Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Last Episode)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Last Episode)Part 1,2
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
حسنال تم دوسری شادی کرلو۔۔۔۔تم بہت اچھے ہو ۔۔۔مم۔۔۔بیمار رہتی ہوں ۔۔۔کوئی کام نہیں کرتی ۔۔اس نے اپنی طرف سے صلاح دی تھی حسنال جو اس کے کندھے پہ لب رکھ کہ اسے بازؤں کے حصار میں لیے پرسکون سا لیٹا ہی تھا وہ جھٹکے سے آنکھیں کھول گیا تھا۔۔۔
وہ اس کی بازوں کے حصار میں لیٹے اس کے گردن پہ تھوڑی رکھے اس کے سر پہ انگلیاں چلاتی دھیمے دھیمے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔
شکر آپ نے ہوش میں آنے کے بعد مجھے نہیں بھولی میں تو ڈر ہی گیا تھا۔۔۔اس نے اس کی بات بدلتے شرارتی سے لہجے میں کہا وہ نہیں چاہتا تھا کہ ابھی ان کے علاوہ کسی اور بات ہو اور نہ ہی وہ دماغ پہ زور ڈالے اس لیے بے ڈھنگی سے بات کی تھی۔۔
میں جو کہہ رہوں مجھے اس کا جواب چاہیے۔۔۔بات کو مت بدلو ۔۔ اس نے آنکھیں نکالتے سختی سے کہا۔۔
اچھا بتائیں پھر کوئی لڑکی وڑکی ڈھونڈ رکھی ہے میرے لیے۔۔۔! حسنال بھی اس کی بات سن کر مسکرایا اور مزے لے کر کہا ۔۔۔!
میں ڈھونڈ لوں گی نا۔۔۔۔! تم بس شادی کرلو ۔۔۔۔! منال نے دل پہ پتھر رکھتے کہا تھا
نہیں وہ خود ڈھونڈ لوں گا۔۔۔حسنال نے ڈمپل کی نمائیش کرتے جان بوجھ کر کہا۔۔۔!
تم سچ میں شادی کر لو گے ۔۔۔۔؟ وہ تقربیاً پانچ منٹ بعد بولی کیا تم سچ میں مجھ سے اکتا گئے ہو۔۔۔۔حسنال کو اپنی شرٹ گیلی محسوس ہوئی تو وہ حیران ہی تو رہ گیا تھا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تربتر تھی۔۔۔۔
ہائے اللہ بس یہاں تک آپ کا ضبط تھا۔۔۔وہ اس کی حالت افسوس کرتی نفی میں سر ہلاتا۔۔۔! ابھی تو میں نے دو اور شادیاں کرنی تھیں۔۔۔اس نے جان بوجھ کہ چڑایا ۔۔۔تو حسنال تو اس کے سینے پہ مکوں سے وار کرنے لگی ۔۔۔۔!
ایک بات یاد رکھنا میری بھوری بلی۔۔۔۔مرد کو مذاق میں بھی دوسری شادی کے بارے میں مت کہنا ۔۔۔مرد اتنے سہنری موقع کو چھوڑتا نہیں ہے۔۔۔!وہ اسے سمجھا رہا تھا۔۔
جبکہ منال خاموشی اس کو سنتی بڑے مان سے اس کے ساتھ لگی اس کی ڈھرکنوں کو سن رہی تھی جو اسے سمجھا رہا تھا۔۔۔!
اچھا۔۔۔۔نہ۔۔۔مجھے سونے دے گی۔۔۔۔کل کا سارا دن بھی مصروف رہے گا فنکشن میں ۔۔۔تو مجھے سونے تاکہ میں فریش رہ سکوں ۔وہ اس کو خود سے لگاتا سویا گیا۔۔۔۔کل کے چڑھنے والے سورج میں خوشیاں منتظر تھی ان کےلیے۔۔۔!
***
بخت ولا میں جشن کا سماں تھا سارے بخت ولا کو ایسے سجایا گیا جیسے کسی کی شادی ہو رہی ہو۔۔۔! لیکن آج تین بچوں کا عقیقہ تھا آغاجان کا سختی سے حکم تھا کہ سالگرہ کی بجائے عقیقہ ہو۔۔ اس لیے انھوں نے قرآن خوانی کےلیے محفل کا اہتمام کروایا گیا جس میں قاری اور مولانا آئے تھے اس کت بعد بےشک ایشل اور میسم کی برتھ ڈے کی اجازت دی گئی تھی ۔
آج کئی سالوں بعد بخت ولا کا بھاگ جاگا۔۔۔۔آج بخت ولا میں خوشیوں کے ڈیرہ تھا ہر چیز نئے سرے سے سیٹ کروائی گئی تھی آغا جان آج مطمن تھے بیٹے کی وفات کے بعد وہ جیسے جینا ہی بھول گئے تھے ان کو انا نے اندر ہی اندر کھالیا تھا ان کی خوشییوں کی بربادی کا آغاز اس وقت ہوا جب انھوں نے بھیتجی کی محبت میں اپنے کا لاڈلے بیٹے کا اختتام کیا جب اس کو گھر سے نکالا ۔۔۔وہ بعد پچھتائے ۔۔۔وہ بیٹے کو لانا چاہتے تھے مگر ان کو ان کی انا نے تباہ کیا تھا آج سالوں بعد انھیں لگا ان کی اجاڑ زندگی میں جینے کی امنگ پیدا ہوئی ہو۔۔۔آج وہ بہت خوش تھے ۔۔۔
****
یار کتنی دیر لگاؤ گی ایک تو تم سے میک اپ ہی نہیں ہو رہا ۔ ۔روشنال میسم کو تیار کر رہا تھا اسے غصہ آ رہا تھا جو پیچھے دس منٹ سے ڈریسنگ روم میں گھسی ہوئی تھی۔۔۔
اب اگر تم باہر نہ آئی تو میں اندر آجاؤں گا زوجم ۔۔۔۔۔! روشنال کو غصہ آیا تھا اس کی یہ کہنے کی دیر تھی وہ جلدی سے باہر نکلی تھی۔۔
گرین اور باٹل کلر کی میکسی پہنے اور میکسی کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے کیے۔۔۔سحر کرتے دلکش نقوش ، لانبی پلکیں سلکی بال نازک سراپہ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی چھوٹی سی ناک پہ بہت غصہ چھایا دیکھ کر روشنال کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے ۔۔۔!
یہ آپ اس لیے میکسی لاتے ہیں نہ تاکہ مجھے آپ سے ہیلپ لینی پڑے ۔۔۔! اس نے غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سے کہا ۔۔ تو روشنال میسم کو بیڈ پہ لٹائے اس کی طرف آیا تھا اور اسے موڑ کہ اس کی بیک اپنی طرف کی اور زیپ بند کی تھی ۔۔۔۔!
تو یہ نہ پہنتی ۔۔۔۔! روشنال نے اپنے تئیں مشورہ دیا ۔۔
کیوں نہ پہنوں جب آپ اور حسنال بھائی کی ڈریسنگ سیم ہے تو میں اور آپی کیوں نہ سیم ڈریسنگ میں ہوں وہ منہ بسورتی اس کی بات سے انحراف کر چکی تھی..
