Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۷
وہ کچن میں صبح کے برتن دھو رہی تھی۔ ساتھ ساتھ نگاہیں گھڑی کو بھی اٹھ رہی تھی۔ چار بج چکے تھے اور وجدان ابھی تک سویا ہوا تھا۔ بارش کے باعث سردی اور زیادہ بڑھ چکی تھی۔ اس نے لمبا سا کوٹ پہن رکھا تھا اور مفلر کو گردن میں لپیٹا ہوا تھا۔ میلے کپڑوں کی ٹوکری بھری ہوئی دیکھی تو یاد آیا کہ آج اسے مشین لگانی تھی۔ اتنی سخت سردی میں پانی میں ہاتھ ڈالنا محال تھا مگر وہ کام جمع کرکے انہیں بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے مشین لگائی اور کپڑے دھونے لگی۔ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ آسمان مکمل صاف تھا۔ پرندوں کی چہچہاہٹ اسے مسکرانے پر مجبور کررہی تھی۔ فضا میں سکون طاری تھا۔ اس نے خود سے تہیہ کیا تھا کہ آج وہ تمام میلے کپڑے دھو دے گی۔ گھر کی صفائی وہ صبح ہی کرچکی تھی۔ اتنا بڑا گھر تھا اور آج تو ملازمہ کا آنا بھی موسم کے باعث ناممکن تھا لگ رہا تھا۔ تیز ہوا اسے ساتھ کپکپانے پر مجبور کررہی تھی، مگر وہ خود کو کچھ نہ ہونے کا احساس دلارہی تھی۔ اس نے چہرہ اوپر کرکے اپنے کمرے کی کھڑکی کی جانب دیکھا جو کھلی ہوئی تھی۔ سخت ٹھنڈی ہوا کا جھوکا اس چھو کر گزرا تو اس کے دانت بج اٹھے۔ ہوا تیز تھی اور کمرے کی کھڑکی کھلی ہوئی تھی۔ یقیناً وہ ٹھنڈ سے کانپ رہا ہوگا۔ کہیں وہ بیمار نہ ہوجائے! یہ سوچ کر وہ اوپر بڑھی۔ وہ دنیا سے بےخبر بہت گہری نیند میں تھا۔ ایک ہلکی سی چادر جو اس نے اپنے وجود پر ڈالی ہوئی تھی ٹھنڈ کو روکنے کے لیے ناکافی تھی۔ صالحہ نے بستر سے موٹا لحاف اس کے اوپر ڈال دیا۔ اس کے بال اس کے چہرے پر گرے پڑے تھے۔ وہ ابھی کپڑے دھو کر آئی تھی اس لیے اس کے ہاتھ گیلے تھے۔ وہ وہیں اس کے ہاتھ کی طرف صوفے پر بیٹھ گئی۔ صالحہ نے بڑھ کر اس کے بالوں کو پیچھے کیا اور اس کا ماتھا چھوا جو بخار سے تپ رہا تھا۔ وجدان نے گیلے ہاتھ خود پر محسوس کیے تو ٹھنڈ سے آنکھیں کھول بیٹھا۔ نیند سے لال ہوتی آنکھیں جب اس پڑیں تو وہ حیران رہ گیا۔ وہ اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ صالحہ نے اس کی آنکھ کھلنے پر ہاتھ دور کیا۔ وہ اس وقت وجدان کے بہت قریب بیٹھی تھی۔ وجدان کے لیے یہ سب ایک خواب جیسا تھا۔ اس پر ایک پریشان نگاہ ڈال کر وہ فرسٹ ایڈ باکس لینے بھاگی۔ وہ گم صم سا لیٹا ہوا تھا۔ واپس آنے تک وجدان ویسے ہی ششدر لیٹا تھا۔
“یہ دوا”۔ اس نے ٹیبلٹ اور پانی کا گلاس اس کے آگے رکھا۔ وہ جو کچھ سمجھنے سے قاصر تھا اسے ہی تکتا رہا۔ صالحہ کو محسوس ہوا وہ نیند میں ہے اور اس کا دماغ مکمل سویا ہوا ہے اس لیے وہ بات سمجھ نہیں پارہا۔ اس نے فرسٹ ایڈ باکس میں سے تھرما میٹر نکالا اور وجدان کے گال ہلکے سے تپھتپھائے۔
“یہ تھرما میٹر منہ میں رکھیں آپ کا بخار چیک کرنا ہے”۔ وہ سن لیٹا اب اس کے حکم کی تکمیل کرنے لگا۔ وہ اس سے ناراض تھی یہ بات وہ بھولی بیٹھی تھی۔ اپنی ناراضگی کے پیچھے وہ وجدان کو گنوا نہیں سکتی تھی۔
“تم یہاں کیوں بیٹھی ہو؟۔ تت۔تمہیں تو۔۔۔و میں پپ۔پسند ہی نہیں”۔ وہ نقاہت کے مارے کچھ بھی بولا جارہا تھا۔ صالحہ نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ نیند میں بھی پوری باتیں کررہا تھا۔
“بخار چیک کرنے دیں مجھے”۔ اس نے ایک ڈیڑھ منٹ بعد اس کے منہ سے تھرمامیٹر نکالا اور چیک کرنے لگی۔ ایک سو چار بخار دیکھ کر اس کی بتی گل ہوگئی۔ اس نے تھوک نگل کر وجدان کو دیکھا جو پھر سے آنکھیں موند گیا تھا۔
“دوائی کھائیں۔۔۔ میں ڈاکٹر کو بھی گھر بلاتی ہوں۔ اب معلوم نہیں کہ اس موسم میں ڈاکٹر آتے بھی ہیں کہ نہیں”۔ وہ اتنا کھل کر اس لیے کہہ رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی وہ نیند میں ہے۔
“تم بیویاں بہت تنگ کرتی ہو”۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر ٹوٹے لفظوں میں کہا تھا۔
“پتا نہیں کتنی اور بیویاں ہیں”۔ صالحہ نے طنز کرتے ہوئے سوچا۔
“دوائی کھانی ہے اٹھیں”۔ اس نے اس کے گال تھپتھپائے۔
“دو”۔ وہ بمشکل اٹھ کر بیٹھا تو صالحہ نے اسے دوائی کھلائی۔ پانی حلق میں انڈیل کر وہ پھر سے لیٹ گیا۔ آنکھیں نیند کے باعث فوراً بند ہوگئیں۔ وہ اٹھ کر اس کو لحاف اوڑھانے لگی۔ “میں سوپ بنا کر لاتی ہوں”۔ ایک فکرمند سی نگاہ اس پر ڈال کر اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ وہ ناراض تھی مگر بےحس نہیں۔۔۔ وہ اس کا شوہر تھا۔ اس کے بنا وہ کچھ نہیں تھی وہ یہ جانتی تھی کیونکہ ایک وہی تو اس کی زندگی کا پہلا مرد تھا جس نے اسے سب سے زیادہ عزت دی تھی۔ لگتا تھا مشین اب بند کرنی پڑے گی۔ وجدان بیمار تھا اور وہ اپنی ساری توجہ ابھی اسے دینا چاہتی تھی۔ کچن میں جاکر اس کے لیے سوپ چڑھایا اور باہر آکر مشین بند کرنے لگی۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ سوپ لے کر پھر سے کمرے میں بیٹھی تھی۔ کھلی کھڑکی دیکھ کر اسے خیال آیا کہ وہ کھڑکی بند کرنا بھول گئی ہے۔ اس نے بڑھ کر کھڑکی کو کس کر بند کیا اور پردے لگادیے۔
“وجدان”. اس نے اسے اٹھانے کے لیے آواز لگائی۔ کمرے میں مکمل اندھیرا ہوچکا تھا۔ لائیٹ جلانے سے گریز کرتی ہوئی وہ لیمپ کی جانب آئی اور اسے جلا کر کمرا ہلکا روشن کیا۔ وہ اوندھے منہ لیٹا اب بھی بےخبر سورہا تھا۔ یہ سوچ کر وہ آگے بڑھی کہ سوپ ٹھنڈا ہوجائے گا اور اس کی کمر تھپتھپانے لگی۔ وہ ایک بار پھر کسمسایا مگر اٹھا نہیں۔ صالحہ نے لب کاٹے۔ اب وہ اسے کیسے اٹھائے؟۔ بڑھ کر اس کے چہرے کے قریب آئی اور بالوں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔
“وجدان اٹھیں”۔ وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتے ساتھ ساتھ یہ الفاظ دہرارہی تھی۔ وہ کسمسایا اور نظریں موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔ اسے پھر جی بھر کر حیرت ہوئی اور وہ اٹھ بیٹھا۔ وجدان اب مکمل ہوش میں تھا۔
