Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۶
سورج طلوع ہوا مگر حویلی میں آج نہ کوئی دھاڑا اور نہ لبوں کی حرکت پائی گئی۔
“ہم نے تمہارا رشتہ طے کردیا ہے”۔ وہ تینوں خواتین آج ایک ساتھ پہلی بار افشاں کے کمرے میں موجود تھیں۔ افشاں نے عجیب طریقے سے بنھویں آپس میں ملا کر انہیں دیکھا۔ مطلب اب اس عمر میں؟ ایسا کیسا ہوسکتا تھا بھلا؟۔ سمیعہ نے اسے دو دن پہلے کا قصہ سنادیا تھا۔ وہ خوش تھیں اود چاہتی تھیں کہ افشاں بھی خوش ہو مگر اس کا کہنا تھا کہ اب اس عمر میں وہ اپنی زندگی شروع کرے گی؟ جبکہ اسے تنہائی کی عادت ہوچکی ہے۔ اب وہ اپنے دل کی تمام خواہشات کو مار چکی ہے۔ طلعت نے اسے سمجھانا چاہا مگر اس کا دماغ صالحہ، شرجیل اور ان سب کی شادی پر تھا۔ وہ اس کے بھتیجے بھتیجیاں تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ جہاں اس کے بھتیجوں کی شادی ہوگئی وہاں اب میرا شادی کرنا اچھا نہیں لگے گا۔
“وہ شخص تمہارے لیے آدھی زندگی حویلی میں گزار گیا افشاں۔ تمہارا جواب سن کر اسے بہت دکھ ہوگا افشاں۔۔۔ اپنا نہیں مگر اس کا تو سوچو! مرجائے گا وہ”۔ شمیلہ نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اس کی کنچی آنکھوں میں دیکھا۔ “جو لڑکی کبھی نہیں ڈری وہ یوں معاشرے میں بدنامی ہونے کا سن کر کیسے ڈر سکتی ہے؟ اور کونسی بدنامی؟۔ کیا نکاح کی کوئی عمر بھی ہوتی ہے؟۔ اور تم تو اب بھی اتنی ہی خوبصورت ہو جتنی پہلے تھی۔ عمر تمہاری اکیلے کی نہیں بڑھی! اس شخص کی بھی بڑھی ہے افشاں!”۔ انہیں بہت دکھ ہوا تھا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
“مجھے بہت دکھ ہوا ہے! وہ وفا نبھاتا رہا اور تم اس کی وفاداری کا مان نہیں رکھ سکتی؟۔ ایسا نہ ہو ایک وقت آئے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے کہ اس کی وفا رائیگا چلی گئی ہے۔ تمہارے انکار کے بعد سب اپنی زندگیوں میں مگن ہوجائیں گے افشاں! ہوسکتا ہے بشارت بھی مایوس ہو کر اپنے گھر لوٹ جائے۔ کیا کرو گی پھر؟۔ تمہارے انکار کے بعد تم سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا کہ تم کیا چاہتی ہو”۔
افشاں ان کی آنکھوں میں ہی دیکھ رہی تھی جیسے آنے والی صورت کا منظر دیکھ رہی ہو۔ جب شمیلہ بھابھی کو اس کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو کھڑی ہوگئیں۔
“آجائیں سمیعہ اور طلعت بھابھی! ہم نیچے چلتے ہیں۔ لگتا ہے یہ محبت بھول چکی ہے یا پھر شاید اسے محبت نبھانا اور کرنا نہیں آتی۔ بھلا ایسا ادھورا کون چھوڑتا ہے محبت کو؟۔ ایک عاشق کے پاس سچی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے بس ایک ہی راستہ ہوتا ہے۔ وہ صرف موت ہے۔ مگر اسے ایک موقع دیا جارہا ہے لیکن وہ پھر بھی۔۔۔۔”۔ وہ خفا خفا سی نگاہیں اس پر ڈال کر بات ادھوری چھوڑ کر سمیعہ بھابھی اور طعت کے ساتھ نیچے چل دیں۔ افشاں ساکت رہ گئی۔ وہ جو اس عشق کا ذکر ابھی کر کے گئی ہیں وہ اس عشق کی قلندر ہے، ایک رقاصہ ہے۔ وہ یہ کیسے کہہ گئیں کہ اسے محبت کرنا نہیں آتی۔ جس کے نام پر آج تک بیٹھی ہے کیا یہ وفا نہیں؟۔ وہ اٹھی اور کھڑی کھول کر باہر دیکھنے لگی۔ پھر وہی کنستر، پھر وہی شخص، پھر وہی پودے وہی گنگناہٹ۔ اس آواز میں آج بلا کی خوشی تھی۔ گویا لگتا تھا کہ پوسے بھی اس کے ساتھ جھوم رہے ہوں۔ وہ گہری سانس ہوا کے حوالے کرتی کسی کے بارے میں تفصیلی سوچنے لگی۔ فیصلہ کس کے حق میں کرے؟۔
۔۔۔★★۔۔۔
“آپ نے آج صبح مجھے اٹھایا نہیں؟”۔ وہ وقت دیکھتا ہوا بولا تھا۔ دس بج رہے تھے اور وہ کچن میں کھڑی ناشتہ بنا رہی تھی۔
“نہیں آپ میری وجہ سے روز تھک جاتے ہوں گے۔ اس لیے آج میں گھر پر ہی ہوں اور صبح اس لیے نہیں اٹھایا کیونکہ آپ آفس اکثر گیارہ بجے تک جاتے ہیں بس میری وجہ سے آج کل جلدی جانے لگے تھے”۔ وہ اسے دیکھ نہیں رہی تھی اور دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وجدان نے حیرانی سے بنھویں اچکائیں۔
“آپ نے میری وجہ سے آج اپنے اسکول اور یونیورسٹی کا ناغہ کرلیا؟ بھلا ایسا بھی کون کرتا ہے صالحہ۔ کبھی میں نے ایسے کہا کیا؟۔ نہیں نا؟ تو پھر خود سے تھوڑا کم اخذ کیا کیجیے”. وہ ناچاہتے ہوئے بھی تھوڑا بلند آواز میں بول گیا تھا۔ صالحہ یکدم پلٹی۔
“آپ سمجھتے ہیں میں جانتی نہیں! اور اچھی بات ہے نا آج آپ کو میری وجہ سے جلدی اٹھنا بھی نہیں پڑا”۔ اس کا لہجہ کچھ عجیب تھا۔
“مجھے کبھی آپ کی وجہ سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی ہے۔ آپ کو ایسا کیوں محسوس ہوا؟”۔ وہ ماتھے پر بل ڈال کر بولا۔
“کیونکہ ایسا ہی ہے مسٹر وجدان”۔ اس کے ماتھے پر بھی بل نمودار ہوئے۔
“لگتا ہے مسز وجدان آپ صبح صبح مجھ سے لڑنا چاہتی ہیں”۔ اسے یکدم غصہ آیا تو دل کی بات زبان پر لانے سے خود کو روک نہ پایا۔
“میں لڑنا چاہتی ہوں؟۔ یا آپ نے صبح صبح آکر میرے سامنے بات شروع کی؟”۔ اس کی آواز بلند نہیں تھی مگر لہجہ سخت تھا۔
“کیا ہوتا جارہا ہے صالحہ آپ کو؟”۔ وہ حیران تھا۔
“یہی میں کل رات آپ سے پوچھنے والی تھی”۔ وہ اس کا درشہوار سے بات کرنا بھولی نہیں تھی۔
