدی آلیتی ہے۔ اس کی چادر کا رنگ اس کے چہرے پر آگیا۔۔۔ ایک دم سرخ۔۔۔
“پھر فیصلہ سننے کے لیے کل تک کا انتظار کیجیے”۔ وہ گھنی پلکوں کی بار جھکاتی وہاں سے بھاگ گئی۔ شاہ زل نے گہری سانس سینے میں اتاری۔ کل کا انتظار کرنا کتنا مشکل تھا۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
افشاں کا کمرہ نیچے ہی سیٹ کردیا تھا۔ ہر رنگ سے بھرپور وہ کمرہ ایک دم خوبصورت نظر آتا تھا۔
“افشاں۔۔۔ ابا جان سے مل آؤ”۔ کبیر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا تو وہ انہیں ہونقوں کی طرح دیکھنے لگی۔ بےشک وہ باپ تھا مگر ان کا نام سنتے ہوئے اب بھی جسم میں سنسنی سی پھیل جاتی تھی۔۔۔ وہ لڑکھتے قدموں سے کبیر کے ساتھ چلتی ہوئی داجی کے کمرے کے دروازے تک پہنچی۔
“ہمارے ابا ہیں وہ افشاں۔ جو بھی ہوا ہو مگر ایک باپ کو ہم بھول کیسے سکتے ہیں”۔ وہ بتا رہے تھے یا منارہے تھے وہ جان نہ پائی۔ دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے۔ وہ بستر پر لیٹے تھے۔ فالج زدہ جسم انہیں ہلنے بھی نہیں دے رہا تھا۔
افشاں کی سانسیں ان کی حالت دیکھتے ہی تھم گئیں۔ داجی بےیارومددگار رہ گئے تھے۔ اس نے سختی سے کبیر کے ہاتھ کو پکڑ لیا۔ آنکھیں صدمے سے پھٹ گئی تھیں۔ ان کی حالت اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔
“افشاں”۔ ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں داجی نے اس کا نام لیا تھا۔ وہ بھاگ کر بستر کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔
“افشاں دھی ہے نا یہ؟”۔ وہ غنودگی کی کیفیت میں جیسے کبیر سے پوچھ رہے تھے. اتنے عرصے میں شاید چہرے کے نقوش بھی بھول گئے تھے۔
“جی ابا یہ فشا ہی ہے”۔ کبیر یکدم بولے۔
“یہ کچھ۔۔۔ بول کک۔کیوں نہیں رہی؟”۔ وہی الفاظ ٹوٹے پھوٹے۔ افشاں نے کبیر کی جانب دیکھا۔ تو وہ اپنا کیا گیا ظلم بھی بھول چکے تھے۔
“یہ کچھ بول نہیں رہی کیونکہ یہ بول نہیں سکتی۔ آپ کی بدولت! بھول گئے؟ آپ نے ہی تو منہ بند کروادیا تھا اس کا؟”۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی تلخ ہوئے تھے۔ افشاں نے کبیر کا ہاتھ پکڑ کر جیسے انہیں بولنے سے روکا تھا۔ داجی کو شاید وہ ظلم کی گھڑیاں یاد آگئی تھیں۔ وہ سن ہوگئے تھے۔۔۔ آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں میں روانگی تھی۔
“میری دھی”۔ کپکپاتے ہوئے الفاظ نکلے۔ افشاں نے ہچکیاں بندھ گئی۔
“ہم اس جمعہ کو بشارت حسین اور افشاں کا نکاح کررہے ہیں”۔ کبیر نے خبر دی۔
داجی کی خاموشی میں لمحہ بھر کا اضافہ ہوا۔
“مجھے نکاح میں بلاؤ گے؟”۔ وہ لرز رہے تھے۔
“آپ کا ہونا لازمی ہے۔ ولی ہیں آپ”۔
افشاں اس سب میں صرف آنسو بہا رہی تھی۔
“یہ کہاں رہے گی پھر؟”۔
“بشارت اپنے ساتھ لے جائے گا۔ شہر میں ایک ہسپتال ہے۔ جہاں سے اس کا علاج ہوگا۔ یہ اچھی ہوجائے گی کیونکہ یہ پیدائیشی بےزبان نہیں تھی”۔ انہوں نے پیدائیشی بےزبان کو چبا کر ادا کیا تھا اور پھر لمبی سی خاموشی چھا گئی تھی۔
“اس سے کہنا۔۔۔ میری دھی کک۔کا خیال رکھے”۔ لب پھر ہلے تھے۔ کبیر استہزایہ ہنسے۔۔۔
“ابا جان ہم سے زیادہ جانتا ہے وہ اس کا خیال رکھنا۔ اس نے یوں ہی ایک عمر نہیں گزاری حویلی میں”۔
افشاں کے دل میں کچھ ہوا۔ واقعی صبر کا پھل میٹھا ملا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ دروازہ چابی سے کھولتی اندر آئی۔ گیٹ لاک کیا اور تھکی تھکی سی زینے چڑھتی کمرے میں آگئی۔ اسے اس قابل نہیں سمجھا گیا تھا اس لیے پرائمری سیکشن میں جگہ دے دی تھی۔ وجدان بستر پر لیٹا ہوا تھا۔ اس کی موجودگی پر وہ جھٹکے سے اٹھا تھا۔
“اسلام علیکم”۔ بجھے بجھے لہجے میں اس نے سلام کیا اور بیگ صوفے پر رکھ کر وہی ڈھے گئی۔
“وعلیکم سلام آپ یونیورسٹی نہیں گئیں؟” وجدان کو حیرت ہوئی۔
