Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11


زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۱
“آپ نے کچھ کیوں نہیں کہا کبیر صاحب”۔ طلعت نے گیلی ہوتی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے کہا۔
“مجھے خوف محسوس ہورہا ہے طلعت۔۔ وہ تو ابھی اتنی بڑی بھی نہیں! ایک انجان شہر میں کیسے رہے گی۔۔۔ اور اس شخص کی فطرت کا بھی علم نہیں”۔ ان کے لہجے میں خوف واضح تھا۔
“داجی کا ایک فیصلہ میری دھی کی زندگی برباد نہ کردے کبیر”۔ انہوں نے افسوس سے بستر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
“مجھے یہ امید نہیں تھی حیدر سے”۔ کبیر صاحب نے نفی میں سرہلایا۔
“آپ تو کہہ سکتے تھے داجی سے۔۔۔”۔ انہوں نے شوہر کو دیکھا۔
“میں کیسے کہتا طلعت”۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے بےدردی سے چہرہ رگڑا۔
“ہاں! جو شخص اپنی بہن کے وقت نہ بول پایا وہ اپنی بیٹی کے وقت کیسے بول سکتا تھا”۔ لہجہ صاف طنزیہ تھا۔ کبیر نے کرب سے آنکھیں میچیں۔ دو آنسو آنکھوں سے نکلے اور گال پر بہنے لگے۔
“خدارا ایسا مت کہا کرو طلعت۔۔۔ میں اندر سے مرنے لگتا ہوں”۔ وہ ہاتھ جوڑ کر تڑپ کر بولے تھے۔
“سچ سہہ نہیں پاتے نا؟۔ آپ نے تو گزارلی زندگی اطمینان سے۔۔۔ وہ آپ کی بہن تھی کبیر۔۔۔ وہی بہن جس سے خود سے زیادہ محبت کرتے تھے نا آپ؟ جب اسے آپ کی ضرورت پڑی تو آپ داجی کے ساتھ کھڑے ہوگئے؟ اس نے اپنی زندگی اسی کمرے میں گزاردی۔۔۔ جوانی کا حسن ایسے ہی ختم ہوگیا اس کا۔۔۔ آپ نے بھی تو پسند کی شادی کی ہے کبیر۔۔ کیا آپ پسند نہیں کرتے تھے مجھے؟۔ کیا آپ کا رشتہ نہیں آیا تھا میرے لیے؟۔ اس کا بھی آسکتا تھا۔۔ بشارت حسین کا بھی آسکتا تھا اس حویلی میں اس کا ہاتھ مانگنے مگر آپ لوگوں نے ایسی نوبت ہی نہ آنے دی۔ اس کی محبت اس سے چھین لی اور وہ ناامید ہو کر گاؤں سے چلا گیا”۔ وہ کٹیلے لہجے میں بہت کچھ بول گئی تھیں۔ کبیر کا دل نے کسی نے مٹھی میں جکڑا۔
“میں تھک گیا ہوں”۔ وہ نڈھال ہوگئے۔ “داجی سے کچھ کہنا میرے بس کی بات نہیں ہے طلعت”۔
“یعنی ہماری دھی کی زندگی برباد؟”۔ انہوں بنھویں اچکا کر پوچھا۔
“دعا کرو تمہارا داماد بہت اچھی فطرت کا ہو۔ وہ اس کا بہت خیال رکھے طلعت۔ دعا کرو وہ ارحم کو بھول جائے اور اپنے شوہر کے ساتھ اچھی ازدواجی زندگی گزارے۔۔۔ بس اب ہم دعا ہی مانگ سکتے ہیں۔ وہ حویلی سے نکل جائے گی مجھے بہت خوشی ہے۔ پھر اسے ابا جان کے اصولوں پر نہیں چلنا پڑے گا”۔ وہ تھک گئے تو بستر پر لیٹ گئے۔ طلعت زمین پر کھڑی ہوگئی اور باہر جانے کے لیے چادر اور چپل پہنے لگیں۔
“آپ کو زمینوں پر نہیں جانا؟”۔ انہوں نے مڑ کر ان سے پوچھا۔
“میں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں”۔ انہوں نے کروٹ لیتے ہوئے کہا تو طلعت اثبات میں سرہلاتیں باہر نکل گئیں۔
۔۔۔★★۔۔۔
“باقی شاپنگ کرنے کب جائیں گے بھائی؟”۔ وجیہہ نے کھانے کی میز پر چمک کر پوچھا۔
“تم لسٹ بنالو! کل کی چیزوں میں جو جو کمی تھی ہم وہ اگلی بار پوری کردیں گے”۔ وجدان نے وقت دیکھتے ہوئے کہا۔
“آپ ابھی واپس جارہے ہیں آفس؟”۔
“ہاں صرف دوپہر کے کھانے کے لیے آیا تھا”۔ وجدان نے مسکرا کر جواب دیا اور کھانا ختم کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔
“کب آئیں گے؟”۔ وجیہہ نے اداسی سے پوچھا۔
“اب کام کا بوجھ نہیں۔۔۔ جلدی آجاؤں گا”۔ وہ مسکراتا ہوا کچن سے ہاتھ صاف کرتا اس کے بال بکھیرتا چلاگیا۔ وجیہہ نے دکھ سے اسے جاتے دیکھا۔ وہ اس گھر سے جانے سے پہلے اپنے بھائی کے ساتھ بہت سا وقت بتانا چاہتی تھی۔ گہری سانس لیتی ہوئی برتن سمیٹتی وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ شاہ جی سے بات کرکے اب مطمئن بیٹھی تھی۔ اس نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑدیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اللہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جو اس کے لیے بہتر ہوگا۔
“پھپھو۔۔۔ چلیں اٹھیں آپ کے بال بناؤں۔ آپ کیا میرے بغیر بال بھی نہیں بناسکتیں۔۔ میں شادی ہو کر چلی جاؤں گی تو بھی ایسی ہی رہیں گی پیاری پھپھو۔۔۔؟ چلیں اٹھیں نا”۔ وہ انہیں نیند سے جگاتے ہوئے بولی۔۔ افشاں کسمساتے ہوئے حیرانی سے اسے دیکھنے لگی۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہیں پیاری پھپھو؟ میری شادی نہیں ہوسکتی کیا۔۔ آپ کو پتا ہے داجی نے میرا رشتہ پکا کردیا”۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھیں۔
“کیا ہوا پھپھو؟ آپ۔۔۔ آپ۔۔۔ غلط سمجھ رہی ہیں جس سے رشتہ پکا کیا ہے وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔۔۔” وہ جس دل سے یہ بات کررہی تھی یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔ افشاں کا چہرہ فق ہوگیا۔ داجی نے ایک اور لڑکی کی زندگی برباد کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔
صالحہ نے نظریں چرانی چاہیں۔
“آپ کو لگ رہا ہے کہ جو حال فضیلہ باجی کا ہوا ہے وہ میرا ہوگا؟ ہے نا؟ نہیں ہر کوئی فضیلہ باجی کے شوہر جیسا نہیں ہوتا۔۔ داجی نے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا تھا اور زبردستی ایک شخص سے شادی کروادی تھی۔۔۔ مگر وہ شخص اچھا نہیں نکلا۔۔۔ مگر اس کا۔۔۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ۔۔کہ میری بھی شادی ایسے ہی کسی شخص سے ہوگی؟۔ وہ دکھنے میں بہت اچھا ہے اور یقیناً اچھا آدمی بھی ہوگا۔۔ وہ ویسے بھی مجھے پسند کرتا ہے اور بہت محبت سے لایا یے رشتہ۔۔۔” اس نے زندگی میں اتنے جھوٹ کبھی نہیں بولے تھے جتنے اب کہہ دیے تھے۔
وہ اب بھی اسے ہونقوں کی طرح دیکھ رہی تھیں۔
“پھپھو۔۔۔ موڈ ٹھیک کریں۔ اور ہاں! مہندی آپ لگائیں گی میری! آپ بھی کام والا سوٹ پہنیں گی۔ میرے لیے وہ دن اسپیشل بنانے میں میری مدد کریں گی نا؟”۔ اس نے محبت سے انہیں دیکھا تو وہ تیزی سے سرہلانے لگیں۔
“پھر ٹھیک ہے۔۔ اس ہفتے کو شادی یے میری تو آپ میرے لیے اچھے اچھے کہڑے پہنیں گی جب تک میری شادی نہیں ہوجاتی میں آپ کو تیار رہتے دیکھوں۔ کیونکہ شادی کے بعد میں شہر چلی جاؤں گی اور پھر جب بھی میں آپ کو سوچوں گی تو مجھے مسکرانے والی افشاں پھوپھو ملیں گی”۔ اس نے مسکراتے ہوئے ان کا پیلا سوٹ نکالا جو کہ کتنے سال پرانا تھا۔
