The wrong Bride (urdu Version) readelle50142 The Wrong Bride: Chapter 11
Rate this Novel
The Wrong Bride: Chapter 11
مجھے فوراً سمجھ آ جاتا ہے کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں…
کیونکہ وہ میرے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہے — معصوم سی، ہلکی سی گھبرائی ہوئی، اس کا جسم میرے ساتھ لگا ہوا ہے۔
یہ وہی خواب ہے جو میں برسوں سے دیکھتا آ رہا ہوں۔
وہی سرخ لباس…
سیئرا کی اکیسویں سالگرہ کی رات والا۔
وہ لباس اُس پر ایسا لگ رہا ہے کہ نظر ہٹانا ناممکن ہو۔
کمر سے تنگ، اُس کے نازک وجود کو جیسے اپنے اندر قید کیے ہوئے۔
“ایریس…”
وہ دھیرے سے میرا نام لیتی ہے، آواز میں التجا سی ہوتی ہے۔ “پلیز…”
پتہ نہیں کتنے برس ہو گئے اسے یوں شرمائی ہوئی نظروں سے دیکھے ہوئے،
مگر اس خواب میں…
وہ ویسی ہی ہے جیسی اس رات تھی —
میری سوچوں سے بھی زیادہ خطرناک۔
“ریون… تمہیں پتہ بھی ہے تم مانگ کیا رہی ہو؟”
میں سرگوشی میں کہتا ہوں، اس کے بالوں میں ہاتھ پھنساتے ہوئے۔
اس کی سانس تیز ہے، آنکھوں کی پتلیاں پھیلی ہوئی ہیں۔
وہ ایسے مجھے دیکھ رہی ہے جیسے بس ایک لمحہ درکار ہے —
اور سب حدیں ٹوٹ جائیں گی۔
“مجھے اچھی طرح پتہ ہے میں کیا مانگ رہی ہوں، ایریس،”
وہ مضبوطی سے جواب دیتی ہے۔
میں بے اختیار اسے دیوار کی طرف کھینچ لیتا ہوں،
ہم دونوں کا جسم ایک دوسرے سے مکمل جڑ جاتا ہے۔
“تمہیں یہاں ہونا ہی نہیں چاہیے، چھوٹی سی لڑکی،”
میں بھاری آواز میں کہتا ہوں۔ “تم بہت کم عمر ہو، بہت معصوم۔ تم جانتی بھی ہو تم کر کیا رہی ہو؟”
وہ نرمی سے مسکراتی ہے،
ہاتھ میرے سینے سے اوپر سرکتے ہوئے میرے گلے کے گرد آ کر رک جاتے ہیں۔
“میں اتنی معصوم بھی نہیں جتنی تم سمجھتے ہو،”
وہ آہستگی سے چیلنج کرتی ہے۔
میں اس کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں،
ایک قدم اور آگے بڑھ کر اسے اپنے بازوؤں کے ہالے میں قید کر لیتا ہوں۔
“اس کا مطلب؟
کیا یہ پہلی بار نہیں کہ تم کسی مرد کے کمرے میں آدھی رات کو یوں چلی آئی ہو؟”
وہ ہلکا سا رخ موڑ کر مسکراتی ہے۔
“نہیں۔”
میں اس کی ضد پر بے اختیار مسکرا دیتا ہوں،
دل میں عجیب سی بے چینی، بے تابی،
جو برسوں سے میرے اندر دبی ہوئی تھی۔
“چھوٹی جھوٹی،”
میں اس کے کان کے قریب جھک کر کہتا ہوں۔ “تمہیں پتہ ہے نا مجھے جھوٹ سے نفرت ہے؟ مجھے مجبور مت کرو تمہیں سزا دینے پر۔”
وہ سر ذرا سا اٹھاتی ہے،
ہونٹ میرے ہونٹوں کو ہلکے سے چھوتے ہیں۔
“سزا دو مجھے، ایریس… میں خود مانگ رہی ہوں۔”
میں بری طرح ہار جاتا ہوں۔
ہونٹوں پر اس کا لمس آتے ہی برسوں کی روکی ہوئی خواہش شدت سے جاگ اٹھتی ہے۔
میں اسے اپنے قریب کھینچ لیتا ہوں،
ہم دونوں کے بیچ کی ساری دوریاں جیسے ختم ہوجاتی ہیں۔
لمحہ بھر میں سب کچھ تیز ہو جاتا ہے —
اس کا لمس، اس کی خوشبو، اس کی دبی ہوئی سسکی،
میری سانس، میرا دل، سب کچھ۔
“ہمیں رک جانا چاہیے،”
میں پھر بھی آخری کوشش کرتا ہوں، اس کے ہونٹوں سے بمشکل الگ ہوتے ہوئے۔
“شراب بھی پی ہے، تم بھی، میں بھی… میں نہیں چاہتا تمہاری زندگی کا پہلا یہ لمحہ کسی دھندلے، الجھے نشے میں یاد رہے۔”
وہ آنکھیں نم کرتی ہے،
آواز کانپ جاتی ہے۔
“مجھے ریجیکٹ مت کرو، ایریس… پلیز۔ میں یہ برداشت نہیں کر سکتی۔”
اس کا لہجہ میرے ضبط کو توڑ دیتا ہے۔
میں اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام لیتا ہوں۔
“ریون… ایک بات کبھی دل سے مت نکالنا،”
میں مدھم آواز میں کہتا ہوں۔
“میں نے کبھی ایسا ایک بھی لمحہ نہیں دیکھا جب میں تمہیں نہ چاہتا ہوں۔ تم جب بھی میرے آس پاس ہوتی ہو، مجھے خود کو روکنے کے لیے خود کو ہی قائل کرنا پڑتا ہے۔ میں ہمیشہ تمہیں چاہوں گا۔ ہمیشہ۔”
وہ میری آنکھوں میں دیکھتی ہے،
جیسے یقین کرنا بھی چاہتی ہے اور ڈر بھی رہی ہو۔
میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوں،
اسے آہستہ سے اپنے قریب لاتا ہوں،
اور وقت تھم جاتا ہے۔
ہم دونوں کے درمیان جو فاصلہ رہتا ہی کتنا ہے…؟
ایک سانس، ایک دھڑکن…
اس کے بعد…
منظر جیسے دھندلا جاتا ہے۔
صرف اتنا یاد رہ جاتا ہے کہ میں نے اسے خود سے الگ نہیں کیا۔
اس کے کانپتے ہوئے وجود کو پہلے بار اپنے سینے سے لگا کر…
میں جان گیا تھا —
اگر آج میں اسے نہ روکا تو یہ رشتہ…
واپس مڑنے کا راستہ کبھی نہیں پائے گا۔
“اگر آج میں تمہیں اپنے قریب آنے دوں،”
میں اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے کہتا ہوں،
“تو سمجھ لو… تم ہمیشہ کے لیے میری ہو جاؤ گی، ریون۔”
وہ سر اٹھا کر مسکراتی ہے،
اس کے ہونٹوں پر وہی سرخ لپ اسٹک،
جسے برباد کرنے کو میرا دل برسوں سے چاہتا ہے۔
“میں تو پہلے ہی تمہاری ہوں، ایریس،”
وہ نرمی سے جواب دیتی ہے۔
میرا دل ایک لمحے کو جیسے دھڑکنا بھول جاتا ہے۔
وقت رکتا ہے،
خواب کی دنیا گہری ہوتی جاتی ہے،
لمحے تیز ہو جاتے ہیں،
چہرے، سانسیں، لمس…
سب ایک دھند میں بدل جاتے ہیں۔
اور پھر —
“مجھ سے شادی کرو، ریون،”
میری اپنی آواز گونجتی ہے،
ایسی صاف، جیسے سارا کمرہ خاموش ہو۔
“دادی اور تمہارے والدین نے جو طے کیا سو الگ، میں خود تم سے پوچھ رہا ہوں —
کیا تم مجھ سے شادی کرو گی؟”
“ایریس…”
وہ میرا نام لیتی ہے —
آواز دور ہوتی جاتی ہے،
جیسے میں پانی کے اندر ڈوبتا جا رہا ہوں۔
“نہیں… ابھی نہیں،”
میں خود ہی اس خواب کو تھامنے کی کوشش کرتا ہوں،
مگر وہ ٹوٹنے لگتا ہے۔
“ایریس؟”
میں جھٹکے سے اٹھ بیٹھتا ہوں۔
سانس پھولا ہوا ہے، ماتھا پسینے سے بھیگا ہوا۔
کمرے میں اندھیری روشنی میں ایک مانوس سی شخصیت کھڑی ہے —
دادی این۔
وہ بازو باندھے مجھے گھور رہی ہوتی ہیں۔
“ہماری ناشتے کی روٹین تم بھول گئے ہو؟”
وہ قدرے خفگی سے کہتی ہیں۔
“تم کبھی لیٹ نہیں ہوتے، اس لیے میں خود اوپر آ گئی۔”
میں گھبرا کر فون اٹھاتا ہوں۔
سارے الارم مس ہو چکے ہیں۔
“معاف کیجیے گا، گرامز،”
میں گہری سانس لے کر کہتا ہوں۔ “صرف چند منٹ دیں، میں فوراً نیچے آتا ہوں۔”
وہ مجھے غور سے دیکھتی ہیں،
پھر سر ہلا کر کمرے سے باہر چلی جاتی ہیں۔
دروازہ بند ہوتے ہی میں واپس بستر پر گر جاتا ہوں،
ہاتھ سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیتا ہوں۔
چاہے جتنا بھی وقت گزر جائے…
یہی خواب مجھے پھر وہیں لا کھڑا کرتا ہے۔
سیئرا کی اکیسویں سالگرہ کی رات…
مجھے شاید پوری رات ٹھیک سے یاد نہیں —
مگر اگلی صبح؟
جب آنکھ کھلی تھی…
تو میرے ساتھ ریون نہیں،
ہنّا تھی۔