“دل نہیں کررہا تھا”۔ بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ روہانسی ہوگئی تھی۔ اس کا دل غم سے پھٹ رہا تھا۔ وہ اٹھی اور اپنا ہرا گاؤن اتار کر بستر پر غصے سے پھینکا۔ آنسو بےربط بہہ رہے تھے۔ وجدان ششدر ہوا۔ اس نے استانی کا گاؤن پھینکا تھا اس سے بڑی حیرانی کی اور کون سی بات ہوگی۔
“صالحہ آپ ٹھیک ہیں؟”۔ وہ تیزی سے اٹھ کر اس کی سمت آیا۔ وہ آپے سے باہر ہورہی تھی۔ اس نے صالحہ کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور زبردستی بستر تک لایا۔ وہ ہچکیوں سے رونے لگی۔ وجدان کا دل گویا کسی نے چیر دیا ہو۔
“صالحہ میں پریشان ہوجاؤں گا یار۔ کیوں رورہی ہیں؟۔ کیا ہوا یے کچھ بتائیں تو”۔ اس نے صالحہ کو بستر پر بٹھا کر اس کا ہتھیلیاں سختی سے پکڑتے ہوئے پوچھا۔
“مجھے نہیں پڑھانا اسکول میں۔۔۔ نہیں جانا مجھے”۔ اس کی آواز بلند ہوئی۔
“مجھے نہیں بتائیں گی تو مجھے کیسے خبر ہوگی؟”۔ اس نے دھیمی آواز میں اس کی پلکوں کو کو چھو کر پوچھا۔
“انہیں نے مجھے پرائمری سیکشن میں شفٹ کردیا ہے”۔ اس نے ہچکیوں کے درمیان بتایا۔ وجدان بے آہ بھری۔ تو یہ ماجرا تھا۔
“تو؟؟”۔
اس کے سوال پر صالحہ کو حیرت ہوئی اس نے نگاہیں اٹھا کر وجدان کو حیرانی سی دیکھا۔
“یہ اچھی بات تو نہیں”۔ اسے پھر رونا آنے لگا۔ کلائیاں اب بھی وجدان کی قید میں تھیں۔
“ارے یہ تو اچھی بات ہے نا۔۔۔”۔ کنچی آنکھوں میں جھانک کر کہا
“انہوں نے کہا میری تعلیم ابھی زیادہ نہیں تو میں سیکنڈری کے لیے ٹھیک نہیں۔۔۔ سیکنڈری انہوں نے مجغے مجبوری میں دی تھی کیونکہ ان کے پاس اس وقت کوئی اور استانی نہیں تھیں۔ پچھلی والی اسکول چھوڑ گئی تھی”۔ اپنی دکھ بھری کہانی اس نے اپنے شوہر کو سنائی تھی۔
“تو کوئی بات نہیں۔ ان شاء اللہ کچھ سالوں میں آپ کی تعلیم میں اضافہ ہوجائے گا تو وہ آپ کو سیکنڈری پھر دے دیں گے۔ اور آپ کو تو چھوٹے بچے کتنے پسند ہیں۔۔۔ آپ سے استانی کا رتبہ تھوڑی چھین رہے ہیں وہ۔۔۔ آپ کو تو استانی بننا پسند ہے! چاہے وہ کسی جماعت کی ہی کیوں نہ ہو۔ پڑھانا تو بچوں کو بھی ہوتا ہے۔ کونسی جماعت دی ہے آپ کو؟”۔ وہ محبت سے اسے سمجھا رہا تھا۔
“تیسری”۔ وہ منمنائی۔
“واہ! بچوں کو بپچن سے سمجھ جو چیزیں آتی ہیں وہ ہی تو ضروری ہوتی ہیں۔ یہی تو عمر ہوتی ہے بچوں کو دیکھنے کی استانی صاحبہ”۔ وہ شرارتاً بولا تھا تو صالحہ ہنس پڑی تھی۔
“یہ گاؤن کیوں بستر پر پھینکا؟۔ مجھے افسوس ہے آپ نے اسے عزت نہیں دی”۔ اس نے بستر پر پڑا گاؤن دیکھ کر بےچارگی سے دیکھا۔ صالحہ نے پریشانی سے دیکھا۔ اس نے اٹھ کر گاؤن اٹھایا اور تہہ کرکے واپس بستر پر رکھ دیا۔
“مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ وہ افسوس کرتے ہوئے بولی۔ وہ بھی ایک عام سی لڑکی تھی۔ تھوڑی تھوڑی خامیاں اس میں بھی تھی۔ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی بری عادت ضرور ہوتی یے اور اس کی بری عادت غصہ تھی۔ نجانے کیوں اسے غصے آیا کرتا تھا؟۔ کیوں پھر وہ رو جایا کرتی تھی؟۔
“کیسے آئی ہیں؟”۔
“الماس چھوڑ کر گئی ہے”۔ وہ دھیمی آواز میں بولی۔ وجدان اٹھ کر وقار سے چلتا ہوا اس کی جانب آیا۔ وہ وارڈروب سے پلٹی ہی تھی کہ اسے اتنا قریب دیکھ کر حیران ہوگئی۔
“میں سوچ رہا ہوں آپ کو کچھ دن کی چھٹی لے لینی چاہیے اسکول سے۔۔۔ حویلی کا چکر لگا کر آتے ہیں”۔ وہ کنچی آنکھوں میں دیکھ کر اپنے دل کی پیاس بجھا رہا تھا۔ صالحہ نے خوشی سے پوری آنکھیں کھول کر اس دیکھا۔۔۔
“سچی؟”۔ وہ چیخ پڑی تھی۔
“بلکل”۔ اس نے صالحہ کا ہاتھ پکڑ کر پہلی بار آنکھوں سے لگایا۔ صالحہ تھم سی گئی۔ یہ انداز اچھا تھا مگر وہ شرم و حیا سے سرخ ہوگئی تھی۔ نگاہیں زمین کو لگ گئیں تھی اور سر جھک گیا تھا۔
“تو کیا کہتی ہیں؟”۔ وہ اس کے انداز سے لطف اندوز ہوتا محبت سے اس سے پوچھنے لگا۔
“میں کال کروں گی حویلی۔ پھر ہم کل چلیں جائیں گے”۔ وہ جیسے کل کا پروگرام اسے بتا رہی تھی۔ وہ بھی ہنس پڑا۔