اچھا زوجم جیسی تمھاری مرضی مجھے منظور تم تو ہر روپ میں ہی پیاری لگتی ہو۔۔۔۔اس میں تم ستم ہی ڈھاتی ہو وہ اسے ڈریسنگ ٹیبل پہ بیٹھاتے بولا ۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد اسے بچوں کی طرح تیار کرتے نیچے کی جانب لے کہ آیا تھا۔۔



حسنال۔۔۔۔۔میں اچھی لگ رہی ہوں نہ ۔۔۔۔گرین میکسی ۔۔۔۔اور ایک طرف سائیڈ پہ سیٹ کیے ڈوپٹہ ، برواؤن بالوں کو کرل کیے ایک جانب پھینکے ۔۔۔۔بہت پیاری لگ رہی تھی اس کی آنکھوں کی رونق وقت کے ساتھ بڑھ رہی تھی ۔
حسنال جو فاطمہ کو آغا جان کو دے کر آیا اس کی آواز سن کر پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔!۔حسنال کو تو عام دنوں میں وہ بکھرے حلیے میں بھی اپنے حواسوں پہ چھائی معلوم ہوتی اور آج تو اس کو دیکھا تو ایسے لگا کہ اپنے اعصابوں میں بجلیاں چھائی ہوئی محسوس ہوئی تھیں ۔۔۔
بتاؤ نہ۔۔۔۔۔میں اچھی لگ رہی ہوں ۔۔۔وہ اس کو خیالوں میں کھوئے دیکھ کر پھر سے بولی ۔۔
جھوٹ میں بول نہیں سکتا اور سچ بولنے کی میری ہمت نہیں ہے میرے پاس۔۔۔۔حسنال جو اس کو دیکھ کر اس میں کھویا ۔۔۔جان بوجھ کر اسے چڑانے کی خاطر بولا تھا۔۔
کیا مطلب۔۔۔منال نے ناسمجھی سے کہا ۔۔۔!
مطلب یہ سچ بولوں تو رہوں کہاں ۔۔۔۔! اس کے من موہنے چہرے کو اکھیوں کے ذریعے دل میں اتارتے ہوئے بولا۔۔
تت۔۔۔۔تم۔۔۔۔ببب۔۔۔بہت برے ہو۔۔۔۔مجھے پتہ تھا کہ میں اچھی نہیں لگ رہی ہوں اس لیے پوچھا ۔۔۔۔! وہ اس کی بات کو سمجھتی آنکھوں میں نمی لاتے بچوں کی طرح بولی اور غصے سے لال پیلے چہرے کو لاتی پاؤں پٹختی جانے لگی جب حسنال نے آگے ہو کہ اس کو بازؤں سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔! منال آن کی آن اس کے سینے سے آلگی وہ اس کو خود میں سموئے ہوئے تھے اس نے اسے خود میں اتنے زور سے بھینچا کہ منال کو اپنی سانس بند ہوتی محسوس ہوئی ۔۔۔!
حس۔۔۔چچ۔۔۔چھوڑو ۔۔۔مجھے۔۔۔ میں نے صرف پوچھا تھا میں کسی لگ رہی ہوں تم اس کی سزا میں میری سانسیں بند کر رہے ہو۔۔۔۔وہ بلکی تھی ۔۔
پاگل ہے آپ ۔۔۔۔وہ ہی تو بتا رہا ہوں کہ کیسی لگ رہی ۔۔۔آپ اچھی نہیں بلکہ بہت پیاری لگ رہی ہے پیاری لڑکی۔۔۔!
اس کے سر پہ لب رکھتا صدقے کے نوٹ وار کے اپنی جیب میں رکھے تھے۔۔۔
چلو دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ اپنے سر پہ ڈوپٹا پھیلاتی جلدی سے بولی۔۔۔
ویٹ ۔۔۔۔حسنال نے فرنٹ پاکٹ سے لاکٹ نکالا اور اور اس کا ڈوپٹہ پیچھے کرکے اس کی گردن میں پہنایا اور اسے شیشے کے سامنے کھڑا کیا۔۔تو مسمرائیز ہوکہ اپنی گردن میں اللہ کا نام دیکھا ۔۔۔۔
مجھے تو لگا ۔۔۔۔کہ تمھارا نام ہوگا۔۔۔۔وہ حیران ہو کر پیار سے لاکٹ پہ ہاتھ پھیرتی بولی ۔۔۔۔!
ہے تو سہی میرا نام ۔۔۔۔۔ آپکی نظر اس پاک نام پہ پڑے گی تو میری یاد خود بخود آئے گے ۔۔ اور میرا نام آخر میں ہے جو۔۔م وہ ایچ پہ لفظ لکھتا دھیرے سے بولا ۔۔۔! اس کی گردن سے تھوڑا نیچے اللہ کے پاک نام پہ لب رکھ کہ منال کی روح کو پرسکون کرگیا تھا۔۔۔
حسنال چلیں دیر ہو رہی ہے نا۔۔۔۔! وہ اسے کہنے لگی تو حسنال نے اس کے سر پہ سلیقے سے ڈوپٹہ کیا جو ون سائیڈ سے پن اپ ہوا تھا اور اسے بازوں کے گھیرے میں نیچے لے کہ گیا تھا۔۔



عقیقے کی رسم ہوگئی اب کیک کاٹنا رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔!
مانو کہاں ہیں حسنال۔۔۔۔؟ کیک کاٹنے میں کچھ وقت باقی تھی جب منال نے مانو کا پوچھا تو اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا جو آغا جان کی گلاسز کے ساتھ کھیلتی ۔۔۔ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی۔۔۔! تو تھوڑی تھوڑی بعد ان کا قہقہ نکل جاتا تھا۔۔
کچھ ہی پل میں مجید بابا اور بختی اماں محفل میں خوشی بکھیرنے آئے سب بہت ہی گرم جوشی سے انھیں ملے تھے اور ان کا شکریہ ادا کیا۔۔!اور پھر فوٹو سیشن ہوا ۔۔۔ فیملی فوٹو بنوایا گیا۔۔۔سب نے تحفے تحائف دیے گئے۔۔۔سب کے چہروں کے طمانینت مسکراہٹ تھی۔۔
پھر اسی مسکراہٹ کا اختتام مگر خوشیوں کا آغاز ہوا تھا۔۔۔! بخت ولا کا بخت جاگ اٹھا تھا۔۔۔
****
روشنال بھائی ۔۔۔۔۔وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا جب اس نے اپنے پیچھے آواز سنی۔۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو
منال کنفیوز سی کھڑی ہوئی تھی جب اشنال حسنال بھائی کہتی تو اس نے سوچا اس کے کہنے میں کیا حرج ہے۔۔۔!
وہ چلتا ہوا اس کی طرف آیا اور کچھ فاصلے پہ حیران سا رکا وہ جو تین سالوں کے بعد اتنے پریشانیاں اور تکلیفیں سہہ کر بھی اسے نظریں نہ ملا پاتی ۔۔۔آج وہ بھی اس کا گلٹ ختم کرنے کا سوچ رہا تھا وہ اب اسکے بھائی کی بیوی تھی اس کی بھابھی تھی اور اسے تین چار سال چھوٹی بھی تھی اور اس نے غلطی کی تھی اور وہ اپنی غلطی پہ شرمندہ تھی اور روشنال کو وہ اسطرح شرمندہ شرمندہ بالکل اچھی نہیں لگتی تھی اس نے کئی دفعہ نوٹ کیا کہ وہ جب بھی اس کے پاس سے گزرتی یا تو نگاہیں چرا لیتی یا بغیر دیکھے جلدی سے گزر جاتی۔۔۔ !
