162.4K
13

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

جب میں اپنے دفتر کی عمارت کے سامنے اریس کو اپنی گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے میرا انتظار کرتے دیکھتی ہوں تو میرا دل ایک لمحے کو رک سا جاتا ہے۔

میں چند لمحے رک کر اُسے دیکھتی ہوں۔ اُس کے سیاہ بال، وہ تیز نکیلی ٹھوڑی، وہ سبز آنکھیں جو بالکل سیرا جیسی ہیں۔ یہ ناانصافی ہے کہ وہ وقت کے ساتھ اور بھی خوبصورت ہوتا جا رہا ہے۔ ہر بار جب میں اُسے دیکھتی ہوں، وہ کچھ اور دور لگنے لگتا ہے۔ جیسے ہی اُسے میری موجودگی کا احساس ہوتا ہے، وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے اور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بکھر جاتی ہے۔

“ہیلو!” میں اُسے کہتی ہوں جب وہ میرے لیے دروازہ کھولتا ہے۔ اریس مسکراتا ہے اور میں بھی اُسے دیکھ کر مسکرا دیتی ہوں۔ شاید بعد میں مجھے اُس کے آگے جھکنے پر پچھتاوا ہو، لیکن تب تک میں اس ہر لمحے کو پوری طرح جینا چاہتی ہوں۔

“ہم کہاں جا رہے ہیں؟” میں اُس سے پوچھتی ہوں جب وہ میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھتا ہے اور اُس کے ہاتھ اسٹیئرنگ ویل پر آ جاتے ہیں۔

اریس اپنی نشست سے ٹیک لگا کر چہرہ میری طرف موڑتا ہے۔ “ریون،” وہ نرمی سے کہتا ہے، جیسے کسی شکوے میں۔ جب وہ میرے نام کو اس انداز میں کہتا ہے تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے، اور میں بے اختیار اُس کی طرف رخ موڑ لیتی ہوں۔ “تم اب نظر کیوں نہیں آتیں؟”

اریس واقعی پریشان لگتا ہے، جیسے اُسے میری کمی واقعی محسوس ہوئی ہو، اور وہ چنگاری جسے میں مسلسل بجھانے کی کوشش کر رہی ہوں، ایک بار پھر جل اُٹھتی ہے۔

“میں بس مصروف رہی ہوں۔” میری آواز کمزور اور دھیمی ہوتی ہے، جیسے میں اُس سے جھوٹ بولنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ “میرے پاس بہت سے ماڈلنگ کے کانٹریکٹس ہیں، اور میں ساتھ ہی اپنے فیشن برانڈ کو بھی بڑھا رہی ہوں۔ سچ کہوں تو، بعض دنوں میں میرے پاس کھانے یا سونے کا وقت بھی نہیں ہوتا۔”

وہ اثبات میں سر ہلاتا ہے اور اپنی نظریں ہٹا لیتا ہے، اُس کے چہرے پر ہلکی سی تشویش جھلکتی ہے جب وہ گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے۔ “اپنا خیال رکھا کرو، ریو۔ ہمیشہ کام مت کیا کرو۔ تمہیں اپنی سوشل لائف کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ آخری بار تم نے اپنے والدین کو کب دیکھا تھا؟”

میں مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتی ہوں اور بازو سینے پر لپیٹ لیتی ہوں۔ جتنا میں بڑی ہوتی جا رہی ہوں، اپنے والدین سے اتنا ہی کم ملتی ہوں۔ اُن کی دنیا صرف ہنّا کے گرد گھومتی ہے، اور مجھے وہاں جانا اچھا نہیں لگتا جہاں میری کوئی اہمیت نہیں۔ مجھے اپنے ہی گھر میں اجنبی محسوس نہیں ہونا چاہیے، لیکن ہوتا ہے۔ “سیرا ابھی کچھ دیر پہلے میرے دفتر میں آئی تھی،” میں اُسے بتاتی ہوں۔ “میرے دوست بھی ہیں، پتا ہے؟”

وہ مجھے ویسے ہی دیکھتا ہے جیسے اکثر دیکھتا ہے، جیسے وہ میرے جھوٹ اور فریب کو صاف پڑھ سکتا ہو، لیکن پھر بھی سر ہلا دیتا ہے۔

“اس سال تم کیا خریدنے کا سوچ رہے ہو؟” میں اُس سے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھتی ہوں۔

وہ میری طرف دیکھتا ہے اور اُس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ “کیا خیال ہے کسی جیولری کا؟”

میں سر ہلاتی ہوں۔ “شاید کوئی نیا اسٹائلش پیس؟”

اریس مجھے ایک بالکل سپاٹ تاثر کے ساتھ دیکھتا ہے، جس پر میں ہنس پڑتی ہوں — اور یہی چیز اُسے بھی مسکرانے پر مجبور کر دیتی ہے۔

“ریون، تمہیں ہنستے سنے زمانہ ہو گیا ہے۔ مجھے تمہاری ہنسی کی کمی محسوس ہوتی تھی۔”

میری مسکراہٹ ماند پڑ جاتی ہے اور میں نظریں نیچی کر کے اپنی گود کی طرف دیکھنے لگتی ہوں۔ دل میں درد سا اٹھتا ہے۔ کاش وہ ایسی باتیں نہ کرے۔

وہ مجھے ایک پرانی دوست اور اپنی ہونے والی بھابھی کے طور پر دیکھتا ہے، لیکن جب وہ کہتا ہے کہ اُسے میری کمی محسوس ہوئی، تو یہ سب بھول جانا مشکل ہو جاتا ہے۔

میں اپنے ہینڈ بیگ کی گرفت سخت کر لیتی ہوں اور گہرا سانس لیتی ہوں۔

“Statement piece دراصل نازک جیولری کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔”

اریس مسکرا کر کہتا ہے،

“کیسا رہے گا اگر میں تمہیں ہی چننے دوں؟”

میں اُسے تنبیہی نظروں سے دیکھتی ہوں۔

“جیسے ہر سال کرتے ہو؟”

وہ شرارت سے مسکراتا ہے اور ونڈسر کے ایک مال پر گاڑی روکتا ہے، تقریباً چھلانگ لگا کر باہر نکلتا ہے تاکہ میری طرف کا دروازہ کھول سکے۔

وہ ہاتھ آگے بڑھاتا ہے اور میں اُس کا ہاتھ تھامتی ہوں، گاڑی سے اترتے ہوئے میری نظریں اُس کی آنکھوں میں گڑی رہتی ہیں۔

اچانک ایک کیمرے کی چمک ہمیں چونکا دیتی ہے، اور میں گھوم کر دیکھتی ہوں کہ وہی پاپارازی — جو کچھ دنوں سے میرا پیچھا کر رہا ہے — طنزیہ انداز میں مسکرا رہا ہے۔

میں غصے سے دانت پیستی ہوں اور اُس کی طرف بڑھتی ہوں، لیکن وہ کچھ کہنے سے پہلے ہی بھاگ نکلتا ہے۔

اریس اپنا ہاتھ میری کمر کے نچلے حصے پر رکھتا ہے، اور میں اُس کی طرف دیکھتی ہوں۔

“مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ اتنی پبلک جگہ پر تمہیں لانے کا یہی نتیجہ نکلے گا۔ معذرت، ریون۔ میں اس معاملے کو سنبھال لوں گا۔ یہ تصویر کبھی منظرِ عام پر نہیں آئے گی۔”

میں سر ہلاتی ہوں اور مال کی طرف قدم بڑھاتی ہوں۔

“کوئی بات نہیں۔ مجھے اب عادت ہو گئی ہے۔ میں صرف اس لیے اپنی زندگی نہیں روک سکتی کہ کوئی بھی لمحے میں میری تصویر کھینچ سکتا ہے۔ پہلے مجھے ڈر لگتا تھا، جانتی ہو؟ لوگوں کی رائے کا۔ اب بس ایک تکلیف دہ حقیقت ہے جو اس کام کا حصہ ہے۔”

اریس خاموشی سے میرے ساتھ مال میں داخل ہوتا ہے۔

“شاید مجھے تمہارے لیے کچھ باڈی گارڈز رکھنے چاہییں،” اُس کے لہجے میں ہلکی سی جھنجھلاہٹ چھپی ہوتی ہے، اور میں حیرت سے اُسے دیکھتی ہوں۔

“بالکل نہیں۔ مجھے کوئی خطرہ نہیں ہوتا، اریس۔ پہلے ہی میری زندگی میں جتنی پرائیویسی ہونی چاہیے، اُس سے کہیں کم ہے۔ اور آخری چیز جو میں چاہتی ہوں، وہ یہ ہے کہ کوئی ہر وقت میری ذاتی زندگی میں موجود ہو۔”

وہ مجھے ایسے دیکھتا ہے جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، لیکن شکر ہے کہ خاموش رہتا ہے، اور ہم دونوں ہنّا کے پسندیدہ جیولری اسٹورز میں سے ایک میں داخل ہوتے ہیں۔

جیسے ہی اسٹور منیجر اریس کو دیکھتا ہے، وہ فوراً سیدھا ہو کر گھبراہٹ بھری مسکراہٹ کے ساتھ ہماری طرف بڑھتا ہے۔

وہ ایک عمر رسیدہ شخص ہے، اور اُس کے سفید ہوتے بال اُس پر خوب جچتے ہیں۔ اگر اُس کی گھبراہٹ نہ ہوتی، تو وہ اس اسٹور کی شان کے عین مطابق ایک پرکشش شخصیت لگتا۔

“مسٹر ونڈسر،” وہ کہتا ہے، اور پھر میری طرف مڑتا ہے، آنکھیں حیرت سے پھیلی ہوئی۔

“ریون۔”

اُس کی نظریں اُس طرح میرے وجود پر پھسلتی ہیں جیسے مرد اکثر کرتے ہیں۔

پہلے مجھے یہ سب دیکھ کر نفرت آتی تھی — یہ جانتے ہوئے کہ وہ ممکنہ طور پر میرے لینجری کے کسی کیمپین کے بارے میں سوچ رہے ہیں — لیکن اب میں ان سب کی عادی ہو چکی ہوں۔

“ریون، واہ۔ آپ سے مل کر واقعی خوشی ہوئی۔ میرا نام اینڈی ہے، اور آج میں آپ کی مدد کے لیے حاضر ہوں۔”

اریس فوراً اپنا ہاتھ پیچھے ہٹاتا ہے اور سر جھٹک دیتا ہے۔

“یہ شخص بالکل غیر پیشہ ور ہے۔ اُس نے جس طرح تمہیں دیکھا ابھی؟ یہ کیا تھا؟ پہلے تو جیسے ہی ہم گاڑی سے نکلے، کوئی ہمیں تصویر کھینچنے لگا، اور اب یہ؟”

میں کاؤنٹر سے ٹیک لگا کر ہلکے سے مسکرا دیتی ہوں اور اُس کی طرف دیکھتی ہوں۔

“اریس،” میں نرمی سے کہتی ہوں، “میں اب وہ چھوٹی بچی نہیں رہی جو تم جانتے تھے۔ مجھے اس سال کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ماڈل قرار دیا گیا ہے، اور میں ان پروڈکٹس کی برانڈ ایمبیسیڈر ہوں جو اسی مال میں بیچی جاتی ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں کہ اُس نے مجھے پہچان لیا۔ اگر کچھ ہے تو اُس کا ردِعمل تو کافی نرم تھا۔ میرے خیال میں میرا چہرہ اسی مال کے ایک بڑے بینر پر لگا ہوا ہے۔”

“نرم؟” اریس تقریباً جھنجھلا کر کہتا ہے، “نرم؟ اُس نے تو تمہیں گھور کر دیکھا!”

میں اُس کے بازو کو ہلکے سے تھامتی ہوں اور اُس کی طرف مسکرا کر دیکھتی ہوں۔

“پھر تم ہنّا کے ساتھ کیسے گزارا کرتے ہو؟ میں مشہور ہوں، لیکن میرے خیال میں ہنّا تو مجھ سے بھی زیادہ مشہور ہے۔ ماڈلز عام طور پر اتنی پاپولر نہیں ہوتیں جتنی A-list اداکارائیں۔ اگر تمہیں یہ سب پریشان کرتا ہے، تو تم ہنّا کی شہرت کیسے برداشت کرتے ہو؟”

اریس تھوڑا سا جھنجھلا کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہے۔

“میرا خیال ہے کہ تم اپنی شہرت کو بہت کم سمجھتی ہو۔ ویسے بھی، تمہاری بہن کے ساتھ تو ہر وقت باڈی گارڈز ہوتے ہیں، تو مجھے اُس کی فکر نہیں ہوتی۔ لیکن تم؟ تم تو زد پہ ہو۔”

میں ایک گہرا سانس لے کر واپس جیولری پر نظریں دوڑاتی ہوں، خاص طور پر منگنی کی انگوٹھیوں کی طرف۔ منگنی کا خیال ہی میرے لیے کسی خواب کی طرح ہے۔ میں کبھی کسی اور سے شادی کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی — سوائے اریس کے۔ ایک انگوٹھی میری نظر کو اپنی طرف کھینچتی ہے، اور ایک لمحے کے لیے میں تصور کرتی ہوں کہ یہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں کیسی لگے گی۔

میں آہ بھرتی ہوں اور اریس کو کھینچ کر اُس سیکشن کی طرف لے جاتی ہوں جہاں نیکلس رکھے گئے ہیں۔ میری نظر ایک ڈائمنڈ چوکر پر جا ٹکتی ہے۔

“کیا خیال ہے کچھ ایسا ہو جائے؟”

اریس اینڈی کو آواز دیتا ہے، اور وہ نیکلس مجھے تھماتا ہے اور میرے پیچھے لگے آئینے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

میں نیکلس کو اپنے گلے کے ساتھ رکھتی ہوں تاکہ دیکھ سکوں کہ یہ کیسا لگے گا، اور اریس نرمی سے میرے بالوں کو اٹھا کر ایک طرف کرتا ہے، انہیں میرے کندھے کے اُس پار رکھ دیتا ہے۔

“پہن کر دیکھو،” وہ کہتا ہے۔

میں فوراً سر ہلا دیتی ہوں۔

“نہیں، میں نہیں پہن سکتی۔ یہ ہنّا کے لیے ہے۔ میں جانتی ہوں اُسے یہ پسند آئے گا، بغیر پہنے ہی۔”

اریس نفی میں سر ہلاتا ہے اور میرے گرد ہاتھ بڑھا کر نیکلس میرے گلے میں پہنا دیتا ہے۔

اُس کی انگلیوں کا میری جلد سے چھونا میرے جسم میں سنسنی دوڑا دیتا ہے، اور اُسے شاید اس کا اندازہ بھی نہیں ہوتا۔

“اگر تمہیں یہ پسند ہے، ریون، تو میں تمہارے لیے خرید لیتا ہوں۔ ہم ہنّا کے لیے کچھ اور دیکھ لیں گے۔”

میری آنکھیں حیرت سے پھیل جاتی ہیں، اور وہ آئینے کے ذریعے مجھے دیکھ کر مسکرا دیتا ہے۔

“تمہاری سالگرہ بھی قریب آ رہی ہے، یاد ہے نا؟”

“یہ بہت مہنگا ہے،” میں کہتی ہوں، اور پیچھے کی کلپ تھام لیتی ہوں۔ “لیکن شکریہ۔ اُسے یہ بہت پسند آئے گا۔ تمہیں یہ اُسی کے لیے لینا چاہیے۔”

اریس سر ہلاتا ہے اور نیکلس مجھ سے لے لیتا ہے، اُس کی نظریں میرے چہرے پر ٹھہری ہوتی ہیں۔

“ریون…” وہ نرمی سے کہتا ہے، “ہم دونوں ٹھیک تو ہیں نا؟ لگتا ہے جیسے تم مجھے کچھ دنوں سے avoid کر رہی ہو۔ یہ ہنّا کی شادی کا دباؤ ہے؟ میں جانتا ہوں تم ساری تیاریوں میں مصروف ہو، جو دراصل ہنّا کو کرنی تھیں۔ اگر یہ سب تمہارے لیے بہت زیادہ ہو رہا ہے تو بس بتا دینا، ٹھیک ہے؟ تمہیں یوں اچانک خاموش ہو جانا مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا۔”

میں اُس کا بازو تھامتی ہوں اور اُسے مسکرا کر کہتی ہوں،

“ہم بالکل ٹھیک ہیں، اریس۔ بس میں واقعی بہت مصروف رہی ہوں، بس یہی بات ہے۔”

اُس کے چہرے کے تاثرات صاف بتاتے ہیں کہ وہ جانتا ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں، لیکن شکر ہے وہ اس بات کو وہیں چھوڑ دیتا ہے۔

میں اُسے کیسے بتاؤں کہ ہنّا سے اُس کی شادی کا خیال ہی میرے اندر سب کچھ ختم کر رہا ہے؟

واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں اُسے ہمیشہ کے لیے کھو رہی ہوں، اور بچی ہوئی ساری امیدیں بھی راکھ ہو رہی ہیں۔

میں اُسے کیسے بتاؤں کہ میرا دل اس طرح ٹوٹ رہا ہے جیسا پہلے کبھی نہیں ٹوٹا، اور شاید اب یہ دل کبھی جڑ نہ سکے؟