“آپ کو کب سے میرے معاملات میں اتنی دلچسپی ہونے لگی؟”۔ اگر یہ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ ضرور اس کی اس بات پر مسکراتا۔
“مجھے کسی چیز میں دلچسپی نہیں ہے مسٹر وجدان”۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
“بلکل! یہ آپ اور میں دونوں جانتے ہیں یہ رشتہ محض ایک مجبوری تحت قائم کیا گیا تھا”۔ وہ انجانے میں کیا بول گیا تھا۔ صالحہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کے لفظوں نے اسے ششدر کردیا تھا۔ آنکھیں سے موٹے موٹے آنسو نکل کر گال پر بہنے لگے۔ اس کے آنسوؤں نے وجدان کو تھوک نگلنے پر مجبور کردیا۔ اس کے لفظ بہت سخت تھے۔ وجدان کو احساس ہوا تو وہ لب بھینچ گیا۔ دل چاہا کہ وہ وقت واپس لے آئے جب یہ کلمات منہ سے نکلنے والے تھے۔ صالحہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور زبردستی مسکرائی۔
“شرکیہ یاددہانی کا! میں تو واقعی بھول گئی تھی۔ آئیندہ آپ کو کوئی شکایت نہیں ملے گی”۔ وہ مسکرائی۔ اس نے اب کی بار گرنے والے آنسوؤں کو اپنے چہرے سے صاف کرنے کی زحمت نہیں کی اور کچن سے نکل گئی۔ سانسیں رکیں تو وجدان کی۔۔۔ وہ اس کی بیوی تھی۔ یہ باتیں وہ اسی سے کرسکتی تھی۔ وہ یہ کیا کر گیا تھا۔ کچن سے باہر نکل کر متلاشی آنکھوں سے ارد گرد دیکھا مگر وہ کہیں نہیں تھی۔ یقیناً اوپر کمرے میں تھی۔ ایک گہری سانس خارج کرتا وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو بستر پر نگاہ پڑتے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ داجی آج بے یارومددگار بستر پر لیٹے تھے۔
“آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟”۔ اس نے بڑھ کر پوچھا، تو انہوں نے بامشکل نفی میں سرہلایا۔ وہ ان کے اوپر سے چادر ٹھیک کرتا باہر نکل آیا۔ آج دوسروں کے محتاج داجی کی کل اپنی حکومت تھی۔ جب سب ہاتھ میں تھا تو کچھ اچھا نہ کرسکے تھے۔ آج ہاتھ سے نکل گیا تو ہاتھ ملتے جارہے ہیں۔
وہ چلتا ہوا باہر آیا تو کچن میں ہوتی کھٹ پٹ نے اسے وہاں شاہ جی کی موجودگی کا احساس دلایا۔ اسے حیرانی ہوئی تو وہ کچن کا دروازہ بجاتا اندر داخل ہوا۔
“آپ یہاں کیا کررہے ہیں شاہ جی؟”۔ اسے حیرت ہوئی۔ وہاں ان کی شادی کا ذکر پوری حویلی میں چل رہا تھا اور یہاں وہ کھانا پکانے میں مصروف تھے۔ شاہ جی نے اسے دیکھا تو بے اختیار ہنس دیے۔
“اب ضروری تو نہیں کہ میں پوری حویلی سر پر اٹھا دوں”۔ وہ خوش تھے، یہ ان کا چہرہ بتا رہا تھا۔ شرجیل بےساختہ مسکرایا۔
“ایسا کریں گے تو شادی کے بعد بھی کھانا بنانا پڑے گا”۔ وہ جیسے شرارتی لہجے میں بولا تھا۔
“تم شادی ہوجانے دو پھر دیکھنا! عمر کی کوئی بھی دہلیز ہو میں کھانا کیا جوتے بھی پالش کروں گا”۔ باچھیں کھل سی گئی تھیں۔ شرجیل نے ہنس کر سر جھٹکا۔
“ابھی افشاں پھپھو کی جانب سے جواب نہیں آیا بشارت صاحب”۔ وہ انہیں لاعلم نہیں رکھنا چاہتا تھا کہ دھچکا جب لگتا ہے تو سہا نہیں جاتا۔ ان کا چہرہ پھیکا ہوا۔
“میں جانتا ہوا ان کی طرف سے بھی مثبت جواب آئے گا”۔ وہ سالن میں چمچ گھما رہے تھے۔
“اور اگر نہ آیا؟”۔ شرجیل نے یہ سوال جان بوجھ کر کیا۔ پل بھر میں شاہ جی کا چہرہ زرد مائل ہوا۔
“ایسا سوال مت کرو جن کے جوابات مجھے آتے نہ ہوں”۔ سالن میں چلتا چمچ رک گیا۔
“میں خود بھی ان کی طرف سے آنے والے فیصلے کا منتظر ہوں”۔ وہ کہتا ان کا کندھا تھپتھپاتا باہر کی جانب مڑنے لگا۔ ابھی دہلیز عبور کر ہی رہا تھا کہ پیچھے سے بڑے چمچ کے گرنے آواز آئی اور ایک کراہ نکلی۔ وہ اپنے دل میں خدشہ لیے مڑا تو حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔ شاہ جی دل کو پکڑے کھڑے تھے اور ہاتھ میں موجود چمچ اب زمین پر گرا پڑا تھا۔
“شاہ جی”۔ وہ چیختا ہوا تیزی سے آگے بڑھا اور سہارا دے کر باہر باغ میں لے آیا۔
“بیٹھ جائیں آرام سے بینچ پر”۔ اس نے انہیں بیٹھنے میں مدد دی اور خود ان کے برابر میں بیٹھ گیا۔
“آپ پریشان مت ہو۔ اللہ سب بہتر کرے گا”۔ اس نے ساتھ ان کے کندھے تھپتھپائے۔ وہ اب تک اپنا سینہ مسل رہے تھے۔
“اگر اب کی بار بھی وہ مجھے نہ ملیں تو میں اس غم سے ہی مرجاؤں گا”۔ وہ کہتے کہتے رو پڑے۔
“نہیں شاہ جی! اب کی بار ایسا نہیں ہوگا۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ اگر پھپھی کی جانب سے انکار آیا تو میں پھپھو سے بات کروں گا۔ وہ مان جائیں گی جب مجھے دیکھیں گی۔ ان کی انکار کی وجہ ایک ہی ہوسکتی ہے اور وہ ہے خوف! اور ابھی تو کوئی جواب نہیں آیا ہے بشارت جی۔۔۔ ابھی کیا سوچنا اتنا؟”۔ وہ انہیں کوئی بچوں کی طرح سمجھا رہا تھا اور وہ اسے سن سن کر دل ہی دل میں مسکرا رہے تھے۔ وہ ان کے لیے بیٹوں جیسا تھا۔ اوپر کھڑکی پر لگے پردے کے اوٹ سے جھانکتی افشاں سب سن رہی تھی۔
“تم کتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہو۔ ابھی جیسے کل کی بات لگتی ہے جب تم میرے پاس آیا کرتے تھے اور درخت کی جانب اشارہ کرکے کہتے تھے کہ بشارت جی یہ گیند درخت میں اٹک گئی ہے۔ درخت پر داجی کی چھڑی اچھال کر گیند نکال دیں۔ اور میں تمہیں آنکھیں بڑی کرکے دیکھا کرتا اور پھر سمجھاتا تھا کہ شرجیل مجھے بشارت جی نہیں شاہ جی کہا کرو ورنہ کوئی سن لے گا تو تمام رازوں سے پردہ اٹھ جائے گا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہی چھوٹا لڑکا میرے قد کے برابر آکر اسی درخت کے نیچے بیٹھ کر میری کمر سہلائے گا اور مجھے باتیں سمجھائے گا”۔ وہ ہنستے ہنستے رونے لگے۔ شرجیل کا قہقہہ گونجا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے۔ عمر میں فرق جتنا زیادہ تھا، دوستی اتنی گہری تھی۔