“شاہ جی نے پرہیزی کھانا بنادیا ہے۔ وہ ایک بہت اچھے باورچی ہیں”۔ وہ اب موضوع بدل کر شاہ جی کا ماضوع لے آئی۔ وہ شاجی کا موضوع جان بوجھ کر نکالنا چاہتی تھی۔ تھوڑا تھوڑا کرکے داستان دل تک پہنچانا چاہتی تھی۔
“آپ کو پتا ہے انہوں نے کبھی شادی ہی نہیں کی”۔ وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی کپڑوں کو ہینگر سے نکال رہی تھی۔۔ “آج صبح جب میں باغ میں بیٹھی تھی تو وہ مجھے اپنی کہانی سنانے لگے۔ ان کی زندگی میں ایک لڑکی تھی جو کہ بہت خوبصورت تھی بلکل آپ کی طرح۔۔۔” اس نے یہ کہتے ہوئے سنگھار میز کے آئینے میں دیکھا تاکہ اس میں آنے والا افشاں کا عکس دیکھ سکے۔ افشاں جو بالوں میں جوڑا باندھ رہی تھی، اس کا ہاتھ لمحہ بھر کو بال گھماتے ہوئے رکا۔
“وہ کہہ رہے تھے کہ وہ اس کے عشق میں اب تک اس قدر مبتلا ہیں کہ آج تک شادی نہیں کر پائے۔۔۔”۔
“وہ لڑکی ایک حویلی میں رہتی تھی اور۔۔۔۔” اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑنی چاہی جس پر افشاں نے مڑ کر اسے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو “اور”؟۔
“پھر اس لڑکی کی شادی ہوگئی! مگر وہ ابھی بھی اسی سے عشق کرتے ہیں”۔ اس نے آخر میں کہانی تبدیل کردی مگر وہ اتنا جان گئی تھی کہ وہ بشارت حسین کا پتہ پھینک چکی ہے۔
افشاں مطمئن ہوگئی اور بالوں کا جوڑا بنانے لگی۔
“یہ جوڑا میں جلدی سے استری کرکے لارہی ہوں پھپھو”۔ اس نے مسکرا کر بتایا اور باہر نکل آئی۔
وہ نگاہیں موڑ کر اس کی پشت تکتی رہ گئیں۔ انہیں محسوس ہوا کہ شاہ جی اور ان کی داستان ملتی جلتی یے۔
۔۔۔★★۔۔۔
وہ ٹھیک نہیں تھی۔ اس کا دل ہول اٹھا رہا تھا اور اسے اپنی دنیا اجڑتی محسوس ہورہی تھی۔
“آپ اداس ہیں؟”۔ مردانہ آواز پر وہ جھٹکے سے مڑی تھی۔ وہ اسے یک ٹک تک رہا تھا اور اب وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کررہی تھی۔
“نہیں تو”۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
“رشتوں کا غم منا رہی ہیں اور رشتہ بھی وہ جو ابھی قائم بھی نہیں ہوا تھا”۔
“خدارا شاہ زل صاحب۔۔۔ مجھے اکیلا چھوڑدیں۔ میں کچھ دیر تنہا رہنا چاہتی ہوں”۔ ثریا تڑپ کر بولی۔
“جارہا ہوں میں مگر یہ یاد رکھیے گا کہ وہ شخص کبھی آپ کا نہیں تھا جس نے کبھی آپ کو خود کے لیے پکارا نہ ہو، جس نے ہمیشہ آپ کو دیکھ کر اپنا رستہ بدل لیا ہو”۔ وہ لال ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھتا ہوا مڑ گیا۔ ثریا کو لگا اس کے اندر کچھ ٹوٹا ہے۔ ہاں وہ اس کا دل تھا جو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تھا۔
۔۔۔★★۔۔۔
اتوار کا دن بھی یوں ہی گزر گیا۔ جیسے جیسے وقت گزررہا تھا صالحہ کے دل میں وحشتیں بڑھتی چلی جارہی تھیں۔
“آج ہم شہر سے اس کا عروسی جوڑا بھی لے آئیں گے”۔

وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آرہی تو سمیعہ تائی نے ماحول خوشگوار کرنے کے لیے اسے دیکھ کر بات کہی تھی۔ وہ خاموش رہی۔

“تائی ثریا کہاں ہے؟”۔ اس نے دوسری بات کرنی چاہی۔۔

“وہ اوپر ہی ہوگی”۔ انہوں نے پھیکی مسکراہٹ چہرے پر عیاں کرتے ہوئے اسے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے میں اس سے مل کر آتی ہوں”۔ وہ کہہ کر مڑنے لگی۔
“تم حویلی میں کچھ دن ہی اور ہو صالحہ۔۔۔ یہ پل ہمارے ساتھ بیٹھ کر گزار لو۔ کسے خبر کہ پھر تمہارا حویلی آنا ہو کہ نا ہو۔ کون جانے ہماری سانسوں کی بھار کل ہو نہ ہو”۔ ان کی آنکھیں یہ کہتے ہوئے گیلی ہوگئی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ صالحہ کو اپنی بہو کی روپ میں ہی دیکھا تھا۔ کب ارحم انہیں چھوڑ گیا، سب کل کی باتیں لگتی تھیں۔ صالحہ کے قدم بےاختیار بھاری ہوئے۔ طلعت نے اسے دیکھا اور آنکھیں میچ کر چہرہ نیچے جھکا لیا۔ صالحہ بےجان ہوتے وجود کے ساتھ چلتی ہوئی ان کے برابر صوفے پر آبیٹھی۔
“اللہ شادی کے بعد تمہاری ازدواجی زندگی میں برکت ڈالے۔۔” شمیلہ چچی نے اس کی پیشانی چوم کر دعا دی تو وہاں بیٹھی عورتوں نے دل سے آمین کہا تھا۔
“داجی نے کل رات سب کو کمرے میں بلایا تھا یعنی ہم عورتوں کو!”۔ سمیعہ تائی نے محبت سے اپنے ہاتھوں سے اس کے بال سنوار کر بتایا۔ اس نے نگاہیں اٹھا کر تائی کو دیکھا ۔
“وہ کہہ رہے تھے کہ ہفتے کو شادی ہے تو جمعہ کو شہر جانے کے لیے سامان باندھ لو سب۔۔ وہ گھر جو شہر میں خرید رکھا ہے وہاں قیام ہوگا۔۔ میں اور شمیلہ سوچ رہے ہیں کہ ہم دونوں پہلے چلیں جائیں اور تمہاری شادی کی خریداری کر کے اس گھر میں ہی انتظام کرلیں۔۔ کیونکہ بازار بار بار جانا ہوگا۔ تم باقی افراد کے ساتھ جو جو شادی میں شرکت کرے گا اور حیدر کے ساتھ جمعہ کو شہر آجانا”۔
صالحہ نے انہیں حیرت سے دیکھا۔
“اور پھپھو؟”۔ اس نے آنکھیں پھاڑ کر پوچھا۔ “اگر ایسے ہوگا تو پھپھو کیسے شرکت کریں گی؟”۔
سمیعہ تائی نے نطریں چرائیں۔
“آپ نظریں کیوں چرا رہیں ہیں تائی؟؟ بتائیں شمیلہ چچی پھپھو کیسے شرکت کریں گی پھر؟؟”۔ اس نے بنھویں اچکا کر پوچھا۔ “میں ان کی شرکت کے بغیر نکاح نہیں کروں گی اماں”۔ اس نے باری باری تینوں کو دیکھا۔۔
“ضد چھوڑ دو صالحہ!! تمہیں داجی کا معلوم ہے”۔ طلعت نے سمجھانا چاہا مگر اس نے تیزی سے نفی میں سرہلانا شروع کردیا۔
“اماں میری خواہش کی ذرا بھی اہمیت اس حویلی میں؟ وہ سب کررہی ہوں میں جو داجی نے کہا۔۔ کر تو رہی ہوں نکاح! کر تو رہی ہوں پھپھو کو خود سے دور۔۔ مگر نکاح میں ان کی موجودگی چاہئیے مجھے اماں!”۔
“خود سوچنا اس بارے میں صالحہ کہ یہ قدم ٹھیک ہوگا یا نہیں۔۔ وہ مرجائے گی تمہارے بغیر۔۔ وہ تمہیں رخصت ہوتے دیکھے گی تو وہ مرجائے گی صالحہ۔ اسے اس حویلی میں مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔ کیا چاہتی ہو تمہارے بعد وہ مرجائے؟”۔ شمیلہ نے ٹہھرے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ خاموش ہوگئی کہ اب کہے تو کیا کہے۔۔۔
صالحہ نے لب بھینچے۔ وہ اثبات میں سرہلاتی اٹھ گئی۔۔
