Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Episode 16,17)
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Episode 16,17)
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
وہ اسے مزید اپنے قریب رکھ گیا تھا اور اس کے گرد
بازوؤں حمائل کرگیا تھا۔۔۔
کیا ہوا ڈر تو ایسے رہی ہو۔۔۔۔جیسے تمھارا وقتِ آخرت آگیا ہو۔۔
وہ کانپ کر اس کی قمیض کو مٹھیوں میں بھنیچ گئی تھی اس کے کانوں میں گمبھیر سا بولا تھا اور اس کو اپنے سے علحیدہ کیا تھا۔۔۔
ن۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔وہ یہ کہہ کر پھر سے چپکی تھی۔۔۔
اٹھو ایک منٹ کے اندر اٹھو۔۔۔۔۔! وہ اس کے بار بار ڈرنے سے کوفت میں آیا تھا اور کچھ اس کے بدلتے لہجے کا سبب اس کی سابقہ رات سنائی گئی باتیں نہیں تھی۔۔۔
وہ بیڈ سے اترا اور اسے کھنیچ کے اتارا تھا۔۔۔
ہہ۔۔۔۔ہم ۔۔ہم ۔۔کہاں۔۔۔جج۔ جا رہے ہیں ۔۔۔۔وہ وہ اس کے اتنے زبردست حملے کےلیے تیار نہیں تھی اور اس کے ساتھ کھنچتی جا رہی تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کہاں لے کہ جا رہا ہے ۔۔۔۔
تھارا یہ ڈر ختم کرنے ۔۔۔۔وہ پیچھے مڑا تھا اور اپنی ڈارک براؤن نظریں اس پر گاڑ کہ بولا تھا جو ناسمجھی اور خوف سے اسے دیکھ رہی تھی ا س کو دیکھتا رہا جس کی ہرنی جیسی آنکھوں خوف کا ایک جہان آباد تھا وہ اسے پھر سے کھنچتا سیڑھوں کی طرح بڑھا تھا اس کے بال کمر پہ لہرارہے تھے ڈوپٹہ وہی رہ گیا تھا ۔۔
چ۔۔۔۔چھوڑیں مم۔۔۔مجھے ۔۔۔۔ممم۔۔۔۔میں نے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ۔ مم۔۔۔مجھے نہیں ڈر لگ رہا۔۔۔اس کو سٹیرھیوں کی طرف بڑھتے دیکھ کر وہ التجائی ہوتی بولی تھی۔۔۔
سس۔۔۔۔خاموش۔۔۔۔ایک لفظ نہیں۔۔۔۔وہ اسے گھیسٹتا ہوا احساسات سے عاری لہجے میں بولا اور چھت کا ڈور کھولتا وہ اسے تیز بوندوں کے نیچے کھڑا کرگیا تھا۔۔۔
یہ۔۔۔۔کک۔۔۔کیا رہے آپ ۔۔۔۔؟وہ بادلوں کو گرجتا دیکھ کر اس ظالم شخص کو دیکھنے لگی ۔۔۔جو اسے بارش میں کھڑا کر کہ پرسکون سا ہاتھ باندھے کھڑا تھا ۔۔
تمھارے ڈر کو کھڑا کر رہا ہوں ۔۔۔۔اشنال بخت اب میری پناہوں میں مت گھسنا میں تمھیں اتنا سخت دیکھنا چاہتا ہوں کہ تمھیں کسی کے سہارے کی ضرورت نہ پڑے تم اتنی مضبوط ہو جاؤ کہ تمھیں کسی دوسرے کے سہارے کی محتاج نہ ہو۔۔۔۔وہ اسے اپنی طرف بڑھتا دیکھ کر سرد سے لہجے میں بولا تھا۔۔
ممم۔۔۔۔میں تت۔۔۔تو۔۔۔۔ایسی ہو۔۔۔۔جاؤں ۔۔۔۔گی پھر ۔۔۔۔مم۔۔۔مجھے۔ ۔ایسے دیکھ کر پچھتائیں گے بہت ۔۔۔۔۔وہ کانپتے لبوں سے بادلوں کے گرج سے خوفزدہ ہوتی پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے بولی تھی۔۔
مجھے پچھتانا منظور ہے بیگم۔۔۔۔۔وہ اسی احساسات سے عاری لہجے اس کی طرف جھکتا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا تھا۔۔۔۔
آپ روئیں گے بھی ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے پھر سے بولی تھی ۔۔۔
رو لوں گا اور ۔۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھے بنا بولا جیسے اسے کوئی فرق ہی نہ پڑھ رہا ہو۔۔۔
آپ مجھے ڈھونڈا کریں گے پر میں نہیں ملو گی۔۔۔۔وہ اب کی بار سسسکیوں سے بولی تھی اس کے کپڑے بھیگ چکے تھے۔۔۔
میرے علاوہ تمھارا کون ہے جہاں تم جاؤ گی۔۔۔۔؟اب کی بار اس کا مذاق اڑایا تھا۔۔
مم۔۔۔میرا اللہ ہے نا۔۔۔میں اپنے اللہ کے پاس چلی جاؤں گی۔۔۔وہ اس پہ اثر نہ ہوتے دیکھ کر دیکھ کر ہچکیوں سے روتے ہوئے بولی تھی ۔۔
چ۔۔چلو۔۔۔۔نیچے۔۔۔۔اس کے اس جواب سے روشنال کا سینے فٹ پتھر دل ہل کر رہ گیا تھا۔۔۔وہ اس ایسے جواب کی توقع نہیں رکھتا تھا وہ اسے اپنا ایسا پتہ بتا گئی جو مضبوط اور مستقل تھا۔۔۔۔وہ کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا تھا بس یہ ہی کہہ سکا تھا۔۔
اب میں کئی نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔!جب تک صبح نہیں ہوگی آپ چلیں جائیں۔میرا ڈر جب ختم ہو جائے گا میں نیچے آجاؤں گی ۔۔مجھے اس خوفناک رات میں رہنے دیں آپ جائیں سو جائیں۔۔۔
اس نے روتے ہوئے ضد کی تھی وہ اس کے منہ پہ تو بڑی شیرنی بہن رہی تھی لیکن اندر ہی اندر اس کا ننھا سا دل سہم رہا تھا اس کو یہ وحشت زدہ موسم بھی رولا رہی تھا اور اپنے سامنے کھڑا یہ وحشت ناک بندہ بھی اس کا ننھا سا دل دھڑکا رہا تھا وہ روشنال کے لہجے کو دھیما پڑھتی دیکھ کر شیرنی ہوئی تھی لیکن اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ کسی ایسی جگہ چھپ جائے جہاں بادل کیا کسی کی آواز نہ سنائی دے۔۔۔
میں کہہ رہا ہوں جاؤ اپنے کمرے میں۔۔۔۔۔ وہ اسکے دوپٹے سے بغیر وجود سے نظریں چراتا سخت مگر دھیمے لہجے میں بھولا تھا ۔۔۔۔
نن۔۔۔۔نہیں۔۔۔جاؤں گی اب۔۔۔۔۔وہ مزید ضدی ہوئی تھی ۔۔۔
چلو۔۔۔۔اسے بازوؤں سے جکڑتے وہ اس سے گھیسٹا ہوا چھت سے نیچے لے جانے لگا چھت کا ڈور بند کیا اسکی گرفت اس کے بازوؤں میں ایسے ہی تھی۔۔۔اور فون کی لائٹ آن کی تھی تاکہ نیچے لے جاسکے۔۔۔۔!
