Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Sitamgiri (Episode 06,07)

Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
 

روم میں نظر پڑتے ہوئے وہ اسے نیچے پڑی نظر آئی تھی شاید درد برداشت کرنے کی کوشش میں وہیں لیٹے لیٹے سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔

زمین پر پانی ادھر ادھر گرا ہوا تھا جگ ادھر ہی اوندھا پڑا ہوا تھا اس کی حالت بہت بکھری ہوئی تھی وہ جلدی سے اس کے پاس آیا ۔۔۔

اشنال۔۔۔۔۔۔؟ روشنال نے اسے کندھوں سے تھاما اور اس کا سر اپنی گود میں رکھا اشنال آنکھیں کھولو ۔۔ادھر دیکھو میری طرف اس کے بکھرے بال پیچھے کیے تھے جو گردن کے ساتھ چپکے ہوئے تھے اور اس کے گال تھپتھتائے ۔۔۔اشنال نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔۔اشنال نے نم آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اس کو اپنے اوپر جھکے دیکھ کر وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔

اور جلدی سے تڑپ کر اس سے دور ہوئی۔۔۔۔و بھاگ واش روم میں بند ہوگئی تھی۔۔۔۔!

اشنال دروازہ کھولو وہ بھی اٹھ کہ واش روم تک آیا اور دروازہ کھٹکھانے لگا ۔۔۔۔

نہیں کھولوں گی مم۔۔میں آپ چلیں جائیں یہاں سے ۔۔۔۔مم۔۔میں نے آپکی اصلیت دیکھ لی آپ کا اصل چہرہ تو یہ ہے میں تو آپکو فرشتہ سمجھتی تھی لیکن آپ شیطان سے بھی بدتر ہیں وہ ہچکیچوں سے روتے ہوئے بولی تھی ۔۔

اشنال میں دوازہ توڑ دوں گا ۔۔۔۔تم سمجھ رہی ہو نا…؟

وہ اس کے لہجے کو اگنور کرتا ہںوا سختی سے بولا تھا

اب نے کچھ بھی کیا تو میں خود کے ساتھ کچھ کرلو مم۔۔میں آپ جیسے حیوان کا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتی مجھے آپ سے گھن آتی ہے وہ اس کی اصلیت اسے بتا رہی تھی ۔۔۔

اشنال شیشے کے پاس گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی وہ اپنے حلیے کو پہچان نہ پائی گردن پر اس کے زخموں کے واضح نشانات نظر آرہے تھے وہ ایسی لڑکی تھی کہ جب کسی کی ہلکی سی بھی چوٹ دیکھتی وہ منہ بھی دوسری طرف کرلیتی وہ کسی کے زخموں کو دیکھ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔اور آج اس کی گردن ، کندھا ، منہ ہاتھ ہر جگہ سے جلا ہوا تھا اور وہ یہ زخم دیکھتے دیکھتے مسکرا دی ۔۔۔وہ مسکراہٹ بھی درد بھری تھی کہتے ہیں وقت سب سے بڑا مرہم ہوتا تھا تمام زخم مندمل کر دیتا ہے ۔۔

وہ بھی باہر بیٹھا رہا تقربیاً آدھا گھنٹا وہ ویٹ کرتا رہا لیکن اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔۔

اسے کندھے پر جلن کا احساس ہوا تھا۔۔۔اب کے درد کی شدت بہت بڑی تھی اسکا سانس بند ہونےلگا ۔۔۔

واش روم کے دروازے کی زور دار ٹھوکر سے وہ اندر تک سہم گئی تھی ۔۔

ایک منٹ کے اندر اندر باہر نکلو۔۔۔۔؟

روشنال کآ ڈھار سا لہجہ سن کر اور رات کے درد سہنے کے بعد وہ نکلی تھی۔۔

اب اگر تم نے ڈور نہ کھولا تو میں تمھارا چہرہ۔۔۔

وہ اپنی خشک سانس تر کرتی اس کے کہنے سے پہلے ہی دروازہ کھول گئی تھی ۔۔۔۔!

وہ دروازے کے پاس آیا تھا۔۔۔۔

پہلے میرے کپڑے نکالو پھر بریک فاسٹ تیار کرو جلدی ۔۔۔۔؟ وہ یہ کہہ کر چلا گیا تھا

وہ حیران ہوئی اس کے اتنا کچھ کہنے کے باوجود کچھ کہا نہیں تھا ۔۔۔ لیکن اس کے لہجے سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔!