بولو۔۔۔! روشنال نے اس کو انگلیاں پھسائے دیکھا تو بولا۔۔۔
آپ مجھے معاف کردیں پلیز ۔۔۔۔! ہر غلطی جو میں نے آپ اور اشنال کے ساتھ کیا۔۔۔پلیز بھائی مجھے میرا گلٹ جینے نہیں دیتا ہے کہتے ہیں اعتبار ایک دفعہ ٹوٹ جائے۔۔۔تو واپس نہیں آتا ۔۔۔۔۔آپ سب کا اعتبار ٹوٹ گیا ہے مجھ پر سے ۔۔۔۔۔! مجھے علم ہے آپ اعتبار نہیں کریں گے۔۔لیکن معاف کرکے سکون تو دے سکتے ہیں نا۔ ۔؟
دیکھو منال ۔۔۔۔میں نہیں ہوں ناراض ۔۔۔میں نے تمھیں اسی دن معاف کر دیا تھا جس دن اپنی زندگی میں اشنال کی اہمیت پتہ چلی ۔۔۔۔! اور تمھاری اس غلطی سے تمھاری اور ہم تینوں کی زندگیوں میں بدلاؤ تو بہت آیا لیکن وہ پہلے سے خوبصورت ہوگئی ہیں ۔۔۔مجھے تو تمھارا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ تمھارے ایک شک نے میری زندگی سے مجھے ملا دیا۔۔۔۔اور پلیز آئندہ جب بھی میرے سامنے سے گزرو یا میری طرف دیکھو ۔۔۔۔تو تمھاری آنکھوں میں شرمندگی کی بجائے میرے لیے عزت ہو۔۔۔تم میرے چاچو کی بیٹی ہو۔۔۔۔میرے بھائی کے بیوی ہو۔۔۔میری خالہ کی بیٹی ہو ۔۔۔۔اس لیے تمھیں پریشانی میں نہیں دیکھ سکتا
ہر چیز کو بھول جاؤ سسٹر ۔۔۔۔ہم سب تمھاری بیماری کی وجہ سے پریشان رہے ۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر حسنال ۔۔۔۔
اس کی عزت کرو ۔۔۔کیونکہ وہ بہت سمجھدار ہے تم خوش نصیب ہو کہ میرے بھائی کے نصیب میں لکھی گئی ہو۔۔۔۔اور آئندہ جہاں سے گزرو ۔۔۔۔تو بہنوں کی طرح گزرو اور مان سے لڑ کہ چیز مانگنا ۔۔۔نہ لا کہ دے تو بابا سے کان کھینچوا لینا۔۔۔۔وہ اسے سمجھاتے سمجھاتے آخر میں شرارتی ہوا تاکہ وہ اس خوفناک فینز سے نکل آئے ۔۔۔۔! اور تھوڑی دیر واقعی اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔۔۔
روشنال اس کے سر پہ ہاتھ رکھتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔
***
اتنی بڑی ہوگئی ہو تم۔۔۔۔لیکن میری ہیلپ نہیں کرواسکتی کم ازکم مجھے یہ چیزیں پکڑا دو میں تمھاری عمر کی تھی تو سارا کام کرنا آتا تھا مجھے ۔۔۔! ذرا عقل نہیں ہے تم میں ۔۔۔۔! وہ ٹیبل پہ چڑھی فوٹو لگا رہی تھی جو آغا جان نے دونوں پوتوں کو تحفے کے طور پہ پیش کیے جس میں دونوں بے ایشل اور میسم کو اٹھایا ہوا تھا
روشنال کمرے میں آیا تو اس کو ایشل کے ساتھ کھپتے دیکھا جو اپنی سمجھ داری کے قصے ہاتھوں کے اشارے سے اسے سناتی اور پھر کام میں مصروف ہو جاتی اس معصوم کو سنا رہی تھی جسے ابھی چلنا بھی صیح طرح نہیں آتا تھا ۔۔۔ڈوپٹے ٹیبل پہ پڑھا ہوا تھا اس کی گلابی گھیرے دار میکسی آگے پیچھے پھیلی ہوئی تھی وہ جب ٹیبل سے چیز اٹھانے کی خاطر جھکتی اس کے سیاہ سلکی بال آگے پیچھے ہوتے ایک خوبصورت پیش کرتے ۔۔۔! روشنال اپنی کانچ کی گڑیا کی بڑی بڑی باتیں سن کر مسکرایا۔۔
اچھا ڈیڑھ سال کی عمر میں کبیر چاچو کی زمنیوں پہ کونسی ہلیں چلائی تھی۔۔۔مجھے بتانا ذرا ۔۔۔۔ میں نے خود تمھیں اپنے ہاتھوں سے پالا ۔۔ابھی تک تو شوز لائسس تمھارے میں باندھتا ہوں ۔۔۔پونی تمھاری میں کرتا ہوں ۔۔۔۔! دو بچوں کی ماں ہوکر بھی ابھی تک عقل نہیں آئی اور اس چھوٹی بچی کو عقل پہ درس دے رہی ہو واہ کیا کہنے آپکے زوجم۔۔۔۔روشنال آہستگی سے چلتا ہوا ٹیبل کے پاس آیا اور ہاتھ باندھ محض تنگ کرنے کی خاطر بولا ۔۔۔
آپ چپ کریں اسے میں عقل نہیں سکھاؤں گی تو کون سکھائے گا۔۔۔۔۔ماں ہوں برا تھوڑی چاہوں گی۔۔۔! وہ ایک بار تیکھی نظروں سے دیکھتی اب مسیم ایشل اور فاطمہ کی تصویر لگانے لگی ۔۔!
پہلے خود تو سیکھ لو زوجم ۔۔۔پھر اسے عقل پہ لیکچر دے لینا۔۔۔! اب کی بار روشنال نے ایک بھرپور نظر اس پہ ڈالی اور پھر سے پنگا لیا ۔۔۔اس کے ساتھ پنگوں میں بھی اسے بہت مزا آتا ۔۔۔وہ تیکھی اور طنزیہ باتیں اس لیے کرتا کہ وہ اس کے چہرے کے کیوٹ کیوٹ تاثرات دیکھ سکے ۔۔!
مجھ میں بے شک عقل ہو یا نہ ہو ۔۔۔۔پر میں اسے ضرور سکھاؤں گی ۔۔۔وہ پھر اسے آنکھیں دکھاتی ضدی لہجے میں بولی تو روشنال نے ٹیبل کو ہلایا ۔۔
کک۔۔۔کیا کر رہے آپ اس لیے مجھے گرانا چاہ رہے۔۔۔کہ مجھے مار کہ دوسری شادی کرسکیں ۔۔۔۔وہ ٹیبل کے ہلنے سے ڈگمگائی اور تھوڑا سا اونچا بولی۔
نہیں اس لیے ۔۔۔۔بلکہ اس لیے کہ اپنی پہلی شادی کو نبھا سکوں ۔۔۔۔وہ یہ کہتے ہوئے اس کے میکسی کو کونے سء پکڑ کہ اپنی طرف کھینچتا اپنے بازؤں میں اٹھا گیا۔۔
چھوڑیں مجھے بچے دیکھیں گے تو ان پہ برا اثر پڑے گا۔۔۔۔! وہ اس کے بالوں کو کھینچ کر بولی ۔۔۔!