کک۔۔۔کئی نہیں جاؤں۔۔۔۔مم۔۔۔میں آپکے ساتھ۔۔کہیں نہیں جاؤں گی وہ اسے ہاتھ چھڑاتی پہلی سیٹرھی پہ بیٹھ گئی تھی۔۔
اٹھو۔۔۔۔وہ اسے ہاتھ سے پکڑتا اٹھانے کی کوشش کرنے لگا وہ اسے ایسا پکڑ رہا تھاجیسے چھوٹے سے بچے کو ماں ڈانتی ہےاور منہ پھلا کہ بیٹھ جاتا ہے وہ اسے مناتتی رہتی لیکن وہ نہیں مانتا۔۔۔اٹھو۔۔وہ اب کی موبائل کی لائٹ اس کی طرف کرتا بولا تھا ۔۔
آپ چلیں۔۔۔۔جائیں۔۔۔۔مم۔میں نے آپ کے ساتھ جانا۔۔۔وہ تو جیسے اس کی ایک نرم لہجے سے ضدی ہوئی تھی بغیر اپنے انجام کی پرواہ کیے بغیر ۔۔۔۔ اسے تو ضد میں اپنے حلیے کا بھی خیال نہیں رہتا تھا وہ ایسی ہی تھی اور ابھی بھی یہ ہی ہوا وہ اپنے ڈوپٹے سے بے پرواہ وجود سے بے نیاز تھی۔۔۔
میں آخری بار کہہ رہا ہوں اشنال اٹھ جاؤ۔۔۔پھر میری دی گئی قیامت سہہ نہیں پاؤگی وہ اسکے پاس بیٹھتا اس کی نمکین کٹورے چھلکاتے آنکھوں کی طرف دیکھ کر بولا اب کی بار اس کے بےباک نگاہیں اس کے گیلے سراپے پہ رقص کرنے لگی تھی ۔۔۔
ن۔۔نہیں اٹھوں گی آپ ضد کے پکے ہیں تو میں بھی آپ سے چار ہاتھ آگئے ہوں آپ چاہے یہاں میری قبر بھی بنا دیں آج میں نے یہاں سے نہیں اٹھنا ۔۔۔۔وہ روتے ہوئے فاصلہ پہ ہوئی تھی
یہ ہی روشنال کا ضبط جواب دینے گیا تھا اس کی نظریں اس کے گیلے سراپے پہ نگاہیں ایسی ٹکی کہ ہٹنے کا نام ہی لے رہی تھی اس کی نظریں بے قراری سے اس کے وجود کا طواف کرنے لگی تھی اس کی نظریں اشنال کی لال آنکھوں اور اس کے چہرے کے ہر نقش کو بے صبری سے چھونے لگی تھی یہ ہی کوئی ایسی آندھی تھی جو روشنال کی نظروں کی زد میں آکر اس کے پتھر دل کی سطلنت کو روندتی ہوئی چلی گئی تھی۔۔۔





؎ ہائے یہ سرخ سرخ لب روشن
کالی آنکھیں بھی ہیں غضب روشن
وصل کی شب بجائے شمع و چراغ
ہوتے ہیں جب ان کے لال و لب روشن





روشنال کی آنکھیں یہ منظر دیکھ کر اور اس کے ذہن جلیل حسن جلیل مانک پوری کہ یہ غزل گردش کی تھیں۔۔
جبکہ اشنال اسکی بےباک نظریں اپنے شریر پر گردش کرتے دیکھ کر جی جان سے کانپی تھی اس میں اتنی سکت نہیں رہی تھی کہ وہ اٹھ سکے ۔۔۔وہ اسے نظریں چرا گئی تھی اسکی نظروں کے ساتھ اس کا سر بھی جھکا تھا۔۔۔
ادھر اسکا حلیہ روشنال کا ضبط ٹوٹ گیا تھا اس کا جھکتا سر دیکھ کر اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کا چہرہ اوپر کیا اور مدہوش ہوتے لب اس کہ لبوں پر رکھ گیا تھا اور اس کے انداز میں شدت آئی تھی ۔۔
ادھر اشنال کے وجود میں ایک برقی لہر ڈوری تھی یعنی آج وہ شخص اس کی سانسوں پہ بھی قبضہ کرگیا تھا وہ اپنی پوری شخصیت اور مکمل اسحقاق بھرے انداز میں اپنا حق وصول کر رہا تھا اتنی شدت اور جنونیت سے کہ اشنال بخت کو اپنی سانسیں ختم ہوتی محسوس ہوئی تھی ۔۔۔
اس نے خود پر لعنت بھیجی تھی کہ کیوں ضد کی۔۔۔۔؟ اپنی ضد کا انجام اسے مل گیا تھا وہ شخص آج اس کی سانسوں سے آگیا تھا۔۔۔وہ رونے لگی جب اس کی تھوڑی سے ہلکی گرفت دیکھ کر اپنی سانسوں کو متوازن کرتی اسے پیچھے دے کر اندھا دھند بھاگی تھی جبکہ پیچھے روشنال غصے سے آوزیں دیتا رہ گیا تھا وہ روتے روتے کمرے میں آئی اور واش روم میں گھسی تھی اور رگڑ کر لب صاف کرنے لگی تھی۔۔۔اسے اس کا یہ دیا گیا پیار نہیں لگا بلکہ ایک ضد سی لگی تھی ۔۔۔۔وہ اس لیے نہیں رو رہی تھی وہ اپنے ذات کی تذلیل کےلیے رو رہی تھی یعنی جب چاہے اسے حق وصول کر لیتا اور جب اسے دھتکار دیتا۔۔۔۔وہ اتنی بے حرماں تھی کیا۔۔۔اس سے پیار اپنی جگہ لیکن وہ اس کی دوغلی شخصیت سے تھک کہ فیصلہ اور خود سے عزم کرتی اٹھ کر دوسرا لباس تبدیل کیا تھا۔۔
***********join Abeeha Ali novel
مہارانی صاحبہ اٹھ کہ کام کرو۔۔۔۔میں تمھارے باپ کی ملازمہ نہیں جو ہر وقت کام کروں۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم اسے اٹھاتی ہوئی بولیں تھیں۔
آپ نے مجھے خود قید کیا ہوا ہے اس کمرے میں۔۔۔۔کیا یہ بات بھول گئیں آپ ۔۔وہ تپ کہ بولی تھی۔۔۔
جو تمھاری حرکتیں تھی نا۔۔۔۔۔وہ تمھارے تایا ابو اور تمھاری خالہ کو پتہ چل گئی ہیں وہ روز مجھے باتوں میں جتلاتی ہیں کہ تم نے کتنی غلط حرکت کی ہے۔۔۔
ثمینہ بیگم کا سب کا رویہ اسے بتایا تھا ج جنہوں نے اسے ایک قسم کا انہیں کمرے میں قید کر رکھا تھا اور جب حسنال کا پتہ لگے گا وہ طلاق تو تمھارے منہ پر مارے گا ثمینہ بیگم خدشے کے تحت بولیں تھیں۔۔۔
تو کیا آپ اسے بتائیں گی ۔۔۔۔ ؟منال حسنال کا سوچ کر ڈری تھیاور ماں سے جواب طلب کرنے لگی تھی۔۔۔
مجھے تم نے بےوقوف سمجھ رکھا ہے ۔۔۔۔۔!میں نہیں اسکی ماں بتائیں گی اسے۔۔۔۔۔! یہ تمھارا اپنا قصور ہے اب بیچ میں مجھے موردِ الزام مت ٹھہراؤ۔۔۔۔!