اور پھر اپنا چہرہ صاف کرکے اس کے پیچھے روم میں آئی اس کے کپڑے نکالے تھے جو خود شاید واشروم میں تھا ۔۔

اور پھر اس کے آنے سے پہلے ہی کچن میں چلی آئی ۔۔۔

گردن اور کندھے پر مسلسل تکلیف ہوتے دیکھ کر وہ بے حس بن گئی تھی اور اس کا ناشتہ بنانے لگی اور بناکر ٹیبل پر رکھا ۔آنسوؤں نکل نکل اس کے چہرے کو تر کر رہے تھے اسکی سسکیاں رک نہیں رہی تھی ۔۔۔

روشنال آیا اور ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا وہ ناشتہ کرتا رہا اس کی مسلسل سسکیوں کو وہ مکمل طور پر نظر انداز کیا ۔۔۔لیکن جب حد سے زیادہ اس کی سسکیاں بڑھی تھیں ۔۔۔

تو اس نے کپ کو زور سے ٹیبل پر پٹخا ۔۔۔جس اشنال گبھرائی اور خوف سے اسے دیکھنے لگی تھی۔۔۔

کیا ڈرامہ ہے یہ ۔۔۔۔؟ کیا ثابت کرنا چاہ رہی ہو کہ میں نے تم پہ ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں مجھے ظالم تصور کر رہی ہو ۔۔۔۔؟

و۔۔وہ مم۔۔۔مجھے درد ہو رہا ہے وہ پھر سے ہچکیوں سے روئی تھی اشنال نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر سے بے حس بن گیا جس کے چہرے درد کی ایک پوری لہر تھی ۔۔

ادھر آؤ۔۔۔۔۔؟ روشنال نے اب کی بار نرم لہجے میں پکارا _

نن۔۔۔۔۔نہہں۔۔۔۔ممم۔۔۔میں ۔۔۔نہیں آؤں گی وہ یہ کہہ کر پھر سے روئی ۔۔۔؟

روشنال نے اسے دو تین دفعہ پکارا ۔۔۔۔؟ پر وہ نہ نہ کرتی اس کو دور دیکھ کر کچن سے بھاگی۔۔۔۔؟وہ آرام سے ناشتہ کرنے کے بعد گھر سے نکل گیا تھا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چابیاں لیے آفس میں چلا آیا تھا آج چھٹی تھی تو وہ وہیں بیٹھ کہ فارن ڈیلگیشن کےلیے کوئی اساہمنٹ تیار کرتا رہا تھاسارا دن ادھر ہی لگ گیا تھا۔۔۔۔یہ تک بھول گیا کہ وہ ایک معصوم کے ساتھ بہت زیادہ برا کر کےآیا تھا ۔۔

فون کی رنگ ہوئی تو اس کے دوست کی کال آئی تھی۔۔۔

السلام علیکم کہاں ہے تو۔۔۔۔؟

سلام کرنے کے بعد چھوٹتے ہی یہ پوچھا تھا۔

آفس ہوں یار ۔۔۔۔!

واٹ ۔۔۔پاگل ہو تم اتوار کے دن کون آفس کام کرتا ہے اور اس وقت ۔۔۔۔!

لگتا ہے بھابھی تجھے گھر میں رہنے نہیں دیتی ۔۔۔فرقان قہقہ لگاتے ہوۓ بولا تھا ۔۔۔

بکواس بند کر کام کی بات بتا۔۔۔۔!

تو سن میرے جگر ۔۔۔۔!کل کا ڈنر ڈن ہے میری بیگم کی طرف سے یہ دعوت تیرے اور بھابھی کےلیے آنا ہے ضرور۔۔۔

پھر تقربیاً گھنٹے کی گھپ شپ کے بعد اس نے کال بند کی تھی ۔۔۔

وہ مغرب کی اذان ہونے سے پہلے ٹائم دیکھتا آفس سے نکل آیا تھا پہلے بازار آیا میں سے شادی کے بعد پہلی دفع اشنال کےلیے شاپنگ کرنے آیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کےلیے سوٹ ہیلز اور کاسمیٹکس کی چیزیں پیک کروا اور رات کا کھانا وہ باہر سے ہی لے آیا تھا ہر چیز نکالنے کے بعد وہ جب گھر آیا تو سناٹا ہی سناٹا تھا۔۔

رات کے آٹھ بج گئے تھے وہ کچن میں کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔

اور پیاز کاٹ رہی تھی ۔۔۔۔

کھانا میں لے آؤں یہ نکالو وہ لاونج کے صوفوں پر شاپر رکھ کر کچن میں چلا آیا تھا۔۔۔

اشنال نے اس کے ہاتھوں سے پریانی کے ڈبے لے کر پیٹ میں نکالے تھے اور اس کے سرو کیےتھے۔۔۔

کھانا کھایا تم نے۔۔۔۔؟

اس نے نفی میں چہرا ہلایا تھا ۔۔۔۔

کھاؤ ۔۔۔۔۔وی اسے بازوؤں سے پکڑتا اپنے پاس چیئر پر بیٹھا گیا تھا ۔۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے وہ ایک دم سے ڈر کر انکار گئی تھی روشنال نے سگریٹ کی ڈبی نکال کر اپنے منہ کے آگے کی تھیں جس سے اس کی رہی سہی جان بھی ہوا ہوئی تھی

کھاؤ ۔۔۔۔۔؟

اس کے چہرے کی اڑتی ہوئی رنگت دیکھ کر بولا تھا۔۔!

اشنال ساتھ ساتھ کھاتی رہی اور ساتھ اس کے آنسوؤں نکل رہے تھے ۔۔۔۔!

اس کو چند چمچ بھی چاول کی زہر لگ رہی تھیں ۔۔۔کیونکہ وہ سگریٹ نکال کر کبھی کھولتا اور کبھی بند کرتا ۔۔۔۔!

ایک دم سے اشنال کے حلق میں نوالہ اٹکا تھا جس سے اس سے سانس نہیں آئی ۔۔۔۔وہ زور زور سے کھانسنے لگی تھی۔۔۔۔

روشنال اس کی یہ حالت دیکھتا اس کی پشت تھپتھانے لگا اور گلاس میں پانی ڈال کر اسے پلایا تھا ۔۔۔

اور پھر سے چیئر پر بیٹھ گیا تھا ۔۔۔

وہ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھے بمشکل سانس لے رہی تھی ۔۔۔

اس سے وہ اپنے اجڑے حلیے سے صدیوں کی بیمار لگی تھی چہرہ مرجھایا ہوا تھا ۔۔۔

اسے ایک پل میں پہلے والی ہنی ایشو نظر آئی تھی جو ہر وقت خود کو سجا کہ رکھتی ۔۔۔۔جس کے چہرے سے مسکراہٹ ہٹتی ہی نہیں تھی

یہ وہ بھول گیا تھا شوخ چنچل سی اشنال کو تو اس نے خود مارا تھا اپنے ہا تھوں سے وہ اب اسے بات کرتے بھی ہچکچاتی تھی وہ کہتی تھی کہ اس اسے گھن آتی ہے ۔۔۔۔!

کچھ دیر وہ اسے دیکھتا رہا ۔۔۔۔پھر باہر نکل گیا تھا ۔۔۔

جبکہ اس کے جانے کے بعد اشنال کی ہچکیاں بند ہوگئی تھیں۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بمشکل کافی لے کر آئی اور اس کے پاس رکھ کر جانے لگی تھی وہ لیپ ٹاپ پہ کوئی کام کر رہا تھا ۔۔۔

جب اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس گرایا اور لیپ ٹاپ کو سائیڈ پہ رکھا ۔۔ اور اس کے گلے سے ڈوپٹہ اتارا ۔۔۔۔

اشنال کی جان ہوا ہوئی تھی اسے کل والا منظر یاد آیا ۔۔۔

وہ اس کے ہاتھ جھٹکنے لگی ابھی تو کل والی تکلیف ختم ہوئی وہ پھر سے نیا زخم دینے لگا تھا ۔۔۔

اس نے شرٹ اس کے کندھے سے سرکائی وہ مسلسل خود کو چھڑانے لگی وہ ہونٹ بھینچ بھینچ کر اسے روکنے کی کوشش کی ۔۔۔

کندھے پر سے کئی جگہوں سے کھال اتری ہوئی تھی اسے پتہ تھا کہ اس نے کریم کئی بھی نہیں لگائی تھی اس نے نگاہیں اٹھا کر اشنال کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے مسلسل روئے جار رہی تھی ۔۔اشنال کی جان ہوئی تھی اس کے اس اقدامات پر۔۔۔