“جی”۔ حیرت کے مارے الفاظ بمشکل نکلے تھے۔ صالحہ نے نگاہیں جھکالیں۔
“یہ سوپ پی لیں آپ”۔ وہ اٹھ کر دور جا کھڑی ہوئی۔ اس نے اپنے سامنے کانچ کی میز پر سوپ دیکھا اور پھر ایک نظر سامنے صالحہ کو۔۔۔
“یہ آپ نے میرے لیے بنایا ہے؟”۔ اسے نے سوپ کا چمچ ہلا کر چیک کیا۔
“آپ بیمار ہیں”۔
“بخار کب چیک کیا آپ نے میرا؟”۔ وہ ایک آئبرو اچکا کر پوچھ رہا تھا۔
“ابھی تھوڑی دیر پہلے۔ آپ بھرپور نیند میں تھے اس لیے آپ کو یاد نہیں ہوگا”۔ وہ نظریں جھکا کر کہتی کمرے سے نکل گئی۔ اب وجدان اسے کیا بتاتا کہ وہ نیند میں تھا۔۔۔ بے ہوش نہیں جو اس کی موجودگی اور حرکات کا اندازہ نہ لگا پاتا۔ اس کا بال سہلانا اسے بھولا نہ تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
“شرجیل اچھا لڑکا ہے رفاہ!۔ اب تم حویلی چھوڑ چکی ہو۔ کیا اسے اس بات کا علم ہے؟”۔ اماں سامنے بیٹھی تھیں۔ اس کے آنے سے ان کی طبیعت اچھی ہونے لگی تھی۔
“نہیں اماں لیکن اب کی بار جب وہ مجھے لینے آئیں گے تو میں انہیں کہہ دوں گی کہ میں واپس ہی نہیں آنا چاہتی۔ وہ مجھے سمجھتے ہیں اماں وہ مان جائیں گے”۔ وہ آہستگی سے چائے کے گھونٹ بھرتی ہوئی بولی۔
“یہ اچھا ہوگیا۔ شرجیل سمجھدار ہے۔ وہ انکار کبھی نہیں کرے گا جب وہ جان لے گا کہ تمہارے دل میں اس کے لیے کچھ نہیں”۔ فرہاد ابھی لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔ رفاہ کو اچھو لگا تھا۔ پتا نہیں کیوں وہ گڑبڑا سی گئی تھی۔
“کیوں رفاہ؟”۔ اماں نے مڑ کر دیکھا تو وہ تیزی سے اثبات میں سرہلانے لگی۔ اس سب میں جو خاموش تھے وہ خالد صاحب تھے۔ آنکھوں پر عینک، ماتھے پر بل ڈالے وہ رفاہ کو گہری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ جتنی گہری ان کی نظریں تھیں اتنا گہرا وہ کچھ سوچ بھی رہے تھے۔ البتہ فرہاد کے کہنے پر انہوں نے بنھویں اچکا کر اسے بھی دیکھا تھا۔ وہ فالحال اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔ کچھ باتوں کے لیے صحیح وقت درکار ہوتا ہے۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ فریش ہوکر واش روم سے نکلا تو صالحہ کمرے میں نہیں تھی۔ بخار میں کافی حد تک کمی آچکی تھی۔ پرفیوم لگا کر وہ گھر کی چابی اٹھاتا نیچے آگیا۔ اب کی بار وہ گھر کی چابی بھول کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا۔ ارد گرد نظریں دوڑاتا کچن میں داخل ہوا۔
“صالحہ”۔ وہ کچن سمیٹ رہی تھی جب اس نے صالحہ کو مخاطب کیا۔ صالحہ نے مڑ کر اسے دیکھا۔ وہ مکمل تیار اس کے سامنے کھڑا تھا۔ سفید ٹی شرٹ پر بلو جینز اور سفید جوگرز۔۔۔ بلاشبہ ہینڈسم لگ رہا تھا مگر وہ حیران تھی۔
“آپ کہیں جارہے ہیں؟”۔ اگر اس کی طبیعت نہ خراب ہوتی تو وہ یہ سوال اس سے نہیں مر کر بھی نہ کرتی۔
“جی۔۔۔ میں گاڑی گھر نہیں لایا تھا۔ کہیں دور کھڑی کردی تھی۔ اسے میکنک سے ٹھیک کروانا ہے۔ میں جارہا ہوں تو اس لیے اطلاع دینے آیا ہوں”۔ لہجہ قدرے سنجیدہ تھا۔ صالحہ نے نظریں پھریں۔
“تو مجھے کیوں اطلاع دے رہے ہیں”۔ اس نے دھیمی آواز کہا اور گندے برتن سنک میں رکھنے لگی۔ وجدان نے لب بھینچے۔
“آپ بیوی ہیں” اس نے جیسے صالحہ کو یاد کروایا تھا۔
“آپ کو مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ ویسے ہی ہم دونوں کو کچھ بھی ہوجانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا”۔ وہ یہ بات اس سے کہہ رہی تھی جس کے لیے کل وہ اتنی پریشان تھی کہ ڈھیر ساری کالز بھی اسے کرچکی تھی۔
“ہاں مگر جب میں پورا دن نہیں لوٹوں گا تو آپ پریشان ہو کر مجھے ہی کال کریں گی۔ تو پھر میں انتظار کروں گا آپ کی کال کا”۔ وہ اس کے کال لاگز دیکھ چکا تھا۔ مبہم سا مسکرایا جیسے چڑا رہا ہو اور مڑ گیا۔ صالحہ نے ماتھے پر زور سے مارا مگر پھر یہ سوچ کر باہر اس کے پیچھے آئی کہ وہ اگر گھر نہ لوٹا تو؟۔
“آپ کب تک لوٹیں گے؟”۔
وہ ٹہھرا اور پھر لبوں پر مسکراہٹ لیے مڑا۔ صالحہ نے نظریں ادھر ادھر بھٹکائیں۔
“آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟۔ او ہو۔۔۔ اچھا اچھا میں سمجھ گیا۔۔۔ آپ پریشان ہوجائیں گی میری فکر میں تو چلیں میں آپ کو بتادیتا ہوں۔ تقریباً ایک یا دو گھنٹے لگ جائیں گے۔۔۔ اور اگر میری کمی زیادہ محسوس ہورہی ہو تو کال بھی کرسکتی ہیں۔۔۔ میں کچھ سوچ بچار کر اٹھالوں گا”۔ اس کی چڑانے والی عادت صالحہ کے لیے نئی تھی۔ وہ کہتا ہوا باہر نکل گیا۔
“لگتا ہے اس شخص کو بیماری نے پاگل کردیا یے”۔ وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتی کچن میں چلی گئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
نجانے اور کتنے دن گزر گئے اور وہ دل میں اوپر والی منزل میں جانے کے لیے ہمت پیدا کرنے لگا۔ شرجیل کمرے سے نکلا اور اوپر منزل تک جانے والی سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ شام کا وقت تھا اور موسم اب کل سے قدرے بہتر تھا۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی جسے خود تک پہچنے سے روکنے کے لیے وہ اپنی خاکی مخصوص شال پہنا ہوا تھا۔ اوپر کو اٹھتے قدم لرز رہے تھے۔ پوری منزل گرد اور دھول سے اٹی ہوئی تھی۔ وہاں تین سے چار کمرے تھے جو کئی برسوں سے بند تھے۔ جگہ جگہ جالے بنے ہوئے تھے اور منزل اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ سامنے کو ایک کمرا تھا جس کا دروازہ اتنا قدیم تھا کہ زور سے کھولنے پر محسوس ہوتا تھا کہ ابھی قدموں میں ریزہ ریزہ ہوجائے گا۔ اور وہ ہی کمرا افشاں کا تھا۔ اندھیر نگری میں کی باسی تھیں۔ اسے یقین تھا وہ انہیں نیچے لانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر “ہونہہ” کی آواز آئی۔ تکلیف سے آنکھیں میچیں۔ کتنا عرصہ ہوگیا تھا ان کا دیدار نہیں کیا تھا۔ پتا نہیں اب کیسی ہوں گی۔۔۔ اس نے ہینڈل گھما کر دروازہ پیچھے کو دکھیلا۔ ایک آواز کے ساتھ وہ کھلتا چلا گیا۔ کمرا اندھیرے میں غرق تھا۔ افشاں کی اس کی طرف پیٹھ تھی۔ اس نے بڑھ کر بتی جلائی تو افشاں نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ کیونکہ کوئی کمرے میں داخل ہوکر بتی نہیں جلایا کرتا تھا حتٰی کے صالحہ بھی نہیں۔۔۔ نظریں شرجیل پر رکیں تو جیسے ٹہھر سی گئیں۔ وہ اٹھ کر آہستہ اور بے یقینی سے چلتے ہوئے اس کی جانب آئی۔ شرجیل خود بھی اپنی جگہ سے ہل نہ پایا۔ لرزاہٹ ہی ایسی تھی!۔ وہ نہیں جانتا وہ کب تک خود کو سنبھالے کھڑا رہے گا۔ افشاں اس کے قریب آرہی تھی تاکہ اسے چھو کر محسوس کرسکے کہ یہ اس کا وہم نہیں ہے۔ شرجیل کی آنکھیں لرزنے لگیں اور ضبط کا دامن چھوٹنے لگا تھا۔ افشاں نے اس کے گالوں پر ہاتھ پھیرا تو شرجیل سے برداشت نہ ہو پایا اور وہ افشاں کے گلے لگا گیا۔ آنسو تھے کہ بےربط بہنے لگے۔ ناچاہتے ہوئے بھی وہ اپنی جان سے پیاری پھپھو کے سامنے خود کو روک نہ پایا تھا۔ آنکھیں سرخ ہوچکی تھی اور وہ ان کے کندھے پر سر رکھے سسکیوں سے رورہا تھا۔ افشاں گیلی آنکھوں سے اس کا تیزی سے ماتھا چوم رہی تھی تو کبھی ہاتھ۔ وہ اب بھی بےیقین تھی۔ وہ اس قدر لمبا ہوگیا تھا کہ اگر وہ بول سکتی تو اسے “شرجیل بچہ” شرم کہتے ہوئے بھی شرم آتی۔
انہوں نے اسے خود سے دور کیا اور اسے آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔ شرجیل نے ان کی حیرانی اور بے یقینی دیکھی تو ہچکیوں میں روانی آگئی۔ یہ سب اس کی ہی غلطی تھی جو اتنے سال تک وہ افشاں سے ملنے تک بھی نہیں آیا۔ بےوجہ قطع تعلقی تھی۔
“پھپھو مجھے بھول گئیں ہیں”۔ وہ جیسے ان سے شکوہ کررہا تھا مگر افشاں تیزی سے نفی میں سرہلارہی تھی۔ اس نے پھر سے اسے اپنے گلے لگالیا۔ اس کے بالوں کو وہ بہت محبت اور نرمی سے سہلارہی تھیں۔۔۔ ساتھ ساتھ سر نفی میں بھی ہل رہا تھا۔ دل کے درد میں روتے ساتھ وہ کمی محسوس کررہے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔
“میں ایک دو دنوں میں شہر جارہا ہوں”۔ وہ افشاں کی گود میں سر رکھے لیٹا ہوا تھا اور وہ اس کے بال سہلارہی تھی۔ وہ الجھی تو شرجیل دیکھ کر مسکرایا۔
“شاہ جی کی شادی کے کپڑے لینے ہیں”۔ وہ کہہ کر خاموش ہوا تھا۔ افشاں کے چہرے کے تاثرات بدلے۔ وہ جان گئی وہ اس کی بات کرنے آیا ہے۔
“آپ کیا کہتی ہیں؟۔ کونسا رنگ لاؤں؟۔ سفید کرتا شلوار؟ یا پھر گہرا نیلا کوٹ؟”۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ افشاں کو ذرا سا بھی اچھا نہیں لگا کہ اس کا بھتیجا اپنی پھپھو کی شادی کی بات کررہا ہے۔
“آپ کو کیوں غصہ آرہا ہے؟۔ او اچھا جی آپ یقیناً یہ سمجھ رہی ہیں کہ میں آپ کی اور شاہ جی کی شادی کی بات کررہا ہوں۔ ایسا نہیں ہے پھپھو۔۔ اڑتی اڑتی خبریں پہنچی تھیں کہ آپ نے شادی سے انکار کردیا ہے۔ بشارت صاحب بہت تکلیف میں چلے گئے تھے، مگر اب وہ راضی ہیں کیونکہ آج نہیں تو کل کسی سے تو شادی کرنی ہے نا؟۔ بس تو پھر کیا۔۔” اس کی یہ منگھڑت کہانی اگر شاہ جی سن لیتے تو اسی درخت پر اسے واپس اچھال دیتے جس پر ایک آم چرانے کے لیے اسے اچھالا کرتے تھے۔
“شاہ جی کسی اور سے شادی کرنے کے لیے مان گئے۔۔۔ اب بس۔۔ تیاری شروع”۔ افشاں کا دل حلق میں آگیا تھا۔ وہ زرد ہوتے چہرے سے ساکت بیٹھی تھی۔
“ان کی طرف سے خاص درخواست آئی ہے کہ آپ ان کی شادی میں شرکت کریں”۔
افشاں کے لب لرزنے لگے اور آنکھیں پانی بہانے لگیں وہ اٹھ کر چلتی ہوئی کھڑکی تک آئی۔ شرجیل نے اس کی پشت پر لہرتے لمبے بالوں کو دیکھا جو بےحد حسین تھے۔ وہ اب بھی اتنی ہی نازک تھی جتنی پہلے ہوا کرتی تھیں۔ کھڑکی سے باہر کس کو تلاش کررہی تھی وہ جانتا تھا۔
“آپ رورہی ہیں؟”۔ اس کے حیرانی سے پوچھنے پر افشاں کے آنسو آنکھوں سے تیزی سے نکلنے لگے۔ وہ ساتھ ساتھ انگلیوں سے آنسو صاف کرنے لگی۔ سر نفی میں ہل رہا تھا۔
“آپ نے انکار کیوں کیا جبکہ آپ انہیں چاہتی ہیں؟”۔ اس کے سوال پر افشاں نے تیزی سے گردن موڑی۔ آنکھیں حیرت سے پھٹیں ہوئی تھیں۔ وہ بےزبان کیسے کہے کہ اس نے انکار نہیں کیا۔۔۔ بلکہ اس نے تو کوئی جواب ہی نہیں دیا۔۔۔ وہ سوچنا چاہتی تھی اور آج اسے اپنا کیا گیا فیصلہ سنانا تھا۔۔۔ وہ فیصلہ جسے سن کر شاہ جی ساری رات اللہ کے حضور سجدہ کرکے شکر ادا کرنے والے تھے۔ مگر یہ کیا؟۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرہ سمانے لگا۔ شرجیل کی مسکراہٹ یکدم سکڑی۔ اس سے پہلے وہ چکرا کر لڑھکتی وہ بھاگ کر اس کی جانب آیا اور کندھوں سے پکڑ کر گلے سے لگایا۔
“پھپھو میں مذاق کررہا تھا۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ کم از کم شاہ جی ایسا نہیں کرسکتے”۔
افشاں کے حواس بحال ہوئے مگر آنسو نہ رک سکے۔
“آپ انہیں چاہتی ہیں تو نکاح کے لیے ہاں کیوں نہیں کرتیں؟ پھپھو میں چاہتا ہوں آپ شاہ جی سے شادی کرلیں۔ وہ محبت کرتے ہیں آپ سے”۔
افشاں سسکنے لگی۔
“کیا جواب ہے آپ کا؟ مجھے بتائیں خدارا۔۔۔ کیونکہ آپ کو راضی کیے بغیر میں نیچے نہیں جاؤں گا”۔
وہ دور ہو کر بستر پر بیٹھ گئی۔
“پھپھو بتائیں نا”۔ شرجیل زمین پر ان کے گھٹنے پکڑتے ہوئے بولا۔ وہ سسک رہی تھی اور شرجیل اس کی آنکھوں میں موجود آنسو انگلیوں کے پوروں سے چن رہا تھا۔
“کچھ ظالم لوگوں کی وجہ سے وہ دیا اس وقت تو بجھ گیا تھا، مگر اب کی بار دیا بجھانے والی اگر کوئی اور ہوئی تو وہ آپ ہوں گی۔ فیصلہ آپ کا ہے”۔
افشاں نے سن کر تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔
شرجیل ساکت ہوا۔
“آپ۔۔۔ آپ راضی ہیں؟”۔ وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا.
افشاں نے نظریں نیچے جھکا کر ہچکیاں روکتے ہوئے اثبات میں سرہلایا۔ اتنی عمر رو کر گزاردی مگر اب نہیں۔۔۔ شعجیل خوشی کے مارے چیخ اٹھا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ باغ میں پانی کا کنستر لیے پودوں کو پانی دینے میں مصروف تھے جب انہوں نے اوپری منزل سے آنے والی شرجیل کی چیخ سنی۔ انہوں نے جھٹکے سے گردن موڑ کر آنی والی چیخ کی طرف رخ کیا۔ وہ افشاں کا کمرہ تھا۔ آنکھیں اندیشے سے پھیلیں اور وہ بھاگتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئے۔ اندر موجود لوگ بھی ہڑبڑا کر زینے چڑھ رہے تھے۔ اتنا چاہنے کے باوجود وہ پھر بھی انہیں دیکھنے اوپر نہیں جاسکتے تھے۔ اوپر بڑھتے لوگوں کو دیکھا تو کچھ تسلی ہوئی۔ گہری سانس ہوا کے حوالے کرتے وہ باغ کی بینچ پر بیٹھ گئے۔ تیز ہوا کے باعث زمین پر موجود زرد پتے اڑرہے تھے۔ نگاہیں ان کی کھڑکی پر جا رکیں۔ نجانے شرجیل کیا دیکھ کر چیخا تھا۔ الجھنوں کا ذہنوں پر ڈیرا تھا۔ امیدیں ٹوٹ رہی تھیں۔ خدشے لاحق ہورہے تھے مگر وہ صرف لمبی سانس لے کر خود کو تھپتھپارہے تھے۔ وہ کچھ کہنا چاہتے تھے۔ کوئی ایسا کبوتر ہو جو ان کا خط پہنچادے۔ اس موم کی گڑیا کو یہ بتادے کہ وہ شخص خدا سے دعا کررہا ہے کہ اس کی چاہت کا مجسمہ اسے نہ دھتکارے کہ نجانے سانسوں کی بھار کب تک ہو۔۔۔ ایسے میں شرجیل باہر آیا تو نگاہیں اس کی سمت گھومیں۔ لب خاموش تو اب بھی تھے۔ جانے کیا خبر لایا ہوگا یہ شخص۔۔۔
“مبارک ہو”۔ وہ تیز قدموں سے چلتا ان کے قریب آیا اور گلے سے لگ گیا۔ شاہ جی کی پلکیں لرزیں۔
“اب شادی کی تیاری شروع کریں۔ ہم آنے والے جمعے کو نکاح کی تقریب رکھنے لگے ہیں”۔ وہ ان کے گلے سے لگا تھا اور شاہ جی اس کی باتوں کے معنی سمجھنے میں مصروف ہوگئے تھے۔ کہیں اس کا مطلب وہ تو نہیں جو وہ سمجھ رہے ہیں۔ وہ بے یقین نہیں تھے۔۔۔ یہ بات ہر گز ایسی نہیں تھی جسے سن کر انہیں حیرت ہو یا یقین کرنا پڑے۔ انہیں علم تھا یہی ہونا ہے۔۔۔ افشاں انکار کر ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔ بھلا کیوں کرتی؟۔ محبت کی تھی اس نے۔۔۔ وفا نبھائی تھی۔۔۔ یہ اتنے برس اندھیرے میں خود کو اس کے لیے گم کر لینا جھوٹ کیسے ہوسکتا تھا؟۔ ثابت ہوجانے کے باوجود بھی آج ثابت ہوگیا تھا کہ دل سے کسی کے لیے محبت کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔ اور جو ختم ہوجاتی ہے وہ محبت ہی نہیں ہوتی۔ وہ صرف دل لگی ہوتی ہے۔۔۔
آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔
“مجھے بہت خوشی ہے آپ کے لیے دوست”۔ وہ ان کی کمر تھپتھپارہا تھا۔
“مجھے یقین نہیں آرہا کہ میری وفا رائیگا نہیں گئی۔۔۔ حویلی میں سارا نظام دھرم بھرم ہوگیا تمہاری بدولت۔۔۔ اگر مجھے خبر ہوتی کہ سب تمہاری ہی بدولت ہوگا تو میں تمہارے بچپن میں کبھی تمہیں پیڑ پر نہ اچھالتا۔۔۔ الله کی قسم سینے سے لگا کر پالتا”۔ وہ کہہ نم آنکھوں سے رہے تھے مگر بات ہی ایسی تھی کہ شرجیل کا قہقہہ نکل گیا تھا۔
“وہ بھی ایک دور تھا شاہ جی۔ خیر میں تو بتا رہا تھا کہ وہ کچھ ہی وقت میں نیچے بھی آئیں گی۔ داجی کو دیکھیں گی اور زندگی سے تمام وحشت نکالیں گی۔ مجھ سے وعدہ کیا ہے انہوں نے”۔ وہ مسکرارہا تھا۔ شاہ جی نم آنکھوں میں مسکرائے۔
“میں جارہا ہوں”۔ وہ کوارٹر کی طرف جانے لگے۔ شرجیل حیران ہوا۔
“کہاں شاہ جی؟”۔
“اللہ کا شکر ادا کرنے”۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دیواروں کے اوٹ غائب ہوگئے۔ شرجیل کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ نگاہیں آسمان کی جانب موڑیں تو کسی کا خیال آگیا۔ مسکراہٹ سکڑ گئی اور لب بھینچ لیے گئے۔ نجانے کتنے دن ہوگئے تھے کہ رفاہ نے پلٹ کر پوچھا بھی نہیں تھا۔۔۔ اس نے جیب سے موبائل نکالا اور کال ملانے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ کچن میں کھڑی صائمہ کے لیے چائے بنا رہی تھی۔
“چائے بنا رہی ہو؟۔ میرے لیے بھی بنادو رفاہ بچے”۔ فرہار مسکراتا ہوا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہوا بولا۔ وہ پھیکا سا مسکرائی۔
“جی بھائی”۔ اس نے ایک کپ پانی اور ڈال دیا۔
“مجھے بہت خوشی ہے تم واپس آگئی ہو رفاہ”۔ وہ سلیپ پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا۔ رفاہ نے یک ٹک بھائی کو دیکھا۔ اس نے گہری سانس فضا میں خارج کی۔ دل نے سوچا کہہ دے کہ وہاں تک پہنچایا بھی آپ نے تھا بھائی۔
“تمہاری غیر موجودگی میں ہم نے تمہیں بہت مس کیا”۔ وہ بتا رہا تھا۔ خاموشی کا دورانیہ بھی آیا۔
“آپ نے قتل کیوں کیا تھا بھائی؟”۔ وہ کچھ دیر توقف کے بعد پوچھ رہی تھی۔ صحیح معنوں میں وہ فرہاد کو خاموش کروا گئی تھی۔
“زمینوں کے مسائل بہت بڑھ گئے تھے رفاہ۔ روز روز کے جھگڑے۔۔۔ میری نیت اسے مارنے کی نہیں تھی، مگر اس نے ہمارے کیے گئے وار کا جواب دیا تو ہم۔۔۔ خود کو روک نہ پائے۔ مگر میں وعدہ کرتا ہوں رفاہ بچے۔ ایسا اب کبھی نہیں ہوگا۔ تمہیں میری سزا اب نہیں بھگتنی پڑے گی۔ شرجیل سے طلاق لے لو اور ہھر ہم ویسے ہی رہیں گے جیسے پہلے رہا کرتے تھے۔ تمہاری ابھی شادی کی عمر بھی نہیں۔ نجانے کیسے سنبھال رہی ہوگی تم سب۔۔۔ اور میں ان حویلی والوں پر اعتبار بھی نہیں کرسکتا۔ نجانے کب حالات بدلیں اور وہ تمہاری زندگی جہنم بنادیں”۔ وہ اسے امید سے دیکھ رہا تھا۔ رفاہ نے اسے دیکھا اور چائے آگے رکھ کر بنا کچھ کہتی مڑگئی۔ اماں کے آگے ایک کپ رکھ کر وہ ابا کو چائے دینے لاؤنج میں چلی آئی۔
“ابا چائے”۔ اس نے ادب سے جھک کر چائے پیش کی تو وہ مسکرادیے۔
“جیتی رہ”۔ اس کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ پھیکا سا مسکرائی اور پلٹنے لگی۔
“رفاہ۔۔۔”
“جی ابا؟”۔ وہ ڈوپٹہ سر پر ٹکاتی مڑی۔
“تم سے کچھ کرنی ہے”۔ انہوں نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی۔ دوسرے کمرے میں رکھا اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے رخ پھیر کر بجتے موبائل کی سمت دیکھا اور پھر ابا کو۔
“جی ابا”۔ بجتے موبائل کو وہ پل بھر میں نظرانداز کرگئی تھی۔ خالد صاحب لمحہ بھر کو ٹہھرے۔۔۔
“دیکھ آؤ کس کا فون ہے۔ ہوسکتا ہے کوئی ضروری کال ہو”۔ انہوں نے مسکرا کر اپنا اخبار پھر سے اٹھالیا تو وہ ہلکا سا مسکراتی کمرے کی جانب مڑگئی۔ موبائل پر نظر آتا شرجیل کا نام اس کے دل کو ہولا گیا۔ اب وہ اس سے کیسے بات کرے گی؟۔
“اسلام علیکم”۔ اس نے کال اٹھا کر دھیمی آواز میں سلام کیا۔
“وعلیکم سلام۔ کیسی ہو؟”۔ اس کے آواز میں آج خوشی تھی۔ رفاہ کو حیرت ہوئی۔
“ٹھیک”۔ اس نے مختصراً بتایا۔
“لگتا ہے محترمہ آپ حویلی اور حویلی کے مکینوں کو گھر پہنچتے ہی بھول گئی ہیں”۔ وہ خوش باش سا اچھے موڈ میں لگ رہا تھا۔ رفاہ نے خاموش رہنا ہی مناسب سمجھا۔
“تمہیں معلوم ہے رفاہ آج میں بہت خوش ہوں”۔
رفاہ اب بھی خاموش رہی۔
“میں خوش کیوں ہوں یہ بات میں تمہیں ابھی نہیں بتاؤں گا۔ میں آرہا ہوں تمہیں لینے۔ تم تیار ہوجاؤ۔ میں خوش کیوں ہوں پھر بتاؤں گا تمہیں”۔ وہ کال رکھنے لگا تھا کہ جلدی سے بولنے لگی۔