خالہ جان نے آپ سے خود کہا ہے کہ وہ حسنال اور آغا کو بتائیں گی۔۔۔پلیز بتائیں۔۔۔
وہ ماں کی باتیں سن کر روہانسی ہوتی بولی تھی۔۔۔
تمھاری خالہ جان کا رویہ بتا رہا ہے کہ وہ اب کچھ نہ کچھ کریں گی کیونکہ اس کے دل میں اشنال کےلیے ہمدردیاں جاگ رہی ہیں میری بہن ہوکر وہ ہر وقت اس کلموہی کی باتیں کرکے میرا دل جلاتی رہتی ہے۔۔۔۔! وہ کلموہی تو بڑی نصیب والی نکلی ہے اس دن تو نہیں تھی لیکن کیسے وہ اسکی سائیڈ لے رہا تھا جیسے اس کےلیے جان بھی دے دے گا اور تیری خالہ کہہ رہی تھی کہ وہ اشنال اور روشنال کو لیں آئیں گی ۔۔وہ دل جلائیں کہہ رہی تھیں۔۔
سچی۔۔۔۔وہ ایکسائٹٹد ہوئی تھی۔۔
کیوں تیرا بھی اس کلموہی کےلیے پیار جاگ رہا ہے یہاں ہھر سے اشنال یاد آرہا ہے۔۔۔گویا اس کے حق میں بولنے والا تو ثمینہ بیگم کو زہر ہی لگتا تھا چاہے پھر وہ سگی بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔
نہیں۔۔۔۔نہیں اس کو کلموہی مت کہہں میرے دل پہ چوٹ لگتی ہے اسکا معصوم چہرے مجھے یاد آتا ہے وہ مجھے یاد آتی ہے اس پر دیے گئے الزام یاد آتے ہیں میں اس پاک لڑکی پر الزام لگا کر ڈپریشن کی مریض ہوگئی ہوں ۔۔وہ بیڈ پہ بیٹھے رو پڑی تھی اور نصیب تو رب تعالیٰ کی ذات لکھتی ہے نا۔۔۔۔۔! میں کہتی ہوں اللہ تعالیٰ اس کے نصیب اچھے کریں دنیا جہان کی نمعتیں اسے عطا کریں ۔۔۔وہ آج اپنے بہن کے پیار بول رہی تھی کیونکہ اب وہ تنہا ہوتی تو اسے اشنال اسکا معصوم چہرہ ۔۔۔اس کی مستیاں شدت سے یاد آتی تھیں۔۔۔۔وہ اللہ سے رو رو کر دعائیں مانگتی تھیں لیکن اب اس کی بہن کی کمی پوری نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔
ہاں آخر ہے تو اپنے باپ کی بیٹی جتنا بھی پیار کروں سانپ کی طرح ڈسے گی تو سہی نہیں نہ۔۔۔وہ یہ کہتی اس کو کوستی نکل گئی تھیں جبکہ منال پیچھے تکیے سے ٹیک لگاگئی اور سوچنے لگی کہ اللہ تعالی اسے کیسے معاف کریں گا ۔۔۔۔اسے سے پتہ تھا جب اللہ کے بندے اس سے خفا تھے تو وہ رب بھی اس سے خفا تھا۔۔۔کیونکہ وہ رب جب ناراض ہوتا ہے تو کسی کو زندہ زمین میں نہیں گاڑتا ۔۔۔۔۔اور نہ ہی آسماں سے پتھر برساتا ہے وہ بس سجدے کی توفیق چھین لیتا ہے۔۔۔دلوں پر مہر لگا دیتا ہے اور دنیا میں غرق کرتا ہے کیونکہ یہ عذابوں کےلیے بدترین عذاب ہے ۔۔۔۔وہ میگزین پڑھ رہی تھی جب یہ باتیں اس کے سامنے آئیں تھیں وہ کانپ کر رہ گئی تھی اور کتنی دیر ہل نہ سکی تھی۔۔جب دماغ سوچنے کے قابل ہوا تو۔۔
تو اٹھ کر وضو کیا تھا اور اتنا اسے خوف محسوس وہ مصلحے پر بیٹھ گئی تھی۔۔۔کچھ دیر بعد جب وہ نماز پڑھ کر آئی تو۔۔۔اسے اپنا چہرہ اتنا پرنور لگا کہ وہ اندازہ نہیں کرسکی کہ یہ رب کی ایک منٹ کونسی ایسی نوازش ہے لیکن اس کے ذہن سورة الرحمن آئی تھی ۔۔
آیات *فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان*
ترجمعہ *”تو تم اپنے رب کی کون کون سی
نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟”
*
ہمارا اللہ اتنا مہربان ہے کہ ہماری *عبادت* اور* تقویٰ*
کو ہمارے چہرے سے * ظاہر* کر دیتا ہے مگر ہمارے
*گناہ* ساری دنیا سے * پوشیدہ* رکھتا ہے۔۔
جب کہ وہ اللہ کا کرم اپنے چہرے سے دیکھ کر پرسکون ہوئی تھی ۔۔۔۔


وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئی جب اسے حسنال کی بھی شدت سے یاد آرہی تھی کیونکہ اس کو سمجھنے والا پچھلے تین دن سے غائب تھا۔۔۔اسے نیند کا ایسا تعویز دے کر وہ ایسا گیا کہ پھر اسے نظر نہیں آیا تھا وہ اس کو دل و شدت سے سوچنے لگی تھی۔۔۔۔
***********
وہ آج جلدی اٹھا تھا نماز ادا کی اور لیپ ٹاپ پہ کام کرنےلگا جب رات کا منظر سامنے آتے ہی اس کو ایک لطیف سے احساس نے چھوا تھا اس کے گھنے عنابی لبوں نے ایک خوبصورت مسکان نے چھوا تھا ۔۔۔۔وہ اس کے نشے میں ایسا کھویا کہ اسے کوئی شے یاد نہیں رہی تھی۔۔۔
وہ اٹھا کہ اسے اٹھائے تاکہ وہ ناشتہ بنائے اور دونوں ناشتہ کرکے اپنی اپنی ورک پلیس پہ نکلیں۔۔۔۔!اس لیے وہ اس کے روم میں آیا تھا۔۔۔
اشنال۔۔۔۔۔اشنال۔۔۔اس نے پکارا لیکن اسکا کوئی جواب نہیں آیا تھا وہ کہیں ہوتی تو جواب دیتی ۔۔۔!