“جی صالحہ ہم کل ہی جائیں گے”۔ اس کے گال چھوتے ہوئے وہ پیچھے کو ہٹ گیا۔ وہ مسکرا دی۔ وہ کتنا اچھا تھا۔ اس کی پشت کو تکتے ہوئے وہ بس اس کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
یہ سوچ کر وہ لب بھینچ گئی کہ اظہار ضروری ہے!۔
وجدان کو یقین تھا کہ اب کی بار اس کے پھول رائیگاں نہیں جائیں گے۔
۔۔۔★★۔۔۔
“تم صالحہ کو کال کرلو جیا”۔ وہ سنگھار میز پر بیٹھی تھی جب اس نے حیدر کی آواز سنی۔ وہ واش روم سے شاور لے کر نکلا تھا۔
“مجھے لگتا ہے یہ خبر تم اسے سناؤ گے تو وہ اور خوش ہوجائے گی”۔ اس نے کریم ہاتھوں پر مل کر سنگھار میز پر واپس رکھ دی۔
“میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں جیا۔ وہ ایک دفعہ کسی سے خفا ہوجائے تو بہت مشکل سے مانتی ہے۔ بغاوت کا پتلا ہے وہ۔ ایسا پتلا ہے جو آسانی سے نہیں ماننے والا۔ حالانکہ اسے غصے کم آتا ہے مگر جب بھی آتا ہے بہت تیز آتا ہے”۔ وہ مسکرا رہا تھا۔
“پھر تو میں تمہاری بیوی ہوں۔ وہ مجھ پر بھڑک گئی تو؟”۔ وہ جانتی تھی ایسا کچھ نہیں ہوگا مگر پھر بھی خود کو بولنے سے روک نہ سکی۔
“وہ غصے میں ادب کا دامن نہیں چھوڑتی وجیہہ”۔ وہ اسے یاد کرتا ہوا پھیکا سا مسکرایا تھا۔ وجیہہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔
“تم یاد کررہے ہو اس کو؟”۔
“ہوں”۔
“میں کال کرتی ہوں”۔ اس نے میز سے موبائل اٹھا کر نمبر ڈائل کیا۔ دو تین بیل پر کال اٹھا لی گئی تھی۔
“اسلام علیکم بھائی”۔ بھائی کی آواز پہچان کر وہ خوشی سے پھولی نہ سمائی تھی۔
“وعلیکم سلام جیا جان۔ کیسی ہو؟۔ یاد آگئی بھائی کی؟۔ افسوس کہ اب بھی بھابھی کے موبائل پر کال کی تم نے۔۔۔ میرا نمبر کیا بھول گیا تھا؟”۔ وہ جیسے شکوہ کررہا تھا۔
“آپ تو یاد آتے رہتے ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا آپ کے شہر آجاؤں”۔ اسے وجدان کو دیکھنے کی خواہش جاگی۔ وجدان جو بستر پر لیٹا ہوا تھا ششدر ہوا۔
“سچ کہہ رہی ہو؟”۔
“آپ سے ملنے کا بہت دل ہے بھائی”۔ وہ آنکھوں میں آتے آنسو روک نہ پائی تھی۔ کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا تو وہ چلتی ہوئی کھلی کھڑکی کے پاس آکھڑی ہوئی۔
“تم کیا جانو میں نے کس دل سے رخصت کیا تھا تمہیں”۔ وہ کہہ کر لمحے بھر کو خاموش ہوا تھا۔ “حیدر بھی آرہا ہے؟”۔
“جی”۔
“ہوں۔ ویسے میں اور صالحہ حویلی آہی رہے تھے”۔
“اوہ یہ تو اچھی بات ہے، مگر ہمیں شادی کے جوڑے بھی لینے ہیں”۔ وہ معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے ساتھ مسکرائی تھی۔ وہ ٹھٹھکا۔
“شادی کے جوڑے مگر کس کے؟”۔ وہ بستر پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔
“صالحہ کدھر ہے؟ آس پاس تو نہیں؟”۔
“کیوں کیا ہوا؟”۔
“اس لیے پوچھ رہی ہوں کیونکہ ہم اسے یہ سرپرائز دینا چاہتے ہیں۔ شہر آکر ہی اسے خبر دوں گی کہ اس کی پیاری پھپھو کی شادی بشارت صاحب سے طے ہوگئی ہے اور جمعے کو نکاح ہے”۔
“واٹ؟۔ بشارت صاحب کون؟”۔
“وہی شاہ جی۔۔۔ وہ بشارت حسین ہی ہیں”۔
“جو گھر کے باورچی ہیں؟۔ حویلی والوں پر کیا نوبت آئی کہ ایک باورچی سے شادی کروا رہے ہیں”۔
اس کی بات ہر وجیہہ نے سر پیٹا۔
“بھائی آپ کو صالحہ نے کچھ بتایا نہیں؟”۔
وجدان نے پلٹ کر واش روم کے دروازے کو گھورا جس کے اندر صالحہ تھی۔
“نہیں بتایا تو کچھ نہیں”۔
“کل ہی آکر آپ کو بتاؤں گی شاہ جی کے بارے میں۔۔۔ یا پھر آپ صالحہ سے پوچھ لے گا”۔
“ہوں ٹھیک ہے”۔ اس نے کہہ کر تھوڑی دیر اور بات کی۔ ابھی بات کرکے کال کاٹی ہی تھی کہ صالحہ واش روم سے باہر آئی۔ کال کٹ چکی تھی مگر وجدان نے کچھ سوچ کر موبائل پھر کان سے لگالیا۔
“ہاں بولو”۔ نجانے دل نے کیا تکلیف کی تھی جو وہ یہ کررہا تھا۔ صالحہ ٹھٹھکی۔