برنال اپنی پاکٹ سے نکالتا اس کے کندھوں اور گردن پر لگائی ۔۔۔۔ اور پھر روتی ہوئی اشنال جو آنکھیں بند کرکے رو رہی تھی اس کے آنسووں اپنے ہاتھوں سے صاف کر کے اس کے چہرے پر ایک عقیدت بھر لمس چھوڑ کر پیچھے ہٹا اور اس کی شرٹ صیح کی تھی اس کو اپنے سامنے بیٹھی وہ کوئی بچی لگی تھی ۔۔۔

جو اس کے لمس سے آنکھیں کھول گئی تھی وہ اب سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک ٹیوب نکالی اور اب اس کے پاؤں کو اوپر کرکے ٹیوب لگانے لگا اسے اشنال کو بہت بر ا لگا تھا وہ اس کے ہاتھوں کی گرفت سے پاؤں چھڑانے کی کوشش کرنے لگی جبکہ اس کی گھوری پر نگاہیں جھکا گئی تھی۔ اشنال کو اس کے رویے کی ذرا بھی سمجھ نہ آئی وہ پل میں تولہ اور پل میں ماشہ ۔۔۔۔

اکاونٹ کی بک جو وہ صبح سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کہ گیا تھا وہ اور ساتھ پڑا رجسڑ اٹھایا اور خود تھوڑا سے کھسک کے جگہ بنا کہ اس کو ساتھ بیٹھایا تھا کیا سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ ککک۔۔۔کچھ نہیں وہ اس کی قربت پر ہلکلا ئی ۔۔۔۔کچھ بھی نہیں سمجھ نہیں آئی ۔۔۔۔وہ حیران ہوا۔۔۔

ممم۔۔۔میں نہیں کروں گی مجھے جانے دیں ۔۔۔

روشنال نے اسے انکار کرتے دیکھ کر اس کے کندھے پر سر رکھا ۔۔ میم تو تمھیں ماریں گی نا۔۔۔۔!

اس کے اور زیادہ قریب ہونے پر اور اس کی دھمکی پر اس کا ننھا سا دل کانپا تھا۔۔۔

پھر اس نے اسے بتایا اور وہ کتنی دیر اسے سمجھاتا رہا

جبکہ اشنال کی آنکھیں نیند سے بھرنے لگی تھی روشنال نے اسے کچھ دیر سسمجھایا تھوڑی دیر اس کو ٹس سے مس نہ ہوتا دیکھ کر جھک کر اسے دیکھا تو وہ سوئی ہوئی تھی ۔۔۔ کوئی حال نہیں ہے تمھارا ۔۔۔میں ویسے ہی دماغ کھپا رہا ہوں۔۔۔وہ دل میں بولا آج کتنے عرصے بعد وہ اشنال کی بچگانہ حرکت کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔اور پھر وہ جانے کتنی دیر لیپ ٹاپ پہ کام کرتا رہا وہ اس کے ساتھ لگی سوتی رہی تھی ۔۔۔آج روشنال پرسکون تھا کیونکہ آج کے دن اس کے ضمیر پہ بوجھ نہیں تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ شرٹس پریس کر دیں ۔۔۔۔؟

وہ ہمیشہ کی طرح اس کے سر پہ کھڑا تھا وہ ڈھیٹوں کا سرادر تھا تو وہ وہ بھی ڈھیٹوں کی ملکہ ۔۔۔۔!

اٹھیں ملکہ صاحبہ میں لیٹ ہو رہا ہوں ۔۔۔۔! اس نے اوپر سے کمفرٹ کھنیچ لیا تھا۔۔۔

بادشاہ سلامت آپکے اہلِ خانہ کے تشر یف لے جانے کے آپکی کننزیں مجھے ہر وقت کام پہ لگاکہ رکھتی ہیں وہ دانت پھیستی ہوئی بول کر پھر سے کمفرٹ اوپر کرکے سو گئی تھی ۔۔۔

جبکہ حسنال نے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ بھر کے اس کے اوپر ڈالا تھا۔۔۔۔وہ چیختی ہوئی اٹھی اتنے میں وہ کمرے سے باہر تھا حسنال صاحبہ کی اماں چمٹا لے کہ اندر آگئی تھیں ۔۔۔

جبکہ وہ بچتا آگے کہ کمرے میں پنچا تھا جو

چائے پی رہے تھے۔۔۔

آغا جان پلیز مجھے بچا لیں ۔۔۔وہ جھانسی کی رانی عارف لوہار کا چمٹا لے کر تشریف لا رہی ہیں ۔۔۔وہ آغا جان کی چیئر کے پیچھے چھپتا ہوا بولا۔۔۔