“شرجیل مگر میں واپس نہیں آنا چاہتی”۔ وہ جلدی سے بولی تاکہ اسے روک سکے۔ وہ گویا تھم گیا۔
“کیا مطلب تمہارا؟”۔ لہجہ عجیب تھا۔
“مطلب یہ کہ اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے شرجیل۔۔۔ اور۔۔۔ اور اب داجی کی بیماری کے بعد داجی کے اصول بھی نہیں رہے۔۔۔ تو میں چاہتی ہوں بس اپنے گھر۔۔۔ مطلب ہمیشہ کے لیے اپنے ہی گھر رہوں۔۔۔ حویلی میں رہنا بہت مشکل ہے میرے لیے۔۔۔ مجھے محسوس ہوتا کہ حویلی میں رہوں گی تو مکمل قید کی زندگی گزاروں گی شرجیل۔۔۔ ہم دونوں کے بیچ بھی ایسا کچھ نہیں ہے اس لیے میں چاہتی ہوں کہ آپ مجھے طلا۔۔۔” شرجیل نے اس کی کال تکلیف سے کاٹی۔ وہ ایسا کیسے کرسکتی ہے؟۔ اسے یہ حویلی قید لگتی ہے یا میرے ساتھ جینا؟۔ وہ طط۔طلا۔۔۔ وہ آگے سوچ بھی نہیں پارہا تھا۔ سب کی زندگیوں میں شمع جلا کر آج اس کی زندگی میں اندھیرا چھا گیا تھا۔ وہ باغ کی بینچ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھا۔ سن دماغ اور الجھے خیالات۔ کیا ماجرا تھا؟۔ کیا سمجھے کیا نہیں؟۔ دکھ کے تاثرات جیسے اپنے چہرے پر عیاں کرے؟۔ وہ اس کی باتوں کو پھر سے سوچنا چاہتا تھا۔ جس نے اسے آزادی دلائی وہ اسے ہی قید سمجھ بیٹھی۔۔۔ وہ اسے ساکن کر گئی تھی۔
“میری زندگی میں شمع کون جلائے گا؟”۔ نگاہیں ساکت، بھڑکتی آگ اور کپکپاتے الفاظ۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
“وہ مہمان نہیں آئے جس کا ذکر آپ کررہی تھیں؟”۔ اس نے نیچے کے زینے اترتی ثریا کو روک کر پوچھا۔
“آپ کو اتنی کیوں فکر؟”۔ اس نے مسکرا کر بظاہر حیرت سے پوچھا۔
“وہ لوگ کون ہیں؟”۔ وہ آخری حد تک سنجیدہ تھا۔
“وہ لوگ جو بھی ہیں جلد معلوم لگ جائے گا آپ کو”۔ ثریا کو اس قدر خوش دیکھ شاہ زل کے اندر آگ بھڑکنے لگی۔
“وہ لوگ کب آنے والے ہیں اب؟”۔
“وہ لوگ ابھی فوراً نہیں آئیں گے کیونکہ آج کل موسم بہت خراب ہے گاؤں کا اس لیے فون پر ہی تمام بات ہوگئی ہے”۔
“کیا بات؟”۔
“یہ کہ وہ بہت جلد منگنی کرنے آرہے ہیں”۔
“کک۔کون؟”۔
“دلہے والے اور کون”۔ اس نے ماتھے پر ہاتھ مار کر بتایا۔ شاہ زل بھڑک کر اس کی جانب بڑھا۔
“میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ثریا محترمہ”۔ وہ دانت پیس کر اسے خبردار کر رہا تھا۔ ثریا نے بنھویں اچکا کر اسے دیکھا۔
“کیوں بھئی؟ کیا تماشہ لگوانے کا ارادہ ہے؟”۔
“آگ لگادوں گا حویلی کو اگر ایسا کچھ ہوا تو”۔ وہ اس کی بات کی پرواہ نہ کرتا ہوا اپنی بات کررہا تھا۔
“او ہو۔۔۔ حویلی میں پیٹرول چھڑکتے چھڑکتے کتنی راتیں گزر جائیں گی مگر حویلی کی دیواریں ختم نہیں ہوں گی”۔ وہ بھی اب سنجیدہ تھی۔
“یہ منگنی نہیں ہوگی ثریا”۔ وہ غرایا تھا۔
“کیوں؟”۔
“کیونکہ۔۔۔ کیونکہ میں جسے چاہتا ہوں اسے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا”۔ اس نے چیخ کر ریلنگ پر ہاتھ مار کر اپنا غصہ نکالنا چاہا۔ ثریا نے اس کے غصے والے روپ کو دیکھا۔
“اگر شجر کو پسند کرتے تھے تو پہلے کیوں اظہار نہیں کیا؟”۔ وہ سب جانتے ہوئے بھی انجان بن رہی تھی۔ شاہ زل ٹھٹھکا۔
“شجر؟”۔ الجھے ہوئے تاثرات تھے۔
“ہاں شجر۔۔۔ اسی کی تو منگنی ہورہی ہے”۔
“کیا؟”۔ وہ حیرت سے چیخا۔
“تو؟ آپ کیا سمجھے؟”۔
“میں۔۔۔ وہ سمجھا کہ۔۔۔” وہ ہکلانے لگا۔
“جی کیا سمجھے پھر آپ؟”۔ ثریا نے ریلنگ پر کہنی ٹکائی۔
“مجھے لگا منگنی آپ کی ہورہی یے”۔ وہ سر کجھاتا ہوا ہنستے ہوئے بولا۔ ثریا سرخ ہوئی۔
“مجھے کام ہے”۔ وہ بہانہ کرتی اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ شاہ زل اپنے آپ کو کوستا زینے چڑھتا چلا گیا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ آفس سے تھکا ہارا گھر میں داخل ہوا تھا۔ آج دن واقعی تھکا دینے والا تھا۔ جی چاہا روز کی طرح صالحہ کو تلاش کرے مگر یاد آیا وہ اس سے خفا ہے۔ لاؤنج میں بیٹھ کر اپنے جوتے اتار رہا تھا جب صالحہ نے آکر اس کے سامنے پانی سے بھرا گلاس رکھا۔
“اسلام علیکم”۔ تاثرات سنجیدہ تھے۔ وجدان لمحہ بھر کو اس کے چہرے کو تکا۔
“وعلیکم سلام۔ یونیورسٹی سے بخیر و عافیت آگئی تھیں؟”۔
“جی”۔ اس نے مختصراً جواب دیا۔
“مگر آپ نے آج میسج نہیں کیا تھا کہ آپ یونیورسٹی سے گھر کے لیے نکل گئی ہیں”۔
“جی موبائل کی بیٹری ختم ہوگئی تھی”۔ وہ کہتے ساتھ اسے کوئی اور سوال کا موقع دیے مگر وہاں سے چلی گئی۔ وہ گہری سانس لیتا اس کے پشت تکتا جوتے اٹھا کر کمرے میں چلا آیا۔ بستر پر اس کی فائلز بکھری پڑیں تھیں۔ وہ ابھی کچھ سوچ ہی رہا تھا جب صالحہ کمرے میں آئی اور اپنا سامان سمیٹنے لگی۔ ایک گہری نگاہ اس پر ڈالتا وہ وارڈ روب سے کپڑے نکالتا واشروم کی طرف بڑھ گیا۔ صالحہ نے مڑ کر بند ہوتے دروازے کو دیکھا اور پھر بستر پر بیٹھ گئی۔ کیا دوری تھی یہ بھی۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
“رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ طلعت نے نیند میں کروٹ لیا تو بستر پر ہلچل محسوس کی۔ آنکھیں کھول کر پلٹ کر دیکھا تاکہ برابر میں دیکھ سکیں۔
“آپ کہاں جارہے ہیں کبیر؟”۔ کبیر نے انہیں اٹھنے پر مجبور کردیا تھا۔ وہ بستر سے اٹھ رہے تھے۔
“نیند نہیں آرہی طلعت”۔ وہ چپل پاؤں میں پہننے لگے۔
“کہاں جارہے ہیں؟”۔ ان پر نیند حاوی ہورہی تھی۔
“معلوم نہیں”۔ وہ گہری سانس بھرتے ہوئے بولے۔ “تم سوجاؤ”۔
“میں کیسے سوسکتی ہوں”۔ وہ سائیڈ لیمپ جلاتے ہوئے بولیں۔
“تم جانتی ہو نا آنے والے جمعے کو افشاں کا نکاح ہے؟”۔
“جی۔۔۔” وہ الجھ گئیں۔ یہ بات انہوں نے ہی تو طلعت کو بتائی تھی۔۔۔
“میں جارہا ہوں اوپر”۔ وہ اطلاع دے رہے تھے۔
“اوپر کہاں؟”۔ رات کے اس پہر وہ ان کی باتیں سمجھنے سے قاصر تھیں۔
“کبیر کی لاڈلی بہن کے پاس”۔ وہ کہتے ہوئے قدم کمرے سے باہر کی جانب بڑھا گئے۔ طلعت ساکت رہ گئیں۔ بےیقینی کی لہر جیسے جسم میں دوڑرہی تھی۔ انہیں اپنی بہن یاد تھی اتنے برسوں میں۔۔۔ اس سے بڑی اور کیا بات ہوسکتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد وہ خود بھی سو نہ سکیں۔ گھڑی کی جانب نگاہ اٹھائی تو چار بجتے دیکھا۔ آذان میں زیادہ وقت نہیں تھا۔ وہ منہ پر پانی مارتی باہر آئیں تو شبیر صاحب کو ان کے کمرے سے باہر نکلتے دیکھا۔
“آپ جاگی ہوئی ہیں بھابھی؟”۔ وہ ایک دم فریش کھڑے تھے۔
“ہاں وہ کبیر اوپر گئے ہیں تو سوچا ہے ان کے آنے کے بعد ہی نماز پڑھ کر سوجاؤں گی”۔ انہوں نے مسکرا کر بتایا۔ شبیر صاحب کے حیرانی سے ماتھے پر بل آئے۔
“اوپر کہاں؟”۔
“اپنی بہن کے پاس گئے ہیں۔۔۔ بہت ہمت جمع کرکے”۔ آنکھیں نم ہوگئی تھیں مسکرا کر کہتے کہتے۔۔۔
“بہن تو م۔میری بھی ہے”۔ وہ ہکلا کر بولے کہ ہمت کہاں سے لائیں؟۔
“تو آپ بھی جائیں۔ وہ خوشی سے پاگل نہ ہوئی تو میرا نام بدل دے گا بھائی صاحب”۔ وہ جیسے گارنٹی دیتے ہوئے بول رہی تھیں۔ شبیر نے لب بھینچے۔
“یہ اچھا ہوگا کہ اگر میں اسے نیچے لے آنے میں کامیاب ہوگیا۔ مجھے علم وہ میری بات نہیں ٹالے گی۔ میں جارہا ہوں۔ آپ باورچی سے کہیں کہ حویلی والوں کے لیے چائے بنائے۔ گھر کے تمام افراد کو اٹھادیں۔ ہم آتے ہیں”۔ وہ تاکید کرکے زینے کی جانب بڑھنے لگے۔