“اچھا کل؟۔ معافی چاہتا ہوں مگر اب میں شادی شدہ ہوں! اور اپنی بیوی سے بہت ممم۔مم”۔ وہ لفظ “محبت” چاہ کر بھی ادا نہیں کر پارہا تھا۔ “مطلب میں اسے چاہتا ہوں۔ وہ اب میری بیوی ہے”۔ وہ آخر کیوں کررہا تھا ایسا وہ خود نہیں جانتا تھا۔ اس کی صالحہ کی جانب پشت تھی۔ صالحہ ششدر کھڑی تھی۔ وہ اب بھی اوندھا منہ ہی لیٹا تھا۔
“اچھا؟۔ ہاں مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ میری بیوی کو میں زیادہ بھاتا ہی نہیں”۔ وہ صرف اس لیے کررہا تھا تاکہ صالحہ کا دل موم ہوسکے۔ اور واقعی اس کا دل آہستگی سے پگھل رہا تھا۔
“مجھے لگتا ہے میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ وہ میرے جینے کی وجہ بن گئی ہے، مگر شاید اسے مجھ میں دلچسپی نہیں۔۔۔”۔ وہ ساتھ ساتھ افسوس سے نفی میں سرہلانے لگا۔
صالحہ کے کانوں کی لوؤں سرخ ہوئیں۔
“تمہیں پتا ہے اس نے ناشتہ نہیں کیا صبح! اس لیے میں نے بھی دوپہر کا کھانا نہیں کھایا”۔ وہ بےچارگی کی مثال قائم کرتا ہوا بولا۔ “یہی تو میری چاہت کی نشانی ہے میرے دوست! وہ بھوکی ہوگی تو میں کیسے کچھ کھا سکتا ہوں”۔ وجدان کو ساتھ ساتھ وہ سینڈوچ بھی یاد آئے جو اس نے صالحہ کے گھر آنے سے پہلے بنا کر کھائے تھے۔ صالحہ سنگھار میز کی طرف گئی اور برش دراز میں رکھا۔ آواز پیدا ہونے پر وجدان نے انجان بن کر اسے دیکھا۔
“مم۔میں کال رکھتا ہوں”۔ وہ کال کاٹنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے موبائل پکڑتا اس کی طرف آیا۔
“آپ نے کچھ کھایا ہے؟”۔ محبت سے صالحہ کی آنکھوں میں دیکھ کر اس نے پوچھا تھا۔ صالحہ کی آنکھوں سے چاہت کے آنسو نکل پڑے۔ وہ سوچنے لگی کہ وہ کتنا اچھا ہے۔ وجدان نے موبائل سنگھار پر رکھا۔
“ْیقیناً نہیں کھایا ہوگا۔۔۔ میں نے بھی نہیں کھایا۔ میں کچن میں جارہا ہوں اور ہاں! میں اب بہتر محسوس کررہا ہوں”۔ مدھم سا مسکراتا وہ اس کی آنکھوں میں جھانکتا نیچے چلا گیا۔ وہ اس کے پیچھے جانے کے لیے مڑنے لگی کہ موبائل دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ یہ موبائل تو صالحہ کا تھا! تو وہ اپنا موبائل ہوتے ہوئے اس کے موبائل سے کیسے اپنے دوست سے بات کرسکتا تھا۔ وہ دس منٹ کی کہانی پل بھر میں سمجھ گئی۔
“بدتمیز شخص”۔ صالحہ دانت پیسے بنا نہیں رہ سکی تھی۔ “تمام توجہ بھی دے دو انہیں پھر بھی ہمدردی کی خواہش مند ہیں۔۔۔ ہونہہ جیسے میں جانتی نہیں”۔ وہ بڑبڑاتی وجدان کے پیچھے چلی گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
شام کے سائے لمبے ہورہے تھے۔ وہ ٹیرس پر کھڑا اپنی مخصوص خاکی شال پہنا سورج کو تک رہا تھا۔ پل بھر کو نگاہیں نیچے کیں تو باغ نظر آیا۔ سب خوش تھے اب شاہ جی کی شادی ہونے لگی تھی، وجدان کے بارے میں سنا تھا کہ وہ بہت اچھا شوہر ثابت ہوا ہے، شاہ زل اپنی قسمت آزما رہا تھا مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ اس کی گوٹی گرے گی یا نہیں۔ سب خوشحال تھے اور وہ اجڑ کر کھڑا تھا۔ نہیں جانتا اس چھوٹی لڑکی سے محبت کب ہوئی۔ شاید جب سمیعہ تائی کو رفاہ پر ہاتھ اٹھانے سے روکا تھا یا پھر جب اس کے ساتھ باغ کے جھولے پر بیٹھ کر پوری رات گزاری تھی۔ وہ کبھی اس کو حویلی کی جنجھال سے نہ نکالتا اگر وہ اس کی بیوی نہ ہوتی۔ نکاح کے تین بار بولنے والے بول دل میں نجانے کونسا صور پھونک جاتے ہیں۔ وہ بول محبت میں تبدیل ہوگئے تھے۔ پرندے واپس اپنے گھروں کی جانب بڑھ رہے تھے۔
“جس شخص پر اعتبار کرکے اس نے مجھے منع کیا ہے اسی شخص نے تمہیں اس حویلی تک پہنچایا تھا”۔ وہ خود سے بول رہا تھا۔ وہ شرجیل بٹ تھا۔ اس میں عزتِ نفس کا ڈیرا تھا۔ وہ ان لوگوں کی جانب پلٹتا ہی نہیں تھا جو اس سے ملنے سے ایک بار انکار کردیں۔ وہ بیوی تھی مگر وہ اب بھی شرجیل تھا۔ اسے کوئی فون کال کرنے کی ضرورت پیش بھی نہیں آنی تھی۔ وہ صاف انکار کرچکی تھی اور وہ تنہا ہوچکا تھا۔
“شرجیل”۔ شاہ زل اس کے کمرے کے وسط سے ہوتا ہوا ٹیرس پر آیا تھا۔