“اور آپ کو یاد ہے پھر وہ چھڑی بھی گیند کی طرح درخت پر ہی رہ گئی تھی۔ ہم دونوں ہی ڈر گئے تھے اور وہاں سے بھاگ نکلے تھے۔ اس کے بعد کتنے ہی دنوں تک نہ داجی کی چھڑی ملی تھی اور نہ ہم درخت کے پاس بھٹکے تھے”۔ اس کے یاد دلانے پر وہ دونوں ساتھ ہنسنے لگے تھے۔
“اور یاد ہے ہم ساتھ والوں کے باغ سے آم توڑنے جاتے تھے؟۔ میں تمہیں درخت پر اچھال دیا کرتا تھا تاکہ تم اس پر بیٹھ کر آم توڑ کر نیچے پھینکو تاکہ میں پکڑ سکوں”۔ شاہ جی نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ مارا اور ہنسنے لگے۔
“آپ کو صرف وہ لمحے یاد جس میں ہم نے مزے کیے تھے! اب ظاہر ہے آپ بڑے تھے اس وقت بھی تو اس باغ کے مالک نے آپ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اور مجھے؟ مجھے اپنی مار سے بھون دیا تھا”۔ شرجیل انہیں وہ سنہرے پل یاد دلاگیا تھا۔
“اس وقت میں کافی جوان تھا اور اب دیکھو کتنا وقت گزر گیا ہے۔ تم بڑے ہوگئے ہو اور میں بوڑھا ہوتا جارہا ہوں! مگر ہاں اس کا مطلب یہ بلکل بھی نہیں کہ میں سنکی بڈھا ہوں۔ میں اب بھی جوان ہوں! سفید بال میرے سر پر صرف تیس فیصد ہیں”۔ وہ بالوں پر اس طرح ہاتھ لگاتے ہوئے بولے کے شرجیل نے محبت میں آکر انہیں کھڑا کیا اور اپنے گلے سے لگایا۔
“آپ سے بہت یادیں جڑی ہیں”۔ وہ ان کی کمر ساتھ ساتھ تھپک رہا تھا۔ “آپ ہی تو میرے واحد اتنے گہرے دوست ہیں”۔ درخت کے سائے میں وہ دونوں ایک دوسرے سے لپٹے کھڑے تھے۔ وہ درخت جس سے ان کی یادیں جڑی تھیں۔ عمر میں فرق ضرور تھا مگر ایک دوسرے کے لیے ہمدردی اور دل میں محبت ایک جیسی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
اس نے وقت دیکھا تو ٹھٹھک اٹھا۔ چار بج رہے تھے اور وہ یوں ہی کب سے لاؤنج میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ یکدم صالحہ سے ہوا جھگڑا یاد آیا تو اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے اب صالحہ کی فکر ہونے لگی تھی۔ صبح جھگڑے کے بعد سے وہ اب تک اسے نظر نہیں آئی تھی۔ ایک عجیب سا خدشہ دل میں جنم لینے لگا۔ اس نے پینٹ کی جیب میں دونوں ہاتھ گھسائے اور لب بھینچتا تیزی سے اوپر چڑھنے لگا۔ اس کے کمرے کا دروازہ بند تھا۔ اس نے دروازہ زور سے کھٹکھٹایا۔ ایسا بھی کیا تھا جو وہ اتنے گھنٹے سے دروازہ بند کیے اندر بیٹھی تھی؟۔
“صالحہ دروازہ کھولیے”۔ جب اس کے کھٹکھٹانے پر اندر سے جواب نہ آیا تو اس نے صالحہ کو آواز دی۔
“صالحہ کیا کررہی ہیں آپ؟؟؟۔ دروازہ کھولیے”۔ اندر ہلچل بھی نہ ہوئی تو وہ ڈر گیا۔ وہ اب دروازہ زور سے کھٹکھٹایا۔
“صالحہ مجھے ڈر لگ رہا ہے خدارا دروازہ کھولیں! مجھے خوف آرہا ہے خدارا میری بات مان لیں! کیا کررہی ہیں آپ اندر؟”۔ وہ اب چیخ رہا تھا اور ساتھ دروازہ پیٹ رہا تھا۔ اس کا دل پھٹنے کے قریب ہوا۔ “ایسا مت کریں صالحہ خدارا۔۔۔ کھولیں دروازہ”۔ اس نے سر کے بالوں کو ہاتھوں کی مٹھیوں میں جکڑا۔
“یہ میں نے کیا کردیا۔ سب میری وجہ سے ہوا ہے”۔ اس نے غصے میں اپنے بال نوچ ڈالے۔
“صالحہ میں اب کی بار دروازہ توڑنے لگا ہوں۔ میں خود کو معاف نہیں کرپاؤں گا اگر آپ نے اپنے ساتھ کچھ کیا تو”۔ وہ چیخ کر دروازے کی جانب بڑھا تو اسی وقت دروازہ کسی نے کھولا۔ وہ صالحہ ہی ہوسکتی تھی۔ وجدان نے دانت پیس کر دروازے کو دھکا دے کر اسے پورا کھولا۔ صالحہ سہم کر پیچھے ہوئی۔
“کیا کررہی تھیں آپ؟؟”۔ وہ یکدم چیخا۔ سانسیں پھول رہی تھیں اور چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا۔ صالحہ کے چہرے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ زیادہ وقت روتی رہی ہے۔ الفاظ گویا حلق میں ہی پِھنس گئے۔
“بتانے کی زحمت کریں گی آپ؟۔ میں سمجھا آپ پھنکے سے لٹک گئی ہیں! کچھ خیال ہے آپ کو دوسرے کے احساس کا؟۔ جان بوجھ کر ہمیشہ یونہی کرتی ہیں کیونکہ آپ جانتی ہیں ایسے حالات میں میری سانسیں سینے میں اٹک جاتی ہیں”۔ وہ بول نہیں رہا تھا۔ وہ چیخ کر دھیرے دھیرے اس کے قریب آرہا تھا۔ صالحہ کی کنچی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھٹنے لگیں۔ وجدان کا یہ رویہ اس کے لیے انوکھا تھا۔
“میں کچھ پوچھ رہا ہوں صالحہ میری پہلی آواز پر دروازہ کیوں نہیں کھولا آپ نے؟؟”۔ اس کا جواب نہ پاکر وہ پھر سے چیخا۔ صالحہ کی ہمت جواب دے گئی۔
“کیوں کھولتی آپ کی پہلی آواز میں دروازہ؟۔ میں مروں یا جیوں کیوں ہورہی ہے آپ کو میرے معملات میں دلچسپی؟۔ میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے مسٹر وجدان!”۔ وہ سخت لہجہ اختیار کرکے بولی۔ وجدان نے اسے حیرت سے دیکھا۔ آج دونوں کا رویہ ہی مختلف تھا۔
“آپ میری ذمہ داری ہیں صالحہ!۔ آپ جانتی ہیں یہ۔۔۔”