کون آرہا ہے۔۔۔؟ آغا جان نے انجان سا ہو کر پوچھا تھا۔۔۔

وہ آپکے سپوت مولا جٹ کی بیگم صاحبہ ۔۔۔

شرم کرو ماں ہے تمھاری۔۔۔۔۔؟ وہ اس کو شرم دلارہے تھے جو شرم کے ش سے بھی واقف نہیں تھا۔

پھر کوئی برقعہ ہی دے دیں ۔۔۔انداز سے وہ بالکل سنجیدہ لگ رہا تھا۔۔۔

استغفار ۔۔۔۔میں تمھیں رضیہ سلطانہ لگتا ہوں ۔۔۔؟وہ اس کی بات سے جیسے اچھل گئے تھے ۔۔۔!

کاش آپ رضیہ سلطانہ ہوتے میری تو بچت ہو جاتی۔۔۔

لاحول و قوتہ ۔۔۔۔وہ اس کی بات سے تپے تھے ۔۔۔۔صبر کرو میں تمھاری ماں کو بتاتا ہوں ۔۔۔۔وہ اسے دھمکی دیتے ہوئے بولے تھے۔۔۔

Episode 7

اس کی آنکھ کھلی تو چند پل تو وہ منظر کو پہچاننے کی کوشش کرتی رہی رات کے سارے منظر اس کی نگاہوں میں گھومے تھے اس نے دیکھا تو وہ اس کے مضبوط ہاتھ اس کے بازوں کے گرد لپٹے تھے اس کی سانسوں کی آواز بخوبی وہ اپنی گردن پر محسوس کر سکتی تھی اس نے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو اس کشادہ چہرے اس کے سامنے تھا وہ شخص غضب کی پرسنلیٹی کا مالک تھا لمبا چوڑا شاندار وجہیہ سراپا ۔۔۔۔نیم واہ آنکھیں ، ہلکے سے کھلے ہونٹ پیشانی پہ بکھرے بال ۔۔۔وہ اسے سویا شیر لگا تھا جس کی کچھار میں ہاتھ دینا موت کے مترداف تھا۔۔۔۔۔۔ وہ اس کو اپنے قریب دیکھ کر جلدی سے کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئی تھی کیونکہ وہ بالکل اس کے قریب تھا اشنال بخت کو اس کے دیے گئے ستم یاد آئے تو اس کی آنکھیں بھر آئیں تھی تو کیا وہ ساری رات اس شخص کے قریب رہی تھی جس نے اس کے جسمانی اور روحانی تکلیف دی اس کے دل میں ڈر بیٹھ گیا تھاوہ اٹھا تو اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرے گا کہ تم میرے قریب کیوں آئی ہو ۔۔۔۔۔! یہ سوچیں اس کے دماغ کے ارگرد گھومنے لگی تھیں اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر انجان بن جاتا وہ نکل گئی تھی۔۔۔

نماز پڑھ کے ہمیشہ کی طرح اسکا ناشتہ بنایا اور خود کالج کےلیے تیار ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

آج میں تمھیں خود ڈراپ کروں گا ۔۔۔۔۔؟ وہ ناشتہ کر چکا تھا جب وہ اپنا بیگ لے کر باہر آئی تھی وائٹ کالج یونیفارم پہنے اور سیاہ بلیک شال سر پہ کیے ہاتھوں میں رجسڑ اٹھائے وہ جلدی میں تھی اس کے چہرے پہ بلا کہ معصومیت دیکھ کر اشنال بخت کے مضبوط دل انسیکیورٹی ہوئی تھی

نہیں شکریہ میں وین میں چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔وہ یہ کہتی صاف لفظوں میں انکار کرگئی تھی۔۔۔۔!

میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں….! پر مم۔۔۔میں

بس جب میں نے کہہ دیا ہے تو کہہ دیا ہے ۔۔۔۔؟ وہ اس کی بات کاٹتا صاف لفظوں میں اس کی حثیت جتا گیا تھا۔۔۔!