وہ آج سے پہلے اتنی بےبس کبھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے اندر کی بغاوت کہیں کھو گئی۔ بغاوت کرکے جو فتح کا احساس ہوتا تھا وہ بھی اب کہیں کھوگیا تھا۔ ہر کسی کو حق دلاتے دلاتے خود کے حق کے لیے بھی نہ لڑ پائی۔
میرے دشمنوں سے کہو کوئی
وہ کبھی جو عہد نشاط میں
مجھے خود میں اتنا غرور تھا
کہیں کھوگیا۔۔۔
وہ جو فاتحانہ خمار میں
میرے سارے خواب نہال تھے
وہ نہیں رہے۔۔۔
کہ بس اب تو دل کی زبان پر
فقط ایک قصہ حال ہے
جو نڈھال ہے۔۔۔
جو گئے دنوں کا ملال ہے
۔۔۔٭٭۔۔۔
“اس ہفتے؟ کیا تجھے نہیں لگتا کہ یہ بہت جلدی ہوجائے گا؟؟”۔ زید نے حیرت سے آنکھیں پھاڑی تھیں۔
“یہ سب میرے اختیار میں ہی نہیں تھا”َ۔ اس کی انگلیاں لیپ ٹاپ کے کیبورڈ پر تیزی سے چل رہی تھیں۔
“مگر شادی ان کی بیٹی سے تو تم کررہے ہو نا؟ پھر بھی تمہاری رائے نہیں پوچھی گئی؟۔ سلام ہے تمہاری عقل پر!”۔ اس نے وجدان کو گھور کر دیکھا۔
“میں بےبس ہوں یار۔۔ بس اب ٹاپک تبدیل کرو تھک گیا ہوں میں”۔ اس نے قدرے اکتا کر کہا اور لیپ ٹاپ ہاتھ سے پیچھے کرکے چیئر کی پشت سے ٹیک لگالیا۔
“خریداری کرلی شہزادے”؟۔ زید نے اخبار اپنے چہرے کے سامنے پھیلایا۔

“ابھی پوری نہیں ہوئی۔ دو تین دن میں ان شاءاللہ مکمل ہوجائے گی! سوچ رہا ہوں ایک ہفتہ نہ آؤں آفس۔۔۔ وجیہہ کے ساتھ وقت گزاروں۔ اس کے رخصت ہونے کا سوچتا ہوں تو دل بھر آتا ہے”۔ اس نے دکھ سے کہا اور اٹھ کر گلاس وال سے باہر دیکھنے لگا۔ زید نے اخبار رکھ کر اپنا موبائل اٹھایا۔

ٹھیک سوچ رہے ہو اگر میں بھی تمہاری جگہ ہوتا تو یہی کرتا”۔ وہ ساتھ ساتھ موبائل پر ٹائپ بھی کررہا تھا۔۔
“تمہاری شادی کب ہے؟”۔ وجدان نے مڑ کر اسے دیکھ کر پوچھا۔
زید نے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔
“اب تو ایک مہینے سے بھی کم وقت رہتا ہے”۔ اس نے پھر سے نظریں موبائل پر مرکوز کرلیں۔ “تو اپنی بیوی کے بغیر میری شادی میں آیا تو وہیں سے باہر کردوں گا”۔ اس نے یہ بات بنا کسی تاثر کے کہی تھی۔ وجدان نے آنکھیں ماتھے پر رکھ کر اسے گھورا۔
“تو یہاں میری مجھے زچ کرنے کے لیے بیٹھا ہے؟”۔ وجدان کے دانت پیسنے پر زید اپنی ہنسی نہ روک سکا۔۔
“مطلب بیوی والے ہوجاؤ گے نا؟۔ بس پھر اگلے ہفتے کارڈ دینے تیرے گھر پہنچ جاؤں گا اور سیدھا بھابھی کو پکڑادوں گا”۔ وہ اسے چھیڑنے سے باز نہیں آرہا تھا اور وجدان غصہ بمشکل ضبط کررہا تھا۔
“بس کردو زید! میں ان سب کے موڈ میں نہیں”۔ اس نے گہری سانس لے کر سنجیدگی سے کہا۔
“میں صرف تمہارا موڈ ٹھیک کررہا تھا”۔ اس نے کندھے اچکائے۔
“مت کیا کرو”۔ وہ تھک کر کرسی پر بیٹھ گیا اور سر کرسی کی پشت پر رکھ دیا۔ زید کچھ دیر اسے یونہی دیکھتا رہا، مگر پھر اس سے رہا نہیں گیا۔
“کیا ہوا وجدان؟ چلو آؤ تمہارا موڈ فریش کرتے ہیں”۔ وہ اٹھ کر موبائل جیب میں ڈالتا ہوا بولا۔
وجدان نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھ اور پھر دوسری جانب کرلیں۔ زید چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“آجاؤ لنچ کرتے ہیں کسی اچھے سے ریسٹورینٹ سے”۔ اس نے وجدان کو اٹھانا چاہا۔
“یہیں منگوالو میں کال کردیتا ہوں”۔ اس نے ٹیلیفون کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا مگر زید نے اسے روک دیا۔
“نہیں ہم باہر چلتے ہیں”۔ اس نے پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور بازو سے پکڑتا باہر نکلنے لگا۔ وجدان جنجھلا کر رہ گیا تھا مگر اب اسے زید کے ساتھ جانا پڑرہا تھا۔
“میرا موبائل لے لینے دو میز سے مجھے”. اس نے مڑ کر موبائل اٹھایا اور اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔
۔۔۔★★۔۔۔
شرجیل باغ میں ہی بیٹھا تھا جب اسے حویلی کے گیٹ پر ہلکا شور محسوس ہوا۔ ماتھے پر بل ڈال کر وہ اٹھا ہو اور باہر کی جانب بڑھا۔ چوکیدار کسی سے بحث کررہا تھا۔ وہ بنھویں اچکاتا آستین کے کف فولڈ کرتا وہاں تک آیا۔
“آپ نہیں مل سکتے! غضب ہوجائے گا اگر داجی نے دیکھ لیا۔ چلے جائیں ضد پر کیوں اڑے ہیں؟”۔ چوکیدار مسلسل دروازے سے باہر منہ کیے کسی سے بات کررہا تھا۔ شرجیل نے پیچھے سے دروازہ پکڑا تو چوکیدار نے مڑ کر شرجیل کو دیکھا۔
“کیا ہورہا یے یہاں پر؟”۔ اس کے لہجے میں بلا کی سختی تھی۔
“خالد صاحب آئیں ہے اور بار بار ایک ہی بات دہرارہے ہیں کہ ان کی بیٹی سے ملوایا انہیں”۔ چوکیدار نے اشارہ باہر کی جانب کیا تو شرجیل کی نظریں باہر کی جانب اٹھیں۔
“مجھے میری بیٹی سے ملوادو شرجیل صاحب۔ مجھے اپنی بیٹی کا چہرہ دیکھنا ہے”۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اپنے داماد کے آگے گڑگڑانے لگے۔
“آپ جانتے ہیں کہ اب آپ کا اس سے ملنا کبھی نہیں ہوسکتا”۔ اس نے ماتھے پر بل ڈال کر سنجیدگی سے کہا۔
“ایسا مت کرو خدارا۔۔ اس سے ملوادو۔۔۔ میری بچی سے۔ میری بچی سے ملوادو۔۔ پتا نہیں وہ کیسی ہوگی”۔ وہ تڑپ رہے تھے اور شرجیل انہیں تڑپتا دیکھ رہا تھا۔
“ہمارے در پر تو آپ لوگوں نے ہی پھینکا تھا یاد کریں”۔ وہ کٹیلے لہجے میں باور کرواتا ہوا بولا۔
“اپنے بیٹے کے جرم کی وجہ سے اپنی بیٹی قربان کردی میں نے”۔ آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
“یہ سب پہلے سوچنا چاہیے تھا”۔ اس نے نظریں پھیریں۔
“اس کی ماں مرجائے گی اگر یہ کچھ دن اور اسے نہ دکھی۔ مجھ سے ملوادو میری بچی کو تاکہ میں اس کی ماں کو بھی تسلی دے سکوں”۔ وہ اب بھی گڑگڑا رہے تھے۔ شرجیل کا دل کسی نے مٹھی میں لیا تھا۔
“کیا تسلی دیں گے اور کیا تسلی ملے گی آپ کو اسے دیکھ کر۔۔۔ وہ ونی بن کر آئی ہے خالد صاحب ناکہ اس حویلی کا حصہ بن کر!”۔ وہ آنکھیں گڑا کر ایک ایک لفظ چبا کر ادا کررہا تھا۔ “ٹہھریں یہیں پر! آتا ہوں لے کر اسے!”۔ چاہتے ہوئے بھی وہ اپنے دل کو روک نہ پایا۔ سردی کے باعث وہ کالی شال پہنا تھا۔ سیاہ آنکھیں اور کھڑے نقوش۔ وہ اندر مڑگیا جب کہ وہ وہیں باہر ہی کھڑے رہے۔ شرجیل جانتا تھا کہ اگر داجی نے دیکھ لیا تو کیا ہوگا مگر وہ داجی کی نہیں اس کی بیوی تھی۔
۔۔۔★★۔۔۔
“مجھے گھر کی یاد آتی ہے صالحہ باجی”۔ وہ آنسو بےدردی سے پونچھتی ہوئی بولی۔
“ان شاءاللہ! اللہ یہ موقع بھی لائے گا رفاہ”۔ صالحہ جو کتاب پڑھ رہی تھی، اس کی بات پر نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے۔
“مجھے گھر کی یاد آتی ہے مگر دل نہیں کرتا اب ملنے کا۔۔ کسی سے بھی نہیں! بابا سے بھی نہیں باجی۔۔ نہ اماں سے اور نہ بھائی سے”۔ اس نے سرجھکا کر بتایا۔ صالحہ جانتی تھی کہ وہ سر اٹھا کر بات کیوں نہیں کررہی ہے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرے گی تو آنکھیں بھیگ جائیں گی۔
وہ اسے دیکھتی رہی مگر کچھ بول نہ پائی۔
“وہ مجھے جہنم میں پھینک کر لاتعلق ہوگئے اور بھائی؟ بھائی سے مجھے یہ امید نہیں تھی۔۔ بھائی تو اچھے ہوتے ہیں نا؟ وہ تو محافظ ہوتے ہیں! میری ہر چھوٹی سی چھوٹی خواہش ماننے والا بھائی۔ میری ہر تکلیف پر تڑپ جانے والے بھائی نے مجھے تکلیف میں ڈال دیا باجی”۔ وہ بنا آواز کے رورہی تھی۔ ہونٹ کپکپانے لگے اور آنکھیں لال ہونے لگیں۔
“مجھے سمجھ نہیں آرہا ہے میں کیا کہوں رفاہ۔۔۔ کیونکہ میں تمہارے باتوں سے متفق ہوں”۔ اس نے کتاب بند کرکے میز پر رکھ دی۔
وہ دونوں اس وقت لاؤنج میں بیٹھی تھیں۔
“پھر آپ بھی مجھے چھوڑ جائیں گی تو میرا کیا ہوگا”۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوگئی تھی۔
“کبھی نہ کبھی تو ویسے بھی جانا تھا رفاہ”۔ وہ پھیکا سا مسکرائی۔ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔
“میرا کیا ہوگا آپ کے بغیر صالحہ باجی؟”۔ وہ کچھ دیر کے وقفے سے پوچھنے لگی۔
“تم فکر نہیں کرو شرجیل صاحب کو سیدھا کرکے جاؤں گی”۔ اس نے ابھی مسکرا کر کہا ہی تھا کہ پیچھے سے شرجیل جو سب سن چکا تھا اندر داخل ہوا۔
“الحمداللہ پہلے سے ہی سیدھا سادھا بندہ ہوں”۔ وہ بات صالحہ سے کررہا تھا اور دیکھ رفاہ کو رہا تھا۔ صالحہ نے پھیکی مسکراہٹ سے اسے دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں افشاں پھپھو کو دیکھ آؤں”۔ صالحہ نے مسکرا کر پیروں میں چپل پہنی اور کتاب اٹھا کر زینے چڑھنے لگی۔ رفاہ کا دل چاہا وہ صالحہ کو روک لے۔ وہ زینے چڑھ رہی تھی اور رفاہ اسے زینے چڑھتے دیکھ رہی تھی۔ اس کے سامنے شرجیل بٹ کھڑا تھا اور یہ خیال آتے ہی اس کا چہرہ رنگ بدل رہا تھا۔
“وہ چین کی دیوار نہیں چڑھ رہی جو یوں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی ہو”۔ شرجیل کی آواز پر سہم کر اچھلی۔ رفاہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا تو وہ ماتھے پر بل ڈالے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ اس نے سرجھکا لیا اور زمین کو تکنے لگی۔ دل کی گہرائیوں سے دعا کی کہ یہ یہاں سے چلا جائے۔ شرجیل اس کے دو قدم کے فاصلے پر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“تم بھولی ہو یا میرے سامنے بن جاتی ہو؟”۔ شرجیل نے اس کا چہرہ بہت غور سے دیکھا تھا۔ رفاہ نے اس کی بات پر تھوک نگلا۔
“زخم پر دوائی لگائی تھی کل رات؟”۔ اس نے رفاہ کی پیشانی کو ہلکا سا چھوا تو رفاہ کے بدن میں کرنٹ سا دوڑا اور وہ تھوڑا پیچھے ہوئی۔ اس کی نظریں بےاختیار خوف سے اٹھیں اور شرجیل سے جا ملیں۔ وہ اسے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔
“تم نے جواب نہیں دیا؟”۔ ناچاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ سخت ہوا۔
“جج۔جی۔۔۔ مم۔میں۔۔۔ کک۔کیا؟”۔ وہ گڑبڑائی۔
“دوائی لگائی تھی زخم پر؟”۔ اس نے سوال پھر دہرایا۔
“نن۔نہیں وہ دد۔دوائی نہیں تھی میرے پاس”۔ وہ مسلسل ہکلارہی تھی۔ دل مسلسل نے اس کے چلے جانے کی دعا مانگ رہا تھا۔ شرجیل نے گہری سانس لے کر بیچارگی سے نفی میں سرہلایا۔ رفاہ کا چہرہ پھر سے جھک گیا۔ اس نے ٹیوب اپنی جیب سے نکالی اور اسے کھول کر اپنی انگلی پر نکالنے لگا۔
“اوپر دیکھو”۔ اس نے حکم دیا مگر وہ اتنا ڈری ہوئی تھی کہ جھکا چہرہ اور جھکا لیا۔
“جتنا جھک رہی ہو تھوڑی دیر بعد زمین پر سجدہ کررہی ہوگی”۔ وہ مبہم سا مسکرایا اور اس کی ٹھوڑی نرمی سے پکڑ کر چہرہ اوپر کیا۔ رفاہ کے چہرے پر خوف کے آثار نمایا ہوئے۔ اس نے چہرہ چھڑانا چاہا، مگر سامنے والے کی گرفت مضبوط تھی۔ وہ اب اس کی پیشانی کے زخم پر دوائی لگارہا تھا۔ رفاہ کو زخم پر تکلیف ہونے لگی تو اس نے آنکھیں زور سے میچ لیں۔ شرجیل نے اس کے آنکھیں میچنے پر اسے بہت غور سے دیکھا۔ وہ پہلی بار اسے اتنا قریب سے دیکھ رہا تھا۔ گھنی پلکیں آنکھیں میچنے کی وجہ سے کانپ رہی تھیں۔ مرہم لگا کر وہ دور ہوا اور جیب سے رومال نکال کر ہاتھ صاف کیے۔ وہ پھر سے سرجھکا کر بیٹھ گئی۔
“تم سے کوئی ملنے آیا ہے”۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ رفاہ کا جھکا چہرہ یکدم اٹھ کر اسے دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھوں پر سوال تھا “کون؟”۔
“ساتھ چلو”۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو رفاہ سہم کر پیچھے ہوئی اور حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔
“شوہر ہوں تمہارا نامحرم نہیں”۔ وہ ماتھے پر بل ڈال کر کہتا اس کا ہاتھ زبردستی پکڑتا اسے لے جانے لگا۔ رفاہ کا چہرہ ایک بار پھر رنگ بدلنے لگا۔
“اتنے سارے رنگ بدل لیتی ہو گولا گنڈے ہو کیا؟”۔ شرجیل ساتھ چلتے چلتے پوچھ رہا تھا اور وہ سر کو چادر سے ڈھانپے اس کے پیچھے کھنچی چلی جارہی تھی۔
وہ باغ سے ہوتے ہوئے باہر کی طرف گزرنے لگے۔ رفاہ کے ہاتھ اس شخص کی ہاتھ میں تھا۔ اس نے نظریں اٹھا کر اس مضبوط چوڑے شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ کی گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط ہوتی جارہی تھی۔ وہ شخص اس کا مجازی خدا تھا۔ وہ اس کے چھوڑے ہوئے قدموں پر قدم رکھتی چلی جارہی تھی۔ دل میں اب بھی ایک خوف تھا مگر وہ جانتی تھی کہ اگر وہ یونہی اپنا برتاؤ اس کے ساتھ رکھے گا تو وہ بہت جلد اس سے مانوس ہوجائے گی۔
اوپر کھڑی افشاں کے کمرے کی کھڑکی سے جھانکتی صالحہ نے مسکراتے ہوئے دونوں کو دیکھا تھا۔ وہ دونوں ساتھ اچھے لگ رہے تھے۔ صالحہ انہیں تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ باغ سے نکل نہیں گئے اور پھر ایک دیوار نے انہیں چھپادیا۔
“وادئ عشق میں دو لوگوں کا جلد ہی اضافہ ہونے والا ہے”۔ وہ مڑ کر جائے نماز سے اٹھتی افشاں کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی بولی۔ افشاں نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“شرجیل صاحب اور رفاہ شرجیل کا”۔ وہ ان کے قریب آئی اور ان کے گلے لگ گئی۔
“پھپھو۔۔۔ مجھے یاد کریں گی؟؟۔ یا بھول جائیں گی”۔ وہ اپنا غم انہیں بتانا نہیں چاہتی تھی اس لیے ہنستے ہوئے اس نے پوچھا تھا۔ افشاں نے اس کا ماتھا چوما اور محبت سے اثبات میں سرہلایا۔
“اچھا؟ چلیں جب بھی آپ کو میری یاد آئے تو ثریا کے موبائل سے مجھے شہر فون کردے گا پھپھو۔ میں جلدی سے ملنے آجاؤں گی”۔ وہ انہیں دلاسا دیتے ہوئے بولی۔
وہ مسکرادیں۔۔ دکھ سے۔۔۔
“چلیں اب آپ کھانا کھالیں”۔ وہ گھوم کر بستر پر آکر بیٹھ گئی۔ افشاں نے اپنا گھنے بالوں کا ڈھیلا جوڑا کھول کر پھر سے باندھا اور اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی۔
“یہ لیں چلیں جلدی جلدی کھالیں ویسے بھی کھانا ٹھنڈا ہوگیا ہے”۔ ایک ہاتھ سے اپنے چہرے پر آئی زلفوں کو پیچھے کرتے ہوئے اس نے کھانا آگے رکھا۔ افشاں کو لگا تھا روز کی طرح صالحہ ہی اسے کھانا کھلائے گی مگر ایسا نہ ہوا۔ افشاں اسے اس وقت تک دیکھتی رہی جب تک صالحہ کو ہوش نہ آیا۔
“آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہیں؟”۔ اس نے حیرت کا مظاہرہ کیا۔ افشاں صرف اس کی کنچی آنکھوں کو تک رہی تھی جسے بار بار صالحہ جھپک رہی تھی۔ صالحہ جان گئی کہ وہ کیوں اسے تک رہی ہیں۔
“نہیں! آج میں نہیں کھلاؤں گی! آج آپ خود کھائے گا۔ اب عادت تو ڈالنی ہے نا؟ اس جمعہ کو ویسے ہی میں شہر جارہی ہوں۔۔۔”۔ اس نے باتوں ہی باتوں میں دل کو مار کر وہ بات بھی کہہ دی۔ کچھ دیر کی خاموشی چھا گئی۔ وہ ٹھٹھکیں اور اسے کندھے سے پکڑ کر ہلا ڈالا۔
“کیا ہوا پھپھو؟۔ شہر میں ہی تو شادی ہے۔ داجی نے کہا ہے جمعہ کو شہر چلے جائیں گے۔ آپ میرے لیے بہت ساری دعائیں کرے گا پھپھو۔ کریں گی نا؟”۔ وہ اپنی کشادہ آنکھیں ان کی آنکھوں میں ڈال کر بہت محبت سے بولی۔ انہوں نے تیزی سے اثبات میں سرہلایا اور اسے گلے لگالیا۔ وہ ان کے گلے تب تک لگی رہی جب تک اسے سسکیوں آواز محسوس نہ ہوئی۔
۔۔۔★★۔۔۔
اس نے اس کا ہاتھ باہر دروازے پر لا کر چھوڑا تھا۔
“آپ۔۔۔آپ مم۔مجھے گھر بھیج رہے ہیں؟”۔ اس نے اپنی مخروطی انگلیوں کو آپس میں جکڑا۔ چہرے پر ہلکی ہلکی خوشی نمودار ہورہی تھی۔
شرجیل نے اس کے چہرے پر امڈتی خوشی دیکھی اور گہری سانس لے کر بولا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟”۔ اس نے ایک آئبرو اچکا کر سنجیدگی سے اس سے پوچھا۔ خوشی سے ابھرتا چہرہ ڈھل گیا اور نگاہیں جھک گئیں۔ وہ کیسے بھول سکتی تھی وہ ونی ہے۔۔۔ اس کی سزا عمر قید ہے۔
“تمہارے بابا آئے ہیں۔ ملنا چاہتے ہیں تم سے! میں انہیں بلا رہا ہوں”۔ اس نے آواز دی تو وہ اندر آگئے۔
رفاہ نے تھوک نگلا۔ اس کے حواس منجمند ہونے لگے اور چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہوگیا۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں بےحرکت ہوگئی تھی اور وہ صرف سامنے آنسو بہانے والے شخص کو دیکھنے لگی۔
“میں جارہا ہوں۔ دس منٹ کا وقت ہے مل کر اندر چلے جانا تم بھی”۔ وہ اس کے بلکل قریب کھڑا دھیمی آواز میں اس کے کان کے قریب آکر کہتا ہوا جانے لگا۔ سامنے کھڑے رفا کے بابا اس کے گلے لگنے قریب آنے لگے۔ وہ بےحس و حرکت کھڑی لڑکی کے اندر عجیب سی حرکت ہوئی کہ اس نے پلٹتے شرجیل کا بازو پکڑ لیا۔ شرجیل آگے نہ بڑھ سکا اور تھم گیا۔ آنکھیں حیرت سے پھیلیں اور اس نے اپنے دائیں بازو پر اس کے ہاتھوں کے لمس محسوس کیے۔ نگاہ جھکا کر اپنے بازو کو دیکھا تو اس نے اس کا بازو ایک ہاتھ سے مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ قد میں وہ اس کے کندھے سے بھی چھوٹی تھی۔ اس نے گردن موڑ کر رفاہ کے سفید ہوتے چہرے اور ٹہھری ہوئی پتلیوں کو دیکھا اور پھر پیچھے سے آتے خالد صاحب کو!
“مم۔مجھے نہیں ملنا۔۔۔ مم۔مجھے نہیں ملنا ان سے”۔ وہ کانپتے لہجے سے کہتی ہوئی جذباتی ہونے لگی۔ وہ اس کی کیفیت سمجھنے سے قاصر تھا۔
“رفاہ میرا بیٹی۔۔”۔ وہ آدمی غم سے وہیں ٹہھر گیا۔

“نہیں ہوں میں آپ کی بیٹی”۔ وہ دیوانہ وار چیخی ۔ اس کی گرفت شرجیل کے بازو پر مضبوط ہوئی۔ شرجیل نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا اور ایک بار پھر خالد صاحب کو۔۔۔
“رفاہ”۔ خالد کے منہ سے کپکپاتا ایک لفظ نکلا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ رفاہ کے چہرے کے زخم انہیں ہولانے لگے اور انہیں محسوس ہوا کہ ان سے بہت بڑی خطا غلطی ہوئی ہے۔
“نہیں ہوں میں آپ کی رفاہ! نام مت لیں میرا “۔ سخت لہجے میں کہتے کہتے اس کی آنکھ سے آنسو نکل پڑے۔ شرجیل نے مڑ کر اسے کندھے سے تھاما اور اس کی کیفیت سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔
“مجھے نہیں ملنا ان سے! مجھے ساتھ اندر لے جائیں پلیز”۔ وہ التجا کررہی تھی اور وہ آنکھیں پھاڑ کر اسے سمجھنے کی کوشش کررہا تھا۔ وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھی؟ شرجیل کی نظریں منہ پر ہاتھ رکھ کر بلک بلک روتے خالد صاحب پر گئیں۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھ چکے تھے۔ رفاہ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا تھا۔ وہ مکمل طور پر الجھ چکا تھا۔ منٹوں کا فیصلہ اس نے لمحوں میں کیا اور اس کا ہاتھ نرمی سے پکڑ کر اندر لے جانے لگا۔ وہ رونے کے ساتھ خالد صاحب کو دیکھنے سے گریز بھی کررہی تھی۔ شرجیل آگے آگے چل رہا تھا اور اپنے ہاتھ میں پکڑا رفاہ کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کر رکھی تھی۔ ہوا کا زور زیادہ تھا جس کی وجہ سے شرجیل کو اپنی شال سنبھالنے میں مشکل ہورہی تھی۔ رفاہ کی ڈھیلی پونی کھل کر رستے میں ہی گرگئی اور بال اس کے منہ پر آنے لگے۔ وہ خالد صاحب کو پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ لاؤنج کے دروازے کے باہر اس نے اس کا ہاتھ چھوڑا اور پلٹ کر اسے دیکھنے لگا۔ سفید کرکراتے کرتے شلوار پر کالی شال پر اسے ظالم بنا رہی تھی۔ رفاہ کے آنسو بےربط بہہ رہے تھے۔ شرجیل نے ٹھوڑی پکڑ کر اس کا چہرہ اٹھایا۔ اس کے آنسو زمین پر جذب ہونے لگے۔ آنکھیں میچ کر کھولیں تو محسوس ہوا وہ اس کے بہت قریب کھڑی ہے۔ شرجیل نے آہستگی سے اس کے آنسو صاف کیے تو وہ بھی جلدی جلدی چہرے پر ہاتھ رگڑ کر صاف کرنے لگی۔ اس کے یوں بےدردی سے چہرہ رگڑنے پر اس نے رفاہ کے دونوں ہاتھ تھام کر اسے رکنے کا کہا۔ وہ حیرانی اور ایک عجیب احساس سے اسے دیکھنے لگی۔ ایک نظر اپنی شال کو دیکھ کر اس کا ایک کونا اس کے چہرے کے قریب لایا اور ہلکا ہلکا اس کےچہرے پر تھپک کر اس کا چہرہ صاف کیا۔ وہ نظریں جھکائے سسکیاں بھرتی رہی۔
“ہشش رو مت”۔ اس نے بہت نرمی سے اس کی ٹھوڑی اٹھا کر تاکید کی۔۔ ہوا اپنا روپ دکھا رہی تھی۔ وہ کچھ لمحے اسے یوں ہی تکتی رہی جب تک اسے احساس نہ ہوا۔ وہ ایک ہاتھ سے چہرے پر آتی زلفوں کو پیچھے کرتی خوف سے اندر بھاگ گئی۔ پیچھے کھڑے شرجیل کے دل میں عجیب احساس نے جنم لیا۔ ماتھے پر آئی پریشانی کی شکنیں کچھ اور گہری ہوگئیں۔ وہ روتا ہوا چہرہ اس کے خیالوں میں بار بار آنے لگا۔ دکھتے دل سے وہ لاؤنج میں داخل ہوا تھا مگر وہ یہاں لاؤںج میں کہیں نہیں تھی۔ ہر طرف نظر دوڑانے پر بھی وہ اسے نظر نہ آئی تو وہ گہری سانس لیتی سیڑھیاں چڑھتا چلاگیا۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
“آپ روئیں مت”۔ اس نے افشاں کے چہرے کی گلابی ہوتی رنگت پر انگلیاں رکھیں۔ اسے محسوس ہوا وہ اپنا مستقبل دیکھ رہی ہے۔ وہ روہی تھیں کیونکہ ان سے بچھڑ رہی تھی۔ آنکھ سے آنسو نکل رہے تھے اور ہونٹ گلابی ہوگئے تھے۔ حسن کا ایک کرشمہ تھا جو صالحہ کے سامنے کھڑا تھا۔
“مجھے اماں بلارہی ہیں شاید۔۔ میں آتی ہوں”۔ وہ رندھی آواز میں کہتے ہوئے مسکرائی اور پلٹ گئی۔ افشاں بےساختہ مسکرائی۔ وہ بےزبان تھی مگر بہری نہیں تھی۔ وہ اس بات سے انجان نہیں تھی کہ وہ کیوں چلی گئی۔ افشاں کے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئی صالحہ کے آنسو بےربط بہنے لگے تھے۔ وہ بار بار اپنی آنکھیں رگڑ رہی تھی اور چہرہ بار بار بھیگ رہا تھا۔ ضبط گویا کہیں کھوگیا تھا۔ اب وہ مسلسل ہچکیاں لے رہی تھی۔ افشاں کی منزل پر ہی کسی دوسرے خالی کمرے کے دروازے پر وہ بیٹھی اس وقت تک روتی رہی جب تک دل بھر نہ گیا۔ جب تھوڑا حوصلہ ملا تو وہ چہرہ رگڑتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتی تھی۔۔ ایک لمبی مسافت کے بعد ایک اور سفر کے لیے خود کو تیار کرنا چاہتی تھی۔ وہ موم کی گڑیا پتھر بن جانا چاہتی تھی۔
۔۔۔٭٭۔۔۔
رات کا نجانے کونسا پہر تھا جب وہ کوارٹر میں داخل ہوا تھا۔
“باہر آؤ”۔ وہ چارپائی پر چادر اوڑھے لیٹی تھی جب شرجیل نے حکم دیا۔ وہ ہڑبڑا گئی۔ کچھ غلط ہونے کا احساس اسے اندر سے کھانے لگا۔ اچھی طرح خود کو اپنی باریک چادر میں لپیٹتی باغ میں آگئی جہاں وہ جھولے پر بیٹھا تھا۔
“آپ نے بلایا؟”۔ وہ ڈوپٹے کو گھونگھٹ کے انداز میں پہنی ہوئی تھی۔ شرجیل نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“بیٹھو”۔ اس نے نگاہوں سے برابر بیٹھنے کا اشارہ ساتھ دیا۔ اس کے کہنے پر رفاہ لرزتی پلکوں اور دھڑکتے دل سے اس کے برابر بیٹھ گئی۔ لمبی کی خاموشی چھا گئی۔ باغ میں صرف ایک مدھم سا بلب جل رہا تھا۔ اس کی روشی اتنی بھی نہیں تھی کہ وہ ایک دوسرے کے چہرے کے نقوش کا اندازہ کرپاتے۔
“اپنے بابا سے کیوں نہیں ملی؟”۔ اس نے ٹہھر کر پوچھا۔
“کیونکہ میں ان سے ملنا ہی نہیں چاہتی”۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی تھوڑا سخت ہوگئی۔ شرجیل نے اس کے چہرے کے نقوش غور سے دیکھنے کی کوشش کی۔
“وہ باپ ہے تمہارا”۔ اس نے بتایا جیسے وہ جانتی ہی نہیں۔
“مگر میں نہیں ملنا چاہتی”۔ اس نے سختی سے لفظ ادا کیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ “اگر آپ کو یہی بات کرنی تھی تو میں اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتی”۔ غصہ میں وہ یہ بھول گئی تھی کہ وہ کس سے بات کررہی ہے۔ شرجیل نے ماتھے پر بل ڈال کر اسے دیکھا۔ وہ سر جھکا کر کہتی مڑنے لگی تھی کہ شرجیل نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ اپنے قدموں کے ساتھ ساتھ رفاہ کو اپنی سانس بھی رکتی محسوس ہوئی تھی۔
“میں نے جانے کا کہا کیا؟”۔ وہ سختی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا مگر رفاہ نے اسے مجبور کردیا تھا۔ “بیٹھ جاؤ”۔ اس نے اپنی آنکھیں اس کے چہرے پر گڑا کر بلند آواز میں حکم دیا۔ وہ اس کی آواز پر سہمتی برابر میں پھر سے بیٹھ گئی۔
“جو پوچھ رہا ہوں آرام سے بتادو ورنہ اس چھت کی منڈیر پر کھڑا کردوں گا”۔ وہ حویلی کی چھت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔ رفاہ نے اس کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا تو لرز اٹھی۔ اندھیرے میں حویلی اور خوفناک لگ رہی تھی۔
“کیوں نہیں ملی ان سے؟”۔ اس نے سوال پھر سے دہرایا۔
“میرا دل نہیں چاہ رہا تھا”۔ وہ خود پر ضبط کرتے ہوئے مضبوطی سے بولی۔
“کیوں نہیں چاہ رہا تھا؟”۔ اس نے اسی کے انداز میں پوچھا تو وہ لب بھینچ گئی۔
“بس دل نہیں کررہا تھا شرجیل صاحب”۔ کہتے کہتے اس کی آواز رندھ گئی۔
“پہلی بات! شرجیل صاحب میں آپ کے سوا ہر کسی کے لیے ہوں!”۔ شرجیل نے سنجیدگی سے اسے ٹوکا۔ وہ گھبراگئی جیسے کوئی بہت بڑی غلطی کردی ہو۔ اس نے حلق میں تھوک نگل کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا جو سردی کے باعث سفید ہورہے تھے ار ناخن ہلکے نیلے۔
“کک۔کیا کہوں آپ کو”۔ وہ ہکلاتے ہوئے بولی۔ شرجیل نے اس کے سوال پر اس کی طرف رخ موڑا جو اپنی مخروطی انگلیاں چٹخ رہی تھی۔ ہاتھوں کی سفیدی دیکھ کر شرجیل نے بےساختہ اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور غور سے دیکھنے لگا۔
“شرجیل کہہ سکتی ہو مجھے۔۔۔ اب شوہر کو صاحب بولتی اچھی لگو گی؟”۔ سنجیدگی سے گفتگو وہ اس سے کررہا تھا مگر نظریں اس کے ہاتھوں کے ناخنوں پر تھیں۔ رفاہ کو اس کی باتیں عجیب لگی تھیں۔ اسے شرجیل سے ایسی گفتگو کی امید نہیں تھی۔ وہ چہرے سے بردبار اور سخت لگتا تھا مگر وہ اندر سے اتنا ظالم نہیں تھا وہ یہ جان گئی تھی۔
“تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے؟۔ کوئی گرم کپڑے نہیں ہے پہننے کے لیے؟۔ یہ کیا اتنے ہلکے کپڑے پہنی ہوئی ہو؟ اس سے بھلا کوئی ٹھنڈ رکے گی؟”۔ وہ اسے بلکل بچوں کی طرح ڈانٹ رہا تھا۔ رفاہ اسے بنا کسی تاثر کے تک رہی تھی۔
“کچھ کہو گی بھی یا یوں ہی مجھے غصہ دلاتی رہو گی؟”۔ وہ ماتھے پر بل ڈال کر بولا۔
اس بندے کو سوائے ماتھے پر بل ڈالنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ رفاہ نے اس کے ماتھے پر آئے بل کو دیکھ کر دل میں سوچا۔
“میں ونی ہوں ہوں جو قتل کے بدلے میں آئی ہوں۔۔ جس کے آنے سے حویلی میں خوشیاں نہیں غم آئے ہیں۔۔ ۔ گھر سے جو سامان لائی تھی حویلی کے باہر ہی پھنکوادیا تھا اور بس یہ دو تین کالے سوٹ دیے تھے تحفے میں!”۔ وہ بتا کر چپ ہوئی۔۔۔ شرجیل نے کچھ سوچ کر گہری سانس لی۔ لوگ بھی کیسے جابر ہوجاتے ہیں یہ جانے بغیر کہ خدا دیکھ رہا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
“یہ شال لے لو”۔ اس نے اپنی شال اتار کر اسے اوڑھانا چاہا۔ رفاہ کو وہ شخص عجیب لگا۔ وہ شخص اس کی امیدوں کے برعکس جارہا تھا۔
“یہ۔یہ کک۔کیوں دے رہے ہیں مجھے؟”َ۔ وہ گڑبڑائی۔ شرجیل نے اس کی چمکتی آنکھوں میں دیکھا جس میں ہلکے بلب کی روشنی کا عکس پڑرہا تھا۔
“بیوی ہو میری”۔ اس نے یہ لفظ بہت محبت سے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر ادا کیا تھا۔ رفاہ کو لگا جیسے وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ بھلا ونی کے ساتھ بھی کوئی ایسا برتاؤ رکھتا ہے۔
“میں ونی ہوں”۔ اس نے ایک بار پھر یاد دلانا چاہا۔ وہ کوئی خواب بننا نہیں چاہتی تھی شرجیل کے متعلق! ایسا خواب تو بلکل بھی نہیں جس کے بکھر جانے کا اندیشہ ہو۔۔۔
“یہ خود کو بار بار ونی کہنا بند کرو گی؟”۔ اسے اس لفظ سے چڑ ہوگئی تھی۔ اس کے یوں چڑنے پر وہ خاموش ہوگئی۔ سناٹے ماحول میں صرف جھولا ہلکے ہلنے کی آوازیں تھیں۔
“یہ مت سوچو ونی ہو۔ یہ سوچو کہ تم۔۔۔۔”۔ وہ کہتے کہتے لمحہ بھر کو رکا تھا۔ اس کے یوں رکنے پر رفاہ نے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اس کا جملہ مکمل کرنے کا انتظار کرتی رہی۔
“رفاہ شرجیل ہو”۔ اس نے جملہ مکمل کیا اور نظریں چرا کر سامنے دیکھنے لگا۔
“میں کوشش کررہا ہوں۔۔۔ میں کوشش کررہا ہوں کہ حویلی والوں کی ذہنیت بدل دوں”۔ وہ آسمان کو تکتے ہوئے کہہ رہا تھا اور رفاہ اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔
وہ ایک بار پھر پریشانی سے انگلیاں چٹخنے لگی تو شرجیل نے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور ہلکا سا دبایا۔
“مت کرو”۔ شرجیل نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر اسے تاکید کی تو وہ خوف سے رک گئی۔
“مجھے آپ کی باتیں الجھا رہی ہیں”۔ وہ پریشانی سے بولی۔ ماحول میں ایک بار پھر سناٹا چھاگیا۔ شرجیل نے نفی میں سر ہلایا۔
“تم ایسا نہیں کہہ سکتی۔۔۔ میں حالِ دل سنانے سے قاصر ہوں۔ عجیب کشمکش میں ہوں اس دن سے جس دن تم میرے نکاح آئی تھی۔ دل میں عجیب ایک سرور ہے اور یہ دماغ بار بار کسی ایک کو سوچ رہا ہے”۔ وہ اب تھوڑا تیز جھولا جھلانے لگا۔
“کیا تمہیں اب ٹھنڈ لگ رہی ہے؟”۔ سخت سردی میں وہ اپنی شال اسے دے بیٹھا تھا اور اب بغیر شال کا تھا۔
“نہیں اب بب۔بہتر یے تھوڑا”۔ اس کا خوف مکمل ختم نہیں ہوا تھا مگر کچھ کم ہوگیا تھا۔
“زندگی میں آج سے پہلے اتنی باتیں کسی سے کبھی نہیں کیں جتنی آج تم سے کرلیں”۔ وہ مسکرایا تھا اور رفاہ؟ رفاہ اسے بےیقینی سے مسکراتے دیکھ رہی تھی۔ وہ شخص مسکراتا بھی تھا۔ اسے لگا وہ اس کے لہجے کے سحر میں کھو جائے گی۔
“اپنا سامان باندھ لینا! جمعہ کو شہر جانا ہوگا”۔ وہ اپنے پرانے لہجے میں واپس آگیا تھا۔
“کیوں؟”۔ وہ الجھی۔
“صالحہ کی شادی کے لیے”۔ اس نے بنھویں اچکائیں۔
“مگر شاید حویلی والے مجھے نہ لے کر جائیں”۔ اس نے گردن جھکا کر بتایا۔
“شوہر کون ہے تمہارا؟”۔ اس کے ماتھے ہر بل نمودار ہوئے۔ رفاہ کا دل چاہا کہ ایک بار پھر یاد دہانی کروادے کہ وہ ونی ہے۔۔ مگر وہ خاموش رہی اور تھوک نگل کر اسے دیکھنے لگی۔
“میں یہاں اکیلے نہیں چھوڑ سکتا تمہیں”۔ اس نے اسے دیکھے بغیر کہا۔ رفاہ کو محسوس ہوا کہ اس کی زندگی بہت جلد سنورنے والی ہے۔ اس کا شوہر اس کی حفاظت کرنا چاہتا تھا۔
“آپ نے مجھے اتنی رات کو کیا بات کرنے کے لیے بلایا تھا؟”۔ وہ اتنی باتیں کرچکا تھا کہ رفاہ کو لگا کہ وہ اسے صرف اپنے لیے کوارٹر سے باہر لایا تھا تاکہ وہ اس کے ساتھ کچھ وقت گزارسکے۔ وہ مبہم سا مسکرایا۔ وہ مسکراتا ہوا سچ میں غضب ڈھاتا تھا وہ یہ بھی جان گئی تھی۔ وہ کیسے اظہار کرے اپنے جذبات کا؟۔ اس سخت اور باہمت شخص کو اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حیا آرہی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ وہ جاننا چاہتی ہے کہ اس نے اسے کیوں بلایا حتیٰ کہ وہ اب تک جان گئی ہوگی۔ وہ کوئی اتنی چھوٹی بچی بھی نہ تھی جسے ان سب علم نہ تھا۔ ہاں وہ جان گئی ہوگی کہ اس کا شوہر اس سے باتیں کرنا چاہتا ہے، وقت بِتانا چاہتا ہے۔ وہ سوچتے ہوئے زیر لب مسکرایا۔
“اتنے سال ہوگئے شاہ جی کے ساتھ وقت بِتائے ہوئے کہ ان کے گنگنائے گئے ہر الفاظ مجھے یاد ہوگئے۔ کبھی سناؤں گا تمہیں”۔ وہ بات بدل گیا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ وہ اس جھولے پر تب تک بیٹھے رہے جب تک فجر کی آذانوں نے انہیں ہوش نہ دلادیا۔ شبنم کے قطرے پتوں کو نم کرنے لگے۔۔ اوس پڑنے لگی تھی مگر انہیں ہوش نہ آیا تھا۔ آج شرجیل بولا تھا! آج وہ شخص بولا تھا جو بظاہر ظالم معلوم ہوتا تھا۔ جو سخت اور جابر تھا۔ جو بولتا کم تھا مگر نظروں کے ارتکاز اور چہرے کے زاویے سے سامنے والے کو نظروں ہی نظروں میں زمین پر دفنادیا کرتا تھا۔ وہ آج اس لیے بولا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے سامنے جتنا بھی بولے گا وہ سنتی رہے گی۔ وہ اس کی بیوی تھی اور ہاں۔۔۔ یہ احساس بھی اچھا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ کیوں شاہ جی آدھی رات کو اپنے کوارٹر کے باہر کرسی لگا کر سب سے اوپر والی منزل کو دیکھتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شاہ جی کس دیس کے باسی ہیں۔ وہ اس حویلی کی ایک آخری اینٹ جیسے کیوں ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شاہ جی کے سجدے اتنے لمبے کیوں ہیں اور وہ پرہیزی کھانا وقت سے پہلے بنا کر کیوں رکھتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ شاہ جی کے پاس بہت انمول چیزیں ہیں اور وہ کن کے لیے محفوظ کرکے رکھی ہیں۔ اس نے فضیلہ باجی کا بھی بتایا جن کی شادی بھی یونہی شہر کے کسی چوہدری سے زبردستی کرادی تھی۔ وہ شخص کیوں اتنا ظالم تھا اور اس نے فضیلہ باجی کو کیوں مٹی تلے دفنادیا تھا۔ وہ قبر جس کو ڈھونڈنے وہ شہر کے قبرستانوں کا چکر لگاتا ہے مگر اب تک ناکام ہی رہا تھا۔ حویلی کے مظلوم اپنے ساتھ ہوتے ظلم کو درگزر نہیں کررہے بلکہ ضبط کررہے ہیں۔ اور یہ ضبط کبھی کھو جائے گا تو اس حویلی کی عورتیں اور وہ مرد جو ظلم کو ظلم ہی سمجھتے ہیں اس حویلی کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔ اس نے حویلی کے ایک ایک فرد کی کہانی سنائی اور اس لیے سنائی کہ اس کا جاننا ضروری تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی۔ صبح کی آذان پر وہ جھولے سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔۔ شرجیل کا چہرہ ہشاش بشاش تھا۔ وہ اس سے بات کرکے اس لیے بھی اچھا محسوس کررہا تھا کیونکہ اسے کوئی بات کرنے والا مل گیا تھا۔ وہ تھک گیا تھا خاموش رہ رہ کے۔۔۔ کم بولنے اور زیادہ سننے والے ہر اصول کو توڑ کر سب سے زیادہ وہ آج ہی بولا تھا۔ دن گزرنے لگے۔۔۔ وجدان نے کچھ دنوں کی چھٹی کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اب وہ سارا سارا وقت وجیہہ کے ساتھ گزارتا تھا۔ وہ اس کی بہن تھی اور وہ اس کی خوشی کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا تھا۔ گھر میں خوشیاں لوٹ آئی تھیں اور وجدان کی اندر کی خوشیاں ہلکے ہلکے، آہستہ آہستہ ماند پڑ رہی تھی۔ وقت گزر رہا تھا تو خوف بڑھ رہا تھا۔۔۔ وحشتیں قیام کررہی تھیں۔۔ وجیہہ اس سے دورجانے والی تھی یہ بات اس کا دل ہولا رہی تھی۔ وہ اب سارا دن اسے اپنے پاس بٹھائے رکھتا۔ اس کے منہ سے نکلی ایک ایک خواہش دوڑ دوڑ کر پوری کرنے لگا۔
صالحہ گویا ایک مردہ وجود بن کر رہ گئی تھی۔ دن گزرنے لگے اور وہ دن بھی آیا جب افشاں نے اس کا اترا چہرہ دیکھ کر اسے ایک پرچہ پکڑایا۔ یہ وہ پرچہ تھا جو اس کی امید کو بڑھا دیتا تھا۔
“تم صالحہ ہو! ایک نیک اور صالحہ لڑکی بن جاؤ”۔ اس نے وہ پرچہ تھاما اور مسکرادی۔ ہاں یہ ایک اہم صفحلہ تھا۔ جمعرات کی رات کو وہ دبے پاؤں زینے چڑھ کر ان کے کمرے میں انہیں دودھ پیش کرنے آئی تھی۔ اگلے دن صالحہ کا سفر تھا اور وہ افشاں کو روتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ دودھ کا گلاس صالحہ کے ہاتھوں میں دیکھ کر وہ حیران ضرور ہوئی تھیں۔ وہ کبھی یوں تاخیر سے نہیں لائی تھی۔ یہ محسوس کیے بنا کہ اس میں کوئی دوا ملائی گئی ہے وہ اسے اس کی خوشی کی خاطر پورا پی گئی۔ اگلے دن وہ تب تک سوتی رہی جب گھر کی ایک ملازمہ نے اسے خود نہیں اٹھایا۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی اور ہکا بکا ہوئی سوچ رہی تھی کہ وہ کیسے اتنی دیر تک سوتی رہی۔۔۔ ان کی نظر اپنے کمرے کی کھڑکی پر گئی جہاں تیز دھوپ اندر آرہی تھی۔ بھاگ کر کھڑکی تک آئی تاکہ جان سکے کہ کیا وقت ہوا ہے۔ دوپہر بھی گزرنے والی تھی۔ افشاں کو گیراج میں شرجیل اور رفاہ کھڑے دکھے۔۔۔ وہ اسے گاڑی میں آگے بیٹھنے کی تاکید کررہا تھا اور وہ ہلکے ہلکے خوف اور کچکچاہٹ سے اپنی انگلیاں چٹخ رہی تھی۔ شرجیل کے ہاتھوں میں بیگ تھے جسے وہ گاڑی میں ڈال رہا تھا۔ اس نے باغ کی طرف نگاہیں موڑیں تو ایک بڑی عمر کا شخص کچھ گنگنارہا تھا۔ افشاں نے اسے دیکھا جیسے پہچاننے کی کوشش کررہی ہو۔۔ وہ شخص پودوں کو پانی ڈال رہا تھا اور اس کی افشاں کی جانب پشت تھی۔ وہ آواز قدرے جانی پہچانی تھی مگر افشاں کو پریشانی کچھ اور تھی۔ وہ صالحہ کو ڈھونڈنا چاہتی تھی۔۔۔ وہ شخص کیا گارہا تھا۔۔۔ اس کی گنگناہٹ افشاں کے دماغ میں صالحہ کے خیال کے ساتھ الجھ رہی تھیں۔ وہ اس کے لفظوں پر غور کرنے لگی۔
خواب بْننے کی رت گزرگئی
وہ سیلابی عمر بیت گئی
تو کُھلا۔۔۔۔
محبت زندگی کی جھلستی دھوپ میں
تپتے سورج کی مانند ہوتی ہے
محبت فقط رائیگانی ہوتی ہے
محبت ایک روگ ہے ایسا
جو دلوں کی بستیاں تاراج کرکے
سوائے دکھ کے کچھ نہیں دیتا۔۔
پوری زندگی کے سوا۔۔۔
اور کچھ نہیں لیتا۔۔۔!
وہ شخص کون تھا؟ اور ایسے دل چھولینے والے گیت کیوں گارہا تھا؟۔ وہ الجھ گئی۔ وہ اس شخص کی پشت کو تک رہی تھیں۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ شخص کون ہے جو روز اس کی کھڑکی کے نیچے پودوں کو پانی ڈالتے ہوئے گنگناتا ہے۔ جسے سن کر کچھ اپنائیت سا محسوس ہوتا ہے۔ افشاں اس شخص کے پلٹنے کا انتظار کرتی اگر اسے صالحہ کی طرف سے پریشانی نہ ہوتی۔ ناچاہتے ہوئے افشاں پہچان گئی۔۔۔ وہ جان گئی کہ صالحہ چلی گئی۔ انہیں سلا کر چلی گئی تاکہ وہ اسے رخصت کرتے ہوئے رو نہ سکے۔ حویلی میں چہل پہل کی آوازیں نہیں گونج رہی تھی کیونکہ ان کی صالحہ چلی گئی تھی۔ سب چلے گئے تھے اور جانے والوں میں سے دو رہ گئے تھے۔۔۔ شرجیل اور رفاہ جو گاڑی میں بیٹھنے لگے تھے۔ انہیں شکوہ ہونے لگا کہ وہ ان سے ملی نہیں۔ بے اختیار ہاتھ چہرے پر گیا اور اس کے ہونٹوں کو لمس محسوس ہوا۔ دماغ میں جھماکہ ہوا اور سن ہوگئی۔ ہاں وہ آئی تھی۔۔ افشاں کی آنکھیں چمکیں۔ ہاں وہ آئی تھی اور میرا چہرہ چوم کر گئی تھی۔ کاش میں اٹھ جاتی اور میں بھی چوم لیتی اپنے آئینے کو! اپنے ماضی کو! اپنے بچپن کو! کاش میں بھی گلے لگالیتی اپنی دھی جیسی بھتیجی کو۔۔۔ انہیں اس لمحے جو یاد آیا تھا وہ خدا تھا۔ نماز کے بعد وہ کتنی دیر یونہی سجدے میں پڑی رہیں۔۔۔ دعاؤں کا سلسلہ طویل سے طویل ہوتا چلاگیا۔ اب انہیں دعا کرنی ہے۔۔۔ اپنے آپ کے لیے! یعنی صالحہ کے لیے۔۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