یہ تو ہے لیکن میرا رومانٹک ہونا تو بنتا ہے ۔۔۔
اس کے گال سے گال مس کیے پیار بھرے لہجے میں بولا اور اسے بیڈ پہ بیٹھا کہ خود اس کے قریب بیٹھا ۔۔
مجھے آپ سے ایک یقین چاہیے سپرمین ۔۔۔۔! وہ اس کے قریب ہوئی تھی۔۔۔!
کیا بولو۔۔۔۔؟ وی متجب ہوا کہ اب کونسا یقین چاہیے تھا اسے۔۔۔۔!
کہ کبھی آپ مسیم یا ایشل کے سامنے میرے ساتھ اونچی آواز میں بات نہیں کریں گے آپ جتنا بھی غصہ ہو۔۔۔! ان کے سامنے کبھی مجھ سے لڑائی نہیں کرے گا۔۔۔مجھے تُو تُو کرکے مخاطب نہیں کریں گے۔۔۔! پھر جس طرح آپ کو دیکھیں اسی ٹون میں مجھ سے بات کریں گے۔۔۔۔! اگر آپ مجھے عزت نہیں دیں گے تو یہ بھی عزت نہیں دیں گے۔۔۔! آپ ان کے سامنے میری ذات ہلکی کریں گے تو مجھے ماں نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔بے شک ابھی یہ معصوم ہیں لیکن بڑے ہوکر یہ بدتمیز ہو جائیں گے یہ ابھی سب سے آپ کی ہربات کو پک کرتے ہیں ۔۔۔۔بس مجھے یہ یقین چاہیے ۔۔۔۔وہ اپنا آپ منوانا چاہتی تھی ۔۔۔!
وہ اس کی بات سن کر ساکت ہوا تھا وہ تو اسے لا ابالی سا سمجھتا تھا مگر اپنی اس بارہ سال چھوٹی بیوی کی بات سن کر اسے جھٹکا ہی تو لگا۔۔۔کہ وہ کیسے چھوٹی چھوٹی باتوں کو منٹوں میں جج کرلیتی تھی ۔۔۔اب تو وہ ماں تھی عقل مند کیسے نہ ہوتی ہر پہلو سے سوچ رہی تھی۔۔۔روشنال کو اپنی قسمت پہ رشک ہوا تھا اسے پتہ تھا کہ وہ لڑکی انا نہیں کرتی بلکہ ہر معاملے میں صاف بات کرتی تھی۔۔۔!
بس اتنی سی بات کےلیے پریشان ہو رہی ہو زوجم میں روشنال بخت آپ کو یقین بخشتا ہوں کہ کبھی اپنے بچوں کے سامنے اونچی آواز میں بات نہیں کروں گا ۔۔۔! وہ اسے خود سے لگاتے پیار بھرے لہجے میں کہتا اسے شک و شہبات سے دور کرگیا۔۔! اشنال نے اس کےسینے سے سر ٹکائے موند کے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔
****
منال آج بہت خوش تھی آج اس نے شکر کیا کہ روشنال نے اسے معاف کردیا ۔۔۔۔آج اسے بہت کچھ ملا ۔۔۔۔! اس نے ایک نظر حسنال کو دیکھا جو مصروف سا بیٹھا کام کر رہا تھا اس نے ایک پیار بھری نظر اس پہ ڈالی اور فاطمہ کو کپڑے چینج کرانے لگی ۔۔۔!وہ اسے کپڑے چینج کروا کہ فارغ ہوئی اور اس سے فیڈر پکڑایا وہ فیڈر پینے لگی اسے لگا تو اس نے اسے جھک کر حسنال کے پاس لٹایا کہ وہ اچھل کود کرتے کئی گر ہی نہ جائے ۔۔۔وہ تین سال کی تھی اس طرح کوئی خطرہ نہیں تھا شرارتیں کرتے وقت کوئی نہ کوئی چوٹ لگوا بیٹھتی ۔۔۔! وہ فاطمہ کو لٹا کر پیچھے ہونے ہی لگی جب حسنال کے لب اپنے کندھوں پر محسوس ہوئے تھے اس کے لمس پہ اس نے سانسیں روک لی تھی۔۔
تھک گئی ہوگئیں ۔۔۔آرام کرلیں ۔۔۔۔! حسنال کی نرم اور میٹھی سی آواز سنائی دی تھی
نہیں ۔۔۔میں نے مانو کا یونیفارم پریس کرنا ہے۔۔۔تمھاری چائے بنانی ہے اور فاطمہ کےلیے دودھ بوائل کرنا ہے۔۔۔آج بھی مانو نے چھٹی کی ہے ۔۔۔اسکے ہاتھ کندھوں سے ہاتھ اٹھا کہ ان پہ لب رکھے اور اس کو بہت پیار سے دیکھا جو وائٹ کلر کے کرتے میں بہت پیارا لگ رہا تھا وہ اسے دیکھتی پیچھے ہٹی تھی اور میکسی کا ڈوپٹہ اتار کے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھا اس نے دروازہ کھلا دیکھا تو بند کیا۔۔۔
آج آپ کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے ۔۔۔۔! وہ لیپ ٹاپ سے نگاہیں اٹھاتا اسے دیکھ کر شرارتی ہوا ۔۔۔!