چلو۔۔۔۔۔؟وہ نپکین سے ہاتھ صاف کرتا اٹھ کھڑا ہوا اپنا بیگ ہاتھ میں لیا موبائل پاکٹ میں ڈالا۔۔۔

سکائی بلیو سوٹ ٹو پیس میں ۔۔۔۔برانٹڈ واچ کلائی پہ باندھے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ۔۔۔۔وہ بہت ہی الگ اور ڈیسنٹ لگ رہا تھا۔۔

لیکچر یہ ہی اٹنیڈ کرنے کا ارادہ ہے یہاں اس کےلیے کالج جانا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟اس نے دو تین قدم اٹھائے پیچھے سے کوئی آواز نہ سنتا پاکر پیچھے پلٹا اور بھاری آواز میں کہا وہ وہ اسی جگہ سر جھکائے کھڑی اپنی انگلیاں مڑوڑ رہی تھی اس کی طنزیہ آواز پہ جی بھر کے شرمندہ ہوئی تھی اور اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگ پڑی۔۔۔۔

وہ گاڑی میں بیٹھا تو وہ بھی پیچھلی سیٹ پر بیٹھ گئی تھی آگے بیٹھو نہ میں تمھارے نوکر ہوں اور نہ تمھارا بوائے فرینڈ جو تمھارے برداشت کروں ۔۔۔۔

اس کی بات پہ اشنال کا منہ لال ہوگیا تھا اسے لفظ بوائے فرینڈ اپنی ذات پہ گالی لگا تھا۔۔۔۔

وہ بمشکل آنسووؤں ضبط کرتی آگے بیٹھی ۔۔۔۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی تھی تھی۔۔۔۔

تھمیں کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے بتانا وہ پھر سے اس کا نرم لہجہ دیکھ کر حیران ہوئی تھی

جو کر تو ڈرائیونگ رہا تھا لیکن دھیان آگے ونڈو سکرین پر تھا۔۔۔۔

سکون ۔۔۔۔۔وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔۔۔

سوری وہ میں کیا کوئی بھی نہیں دے سکتا بس وہ آپ کے نامہ اعمال دیتے ہیں وہ یہ بات کہ پھر تلخ ہوا۔۔۔۔

خیر چھوڑو ۔۔۔۔۔ایک دم سے اس کا مرجھاتا چہرہ دیکھ کر

وہ اپنی بات بدل گیا تھا۔۔۔

میرے دوست کے گھر رات کو ڈنر ہے میں جلدی آؤں گا تمھاری کچھ چیزیں میں لے آیا تھا وہ لاونج کے صوفے پر پڑی ہوئی ہیں میرے آنے سے پہلے تیار ہوجانا ۔۔۔۔۔۔! اس کے بات سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا وہ اسے کالج چھوڑتا خود آفس کی طرف گاڑی موڑی لی۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے صوفے سے شاپر اٹھائے اندر لے آئی وہ اس کے

اور اپنے بیڈ پر چیزیں پھیلائی اور دیکھنے لگی ۔۔۔۔دو تین سوٹ اور ایک فراک اس میں سے نکلا تھا ساتھ جانا تو نہیں چاہتی تھی لیکن اس کی مرضی کب چلنی تھی ۔۔۔۔

وہ بلیو کلر کا فراق پہن ہیلز پہنی اور صرف لپ سٹک لگائی اور پھر جانے وہ کتنی دیر اس کا ویٹ کرتی رہی لیکب وہ نہیں آیا وہ اس کا انتظار کرتے صوفے پر سوگئی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روشنال عجلت میں گھر آیا وہ جلدی میں تھا پہلے گاڑی خراب ہوگئی ۔۔۔شوروم سے گاڑی ٹھیک کروانے کے بعد فرقان کے گھر لے جانے کےلیے بیکری گیا تھا اوپر سےفرقان کی کالز پہ کالز آ رہے تھے۔۔۔۔اور گھر آیا کئی نظر نہ آئی تھی صوفے پر دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا تھا۔

بلیو اور سنہری فراق میں گلابی مائل رنگت ، سحر کرتے ہوئے دلکش نقوش سے سجا چہرہ، لانبی پلکیں ، سلکی بال اور نازک سراپے میں وہ شہزادیوں کو مات دے رہی تھی اس کا ڈوپٹہ کاندھوں سے ڈھلک رہا تھا اس کے سلکی بال اس کے چہرے اور کندھوں میں بکھرے ہوئے تھے وہ اپنے آپ سے بے خبر سوئی تھی اپنے سے بارہ سال چھوٹی لڑکی ایک منٹ میں اس کو چاروں شانے چت کر گئی تھی ۔۔۔۔روشنال نے آج پہلی بار فرصت سے دیکھا تھا آج اسے پتہ چلا کہ نکاح کہ رشتے میں واقعی طاقت ہوتی ہے وہ اس لمحے کمزور ہوگیا تھا لیکن اپنی یہ کمزوری اس کے ہاتھ نہیں لگنے دینا چاہتا تھا اوراپنے آپ کو سخت کیا تھا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اندر گیا کہ وہ اٹھ جائے اور زور سے دروازہ بند کیا تھا اور اس تجربے سے وہ واقعی اٹھ بھی گئی اور ارگرد دیکھنے لگ پڑی تھی ۔۔۔