“رشتہ محض ایک مجبوری کے تحت قائم کیا گیا یے۔۔” اس نے فوراً سے اس کی بات کاٹی۔ وجدان نے اس لڑکی کو دیکھا جو اس کے قد میں اتنی چھوٹی سی تھی کہ اسے دیکھنے کے لیے بھی گردن ہلکی جھکانی پڑتی تھی۔ یا تو وہ چھوٹی تھی! یا پھر وجدان چھ فٹ کا تھا۔
“یہی کہا تھا نا آپ نے صبح؟۔ مجھے یاد ہے ایک ایک لفظ! “۔ اس کی آواز رندھ گئی۔ وجدان تیزی سے اس کے قریب آیا۔ صالحہ نے پیچھے ہٹنا چاہا مگر پیچھے دیوار تھی۔ اس نے صالحہ کا بازو پکڑنا چاہا مگر وہ ایسا کر نہیں پایا اس لیے پیچھے ہوگیا۔
“میرے صبر کا امتحان لے رہی ہیں آپ”۔ وہ پوری قوت سے چیخ اٹھا۔ صالحہ نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپالیا اور سسکنے لگی۔ اسے روتے دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا۔ پل بھر میں سارا غصہ ہوا کے نظر ہوگیا۔ یہ آنسو اس کی جان لے رہے تھے۔ اسے اپنے رویے پر افسوس ہونے لگا۔ شاید وہ اس سے تنگ آگئی تھی۔ یا شاید وہ شہوار کی وجہ سے اب بھی غصہ تھی۔
“آپ کو شاید میری موجودگی، میرا آپ کے قریب آنا اور میرا کوئی سوال کرنا اچھا نہیں لگتا”۔ اس نے نگاہیں زمین پر ٹکائیں۔ صالحہ نے اس کی غلط فہمی پر جھٹکے سے سر اٹھایا۔ ایسا نہیں تھا جیسے وہ سمجھتا تھا۔
“جارہا ہوں میں۔۔۔ میں نہیں چاہتا آپ میری وجہ سے بےآرام ہوں”۔ اس نے گاڑی کی چابیاں اٹھائیں اور بستر سے اپنا کوٹ پکڑ کر تیزی سے نیچے چلاگیا۔ اسے خود سے دور جاتا دیکھ کر وہ تیزی سے اٹھی۔ وجدان اس کی وجہ سے گھر سے جارہا تھا۔ ایک چھوٹی سی بات اتنی زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اس نے تیزی کے ساتھ پردے کھڑکی سے ہٹائے اور باہر دیکھنے لگی۔ وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ رہا تھا۔ صالحہ کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ چاہے اس سے جتنی بھی خفا تھی مگر وہ اس وقت خود بھی روہانسی ہوچکی تھی۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کسی نے اس کا دل آری سے چیر دیا ہو۔ دل نے صدا دی کہ اسے روکا جائے مگر انا حاوی ہونے لگی۔ اس نے تھوک نگل کر چہرہ کھڑکی سے باہر کیا۔ وہ گاڑی اسٹارٹ کررہا تھا۔ اس کا دل آج بہت دکھی ہوچکا تھا اور آج ہی اسے محسوس ہوا تھا کہ مجبوری میں کی گئی شادی زندگی بھر مجبوری ہی رہتی ہے۔ یہ خام خیالی کہ ایک دن سب ٹھیک ہوجائے گا محض خیال ہی ہوتا ہے۔ مجبوری مجبوری ہی رہتی ہے۔ وہ مکمل ٹوٹ چکا تھا اور یہاں سے بہت دور جانا چاہتا تھا۔ جو لڑکی اسے پسند ہی نہیں کرتی، اس کے ارد گرد رہنے سے الجھن ہو! ایسے میں اس کے قریب رہنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔ صالحہ نے لب بھینچ کر اسے دیکھا جو گاڑی میں بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ چاہتی تو ہاتھ ہلا کر روک سکتی تھی، مگر یہاں انا آٹہھری تھی۔ وہ ساکت نظروں اور آوارہ لٹوں کے ساتھ اسے بس دیکھتی رہی۔ وہ بھی یک ٹک اسے تک رہا تھا۔ دل میں کہیں نہ کہیں امید کا جگنو تھا کہ وہ اسے روک لے گی مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ کچھ لمحے یونہی اس کے اشارے، اس کے لبوں کی حرکت کا انتظار کرتا رہا مگر وہ بھی امید ہی رہی۔ اس نے آخر کھڑکی کی طرف سے نگاہیں موڑ لیں جہاں صالحہ اس پر نظریں ٹکائے کھڑی تھی۔ شام کی ہلکی ٹھنڈی دھوپ صالحہ پر پڑرہی تھی۔ اس نے آخری بار صالحہ کو اس اداس شام میں دیکھا اور گاڑی ریورس کرلی۔ وہ جارہا تھا اور صالحہ کا دل حلق میں آچکا تھا۔ وہ کیوں نہ جان پائی کے محبت میں انا کی بات نہیں چلتی۔ کاش وہ اسے روک پائے۔۔۔ یا پھر وہ خود ہی اس کے جذبات جان کر رک جائے۔ بھلا وہ اسے کیسے بتاتی کہ اس کا یوں اس کی آنکھوں میں جھانکنا اسے بہت بھاتا ہے۔ اسکول کی چھٹی کے بعد اس کا انتظار کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔۔۔ یونیورسٹی سے واپسی پر اس کے ڈھیروں میسجز “آپ کہاں ہیں، بس مل گئی، دروازہ لاک کردے گا، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں” پر وہ دل کھول کر مسکراتی ہے۔ وہ کہاں جارہا تھا؟ کیا وہ اس سب کے بعد پلٹنا چاہے گا؟۔ گاڑی گیٹ سے باہر نکل رہی تھی صالحہ کا دل بہت کچھ کہنا چاہتا تھا جیسے کہ ابھی مت جاؤ! پل بھر کو ٹہھر جاؤ۔۔ سنا ہے شام کے اچھے سفر نہیں ہوتے۔ کچھ لمحوں بعد ہی وہ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہوچکا تھا۔ وہ وہیں کھڑکی کے پاس رکھی جھولتی چیئر پر بیٹھ گئی۔ اسے اپنے رویے پر ملال ہونے لگا۔ موسم خراب ہورہا تھا۔ آسمان پر کالی گھٹا کا راج تھا۔ لگتا تھا کہ صالحہ کے غم آج پورا شہر رونے والا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ پلٹے گا اس لیے کھڑکی کے پاس ہی بیٹھ گئی۔ اس نے گردن موڑ کر گھڑی دیکھی۔ پانچ بج رہے تھے۔ صالحہ نے برابر میز سے اپنی واچ اٹھائی اور وقت روک لیا۔ وہ اب اس کے آنے تک وقت نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ پانچ بجے کی رکی واچ دیکھ کر وہ اب یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کب پلٹتا ہے۔
۔۔۔★★۔۔۔