“وہ کل فیصلہ سنانے والی ہے”۔ اس کی سانسیں پھولی رہی تھیں اور وہ خود کو سنبھال رہا تھا۔
“اچھی بات ہے”۔ سنجیدگی سے جواب آیا۔ شاہ زل کو حیرت نہیں ہوئی کیونکہ برتاؤ اور لہجہ اس کا مخصوص تھا۔
“رفاہ کب آرہی ہے؟”۔ اس کی تنہائی محسوس کرتے ہوئے سرسری پوچھا۔
“نہیں آئے گی اب وہ”۔ وہ اب بھی سورج کو ہی تک رہا تھا جو بہت آہستگی سے غروب ہورہا تھا۔ شاہ زل نے بنھویں اچکائیں۔
“کیا مطلب؟”۔
“اس کا اور کیا مطلب ہوسکتا ہے شاہ زل”۔
“کیا بول رہی ہے وہ؟”۔
“وہ کہہ رہی ہے وہ واپس آنا نہیں چاہتی اور اسے طلاق۔۔۔”۔ وہ طلاق کے آگے بول نہیں پایا تھا۔ لب بھینچے ہوئے تھے۔ شاہ زل نے آنکھیں پھاڑیں۔
“وہ یہ مم۔۔۔” کچھ کہہ ہی رہا تھا شرجیل نے بات کاٹی۔
“وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی”۔
“وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی مگر کیوں؟”۔
“کاش میں جان پاتا”۔
“اور تمہارا کیا؟”۔ وہ اب دیوار پر ہاتھ رکھ کر اس کی طرح سامنے دیکھنے لگا۔
“میں جیسے پہلے تھا بس ویسا ہی رہوں گا”۔
شاہ زل اس سنجیدگی کے پیچھے وہ سناٹا آرام سے دیکھ سکتا تھا۔
“میں تو اب بھی الجھا ہوا ہوں شرجیل”۔ اس کے جانے کا فیصلہ کیوں ہوا وہ اب بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
“میں اس سے کافی بڑا ہوں شاہ زل۔ وہ میرے لیے محض ایک چھوٹی بچی ہے۔۔۔”
“مگر وہ تمہاری بیوی ہے”۔ شاہ زل نے تصحیح کی۔
“شاید وہ اپنے سے بڑے عمر کے مرد کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی”۔ شرجیل نے کس طرح یہ جملہ ادا کیا تھا اس کا کرب سے وہ ہی جانتا تھا۔
“کتنے بڑے ہو تم جو وہ یہ فیصلہ لے گئی؟۔ مجھے نہیں لگتا شاید یہ تمہاری غلط فہمی ہے”۔
“وہ محض سترہ سال کی ہے شاہ زل”۔ وہ بار بار رفاہ کی ہی طرفداری کررہا تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی۔
“اور تم کتنے بڑے ہو جسے دیکھ کر اس نے یہ فیصلہ لیا ہوگا تمہارے مطابق؟”۔ ماتھے ہر بل نمودار ہوئے۔
“میں اس سے تیرہ سال بڑا ہوں شاہ زل! یہ بہت بڑا فرق ہے”۔
“قتل کرتے ہوئے اس کے کمبخت بھائی نے سوچا تھا کہ اس کی بہن کا نکاح کسی سے بھی ہوسکتا ہے؟۔ تم سے نکاح ہوا ہے سمجھو بطور ونی اس کی زندگی بچ گئی۔ اگر ہوجاتا نکاح کسی حویلی کے ادھیڑ عمر شخص سے! کیا کرلیتی وہ اور اس کا بھائی؟”۔
“نہیں ملا مگر اسے کوئی ادھیر عمر شخص! میرے نکاح میں ہے وہ۔۔۔ اگر اس کی یہ ہی خوشی یے تو ٹھیک ہے”۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور پرندے آسمان سے غائب ہوچکے تھے۔
“طلاق دو گے؟”۔ وہ جیسے جاننا چاہتا تھا۔
“نہیں”۔ اس کے لب بےاختیار ہلے تھے۔
“اس کو چھوڑ کر بھی نہیں چھوڑو گے؟”۔ وہ اس کی عقل پر ماتم کرنے لگا۔
“میں طلاق نہیں دے سکتا۔ بہت ڈرنے لگا ہوں اس لفظ سے میں شاہ زل”۔ وہ کانپا نہیں تھا مگر پلکیں ضرور لرز گئی تھیں۔
“ایسے ادھورا چھوڑنے سے کیا ہوگا؟”۔
“تسلی رہے گی کہ چھوڑ کر بھی میری ہی ہے”۔
“یہ روپ تمہارا نیا یے میرے لیے”۔ شاہ زل مبہم سا مسکرایا تھا۔
“اب تو تمام روپ نئے دیکھنے کو ہی ملیں گے”۔ وہ استہزایہ ہنسا۔
“کہیں یہ محبت تو نہیں؟”۔
“محبت کا لفظ سنا بہت ہے مگر جانتا نہیں یہ کیسے ہوتی ہے۔۔۔” وہ صاف آسمان کو حسرت بھری نگاہ سے دیکھنے لگا۔ “نہیں جانتا جو میں کررہا ہوں وہ محبت ہے کہ نہیں”۔
شاہ زل نے گہری سانس ہوا میں خارج کی۔
“سب اچھا ہوگا۔ ہوسکتا ہے وہ لوٹ آئے”۔
“وہ نہیں آئے گی کیونکہ اس کی آواز میں جو سختی اور بیزاری تھی وہ صرف میں محسوس کرکے ہی ساکت رہ گیا تھا شاہ زل”۔ وہ اسے پل بھر میں چپ کرا گیا تھا۔
“تو؟”۔
“اب کچھ نہیں بس میں کل شہر جارہا ہوں۔ شاہ جی کے لیے شادی کے کپڑے لینے ہیں”۔
“اچھا ہے خود کو مصروف رکھو”۔
اس نے نیچے جھانکا تو باغ میں شاہ جی کھڑے شرجیل کو نیچے آنے کا کب سے اشارہ کررہے تھے۔
