Zanjeer By Ayna Baig Readelle50041 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
زنجیر از قلم عینا بیگ
قسط ۱۰
“اندر آجائیں آپ”۔ ملازم اسے کہتا لاؤنج کی راہ دکھانے لگا۔ وہ باغ سے ہوتے ہوئے لاؤنج میں داخل ہوئے۔ وہ لاؤنج اس وقت خالی تھا۔ وجدان بڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں داجی اور ان کے دو بیٹے اندر داخل ہوئے۔ سلام کیا اور بیٹھ گئے۔
“کیسے ہو برخوددار”۔ داجی کو وہ پہلی نظر میں بہت اچھا لگا تھا۔
“الحمدوللہ”۔ اس نے ٹہھر کر جواب دیا۔
“تم یہاں اپنی بہن کے لیے آئے ہو جہاں تک مجھے حیدر نے بتایا ہے”۔
وجدان نے نگاہیں اٹھا کر سامنے بزرگ کر دیکھا جنہیں سب داجی کہہ کر پکار رہے تھے۔
“بہن کے رشتے کے سلسلے میں”۔ اس نے ان کی آنکھوں میں دیکھتے بات کی تصحیح کی۔
“بات تو ایک ہی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں تم ہمارے رسم و رواج سے واقف ہوگے”۔ داجی نے صاف وٹہ سٹہ کی بات کرنی چاہی۔
“جی انکل۔ اس نے وٹہ سٹہ کے متعلق بتادیا تھا۔۔ اور ہاں میں راضی ہوں”۔ اس نے یہ کہتے ہوئے اپنا دل سخت کیا تھا۔ وہ ان کو جانچنا چاہتا تھا۔ اسے اپنی بہن دینی تھی یہاں اور وہ ان کے رویے معلوم کرنا چاہتا تھا۔
“یہ رسم و رواج ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ہمارے خاندان میں اور ہم اس سے منہ نہیں موڑتے”۔ کبیر صاحب حویلی کے اصولوں کے بارے میں تفصیل سے بتانے لگے۔ وہ اس سب میں کچھ نہ بولا سوائے اثبات میں سر ہلانے کے۔
“ہم عورتوں کو زیادہ آگے پڑھانے خلاف ہیں کیونکہ اس سے وہ باغی ہوجاتی ہیں”۔ یہ بات داجی نے جان بوجھ کر کہی تھی۔۔۔
داجی کی اس بات پر وجدان انہیں آنکھیںِ پھاڑے دیکھنے لگا۔
“کیسی بغاوت؟”۔ اس نے یک ٹک تینوں کو دیکھا۔
“وہ خاندان سے منہ موڑ لیتی ہیں اور اپنے فیصلوں کا اختیار خود رکھنے کی کوشش کرتی ہیں”۔ داجی کے لہجے میں حقارت تھی۔
“میری بہن بھی بہت آگے تک پڑھ رہی ہے اور اس میں تو کسی قسم کی بغاوت نہیں پیدا ہوئی۔۔۔ کیا وہ آپ کو قبول ہوگی؟”۔ وجدان نے ایک آئبرو اچکا کر پوچھا۔ اسے خوف محسوس ہورہا تھا کہ اس کی بہن یہاں کیسے رہے گی؟۔ ایسے لوگوں کے درمیان جو عورتوں کو ترقی ہی کرنے نہیں دیتے۔
“نہیں! یہ سن کر تو بلکل بھی نہیں کہ تم صالحہ سے شادی کرنے پر راضی ہو”۔
وجدان ان کے جواب سے مطمئن نہ ہو پایا۔
ملازم نے اندر آکر چائے کی ٹرے رکھی اور چلا گیا۔
“باتیں تو بہت ہوگئی ہیں۔ آپ مجھے شادی کی تاریخ بتادیں تاکہ ہماری طرف سے بھی تیاری شروع ہوجائے”۔ وجدان نے بڑھ کر چائے کا کپ ہاتھوں میں تھاما۔
“اگلے ہفتے ایک چھوٹی سی تقریب کردیں گے نکاح کی”۔ داجی نے اپنا فیصلہ سنایا۔
“اگلے ہفتے؟ اتنی جلدی؟”۔ وہ ششدر ہوگیا۔
“ہاں برخوددار۔۔ اگلے ہی ہفتے”۔ ان کے لہجے میں ایک رعب تھا۔
“اور کہاں پر ہوگی یہ تقریب؟”۔ وجدان کا اس حویلی میں دم گھٹنے لگا۔
“حویلی میں”۔ کبیر صاحب کی اس بات پر وجدان نے تیزی سے نفی میں سرہلایا۔
“آپ کو لگتا ہے میں اپنی بہن کو عروسی جوڑے میں حویلی لے کر آؤں گا تاکہ نکاح ہوسکے؟ پہلے وہ دلہن بنے گی پھر سفر کرتے ہوئے حویلی آئے گی؟ نکاح کے بعد حویلی لے جائیے گا۔ آپ کو بھی میری ایک شرط ماننی پڑے گی۔۔۔ شادی شہر میں ایک قریبی ہال میں ہوگی۔۔۔ ہال کا خرچہ سب میں پورا کردوں گا مگر یوں میں اپنی بہن کو دلہن بنا کر دنیا کو دکھاتے ہوئے شہر سے گاؤں نہیں لاؤں گا”۔ وہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہوئے بولا۔
داجی خاموش ہوگئے۔ وہ ان کی خلاف ورزی کررہا تھا مگر انہیں اس وقت خود کو یہ سب ہونے دینا تھا۔
“شرط قبول ہے تمہاری۔ تمام اہتمام پھر تمہاری جانب سے ہوں گے۔ حیدر کو شہر کی تقریب کے بارے میں بتادینا۔ ہم پہنچ جائیں گے”۔ وہ مان گئے تھے۔
باہر اچانک آواز آئی تو وجدان نے لاؤنج کے کھلے گیٹ کے باہر دیکھا جہاں باغ کا تھوڑا حصہ نظر آرہا تھا۔ بارش شروع ہوچکی تھی اور باہر سے لڑکیوں کی آوازیں آرہی تھیں۔۔ اس نے نگاہیں پھر سے داجی پر مرکوز کرلیں۔
“آنے والے ہفتے کو تمہارا اور صالحہ کا نکاح ہوجائے گا اور ساتھ میں تمہاری بہن اور حیدر کا بھی”۔ انہوں نے بات مکمل کرنی چاہی۔
وجدان کو شادی کے لفظ سے کوفت ہورہی تھی۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
“ٹھیک ہے مجھے منظور ہے”۔ وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس گفتگو نے اس کا ایک گھنٹہ لے لیا تھا۔
“کھانے کا اہتمام بھی شامل ہے اس گفتگو میں”۔ داجی کا لہجہ ایسا تھا جیسے کھانے کا پوچھ کر احسان کررہے ہوں۔
“جی نہیں شکریہ”۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ حیدر لاؤنج سے اندر داخل ہوا۔
“آپ اتنی جلدی جارہے ہیں؟”۔ اسے اتنی جلدی جاتے دیکھا تو حیدر کو لگا کہ داجی نے کوئی ایسی بات کہہ دی ہے جس سے وجدان خفا ہوگئی۔
“بارش تیز ہورہی ہے اور مجھے جلد از جلد شہر جانا ہے”۔ وہ بنا تاثر دیے لاؤنج سے باہر بارش دیکھنے لگا۔
“او اچھا۔۔۔ تو۔۔ وہ تاریخ کب کی طے ہوئی؟”۔ وہ ہکلاتے ہوئے پوچھنے لگا۔
“آنے والے ہفتے کی”۔ وجدان نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بتایا۔
“شہر میں یا یہیں؟”۔ اس نے وقفے سے پھر پوچھا۔
“شہر میں۔۔۔ تمام اہتمام میں کردوں گا۔ آپ صرف اپنی تیاری مکمل رکھیں۔۔۔ میسج پر تمہیں تقریب کا مقام بھی دیدوں گا”۔ وہ قدم باہر کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ حیدر اس کے سامنے کھڑا ہوا۔
“آپ مطمئن ہیں نا؟”۔ یہ سوال حیدر کے دماغ میں کھٹک رہا تھا۔
“اگر نہیں ہوتا تو بھی شادی ہونی ہے۔۔۔ آپ سے ملاقات ہوتی ہے ہفتے کو”۔ وجدان نے آگے ہاتھ بڑھا کر اسے اللہ حافظ کہا اور باہر نکل آیا۔
“آئیں میں گیٹ تک چھوڑ دوں”۔ وہ اس کے پیچھے آنے لگا۔ وہ لاؤنج سے باغ میں داخل ہوئے جہاں دو لڑکیاں پوری چادر میں خود کو محفوظ کیے بارش کا مزا لے رہی تھیں۔
“رفاہ بارش اور تیز ہوگئی ہے”۔ وجدان کے کانوں تک آواز پہنچی تو اس کے قدم بےاختیار رک گئے۔۔ اس کے پیچھے حیدر بھی حیرت سے رک گیا۔
وہ پہچانتا تھا اس آواز کو۔۔۔ اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کو! وہ اس کی عزت بننے والی تھی اور یہ احساس بھی عجیب تھا۔ وہ پل بھر کو رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔ صالحہ نے بےدھیانی میں گردن موڑی تو وہ پیچھے ہی کھڑا تھا۔۔۔ صالحہ کی سانسیں پل بھر کو رکی تھیں اور وہ شخص آگے بڑھ گیا۔
“یہ کون تھے صالحہ باجی؟”۔ رفاہ چلتے ہوئے اس کے قریب آئی۔ بارش کی بوندیں ان پر تیزی سے گررہی تھیں اور وہ خاموش کھڑے تھے۔۔۔ صالحہ سن ہوگئی تھی۔
“یہ وہی تھے جن سے شہر میں ویر نے ملاقات کی تھی۔۔۔ مگر۔۔۔ یہ یہاں کیوں آئے ہیں؟”۔ اسے پریشانی ہونے لگی۔ حیدر ان کو دروازے تک چھوڑ کر پلٹا تھا اور صالحہ کو خاموش کھڑا دیکھتا ہوا نظریں چراتا آگے بڑھ گیا تھا۔
“باجی ژالہ باری ہورہی ہے”۔ رفاہ کی آواز میں بلا کی خوشی تھی۔۔۔ صالحہ کے چہرے پر خوشی کے جذبات دوبارا نمودار ہوئے اور وہ آسمان کو تکنے لگی۔ یہاں داجی نہیں تھے ورنہ ان دونوں کی اب تک شامت آچکی ہوتی۔۔۔
رفاہ اب تیز بارش میں جھوم رہی تھی۔ وہ ایک پیاری سی چھوٹی لڑکی تھی۔۔۔ جسے صالحہ کی طرح بارشوں سے بہت لگاؤ تھا۔ ایک نادان سی گھنی پلکوں اور لمبے بالوں والی لڑکی تھی جو کہ بہت کم عمر تھی۔ وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ وہ جھومتے جھومتے مڑی تو اس کی رنگت فق ہو گئی۔ وہ بنا کوئی تاثر دیے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ صالحہ نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو شرجیل کھڑا تھا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ شرجیل سنجیدگی سے رفاہ کو دیکھتا مڑ گیا اور رفاہ کا دل حلق میں آگیا۔
“چلیں باجی اندر چلتے ہیں”۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑتی بولی۔
“ہاں بارش بھی ہلکی ہوگئی ہے”۔ اس نے انکار کرنا مناسب نہ سمجھا۔
“میں اپنے کوارٹر میں جارہی ہوں کیونکہ میں مکمل بھیگ چکی ہوں باجی”۔ رفاہ کی بات پر صالحہ نے اسے گردن موڑ کر دیکھا جو کالے کپڑوں میں مکمل بھیگ چکی تھی۔ وہ ونی تھی اس لیے اس کے پاس اسی رنگ کا جوڑا تھا۔ صالحہ اثبات میں سرہلاتی اندر مڑگئی۔ کمرے میں جا کر اس نے کپڑے تبدیل کیے اور سکھاتی نیچے آگئی۔ شام ہونے کو تھی۔ بادل چھٹ رہے تھے اور قریب ہی سورج نکلنے والا تھا۔ وہ باورچی خانے میں داخل ہوئی۔
“شام کی چائے بنادیں شاہ جی”۔ اس نے پتیلیوں میں جھانک جھانک کر شاہ جی کو کہا۔
“ساجد شام کی چائے بناؤ حویلی والوں کے لیے”۔ انہوں نے پیچھے بیٹھے دوسرے باورچی کو حکم دیا۔ صالحہ خاموش ہوگئی۔ شاہ جی تمام باورچیوں کے سربراہ تھے۔
“کیا ہوا صالحہ بی بی؟ آپ کیوں مرجھا گئیں؟”۔ شاہ جی نے اس کے تاثرات نوٹ کرتے ہوئے پوچھا۔
“کیا آپ چائے نہیں بنا سکتے؟ آپ اچھی بناتے ہیں”۔ اس نے التجا کرتے ہوئے پوچھا۔
شاہ جی اس معصوم سی لڑکی کو التجا کرتے دیکھا تو مسکرادیے۔
“کیوں نہیں بنا سکتا۔۔ ضرور بنا سکتا ہوں بی بی۔۔۔ اب آپ نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے تو میں کیسے انکار کرسکتا ہوں”۔ صالحہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“مجھے آپ کے ہاتھ کی چائے بہت پسند ہے شاہ جی”۔ وہ اپنے ہاتھ میں پہنی چوڑیوں کو آگے پیچھے کرتے ہوئے بےخودی سی بولی۔
“مجھے یہ سن کر اچھا لگا میری دھی۔ اب لگتا ہے روز چائے مجھے ہی بنانی پڑے گی”۔ وہ محبت سے مسکراتے ہوئے پتیلی چولہے پر چڑھانے لگے۔
“آپ کو پتا ہے شاہ جی میرا کل رزلٹ آیا تھا اور سوائے ایک دو کے کسی نے مجھ سے ابھی تک یہ نہیں پوچھا کہ کیا ہوا صالحہ پاس ہوگئی؟”۔ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بات نہیں کررہی تھی۔ بلکہ اس پتیلی کو دیکھ رہی تھی جسے شاہ جی نے تھوڑی دیر پہلے چڑھائی تھی۔
وہ اس کا چہرہ تکتے رہے۔
“دوسروں کا مجھے علم نہیں ہے مگر میں نے اس لیے نہیں پوچھا تھا کہ مجھے علم تھا آپ کے پاس ہونے کا”. وہ خفیہ انداز میں مسکرائے۔
“آپ کو معلوم ہے؟”۔ وہ حیران ہوئی۔
“اگر مجھے معلوم نہ ہوتا تو میں یہ تحفہ کیسے دینے کا سوچتا؟”۔ انہوں نے اپنی جیب سے ایک بریسلٹ نما چیز اس کے ہاتھ میں رکھی۔ صالحہ نے اسے بہت غور سے دیکھا۔ وہ ایک خبصورت سا چاندی رنگ کا بریسلٹ تھا جس پر گولڈن موتی لگے تھے۔
“یہ تو بہت خوبصورت ہے شاہ جی، لیکن یہ مہنگا لگتا ہے”۔ اس نے دونوں بنھویں ملا کر بتایا۔ شاہ جی نے مسکرا کر اثبات میں سرہلایا۔
“انمول چیزیں انمول لوگوں کو دیا کرتے ہیں۔ میرے پاس ایک اور ہے! مگر وہ میں نے کسی اور کے لیے رکھا ہے”۔ وہ کسی کو سوچ کر مسکرادیے۔
“کس لیے شاہ جی؟”۔ وہ اب انہیں انہماک سے دیکھ رہی تھی۔
“ایک اور خاص بندے کے لیے۔۔۔”
چہرے پر دل چھو لینے والی مسکراہٹ برپا ہوئی۔
“کیا میں بھی آپ کے لیے خاص ہوں؟”۔ وہ متحیر ہوئی ان کی باتوں میں کھو سی گئی تھی۔
“ہاں۔۔۔”۔ وہ ساتھ ساتھ کام بھی کررہے تھے۔
“آپ دل موہ لینے والی باتیں کرتے ہیں شاہ جی”۔ اس نے سر جھٹکا۔
“اچھا؟ مجھے کبھی معلوم نہیں ہوا یا پھر یہ میری دل کی آواز ہے”۔
“آپ نے کبھی شادی کیوں نہیں کی شاہ جی؟”۔ یہ وہ سوال تھا جس پر وہ پل بھر کے لیے خاموش ہوئے تھے۔ وہ اس چھوٹی سی افشاں کو کیا بتائے۔۔
“تم جاننا چاہتی ہو؟”۔ انہوں نے بنھویں اچکا کر پوچھا تو صالحہ نے اثبات میں سرہلادیا۔
“بتاؤں گا تمہیں! بہت جلد بتاؤں گا تمہیں کہ میں نے شادی کیوں کی”۔ وہ کہہ کر چپ ہوگئے۔
“مجھے اچھا لگا سن کر کہ میں آپ کے لیے خاص ہوں ورنہ اس حویلی میں پھپھو کے علاوہ میں کسی کے لیے خاص نہیں شاید”۔ وہ اداسیوں کے سمندر میں ڈوب رہی تھی۔ اس نے وہ بریسلیٹ ہاتھ میں پہن لیا۔ شاہ جی کا دل کسی نے گویا مسل دیا تھا۔
“یہ بریسلیٹ بہت خوبصورت ہے شاہ جی۔۔۔ میں اسے ساری عمر سنبھال کر رکھوں گی۔ اس لیے بھی تاکہ مجھے یاد رہے کہ میں کسی کی نظروں میں خاص ہوں”۔ وہ مسکرائی اور باہر نکل گئی۔ ایک چھوٹے سے تحفے نے اسے بےحد خوش کردیا تھا۔ اور شاہ جی خود کا تیار کررہے تھے۔ وہ اب چاہتے تھے کہ صالحہ جان لے کہ انہوں نے شادی کیوں نہیں کی۔۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
شام کی چائے پر آج سب ہی ایک ساتھ لاؤنج پر بیٹھے تھے۔۔۔ تھوڑی ہی دیر میں دادی لاؤنج میں آئے تو سب خاموش ہوگئے۔ صالحہ اپنا بریسلیٹ ثریا کو دکھانے میں مصروف تھی۔
“آج کے آنے والے مہمان بہت خاص تھے ہمارے لیے”۔ داجی نے بات کا آغاز کیا۔ صالحہ نے لفظ “مہمان” سنا تو کان کھڑے کرلیے۔ شبیر صاحب خاموش بیٹھے تھے کیونکہ جو بات داجی بتانے لگے تھے اس سے ان کی بیٹی کا دل ضرور ٹوٹنے والا تھا۔
“ہم نے صالحہ کا رشتہ پکا کرلیا ہے۔ کبیر تمہیں اعتراض تو نہیں؟”۔ انہوں نے گردن موڑ کر پیچھے بیٹھے ہوئے بیٹے سے پوچھا۔ لوازمات سے بھری ٹرے سجاتے اندر آتے شاہ جی کے ہاتھ سے ٹرے لڑکھڑائی۔ داجی ماتھے پر بل ڈال کر انہیں دیکھا تو وہ معذرت کرتے میز پر ٹرے رکھ کر کچن کے پاس جا کھڑے ہوئے۔۔ وہ ان کی گفتگو سننا چاہتے تھے۔