“اللہ تیرا شکر”۔ وہ پھولے نہ سمائی تھیں اور شبیر اور سمیعہ تائی کے کمرے مکی طرف بڑھی تھیں تاکہ سمیعہ کو اٹھا سکیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
“فشا”۔ یہ آواز اور یہ نام وہ کتنی میل دور سے بھی پہچان سکتی تھی۔ کہنے والے کی آنکھوں میں سجدے میں گری بہن کو دیکھ کر آنسو آگئے۔ افشاں نے جھٹکے سے سر اٹھایا۔ آنکھیں حیرت سے پھٹ رہی تھیں اور رنگت سفید لٹھے کی مانند ہوگئی تھی۔ وہ جن کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی یقیناً یہ خواب تھا۔۔۔ کھلی آنکھوں کا خواب۔۔۔۔
“فشا میری بچہ”۔ وہ اس کی جانب بڑھے تھے جو ساکت نظریں کیے جائے نماز سے کھڑی ہورہی تھی۔ کیوں ہیں درمیان میں یہ ناقابلِ یقین لمحے؟۔
انہوں نے اسے گلے سے لگایا اور پھوٹ پھوٹ کر رودیے۔ وہ لرز اٹھی۔
“کچھ تو بولو فشا”۔ انہوں نے اس کا چہرا اپنے ہاتھوں میں لیا۔ وہ پوری کھلی آنکھوں سے انہیں دیکھنے لگی۔ یہ کیسی محبت تھی جو وہ یاد نہ رکھ پائے کہ وہ بےزبان ہے؟۔
اس کو یوں خود کو تکتے پایا تو وہ اپنی کی گئی بات پر غور کرنے لگے۔ اچانک یاد آیا تو جیسے ساکت رہ گئے۔۔۔ وہ قیامت کا دن کیسے بھول سکتے تھے۔
“مجھے معاف کردو فشاں”۔ ہچکیاں بات مکمل نہیں ہونے دے رہی تھیں۔ افشاں نے ان کے جڑے ہاتھوں کو دیکھا تو کانپ کر ان کے ہاتھ پکڑ لیے اور تیزی سے نفی میں سرہلانے لگی۔
“کاش میں ہی تمہارا ویر ہونے کا ثبوت دے دیتا فشا۔۔۔ میری ہی غلطی تھی۔۔ میں ہی نہ اٹھا سکا ظلم کے خلاف آواز۔ میری بہن تڑپتی رہی اور میں ایک بےغیرت مرد کی طرح اپنی بہن کو تڑپتا ہوا دیکھتا رہا۔ میں چپ کیوں رہا فشا؟؟؟۔ سب میری غلطی ہے”۔ ان کے جڑے ہوئے ہاتھ افشاں کے ہاتھوں میں تھے اور وہ اب بھی تیزی سے نفی میں سر ہلارہی تھی۔ درد میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ ٹھنڈ اس قدر تھی کہ سانس خارج کرتے ہوئے دھواں سا اٹھتا محسوس ہوتا تھا۔
“مجھے معاف کردو فشا”۔ ایک کرب کی سی کیفیت سے وہ دونوں ہی دوچار تھے۔
“تمہیں ابا نے بےزبان کردیا اور میں کچھ کر بھی نہ پایا۔۔۔ سب کا ذمہ دار میں ہوں فشا۔ برسوں پہلے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ وقت بھی آئے گا کہ میری جان میری فشاں اپنے بھائیوں کی محبت سے دور ہوجائے گی”۔
“بب۔ب۔ب”۔ وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر زبان کی تکلیف اس قدر گہری تھی کہ الفاظ نکلنے سے قاصر تھے۔ وہ اس کی نازک اور سریلی آواز سننے کو ترس گئے تھے۔
“تمہاری آدھی زندگی برباد ہوگئی یقیناً اس میں میرا بھی ہاتھ تھا۔ مجھے بہت پہلے ہی آواز اٹھا لینی چاہیے تھی فشا۔۔ میں نے تمہیں بلکل صالحہ کی طرح چاہا ہے۔۔۔ یا پھر صالحہ کو تمہاری طرح چاہا ہے۔ تمہیں بہن نہیں اپنی دھی سمجھا تھا اور دیکھو مجھ جیسے ایک بزدل مرد کو۔۔۔ جو شخص اپنی بہن کے لیے آواز نہ اٹھا سکا اس نے اپنی بیٹی کے لیے بھی آواز نہ اٹھائی۔۔۔ اللہ کا کرم ہے فشا کہ وہ خوش ہے۔۔ تمہیں معلوم ہے فشا۔۔ تمہاری بھتیجی جب بھی کال کرتی ہے تو صرف مسکراتی رہتی ہے۔ زندگی سے بھرپور رنگ اس کے چہرے پر موجود ہوتے ہیں۔ دو دفعہ کال آئی تھی میرے پاس۔۔۔ مگر میں وہ چہرہ کہاں سے لاؤں جس سے اپنی بیٹی کا سامنا کرسکوں؟۔ کیا کروں میں ایسا کہ وہ جب بھی مجھ سے بات کرے اس کے دل میں یہ بات نہ آئے کہ جو بھی ہو مگر اس کے ابا نے اس کے حق میں آواز نہیں اٹھائی تھی”۔ وہ بلک بلک کر رورہے تھے۔
“تمہیں محسوس ہوتا ہوگا میں تمہیں بھول گیا۔۔۔ مگر کوئی اپنے خون کو بھی بھولتا ہے بھلا؟۔ اور تم تو۔۔۔ تم تو سب میں انوکھی تھی۔۔۔ انمول تھی۔۔۔ اس دنیا میں تم ایک ہی تو تھی جو ہمارے دکھی چہروں پر بہار لے آتی تھی۔۔ میں تمہیں کبھی بھی نہیں بھولا۔۔ کوئی بھی نہیں بھولا تمہیں فشا۔ جب جب میں نے صالحہ کو دیکھا مجھے تم نظر آئی۔ میری سزا یہی تھی شاید کہ صالحہ تمہاری ہو بہو تھی۔ جب بھی اسے دیکھتا تم یاد آجاتی اور میں پچھتاوے کی کھائی میں گرجاتا۔ اس کے چلنے کے انداز سے لے کر بولنے تک انداز تم سے مختلف نہیں فشا۔ وہ تم جیسی ہے۔ اس کی تربیت اتنی میں نے اور طلعت نے نہ کی جتنی تم نے کی۔۔۔ مجھے تو اللہ کے حضور دعا مانگنے کا سلیقہ بھی نہیں آتا فشا۔ مجھے ضرورت ہے فشا میری جان تمہاری۔۔۔ سب کو ضرورت ہے”۔ ان کی بات ختم ہونے کی دیر تھی کہ افشاں ان کے گلے لگ گئی۔ وہ نہیں جانتے وہ کب تک یونہی دونوں روتے رہے۔
“میں اور زیادہ نہیں رونا چاہتا”۔ کسی تیسرے کی آواز کانوں تک پہنچی تو ان دونوں کی ہی نظریں دروازے کی سمت جا کر رکیں۔
شبیر وہاں آنکھوں میں آتے آنسوؤں کو انگلیوں سے صاف کررہے تھے۔ ایک ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر ٹکا ہوا تھا۔ دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔
“کیا مجھے اجازت ہے معافی کی؟۔ کیا میں مانگ سکتا ہوں؟۔ کیا حویلی کے تمام افراد معافی مانگنے کے قابل ہیں؟”۔ وہ چلتے ہوئے قریب آئے تھے۔ افشاں کے آنسو میں تیزی آئی۔
“کیا مجھے معاف کرو گی؟”۔ ایک اور ہاتھ کسی نے اس کے سامنے جوڑے تھے۔ اس نے وہ ہاتھ بھی پکڑ لیے۔ ہاتھ ایک بار پھر لرزے اور سر نفی میں ہلنے لگا جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ اس سے معافی مانگ کر اسے شرمندہ نہ کیا جائے۔
“ہمارے ساتھ نیچے چلو فیشو۔۔۔”
افشاں نے شبیر کے منہ سے لفظ “فیشو” سنا تو آنسوؤں میں روانگی آگئی۔ یہ وہ انہیں پیار سے بلایا کرتے تھے بلکل ویسے ہی جیسے کبیر اسے فشا بلایا کرتے تھے۔
“ہم تمہیں نیچے لیے بغیر نہیں جائیں گے فشا”۔
“تمہیں معلوم ہے نیچے سب تمہارا انتظار کررہے ہیں فیشو۔ طلعت بھابھی سے سب کو اٹھانے کا کہہ آیا ہوں۔ چائے کی محفل لگنے والی ہے اور آج کی محفل تمہارے بغیر نہیں شروع ہوگی”۔ انہوں نے اس کی پیشانی پر بےاختیار بوسہ دیا اور اس کی کنچی آنکھوں کو تکنے لگے۔ یہ وہ انداز تھا جو کئی برسوں پہلے اس کے تمام بھائی صبح اٹھتے ہی اس کی پیشانی کو چوم کر اپناتے تھے۔ جیسے دن کی شروعات ہی اس کا چہرہ دیکھ کر ہوا کرتی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
چھ بجنے کو تھے۔ وہ معمول کے مطابق ناشتہ بنا کر اوپر آئی تھی۔ وجدان صوفے پر غرق سویا ہوا تھا۔ اس نے اپنا بیگ بنایا اور اپنی چادر استری کرنے لگی۔ وہ اسے اب اٹھایا نہیں کرتی تھی مگر پھر بھی وہ جلدی اٹھ جایا کرتا تھا۔ وجدان نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور چاروں طرف دوڑائیں۔ کمرے میں ملگجی سے روشنی تھی۔ صالحہ استری کررہی تھی۔ وہ اٹھا اور ننگے پیر چلتا ہوا صالحہ کی جانب بڑھا۔ وجدان کی طرف صالحہ کی پشت تھی۔ وہ اس قدر گہری نیند میں تھا کہ چلتا ہوا اس کے قریب آیا اور رک گیا۔ صالحہ کو اپنے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس ہوئی تو ڈر کر پیچھے ہوئی۔ وجدان اس سے بہت قریب کھڑا تھا۔ اتنے پیچھے اندھیرے میں اسے دیکھ کر صالحہ کی چیخ نکلی تھی۔ وہ جو نیند میں ادھ کھلی آنکھوں سے کھڑا تھا خود بھی ڈر گیا.
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟”۔ اسے پہچان کر وہ بستر پر بیٹھی تھی۔ سانسیں اب بھی پھولی ہوئی تھیں۔
“تم یہاں کیا کررہی ہو؟ واشروم جانا ہے مجھے اور اور تم سامنے کھڑی ہو”۔ وہ بھی جوابًا بولا۔ صالحہ کو اس کے “تم” پر حیرت ہوئی۔ وجدان کی چال میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی۔ صالحہ نے پلٹ کر واش روم کو دیکھا جو استری اسٹینڈ کے بلکل اپوزٹ جگہ پر تھا۔ استری اسٹینڈ دیوار سے لگا ہوا تھا۔ تو کیا یہ دیوار توڑ کر آگے جانے والے تھے پڑوس کے واش روم؟۔ صالحہ کو ایک دم ہنسی آئی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ نیند میں ہے۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب آئی تو واقعی اس کی آنکھیں آدھی بند تھیں۔
“واش روم اْدھر ہے”۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کرکے بتایا۔ جتنی نیند میں وہ تھا اس سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ وہ بہت رات کو سویا ہے۔
“ہاں ہاں پتا ہے مجھے”۔ وہ اسے اپنے سامنے سے ہٹاتا ہوا جانے لگا کہ بستر سے ٹکرا گیا۔ چیخ بلند ہوئی تو وہ بھاگ کر اس کی طرف بڑھی۔
“مم۔میں لے جاتی ہوں واش روم”۔ وہ اسے سہارا دیتی واش روم کے دروازے تک لائی۔ ایک ہاتھ سے بڑھ کر دروازہ کھولا تو وہ اس سے دور ہٹا۔
“بس۔۔ اندر بھی جانے کا ارادہ ہے تمہارا تو”۔ کہتا ساتھ اندر جاکر دروازہ زور سے سے بند کردیا۔ صالحہ “استغفراللہ” کہنے کے بعد اتنی زور سے ہنسی کہ پورے کمرے میں اس کی آواز گونجنے لگی۔ اچانک واش روم سے وجدان کے چیخنے کی آواز آئی تو وہ ٹھٹھکی۔ وہ شاید اندر گرگیا تھا۔
“یا اللہ کیا ہڈی تڑوالی؟”۔ وہ زور زور سے دروازہ کھٹکھٹانے لگی تو وجدان نے فرش پر بیٹھے بیٹھے ہاتھ بڑھا کر ہینڈل گھمایا۔ صالحہ اندر داخل ہوئی تو حیران رہ گئی۔ فرش پر پانی کی وجہ سے پاؤں مڑ گیا جس کے باعث وہ پھسل گیا تھا۔ اب وہ مکمل ہوش میں تھا ظاہر ہے اتنا سب ہونے کے بعد تو ہوش میں ہی آنا تھا۔۔۔!
۔۔۔★★۔۔۔
وہ اپنے نازک ہاتھوں سے اس کے پاؤں پر آئی موچ پر مرہم لگارہی تھی۔ وجدان کی نظریں اس کے چہرے سے ہٹنے کو تیار نہ تھیں۔ صالحہ کو ایک بار پھر وہ گرنے والا واقعہ یاد آیا تو ہنس دی۔
“آپ کیوں ہنس رہی ہیں؟”۔ وجدان چونکا۔
“نہیں کچھ نہیں”۔ وہ خود پر قابو رکھتے ہوئے بولی۔
“ویسے ایک بات پوچھوں؟”۔
“جی”۔
“کیا کیا میں نے جاگنے سے واش روم جانے تک؟”۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ نیند میں اس نے کچھ بولا تو نہیں۔۔۔
“چھوڑیں کیا کریں گے سن کر”۔ وہ مسکرائی۔ وہ اس کے مسکرانے پر اسے تکتا ہی چلا گیا۔ کتنے دنوں بعد وہ اس کے سامنے مسکرائی تھی۔
“موچ گہری ہے۔ خیال رکھا کریں اپنا۔ مجھے چھوڑنے کی آج کوئی ضرورت نہیں آپ کو۔۔۔ میں مس الماس سے کہہ دوں گی وہ مجھے پک کرلیں گی۔ آپ آرام کریں”۔ وہ مبہم سا مسکراتی اٹھنے لگی تو وجدان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ ٹھٹھک اٹھی۔ وجدان کو احساس ہوا۔ اس نے صالحہ کا ہاتھ چھوڑا اور خود اٹھنے لگا۔
“نہیں میں چھوڑ آؤں گا۔ کسی کے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں”۔
“وہ دوست ہے میری اور اعتبار کے قابل ہے”۔
“کیا فائدہ اگر میں ہی گھر میں پریشان رہوں تو۔۔۔”
صالحہ نے اس کی بات سنی اور گہری سانس بھرتی کچن میں آکر اس کا ناشتہ تیار کرنے لگی۔
وہ ریلنگ کے سہارے سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔
“نیچے کیوں آئے ہیں؟۔ گہری موچ آئی ہے آپ کو وجدان”۔ وہ پریشان ہوگئی تھی اور سہارا دے کر صوفے تک لانے لگی۔
“آپ کو بھی تو چھوڑنے جانا ہے”۔ اس کے ہاتھ میں گاڑی کی چابی تھی۔ وہ کپڑے چینج کرکے آیا تھا۔
“آپ مان نہیں رہے ورنہ میں الماس کے ساتھ اسکول چلی جاتی”۔ اس نے میز سے اٹھا کر صوفے پر اس کا ناشتہ رکھا۔
“کیا فائدہ اگر میں ہی اطمینان نہ ہوا صالحہ۔ میں یہاں پریشانی میں سوچتا رہوں گا کہ آپ اسکول پہنچی یا نہیں”۔ وجدان کے چہرے پر واضح فکرمندی تھی۔
“اور مجھے اطمینان کیسے ہوگا جب آپ مجھے چھوڑ کر گاڑی چلاتے ہوئے اس موچ کے ساتھ گھر آئیں گے۔ میں سوچتی رہوں گی اور پریشانی ہوتی رہوں گی کہ آپ گھر پہنچے یا نہیں”۔ اس کی نظریں نیچے کو جھکی ہوئی تھیں۔ وجدان مسکرایا۔
“آپ کو میری فکر ہوگی؟”۔ وہ نجانے کیا سننا چاہتا تھا۔
“مجھے تو ابھی بھی ہورہی ہے”۔ وہ لب بھینچ گئی تھی۔
“اور میری فکر کیوں ہورہی ہے؟”۔ وہ سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر ٹیک لگانے لگا۔ چہرے پر مسکراہٹ ہنوز تھی۔
“ظاہر ہے مجھے ہوگی۔۔۔ “کسی اور” کو تو نہیں ہوگی”۔ اس کو یکدم شہوار یاد آگئی تھی اس لیے “کسی اور” کو چبا کر ادا کیا تھا۔
“کسی اور؟۔ کسی اور کون؟”۔
“آپ کی یونیورسٹی فیلو”۔ وہ خاموش ہوگئی۔ “آپ یہ ناشتہ کیوں نہیں کررہے؟ کیا یہ بھی مجھے کروانا پڑے گا؟”۔
“اوہ۔۔۔ شہوار کی بات کررہی ہیں”۔ اس کے چہرے پر شہوار کا نام لیتے ہوئے مسکراہٹ آئی تھی ایسا صالحہ کو لگا تھا۔۔ ورنہ وہ تو صالحہ کے جلنے پر مسکرایا تھا۔ “اور ہاں یہ ناشتہ آپ ہی کرادیں تو صحت کے لیے بھی اچھا ہوگا۔۔ ہاتھ نہیں بڑھایا جارہا پلیٹ کی جانب”۔
“جی ہاں اسی کی بات کررہی ہوں۔۔ ویسے کھل سا جاتا ہے آپ کا چہرہ اس کا نام لیتے ہی اور موچ پاؤں پر آئی ہے ہاتھ کو کچھ نہیں ہوا آپ کے”۔
“داد دینی پڑے گی جس طرح آپ طنز کررہی ہیں۔ کسی کے جلنے کی بو آرہی ہے مجھے”۔ وہ اپنی ہنسی دبانے لگا۔ صالحہ نے پراٹھے کا ٹکرا توڑا اور تلے ہوئے انڈے کے ساتھ نوالا آگے بڑھایا۔
“منہ کھولیں گے یا یہ کام بھی میرا ہے”۔ اہا کیا تیر تھے۔۔۔ وہ عش عش کر اٹھا تھا۔ “اور کوئی نہیں جل رہی میں۔۔۔ آپ نے ہی تو کہا تھا ایک مجبوری کے تحت قائم ہوا رشتہ ہے یہ۔۔۔ اس وقت تو نہیں سمجھ پائی تھی میں مگر اب سمجھ گئی ہوں”۔ وہ عام سے لہجے میں بات کررہی تھی۔
“آپ کیوں ایک بات کو لے کر بیٹھ گئی ہیں”۔ وہ جنجھلا سا گیا تھا۔ صالحہ نے دوسرا لقمہ بنا کر اس کھلایا۔ اسے حیا آرہی تھی اس لیے نظریں اٹھا کر بات کرنے سے قاصر تھی۔
“ایک بات جو منہ سے نکل گئی اثر رکھتی ہے۔ چاہے پھر کوئی وہ الفاظ واپس ہی کیوں نہ لیلے”۔ اس نے بات ختم کرنے تیسرا لقمہ بھی اس کھلایا۔ وہ جیسے ہی کچھ بولنے لگتا وہ اس کے منہ میں نوالا ڈال دیتی۔
“کیا کررہی ہیں مجھے بولنے تو دیں۔ میں نہ بولوں اس لیے آپ تیزی سے نوالے ہی کھلائی جارہی ہیں”۔ وہ جنجھلا گیا۔
“مجھے اسکول کے لیے نکلنا ہے اور مس الماس کو بھی پک کرنے کا کہنا ہے”۔ وہ آخری نوالا تھا جس کے لیے وہ قریب آیا تھا، مگر وہ صالحہ نے کھالیا تھا۔ شرمندگی سے وہ پھر پیچھے ہوا۔
“شہوار والا معاملہ ختم کریں اب بس۔۔۔! ہمارے گھر میں اب شہوار کا نام نہیں لیا جائے گا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا” وہ سختی سے تاکید کررہا تھا۔
“امید ہے یہی بات خود سے بھی کہہ دی ہوگی”۔ وہ میٹھا طنز کرتی ٹرے کچن میں رکھنے چلی گئی۔
“توبہ کرلی میں نے۔۔۔ اور ویسے بھی صالحہ۔ آپ کچھ زیادہ ہی سوچتی ہیں! مت سوچا کریں اتنا۔۔۔ وہ صرف میری کلاس فیلو ہے۔ بلکہ تھی! اب تو میں شادی شدہ ہوں”۔ وہ جان گیا تھا لڑکی جیسی بھی ہو بیوی کے روپ میں سب ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔
“آپ یہی بیٹھے رہیں میں مس الماس کو کال کرنے جارہی ہوں اور پھر تیار ہوکر نیچے آؤں گی”۔ وہ ایپرن اتارتی زینے چڑھتی چلی گئی۔ پیچھے بیٹھا وجدان مبہم سا مسکرایا۔ کیا بیوی تھی یہ۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ اسے لے کر لاؤنج میں داخل ہوئے تو لاؤنج میں بیٹھے نفوس چیخے نکل پڑیں۔
“افشاں”۔ وہ سب اس کی جانب بڑھے تھے۔ ایک شور سا مچ گیا تھا۔ افشاں کے لبوں سے مسکراہٹ اور آنکھوں سے نمی ختم نہیں ہورہی تھی۔
“پھپھو”۔ ثریا زینوں پر کھڑی تھی بھاگ کر اس کے گلے سے لگ گئی۔ پھر برسوں پہلے کی طرح ایک محفل سجی جس کی رونق افشاں تھی۔ وہ کنچی آنکھیں تھیں جس نے کافی عرصے سے رنگ نہیں دیکھا تھا۔ وہ ساری رات کے جاگے لوگ چائے پیتے ہوئے باتیں کررہے تھے۔ صالحہ کی کمی یہاں سب کو شدت سے محسوس ہورہی تھی۔
“صالحہ حویلی کب آئے گی؟کیا کوئی اندازہ ہے؟”۔ ثریا نے وجیہہ سے پوچھا تھا۔
“میں سوچ رہی ہوں اسے کل شہر جا کر ساتھ لے آؤں۔ مجھے اور حیدر کو ویسے ہی کام کے باعث جانا ہے”۔ وہ اسے بتارہی تھی تو ثریا نے ہاں میں سرہلایا۔
“میں اور جیا کل جارہے ہیں شہر! جمعرات کو جا کر اسے لے آئیں گے تاکہ وہ افشاں پھپھو کی شادی میں بھی شرکت کرسکے”۔ حیدر نے کبیر صاحب کو دیکھا جو اس کی بات سے خوش ہوئے تھے۔
“ہاں یہ ٹھیک ہے اس طرح تم لوگ شادی کا جوڑا بھی لے آنا”۔ انہوں نے جیب سے پیسوں کی موٹی گڈی حیدر کی جانب بڑھائی۔
“یہ پیسے فشا کی شادی کے لیے”۔
حیدر نے پیسے تھامے اور اثبات میں سرہلایا۔
“تو پھر حویلی سجایا جائے؟”۔ شاہ زل شرارتا بولا۔
“ہاں کیوں نہیں بہت مزہ آئے گا”۔ شجر خوشی سے چیخی تھی۔ آج کتنے وقت بعد سب کے ساتھ قہقہے گونجے تھے۔
۔۔۔★★۔۔۔
“اسلام علیکم وجدان بھائی۔ میں الماس۔۔ آپ کی بیگم کو لینے آئی ہوں”۔ وہ گاڑی خود چلاتے ہوئے آئی تھی اور اب دروازے پر کھڑے ہوکر انہیں اپنا تعارف کروارہی تھی۔
“مجھ پر اعتبار کریں میں آپ کی بیوی کو صحیح سالم اسکول پہنچاؤں گی”۔
وجدان نے اسے دیکھا جو دنیا کی ہر فکر سے آزاد لگ رہی تھی اور نگاہیں نیچے کرلیں۔ وہ گیٹ تک لکڑی کے سہارے چلتا ہوا آیا تھا۔
“جی جزاک اللہ اتنی عنایت کے لیے مگر دھیان رکھیے گا!۔ ایک ہی بیوی ہے میری”۔ وہ مسکرایا تھا۔
“ہمیں دیر ہورہی ہے الماس”۔ وہ ہرا گاؤن پہنے باہر آئی تھی۔
“تو پھر چلو”۔
“اللہ حافظ وجدان”۔ اس نے وجدان کو دیکھا اور الماس کے ساتھ باہر نکل آئی۔
“اسکول پہنچ کر اطلاع دیدے گا”۔ وہ کہنا بھولا نہیں تھا۔
“جی ٹھیک۔ آپ دوائی لے کر سوجائے گا۔ کوشش کروں گی کہ یونیورسٹی نہ جاؤں گھر آجاؤں۔۔ کیونکہ آپ اکیلے ہوں گے اور میں نے دوپہر کے لیے کچھ بنایا بھی نہیں ہے”۔
“کوئی بات نہیں”۔ اس نے مسکرا کر صالحہ کو دیکھا تو صالحہ کو شرم نے آلیا۔
“میں چلتی ہوں”۔ وہ مڑنے لگی۔
“اللہ حافظ صالحہ”۔
“او ہاں اللہ حافظ”۔ اس نے پلٹ کر کہا اور ہاتھ ہلاتی گاڑی میں بیٹھ گئی۔ وہ تب تک وہاں کھڑا رہا جب تک گاڑی اس کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوگئی۔
۔۔۔★★۔۔۔