“شاہ جی بلارہے ہیں شرجیل”۔ اس نے شرجیل کا کندھا ہلایا۔ شرجیل نے نیچے جھانکا تو ایک چپل منہ کو لگتے لگتے بچی۔ شاہ جی چپل اچھال کر اسے اپنی طرف متوجہ کررہے تھے۔
“آرہا ہوں۔ آرہا ہوں شاہ جی”۔ کہتے ساتھ بڑبڑاتے ہوئے وہ نیچے بھاگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
بستر پر لوٹتے لوٹتے وہ تھک چکا تھا۔ پاؤں کی تکلیف اب بہتر تھی۔
“کاش آفس ہی چلا جاتا گھر میں کوئی بات کرنے والا ہی نہیں”۔ الٹا اخبار پکڑتے ہوئے وہ صالحہ کو سنارہا تھا۔ صالحہ جو کل حویلی جانے کے لیے سامان باندھ رہی تھی سن کر ان سنی کرگئی۔
“بے حس لوگوں کے ساتھ رہنا کتنی بڑی مجبوری ہوتی ہے نا”۔ وہ بےچارگی سے نفی میں سرہلانے لگا۔ صالحہ نے پلٹ کر اسے گھورا۔ وہ گڑبڑاگیا۔
“ایسا اخبار میں لکھا یے”۔ اس نے جھٹکے سے وضاحت پیش کی۔
“اخبار چھاپنے والے اتنی فضول باتیں کیوں لکھنے لگے”۔ اس نے منہ پھیر کر کپڑے ایک ایک کرکے سوٹ کیس میں ڈالے۔
“لکھا ہے کہ میانوالی میں ایک شادی شدہ مرد نے پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرلی۔ میز سے ایک خط ملا جو شاید مرنے والے نے لکھا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ اس کا بےحس بیوی کے ساتھ رہنا دوبھر تھا۔ بیوی کی بےحسی سے تنگ آکر وہ پنکھے سے لٹک گیا”۔ نہ جانے الٹے پکڑے اخبار میں اسے یہ خبر کہاں ملی تھی۔ اپنے ذہن سے سوچتا اول فول بکا جارہا تھا۔
“پھر تو بیوی نے ٹھیک کیا”۔ اس کے چہرے پر بلا کا اطمیان تھا۔ وہ اچھل کر بیٹھا۔
“شوہر بےچارا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا اور آپ بیوی کی طرفداری کررہی ہیں؟”۔ ماتھے پر بل پڑے۔
“شوہر کے بھی تو کوئی کرتوت ہوں گے۔ اکیلی بیوی کو کیوں قصور وار ٹہھرایا جائے؟”۔
“مگر وہ بیچارا معصوم تھا”۔ وہ ایسے تڑپ کر اس خیالی شوہر کو بچا رہا تھا جیسے وہ اس کا پھپھی کا بیٹا لگا ہو۔
“یہ آپ سے اس عورت نے کہا؟”۔ اس نے منہ کے زاویے بگاڑ کر پوچھا۔
“وہ عورت کو اب جیل ہونی چاہیے”۔ وجدان نے دانت پیسے۔
“کس بات پر بھئی؟”۔ وہ جنجھلائی۔
“کیونکہ اس کی بدولت اس کا شوہر لٹک کر مرگیا”۔
“کیا وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا؟”۔ صالحہ نے کمر پر ہاتھ رکھ کر بنھویں اچکا کر پوچھا۔ وجدان نے تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔
“تو پھر کیوں لٹک کر مرگیا؟۔ خود تو مرگیا یہ سوچے بغیر کہ اس کے پیچھے اس کی بیوی پر الزام لگ جائے گا”۔ وہ کتنی آسانی سے کہہ گئی تھی۔ وجدان نے گردن ہر ایسے ہاتھ رکھا جیسے “وہ شوہر” جو اس کی گفتگو کا حصہ تھا وہ شخص وہ خود ہو۔۔۔
“ظالم سماج”۔ وہ دکھ سے پھر لیٹ گیا تھا۔ صالحہ اس کی طرف سے منہ پھیر کر مسکرائی تھی۔
“لو جی ایک اور خبر۔۔۔!”۔ اس نے اخبار پر ہاتھ مار کر اشارہ کیا۔ “بیوی کے طعنوں سے شوہر تنگ! یا اللہ کیا ہوتا جارہا ہے بیویوں کو چہ چہ چہ”۔ اس نے بےچارگی سے نفی میں سرہلاتے ہوئے اخبار فولڈ کرکے رکھا۔
“شوہر اپنی کسی دوست یا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کولیگ کا ذکر زیادہ کرتا ہو”۔ صالحہ اپنی ہنسی دباتے ہوئے خدشے بیان کرنے لگی۔ وجدان سٹپٹایا۔
“نہیں شوہر بہت شریف ہے”۔ جانے کیوں وہ پھر سے خیالی شوہر کی طرفداری کرنے لگا۔
“کیا یہ آپ سے اس کے شوہر نے کہا؟”۔ اس نے پلٹ کر پوچھا۔
“نہیں لیکن اس کی تصویر چھپی ہوئی ہے۔ بہت بےچارا لگ رہا ہے”۔
“چہرے پر تھوڑی لکھا ہوتا ہے”۔ وہ اس کے قریب آئی اور برابر میں رکھا اخبار اٹھا کر دیکھنے لگی۔
“او ہوووو۔۔۔ یہ والی خبر پڑھی؟”۔ وہ اخبار میں ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔
‘کک۔کونسی؟”۔ وہ ہکلایا۔
“ایک عورت نے اپنے میاں کو چھت سے دھکا دے دیا”۔ یہ جانے بغیر کہ صالحہ واقعی دیکھ کر خبر پڑھ رہی ہے یا خود سے بول رہی وہ گھبرا گیا۔