شرم کرو ۔۔۔۔منال ہاتھوں سے کنگن اتارتی سائیڈ ٹیبل رکھ کہ بولی۔۔۔! وہ میکسی کو ہاتھوں سے اٹھائے ڈریسنگ روم میں چلی گئی جبکہ حسنال پھر سے کام کرنے لگا کہ اسے احمر کی کال آئی وہ اسے بات کرنے لگا جس کو عرفان دارنی کی ویڈیو سینڈ کی ۔۔۔! لیکن اس نے عرفان دارنی بیٹی کو بیپچ میں انولو کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔۔وہ ایک بیٹی پہ اس کے باپ کی بری خصلت ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ اب وہ خود ایک بیٹی کا باپ تھا اس کی بے شک بہن نہیں تھا ۔۔۔لیکن وہ اپنی فاطمہ کا سر پرست تھا
وہ احمر سے بات کرنے لگا اور اٹھ کہ صوفے پہ لیپ ٹاپ بیگ سے کیس کے کاغذات نکال کے تصویر بنائی واٹس اپ پہ احمر کو سینڈ کیں۔۔۔
منال فریش ہوکہ سادہ سا سوٹ پہن کے باہر نکلی ۔۔۔تو حسنال کو فون پہ بزی دیکھ کہ اسے شرارت سوجھی ۔۔۔وہ جو ہاتھ کے اشارہ پورا پروسس سمجھا رہا منال کو اپنا یہ سادہ سا بندہ بہت پیارا لگا جو اندر سے بالکل باہر کی طرح پیارا تھا۔۔۔
وہ چہرے پہ بڑی پیاری مسکراہٹ سجاتی آئی اور لیپ ٹاپ گود اسکی گود سے ہٹاتی سیدھی ہوئی اور اسکی گود میں سر رکھ کہ لیٹ گئی ۔۔! فون کرتا حسنال ساکت ہوا اُس نے کب سوچا تھا کہ وہ خود چل کہ اس کے پاس آئے گی ۔۔۔۔۔لیکن فلحال وہ مصروف تھا اس لیے کوئی رد عمل نہ ظاہر کرسکا ۔۔۔وہ کبھی اس کی گردن پہ کبھی اس کے سینے پہ گدگدی کرکے تنگ کر رہی تھی وہ تنگ کرتی اور ساتھ مسکراتی اس کے بے بسی کو انجوائے کرتی کہ وہ دوسروں کو تنگ کرنے والا اب اس کے گھیرے میں ایسے پھنسا کہ بیچارا بولا بھی نہیں پا رہاتھا اب اس نے اس کی طرف دیکھا جو اسے گھورتا پھر سے مصروف ہوا ۔۔۔منال نے جب دیکھا کہ وہ اسے اگنور کر رہا ہے وی اسے مزید تنگ کرنے کےلیے اس کی گود سے سر اٹھاتی اس کے گال پہ لب رکھ گئی ۔۔۔اس کے بےبس چہرے پہ پیار بھی ٹوٹ کہ آرہا تھا منال سے وہ چار سال چھوٹا تھا مگر اپنے ڈیل ڈول اور گریس فل شخصیت سے وہ اسے کافی بڑا لگتا۔۔۔! ہائے منال کا سپرمین تو اچھا ہے مگر میرا یہ سمپل مین بھی کم نہیں ہے اس کے کان میں سرگوشی کرکے اٹھنے لگی جب حسنال نے اسے پکڑ لیا تھا حسنال فون تو اس کے لمس پہ ہی بند کر چکا تھا۔۔
اب بتائیں کہ میں کتنا اچھا ہوں اور مجھ میں کیا اچھا ہے ۔۔۔۔۔۔! وہ اس کو کھینچ کہ اپنی گود میں بیٹھاتے معنی خیزی سے بولا
رشتوں میں سب سے بہتر رشتہ مخلصی کا رشتہ ہے یعنی ذاتی مفاد سے ہٹ کے صرف اور صرف اپنائیت کا احساس ہونا زندگی آپ کو بہت کم ایسے لوگوں سے ملواتی ہے کے جو آپ کے ساتھ بغیر کسی مفاد اور لالچ کے ہوتے ہیں اور رب نے مجھے تم سے ملوایا ہے حسنال بخت ۔۔۔۔جب تمھیں مجھے آپ کہتے ہو ۔۔۔مجھے عزت دیتے ہو ۔۔۔رب کے بعد اس وقت تمھارے آگے سجدہ کرنے کا دل کرتا ہے میرا۔۔۔۔۔میں کے کسی آگے زندگی بھر نہیں جھکی لیکن تمھاری محبت کے آگے جھکی جب تم مجھے عزت دیتے ہو۔۔۔میری بے تکی باتیں سنتے ہو ۔۔۔۔پھر مجھے اپنی روح کے حقدار لگتے ہو۔۔۔مجھے اگر اگلے جہان میں کسی چیز کو دوبارہ ملنے کا موقع ملا مجھے اس قابل جانا گیا تو میں تمھیں دوبارہ اپنے اللہ سے درخواست کرکے مانگوں گی ۔۔۔۔وہ اسکے سینے سے لگے بہت ہی خوبصورت لفظوں کا چناؤ کا استعمال کرتی اس کے تین سالہ صبر کا صلہ دے گئی ۔۔۔۔حسنال اسے اٹھاتا بیڈ پہ لایا
اور لٹایا تھا۔۔۔
کہاں جارہے ہو۔۔۔۔وہ اسے لٹا کر اٹھنے لگا جب وہ اپنے ہاتھ گریباں پہ رکھتی اس کو دیوانوں کی طرف دیکھنے لگی جو اللہ کا شکر ادا کرنے جا رہا تھا ۔۔۔
واپسی پہ بتاؤں گا آ رہا ہوں ۔۔۔۔! حسنال نے اس کے گریبان سے نرمی سے ہاتھ اٹھائے اور جھک کر اس کی آنکھوں پہ بوسہ دے کہ بولتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔
منال نے اس کو جاتے دیکھا تو جلدی سے اٹھی اور دروازہ کھول کہ باہر نکلی تاکہ دو تین کام کرسکیں ۔۔۔۔! وہ اس کے کپڑے پریس کرکے آئی اور مانو کو دیکھا جو کاپیاں کھولے ہی انھی ہی کپڑوں میں سوگئی جو اس نے آج پہنے ہوئے تھے ۔۔۔۔! اس نے اسے ہلکے سے اٹھایا اور اسے دودھ پلایا تھا جو اس نے سوتی جاگتی کیفیت میں پیا۔۔۔۔
مانو اٹھو شاباش کپڑے چینج کرلو۔۔۔۔۔پھر سو جانا ۔۔۔۔۔وہ اس کو ہلا کر نہایت ہی پیار سے بولی۔۔۔۔تو وہ اسے سوٹ لیتی باتھ روم میں چلی گئی تھی جب تک وہ چینج کرکے واپس آئی تب تک منال نے اس کے کپڑے ہینگ کردیے تھے وہ اسے سلا کہ اس کی کاپیوں کو سنھبال کہ باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ اور پھر حسنال کی چائے اور فاطمہ کا دودھ بوائل کرنے کی غرض سے کچن میں آئی وہ ساتھ میسم اور ایشل کا بھی کرکے رکھ دیتی تاکہ اشنال کو پریشانی نہ ہو ۔۔۔۔وہ سوچ ہی رہی تھی جب فاطمہ کی رونے کی آواز آئی تھی ۔۔۔وہ جلدی جلدی سے ہاتھ ہلاتی حسنال کےلیے بادام کا دودھ اور لے کے کہ اندر داخل ہوئی تو وہ حسنال کے پاس جائے نماز پہ بیٹھی تھی وہ نماز پڑھتے حسنال کے کبھی اس کے پیچھے ہو کر بازؤں باندھ لیتی تو کبھی اس کے سر سے سر جوڑ لیتی لیکن وہ پھر بھی سکون سے نماز پڑھ رہا تھا۔۔۔وہ اسے دیکھتی رہی سر پہ رومال باندھے وہ اس دنیا کا خوبصورت ترین شخص لگا اور اوپر یہ انوکھا منظر اس لیے کیونکہ اس وقت ان دونوں باپ بیٹی کا مکمل رشتہ لگا تھا۔۔۔وہ نماز پڑھ کہ اب دعا مانگنے لگا جب فاطمہ نے اس کی گردن میں سر رکھ کہ اس کے سینے پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔! اب منال کو اپنی کمی لگی تو وہ اس کے ساتھ نیچے بیٹھتی فاطمہ کو فیڈر پکڑتی اس کے ساتھ بیٹھی اور اسکے کندھے پہ سر رکھا۔۔۔۔۔
وہ شخص اپنی دل کی خوبصورتی کے سبب اسے بہت پسند تھا ۔۔۔وہ شخص اس کے دل کا بادشاہ تھا ۔۔۔وہ کسی سلطنت کا بادشاہ نہیں تھا وہ منال کے دل کی سختی پہ بری سختی براجمان ہوگیا بادشاہ وہ نہیں ہوتا جس کے سر پہ تاج ہوتا ہے بادشاہ وہ ہوتا ہے جو دلوں پر راج کرتا ہے۔۔۔۔۔اور اس نے منال حاکم بخت کے دل پہ راج کیا تھا۔۔
بس آپ کی کمی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔اس نے منال کے گال پہ ہاتھ رکھ کہ عقیدت سے کہا ۔۔۔پھر سورتوں کا ورد کرکے اس کے سر پہ پھونک ماری ۔۔۔۔۔تاکہ جو کبھی خالی الذہن ہو جاتی وہ نہ ہو۔۔۔اور اس کے بعد فاطہ پہ نظر دم کرکے اس پہ پھونکی تھی۔۔۔
ب۔۔۔با۔۔۔با۔ ۔آپکی ۔بھولی بلی بارتی ہے ( بھوری بلی مارتی ہے) وہ فیڈر وہی رکھتی توتلی آواز میں بولی تو حسنال اس کی آواز سنتا مسکرایا تھا۔۔۔
میرے بھورے بالوں والی بلی۔۔۔۔پھر میلے بچے کو ہیپی بھی تو کرتی ہے ۔۔۔حسنال نے منال کی سائیڈ۔۔۔۔ببابا۔۔۔مما ڈانتی کرتی ہے ۔۔۔۔وہ اس کی گود پہ چڑتی اس کے بالوں سے کھیلتی شکوہ کرتے بولی۔۔۔۔!
اور ہاں بھوری بلی ۔۔۔۔۔۔۔میری لاڈو کو کیوں ڈانٹی ہے آپ وہ منال کو خود میں بھنچتے لاڈ سے بولا تھا۔۔
اوئے مما کی شکایتیں لگاتی ہو ۔۔۔۔۔۔! وہ اس کے گال پہ پیارکرتے بولی۔۔۔۔! تھوڑی دیر بعد فاطمہ سوگئی تھی ۔۔۔
یہ مجھے دو ۔۔۔۔اور تم اٹھ کہ دودھ پی لو ۔۔۔۔دن بدن کمزور ہو رہے ہو ہر وقت ہماری فکر میں گھلتے ذرا پروا نہیں ہے تمھیں اپنی۔۔۔۔! وہ اسے جتنا چائے مگر وہ اس کے لیے دودھ بوائل کرکے بادام ڈالتی۔۔۔۔!
آپ ہیں نہ میرا خیال رکھنے کےلیے ۔۔۔۔پھر میں کیوں اپنا خیال رکھوں اور ویسے بھی اپنے لیے ہر کوئی جیتا ہے دوسروں کےلیے اصل زندگی ہے۔۔۔۔! وہ یہ بات کرکے اسے لاجواب کرچکا تھا۔۔۔اس لیے وہ اسے اچھا لگتا تھا ۔۔
پھر ان چھوٹی چھوٹی نوک جھونک رہی ۔۔۔۔اور ان دونوں کی زندگی خوبصورت تھی
*****
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔؟ وہ جو احیتاط سے دبے پاؤں اٹھاتی باہر جانے لگی جب وہ ایک دم سے اندر وہ اسے ٹکرا کہ گرتی ہی جب اس نے اپنے بازؤں کے حصار میں لیا ۔۔۔۔اس کی بھاری آواز سن کر ڈر گئی وہ اسے چھپ کر وہ ہی کام کر رہی جس کام سے اس نے منع کیا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے کمرے سے نکلنا چاہتی مگر اس کی قسمت بری طرح جو اس کا ٹکراؤ ہی روشنال سے ہوا تھا ۔۔۔وہ سانس روک کے کھڑی ہوگئی ۔
Part 2
کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔؟ وہ جو احیتاط سے دبے پاؤں اٹھاتی باہر جانے لگی جب وہ ایک دم سے اندر وہ اسے ٹکرا کہ گرتی ہی جب اس نے اپنے بازؤں کے حصار میں لیا ۔۔۔۔اس کی بھاری آواز سن کر ڈر گئی وہ اسے چھپ کر وہ ہی کام کر رہی جس کام سے اس نے منع کیا تھا وہ اس کے آنے سے پہلے کمرے سے نکلنا چاہتی مگر اس کی قسمت بری طرح جو اس کا ٹکراؤ ہی روشنال سے ہوا۔۔
اف اللہ آپ نےمیرا ترا نکال ہے۔۔۔۔!وہ دل پہ ہاتھ رکھتی پھولی سانس سے بولی۔۔۔
ہاں اتنا تمھارا ترا راہ پہ پڑا ہوا ہوتا جو میرے ایک دفعہ بولنے سے ہی نکل جاتا ہے طنز کا ایک تیر رکھ کہ اسے مارا جو بری طرح خجل ہوکہ رہ گئی تھی۔۔۔
میں جو پوچھ رہا ہوں اس کا جواب دو زوجم۔۔۔۔! کہاں جا رہی ہو ۔۔۔!
و۔۔۔۔وہ آپ کےلیے پانی لینے جا رہی تھی نا۔۔۔! وہ جلدی جلدی اس کے بازوؤں سے نکلنا چاہتی تھی تاکہ حسنال بھول سے اندر نہ آجائے ۔۔
پر مجھے پانی نہیں پینا اس لیے خاموشی سے مجھے خود کو محسوس کرنے دو۔۔۔!
نن۔۔نہ پر مجھے پیاس لگی ہے وہ اس کا حصار توڑ کر گبھرا نیچے بھاگی ۔۔۔روشنال اس کو گبھراتا دیکھ کر کچھ سوچنے پہ مجبور ہوا تھا۔۔۔مگر گہرا سانس لیتا سوئے ہوئے میسم کی طرف بڑھا۔۔۔
ایشل سے وہ لاڈ کر آیا مگر اب باری اسکے لاڈلے بیٹے کی تھی وہ اس کے پاس آبیٹھا اور پاکٹ سے پنسل نکال کر اس کے کان پہ ہلکی سی پھیری ۔۔۔جس سے وہ ہلا۔۔۔۔اور پھر روشنال نے اسے بازوں میں لے کر پیار نچھاور کرنا لگا۔۔۔اور کچھ دیر بعد تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکہ نیچے آیا۔۔۔۔تو اشنال اور حسنال کو دیکھ کر اس کو اشنال کے گبھرانے کی وجہ سمجھ آئی تھی
****
وہ جلدی سے نیچے اترنے لگی اور جسے بات کا اُسے ڈر تھا وہ ہی حسنال اس کی مخصوص چیز لے کر اوپر آیا جس کا راز داں صرف وہ ہی تھا۔۔۔
یہ لو ۔۔۔۔۔یہ آخری بار تھا اور پلیز آئندہ مجھ پہ رحم کرنا۔۔۔اس بار میں تمھارے اس جالاد کے ہتھے چڑ گیا تو اس نے مار مار کہ میرا بھرکس نکال دینا ہے۔۔۔وہ لولی پاپ کا پیک اس کے آگے کرتا ایسے بے بس سا بولا جیسے دنیا کا پیچارہ ترین انسان وہ ہی ہو۔
شکریہ حسنال بھائی ۔۔۔۔! وہ اس کے ہاتھوں سے ڈبہ لیتی مشکور سی بولی۔۔۔!