وہ کہیں بھی نہیں تھی اس نے واش روم کا ڈور تو اوپن تھا۔۔۔۔وہ مڑنے لگا جب اسکی نظر پنسل کے نیچے کاغز پر پڑی تھی وہ حیرانگی لیے مڑا تھا اور اٹھا کہ پڑھنے لگا۔۔
مجھے پتہ ہے یہ پڑھنے کے بعد آپ غصے میں ہوگے میرے جانے سے آپ کا انتقام ادھورہ رہے جائے گا۔۔۔۔لیکن میں بھی عزت نفس رکھتی ہوں ۔۔۔ اپنی بار بار تزلیل نہیں سہہ سکتی ۔۔۔۔معذرت لیکن میں آپ کو سمجھ نہیں سکی کیونکہ آپ دوغلی شخصیت والے شخص ہیں۔۔۔میں آپ کو حاکم کہہ کر پچھتائی تھی لیکن آپ سچ میں حاکم میں ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ آپ مجھ پہ حق رکھتے ہیں لیکن مجھے سمجھ آگئی ہے کہ آپ اپنے نفس کی تسکین کی تسکین کےلیے میرے پاس آتے ہیں آپ نے مجھے انسانوں کی طرح تو ٹریٹ نہیں کیا۔۔۔اس سےزیادہ میں کچھ بھی نہیں لکھ رہی کیونکہ آپ پہ کونسے اثر ہونے ہیں ۔۔کیونکہ لکھنے والا اپنے احساسات سمجھ کر لکھتا ہے اور پڑھنے والا صرف لفظ سمجھ کر پڑھتا ہے ۔۔۔
اس لیے میں اپنے الفاظ ضائع نہیں کرسکتی۔۔۔ہاں یہ کہنا چاہوں گی آپ کو قسم ہے کہ آپ میرے پیچھے نہیں آئیں گے میں جہاں بھی رہوں آپ کو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے آپ کو اس کی قسم جس سے آپ دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں آپ کو اسکا واسطہ مجھے ڈھونڈیے گا مت ۔۔۔آپکی کوئی بھی چیز چرا کہ نہیں لے کہ جارہی اپنا گھر دیکھ لیجئے گا ہر چیز آپ کو وہی پہ نظر آئے گی جو پیسے دیے ہیں وہ میں تکیے کہ نیچے رکھ کہ جا رہی ہوں رشتے وہاں مکمل ہوتا ہے جہاں تقدس احترام اور محبت ہو۔۔۔۔یہ تو نکاح والے دن طے تھا کہ مجھے آپ سے بچھڑنا تھا۔۔۔اس سے آگے اس کی ہمت نہہں ہوئی تھی۔۔۔۔۔اس سے آگے شاید روتی رہی تھی آگے کے لفظ مٹے ہوئے تھے اس کے آنسوؤں سے۔۔۔بس نیچھ لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔فقط لاوراث۔۔۔۔۔۔بے حرماں۔۔۔۔بدنصیب۔ ۔تنہا اشنال کبیر بخت۔۔آخر میں لوارث لکھا ہوا تھاجبکہ اس کا خط پڑھ کر وہ لفافہ ہاتھ میں پکڑے بیڈ پہ گرنے والے انداز میں بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔تو کیا وہ یہ سمجھتی تھی ۔۔۔کہ وہ صرف اپنے دل کی تسکین کےلیے اس کے پاس جاتا ہے۔۔۔۔۔اس کا خط پڑھ کر ایک بے رحم آنسوؤں اسکی پلکوں کو توڑتا۔۔۔۔۔۔اس کی ہلکی بڑھی ڈاڑھی میں جذب ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! وہ واسطہ بھی بھلا کس کا دے کہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔اپنا۔۔۔۔۔!اور وہ کہتی تھی کہ وہ کچھ بھی نہیں اپنے ساتھ کے کہ جارہی ۔۔۔۔۔ہاں وہ لے گئی تھی اس کی سب سے قیمتی شے ۔۔۔۔دل گئی تھی ۔۔۔وہ اسے اپنا ہی واسطہ دے کر تنہا کرگئی تھی یعنی کہ وہ اسے ڈھونڈ نہ سکے۔۔۔۔!وہ گھر سے تو کچھ بھی نہیں چرا کہ لے گئی لیکن اس کے جسم سے گوشت کا ٹکڑا تو ساتھ لے گئی تھی یعنی اسکا دل۔۔۔۔اس نے طے کرلیا تھا کہ اب وہ اسے آزاد ہی چھوڑ دے گا۔۔
Episode 17
وہ خالی ذہن لیے آفس آگیا تھا دماغ نے جیسے کام کرنا بند کر دیا تھا لیکن وہ روشنال بخت اناؤں کی ریاست کا مشہور بادشاہ تھا اندر سے مکمل ٹوٹ گیا تھا اس کا دل خالی ہوگیا تھا اس کا دل جیسے نوحے کر رہا تھا لیکن اس کے چہرے سے سختی کا خول نہیں ٹوٹا تھا وہ مغرور تھا اور مغرور رہنا پسند کرتا تھا
لیکن وہ کانچ کی گڑیا جب سے اسے چھوڑ کہ گئی تھی اس کے اندر خلش سی رہ گئی تھی اس کی معصوم حرکتیں اسے بری طرح یاد آ رہی تھیں جب وہ ضد سے اسے ہر بات منواتی تھی وہ یہ میٹھی یادیں سوچتے سوچتے ماضی میں چلا گیا تھا۔۔۔۔!
ماضی
یہ کون ہے چاچو۔۔۔۔!چودہ سالہ روشنال نے کبیر صاحب کے ساتھ کھڑی امنبر چاچی کے بازوؤں میں گرین والی بچی کو دیکھتے ہوئے سوال کیا تھا وہ اس وقت کی بات تھی جب وہ پاپا کے ساتھ ان کے گھر گیا تھا ۔۔۔
یہ۔۔۔۔یہ میری پرنسز ہے۔۔۔! کبیر صاحب نیچے جھکتے ہوئے اس کے گلے ملتے ہوئے دھیمی سی مسکان سے بولے تھے۔۔۔
پر پرنسسز تو کراؤن پہنتی ہے اس کے ہیڈ پرن کرواآؤن تو نہیں ہے ۔۔۔۔وہ الجھن بھرے اندازے میں اس خوبصورت اور گول مٹول آنکھوں والی بچی سے بولا تھا۔۔۔۔!
م۔۔۔۔یں۔۔۔۔ک۔۔۔کارتون۔۔۔والی پرنششز نہیں ہوں۔۔مم۔۔میں ت۔۔تو اپنے ب ۔ببا کی پرنششز ہوں۔۔۔۔ اشنال اس کو دیکھتے غصے سے توتلی زبان میں بولی تھی ۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔یہ میری چھوٹی سے پرنسز ہے ۔۔۔۔اس کے معصوم غصے سے پھولے ہوئے سرخ و سفید چہرے کو دیکھ کر کبیر صاحب نے ہنستے ہوئے امنبر سے لیا تھا۔۔
ب۔۔۔بابا ۔۔۔ت۔۔۔تون ہے۔۔۔اشنال نے اپنے ننھے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو کبیر صاحب کے گال پر رکھتے ہوئے پوچھا تھا۔۔
بیٹا۔۔۔۔یہ آپکے بھائی ہیں آپکے سپر مین ہیں انہیں پتا تھا کہ وہ اسے نہیں جانتی اور ایسے سوال تو کرے گی ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے کی گال پہ پیار کرتے ہوئے بولے تھے۔۔پھر اس کے بعد وہ چھوٹی سی بچی اس کی آنکھوں کا تارا بن گئی تھی روشنال شروع سے سمجھدار بچہ تھا وہ ہر دوسرے ویک میں چچا کے گھر جاتا تھا چونکہ چچااپنی نے یونیورسٹی فیلو سے شادی کی تھی تو آغا جان ان سے بہت ناراض تھے ان کی بس ایک شرط تھی کہ کبیر صاحب اگر امنبر کو طلاق دیں تو پھر ہی اس گھر میں قدم رکھ سکتے ہیں اس کے بعد انہوں نے بھی گھر میں داخلہ نہیں رکھا تھا دونوں گھروں کا آنا جانا ممنوع ہوگیا تھا۔۔۔لیکن صیغیر صاحب بھائی کی محبت میں ڈورے چلے آتے تھے بھائی کی محبت ان کےلیے بہت معنی رکھتی تھی ۔۔۔۔جبکہ روشنال اشنال اس حد تک اٹیچ ہوگیا تھا کہ اسے اشنال کے علاوہ دیکھتا ہی نہیں تھا وہ جب بھی آتا اس کے کےلیے چاکلیٹ لے کہ آتا تھا۔۔۔۔اور وہ اسے اپنا سپر مین سمجھ کر ہر شے کی فرمائش کرتی تھی اور وہ اسکا مان رکھتا بھی تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔۔مجھے۔۔۔۔آئش۔۔۔کریم۔۔۔نہ۔۔نہیں۔۔مجھ۔۔کو نہیں پتہ آپ ابھی لا دو ۔۔۔وہ جب اس کے گھر آیا ۔۔جب وہ روتے روتے اس کے ہاتھ پکڑ کہ فرمائش کی گئی تھی ۔۔۔
پرنسسز ایسے رونا نہیں آپکو۔۔۔۔میں ابھی لا رہا ہوں۔۔۔اب ادھر بیٹھو۔۔۔۔اس کی آنکھوں سے اسے آنسوؤں برداشت نہیں ہوئے تھے اور اس کو وہاں چیئر بٹھا کہ خود نکلا اور اس کےلیے پانچ منٹ میں آئس کریم لایا تھا اس کے بعد روشنال بخت کےلیے وہ ہر چیز سے لڑ گیا تھا پارک میں جب وہ اسے لے گیا تھا اس وقت وہ سولہ سال کا تھا اور اشنال چار سال کی تھی ایک لڑکے کے ہاتھ سے غلطی سے پتھر اشنال کے سر پر لگ گیا تھا جس سے اس کے سر سے خون آنے لگا تھا ۔۔۔وہ اشنال کو قریب ہی ہوسپٹل میں لے کہ گیا تھا۔۔۔!اس کی ڈریسنگ کروا کہ اس کو گھر چھوڑ کے پھر پارکنگ میں آیا اور پھر پارک میں آیا تھا۔۔۔تاکہ وہ اشنال کے سر پر لگے پتھر کا بدلہ لے سکے۔۔
لیکن وہ لڑکا وہاں تھا ہی نہیں۔۔۔۔! وہ اس کے معاملے میں خاصہ شدت پسند تھا۔۔
*******
دن گزرتے گئے وہ بائیس کا تھا اس وقت وہ فورتھ ائیرکے پیر دے چکا تھا لیکن وہ اب کبیر چاچو کہ گھر جاتا تھا مگر بہت کم۔۔۔۔وہ سمجھ چکا تھا۔۔کہ آغا جان کی ناراضگی اور خالہ کی نفرت کبھی نہیں ختم ہوسکتی اس نے خالہ کو چاچو چچی کےکیے باقدہ جھولیاں پھیلاتے ہوئے دیکھا تھا وہ ان کے مرنے کی ان کی بچھڑنے کی بد دعائیں کرتی تھی اور ایک دن ان کے دل میں ٹھنڈ پہنچی تھی لوگوں کی دعائیں رنگ لاتی ہیں لیکن ان کی بدعائیں رنگ لائی تھی ۔۔۔وہ فورن سٹٹڈیز کےلیے اپلائی کر رہا تھا ڈاکومنٹس سبمنٹ کروا کہ آرہا تھا ابھی راستے میں ہی تھا جب صیغیر صاحب کی کال گئی تھی۔۔
ہیلو ۔۔۔ تمھاری چاچی اور چاچو کا آکیسڈنیٹ ہوا ہے فوراً ہوسپٹل پہنچو۔۔۔انہوں نے اپنے لہجے پر کنڑول پاتے ہوئے کہا تھا۔۔۔!
ب۔۔بابا ۔۔سب کچھ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔آپ کی آواز کو کیا ہوا ہے۔۔۔سب خیریت تو ہے نا۔۔۔چاچو چچی تو ٹھیک ہے نا۔۔وہ کسی خدشے کے تحت بولا تھا۔۔۔
تم آؤ گے تو پتا چل جائے گا۔۔۔وہ اسے یہ کہنے کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکے تھے۔۔۔
******
وہ جب ہاسپٹل پہنچا تھا تو اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی تھی امنبر چاچی کی تو موقع پر ڈیٹھ ہوگئی تھی جبکہ کبیر چاچوکی کنڈیشن کریکٹیکل تھی ۔۔۔
چاچو۔۔۔۔آپ۔۔۔ٹھیک تو ہیں نا۔۔وہ ان کے پاس آکے بیٹھا تھا۔۔
بس ۔۔۔سپر مین بس میرا وقت آخرتِ ہے موت تو ہر کسی کو آنی ہے ۔۔لیکن اتنی جلدی سانسیں ختم ہو جائیگی سوچا نہیں تھا مجھے موت کا دکھ نہیں ہے اپنی پرنسز کی تنہائی اور اکیلے پن سے ڈر لگتا ہے اس کے نصیب سے ڈر لگتا ہے پتہ نہیں میرے جانے کے بعد وہ اپنی ماں اور میری موت کو سہہ پائیں گی وہ ہماری جدائی کو سہہ لے گی ۔۔۔میرے جانے کے بعد صرف وہ نہیں میری دونوں بیٹیاں یتم ہو جائیں گی ۔۔۔لیکن منال کی مجھے اتنی فکر نہیں ہے کیونکہ اس کی ماں آغوش ہے جو اسے ہر سردو گرم سے بچالے گی۔۔۔میری بیٹی کو زمانے کے سردو گرم سے بچانا تمھارا کام ہے سپر مین میں آج ان الفاظ کو کیسے بیان کروں جب وہ سکول سے گھر آئے گی تو ہماری آنکھوں کو بند پائے گی ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ان کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔۔وہ اپنا ماسک اتارتے ہوئے بولے تھے۔۔۔
سر۔۔۔۔یہ کک۔۔۔کیا کر رہے ہیں ۔۔ماسک اوپر کریں۔۔۔نرس نے ان کے ایسے کرنے پر شور کیا تھا۔۔
انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا تھا۔۔
تمھیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔۔میں ہوں نہ بچا لوں گاصیغیر صاحب نے ان کے پاس ان کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا۔
چاچو ابو ٹھیک کہہ رہے ہیں ہم آپ کو بچا لے گے نہ۔۔۔۔!
روشنال نے بھی انہیں کمزور سی تسلی دی تھی وہ حیران تھا کہ امنبر چاچی کا وفات انہیں کیسے پتہ چلا ۔۔۔؟
نہ۔۔۔۔نہیں بھائی صاحب میری سانسیں شاید یہ ہی تک تھیں میرا وقتِ سفر تمام ہوچکا ہے۔۔۔جب میں نے امنبر سے شادی کی اس وقت میری خوشیوں کا دائرہ بہت وسع ہو چکا تھا پھر اس کے بعد اللہ نے مجھے رحمت سے نوازا اور مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی اس کی معصوم سی شرارتوں سے میرے گھر کا آنگن کھل اٹھا تھا لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ میری خوشیوں کا دوارنیہ اتنا مختصر ہو جائیگا ۔مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے۔۔۔۔لیکن آغا جان سے بس اتنا کہہ دیجئے گاکہ اپنی نافرمان اولاد کو معاف کر دیجئے گا اور اس اولاد کی بیٹی کو سینے سے لگائیے گا۔۔بھائی جان میری پھولوں سے نازک بچی کا خیال رکھئیے گا ۔۔۔وہ میری نرمیوں سہنے والی میری پرنسز زمانے کی سختی کیسے جھیلے پائے گی مرنے والے سے آخری خواہش پوچھی جاتی ہے آج اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اس کے نصیب خود لکھ کہ جاتا۔۔ ۔۔۔یہ باتیں سنتے روشنال بخت پھٹنے لگا تھا۔۔۔وہ کبیر صاحب کی طرف دیکھ نہیں پا رہا جن کی آنکھوں سے آنسوؤں نکل کر تکیے پر گر رہے تھے اور پھر وہ ان کا وقتِ نزع قریب آگیا تھا۔۔۔روشنال نے پتھر دل کرکے ان کو پانی پلایا اور کلمہ پڑھایا تھا وہ اس کی آنکھوں کے سامنے زندگی کے بازی ہار گئے تھے۔۔۔
******
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج نہیں تو کل ہماری باری ہے
شام تک امنبر اور کبیر صاحب کی ڈیڈ باڈی کو گھر لایا گیا تھا جوانی کی موتیں تھی ہر طرف حشر برپا ہوچکا تھا سب غم میں تھے ۔۔۔!
بابا۔۔۔۔اٹھیں۔۔۔۔نہ پانی پی لیں نہ۔۔۔۔۔دس سالہ اشنال اپنے ننھے ہاتھوں سے پانی لائی تھی وہ روز ان کو اسی ٹائم پہ پانی دیتی تھی وہ ان کی بند آنکھوں کو ساکت سی دیکھتی نجانے کتنی دیر بعد پانی لے آئی تھی۔۔۔!
سارے لوگ اس معصوم سے ہرنی سی آنکھواں والی بچی کو دیکھنے رہے تھے کچھ رحم سے۔۔۔۔کچھ غم سے یمدردی سے ۔۔۔وہ ان کے پاس پانی لاتے سب کی آنکھوں میں آنسو لے آئی تھی ۔۔۔
سپر مین ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔یہ مما بابا۔۔۔۔کیوں نہیں اٹھ رہے۔مما نے کہا تھا آج پاپا کے ساتھ لونگ ڈرائیو پہ جائیں گے ۔سپر مین مما بابا کو بولیں نہ وہ اٹھیں بابا پہلے تو پرنسز کی ایک آواز پہ اٹھ جایا کرتے تھے آج کیوں نہیں اٹھ رہے ۔۔! وہ صرف روشنال کو پہچانتی تھی جو بلیک سوٹ میں سختی کی تہہ جمائے سنجیدہ سا کھڑا تھا اس کے پاس آتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
وہ اب کبھی نہیں اٹھیں گے ایشو میرا بچہ۔۔۔۔ وہ ایسی جگہ چلیں گے جہاں سے واپس آنا ناممکن ہے وہ اللہ تعالی کے پاس چلیں گئے ہیں جہاں کوئی ایک بار جائے تو مڑ کہ نہیں آتا ۔۔۔۔وہ اس دس سالہ بچی کے پاس بنجوں کے بل بیٹھا اپنی طرف سے آسان سے الفاظ میں سمجھا رہا تھا۔۔ جو سکول والے دو پونیاں سر پہ کیے سکول والے یونیفارم میں خوفزدہ کھڑی اس کے پاس سوالی سی بن کر کھڑی تھی۔۔۔
یہ۔۔۔کک۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں سپر مین ایسے نہیں ہوسکتا میرے بابا اب مجھے کبھی نہیں اٹھائیں گے مجھے چاکلیٹ کون لا کہ دیں گا۔۔۔مجھے سٹوریز کون سنائے گا۔۔۔مجھے پیار کون کرے گا۔۔؟
اسما کے بابا وہ تو ہر وقت روتی ہے اس کے بابا اللہ کے پاس چلے گئے ہیں ۔اب میں بھی ہر وقت روؤں گی ۔!وہ تیزی سے بولتی رو پڑی تھی جیسے اس عمر میں ماں باپ کی جدائی کا یقین آگیا تھا۔۔۔ دس سال کی بچی پہ ایسی قیامت ٹوٹی کہ اس کی آنکھوں سے پانی بارش کی تیز بوندوں کی طرف نکل رہا تھا۔۔۔
روشنال اس کو کوئی دلاسہ نہیں سکا بس اس کے غم کو دیکھتا شدت سے اسے ساتھ لگا گیا تھا۔۔۔وہ اس کے ساتھ لگی رونے لگی تھی جبکہ تہمینہ بیگم غم زدہ دل کے ساتھ اس کے ماتھے کو چومتی ہوئی لے آئی تھی ۔۔۔اور پھر وہ ان کو خالی نظروں سے دیکھتی کبھی ان کے ماتھے پہ پیار کرتی پیار کرتی کبھی گال پہ۔۔۔۔سب کو رولا گئی تھی اسے جیسے سمجھ لگ گئی تھی کہ یہ چہرے پھر نہیں نظر نہیں آنے۔۔۔وہ شدت سے کبھی بند آنکھوں والے باپ کے چہرے کو چومتی تو کبھی ماں کے۔۔۔۔کبھی ایک چرپائی کے پاس جاتی تو کبھی دوسری ۔۔۔آخر تھک کر باپ کی چرپائی کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔آغا جان خالی ذہن سے ہر طرف دیکھ رہے تھے یہ منظر دیکھ کر تو دشمن بھی چیخ اٹھتے لیکن وہ تو پھر دادا تھا۔۔۔وہ اسے گلے لگانا چاہتے تھے لیکن جیسے ان کا دماغ کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا وہ جوان بیٹے کی موت کو قبول نہیں کرپارہے تھے ۔۔۔۔وہ ایسے ہی بیٹھے تھے جب ان کی ڈیڈ باڈی کو سپرد خاک کرنے کےلیے اٹھایا تھا۔۔۔اتنی قیامت اور حشر دیکھ وقت جیسے تھام گیا تھا وہ سمجھتے اب وقت گزرے گا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔!
ماں باپ کے چلے جانے کے بعد ان کی لاڈلی اولادیں رل جاتی ہیں اور جنکے ماں باپ مر جاتے ہیں وہ دنیا کی ٹھوکروں کی زد پہ آ جاتے ہیں ۔۔۔وہ جو پہلے زندگی کو گزار رہے ہوتے ہیں ماں باپ کے مرنے کے بعد زندگی انہیں گزارتی ہے۔۔۔وہ لاوارث ہوجاتے ہیں۔۔۔۔!
جیسے آج اشنال بخت ہوئی تھی۔۔ !
******
اس اتنے گہرے زخم کو ہوئے تین مہنیے ہوگئے تھے سب روٹین پہ آگئے تھے ۔۔۔
وقت کا کام گزرنا جیسے بھی ہو گزر جاتا ہے وقت کا کمال یہ ہے یہ جیسا بھی ہو گزر جاتا ہے کچھ برے لمحے ہاتھ میں تمھا کر اور کچھ اچھی یادیں لے کر۔۔۔۔۔!
اس ڈائن کی بیٹی کو آپ یہاں کیوں لائے ہیں صیغر بھائی۔۔۔۔! وہ اس کے پاس آتی ہوئی بولی تھیں جو ڈر کے صیغر صاحب کے پیچھے ہوئی تھی ….!
اس کی مہنوس ماں میری خوشیوں کو نگل گئی اور یہ میری بیٹی کے باپ کو ۔۔۔۔۔وہ اس کو دیکھتے پاگل ہوتے ہوئے بولیں تھیں۔۔۔۔
بس ثمینہ ۔۔۔۔۔ تم سے زیادہ اس معصوم بچی کا نقصان ہوا ہے۔۔۔۔! تم اللہ کی رضا کو منحوسیت کا نام نہیں دے سکتے ۔۔۔۔صیغیر صاحب ان کا پاگل پن دیکھ کر غصےطسے بولے تھے جو خون خونخوار نظروں سے ان کے پیچھے ہوتی اشنال کو دیکھتی ہوئی بولی تھی۔۔
یہ ادھر ہی رہے گی کیونکہ آدھی سے زیادہ جائیداد اس کے نام ہے تم کیا دنیا کی کوئی بھی عدالت اسے یہاں پہ نہیں روک سکتی۔۔۔! یہ بات سن کر ثمینہ بیگم کچھ حد
تک نارمل ہوگئی تھی ۔۔۔۔لیکن ان کے دل میں بھابھنڑ جل رہے تھے۔۔۔لیکن اس کے بعد وہ اشنال سے سب سامنے تو لاڈ سے پیش آتی تھیں۔۔۔۔لیکن اسے کبھی سٹور میں بند کر دیتیں۔۔۔۔تو کبھی اسے تھپڑ مارتی ۔۔۔۔تو کبھی اس کا ہاتھ جلا دیتی تھیں۔۔۔
*******
تم اور تمھاری ماں نے میرے بابا کو مارا ہے۔۔۔تم سب ہو اس کے ذمہ دار۔۔۔۔منال جو اسے سات آٹھ سال بڑی تھی اس کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
آپی۔۔۔سپر مین کہتے ہیں ۔۔۔آپ تو میری بہن ہیں ۔۔۔بہنیں تو کبھی مارتی نہیں۔۔۔۔اشنال منہ پہ ہاتھ رکھے سسکتے ہوئے بولی تھی۔۔۔
تم جیسی ڈائن کی میں بہن نہیں ہو ہی سکتی۔۔۔۔آئندہ اگر اس زبان سے کہا تو میں تمھاری زبان کھنیچ لوں گی اور آیندہ تم مجھے روشنال کے ساتھ نظر آئی تو میں تمھیں جلا دوں گی۔۔وہ اس پہ چیختے ہوئے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے چیخ رہی تھی جس کو ماں نے پمپ کرکے اس کے کمرے میں بیھجا تھا پھر ماں کی شہہ پر وہ اسے خوب ڈراتی ضرورت پڑھتی تو مار بھی لیتی تھی۔۔۔
*******
ہ۔۔۔۔ہوہوہو۔۔۔۔۔ہاہاہا۔۔۔۔مغرب کا ٹائم تھا اشنال ٹیوشن سے واپس آئی تھی تہمینہ بیگم اسے کھانا کھلاتی اس کی ہر چیز کا دھیان وہ خود رکھتیں تھیں آج بھی تہمینہ بیگم اسے کھانا دے کہ گئی تھی وہ کھا رہی تھی جب اسے پانی کی طلب محسوس ہوئی تھی وہ دروازہ کھول کہ بارئی آئی تھی جب اسے ایک کمرے کا دراوزہ کھلا تھا کوئی فل وائٹ کلر کے کپڑے پہنے آنکھوں کے نیچے نیچے سرما لگائے ۔۔۔ہونٹوں پہ لپ اسٹک لگائے اس کے سامنےآتے چیخ کہ بولا تھا۔۔۔
مما۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔وہ اس ڈروانی صورت والی مخلوق سے ڈر گئی تھی ۔۔۔!وہ کدی چیز کی پراہ کیے باہر بھاگی تھی اس کا ننھا سا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔
ہوہو ہو۔۔۔ہی ہی ۔۔۔۔۔! سفید شال سے خود کو لپٹے وہ شیطان مخلوق پھر سے اس کے سامنے آئی تھی ۔۔۔
پلیز جن بھائی۔۔۔۔۔! مم۔۔۔مجھے جانے دیں ۔۔۔۔مم۔۔۔
نہ۔۔۔۔نہ۔۔۔میں بھوتوں کا ، شیطانوں کا ، کا شیطان ہوں ۔۔۔میں انوسینٹ ڈیول ہوں ۔ اس ریاست کا شہزادہ ،اس قبیلے کے جنوں کا سرادر ۔۔۔۔ جو ایک دفعہ میرے شکنجے میں آتا ہے اس کا بچنا ناممکن ہوتا ہے ۔۔۔۔اور تم نے میرے دائرے میں قدم رکھا ہے لڑکی۔۔۔۔جہاں کسی انسان کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے یہاں قدم رکھ کہ تم نے میرے غضب کو دوعوت دی ہے۔۔۔
پلیز۔۔۔۔جن۔۔۔۔جن۔۔جی ۔مجھے جانے دو۔۔۔۔وہ اس کے خوفناک چہرے سے نظریں اٹھا کر روئی تھی۔۔۔
ایک شرط پہ۔۔۔۔۔! وہ معصوم شیطان اس کی گبھرائی ہوئی آواز سے مزے اٹھاتا سنجیدہ انداز میں بولا تھا۔۔۔۔
کک۔۔۔۔کونسی جن بھائی۔۔۔۔۔!
ایک رجسڑ پہ ورک کر کہ دینا ہے ۔۔۔۔۔!
جن بھائی آپ پڑھتے بھی ہیں۔۔۔۔۔! وہ خوفزدہ آنکھیں مزید پھیلاتے ہوئے بولی تھی ۔۔۔۔!
روشنال جو اشنال کو ہی ہوم ورک کروانے آ رہا تھا ۔۔۔۔حسنال کی اس چالاکی کو دیکھ کر ادھر ہی رک گیا تھا۔۔۔
جس نے اس معصوم بچی کو مکمل طور پہ گھیر رکھا تھا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا کہ اشنال نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ ہاسٹل میں ہوتا تھا اور کبھی کبھی گھر آتا تھا وہ اس کی باتیں سنتا حسنال کے پیچھے جا کہ کھڑا ہوگیا تھا۔۔۔
اب کس کی ہمت ہوئی ۔۔۔۔۔میرے دائرے میں پاؤں رکھنے کی۔۔۔۔ وہ بقول اپنے ازلی غضب سے بولا تھا۔۔۔!
سردار صاحب ۔۔۔۔معزرت ہمیں معاف کردیں ۔۔۔۔ہم آپ سے پناہ چاہتے ہیں۔۔!
ب۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔۔اتنے قریب کھڑے ڈیسنٹ ڈیول کو دیکھتا وہ بھاگنے کے چکر میں تھا ۔۔۔۔جب روشنال نے اس کی گردن کے پیچھے ہاتھ کرتے ہوئے پاس کیا تھا۔۔۔۔
سپر۔۔۔۔۔مین۔۔۔۔پلیز مجھے بچالیں۔۔۔۔۔وہ اس کی آواز سنتی ڈرتی ہوئی اس کے پاس آئی اس کے پاس آ کھڑی ہوئیں تھیں۔۔۔
چل بیٹا تُو تو اندر چل ۔۔۔۔۔تیری قبیلے کے شیطانوں دعوت کروں میں۔۔۔۔ایک ہاتھ سے اشنال پکڑے اور دوسری طرف سے اسے گردن سے پکڑے لے اس کے کمرے میں کہ آیا تھا اس کامنہ دھلوا کہ کمرے میں لایا تھا تاکہ روشنال اس ڈرے نہیں۔۔
پھر اس کے بعد وہ قبیلے کا سرادار انوسینٹ ڈیول ۔۔۔۔اس ڈیسنٹ ڈیول کہ ہاتھوں مرغا بنا رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اشنال اس کو مرغا بنے دیکھ کر پہلی دفعہ ہنسی تھی وہ جو کسی سے بات نہیں کرتی تھی آج اتنے دنوں بعد اس کو ہنستے دیکھ روشنال بھی کھل مسکرایا تھا۔۔۔اس کی مسکراہٹ کےلیے وہ کچھ بھی کرسکتا تھا۔۔۔۔!
*********
روشنال جو ماضی کو سوچ رہا تھا چاچو جان کے بے بسی آخری لمحات کو سوچتا اس کا دل پہ زبردست سی کھینچ پڑی تھی ۔۔۔۔۔اس خود کو سرزنش کی تھی کہ کیوں اس نے گہرائی سے نہیں سوچا تھا ۔۔۔۔کیونکہ وہ اس معصوم لڑکی کو اس بے رحم دنیا کے پاس چھوڑ کر خود اس سے آزاد ہوجاتا وہ اسے چھوڑ نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔وہ گاڑی کی چابی لے کہ باہر نکلا تھا اور اس کے کالج کی طرف گاڑی موڑی تھی وہ جلدی سے کار سے باہر نکلا تھا۔۔۔اور بھاگتا ہوا کالج کے پاس آیا تھا۔۔۔!
جاری ہے