“لائیں اخبار ادھر دیں۔ آپ اخبار مت پڑھا کریں۔ ٹینشن ہونے لگتی ہے”۔ اس نے تیزی سے اس کے ہاتھ سے اخبار لیا اور تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ وہ کھل کر مسکرائی۔
“ویسے آپ اخبار الٹا پڑھتے ہیں؟”۔ طنز کا موقع وجدان نے اسے خود دیا تھا۔ وہ ساکت رہ گیا
“میں نے کب الٹا پکڑا اخبار؟”۔ نگاہیں اس پر جم سی گئیں۔
“ہاں میں کب سے دیکھ رہی تھی شاید میرے نگاہوں کا قصور ہے”اس نے بےحد آرام سے اپنی چادریں لپیٹ کر اندر رکھیں۔ وجدان کو اپنی سانسیں رکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“یا اللہ”۔ اس نے اپنی پیشانی کجھائی۔
“آپ کے کپڑے رکھنے ہیں؟”۔
“میں جو کپڑے پہنا ہوں ان میں ایک ہفتہ بھی گزار سکتا ہوں”. وہ طنزاً بولا۔ اب بھلا یہ کوئی پوچھنے والی بات تھی کہ کپڑے اس کے سوٹ کیس میں رکھے جائیں یا نہیں۔۔۔؟
“جی اچھا”۔ اس نے سنجیدگی سے جواب دے کر وارڈ روب سے اس کے کپڑے نکالے۔
“کوئی ایسی ٹی شرٹ جو ساتھ رکھوانا چاہتے ہوں؟”۔ اتنا وقت تو ساتھ گزارلیا تھا کہ وہ اس کی عادتیں جان گئی تھیں۔
“نہیں اپنی مرضی سے رکھ لیں”۔ وہ اب اوندھا لیٹ گیا تھا۔ تکیہ پر منہ رکھے وہ ساتھ ساتھ اسے بھی دیکھ رہا تھا۔ “جو آپ کو پسند ہوں”۔ یہ الفاظ اس نے کچھ سوچ کر ادا کیے تھے۔ صالحہ نے ہینگر میں لٹکے کپڑوں کو بستر پر سجا کر رکھا۔
“یہ کالی ٹی شرٹ بھی رکھ رہی ہوں”۔ اس نے تہہ کر کے سوٹ کیس میں رکھا۔
“اور یہ خاکی رنگ کی پینٹ بھی”۔ ساتھ ساتھ اسے بتا بھی رہی تھی۔
“یہ سفید اور گہری نیلی ٹی شرٹ بھی اور یہ سفید کرتا شلوار بھی۔۔۔ کیا یہ واسٹ کوٹ رکھوں؟”۔ اس نے شادی کی واسٹ کوٹ اس کے سامنے رکھی۔ یہ واسٹ کوٹ شادی والے دن اس پر بہت جچ رہی تھی۔ وجدان کچھ سوچ کر مسکرایا۔
“وہاں جا کر کونسا آپ نے میری دوسری شادی کروا دینی ہے”۔ وہ جو دو منٹ کے لیے تکیہ سے سر اٹھا کر بولا تھا پھر سے لیٹ گیا۔
“یہ میں جمعہ کے لیے رکھنے کا کہہ رہی ہوں”۔ وہ منہ کے زاویے بگاڑ کر بولی۔
“مرضی ہے آپ کی”۔
“بہت شوق ہے دوسری شادی کرنے کا ویسے آپ کو”۔ وہ واسٹ کوٹ لپیٹتے ہوئے بولی۔
“خود کشی ایک بار ہی کی جاتی ہے”۔ وہ بےساختہ بولا تھا
“یعنی مجھ سے آپ کی شادی خودکشی کی طرح ثابت ہوئی ہے؟”۔ وہ حیران ہوئی۔ وجدان مسکرایا۔
“اب آپ کہتی ہیں تو مان لیتا ہوں”۔
صالحہ کو اپنے کانوں سے دھواں نکلتا محسوس ہوا۔ اس نے وجدان کی بلو جینز نکال کر غصے سے بستر پر رکھی اور لیپٹنے لگی۔ یہ اس کے غصے کی علامت تھی۔ وجدان کے لبوں پر ہنوز مسکراہٹ تھی۔
“صالحہ وجدان ایسے چیزیں پٹخنے سے کیا ہوگا؟”۔
“صالحہ بٹ کہیے”۔ اس نے دانت پیس کر الفاظ ادا کیے۔
“میں تو صالحہ وجدان کہوں گا”۔ وہ اسے اب زچ کررہا تھا۔
“مجھے میرا کام کرنے دیں مسٹر وجدان”۔ اس نے اپنی نگاہیں پھیریں۔
“یہ ٹی شرٹ ڈالنی ہے؟”۔ اس نے کائی رنگ کی ٹی شرٹ اس کے آگے بچھائی۔
“ہم محض تین چار روز کے لیے جارہے ہیں”۔ اس نے اپنا ہاتھ صالحہ کے آگے لہرایا۔
“ہوسکتا ہے میں ٹھہر جاؤں پورا ایک ہفتہ”۔ لہجے میں بلا کا اطمینان تھا۔ وہ اچھل کر اس کے قریب آیا۔ وہ یکدم پیچھے ہوئی۔
“کک۔کیوں رہیں گی آپ؟۔ میں زیادہ دن نہیں رہ سکتا کیونکہ بزنس چلانے والا میں اکیلا ہوں”۔
“تو میں رہ لوں گی حویلی میں۔ پھر آپ ایک ہفتے بعد آکر لے جائے گا”۔ اس نے وجدان کی برقراری کو بہت اندر تک محسوس کیا تھا۔
“میرا بار بار حویلی کے چکر لگانا مشکل ہوگا”۔
“ٹھیک ہے میں شرجیل ویراں سے کہہ دوں گی۔ وہ چھوڑ دیں گے”۔
“مم۔مگر صالحہ آپ کی یونیورسٹی اور اسکول کا کیا ہوگا؟”۔
“اوہ ہاں”۔ وہ اس کی بات پر غور کرنے کرنے لگی۔
“دیکھا بلکل”۔ وہ اپنے ہاتھ دوسرا ہاتھ مارتا ہوا بولا۔۔
“نقصان ہو جائے گا آپ کا ورنہ مجھے تھوڑی کوئی مسلئہ ہے! بھلے آپ دو ہفتے رہ لیں حویلی میں”۔ اپنی بےقراری وہ پل بھر میں اڑا گیا تھا۔ صالحہ جوابًا خاموش رہی۔
“وجیہہ کا فون آیا تھا۔ وہ کل آرہی ہے سالے کے ساتھ”۔ اس کے بتانے پر صالحہ جھٹکے سے مڑی۔