شرجیل کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ٹیرس کا دروازہ کھلا دیکھ کر ٹیرس پر آگیا۔ رفاہ دیوار پر کہنیاں جمائے نم آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ ماتھے پر بل ڈالے دور سے اس کا چہرہ دیکھنے لگا۔
“تم رو کیوں رہی ہو؟”۔ وہ اس کی اچانک موجودگی پاکر وہ چونک سی گئی۔
“آپ کب آئے؟”۔ اس نے آنکھیں جھپک کر انہیں ہاتھوں کی انگلیوں سے رگڑا۔
“میرے سوال کا جواب یہ نہیں ہے”۔ اس کی نگاہیں رفاہ کی نم آنکھوں پر جمی تھیں۔ رفاہ نے تھکی تھکی سی نگاہیں شرجیل پر ڈالیں۔
“مجھے گھر جانا ہے شرجیل۔ کیا آپ لے کر جائیں گے؟”۔ وہ سر اٹھا کر اسے امید سے دیکھنے لگی۔ وہ مان جائے گا اسے یقین تھا۔ شرجیل اسے ساکت نگاہوں سے دیکھتا رہا۔
“تم ملنا چاہتی ہو؟۔ پھر ٹھیک ہے میں ملوا کر لے آتا ہوں۔ آجاؤ”۔ اس نے اس کا ہاتھ پکڑا اور مڑنے لگا کہ رفاہ نے اس پر اپنی گرفت ڈھیلی کی اور پھر ہاتھ چھوڑدیا۔ شرجیل ٹھٹھکا۔ اس کا یوں ہاتھ چھڑانا اسے قطعی بھایا نہیں تھا۔
“اب تو سب ٹھیک ہورہا ہے۔ داجی کا خوف بھی نہیں جیسے پہلے تھا۔ آپ مجھے گھر ہی چھوڑ کر آجائیں”۔ شرجیل نے لب بھینچے۔ شاید وہ کچھ دن اپنے گھر رکنا چاہتی تھی۔ اس نے اثبات میں سرہلایا اور تھوک نگلتا مڑنے لگا۔
“ٹھیک یے میں نیچے ہوں۔ تم جلدی سے آجاؤ”۔ کہتا ساتھ نیچے چلاگیا۔ اب خبر نہیں وہ کتنے دن اس سے دور رہنے والی تھی۔ رفاہ ایک دم خوش ہوگئی تھی۔ اس حویلی سے نکل کر وہ آزادی کی سانس لینے والی تھی۔ وہ آزادی جو اس کے شوہر نے اسے شروع دن سے دی تھی۔ اس آزادی کے ہوتے ہوئے وہ باہر کی آزادی ڈھونڈنا چاہتی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“آپ کا فیصلہ جاننا چاہتے ہیں سب ہھپھو”۔ وجیہہ نے اس کے آگے کھانا رکھتے ہوئے کہا۔ وہ خاموش رہی۔ صبح شرجیل اور شاہ جی کی گفتگو کا اثر اب بھی اس کے دماغ میں تھا۔
“آپ کب تک یوں خاموش رہیں گی؟۔ وہ شخص آپ کے جواب کا منتظر ہے افشاں پھپھو”۔ شجر دروازے سے لگی کھڑی تھی۔ انہوں نے ہاتھوں کے اشارے سے شجر کو جواب دیا۔ وجیہہ نے ناسمجھ آنے والے انداز میں شجر کو دیکھا۔
“یہ کیا کہہ رہی ہیں؟”۔ اس نے شجر سے پوچھنا چاہا۔ شجر نے افشاں کو دیکھ کر اثبات میں سرہلایا اور وجیہہ کو دیکھ کر مڑنے لگی۔
“نیچے آجاؤ جیا۔ پھپھو کہہ رہی ہیں وہ کل تک اس بات کا جواب دیں گی”۔ اس نے چادر سر پر ڈالتے ہوئے بتایا اور مڑگئی۔ وجیہہ نے پھپھو کو مسکرا کر دیکھا اور شجر کے ساتھ پیچھے ہولی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“آپ یہاں اکیلی کھڑی ہیں؟”۔ وہ چھت کی منڈیر پر اس کے برابر آکر کھڑا ہوا۔ ثریا نے اس کی موجودگی پاکر گہری سانس لی۔ اس شخص کی باتیں اور سوچ! دونوں ہی ناسمجھ آنے والی تھیں۔
“جی”۔ وہ محض اتنا ہی کہہ پائی۔
“موسم بہت خوبصورت ہے”۔ اس نے بات کا آغاز کرنا چاہا۔
“جی اب تک تو تھا”۔ ثریا نے نگاہیں پھیر کر جواب دیا۔
“میرے آنے کے بعد تو حسین ہوگیا ہوگا”۔ نگاہوں میں شرارت واضح تھی۔
“جی نہیں۔۔۔ یہ حسن تو پہلے بھی آسمان بکھیرتا تھا”۔ اس نے اس کی بات غلط ثابت کرنی چاہی۔
“آپ سے کس نے کہا کہ میں آسمان کے موسم کی بات کررہا ہوں؟”۔ اس نے مسکراہٹ چھپا کر اس کی طرف دیکھا۔ ثریا نے بنھویں اچکائیں جیسے پوچھ رہی ہو “پھر؟”۔
“میں تو دل کے موسم کا حال بتارہا تھا”۔
“اور کس کے دل کا موسم؟”۔
“آپ کے؟”۔
ثریا ٹھٹھکی۔
“آپ کے آجانے سے میرے دل کا موسم کیوں حسین ہونے لگا؟”۔ وہ اس سے تھوڑا دور ہٹ کر کھڑی ہوئی۔
“مگر میرے دل کا تو ہوگیا”۔ وہ اب بھی اطمینان سے اپنا ہاتھ سینے پر جما کر بولا۔
“آپ ڈھکی جھکی باتیں کم کیا کریں”۔ وہ لاحولا کا ورد کرتے ہوئے بولی۔ وہ اس کی تمام باتیں سمجھ رہی تھی۔
“آپ کیا سمجھ رہی ہیں؟”۔
“ہوسکتا ہے میں جو سمجھ رہی ہوں ویسا ہو ہی نہ”۔
“ہوسکتا ہے وہی ہو”۔ وہ تیزی سے بولا۔ ثریا نے اس کی جلد بازی دیکھی تو ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑی۔
“آپ۔۔۔ آپ ہنس کیوں رہی ہیں؟۔۔ کیا آپ مجھ پر ہنس رہی ہیں؟”۔ وہ آنکھیں پھاڑ کر بولا۔
“نہیں میں آپ پر نہیں ہنس رہی”۔ اس نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
“ویسے عموماً آپ رات کے پہر چھت پر موجود ہوتی ہیں۔ یہ شام کا کیا قصہ ہے لیلیٰ”۔
ثریا نے اس کے لیلیٰ کہنے پر گردن موڑی۔
“آپ کو کیا لگتا ہے میں یہاں کیا کرنے آئی ہوں؟”۔ اس سے گفتگو کرنے میں ثریا کو مزہ آنے لگا۔
“میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہاں آپ دیوداس بننے آئی ہیں مگر۔۔۔۔” وہ ابھی جملہ مکمل کر ہی رہا تھا کہ ثریا لفظ دیوداس سن کر بھڑک اٹھی۔
“دیوداس؟۔ میں یہاں اپنے گیلے بال سکھانے آئی ہوں۔ مجھے ابھی تیار بھی ہونا کیونکہ کچھ خاص مہمان آنے والے ہیں”۔ وہ خاص کہتے ہوئے مسکرائی تھی۔ شاہ زل کی سانسیں اٹکیں۔
“کون خاص مہمان جس کے لیے آپ اتنے پہلے سے تیاری کررہی ہیں؟”۔
“کوئی دل والے ہیں”۔ اس کے لبوں پر تبسم پھیلا اور بادل میں چھپے سورج کو دیکھ کر مڑنے لگی۔ شاہ زل ٹھٹھکا۔
“ک۔کک۔کیا مطلب دل والے ہیں؟”۔ وہ تیزی سے اس کے پیچھے قدم بڑھاتا ہوا بولا۔
“آپ کیوں حواس باختہ ہورہے ہیں؟”۔ وہ مسکرا کر جھٹکے سے مڑی تو وہ بلکل اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا۔
“کون آرہا ہے ثریا؟”۔ اس کے ماتھے پر بل پڑے۔
“دل والے آرہے ہیں سجنا کو دیکھنے”۔ وہ کھلکھلاتی نیچے چلی گئی۔ شاہ زل کی سانسیں پھولنے لگیں۔ ناچاہتے ہوئے بھی ماتھے پر گہرے بل نمودار ہوئے اور وہ دانت پیستا نیچے آیا۔
“چچی کون آرہا ہے؟”۔ اسے سیڑھیوں پر شمیلہ چچی ملیں تو وہ ان سے پوچھنے وہیں رک گیا۔
“خاص مہمان”۔ وہ اس کے گال سہلاتی مسکرا کر بولیں اور سیڑھیاں چڑھنے لگیں۔
“چچی کون خاص مہمان؟۔ جسے دیکھو ہر کوئی خاص مہمان کی رٹ لگا رہا ہے۔ کوئی کیوں نہیں بتا رہا ہے کہ کون خاص مہمان”۔ وہ تقریباً بلند آواز میں بولا تھا۔ چچی نے رک کر اسے پیچھے دیکھا۔
“مہمان آرہے ہیں لڑکی کو دیکھنے۔ میں تم سے بعد میں بات کروں گی ابھی میں مصروف ہوں”۔ وہ اسے تھپکتی اوپر مڑ گئیں۔ شاہ زل کے دل میں اندیشوں نے جنم لیا۔ باتوں سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ ثریا کو دیکھنے کچھ لوگ آرہے ہیں۔ اس کی سانسیں پھولنے لگیں اور وہ نیچے آگیا۔ لاؤنج میں شرجیل پیر پر پیر جمائے موبائل استعمال کررہا تھا۔ وہ اس کے پیچھے آیا اور اس کی گدی پر زور سے ہاتھ مارا۔ شرجیل نے گردن موڑی۔
“شرجیل باہر آؤ”۔ اسے اشارہ کرتے ہوئے وہ باغ کی طرف بڑھنے لگا۔ شرجیل کو اس کا لال بھبھوکا چہرہ دیکھ کر حیرت ہوئی۔ وہ رفاہ کے نیچے آنے کا انتظار کررہا تھا۔
“آرہا ہوں”۔ اس نے پھر سے موبائل کی جانب نظریں مرکوز کیں۔ پتا نہیں کب رفاہ اپنا بیگ بنا کر نیچے اترنے والی تھی۔
“آرہا ہوں نہیں فوراً آؤ!”۔ شاہ زل لاؤنج کے دروازے پر کھڑا ہوا۔
“تجھے غصہ کیوں آرہا ہے؟”۔ وہ اٹھ کر بیزاری سے اس کی جانب بڑھا۔ شاہ زل کچھ نہ بولا۔ وہ دونوں ہی اب باغ میں داخل ہوچکے تھے۔ آسمان گہرا کالا ہورہا تھا۔ کالی گھٹا ہر جگہ چھائی ہوئی تھی۔ لگتا تھا سورج ڈھلتے ہی دھوار دھار بارش شروع ہوجائے گی۔
“کیا ہوگیا شاہ زل؟ غصہ کیوں آرہا ہے؟”۔
“ثریا۔۔۔”۔ وہ غصے کے مارے صرف اتنا ہی کہہ پایا۔ شرجیل سمجھ گیا۔
“افو ہو اب کیا کہہ دیا اس نے؟”۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی کی شروعات ہوچکی تھی۔
“میں اتنا قابو خود پر تیری وجہ سے کیا ہوا ہوں”۔ وہ انگلی اٹھا کر شرجیل کر دیکھتا ہوا بولا۔
“تم بتاؤ گے نہیں تو کیسے پتا چلے گا مجھے؟”۔
“مجھے لگتا ہے اسے کچھ لوگ دیکھنے آنے والے ہیں جس کے لیے وہ تیار ہورہی ہے”۔ یہ کہتے ہوئے اس کا لہجہ اور سخت ہوا۔ شرجیل بے آنکھیں پھاڑیں۔
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟”۔ وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔
“میں بتارہا ہوں شرجیل! اگر ایسا ہوا نا تو میں چھوڑوں گا نہیں”۔ وہ انگلی اٹھا کر اسے وارن کررہا تھا۔
“کیوں بھائی میں نے کیا کردیا اب! ایک تو تم لوگوں کے ساتھ کچھ ہوتا تو سب کا ذمہ دار میں بن جاتا ہوں”۔ اس نے کندھے اچکائے۔
“تیری وجہ سے میں ابھی تک صرف اس سے بات ہی کررہا ہوں۔ رشتہ تو دیا نہیں میں نے کیونکہ تو نے کہا تھا پہلے اس کے دل جگہ بناؤ”۔
“افو ہو! سب بہتر ہوگا”۔ اس نے اسے تسلی دینی چاہی۔
“اگر کوئی ثریا کو دیکھنے آیا تو میں حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجادوں گا”۔ اس کا ہاتھ اپنے کندھے سے جھٹکتا ہوا بولا۔
“میں اس حویلی کی اینٹ پہلے ہی بجا چکا ہوں”۔ شرجیل کا قہقہہ گونجا۔
“ٹھیک یے تم میری باتیں مذاق میں اڑاؤ۔ اگر ایسا کچھ ہوا نا تو تم دیکھنا مہمانوں کی خاطر تواضع میں کیسے کرتا ہوں”۔ وہ مڑنے لگا کہ شرجیل نے اس کندھے سے پکڑ کر روکا۔
“میں ابھی رفاہ کو چھوڑنے جارہا ہوں اس کے گھر!۔ میرے آنے سے پہلے کچھ مت کرنا اور اب تو مجھے نہیں لگتا کوئی مہمان آئے گا۔ چچی فون پر کسی سے بات کررہی تھیں۔ مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اس بارے میں ہی بات کررہی ہوں گی۔ موسم کی خرابی کے باعث وہ کل آئیں گے شہزادے”۔ کہتا ساتھ اس کے کندھے تھپتھپاتا وہ باغ میں آتی رفاہ کی طرف بڑھ گیا۔ شاہ زل نے کوئی جواب نہ دیا اور اندر چلا گیا۔ بوندا باندی نے شدت اختیار کرلی تھی۔
“لگتا ہے بارش کچھ دیر میں تیز ہوجائے گی۔ ہمیں رک جانا چاہیے”۔ رفاہ نے آسمان کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
“نہیں ابھی موسم زیادہ خراب نہیں ہوا ہے۔ آجاؤ”۔ وہ کہتا باہر گاڑی کی طرف جانب بڑھنے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
شہر کا موسم بہت زیادہ خراب تھا۔ تیز برستی بارش میں وہ ایک سنسان جگہ پر کھڑا مکمل بھیگ چکا تھا۔
“اگر اس کے دل میں میرے لیے کوئی جذبات نہیں ہیں تو وہ گزری ہوئی رات شہوار کو دیکھ کر چڑ کیوں رہی تھی؟۔ مگر شاید اس کو میرا قریب آنا نہیں بھاتا۔ وہ صبح اتنی بھنی کیوں بیٹھی تھی؟”۔ وہ مکمل سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ “کیا اسے کل رات میرا شہوار سے گفتگو کرنا صبح تک یاد تھا؟۔ اس نے کبھی بھی ایسا رویہ اختیار نہیں کیا مگر آج کیوں؟۔ سب میری غلطی ہے۔ مجھے اس پر چیخنا نہیں چاہیے تھا۔ وہ ناراض ہے وجدان تم سے۔ اسے کیسے مناؤں میں؟۔ کیا کرنا چاہیے مجھے؟۔ کیسے بتاؤں صالحہ کو کہ میں۔۔۔ میں۔۔۔۔”۔ وہ خود بھی آگے نہیں سوچ پارہا تھا۔ “شہوار کچھ نہیں ہے اب میری۔۔۔ وہ ماضی ہے صرف!۔ وہ گھر میں اکیلی ہوگی۔ ہوسکتا ہے میرا انتظار کررہی ہو۔ اس کا میرے قریب آنے پر حیا سے نظریں جھکانا جھوٹ نہیں ہوسکتا۔ وہ تبسم کا لبوں پر پھیل جانا فریب تو نہیں۔ وہ احساس اور جذبات جھوٹے تو نہیں۔ ایسا نہ ہو ایک دن ہم دونوں ایک دوسرے کے لیے جذبات رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے بدظن ہوجائیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟”۔ وہ حل سوچنے لگا۔ شہر کالے آسمان سے گھرا ہوا تھا۔ محسوس ہوتا تھا کہ طوفان آنے والا ہے۔ اچانک ایک تدبیر دماغ میں آئی اور وہ کھل کر مسکرایا۔ اسے اب دیر نہیں کرنی چاہیے تھی۔ وہ جلدی سے گاڑی کے بونٹ پر سے اترا اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔ بجلی کی کڑک سے پورا شہر گونج رہا تھا۔ وہ گاڑی اب تیز چلا رہا تھا شہر بھیگ رہا تھا اور سڑکوں پر پانی تھا۔ اس نے پھولوں کی دکان کے آگے گاڑی روکی۔
“کیا یہاں پھول ہوں گے؟”۔ وہ لمبا سا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ بجلی کڑک اس کی آواز کو دبا رہی تھی۔ تیز ہوا اس کے کوٹ کو اپنی سمت کھینچ رہی تھی۔
“یہ پھولوں کی ہی دکان ہے بچے”۔ وہ ایک لمبے کوٹ میں موجود بوڑھا شخص تھا جو اب مسکرا کر بتا رہا تھا۔
“اوہ جی جی۔۔۔” وہ بھی جواباً مسکرایا۔ “مجھے ایک بہت خوبصورت سا بکے ملے گا؟”۔ وہ ان پھولوں کے درمیان کوئی مہکتا پھول ڈھونڈ رہا تھا۔
“یہ گلاب کے پھول ہیں۔۔۔” اس بوڑھے دکان دار نے ایک چھوٹا بکے آگے بڑھایا۔
“یہ تو واقعی خوبصورت ہے”۔ وجدان نے اس اپنے چہرے کے قریب کیا۔
“ہاں ابھی تک تو ہے۔ یہ بارش ان پودوں کے لیے جہاں مفید ہیں وہی یہ بارش انہیں تباہ بھی کرسکتی ہے۔ اگر یہ زیادہ بارش میں نہائے تو ختم نہ ہوجائیں کہیں۔ لگتا ہے آج کا کاروبار میرا بارشوں کی نظر ہوجائے گا”۔ وہ اس مشکل گھڑی میں بھی مسکرا رہے تھے۔
“انکل خدا خیر کرے گا”۔ اس نے جیب میں سے جلدی جلدی پیسے نکال کر دیے کہ کہیں وہ بھیگ نہ جائیں۔
“یہ پیسے تو پھولوں کی قیمت سے بھی زیادہ ہیں میرے بچے؟”۔ وہ ہاتھ میں پکڑے پیسے کو حیرانی سے دیکھتے ہوئے بولے۔
“یہ میری طرف سے ہیں۔ مجھے اپنا بیٹا سمجھ کر یہ پیسے قبول کریں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو”۔ وہ کہتا تیزی سے پلٹا۔ “لگتا ہے آج کی رات شہر بھیگ جائے گا۔ مجھے جلد از جلد گھر پہنچنا ہے۔ شاید وہ میرا انتظار کررہی ہو”۔ وہ ہاتھ ہلاتا مسکراتا ہوا گاڑی میں بیٹھنے لگا۔
“اللہ کرے جس کے لیے تم نے یہ پھول لیے ہیں وہ تمہیں ناامید نہ لوٹائے”۔ اس ادھیڑ عمر شخص نے اسے دل سے دعا دی تھی۔
“بس خدا کرے ایسا ہی ہو”۔ وہ آمین کہتا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
کھڑکی کے اندر آتی بارش اسے بھگا رہی تھی اور وہ پریشان نگاہوں سے وجدان کا انتظار کررہی تھی۔ دن ڈھل رہا تھا اور کالے بادلوں نے وقت سے پہلے رات کا سما بکھیر دیا تھا۔ اس کا دل ہول اٹھا رہا تھا۔ وجدان ابھی تک نہیں آیا تھا۔ بجلی کی آواز جہاں اسے خوف دے رہی وہاں وجدان کے لیے ہوتی فکر بڑھ رہی تھی۔ دل خدشات ظاہر کررہا تھا۔ رات ہوگئی تھی مگر وہ لوٹا نہیں۔۔۔ اس کے آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ اسے کیا کرنا چاہیے؟ مجبوراً کھڑکی بند کرنا پڑی کیونکہ بارش کا پانی کمرے میں کھڑکی کے ذریعے داخل ہوکر فرش گیلا کررہا تھا۔ بارش اور ہوا اتنی تیز تھی کہ وہ کھڑکی سے کچھ دور بھی دیکھ نہیں پارہی تھی۔ اس نے گھر کے تمام کمرے کی کھڑکیوں سے باہر جھانکا، مگر جب وہ نظر نہ آیا تو کھڑکیاں بند کردیں۔ دھواں دھار بارش اور بجلی کی آواز اتنی تیز تھی کہ برابر کمرے میں بجتے فون کی آواز بھی اسے نہ آسکی۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد اس نے بستر سے موبائل اٹھایا تو اس میں وجدان کی تین مس کالز اب تک آچکی تھیں۔ اس نے خود کو جی بھر کر کوسا کہ وہ اس کی کالز کی آواز نہ سن پائی۔ نجانے وہ کس حال میں تھا۔ سڑکیں بارش کے باعث سنسان تھیں۔ اس نے وجدان کو کال بیک کرنا چاہا مگر وجدان کا فون بند ہونے کی خبر ملی۔ اس کا دل گویا حلق میں آگیا۔ اس نے میسج باکس دیکھا تو وجدان کا موصول ہوا میسج دیکھ کر جان میں جان آئی۔
“میں ٹھیک ہوں”۔ اس کا آیا ہوا تین لفظوں کا میسج صالحہ کو اطمینان دلاگیا۔ وہ بستر پر ٹیک لگا کر اطمینان سے بیٹھ گئی۔
“ممکن ہے کہ وہ قریب میں اپنے دوست کے گھر ٹہھر گئے ہوں”۔ وہ خود سے کہتی بستر پر لیٹ گئی تھی۔ دن بھر کی تھکی ہاری جب نرم بستر پر لیٹی تو منٹوں میں نیند نے اسے آلیا۔ وہ اس بات سے انجان تھی کہ اس کا مجازی خدا باہر پانی سے بھری سڑک پر کھڑا اسے آوازیں دے رہا ہے تاکہ وہ اندر آسکے۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ دروازہ زور سے بجا رہا تھا مگر بجلی اور بارش کی آوازوں کے درمیان اس کی یہ آواز دب رہی تھی۔ ہاتھوں میں پھولوں کے بکے پکڑا وہ بےبس کھڑا تھا۔۔۔ بہت رات ہوگئی تھی اور اب شاید صالحہ سوچکی تھی۔ آخر جب وہ تھک گیا تو گیٹ سے ٹیک لگائے زمین پر بیٹھ گیا۔ صبح غصے میں وہ گھر کی چابی لے جانا بھی بھول گیا تھا۔ ٹھنڈ اسے کپکپانے پر مجبور کررہی تھی۔ وہ لمبا کوٹ اب مکمل گیلا ہوچکا تھا۔ بکے سینے پر کس کر پکڑتے ہوئے وہ وہیں بیٹھے بیٹھے جب تھک گیا تو سوگیا۔ وہ پھول مرجھا جائیں گے وہ جانتا تھا۔ گاڑی راستے میں ہی کہیں خراب ہوگئی تھی اس لیے وہ اس لاک کرکے آدھا راستہ پیدل آیا تھا۔ نجانے اس میں کون سی مصلحت تھی؟۔ صبح چھ بجے اس کی آنکھ ہلکی ہلکی روشنی سے کھلی۔ اس نے وقت کا اندازہ لگایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ کل رات اس کا شہر بارش میں بھیگ گیا تھا۔ کل رات کب بارش رکی تھی اسے علم نہ ہوسکا۔ کپڑے اب بھی بھیگے ہوئے تھے البتہ سڑک پر پانی گزری رات کے مقابلے میں کم تھا۔ یہ سوچ کر کہ صالحہ معمول کے مطابق اٹھ چکی ہوگی وہ پھر سے دروازہ بجانے لگا۔
نماز میں اس کے لیے دعا مانگتی صالحہ نے اس کی آواز سنی تو بھاگتی ہوئی نیچے آئی اور دروازے پر لگا تالا کھولنے لگی۔ وہ بکے جو اس کے ہاتھ میں تھا وہ اب خراب ہوچکا تھا۔ وجدان نے ایک نظر اس بکے پر ماری اور اندر سے دروازے کھولتی صالحہ کو محسوس کیا۔ وہ بکے اب اس لائق نہیں رہا تھا۔ ایک دو قدم پیچھے رکھا علاقے کے ڈسٹ بن میں اس نے وہ اچھال کر پھینک دیا۔ دروازہ کھلا تو صالحہ نے باہر جھانکا۔ وہ پلٹ کر دروازے کی جانب آرہا تھا۔ وہ تھوک نگل کر پیچھے ہوئی تو وہ اندر داخل ہوا۔
“آپ ٹھیک ہیں؟”۔ اس نے نظریں جھکائی صالحہ کو دیکھا۔ صالحہ نے بات سن کر اثبات میں سر ہلایا تو اسے اطمینان محسوس ہوا۔
“آپ؟”۔ کل کی رنجش بھلائے وہ اس سے بہت نرمی سے پوچھ رہی تھی۔
“مجھے کیا ہونا ہے”۔ وہ جیسے خود سے خفا تھا۔ شاید اس لیے استہزایہ ہنسا تھا۔ صالحہ کو اس کا لہجہ عجیب لگا تھا۔ وہ اس سے کوئی گفتگو کیے بنا اوپر چلی گئی۔ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ اس کے لیے کل پوری رات پریشان رہی ہے۔ اسے اوپر جاتا دیکھ کر وجدان کو محسوس ہوا کہ وہ اب بھی اس سے سخت خفا ہے۔ اس نے نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیے۔ بھوک کی شدت سے پیٹ آوازیں کررہا تھا۔ صالحہ کو ادھر ادھر تلاش کیا مگر شاید وہ اسٹڈی روم میں تھی۔ یہ سوچتا ہوا کچن میں داخل ہوا کہ کاش وہ اسے ناشتہ بنادیتی۔ تھکن سے چور وہ کچن میں کھڑا اپنے لیے انڈہ فرائی کررہا تھا۔ اتنے میں صالحہ کچن میں آئی۔
“میں نے اپنے لیے ناشتہ بنایا تھا مگر اب مجھے بھوک نہیں۔۔۔ میں نے اسے ڈھانپ دیا تھا۔ آپ وہ کھالیں۔ خوامخواہ رزق کا ضیاع ہوگا”۔ وہ اسے ٹرے کی طرف اشارہ کرتی پھر سے مڑ گئی۔ وجدان نے ٹرے پر سے تینوں پلیٹیں اٹھائیں تو اس میں گرم گرم پراٹھا، انڈہ اور چائے رکھی تھیں۔ خوشبو سے جہاں اس کی بھوک بھڑکی وہیں وہ یہ سوچ کر بجھ سا گیا کہ کیا جاتا اگر وہ اس کا دل رکھنے کے لیے یہ ہی کہہ دیتی کہ اس نے وجدان کے لیے ناشتہ بنایا ہے۔ جلدی جلدی ناشتہ حلق میں اتارتا وہ کمرے میں چلا آیا۔ کھڑکی کھلی ہوئی تھی اور صالحہ بستر پر بیٹھی اپنا اسائمنٹ بنارہی تھی۔
“سات سے اوپر ہورہے ہیں۔ آپ کو اسکول چھوڑ کر آنا ہے؟”۔ یہ سوچے بغیر کے گھر کے باہر گاڑی نہیں ہے وہ اس سے بات کرنے کی کوشش کرنے لگا۔
“جی نہیں”۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“آپ کی ریپوٹیشن اچھی نہیں جائے گی اسکول میں”۔ نیند سے آنکھیں بند ہونا چاہتی تھیں مگر وہ زبردستی انہیں کھول کر بیٹھا تھا۔
“شہر بھر میں بارش کے باعث اسکول کی جانب سے تعطیل کی اطلاع آئی ہے”۔ وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ بلکہ فائلز پر لکھتے ساتھ ہی جواب دے رہی۔ وہ “ہونہہ” کرتا بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹا اور آنکھیں موند لیں۔ صالحہ نے اسے سوتے دیکھا تو اپنے کاغذات اٹھاتی، لائیٹ بند کرنے لگی۔ وہ اب اسٹڈی روم میں پڑھنے جارہی تھی۔
“لائٹ بند مت کیجیے گا۔ آپ آرام سے یہیں پڑھ لیں۔ معافی چاہتا ہوں بےدھیانی میں بستر پر ہی لیٹ گیا”۔ وہ ادھ کھلی آنکھوں سے تکیہ لے کر اٹھا اور صوفے پر جا لیٹا۔ آج تھکن کا کچھ اور ہی معیار تھا۔ بال بکھرے ہوئے اور بدن تھکن سے چور۔ صالحہ کے دل میں آیا کہ اس سے کہے کہ بستر پر ہی آپ آج سوجائیں میں صوفے پر بیٹھ کر پڑھ لوں گی، مگر کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کے صوفے پر لیٹ جانے پر وہ پھر سے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس نے اٹھ کر لائیٹ بند کی تو وجدان نے آنکھیں کھول دیں۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کی وجہ سے کسی دوسرے کمرے میں جائے۔
“آپ نے لائیٹ کیوں بند کی؟”۔ خمار آلود لہجے میں وہ پوچھ رہا تھا۔
“کیونکہ میں سائیڈ لیمپ جلا رہی ہوں”۔ وہ مدھم آواز میں کہتی ہوئی سائیڈ لیمپ اپنے آگے رکھ کر جلانے لگی۔ اس لیمپ سے نکلنے والی روشنی اس کے پڑھنے کے لیے کافی تھی۔ وجدان نے ایک نظر اسے دیکھا اور آنکھیں موند لیں۔ آنکھیں بند کرتے ہوئے نظروں میں آخری بار اس کا چہرہ آیا تھا۔ وہ اب بنا کسی کو سوچے نیند کی وادیوں میں اتر چکا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