میں تمھاری معصوم شکل دیکھ کر رحم کھا جاتا ہوں لیکن ہر بار نہیں اشنال ۔۔۔۔اب نہیں ۔۔۔اب میں نے رحم کھایا تو تمھارا جالاد شوہر کچا کھا جائے گا مجھے ۔۔۔اس نے دونوں ہاتھ اس کے سامنے باندھ کہ درخواست کی تھی۔۔۔
نہیں حسنال بھائی ۔۔۔۔۔! نہیں کہوں گی آپ بہت اچھے انسان ہے اللہ آپ کو خوشیوں والی لمبی زندگی دے ۔۔۔۔!وہ اسے دعا دینے لگی۔۔۔!
اشنال بھاگو ۔۔۔۔۔آگیا عزارئیل ۔۔۔۔! فل حال تو میری زندگی کی دعا کرو اگر بچ گئی تو خوشیاں وہ رب خود دے دے گا۔۔۔۔ حسنال پھٹی نگاہوں سے کہتا بھاگا تھا۔ وہ جو سمجھ نہیں پار رہی تھی حسنال کو ایک دم کیا ہوا ہے وہ تو جب چھوٹا تھا تو الٹا کوئی کام کرلیتا تب روشنال کو کہتا مگر اس کے عزرائیل لفظ کی تشریح تب سمجھ آئی جب اپنے کندھے پہ اس کا ہاتھ دیکھا تھا۔۔
تمھاری ملٹی نس تو میں فارغ وقت میں کرتا ہوں ۔۔فلحال اس سے تو نپٹوں۔۔۔۔! وہ اس کو نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے دیکھتا بولا تھا اس کی بات سن کر اشنال کی گلے میں سانسیں اٹک گئی تھی اس کے رئیکشن سے خوف آنے لگا اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑنے لگے ۔۔۔اس سے پہلے وہ بھاگتی مگر پھر سے اس کی ظالم گرفت میں پھنسی تھی روشنال نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا ۔۔۔! جس کی رنگت خوفناک سے خطر ناک حد تک پیلی پڑ چکی تھی ۔۔۔!
بتاؤ۔۔۔اب کیا سزا دوں ۔۔۔۔۔وہ اس کے گال سے گال رب کرتا سختی سے بولا تو اس کی ڈاڑھی کی چھبن اسے اپنے گال پہ چبھن محسوس ہوئی ۔۔۔تو سانس کھینچ لی تھی وہ جو اب گرے کلر کے سوٹ مرادنہ وجائت سے بھرپور تیکھی ناک پہ غصہ جمائے بے باک سی گستاخی کیے اس کو مزید مارنے پہ تُلا۔۔۔۔۔۔! اور تیسرا اس کے پاس سے آتی پرفیوم کی ہلکی ہلکی خوشبو ۔۔۔۔اشنال کی سانسوں میں گھلی تو وہ کچھ سیکنڈ کےلیے سانسیں روک کے کھڑی ہوگئی تھی۔
ڈاک۔۔۔۔ـاکٹر نے کہا ۔۔۔تمھاری شوگر یا بلڈ پریشر لوہو جائے جب تو ی۔۔۔۔یہ کھا لینا ۔۔۔۔۔اس نے خود کو بچانے کےلیے جھوٹ گھڑا۔۔۔۔!
اچھا اس ڈاکٹر سے ذرا میری بات کروانا ڈئیر۔۔۔۔! مجھے بھی تو پتہ چلے وہ اور کتنے لوگوں کو ڈسکرپشن میں لولی پاپ کا کہہ چکی ہے پھر مجھ سے لے لینا۔۔۔۔اس نے اس کے ہاتھ سے لولی پاپ لے لیے ۔۔۔۔اسے لگا کہ وہ اب اس نے لے لیے اب اسے نہیں ملے گے ۔۔۔۔تو آنکھوں میں آنسوؤں آگئے ۔۔۔۔اور یہ ہی وہ آخری ہتھیار تھا جہاں روشنال پگھل جاتا تھا۔۔۔
اب کیا ہوا پے۔۔۔۔۔؟ روشنال نے نرمی سے پوچھا تھا اس کے پوچھنے کی دیر تھی کہ اس کے آنسوؤں گالوں سے پھیلتے گردن کی طرف سفر کرنے لگے۔۔۔!
میں اتنی ذلیل بھی ہوتی ہوں اس کے پیچھے اور آپ مجھ سے چھین بھی لیتے ہیں۔۔۔۔آپ کے اتنے زیادہ پیسسے ہیں پھر بھی آپ کنجوسی کرتے ہیں ۔۔۔۔بچوں کی طرح سوں سوں کرکے کہا گیا تھا۔
دومنٹ میں نیچے تیار ہو کہ آؤ۔۔۔۔اور میسم کو بھی لے کہ آؤ۔۔۔آج تمھاری ساری خواہش پوری ہوگی میرا بچہ آج کا دن ۔۔۔۔ جو چاہے لے لینا ۔۔۔۔بس ان حسین آنکھوں پہ ظلم مت کرو۔۔۔۔ورنہ میری پٹائی ہوگی بابا اور آغا جان کہ میں نے ان کی لاڈلی کو رلا یا ہے ۔۔۔! اور کبیر چاچو میری خواب میں آجائیں گے ۔۔۔۔! میں تمھیں منع تھوڑی کرتا ہوں بس اس لیے کہتا ہوں یہ تمھارا استمک خراب کر دے گا۔۔۔پلیز ان کو چھوڑ کر جو چیز لے لینا مجھے خوشی ہوگی اور یقیناً تم ایسا کام کرو گی جس میں میری خوشی ہوگی ۔۔۔۔ یہ لو۔۔۔۔۔۔وہ اس کی ہرنی نشیلی آنکھوں آنسوؤں کھوگیا اور تھوڑی بعد اسے پیک پکڑایا
نہیں یہ آپ کسی اور کو دے دیں ۔۔۔۔میں نہیں لوں گی اور آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔وہ اپنے ستمگر سپرمین کی کوئی بات رد کرتی ایسا بھی بھلا ہوسکتا تھا۔۔۔؟ اور اوپر سے اس لمبے چوڑے انسان کو بہت محبت سے دیکھا جو اس کے دل میں رہتا تھا اس کی روح کا مکین تھا۔۔
اوکے میں تیار ہوکہ آتی ہوں وہ اس کے ہلکی بڑھی ڈاڑھی پہ لب رکھتی کھلکھلاتی چلی گئی جب کہ روشنال اس کے ننھے سے لمس پہ مسکرایا تھا ایک تو وہ اس کی چھوٹی سی جان تھی اوپر جب اس کی رضا مندی میں راضی ہوتی تو اسے عشق ہونے لگ پڑتا ۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ اسے ایک مارٹ پہ لے کہ آیا ۔۔۔۔اور ساری چھوٹی موٹی چیزیں جو وہ کھاتی تھی اسے لے کر دی اور پھر شاپنگ مال اور ریسٹورینٹ میں لے کہ آیا ۔۔۔۔رات دیر وہ اس کے چہرے پہ مسکراہٹ سجے دیکھتا رہا ۔۔۔۔!