چلو میں آلریڈی لیٹ ہوں۔۔؟وہ ہر چیز کمرے کرتا ہوا اس تک آیا اور جلدی سے بولا تھا۔۔۔۔

اس کی بات سنتی وہ ساتھ رکھی شال اپنے اوپر کرکے خود کو کوور کیا تھا۔۔۔

بے وقوف تمبو تو ایسے کر رہی ہو جیسے مسجد جا رہی ہو وہ اس کو اپنے اوپر لمبی شال کرتا دیکھ کر چڑا اور ٹوک گیا تھا۔۔۔

پر ایسے ۔۔۔۔ممم۔۔۔۔۔میں کیسے وہاں آپکے۔۔۔۔۔؟

وہاں کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔۔! وہ اس کو ٹوکتا ہوا بولا تھا ۔۔۔

پر آپ کے دوست تو ہیں نہ۔۔۔۔اب کے لہجے میں لرزش نہیں اعتماد تھا۔۔۔

ٹھیک ہے ۔۔۔۔چلو۔۔۔۔! وہ اس کے بات سے متفق تھا وہ چاہتا بھی یہ ہی تھا اس کی شے ڈھکی چھپی رہے اور وہ حقیقت میں اپنی چیزوں کے بارے خطرناک حد تک پوزیسسو تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشنال ۔۔۔۔۔۔وہ چیخ مار کے اٹھی تھی ۔۔۔۔؟

کیا ہوا آپکو۔۔۔۔۔۔حسنال جو لیپ ٹاپ پہ گیم کھیل رہا تھا اسے پیسنے سے شربور سر سے ڈوپٹہ ندارد ۔۔۔۔۔روتا ہوا

حسنال اس کے پاس بیٹھا۔۔۔

وہ۔۔۔۔۔وہ اش۔۔۔۔۔اشن۔۔۔اشنال ہو۔۔۔ہوسپٹل ۔۔۔۔مممم۔۔میں ہے۔۔۔

کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔اس تسلی دینے کےلیے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا جب وہ شدت سے اس کے سینے سے آ لگی تھی اور سسکیوں سے رونے لگی جب کہ حسنال ایک دم ساکت ہوا اس سے منال سے اس چیز کی امید نہیں تھی وہ ایک دم سے اس کے دل میں نئے جذبات جگاگئی تھی وہ صرف گیم ، لیپ ٹاپ، موبائل اور نئے ہنڈا وغیرہ کےلیے جنونی تھا وہ محبت میں جنونی تو نہیں تھا لیکن وہ اسے شاید جنونی بنانے والی تھی و کر گئی تھی وہ بچہ تو نہیں تھا وہ تئیس سال کا پورا جوان مرد لگتا تھا وہ خود سوگئی لیکن اسے بے چین کر گئی تھی اب اس کی رات آنکھوں میں کٹنے والی تھی وہ ایک ہی لمحے میں اس کا کام تمام کرگئی تھیں۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔؟ وہ کھانا کھا رہے تھے جب فرقان نے اس سے اسکا نام پوچھا تھا ۔۔۔۔۔؟

اشنال۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ہلکی سے ہچکاتے ہوئے بولی۔۔۔

نام تو آپ سے بڑھ کر پیارا ہے اب کہ کنزہ بولی جس سے اشنال جھیپنپ گئی تھی۔۔۔

جبکہ کھانا کھاتے فرقان کو زور دار کھانسی آئی تھی ۔۔۔۔!