“آپ کے آگے ہماری بات ہی کہاں ٹھہرتی ہے ابا جان!”۔ وہ تو تھوک نگلتے ہوئے بظاہر مسکرائے اور صالحہ کی جانب دیکھنے لگے جس کا چہرہ سفید لٹھے کی مانند ہو رہا تھا۔ “مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے”۔ انہوں نے یہ الفاظ صالحہ کی رنگت دیکھتے ہوئے کہے تھے۔ ثریا ماتھے پر بل ڈالے داجی کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ لاؤنج میں سکوت کا عالم چھا گیا۔ حیدر کا دل چاہا کہ وہاں سے اٹھ کر چلا جائے۔
“ہم جانتے ہیں تم ہمارا کہا کسی صورت نہیں ٹال سکتے”۔ انہوں نے اکڑ سے گردن اٹھائی۔
طلعت نے اپنے شوہر کبیر کو دیکھا جو بڑی آسانی سے داجی کا فیصلہ مان گئے تھے۔
“ہم نے صالحہ کا رشتہ اس لڑکے سے طے کر دیا ہے جو دوپہر میں آیا تھا اور حیدر کا رشتہ اس کی بہن سے! نکاح کے ساتھ رخصتی کی تقریب آنے والے ہفتے کو ہوگی”۔ ثریا کی رنگت اڑی تھی اور صالحہ کو اپنے گرد اندھیرا محسوس ہوا تھا۔ کچھ لمحوں کی خاموشی چھا گئی۔ وہ ایسے کسی کے ساتھ رشتہ کیسے جوڑ سکتے ہیں جبکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ ارحم کی منگتیر رہ چکی اور ارحم کو مرے دو ہفتے بھی نہیں ہوئے۔
“میں نہیں کروں گی شادی داجی۔ ایسا ظلم مت کریں۔ میں نے تو آپ کی ہر بات مانی ہے آپ بھی میری بات مان لیں مجھے شادی نہیں کرنی خدارا داجی!”۔ اسے نہیں معلوم کہ وہ کب چیخی تھی۔ طلعت نے غم سے اپنے پیشانی پر ہاتھ مارا تھا۔
“داجی میں آگے پڑھنے کا بھی نہیں کہوں گی۔ میں نہیں روں گی اور آپ جو کہیں گے میں وہی کروں گی مگر یوں نہ کریں!”۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
کبیر بٹ کا دل کسی نے اپنی مٹھی میں لے لیا تھا۔ شرجیل نے کچن کے دروازے پر کھڑی رفاہ کو دیکھا جو آنکھوں میں آنسو لیے صالحہ کو دیکھ رہی تھی۔
“خاموش لڑکی اگر اتنا ہی ظلم ہو رہا ہے تم پر تو ہمیں نہیں اپنے ویر سے کہو جس نے تمہارے نکاح کا خیال پہلے ہی دماغ بنایا ہوا تھا وہ اس شہری لڑکی کو پسند کرتا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی شادی تب تک اس لڑکی سے نہیں ہوگی جب تک تمہارا نکاح اس کے بھائی سے نہیں ہوگا!۔ حیدر اس لڑکے سے جس کا نام وجدان ہے اس سے پہلے ہی تم سے شادی کی بات کر چکا ہے ہے ہم نے تو رسماً اس سے ملاقات کی ہے! حیدر یہ سب پہلے ہی طے کر چکا تھا”۔ انہوں نے ڈپٹ کر بتایا۔
صالحہ کی رنگت ایک بار پھر بھی اس نے آنکھیں پھاڑ کے بے یقینی سے حیدر کو دیکھا جو زمین کو تک رہا تھا۔
ویر ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ نہیں داجی جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔! وہ خود سے خود کو کہہ رہی تھی۔۔۔
صالحہ کے حواس جھنجھنا اٹھے۔ ثریا کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا تھا اور وہ اٹھ کر بغیر حیدر پر ایک نظر ڈالے کمرے میں گئی تھی۔ شاہ زل نے اسے جاتے ہوئے بہت غور سے دیکھا تھا۔ ہاں وہ یہ ضرور چاہتا تھا کہ حیدر ثریا سے دور ہوجائے مگر وہ ثریا کو اداس نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
“شادی کی تیاریاں شروع کردو طلعت! شادی میں زیادہ وقت نہیں۔۔۔” وہ ابھی بات مکمل کر ہی رہے تھے کہ صالح چیخی۔
“میں نہیں کروں گی شادی! میں نہیں بنوں گی قربانی کا بکرا آپ جھوٹ بول رہے ہیں ویر ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔ نہیں کر سکتا وہ اپنی بہن کے ساتھ ایسا”۔ وہ پوری قوت سے چیخی۔ حیدر لب بھینچ گیا۔ اس کا دل کٹا جا رہا تھا۔
داجی تیزی سے اٹھے اور اسے ایک تھپڑ جڑدیا۔ وہ بل کھا کر زمین پر گرتی اگر اسے شمیلہ چچی اور طلعت نہ پکڑلیتے۔ سب حیران ہوگئے۔ کبیر تکلیف سے کھڑے ہوگئے مگر کچھ بول نہ سکے۔
“لے کر جاؤ اس کو ورنہ ہم ابھی اس کو قتل کردیں گے!۔ ہمیں بھلا کیا ضرورت پڑی ہے شہر سے لڑکی لانے کی؟ ہم مانے ہی حیدر کی وجہ سے ہیں! ہم بھی دیکھتے ہیں کیسے نہیں مانتی شادی کے لیے!”۔ وہ قہر آلود لہجے میں کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف مڑ گئے۔ یہ جانے بغیر کہ وہ شمیلہ چچی کی بانہوں میں بےہوش ہوچکی تھی۔ شاہ جی کچن کی زمین پر بیٹھتے چلے گئے۔ آنکھ نے آنسو بہائے اور ہونٹ کپکپانے لگے۔ اس قدر بےبس وہ پہلی بار افشاں کی وجہ سے ہوئے تھے اور اب ایسے ہی بےبس وہ اس وقت تھے۔
ظالم وقت!
ناقابلِ یقین لمحے!
۔۔۔★★۔۔۔
“کیا بات ہوئی؟”۔ وہ ابھی گاؤں سے لوٹا تھا۔ دماغی طور پر وہ اتنا تھک چکا تھا کہ آفس بھی نہیں گیا تھا بلکہ سیدھا گھر آگیا تھا۔ اتنی لمبی ڈرائیونگ نے اسے تھکا دیا تھا۔
“کیا پانی مل سکتا ہے؟”۔ اس نے تھکے تھکے سے لہجے میں پوچھا۔ وجیہہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ “ابھی لائی” کا کہہ کر کچن سے پانی کا گلاس لے آئی اور اسے تھما دیا۔ وہ اس قدر پیاسا تھا کہ ایک ہی سانس میں گلاس خالی کرگیا۔
“انہوں نے اس ہفتے کی شادی کی تاریخ دی ہے”۔ اس نے گہری سانس لے کر گلاس میز پر رکھا۔
“شادی کی؟ اتنی جلدی؟” اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹیں۔
“ہاں انہوں نے یہی تاریخ دی ہے شادی شہر میں ہوگی۔ ایک آخری بار پوچھ رہا ہوں! سوچ لو! میں دیکھ کر آیا ہوں وہاں کے لوگوں کو اور حیدر کے داجی کی سوچ کو! ان کے خیالات ہمارے خیالات سے قطعی ملتے جلتے نہیں”۔ وہ ساتھ ساتھ جوتے بھی اتار رہا تھا۔ اس نے وجیہہ کی آخری بار رضامندی جاننی چاہی۔ وہ کیسے اس کا برا چاہ سکتا تھا؟ وہ اسے اپنی بہن نہیں بیٹی سمجھتا تھا۔
“آپ اس طرح سے اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ آپ صالحہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے!”۔ وجیہہ نے نخوت سے کہا۔ وجدان نے گہری سانس لے کر ہوا میں چھوڑی۔ وہ اس کی بات کا غلط مطلب لے گئی تھی۔
“ایسا کیوں سوچتی ہو؟ اگر ایسا ہوتا تو حویلی ہی نہ جاتا میں”۔ اس نے بےبسی سے اپنی صفائی میں کہا۔
“جب مجھے ہی پرواہ نہیں تو آپ کو کیوں مسئلہ ہے بھائی؟ آج عمر کی اس دہلیز پر کھڑے ہو کر میں نے جانا کہ ماں باپ کا زندہ ہونا کیوں ضروری ہے”۔ وہ کہتے کہتے آبدیدہ ہوکر مڑنے لگی تھی وجدان نے اٹھ کر اسے گلے سے لگالیا۔ اس نے کیا کیا نہیں کیا تھا اس کے لیے! وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی محبت میں کہاں کمی رہ گئی؟۔ ہاں ہوسکتا ہے کمی رہ گئی ہو۔۔۔ کوئی خواہش وہ اس کی پوری نہ کرسکا ہو۔۔۔ وہ اس کا سگا باپ نہیں تھا۔۔۔ وہ اس کا باپ جیسا بھائی تھا مگر سگا باپ نہیں تھا۔
“رو مت جیا جان! بھائی کو تکلیف ہوتی یے نا۔۔۔ روتے نہیں ہیں! آنے والے ہفتے کو شادی ہے تمہاری اور ساتھ میری بھی اور دیکھو! ہم نے کوئی بھی تیاری نہیں کی! جاؤ منہ دھو اور کپڑے تبدیل کرو۔۔۔ جب تک میں فریش ہوجاتا ہوں پھر ساتھ باہر ڈنر بھی کریں گے اور شاپنگ بھی”۔ وہ اس کی پیشانی چومتے ہوئے محبت سے بولا۔ وہ ویسے ہی کھڑی اپنے آنسو پونچھنے لگی۔
“جانا ہے کہ نہیں؟”۔ وہ جب ٹس سے مس نہ ہوئی تو وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھر کر اونچا کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔ وہ اب بھی خفگی دکھاتی چپ رہی اور اس کے گلے لگی رہی۔۔۔
“چلو ٹھیک ہے میں تو موڈ میں تھا اب اگر تمہیں ہی نہیں جانا ہے تو کوئی بات نہیں”۔ وہ اسے خود سے جدا کرتے ہوئے بولا اور مڑنے لگا۔
“نہیں ناا” وہ بچوں کی طرح اس کا بازو پکڑتے ہوئے منمنائی۔
“اچھا چلو۔۔ شاباش اب جاؤ جلدی سے فریش ہوکر آؤ”۔ وہ ہنستا ہوا بولا اور اس کی پیشانی چوم کر اسے خود سے جدا کیا۔ وہ اثبات میں سرہلاتی کمرے سے چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد وہ چہرہ جس کے لبوں پر وجیہہ سے بات کرتے ہوئے مسکراہٹ تھی وہ اب غائب ہوگئی۔ چہرہ مرجھا گیا اور مسکراہٹ سمٹ گئی۔ دل نے پھر تکلیف کی اور ایک صدا آئی۔۔۔ بہن کے لیے کچھ بھی۔ وہ کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑا رہا وہ نہیں جانتا تھا۔ خود سے خود کا عکس دیکھتے ہوئے وہ تھکا نہیں تھا۔ ہوش تب آیا جب وجیہہ کمرے میں داخل ہوئی اور حیرانی سے اس سے پوچھنے لگی کہ وہ کیوں نہیں تیار ہوا۔ اسے یکدم ہوش آیا۔
“نہیں۔۔ وہ۔۔ میں سوچ رہا تھا کہ ایسے ہی چلتا ہوں! آنے کے بعد تبدیل کرلوں گا کپڑے”۔ اس نے مسکرا کر اپنے موزے پھر سے چڑھائے اور جوتے پہن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ لبوں پر مسکراہٹ جیسے جان بوجھ کر چپکائی تھی۔ اس نے ایک نظر اپنے آپ کو دیکھا۔ آنکھوں کے گرد ہلکے حلقے نمایاں ہورہے تھے۔ کتنے دن ہوگئے تھے اور نیند پوری نہیں ہوئی تھی۔ صبح والی ڈریسنگ میں وہ اب تک موجود تھا۔ بلاشبہ تھکاوٹ کے باوجود وہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔ اس نے بال بنائے اور وجیہہ کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ یہ اس کے جینے کی وجہ تھی۔ وہ تھی تو یہ تھا۔ بس یہ سوچ کر وہ اپنی ہر تھکاوٹ اس کے نام کردیتا تھا۔ وہ اس کا بھائی تھا۔۔۔ وہ یہ کرسکتا تھا۔
محبت یوں ہی تھوڑی ہوتی ہے کسی شخص سے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
صبح آذان کے وقت اس کی آنکھ کھلی تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ گزرا ہوا دن یاد آیا تو سر بھاری ہوگیا۔ ارحم اسے کثرت سے یاد آیا۔ اس کے آنسو بے اختیار آنکھوں سے بہنے لگے۔ قریب آدھا گھنٹا وہ یوں ہی سر گود میں رکھے گھٹ گھٹ کر روتی رہی۔۔۔ اسے نہیں کرنی شادی! اسے قربانی کا بکرہ نہیں بننا۔۔۔ کیسے اٹھائے وہ اس ظلم کے خلاف آواز؟۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی کہ
وَاسۡتَعِيۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَالصَّلٰوةِ ؕ وَاِنَّهَا لَكَبِيۡرَةٌ اِلَّا عَلَى الۡخٰشِعِيۡنَۙ ۞
ترجمہ:
صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے۔
اس نے نمازِ فجر پڑھی اور الله کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلائے۔۔۔ آنسو بےربط بہہ رہے تھے۔ سوچا شروعات کہاں سے کی جائے مگر لبوں سے کچھ نکل ہی نہ پایا۔ وہ اتنا روئی کہ جائے نماز اس کے آنسو خود میں جزب کرنے لگی۔ وقت گزرنے لگا مگر آنسوؤں کے سوا اور کچھ نکلا ہی نہیں۔۔۔ وہ اٹھ گئی جائے نماز سے یہ دعا مانگ کر کہ
“یا اللہ میرے ساتھ صرف وہی ہو جو میرے لیے بہتر ہو۔۔۔” آمین کہتے ہوئے وہ یہ سوچ کر اٹھی تھی کہ اس نے اپنا معاملہ الله پر چھوڑدیا یے۔
دل ہلکا ہوا تو مرجھائے چہرے پر نماز کی طرح ڈوپٹہ لیتے ہوئے باغ میں آگئی۔ وہ یاد کرنے لگی کہ کیا کیا ہوا تھا۔۔۔ باغ میں لگا ایک بڑا جھولا تھا جس پر وہ بیٹھے پاؤں سے ہلکا ہلکا جھلا رہی تھی۔
حیدر کا خیال آیا تو ایک بار پھر بےیقین ہوگئی لیکن پھر اسے یاد آیا کہ شہر میں ملاقات کے وقت وہ لوگ حویلی رشتہ لانے کی بات کررہے تھے۔ تو کیا ویر نے مجھے قربان کرنے کا پہلے ہی تہیہ کر رکھا تھا؟۔ اس کے دل میں یکدم حیدر کے لیے رقابت کے جذبات ہیدا ہوئے اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ سات بجنے لگے تھے اور حیرت کی بات یہ تھی کہ آج کوئی عورت جلدی نہیں اٹھی تھی۔
اگر وہ یہی سب چاہتا تھا تو اسے شہر کیوں لے کر گیا؟۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟۔ کیا وجیہہ وہ ہی لڑکی یے جس سے حیدر ویر شادی کرنا چاہتا ہے؟۔ اسے محسوس ہوا وہ اس کا بھائی نہیں ہے۔۔۔ وہ ایک ظالم درندہ صفت انسان یے جس نے اپنی بہن کو اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ اس کے آگے کھائی ہے اور پیچھے کنواں۔ اسے یہ بھی یاد آیا کہ کل داجی اور حیدر کی بحث ہورہی تھی۔ اب اسے سمجھ آیا کہ کس بات پر بحث ہورہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔ وہ آوازوں سے نہیں رورہی تھی۔ اس کا دل رورہا تھا اور آنکھیں اپنا کردار ادا کررہی تھیں۔
ثریا کا خیال آیا تو وہ سوچنے لگی کہ وہ کتنے تکلیف میں ہوگی۔۔۔ حیدر ویر نے اسے ٹھکرادیا تھا۔۔۔ دل نے ایک دم سوچا کہ صحیح کیا کہ ٹھکرادیا وہ ثریا جیسی موم سی لڑکی کے قابل بھی نہیں تھا۔ جو اپنی بہن کو جہنم میں پھینک دے اس سے کوئی بعید نہیں کہ وہ کل کو ثریا کے ساتھ کیا کردے۔ اس نے جھولے کی زنجیر پر اپنا سر ٹکادیا۔ ایسی ہی کوئی زنجیر اس کے پاؤں پر بھی باندھ دی گئی تھی۔ ایک کٹھ پتلی بنا دیا گیا۔ ایک ناچنے والا جانور بنادیا گیا تھا جسے ہر سڑک نچایا جاتا ہے اور لوگ انہیں دیکھ کر مزا لیتے ہیں اور پھر مالک اس جانور کی زنجیر کھینچتا یے جو پاؤں پر بندھی ہوتی ہے۔ پرندے چہچہارہے تھے اور دل رورہا تھا۔ سورج ابھررہا تھا اور چہرہ ڈھل رہا تھا۔ اسے افسوس تھا۔ اسے افسوس تھا کہ داجی کے آگے اس کا باپ بھی نہیں بولا۔ وہ تو باپ تھا نا! وہ تو بول سکتا تھا۔ وہ حیدر کو ایک تھپڑ جڑ سکتا تھا اور پوچھ سکتا تھا کہ سرِ بازار اس کی بیٹی کی بولی کیوں لگوائی؟۔ وہ تو باپ تھا نا! وہ کہہ سکتا تھا کہ داجی مجھے اپنی بیٹی کے لیے آپ کا یہ فیصلہ نامنظور ہے۔ وہ تو باپ تھا نا! جب اس کی بیٹی چیخ رہی تھی اپنے حق کے لیے تو وہ تڑپ کر اپنی بیٹی کے حق میں تو کہہ سکتا تھا نا۔ مگر وہ خاموش رہا۔ وہ چپ رہا جب داجی نے تھپڑ مارا۔ وہ خاموش رہا جب اس کی بیٹی کو حیدر کے بدلے قربان کرنے کا فیصلہ کیا جارہا تھا۔
اسے اپنی ماں پر بھی حیرت ہوئی جو خاموش رہی۔۔۔ جو اس کے بیہوش ہونے پر اسے صرف کمرے تک کا سہارا دینے آئی اور پلٹ گئی۔ اسے دکھ ہوا کہ وہ ہی کچھ بول دیتی اپنی بیٹی کے لیے۔۔۔
اسے سب سے زیادہ دکھ اپنے لاڈلے ویر پر ہوا۔ اسے یاد آیا وہ دونوں سڑک کے بیچوں بیچ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بھاگے تھے۔ وہ اس خوبصورت سی یاد کو کیسے بھول سکتی تھی۔ زندگی میں پہلی بار حیدر نے اس کی پیشانی چومی تھی۔ زندگی میں پہلی بار حیدر نے اس سے مذاق کیے تھے۔ اس کی ہر خواہش پوری کی تھی تو کیا وہ محض پیار جتانا تھا؟ یا پھر آنے والے صدمے کے لیے تیار کرنا تھا؟۔ وہ یہ کیسے بھول گئی تھی کہ وہ بھی حویلی کا ہی مرد ہے! اسے ان جیسا ہی ہونا ہے۔۔۔ وہ کیوں حیدر کی باتوں میں آگئی۔ سب سے زیادہ دکھ اس جان سے پیارے نے اسے دیا تھا۔ صرف اس کی وجہ سے آج اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اس کا دل چاہا کہ اس کا گریبان پکڑ کر اسے جنجھوڑ ڈالے۔۔۔ اس سے پوچھے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔۔۔ اس کے ویر نے ایسا کیوں کیا۔۔۔ بھائی تو محافظ ہوتے ہیں نا؟۔ وہ کیوں اسے کھائی میں پھینک رہا ہے۔ اس کی محبت صرف ارحم سے ہے وہ یہ کیوں نہیں جان لیتا۔۔۔ اگر وہ اپنی محبت کے لیے اپنی بہن قربان کرسکتا ہے تو اس کی بہن اپنی محبت کے لیے کیا کرے؟؟۔ اس کی آنکھیں شدتِ ضبط سے لال ہوگئیں۔ باغ میں شاہ جی ٹرے لے کر داخل ہوئے تھے۔ صالحہ کو ان کی موجودگی کا علم بھی نہ ہوسکا۔ وہ اس کے قریب آئے اور چائے کی ٹرے آگے کی تاکہ وہ اپنا کپ اٹھا لے۔ وہ چونک اٹھی اور جلدی جلدی آنسو پوچھنے لگی۔ شاہ جی نے اس کی حرکت بہت غور سے نوٹ کی۔
“آنسو بہالینا صحت کے لیے مضر نہیں ہوتا صالحہ دھی”۔ انہوں نے کپ اس کے ہاتھ میں دیا جسے اس نے تھام لیا۔
“آنسو بہانا ضروری تو نہیں ہوتا! کبھی کبھی ظلم کو خاموشی سے بھی سہہ لینا چاہیے”۔ وہ طنزیہ بولی۔ آنکھیں پھر سے گیلی ہوگئیں۔ وہ اپنا کپ ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے اس کے ساتھ جھولے پر بیٹھ گئے۔ شاہ جی نے اپنے آپ کو کالی شال سے گھیرا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ سے اپنے چائے کا کپ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے ٹرے جھک کر سائیڈ پر گھانس پر رکھ دی۔
“اس طرح ظالموں کو خبر ہوجائے گی کہ مظلوموں کو ظلم سہنے میں مزا آتا ہے”۔ انہوں نے اپنے پیروں سے جھولا جھلاتے ہوئے کہا۔
میں نے اپنا معاملہ الله پر چھوڑ دیا ہے شاہ جی۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟”۔ اس نے کپکپاتے لبوں سے پوچھا۔
“کہو میری دھی”۔ وہ مدھم آواز میں بولے اور ایک نظر سب سے اوپر منزل والی کھڑکی کی جانب دیکھا جہاں پردے لگے تھے۔
“ہمارے ہی رشتے ہمیں کیوں تکلیف دیتے ہیں؟۔ جیسے۔۔۔ جیسے شاہ جی میری جان سے پیاری پھپھو کی زبان جلادی داجی نے۔۔۔ بلکل ویسے جیسے صالحہ کو اس کے بھائی نے جہنم میں پھینکنے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ رسم و رواج کے مخالفت کرتی آئی تھی میں آج تک شاہ جی! خود ہی رسم و رواج کی بھینٹ چڑھنے لگی ہوں۔۔۔ ہے نا عجیب؟”۔ وہ تلخی سے مسکرائی۔
“زندگی آسان نہیں صالحہ! یہ میرے علاوہ اور کون جانتا ہوگا”۔ ان کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں۔
“میں نے تم سے بلکل اپنی بیٹیوں کی طرح محبت کی ہے صالحہ دھی۔ پوری رات صرف اپنی دھی کے لیے رویا ہوں۔۔۔ مگر یہ پہلی بار نہیں۔ بہت سال پہلے جائے نمازوں میں گر کر کسی اور کے لیے بھی رویا تھا اور اب تک روز نمازوں میں یوں ہی روتا ہوں۔ مگر کل رات دیر تک رویا کیونکہ دعاؤں میں تم بھی شامل تھی۔ تم جاننا چاہتی تھی نا میں نے شادی کیوں نہیں کی؟”۔ انہوں نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ صالحہ اپنا غم بھول کر انہیں تکنے لگی۔
“ہاں شاہ جی”۔ اس نے تیزی سے اثبات میں سرہلایا۔
“میری زندگی کا قصہ اس حویلی میں موجود ایک عورت سے منسلک ہے صالحہ!”۔ انہوں نے مسکرا کر دکھ سے کہا۔
“کس سے؟”۔ صالحہ نے تجسس سے ان سے پوچھا۔
“اس شخص سے جس سے میں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ محبت کی ہے! جاننا چاہتی ہو کس سے؟”۔ انہوں نے اوپری منزل کی عمارت کو دیکھا۔ صالحہ نے ایک بار پھر اثبات میں سرہلایا تو انہوں نے اوپری منزل کی طرف اشارہ کیا۔
“اس منزل کی کھڑکی کے اندر موجود شخص سے میری زندگی کی ڈور بندھی ہے۔ زندگی اسی امید پر گزاردی کہ یہ مجھے کبھی مل جائے گی۔ ایک ایسی امید پر جو میری زندگی کہ سنہرے پل برباد کرگئی! وہ پل اور لمحات برباد کر گئی جس لمحوں میں میں اپنی زندگی اس کے ساتھ گزارنا چاہتا تھا”۔ صالحہ نے ان کے اشارے کے تعاقب میں دیکھا اور ششدر رہ گئی۔ ان کا اشارہ افشاں کے کمرے کی طرف تھا۔ اس نے مڑ کر شاہ جی کو دیکھا جو اداس چہرے پر مسکرا رہے تھے۔
“افشاں پھپھو؟”۔ وہ ساکت لبوں کو حرکت کرتے ہوئے بولی۔ شاہ جی افشاں کا نام سن کر مسکرادیے۔
“کہانی سنا چاہو گی؟”۔ انہوں نے بنھویں اچکا کر اس سے پوچھا۔
“جی شاہ جی۔۔۔ کون احمق نہیں سننا چاہے گا”۔ وہ کھو رہی تھی ان کے محبت بھرے لہجے میں۔
“یہ داستانِ عشق ہے صالحہ۔ دو ایسے لوگوں کی داستان ہے جن کے دلوں میں محبت کا پہرا ہے۔ انہوں نے کبھی غور سے ایک دوسرے کا چہرہ بھی نہیں دیکھا تھا۔ یہ محبت ایک دوسرے کی روحوں سے تھی۔ یہ کہانی اس کنچی آنکھوں والی لڑکی کی ہے جو اتنے سالوں سے میرے دل کے مکان کی دہلیز پر کھڑی کھٹکا دے رہی ہے اور میں تڑپ رہا ہوں۔ تمہاری پھپھو اس رسم و رواج کے درمیان آگئیں صالحہ۔۔۔ میں نے اس سے زیادہ حسین عورت کبھی نہیں دیکھی۔۔۔ اس نے اشک بہائے تھے صرف میری محبت کے لیے اور میں اپنے آپ کو اس کے لیے وارنے کو تیار تھا۔ یہ داستانِ عشق بشارت اور افشاں کے گرد گھومتی ہے صالحہ”۔ وہ مسکراتے ہوئے کھڑکی کی طرف دیکھنے لگے۔۔
“بشارت؟”۔ اس نے الجھ کر حیرت سے پوچھا۔۔۔ وہ کھلکھلائے اور اسے دیکھنے لگے۔
“بشارت حسین عرف شاہ جی”۔ انہوں نے حیرت سے پھیلتی کنچی آنکھوں کو دیکھا۔
“آپ۔۔۔۔ آپ۔۔۔ بشارت”۔ اسے لگا وہ جملا مکمل نہیں کر پائے گی۔ مٹی کی تیز خوشبو آرہی تھی۔ لگتا تھا کہ ایک بار پھر بارش ہوجائے گی۔
“ہاں میں بشارت حسین۔۔۔ اس کرب میں زندگی گزاردی کہ اسے میرے علاوہ کسی اور کا نہ کردیا جائے مگر نہ وہ کسی اور کی ہوئی اور نہ میں نے اس سے منہ موڑا۔۔۔ اگر موڑتا تو وہ محبت نہ ہوتی۔ روز تاریک رات میں یونہی درخت کے نیچے کھڑے ہوکر نگاہیں اس کے کمرے کی کھڑکی کو تکتی ہیں کہ اب بھٹک کر وہ کھڑکی تک آئے گی۔ مجھے اس دیا کی تلاش ہے جس کا ذکر وہ اپنی باتوں میں کیا کرتی تھی۔ وہ دیا بجھ گیا صالحہ! وہ بجھ گیا۔۔۔ اس ظالم شخص نے اس کو بےزبان کردیا صالحہ۔۔۔ کوئی اپنی بیٹی کو کیسے تڑپا سکتا ہے یہ کوئی داجی سے جانے۔۔۔”۔ وہ اپنا غم بھلائے انہیں سن رہی تھی۔
“کبھی سوچا ہے کہ تم میری نظروں میں زیادہ اہم کیوں میری دھی؟”۔ انہوں نے جھولا پاؤں سے ہلکے سے جھلایا۔ “کیونکہ تم افشاں جیسی ہو۔۔۔ تمہارا ہر انداز اس کے جیسا یے۔ وہ ہنسا، وہ مسکرانا، وہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر خفا ہوجانا۔ وہ اپنے حق پر بغاوت اور۔۔۔۔ اور محبت میں خود کو تمام کرلینا۔ اس حویلی میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار لیا اور افشاں کو معلوم ہی نہیں کہ اس کا محبوب اسی حویلی میں ہے۔ اسے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے مگر پہلے محرم بنانا چاہتا ہے۔۔۔ شمیلہ بھابھی کہتی ہیں میں ان سے گزارش نہ کروں کہ مجھے افشاں سے ملنا ہے۔۔۔ امید پر زندگی گزار دی اب خواہش کا اظہار بھی نہ کروں۔ انہوں نے ہمیشہ ہمارا ساتھ دیا ہے صالحہ۔۔۔ شمیلہ بھابھی حویلی کی بہت اچھی عورت ہیں۔ ممکن ہے افشاں کو محسوس ہو کہ اس کا محبوب دھوکے باز نکلا اور اسے چھوڑ کر بھاگ گیا۔۔۔ ہوسکتا ہے وہ مجھ سے متنفر ہو۔۔۔ جب اس کا خط آیا تھا جس میں بڑے الفاظوں میں مجھے اس نے گاؤں چھوڑنے کی تنبیہہ کی تھی ورنہ مجھے داجی مروادیتے! مجھے لگا یہ وقت ہے محبت ثابت کرنے کا! اور۔۔۔ اور اتنے سال گزر گئے اس حویلی میں لگتا یے یہی سے تعلق رکھتا ہوں ہمیشہ سے”۔ وہ پھیکا سا مسکرائے۔۔۔ صالحہ کا چہرہ آنسو سے بھیگ گیا تھا۔ وہ حیران تھی۔۔۔ شاہ جی نے اپنی زندگی افشاں پھپھو کی محبت میں حویلی میں گزاردی۔۔۔ اسے افشاں پھپھو پر بےحد ترس آیا۔
“رشتے بہت تکلیف دیتے ہیں شاہ جی۔۔۔”. اس نے تڑپ کر کہا۔
“کیا تمہیں خوشی نہیں کہ تم حویلی سے بہت دور جارہی ہو؟ ہوسکتا ہے وہ شخص تمہیں پڑھانے پر آمادہ ہوجائے”۔ انہوں نے کپ لبوں سے لگایا۔۔۔
“میں دل دے چکی ہوں شاہ جی”۔ وہ تڑپ رہی تھی۔
“کیا تمہیں کسی نے بتایا نہیں کہ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جاتا ہے؟”۔ انہوں نے خالی کپ ٹرے میں رکھا۔
“اس کو مرے عرصہ ہی کتنا ہوا ہے شاہ جی؟۔ مجھے کچھ وقت درکار یے خود کو سنبھالنے کے لیے۔۔۔ میں کیا کروں شاہ جی؟؟ حیدر ویراں نے اپنی خوشی کے لیے میرا استعمال کیا ہے”۔ اس نے بےدردی سے اپنی آنکھیں رگڑیں۔
“ہوسکتا ہے وہ شخص باقی مردوں سے بہتر ہو۔۔۔ کیا پتا حیدر کا یہ فیصلہ تمہارے لیے اچھا ثابت ہوجائے”۔ وہ جانتے تھے کہ اب انہیں تیار کرنا ہے صالحہ کو۔۔۔ داجی اپنے کہا سے پھرتے نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اسے وجدان کی ہی بیوی بننا یے۔۔
“اور ہوسکتا ہے وہ اچھا نہ ہو؟ کیا کروں گی پھر میں؟۔ بغیر کسی تفشیش کے کون کسی شخص کے بارے میں سوچ سکتا ہے شاہ جی”۔ وہ گھانس کو تک رہی تھی۔
“اگر وہ شخص اچھا نہیں نکلا تو صرف ایک کام کرنا”۔ وہ کچھ سوچنے لگے۔۔۔
“کیا؟”۔ اس نے حیرت سے انہیں دیکھا۔
“حیدر کا گلا دبادینا اور اس شخص کو اس کے ہی گھر سے نکال دینا”۔ وہ شاہ جی کی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی ہنس دی۔
“ہر مشکل کا خود ہی حل نکل جاتا ہے میری دھی۔۔۔ مگر اپنی تو ڈور ہی وہاں اٹکی ہے”۔ انہوں نے مسکرا کر پھر اس کھڑکی کو دیکھا۔ وہ بھی مسکرادی دکھ سے۔۔۔ وہ دکھی تھی کیونکہ وہ ان کی کہانی جان گئی تھی۔۔۔ ہلکی ہلکی پھوار کا آغاز ہوچکا تھا۔
“مجھے گنگنانا بہت پسند ہے”۔ وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگے۔ کمر پر ہاتھ باندھ کر وہ زمین کو تکتے گنگنارہے تھے۔
پھر خزاں کی بدلیاں چھٹ جائیں گی۔۔۔
بے قراری کو چین آجائے گا۔۔۔
روح کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔۔۔
ٹہنیاں موسم ثمر پائیں گئی۔۔۔
غم کدوں میں محبت کا چلن ہوگا۔۔۔
اخوت پر جمی گرد پھر سے دھل جائے گی۔۔۔
سارے خواب حقیقت میں ڈھل جائیں گے۔۔۔
کارواں جو لٹے ہیں سب سنبھل جائیں گے۔۔۔
فاصلے جو بڑھ گئے ہیں اور نشان ہوگئے ہیں گم۔۔۔
وہ سب منزلوں میں بدل جائیں گے۔۔۔
۔۔۔★★۔۔۔