“کیا کہا آپ نے؟”۔ اس کی آواز میں تھوڑی سختی تھی۔
“میں نے کہا جیا آرہی ہے”۔ اس نے صالحہ کو دیکھ کر حیرانی سے کندھے اچکائے۔
“نہیں! اس کے بعد کیا کہا آپ نے؟”۔ وہ اسے باقاعدہ گھور رہی تھی۔
“سالے کے ساتھ آئے گی جیا”۔ وہ اب بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
“آپ نے میرے بھائی کو سالا کہا؟”۔ وہ غم سے سرخ ہوگئی۔ وجدان سٹپٹایا۔
“سالا ہی تو ہے وہ میرا! یقینا آپ غلط سمجھی ہیں صالحہ”۔
صالحہ شرمندہ ہوئی۔
“معافی چاہتی ہوں میں ہی شاید غلط سمجھی”۔ وہ جھینپ کر پھر سے اپنے کام میں مشغول ہوگئی اور وہ محض اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کو تکتے ہوئے مسکرانے لگا جس کی موجودگی ہی اس کے لیے کافی تھی۔ وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ کیسے اس کے دل میں بس گئی ہے۔ وہ اظہارِ محبت کرنا چاہتا تھا۔ اسے کیسے بتائے کہ اب اس سے دور نہیں رہا جاتا۔ ناممکن سا محسوس ہورہا تھا خود کو روکنا۔ بس ایک صحیح وقت کا انتظار تھا جو بہت جلد میسر ہونے والا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“میں شہر جارہا ہوں شاہ جی اور چاہتا ہوں آپ ساتھ چلیں”۔ وہ آستین کے بٹن لگارہا تھا۔ شاہ جی نے مڑ کر اسے دیکھا۔
“تم خود اپنی پسند سے لے آؤ شرجیل”۔ وہ اس قدر تھک گئے تھے کہ اب بینچ پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگے۔ صبح سے ان کے پاؤں ان بند جوتے میں قید تھے۔ دونوں پیروں کو گھانس پر رکھتے ہی ٹھنڈ کا احساس پورے جسم میں دوڑا تھا۔
“آپ کا بس چلے تو حویلی سے باہر ہی قدم نہ نکالیں”۔ اس کی شاہ جی کی جانب پشت تھی۔ وہ بےساختہ ہنس پڑے۔
“نہیں دوست! میں ابا سے ملنے جانا چاہتا ہوں”۔ وہ اب اپنی ایڑی کو دبا رہے تھے جو اب دکھ چکی تھی۔
“دوسرے گاؤں؟”۔ وہ پلٹا۔
“ہاں بس کل صبح جاؤں گا اور پھر رات تک لوٹ آؤں گا”۔ مسکراہٹ لبوں ہر ہنوز قائم تھی۔
“ابا کیسے ہیں شاہ جی؟”۔
“بہت بوڑھے ہوگئے ہیں شرجیل۔ میں بس جلدی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں تاکہ باقی زندگی اپنے گاؤں میں گزاروں۔ ابا کی خدمت کا موقع چاہیے اس سے پہلے انہیں کچھ ہوجائے۔ مہینے میں ایک دفعہ مل آتا ہوں ابا سے مگر اس بار دو مہینوں بعد جاؤں گا۔ وہ کل مجھے اپنے پاس دیکھ کر جتنے حیران اور خوش ہوں گے نا شرجیل! میں وہ خوشی لفظوں میں ڈھال کر بیان نہیں کرسکتا”۔ وہ بےچارگی سے نفی میں سر ہلارہے تھے۔
“آپ کو بہت یاد کرتے ہوں گے”۔ وہ مسکرایا۔
“کون نہیں کرتا اپنی اولاد کو یاد؟۔ میں اپنے باپ کے سائے میں باقی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ ان کا بیٹا بڑھاپے کی جانب بڑھ رہا ہے تو سوچو وہ کتنے ضعیف ہوگئے ہوں گے”۔ شرجیل محض مسکرا ہی سکا تھا۔
“تم میرے لیے اپنی پسند کا جو بھی لاؤ گے میں پہن لوں گا شرجیل”۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آئے۔
“شہر سے واپس کب آؤ گے؟”۔
“لوٹنے کا من نہیں مگر لوٹنا تو پڑے گا”۔ اجنبی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلی۔
“رفاہ کہاں ہے؟ واپس نہیں آئی؟”۔
“جن کے لوٹ آنے کی امید نہ ہو ان کا ذکر کر کے زخموں پر نمک نہیں چھڑکا کرتے”۔ اس نے پلٹ کر باغ میں وہ جھولا دیکھا جہاں کسی کے ساتھ بیٹھ کر اس نے ایک رات گزاری تھی۔ شاہ جی جوتے پہننے لگے۔
“جب وہ تم سے کچھ دن دور ریے گی تو وہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تمہارے پاس لوٹ آئے گی”۔
“مجھ میں بھلا ایسی کون سی خوبی ہے جو مجھ سے دور رہ کر وہ مجھے کثرت سے یاد کرنے لگے گی”۔ وہ استہزایہ ہنسا۔
“اس سے بڑی کوئی اور خوبی بھلا کیا ہوسکتی ہے کہ تم شرجیل بٹ ہو”۔ شاہ جی نے اس سے سپاٹ لہجے میں کہا تھا۔ وہ رکے نہیں تھے بلکہ ایک نظر اسے دیکھ کر آگے بڑھ گئے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