تھا ۔۔۔زندگی ان چاروں ایک دوسرے کے سنگ بہت خوبصورت تھی ۔۔۔
*****
ہر انسان اپنی جگہ کسی نہ کسی کو کچھ سکھا رہا ہوتا ہے اس لیے کوشش کریں کہ لوگ آپ سے بہترین عمل ہی سکھیں، بدترین نہ سکھیں خیر سکھیں شر نہ سیکھیں، بھلائی سکھیں بُرائی نہ سکھیں۔
مم۔۔۔مما۔۔۔مانو آپی گنجی (گندی ) ہے۔۔فاطمہ پنسل سے ہاتھ کو ہٹاتی منال کا ڈوپٹہ کھینچ کہ بولی تھی……
نہ میرا بچہ ایسے نہیں بولتے ۔۔۔۔اللہ تعالی ناراض ہوجاتا ہے وہ بالکل اپنے بابا سے بڑھ کر پیار کرتے ہیں اگر آپ دوسروں کو برا بولو گی تو پھر اللہ کبھی بات نہیں کرے گا اور پھر بابا بھی آپ کو پیار نہیں کرے گے ۔۔۔۔! وہ اسے سمجھا رہی تھی چلو مانو آپی سے سوری کرو۔۔۔۔اس نے فاطمہ سے سوری کروا کہ سکون لیا تھا۔۔
صیغر صاحب خاموشی سے سن رہے تھے اور ان کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی وہ سوچنے پہ مجبورا ہوئے تھے اگر وہ اس رات منال کو چائے میں فسوف ڈالتے نہ دیکھتے ، تو وہ روشنال کا زندگی کا فیصلہ نہ کرپاتے انھوں نے دل پہ پتھر رکھ کہ یہ فیصلہ لیا۔۔۔اور کئی جگہ رسک لینا پڑتا ہے اور انھوں نے بغیر انجام کی پرواہ کیے رسک لیا تھا ۔۔۔ !اگر وہ اس رات منال کےحسد کو دیکھ کہ ہنگامہ کرتے اس کی ذات پہ کیچڑ اچھالتے تو وہ باغی ہوجاتی ۔۔۔! اس کے دل میں سے ہرگز منال کے
لیے بغاوت ختم نہ ہوتی بلکہ نفرت کا یہ چھوٹا سا پودا ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر جاتا ۔۔۔۔۔وہ مصبتوں میں گھرے ضرور تھے مگر رب نے سب کے دل کی میل دھو ڈالی تھی بے شک ان کے راز نے سب کی زندگیوں کو خوبصورت بنا ڈالا تھا بے شک اللہ نے اس راز راز کے بدلے تھے راز رکھنا مشکل کام ہے مگر ناممکن نہیں۔۔۔!
منال فاطمہ کو پنسل سے پکڑ کر لکھنا سکھا رہی تھی اس کی دوسر طرف مانو بیٹھ کہ لکھ رہی تھی آغا جان اور صیغر صاحب باہر دوسری جانب بیٹھے چائے پی رہے تھے روشنال اور اشنال گھر نہیں تھے اشنال اور تہمینہ بیگم جو میسم اور ایشل کو ویکسنیشن کےلیے لے گئیں ہوئی تھیں ۔۔۔
تھوڑی دیر میں روشنال اور حسنال ۔۔۔۔تہمینہ بیگم اور اشنال اندر آئے تھے حسنال نے آتے ہی فاطمہ کو منال سے لیا اور اسے پیار کیا۔۔۔دل تو کر رہا یہ ہی حال آپ کا کروں مگر یہ ظالم سماج ہے ہمارے بیچ ۔۔۔اس نے اس کے کان میں کہاں تھا
اس کی بات سن کر منال لال پڑتی فوراً اٹھی اور چائے بنانے کےلے کچن کی طرف بھاگی ۔۔۔۔!اور پندرہ منٹ کے اندر چائے اور بسکٹ لے کہ آئی تھی۔۔۔
ایک راز صیغر صاحب نے رکھا۔۔۔۔دوسرا راز منال نے ماں کا رکھا۔۔۔۔کسی کو بھی ماں کے حسد کا نہ بتایا کہ اس کی ماں اس کے سگے باپ اور اپنی سوکن کو مارا ۔۔۔۔اس نے وہ راز اسی دن دفن کر دیا جس دن اس کی ماں دفن ہوئی تھی اسے اپنی اماں کا بہت افسوس تھا مگر برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔۔! اور تیسرا راز حسنال بخت نے رکھا۔۔۔۔! اس نے عنایہ عرفان درانی کو اس کے باپ کا جرم نہیں کھلے عام بتایا وہ آج خوش تھا کہ وہ وقار کو بھی کیفرِ کردار تک پینچا آیا تھا۔۔۔۔۔! اور دوسرا وہ نہیں چاہتا تھا عنایہ درانی کی ساری زندگی اس دکھ میں گزارے اور کبھی سر اٹھا کہ جی نہ پائے۔۔۔۔اس لیے وہ یہ راز رکھ گیا تھا۔۔۔
ان سب کی زندگی راز پہ گھوم رہی تھی راز رکھنا سیکھے ۔۔۔یہ بہت مشکل کام ہے مگر یقین مانے آپ کسی کے راز رکھئے گا۔۔۔۔تو اوپر والا آپکے گناہوں کی تشہیر نہیں کرے گا اگر آپ کسی کے راز محفل میں کھولے گے یا کسی کو بتائیں تو وہ رب آپ کو گھر کے اندر ہی آپکے رازوں سے پردے فاش کرے گا۔۔۔یہ تو مکافاتِ عمل ہے ۔۔۔اناؤں کو چھوڑے رشتوں سے محبت کریں ۔۔۔خلوص کی فضا کو قائم رکھیں ۔۔۔رشتے نہ سختی سے چلتے ہیں نہ اکڑ سے چلتے یہ صرف پیار محبت سے چلتے ہیں ……آپ بے شک اپنی تعریف میں زمین و آسمان ایک کر دیں ۔۔۔مگر کسی کی ذات سے خامیاں مت نکالیں یہ بہت برا فعل ہے۔۔۔
اس دنیا کی سب سے بڑی،مہنگی،باوقار اور قیمتی چیز راہ ہدایت کا طالب ہونا ہے۔
اور طالب بھی وہ جس کا اندر اور باہر پاک اور صاف ہو۔اور ہدایت بن مانگے کبھی بھی نہیں ملا کرتی۔اس کےلیے کوشش کرنی ہوتی ہے۔اور پھر خود کو قبول کرکےاس کی رضا میں راضی ہونا ہوتا ہے اور سب اللہ کی رضا میں خوش تھے ۔۔
اور سب کے ہلکی ہلکی ہنسی سے اس شام کا سورج بخت ولا میں سکون کی فضا کو دیکھ کر الوادع ہو گیا تھا۔۔۔
شطرنج کی اس بازی میں مات انا غرور اور حسد کو ہوئی
تھی برائی کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔۔۔کیونکہ آپ کانٹے بو کر پھول اُمید کی رکھیں تو سراسر بیوقوفی ہے۔۔۔لیکن آپ غلطی کرکے اس پہ ڈٹ جانے کی بجائے اسے مان لیں تو یقین مانیں زندگی آسان نہیں تو مشکل بھی نہیں ہے۔ !ان پہ آزمائش پہ آئی مگر وہ پورے اترے ۔۔۔اللہ والے اللہ کی مصلحت کو سمجھ نہیں سکتے مگر وہ صبر کرتے ہیں اور بیشک انھوں نے صبر کیا تھا۔۔
بخت ولا میں بدگمانی کے بادل چھٹ گئے ابر آلود کے بعد آسمان صاف تھا۔۔۔
۞ ختم شد ۞