کیا۔۔۔۔یار توُ بڑا گُھنا ہے تو کہہ رہا تھا کہ بھابھی تجھ سے بارہ سال چھوٹی ہیں تو بھابھی کو بچہ بچہ کہہ رہا تھا یاد ہے تیری منگنی والے دن ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ کیا تو نے تو بھابی کی بہن سے منگنی کی تھی ۔۔۔۔ جبھی میں سوچ رہا تھا کہ بھابھی اتنی چینج کیسے ہوگئی ہے میں نے منگنی پہ دیکھا تھا اس وقت یہ چھوٹی سی تھیں ۔۔

ویسے بھابھی کا نام توُ نے رکھا ہے نہ ۔۔۔۔۔؟ فرقان نان سٹاپ بول رہا تھا اور اب کی بار معنی خیزی سے پوچھا تھا لیکن روشنال کے لہجے کے پتھریلے تاثرات دیکھ کر منہ بند کر گیا تھا ۔۔۔

آغا جان نے شادی کروائی تھی وہ اپنے لہجے کو بہت حد تک کنڑول پاتا مضبوط اور سنجیدہ لہجے میں بولا ورنہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ہر چیز کو تہس نہس کر دے ۔۔۔۔۔

جس دل سے اس نے بات کو سنبھالا تھا یہ وہ جانتا یا اس کا خدا۔۔۔۔۔کھانا کھاتے اس کے حلق میں نوالا اٹکا تھا اشنال نے بمشکل نظریں اٹھا کر دیکھا جس کا ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوا تھا وہ بھی اسی کو دیکھ رہا تھا اس کی کاٹ نظروں سے وہ اندر تک سہم گئی تھی ۔۔۔۔اس کے بعد پھر تقربیاً ہنسی مزاح چلتا رہا تھا ۔۔۔

فرقان اور روشنال لاونج میں بیٹھ کہ باتیں کر رہے تھے اور ساتھ چائے پی رہے تھے جبکہ فرقان کی بیوی کنزہ اسے اپنے ساتھ کچن میں لے گئی تھی۔

مجھے لگتا ہے روشنال بھائی آپ کی بہت کیئر کرتے ہیں تبھی تو آپ پریوں کی طرح لگتی ہیں وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر بولی تھی۔۔

آپکی ایج کیا ہے۔۔۔۔۔۔ !

انیس سال کی اس منتھ ہو جاؤں گی وہ نگاہیں کر سادگی سے بولی تھی ۔۔۔

واٹ ۔۔۔۔۔انیس سال اتنی کم ایج ۔۔۔۔۔کوئی مسئلہ تھا جو آپکی شادی ۔۔۔۔۔؟ وہ آدھی بات کرتی ادھوری چھوڑ گئی تھی۔۔۔۔

بھابی روشنال بلا رہا ہے ۔۔۔وہ کسی بات کا جواب دیتی ہی کہ جب فرقان اسے اطلاع دینے آگیا تھا۔۔۔

وہ باہر نکلی تو روشنال پہلے فرقان ملا۔۔۔۔۔اور فرقان نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے پانچ ہزار کا نوٹ تھمایا ۔۔۔۔

ن۔۔۔نہیں بھائی وہ اپنے ہاتھوں کو بھنیچ گئی گویا صاف کر گئی تھی ۔۔۔

بھائی بھی کہہ رہی ہیں اور پرایا بھی کر رہی ہیں اس کے شکوے سے وہ نا چاہتے ہوئے ہاتھ آگے کر گئی تھی اس کہ ایموشنل ڈائلاگز سے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ پیسے پکڑ گئی تھی ۔۔

کنزہ نے بغور اسے دیکھا جس کے گلابی ہاتھوں کی لرزش ہو رہی تھی پھر وہ ان سے اجازت لیتے باہر نکل آئے تھے۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ درشت لہجے میں ڈھاڑا ۔۔۔

وہ گاڑی میں بیٹھی تو روشنال نے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کیا اور خود بیٹھ کے گاڑی سٹارٹ کی۔۔۔۔۔اشنال درود شریف کا ورد کرتی رہی ۔۔۔۔کیونکہ گاڑی کی خطرناک حد فل تھی خوف سے اس کا رنگ پیلا پڑگیا تھا۔۔۔

پل۔۔۔پل۔۔۔پلیز آہستہ چلائیں وہ گھگیائی آواز میں بولی تھی ۔۔۔۔

تم چپ بیٹھو آج گھر جا کر حساب کلئیر کرتا ہوں۔۔۔

گھر پہنچیں گے یا میں بچوں گی تو حساب کتاب بچیں گے۔۔۔۔۔۔اس نے دل میں سوچا تھا۔۔۔۔

روشنال ۔۔۔موڑ کاٹتے ہی گاڑی کے سامنے ٹرک آیا تھا اس کے بال سارے آگئے وہ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے چیخی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *