Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Episode 21,22)
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Episode 21,22)
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
حسنال۔۔۔۔ککک۔۔۔۔کیا ہوا ہے ۔۔۔۔! بتاؤ نہ۔۔۔۔۔کسی سے لڑائی تو نہیں ہوئی ۔۔۔ اس کی گرم سانسیں گردن کو جھلسا رہی تھی اس شخص کی قربت اس پر گراں گزرہی رہی تھی ۔۔۔
اس کا کوئی رسپونس نہ پاکر اس کے سر کو پیچھے کیا تھا۔۔۔۔
ٹوٹ گیا جوڑ دو مجھے ۔۔۔۔۔۔؟ اپنی سوجن زدہ آنکھیں اس پہ ٹکاتے ہارے سے لہجے میں بولا۔۔۔۔!
کک۔۔۔۔کیا ۔۔ہوا ہے ۔۔۔۔؟ بتاؤ تو۔۔۔۔مج۔۔۔۔مجھے کک۔۔۔کسی سے لڑائی ہوئی ہے ۔۔۔۔ چینل والوں نے کچھ کہا ہے ۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھامتی اس کے درد میں شریک ہوتی بولی تھی۔۔۔۔!
میں قاتل بن گیا ہوں ۔۔۔۔منال۔۔۔۔میں بہت بڑا سنگدل ہوں میں نہیں بچا پایا اس کی زندگی اس کی آنکھوں میں مر گئی ۔۔۔اس کے باپ کا چہرہ مرجھا گیا ۔۔۔اس بچی کی ماں ایسے لگتا ہے جیسے مردہ لاش ہو ۔۔۔۔میں ان لوگوں کیا تسلی دیتا میں خود بے بس تھا۔۔
لوگ کہتے ہیں مرد نہیں روتا ۔۔۔ پر میں کہتا ہوں مرد ہر پل روتا ہے جب اس کی امیدیں ٹوٹتی ہیں ۔۔۔۔جب اس کے سامنے اس کا کوئی پیارا مر جاتا ہے ۔۔۔جب اس کے سامنے اسے غلط کہا جاتا ہے۔۔۔ضروری نہیں مرد محبت کی بیوفائی میں روئے مرد اپنی زندگی کے نشیب و فراز میں اندر سے خالی ہوجاتا ہے ۔۔۔۔۔وہ وہ اپنے اندر اتنے غم چھپا لیتا ہے چہرے پر مسکراہٹ کی تہہ چڑھا لیتا ہے لیکن اس کا دل خون کے آنسوؤں روتا ہے۔۔۔۔
مجھے اتنا دکھ تو اشنال کے اصلیت کھلنے پر بھی نہیں ہوا تھا۔۔۔اس کا نکاح بھائی سے ہوا تھا میں نے ضبط کیا تھا۔۔۔۔لیکن اتنا ظللم۔۔۔۔
وہ چھوٹی سی جب ہمارے گھر آئی تھی ڈری سہمی سی بچی۔۔۔۔میں نے اس کے ڈر کو دیکھ کر اسے ہنسنا سکھایا تھا ۔۔۔۔پتہ نہیں کب کیسے میں اسے پسند کرنے لگا۔۔۔۔پھر وہ میرے لیے اتنی اہم ہوگئی تھی ۔۔اس کی غلط حرکت کی وجہ سے بھی مجھ اسے نفرت نہیں ہوئی تھی وہ یہ کہہ کر بے بس دکھائی دینے لگا تھا۔۔۔۔
حسنال اٹھو تمھاری طبعیت خراب لگ رہی ہے ۔۔۔بیڈ پہ جا کہ لیٹ جاؤ۔۔۔ اس بارے میں بعد میں بات کریں گے ۔۔۔وہ اس کی باتوں کو اگنور کرتی پہلے خود اٹھی تھی اور پھر اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا اور سہارا دے کر بیڈ تک لے کر آئی تھی ۔۔۔
اور اس کو بیڈ پہ بیٹھاتی ہوئی بولی تھی ۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ پکڑے لیٹ گیا تھا۔۔۔
وہ اس کی حالت کو دیکھ کر اس کے سیاہ بالوں میں انگلیاں چلاتی رہی ۔۔۔۔حیرت کی بات تھی کہ وہ سوگیا تھا ۔۔۔
آج وہ پھر سے آسماں سے زمین پر گری تھی آج پھر اشنال بازی لے گئی تھی آج پھر وہ جیت گئی تھی آج پھر منال رشتوں کے بازی ہار گئی تھی وہ ساری رات اس کے سرہانے بیٹھی رہی ۔۔۔۔گم صم سی پریشان سی۔۔۔ اس کی ادھر کوئی جگہ نہیں تھی ۔۔۔وہ اپنی حرکتوں کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں بہت مس فٹ تھی ۔۔۔
ابھی تو حسنال کو پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔کہ اشنال بے قصور ہے س دن اسے پتہ لگنا تھا اس دن منال کی اس گھر میں کیا حسنال کی زندگی میں بھی کوئی جگہ نہیں رہنی تھی ۔۔
اس نے اپنی بے عقلی کی وجہ سے اپنا بہت بڑا نقصان کرلیا تھا اس کی ایک ہی پانچ سے بائیس سالہ زندگی میں بس ایک ہی خواہش تھی کہ اس نے اپنی بہن کو منہ کے بال گرانا ہے لیکن وہ خود اس میں جاگری تھی۔۔ اس کی ایک خواہش اسے کھاگئی تھیں ۔۔۔۔ وہ ایسی بہن تھی جس کو بہن کی خوشیوں میں کیا گیا حسد اسے کھا گیا تھا۔۔۔سب سے بڑھ کر اسکی خواہشیں اسے کھاگئییں تھیں۔۔۔
****
امام غزالی نے فرمایا جانوروں میں خواہش ہوتی ہے عقل نہیں ہوتی۔۔۔۔!
فرشتوں میں عقل ہوتی ہے مگر خواہش نہیں
انسان میں عقل اور خواہش دونوں ہوتی ہیں اگر عقل خواہش پر غالب آجائے تو انسان فرشتہ اور اگر خواہش عقل پر غالب آجائے تو انسان جانور۔۔۔۔۔۔
اور حقیقت تو یہ ہے انسان خواہشوں کی تکمیل میں بھاگتے ہیں وہ پوری زندگی خواہشوں میں اتنا آگے چلے جاتے ہیں کہ ان کی راہ میں انتظار کرتی زندگی بہترین کرنے کے عمل میں پیچھے رہ جاتی ہے ۔۔۔
انسان ہر چیز کی خواہش کرتے ہیں۔۔۔۔۔! اور موت بس ان کی خواہش کرتی ہے۔۔وہ لاحاصل چیزوں کے پیچھے بھاگتے ہیں جب موت ان کو حاصل کرنے کےلیے منڈلاتی رہتی ہے کسی بے رحم چیل کی طرح
******
لبے شرم لڑکی یہ تمھارے بیگ سے ہی نکلا ہے۔۔۔۔۔میم ثنا اس کے سر پہ کھڑی تشویش کر رہیں تھیں۔۔۔۔
اشنال کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔آج کلاس میں چیکنگ ہونی تھی پوری کلاس میں خاموشی تھی۔۔۔۔وہ جو سارا کے ساتھ بیٹھتی تھی آج سارہ کالج میں نہیں آئی تھی اس کی ننھا سا دل دھڑکنے لگ پڑا تھا وہ پہلے حیرانگی سے دیکھتی رہی سے سمجھ نہیں آیا تھا کیا ہوا ہے لیکن سفید کاغز پہ لکھے پہلے تو وہ صدمے میں چلی گئی تھی۔
۔۔مم۔۔۔میم ۔۔۔۔ی۔۔۔یہ مم۔۔۔میرا نہیں ہے۔۔۔یہ ۔۔۔ممم۔۔میں نہیں لکھا۔۔۔۔قسم سے میں سچ کہہ رہی ہوں وی ایک دم سے حرکت میں آئی تھی۔۔۔۔وہ آنکھوں کے آنسوؤں پونچھتے ہوئے بولی۔۔۔
جھوٹ بولتی ہو ۔۔۔۔بکواس کرتی ہو۔۔۔۔۔میم ثنا تھوڑی سی ایجنٹ تھیں۔۔۔۔۔اس کے بیگ سے نکلا کاغذ اور اس میں لکھی لائنیں پڑھ کہ انہیں پہلے ہی غصہ آیا ہوا تھا انہوں نے آؤ نہ دیکھا تاؤ ۔۔۔۔اس کے بالوں سے کھنیچ کے اس کے منہ پر تھپڑ مارے تھے۔۔۔
تم جیسی لڑکیاں ہوتی ہے کو عزت کے نام پہ دھبہ ہوتی ہے ماں باپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہو۔۔۔وہ جو ساری زندگی اپنی برباد کر دیتے ہیں تم لوگوں کی خوشیوں کی خاطر۔۔۔اور تم جیسی اولاد کو خیال نییں ہوتا۔۔
مم۔؟میم میں نے نہیں کیا۔۔۔۔بے شک آپ دیکھ لیں۔۔۔وہ رونے لگ پڑی تھی۔۔۔اس کی تذلیل پہ پوری کلاس کے چہروں پر تمسخر آمیز ہنسی تھی۔
روؤ مت تمھارے کالے کرتوت سب نے دیکھ لیے۔۔۔۔!
میم۔۔۔۔۔خبر دار ایک لفظ بھی اور میرے کردار کے بارے میں بھول جاؤں گی کہ آپ کا مقام کیا ہے۔۔۔۔
وہ ان کی فضول باتیں نڈر ہوتی بولی تھیں وہ آج پہلے والی اشنال نظر آئی لڑتی جھگڑتی اپنے حق میں بولنے والی۔۔۔۔
ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری۔۔۔۔یہ کاغذ تمھارے بیگ سے نکلا ہے پھر بھی مجھے جھٹلا رہی اور بدتمیزی بھی کر رہی ہو ۔۔۔۔!
وہ پھر سے اس کے منہ پر زور دار تھپڑ مارتی ہوئی بولیں تھیں ۔۔۔
میم بدتمیزی پہ آپ نے مجھے مجبور کیا ہے۔۔۔۔۔ ! جب میں نے کہا تھا ۔۔۔کہ یہ میں نے ۔۔۔۔!
دفعہ ہو جاؤں کلاس سے باہر۔۔۔۔تم جیسی لڑکیاں ہوتی ہیں جو ادارے اور ماں باپ کا نام خراب کرتی ہیں ۔۔۔لیکن میں تمھاری یہ حرکت تمھارے ماں باپ کو بتا کہ رہوں گی ۔۔۔۔!
تمھاری اس کی گئی شرمناک حرکت کا قصہ سر ناظم کے پاس جائیگا پھر سر ناظم بتائیں گے کہ تم جتنی سسی ساوتری بن رہی ہو اتنی ہو نہیں ۔۔۔۔! میں تمھارے گھر کال کرواؤں گی آخر کو تمھاری یہ بہیودہ حرکت تمھاری ماں باپ کو پتہ چلنی چاہیے ۔۔۔۔۔۔!ان کی آنکھوں پر سے تو یقین کی پتی ہٹے نہ۔۔۔۔
وہ اس کالج کے پرنسپل کا حوالہ اور اس کو دھمکی دیتی جانے لگی تھی۔۔۔۔
میم ۔۔۔۔میم۔۔۔۔وہ ان کے پیچھے پریشان حال سی لپکی تھی ۔۔۔۔میم سوری۔۔۔۔وہ ڈور سے نکلیں اس نے اسے پکارا تھا۔۔۔۔
میم۔۔۔۔م۔۔پلیز کسی کو مت بتائیے گا میری عزت پہ حرف آئے گا میں سب کے سامنے بدنام ہوجائے گی ۔۔۔۔پلیز میم اللہ کی قسم ۔۔۔یہ ممم۔۔میں نے نہیں کیا۔۔۔
یہ سب کچھ کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا اب بڑا بدنام ہونے سے ڈر رہء ہو ۔۔۔۔تمھاری بدتمیزیوں کا جواب تمھیں کل ملیں گاجب کل تمھارے گھر سے کوئی آئے گا۔۔۔!
وہ سنگدل عورت یہ کہہ کر چلی گئی تھی جبکہ پیچھے اشنال ان کی دوسری کلاس ہونے سے پہلے ان کے پیچھے گئی تھی اسے اپنے بے عزت ہونے کا ڈر تھا اگر روشنال کو پتہ چل گیا۔۔۔اس کے آگے ڈر سے وہ کچھ سوچ نہ سکی تھی ۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔
اس کالج میں اس کے سرپرست تو روشنال تھا کیونکہ ایڈمیشن تو اس نے کروایا تھا اور ریکارڈ لسٹ میں فون نمبر بھی اسی کا تھا۔۔۔۔وہ روتی رہے گئی تھی اس شخص کو جب پتہ چلے گا وہ غلط تو اسے کہہ گا نہ۔۔۔۔۔یہ سوچ آتے وہ کانپ اٹھی تھی۔۔۔۔وہ سوچتی رہ گئی یہ خط آیا کہاں سے ۔۔۔!
اس ظالم عورت کے بال کھنیچنے سے سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔وہ مرے مرے قدموں سے کلاس میں واپس آئی تھی جبکہ لڑکیاں اس کو آتا دیکھ کر ہنسنے لگی تھی ۔۔۔
وہ اپنی چئیر پہ پریشان بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔
*******
اس کو گھر آئے تین گھنٹے ہوگئے تھے ۔۔۔اس نے ابھی تک یونیفارم چینج نہیں کی تھا۔۔۔!
بس پریشان سی بیٹھی اپنی اگلی اور پچھلی زندگی کا موازنہ کر رہی تھی ۔۔۔
جہاں ماں باپ کی محبت سوچ کر اس کے چہرے پہ ہنسی آتی وہاں رشتوں کی تلخیاں اس کو رولا رہی تھیں ۔۔
وہ پریشان سی اپنی زندگی کے بارے میں سوچتی رہی ماں باپ کے مرنے اس کی زندگی میں روشنال کے علاوہ اس کو ایسی یاد نہیں دیا تھا اس کی زندگی میں کوئی لمحہ اچھا نہیں تھا۔۔۔۔
اور نکاح کے بعد جو دکھ اسے روشنال نے دیا وہ اس کے بارے میں سوچتی رہی لیکن وہ بھی اس رات اس کی ذات کو تار تار گیا تھا اس کی باتیں اس کے دل ، اس کے رویہ اسے بھولتا نہیں تھا کسی انی کی طرح اس کے دل میں چبھا ہوا تھا وہ بھول نہیں سکتی تھی
وہ اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ تو تب کرتی نہ جب اس کادل مضبوط ہوتا۔۔۔۔
وہ اندر سے رشتوں کی خودغرضیوں میں نہائی تلخیوں سے بھرپور لڑکی تھی اس کی زندگی بس نام کی زندگی تھی۔۔۔۔
مغرب کی اذان ہوئی تو وہ ساری پرانی یادوں سے پیچھا چھڑاتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہوکر رہنا تھا وہ اسے جھٹلا نہیں سکتی تھی اب بس اسے کل کالج میں جانے سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔
روشنال کی مار سے اس کے غصے سوچ کر وہ سہمی ہوئی تھی لیکن پھر کچھ سوچتی اپنے دھڑکتے دل کو سنھبالتی نماز کےلیے اٹھی تھی ۔۔۔
نماز پڑھ کے کچھ تسبیحات مکمل کرکے اٹھی اور نماز ادا کرکے کچن میں چلی آئی جو اس کی روز کی روٹین تھی
******
روشنال یار آجا کسی اچھے سے ڈھابے چائے پیتے ہیں ۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ بند کرکے بیگ میں ڈال رہا تھا گھر جانے کےلیے۔۔۔۔!
جب فرقان ضیاء نے ڈور ناک کرکے اسے پکارا تھا۔۔۔
اوکے چلتےہیں ۔۔۔یہ کہہ کر اس نے بیگ پیچھے اٹھایا تھا اور اس کے ساتھ نکلا تھا۔۔۔
وہ اس کے ساتھ نکلا تھا ۔۔۔اور پھر دونوں ڈھابے میں آکہ گھپ شپ لگانے لگے ساتھ میں چائے پینے لگے ۔۔۔
بھابی تیرے ساتھ خوش تو ہیں نہ ۔۔۔۔وہ اس پہ نگاہ ڈالتا مشکوک سا بولا تھا۔۔۔
ہوں۔وہ محض ہوں میں سر ہلاتا بولا تھا۔۔۔
بیٹا تیرے چہرے سے پتہ چل رہا ہیں وہ تو خوش ہیں پر تو خوش نہیں ہے۔۔۔۔وہ اس کے چہرے کے بگڑے تاثرات نوٹ کرتا طنزیہ لہجہ لیے بولا تھا ۔۔۔
یار وہ میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔۔۔میں اسکے پاس سے بھی گزروں تو اس کے لہجے میں حقارت ہوتی ہے ۔۔۔میں اس کی طرف دیکھوں بھی تو اس کا بس نہیں چلتا میری آنکھیں نکال لیں۔۔۔۔میں اس کی ذات کو ڈسکس نہیں کر رہا تیرے ساتھ ۔۔۔۔لیکن جگر صاف بتاؤں ۔۔۔۔۔
وہ اب مجھ سے کنارہ کشی کرنا چاہتی ہے۔۔۔!
میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔لیکن وہ میرے ساتھ رہنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔روشنال دھیما لہجہ لیے بولا تھا ۔
یہ بات تجھ سے خود بھابی نے کہہی ہے ۔۔۔وہ چائے کی آخری چسکی لیے بولا ۔۔۔۔!
اس کی آنکھوں نے بتائی ہے۔۔۔۔ وہ چائے کے کپ کے ساتھ ہلکے سی انگلی بجاتے اذیت ناک لہجے میں بولا ۔۔۔
جیسے اپنا درد چھپانا چا رہو ۔۔۔۔!
میرے سامنے تو تو رانجھا بن جاتا ہے۔۔۔۔ذرا یہ بے قراری بھابھی کو دکھا ۔۔۔۔۔وہ اس کو ڈانٹتا ہنس کر بولا تھا۔۔
یار میں ہوں ہی ایسا۔۔۔۔مجھ سے میٹھے لہجے میں بے قراری نہیں دکھائی جاتی اور یہ مٹھاس میری زندگی کا حصہ نہیں ہے۔۔۔وہ بے بس سا بولا تھا۔۔۔
تجھے پتہ ہے ۔۔۔۔۔! میری شادی کو گیارہ سال ہوگئے ہیں چھٹے سال میں ایک دن میں نے تیری بھابھی کو غصے میں تھپڑ مارا تھا اس ایک بدلے کے تھپڑ میں وہ پورا مہنیہ میکے رہی تھی ۔۔۔ میرے سالوں نے علحیدہ سے بے عزت کیا ۔۔۔سسر نے تو اتنی عزت کی کہ آج تک بھول نہیں سکتا ۔۔۔لیکن پھر بھی وہ اس تھپڑ کو نہیں بھولی۔۔۔!
وہ ابھی تک اس تھپڑ کے بدلے لیتی ہے۔۔۔۔وہ اس ایک تھپڑ کونہیں بھول پا رہی ۔۔۔۔حقیقت تو یہ ہے ان عورتوں کو نرمی سے پتھر پھول لگتا ہے اور غصے سے مارا گیا پھول بھی پتھر لگتا ہے وہ بھول نہیں سکتیں۔۔۔۔!
عورتیں میٹھے لہجوں کی محبوب ہوتی ہے ان کو نرمی سے چلانا پڑتا ہے سختی سے بات کرو تو وہ ٹوٹ جاتی ہیں عورت اپنے شوہر پہ ہی غصہ کرتی ہے۔۔۔اس کے سامنے روتی ہے۔۔۔اپنا آپ اس سے منواتی ہے سچ بات میں تیری بھابی سے نہیں ڈرتا اس کی ناراضگی سے ڈرتا ہوں۔۔۔اور عورت بھی لڑ جھگڑ کر اپنا آپ منواتی ہے اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کا شوہر اس کی بات سنے گا سمجھے گا ۔۔۔۔! کیونکہ اسے اس پر مان ہوتا ہے پر تُو میری بات نہیں سمجھے گا۔۔۔۔!
یار قسم سے تیری کہانی سن مجھے رونا آگیا ہے پر پہلے فون اٹھالے پھر مجھے لیکچر دے لینا۔۔۔۔۔اپنے اس لیکچر کے چکر میں یہ ہی بھول گیا کہ پچھلے پانچ منٹ سے تیرا فون بج رہا ہے۔۔۔
روشنال کو اس کی باتیں دل میں کبُھتی ہوئیں محسوس ہوئیں تھیں پر اس نے مذاق میں ٹال دیا تھا۔۔۔کچھ دیر میں وی اس کے ساتھ ہی گھر کےلیے نکلا تھا ۔۔۔۔
********
وہ آج نارمل موڈ میں گھر آیا تھا۔۔۔۔! لیپ ٹاپ کمرے میں رکھتا وہ باہر لاونج میں آکہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
کچن میں سے کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو آرہی تھی لیکن وہ کچن میں کہیں نہیں تھی ہمیشہ کی طرح غائب تھی ۔۔۔۔
اسے پتہ تھا وہ نمازِ عشا پڑھ رہی ہوگی۔۔۔! اس لیے خاموش سا صوفے پر اپنے بازؤں کو سر کہ پیچھے دے کر لیٹنے والا انداز میں بیٹھا اور آنکھیں موند لیں تھیں ۔۔۔
اس کی ایک جھلک دیکھنے کےلیے وہ باہر بیٹھا ہوا تھا لیکن وہ تھی نکلنے کا آنے ہی نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
کچھ سوچتا وہ اٹھا تھا۔۔۔۔اور اس کے روم میں چلا آیا تھا۔۔۔جو نماز پڑھ کہ فارغ ہوئی تھی اس کو اندر آتا دیکھ کر بھنوئیں چڑا گئی تھی۔۔۔
آپ کو ناک کرکے آنا چاییے تھا ۔۔۔۔ایسے کسی کی اجازت کے بنا اندر نہیں آنا چاہیے ۔۔۔۔وہ نماز کو تہہ کرتے ہوئی سنجیدگی سے بولنے لگی تھی ۔۔
اوہ۔۔۔۔ہیلو۔۔۔۔۔محترمہ ۔۔۔۔کسی کا تو کہہ سکتا ہوں کہ ناک کرکے جانا چاہیے ۔۔۔لیکن تم میری بیوی ہو۔۔۔۔!
تم میری زندگی میں بنا دستک کہ گھس آئی ہو۔۔۔میں بڑی مشکل سے تمھیں قبول کر رہا ہوں۔۔۔۔ اسکے لہجہ میں شرارت تھی۔۔۔
تو دے دیں طلاق نہ کریں قبول۔۔۔۔۔وہ پھٹ پڑی تھی صبح کے واقعہ کو سوچ کر وہ پہلے ہی پریشان تھی اب اس کی اس بات پہ وہ برادشت نہیں کر پائی اور بول پڑی تھی اپنی ذات کی تزلیل پہ آنکھوں سے آنسو نکلے تھے۔۔۔
مذاق کر رہا ہوں یار۔۔۔۔۔ہر وقت خفا خفا کیوں رہتی ہو۔۔۔؟ وہ اس کے روئے روئے گلابی چہرے کو دیکھ کر مبہوت ہوکر رہ گیا تھا اور اس کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
آپ کےلیے کھانا بنا دوں۔۔۔۔۔بھوک لگ رہی ہوگی نا آپ کو۔۔۔؟
وہ اس کو اپنی طرف آتا دیکھ کر یہ کہہ کر سنجیدگی سے باہر نکل گئی تھی ۔۔
جبکہ روشنال اس کے ایسے رویے پہ لب بھینچ کر رہ گیا تھا اور دروازے کی طرف دیکھنے پڑا تھا جہاں سے وہ گزر کے گئی تھی۔۔۔
*****
وہ فریش ہوکر کچن میں چلا آیا تھا اور آہستگی سے چلتا ٹیبل پہ بیٹھ گیا تھا روشنال اس کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔جس کا ڈوپٹہ تو ہر وقت اس کے چہرے پر ہوتا تھا۔۔۔اس نے ایک منٹ بھی اسے مڑ کر نہیں دیکھا تھا اس کی خاموشی اسے کھل رہی تھی۔۔وہ ایسی خاموش تو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ سالن اور چپاتی اس کے منہ کے آگے رکھتی ہٹ گئی تھی۔۔۔
یہ نئے سٹائل کا ڈوپٹہ کہاں سے سیکھا ہے ۔۔۔۔ایسے لگتا ہے جیسے کالج میں شوہروں سے پردہ کروانے کا طریقہ بتاتے رہیں آج۔۔وہ ایک طرف سے ڈھکے گال کو دیکھتے ہوئے بولا تھا ۔۔۔
اس کی خاموشی کو توڑنے کی خاطر لطیف سا طنز کرگیا تھا۔۔۔
وہ اس کے طنز پر کچھ نہیں بولی تھی اس نے گال اس لیے چھپایا تھا کہ وہ اس کے چہرے پر ٹھپڑوں کے نشان نہ دیکھ لے۔۔۔۔! کیونکہ میم ثنا نے اسے جنگلیوں کی طرح مارا تھا۔۔۔۔ان کے بیلز کے نشان اس کے گال پر تھے۔۔۔!
ادھر آکے کھانا کھاؤ میرے ساتھ۔۔وہ اس کو برتن سمیٹتا دیکھ کر اس سے بلوایا تھا۔۔
میں کھا چکی ہوں۔۔۔آپ کھالیں۔۔۔۔! وہ جھوٹ تو بول گئی تھی ۔۔۔کیونکہ اسے پتہ تھا وہ شخص زبردستی بھی اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر کھلائے گا۔۔۔
اس کے بعد وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگا اور اس نے ساس پین میں پانی رکھا تھا چائے بنانے کےلیے۔۔۔
اچھا بات سنو۔۔۔مجھے چائے میرے کمرے میں دے آنا میرا کام پینڈنگ پڑا ہوا ہے وہ کرنا ہے ۔۔۔۔!
وہ یہ کہہ کر چلا گیا تھا۔۔۔جبکہ پیچھے اشنال گہری سانس لیتی چائے کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
دس منٹ میں وہ چائے لے اور ناک کیا تھا اس کی اجازت پاکر وہ اندر آئی جو بہت ہی بزی دکھائی دے رہا تھا۔ چائے رکھ کر جانے لگی جب وہ بولا تھا۔۔۔
آج تمھارے کالج سے فون آیا تھا۔۔۔۔کل بلوایا ہے کالج میں کوئی میٹنگ وغیرہ تو نہیں ہے۔۔۔۔۔!
وہ اس پہ لیپ ٹاپ سے نظریں اٹھا کر گھمبیر بھاری لہجے میں بولا تھا۔۔۔
ججج۔۔۔۔جی۔۔۔وہ حیرانگی سے کانپپتا دل لیے مڑی اور اسے دیکھا ۔۔۔۔
اشنال بخت کی بھاری مگر گھمبیر آواز سن کر اس کا ننھا سا دل خوف سے کانپا تھا۔۔
اس کا سر جو پہلے ہی گھوم رہا تھا۔۔۔۔! اس کی بات سن کر وہ اپنا سر ہاتھوں میں تھام گئی تھی اس سے پہلے وہ گرتی روشنال بخت جلدی سے بیڈ سے اٹھا ۔۔۔۔
اس کی اڑتی رنگت دیکھ کر اس نے اسے بازوؤں میں تھام لیا تھا۔۔۔!
اشنال۔۔۔۔اشن۔۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔
اس کے چہرے کو تھپکتا اسے بیڈ پہ بیٹھا گیا تھا وہ اس کی اڑی رنگت اسکا خوف سے پیلا پڑتا چہرہ دیکھ کر بوکھلا گیا تھا۔۔۔
اس کو پانی پلایا ۔۔۔۔۔۔تاکہ اس کے چہرے کی رنگت بحال ہو۔۔۔وہ سمجھ نہیں پار رہا تھا۔۔۔وہ ڈر کیوں رہی ہے۔۔۔
اب ٹھیک ہو۔۔۔۔اسکی تھوڑی سی بہتر حالت دیکھ کر وہ نرم لہجے میں بولنے لگا تھا۔۔
پلیز۔۔۔۔۔چھوڑیں مجھے ۔۔۔مم۔۔۔میں نے سونا ہے۔۔۔!۔۔۔۔وہ عجیب سا ہیجان لہجے لیے بولی تھی ۔۔
آج ادھر ہی سو جاؤ ۔۔۔میں صوفے پر سو جاؤں گا۔۔۔وہ اس کی تھکے چہرے پر نگاہیں ڈالتا بولا ۔۔۔۔
نن۔۔۔نہیں میں نے اپنے روم میں سونا ہے۔۔۔۔وہ کترا کر اس کی گرفت سے نکلنے کےلیے مچلی تھی۔۔۔
میں کیا بکواس کر رہا ہوں۔۔۔۔۔! نرمی کی زبان تو سمجھنا تم پہ گناہ ہے ۔۔۔لیٹ جاؤ سکون سے نہیں کہہ رہا کچھ تمھیں۔۔۔۔محافظ ہوں تمھارا لُیٹرا نہیں۔۔۔۔
اپنی سرد آنکھیں اس پہ جمائے اتنی سختی سے بولا اشنال کانپ کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
چلو سوجاؤ۔۔۔۔اس کو کانپتا دیکھ کر اب کی بار نرمی سے بولا اور اسے بیڈ پہ لٹاتا اس پہ کمفرٹ اڑا کہ خود صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔۔
جبکہ اشنال اس کے پل پل بدلتے لہجے کو دیکھ کر اندر سے بہت خوفزدہ تھی وہ لیمپ کی لائٹ کو آن کرتا اور کمرے کی لائٹ آف کرتا لیپ ٹاپ سنھبالتا صوفے پر لیٹ گیا تھا۔۔
اشنال پریشانی سے اس کو دیکھتی رہی تھی جس نے اپنی آنکھیں موندی ہوئییں تھیں۔۔۔جبکہ اسے پتہ تھا اس کی ساری رات بے چین گزرنی ہے وہ غلط نہیں تھی ارگرد ماحول میں بسنے والے لوگ غلط تھے۔۔۔ وہ پریشان تھی وہ شخص اس کے سامنے تو تھا لیکن اس کے پاس نہیں تھا اسے اس شخص کی ضرورت تھی لیکن وہ اپنی عزتِ نفس کو قائم رکھنے والی لڑکی تھی۔۔۔۔وہ کبھی اسے سے یہ نہیں کہہ سکتی تھی۔۔۔۔آؤ میری زندگی خزاں زندگی میں خزاں کے پھول لگاؤ۔۔۔۔حالانکہ اسے پتہ تھا اس شخص کی آنکھوں میں اسے محبت نظر آتی تھی۔۔۔
؎ بڑی بے اماں سی ہے زندگی
اسے بن کے کوئی پناہ ملے
کوئی چاند رکھ کر میری شام پر
میری شب کو مہکا کر گلاب کر
کوئی بدگماں سا وقت ہے۔۔۔۔![]()
کوئی بدگماں سی دھوپ ہے
کسی سایہ دار سے لفظ سے
میرے جلتے دل کا حجاب کر![]()
پورے دن سے سوچ سوچ کر اس کا دل گبھرایا جا رہا تھا
اس کا دل بند ہونے لگا تھا اس نے ڈوپٹہ اتار کہ ساتھ رکھ دیا تھا۔۔۔پھر بھی جلتے دل کو سکون نہیں آرہا تھا اسے بس یہ ہی خوف کھائے جارہا تھا کہ جب روشنال کو پتہ چلے گا وہ تو اسے جان سے مار ڈالے گا۔ ۔۔
وہ اضطرابی کی کیفیت میں اٹھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔لیکن سکون نہیں ملا تو پھر لیٹ گئی تھی وہ بے چین تھی لیکن اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔وہ بار اٹھ کر بیٹھتی اور بار بار لیٹتی ۔۔
روشنال کی آنکھ کھلی تو اسے بے چین دیکھ کر وہ بے سکون ہوگیا تھا وہ مسلسل ایک گھنٹے سے لیٹتی اور بیٹھتی روشنال تب سے دیکھ رہا تھا اب وہ لیٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔اس سے سمجھ نہیں آرہی تھیں کہ اس کی بے چینی کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔اس نے جو بازوؤں آنکھوں پہ رکھے تھے وہ سینے پہ باندھ لیے اور اسے دیکھنے لگ پڑا ۔۔۔
اشنال جو اپنی سوچوں سے نکلی اس کی طرف دیکھا تو دیکھا تو دھک سے رہے گئی تھی وہ بھی اسی ہی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ایک لمحے میں دونوں کی نظریں چار ہوئیں تھیں ۔۔۔۔! اشنال کی نظر لمحے بھر کو اس کی نظروں سے ملی تھی۔۔
کرب۔۔۔نارسائی ، دکھ ، پریشانی ، بےبسی کیا کچھ نہیں تھا اس کی اُس ایک نظروں میں۔۔۔۔۔وہ اسے شروع سے جانتا تھا۔۔۔
اس کی نگاہوں سے تقاضوں سے خائف ہوتی وہ
فی الفور اپنی نظروں کو بدل گئی تھی اس کی ڈراج بروُان آنکھوں میں معنی خیز سی چمک تھی۔۔۔۔۔۔یکدم ہی جیسے اپنے اور اس کی بیچ رشتے کا احساس جاگا تھا۔۔۔
وہ اور مضطرب ہوتی نگاہیں پھیرگئی تھی ۔۔۔۔!
خاموشی کا گہرا احساس ان دونوں کے بیچ تھرتھرانےلگا۔۔
اس کی نگاہوں کو دیکھ کر اس کا دل خدشات کی زد میں آکہ دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔
Episode 22
وہ اس کو مسلسل کروٹیں بدلتا دیکھ رہا تھا جو بہت ہی بے چین لگ رہی تھی..جیسے اس کو کوئی غم رہا ہو اور وہ بتا نہ پا رہی ۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھتا وہ کروٹ بدل گئی روشنال کی طرف اس کی پشت تھی ۔۔۔
وہ اس کو بے چین دیکھتے اٹھا اور میانہ روی سی چال چلتا اس کے پاس آکے بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا۔۔۔
آؤ تہجد ادا کرلیں ۔۔۔۔۔اور کے سر پر انگلیاں چلاتے ہوئے وہ
مدھم سی آواز بولی تھی۔۔۔۔
اس کی انگلیاں اپنے بالوں پر پھیرتے دیکھ کر پہلے تو ڈری تھی اس کا دل کیا کہ جھٹک دے لیکن اس کے اگلے الفاظ اس کی روح میں چاشنی اتار گئے تھے ۔۔۔۔
جی۔۔۔۔۔میں وضو کر آؤں ۔۔۔۔یہ کہہ وہ آہستگی سے اس کے بالوں سے اس کے ہاتھ کو ہاتھ کو ہٹاتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔۔۔
وہ وضو کرنے چلی گئی تھی وہ پیچھے بیٹھا اس کی بے چینی کی وجہ سوچنے لگا تھا بے شک وہ اسے جتنی بھی بدتمیزی کرتی پر اب وہ اسے اپنی جان سے بھی پیاری ہوگئی تھی پر وہ یہ سمجھ نہیں پارہا تھا اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔۔؟
تھوڑی بعد وہ وضو کرکے ڈوپٹہ سیٹ کرتی واپس آئی تھی۔۔۔! اس کے بعد وہ وضو کرنے چلا گیا تھا دس منٹ بعد آیا وہ اسی کے انتظار میں بیڈ پر گبھرائی ہوئی بیٹھی تھی۔۔۔!
میں جائے نماز لے آتا ہوں تمھارے روم سے وہ واپس آیا تو اس کو پھر ساکت سا بیٹھا دیکھ کر نرمی سے بولا۔۔۔اور اس کے کمرے سے جائے نماز لے آیا تھا اور سر پر وائٹ کلر کا رومال باندھا تھا۔۔
وہ رومال باندھ رہا تھا جب اشنال کی نظر اس پہ پڑھی تھی اتنی پریشانی میں بھی اپنے ہمسفر کی ڈاڑھی میں جذب ہوتا پانی کا منظر اسے کوئی اونچائی سے نظر آتا خوبصورت جھرنا لگا تھا وہ مبہوت سی ہوکر تکنے لگی تھی اور کالج میں ہو نے والے سوچ کر پریشان ہوگئی تھی
میرے ساتھ بچھاؤ وہ اس کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کر کہنے لگا ۔۔۔۔
وہ پیچھے بچھانے لگی جب اسے نے اسے ٹوکا تھا۔۔۔
جی۔۔۔۔وہ اس کے ساتھ بچھا گئی تھی دونوں توجہ سے پڑھنے لگی تھی وہ اس کی تقلید کرتی تہجد پڑھ رہی تھی اپنے ہمسفر کے ساتھ عبادت کرنے کا اپنا ہی لطف تھا ۔۔۔۔
تہجد پڑھ کہ دونوں نے ہاتھ اٹھائے تھے وہ بھی دل میں دعا مانگنے لگا ۔۔۔اشنال بھی دل میں دعا مانگتی رہی۔۔۔۔!
اے اللہ میں بے بس ہوں ۔۔۔۔میری مدد فرما۔۔۔۔اے اللہ میں ٹوٹ گئی ہوں میری مدد فرما۔۔۔اے اللہ میں تیرے فیصلوں پر راضی ہوں لیکن میری زندگی کی مشکلیں دور فرما ۔۔۔۔اے اللہ میں تجھ سے نا امید نہیں ہوں۔۔۔پر تیرے بندوں نے مجھے نا اُ مید کر دیا ہے۔۔۔مم۔۔۔۔میں اتنی پریشان دل کر رہا ہے خود کے ساتھ کچھ کرلوں ۔۔۔۔چھوٹی سی عمر میں زندگی کی الجھنوں نے مجھے تھکا دیا ہے ۔۔۔یا اللہ بے شک خوشیاں دے کہ میں مغرور ہوکر تجھے بھول جاؤں بس مجھے اپنی رحمتیں دے دیں ۔۔۔جن کا میں شکر کرتے کرتے نہ تھکوں۔۔۔
اس نے اللہ سے شکوہ نہیں کیا بس پریشانی سے اپنے رب کے ساتھ ڈوپٹہ پہ سر رکھ کے چہرہ ہاتھوں میں چھپائے روئی تھی اپنا غم اللہ کے سامنے ہلکا کیا تھا۔۔
*****
ہم شاید بھول جائیں مگر وہ رب ہمارے صبر ڪے لمحات ، وہ روتی ہوئی آنڪھیں ، وہ ڪپڪاتے ہوئے ہونٹ ، وہ سجدوں میں جھکنے والا سر اور وہ تڑپ میں رہنے والا دل ڪچھ بھی نہیں بھولتا..
رجوع الٰہی اللہ کے بغیر چارا نہیں!!
جو جتنی دیر سے لوٹے گا پچهتاوے کی گهٹڑی اتنی ہی بهاری ہو گی۔اور اس گهٹڑی کی گرہیں کهولنے کے لیے اتنے ہی زیادہ آنسو درکار ہوں گے ۔
تمہارے دکھ کی ہر ایک داستان صفحہ تقدیر پر درج ہے۔
جو نہ تو تمہارے رب سے چھپی ہوئی ہے
اور نہ وہ تمہارے غموں سے بے خبر ہے
تم اپنے حصے کی محنت جاری رکھو۔اجر تو اللہ پاک نے دینا ہے ۔۔
*****
ادھر روشنال کی آنکھوں سے آنسو تو نہ آئے تھا پر وہ بھی اپنا دل رکھے بوجھ کو ہلکا کرکے ہٹا تو تو اس کو دیکھ جو ایسے ہی جائے نماز پہ چہرے ڈوپٹہ میں لپٹے ہاتھوں میں دعا کی انداز میں پھیلائے ہاتھوں میں رکھا تھا۔۔
وہ چند لمحے اسکے سسکے وجود کو دیکھتا رہا اور پھر اسے ہاتھ بڑھا کہ اپنے حصار میں لیا تھا۔۔۔
کوئی پریشانی ہے تو ہمسفر سمجھ کر نہ سہی اپنا سپر مین سجھ کر بتا دو۔۔۔۔اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرلو۔۔۔
آج کی رات پرانے والی ایشو بن کہ کوئی ضد کرلو
۔۔۔۔میں سپر مین بن کہ پوری کر دوں گا۔۔۔! آج بس یہ سمجھ لو ۔۔۔۔کہ میں تمھارا دوست ہوں ، غمگسار ہوں ۔۔۔
وہ اس کے چہرے کو ہاتھ میں تمھتا اس کی آنکھوں کو
اپنے لمس سے معطر کرتا بولا۔۔۔۔اسے پتہ تھا کہ وہ بہت الجھن کا شکار ہے ۔۔۔۔وہ جب سے آیا تھا اس کی پریشانی گبھرائٹ کو نوٹ کر رہا تھا وہ بہت غائب دماغ لگ رہی تھی ۔۔۔
وہ پہلے اس کے حصار سے جھجکی تھی پر پھر یہ سوچ کر سکون ہوگئی تھی کہ پاک جگہ تھی، پاک رشتہ تھا ،
پاک وقت تھا۔۔۔اور اوپر سے اس کی پاکیزہ باتیں ۔۔۔اور کوئی وقت ہتا تو وہ اس کے پاس پھٹکتی بھی نہ تھی
لیکن اب اس کآ چہرہ تھوڑا سا اطمینان وہ پھر سے اس کے سینے سے سر ٹکا گئی تھی۔۔
پتہ ہے اللہ نے محرم رشتوں میں بہت طاقت رکھی ہے ۔۔۔
میں تمھارا محرم ہوں تمھارا محافظ ہوں، مانا کہ غلط فہمی میں تمھارا بہت نقصان کیا ہے ۔۔۔تمھاری روح پہ بھی داغ لگائیں ہیں ۔۔۔۔وہ نرمی سے کہتا اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے پرسکون کر رہا تھا۔۔۔!
لیکن اس کی باتیں سن کر وہ پھر سے بے سکون ہوئی تھی ۔۔۔وہ پھر سے کالج میں ہونے والے واقع کو یاد کرکے بے سکون ہوئی ۔۔۔۔اس کے حصار میں لایا گیا سکون اسے پھر سے بے سکون کر گیا تھا وہ اس کے حصار سے خود کو چھڑاتی پیچھے ہٹ گئی تھی۔۔۔۔!
*****
سجدوں میں گرنے سے پہلے ان لوگوں کو گلے لگائیں جو آپکی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہے _!!
“دل آزاریاں معاف نہیں ہوتی “
وہ اٹھ کر اس کے پیچھے آیا جو ایسے ہی بیڈ پر بیٹھی تھی وہ نرمی سے قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا اور اسے پھر سے اپنے ساتھ لگالیا تھا۔۔۔!
اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے ۔۔۔! وہ اپنی گرفت سخت کرتا ہوا بولا تاکہ وہ پھر سےاس کے حصار سے نکل نہ سکے ۔۔۔۔!
ک۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔! وہ گبھرا کر بولی تھی۔۔۔!
پھر اتنی بے چین کیوں ہو۔۔۔وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔۔۔!
ن۔۔۔نہیں۔۔تو۔میں تو بے چین نہ۔۔نہیں ہوں۔۔۔۔وہ اس کے حصار سے اور زیادہ گبھرائی تھی۔۔۔۔
پر مجھے تو لگ رہی ہو۔۔۔۔! اس کی آواز سن کر بھاری لہجے میں بولا۔۔
تت۔۔۔۔تھک گئی ہوں۔۔۔۔!وہ بوجھل لہجہ لیے بولی تھی ۔۔
کس سے۔۔۔۔۔؟
زندگی سے۔۔۔اس دنیا سے ۔۔۔۔ کھوکھلے رشتوں سے ، ان لوگوں سے ۔۔۔سب سے بڑھ کر خود سے۔۔۔ اپنے ان سگے رشتوں سے جنہوں نے مجھے وہاں آزمایا جہاں مجھے ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی ۔۔
سب نے میری امید اور مان کو توڑا ۔۔۔۔۔جیسے میں کوئی بے جان شے ہوں ۔۔۔ان سب میں آپ بھی تھے ۔۔۔!
آپ نے بھی میری امید اور مان کو توڑا ہے۔۔۔پتا ہے یہ سب مجھے اتنا تکلیف دہ لگتا ہے ۔۔۔۔جیسے زندگی کو موت آگئی ہو پھر بھی سانسیں چل رہیں ہو۔۔۔میں اپنی زندگی سے ہی تھک گئی ہوں۔۔۔۔وہ اس کی آغوش میں پرسکون نہی تھیں ۔۔۔!
اگر میں اس تھکن کو سمیٹ لوں تو۔۔۔۔؟ وہ اس کو اس طرح نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔!
نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔! وہ اور وحشت زدہ ہوتی پیچھے ہٹی تھی اور بھاگ کر روم سے نکلی تھی۔۔۔جب کہ پیچھے بیٹھے روشنال نے غصے سے بیڈ پہ مکا مارا تھا
******
یار یہ فائل سبمنٹ کروا دینا۔۔۔میں نے آج دس بجے نکلنا ہے
وہ رات کو بنائی گئی اسائمنٹ کی پریزنٹیشن فرقان ضیا کے حوالے کرتے ہوئے بولا تھا۔۔۔!
کیوں خیر تو ہے آج بڑا چمک دھمک رہا ہے وہ اس کی جاذب شخصیت کو دیکھتا ہوا ہنستا ہوا بول۔۔
ہاں یار اشنال کے کالج میں میٹنگ ہے وہ اٹینڈ کرنی ہے ۔۔۔
وہ اس کو جواب دیتے ہوئے بولا تھا۔۔
وہ ساری رات اسے دیکھتا رہا وہ ایسی کی ایسی بے چین تھی اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔۔۔! اس کے چہرے پر کچھ نشانات دیکھ کر وہ چونکا تھا۔۔۔!
اوکے ۔۔کوئی بات نہیں ۔۔۔بس ٹنشن نہ لے اور نہ اس بچاری کو دے۔۔۔۔آرام سے آ اور جا۔۔۔۔کئی لونگ ڈرائیو پہ بھی چلے جانا بھابھی کو لے کر۔۔۔۔فرقان نے معن خیزی سے کہتا
فائل لیتا چلا گیا تھا۔۔۔
جبکہ وہ بھی اشنال کے کالج کی طرح نکلا تھا ساڑھے نو تو ادھر ہی ہوگئے تھے۔۔۔
*****
حسنال کی آنکھ کھلی تو نو بج رہے تھے وہ جلدی سے اٹھا۔۔اس نے دس بجے نکلنا تھا رات والی تھکن غائب تھی اب اس کے لہجے میں ایک نیا عزم تھا۔۔۔
وہ اٹھا تھا جب اس کی نظر منال پر پڑھی تھی ۔۔۔۔! وہ جو بیڈ کرواؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی بیٹھی سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔!
منال ۔۔۔۔اس نے بازؤں سے پکڑ کر ہلکا سا جنجھوڑا تھا سیدھی ہو کر سوجاؤ۔۔۔اس کی ساری رات کی بے آرامی کا سوچ کر اسے اٹھایا تھا
وہ اس کی جنجھوڑنے سے ہلکی سی آنکھیں کھولتی اسے دیکھتی پھر سے سیدھی ہو کر اپنے اوپر کمفرٹ اوڑھ گئی تھی۔۔۔
جبکہ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا تھا۔۔۔اور فریش ہونے چل دیا تھا۔۔۔!
.تھوڑی دیر بعد جب فریش ہوکر آیا تو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوکر بالوں میں کنگھی کی اور لیپ اٹھانے لگا۔
اب کہاں جا رہے ہو ۔۔۔؟ وہ اسکی کھٹ پھٹ کرتی آواز سے اٹھ بیٹھی اور سوال کیا تھا۔۔
کام پہ ۔۔۔۔وہ نرمی سے جواب دے کر نکلنے لگا۔۔۔
آج میں تمھیں کئی نہیں جانے دوں گی۔۔پانچ دن بعد گھر آئے اور پانچ گھنٹے سوکر پھر سے نکل چلے ۔وہ اٹھ کر اس کے سامنے آئی اور اسے بازوؤں سے پکڑ جانے سے روکا تھا ۔۔
یار آج قسم سے کام پینڈنگ پڑا ہوا ہے بس آج جانے دیں ۔۔۔کل رات کو گھر ہی آنا ہے۔۔۔۔!
کیا۔۔کل رات کو اب تو تم بالکل بھی نہیں نکل سکتے ۔۔
آج دنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے ۔۔۔آج میں تمھیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔!
وہ یہ کہتی ڈور سے لگ کر کھڑی ہوگئی تھی اور ہاتھ پھیلا لیے۔۔۔۔!
حسنال جو پریشان سا ہوگیا تھا کہ وہ اس کو کسی بھی جانے نہیں دے رہی۔۔۔۔۔اس کے حلیے پر نظر پڑی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔! جو فیروزی کلر کے سوٹ میں بغیر ڈوپٹے بغیر چپل کے کھڑی تھی بال آگے پیچھے بکھرے ہوئے تھے۔۔ اس کے بکھرے حلیے سے اس کے فگرز عیاں ہورہے تھے۔۔۔!
قسم سے مس ہلاکو بہت ہاٹ لگ رہی ہیں ۔۔۔آپ کے اس حسن سے مکمل طور پر بہک جانا چاہتا ہوں۔۔۔میں چاہتا پوں کہ مجھے دنیا بھول جائے ۔۔۔بس آپ یاد رہیں ۔۔۔۔وہ یہ کہتا اس کے پاس آتا اس کے سر کے پاس ہاتھ رکھ کر گمبھیر لہجے میں بولا۔۔۔!
کک۔۔۔کیا۔۔۔کر رہے ہو۔۔۔۔۔! جاؤ۔۔۔۔تمھیں دیر ہو رہی ہے نا۔۔۔!
وہ اس کے چہرے کو اپنے بہت قریب دیکھتی ہوئی گبھرا کر بولی تھی۔۔۔!
نہ نہ ۔۔۔۔۔! ایسے کیسے۔۔۔۔۔آپ نے خود روکا ہے مجھے۔۔۔۔!
وہ ناک اس کی ناک سے مس کرتا ۔۔۔۔ایک ہی سیکنڈ میں اس کے حوش اڑا گیا تھا۔۔۔۔! اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔۔۔! وہ پچھتائی تھی اسے روک کر۔۔۔۔وی بگڑا شخص جب اپنی منمانی پہ آتا تو سب کچھ بھول جاتا تھا۔۔۔!
ابھی تو میں صرف قریب آیا ہوں ۔۔۔۔۔! آپ ایسے ہی لال ہو رہی ہیں ہے ۔۔۔۔!
ہائے جب میں جب آپ کو ٹچ کروں گا ۔۔۔۔پھر کیا عالم ہوگا۔۔۔۔۔۔! وہ اس کے خون چھلکاتے چہرے کو دیکھ کر معنی خیزی سے بولا تھا ۔۔۔۔!
ہٹو۔۔۔ بدتمیز ٹھرکی انسان۔۔۔۔ہر بات پہ ٹھرک جھاڑنا تو ضروری سمجھتے ہو۔۔۔! میں تو اس لیے کہہ رہی تھی کہ رات کو تم بہت تھکے ہوئے لگ رہے تھے رات کو تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔! وہ اس کو دھکا مارتی دور ہٹی تھی۔۔۔۔!
رات گئی بات گئی ۔۔۔۔! یاد رکھئیے گا میرے دو چہرے ہیں جو پل پل بدلتے رہتے ہیں۔۔۔۔! یہ کہتے ڈوپٹہ اٹھا کر اس پہ ڈالا تھا۔۔۔!
ٹائم ہوتا تو چپل بھی پہنا دیتا ۔۔۔۔پر ابھی جا رہا ہوں
اتنا ٹھرکی نہیں ہوں جتنا نظر آتا ہوں۔۔۔۔!
اللہ حافظ۔۔۔!
اس کے ماتھے پر عقیدت بھرا لمس چھوڑتا بیگ اپنے کاندھوں پہ ڈالتا اس کو ساکت چھو ڑتا نکل گیا تھا۔۔۔!
جب کہ وہ دھک دھک کرتا دل اور لال چہرے لیے بیڈ پہ بیٹھی تھی۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ ایک ماہر کباڑیہ ہے ۔۔۔۔! جو پرانی چیزوں کے بدلے میں نئے دل کو دھڑکانا جانتا تھا۔۔۔
وہ چلا گیا تھا ۔۔۔لیکن اس شضص کی خوشبو ابھی بھی اردگرد محسوس ہو رہی تھی۔
****
ملازمہ اسے آفسں میں بیٹھا کہ چلی گئی تھی وہ پیچھے بیٹھا ویٹ کر رہا تھا۔۔۔!
جب اڈھیر عمر پرنسپل سر ناظم کو اندر آتے دیکھا تھا
السلام علیکم محترم ۔۔۔۔انہوں آتے ہی کہا تھا۔۔۔
وعلیکم سلام سر ۔۔۔۔وہ چئیر سے اٹھتا مصافحہ کرتا چئیر پہ بیٹھا تھا
بیٹھیے ۔۔۔۔وہ وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے کہتے خود سیٹ پہ بیٹھے تھے۔۔۔
چائے یا کولڈرنک۔۔۔۔! انہوں نے گیسٹ کے حوالے سے پوچھا تھا۔۔۔
نو سر۔۔۔۔نو نیڈ۔۔۔۔تھینک یو ۔۔۔۔کس سسلے میں بلایا تھا آپ نے ۔۔۔!
وہ سہولت سے انکار کرتا کام کی بات پہ آیا تھا۔۔۔!
بات دراصل یہ ہے نوجوان۔۔۔۔کہ دراصل ہمارے کالج کی ریپو بہت اچھی ہے ایک نام ہے ۔۔۔!
ماں باپ بچیوں پہ ٹرسٹ کرکے یہاں بھیجتے ہیں جو بھی ایڈمیشن کرواتا ہے وہ کالج کا نام دیکھتا ہے اسکا سینڈرڈ دیکھتا ہے ۔۔۔۔لیکن میں آپ سے جو کہنا چاہ رہا تھا مجھے لگتا ہے ہمیں آپکی بہن کو ڈس مس کر دینا چاہیے۔۔۔۔اس نے جو حرکت کی ہے اس سے کالج کی اور بچیوں کو بھی شہہ ملے گئی وہ بھی اس کی طرح غلط راہ پہ چلیں گے ۔۔۔دیکھیے محترم کبھی کبھی گھر سے عدم توجہ کی وجہ سے بھی غلط راہ پہ چل پڑھتی ہیں گھر میں ان کو پیار کی کمی دی جاتی ہے ان کے ساتھ رویے مار ڈھار والے رکھے جاتے ہیں اٹھارہ سال ہوگئے ہیں میں نے اس ٹیچنگ کرئیر میں قدم رکھا ہوا ہے یہاں میں لوگوں کے چہرے اک منٹ میں پیچان لیتا ہوں کہ بچی کی تربیت کیسی ہے بچی کا خاندان حسب و نسب کونسا ہے، اس کے گھر کا ماحول کیسا ہے۔۔۔۔!
لیکن آپ کی شاندار شخصیت کو دیکھ کر لگ رہا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔! بس بچوں پر دھیان رکھنا چاہیے۔۔!
وہ لمبی چوڑی بات کی تہمید باندھتے ہوئے بولے تھے۔۔۔
سوری سر لیکن آپ کی بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔آپ کا یہ سب کہنے کا مطلب کیا ہے۔۔۔۔۔ کچھ باتیں مجھے کلیئر کریں گے ۔۔۔!
وہ ناسمجھی سے بولا تھا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی..
یہ پڑھ لیں آپ کو خود سمجھ آجائے گی۔۔۔وہ دھیمی آواز میں کہتے صفحہ پکڑا گئے تھے ۔۔۔۔!
اس پیج پہ لکھی گئی تحریر پڑھی تو اسکا دماغ گھوم گیا۔۔۔نہایت گھٹیا تھڑڈ کلاس محبت کا اظہار لڑکی نے کیا ہوا تھا لیکن ٹیڑھے میڑھے زوایے ہینڈ رائیٹنگ کے زوایے والی رائٹنگ بالکل بھی اشنال کی معلوم نہیں ہو رہی تھے ۔۔۔!
یقنناً آپ نے پڑھ لیا ہوگ ۔۔۔! اب آپ خود سوچ لیں یہ کالج میں رکھنے کے لائق ہیں جب ہماری میم نے پوچھ گچھ کی تو اوپر سے انہوں نے بدتمیزی بھی کی ہے۔۔۔!
سر ناظم اس کے چہرے کے سنجیدہ تاثرات نوٹ کرتے ہوئے بولے تھے۔۔۔!
آپ اشنال اور ان میم کو بلوا دیں گے پلیز۔۔۔۔! اشنال نے جن سے بدتمیزی کی ہے۔۔۔!
اوکے ۔۔۔اثبات میں سر ہلاتے باہر چلے گئے تھے ۔۔۔!اور پھر تھوڑی دیر بعد آئے تھے۔۔۔۔!
تھوڑی دیر گزری جب میم اور ان کے پیچھے اشنال اندر آئی تھی۔۔۔!
اشنال کی نظر جب روشنال پہ پڑی اس کی چہرے کی رنگت اڑی تھی اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔۔۔۔!
اشنال آگے آؤ۔۔۔۔میم نے سختی سے کہا تھا ان کی بات سن کر وہ سہمتی آگے آئ تھیں۔۔۔!
روشنال نے جب اسے ایسا دیکھا تو اس کا حلق تک کڑوا ہوگیا۔۔۔
ایک پیج دیں ۔۔۔۔۔اس نے سر ناظم سے کہا تھا سر نے کاغذ روشنال کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔!
ادھر آؤ اس بیج یہ ہی تحریر لکھو۔۔۔۔۔اس نے اشنال کو پکارا تھا اور اپنی پاکٹ سے پنسل نکال کر اسے تھمائی تھی۔۔۔
ج۔۔۔۔جی۔۔۔۔وہ ٹیبل کے پاس آتی اس کے ہاتھ سے پنسل لے کر لکھ کہ اس کے ہاتھ میں پیج تھما کہ پیچھے ہٹ گئی تھی ۔۔۔
اب آپ بتائیں اس رائٹینگ اور اس رائیٹنگ میں کتنا فرق ہے۔۔۔۔وہ سر ناظم کے ہاتھ میں پییج پکڑاتے ہوئے بولے۔۔۔
آپ اپنے اٹھارہ سالہ کئرئیر میں لوگوں کے چہرہ پہیچانا تو سیکھ گئے۔۔۔۔! لیکن ایک رائنٹنگ نہیں پہچان پائے مجھے بہت افسوس ہوا سر۔۔۔
لیکن کہنا صرف یہ چاہوں گا۔۔۔حقیقت دیکھنے سے پہلے ضرور جان لیا کریں ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں ۔۔۔۔
لہذا ایک رخ کو دیکھ کر الٹے سیدھے اندازے مت لگایا کریں سر ۔۔۔!
وہ ان کو شاک میں دیکھ کر بولا تھا ۔۔۔
آپ ان میم کو کسی پولیس کانسٹیبل میں جاب لگوا دیں۔۔۔وہاں یہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دیں جرائم میں اٹی خواتین کو مار کر ۔۔۔میری بیوی کو نہیں۔۔۔! اور آپ نے کہا تھا کہ یہ اس کالج میں پڑھنے کے لائق نہیں ہے ۔۔۔اتنی نااصافی دیکھ کر میرا یہ ماننا ہے کہ یہ ادارہ ہی میری بیوی کے لائق نہیں۔۔۔۔ آپ ڈس مس کریں نہ کریں میں اب خود ڈس مس کرواؤں گا۔۔۔۔میں چاہوں تو ایک سیکنڈ میں یہ کالج سیل کروا دوں ۔۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔۔!
اشنال بیگ لے کہ آؤ۔۔۔۔! اس نے اب ا شنال کی طرف دیکھ کر کہا تھا۔۔۔
وہ اٹل لہجے میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔۔جب کہ سر اور میم بولنے کے لائق رہے ہی نہیں تھے۔۔ وہ تو اسے ان کی بہن سمجھ رہے تھےلیکن شدت پسند شخص کو دیکھ وہ سہی معنوں میں گبھرائے تھے۔۔!
سوری۔۔۔۔سر آپ بیٹھیں۔۔۔۔ہم آپ سے معذرت کرتے ہیں ساتھ میں اس بچی سے بھی ۔۔۔۔!
وہ اس کی شاندار شخصیت سے متاثر ہوتے گبھرا کر بولے۔۔۔!جو سیاہ لباس میں غضب کی شخصیت کا مالک لگ رہا تھا۔۔۔
آپ کا یہ ایک لفظ اس کی ساری رات کی ذہنی تکلیف کا ازالہ نہیں کرسکتی ۔۔۔۔آپ نے میری بیوی کو اتنا مینٹلی ٹارچر کیا ہے کہ وہ بے قصور ہوکر بھی ساری رات سو نہ پائی۔۔۔!
وہ اب کی بار سارے لحاظ بھول گیا تھا۔۔۔! اشنال باہر جانے لگی جب اس شخص کے لفظوں نے اسے نئی زندگی کی نوید سنائی تھی اس بار کچھ انمول آنسوؤں اس کے چہرے کو بھگوگئے تھے اس بار اسکی آنکھوں میں آنسو خوشی کے تھے ۔۔۔۔یہ آنسو اپنی اپنی ذات کے معتبر ہونے کے تھے اسے لگا تھا کہ بھاری سلِ کا بوجھ اس پر ہٹ گیا تھا۔
وہ شخص اس کو تپتی دھوپ میں ایک گھنا درخت لگا تھا جس کی چھاؤں سے اس کے سارے جسم میں راحت پہنچی تھی ۔۔۔ایک صفحے کی وجہ سے وہ اس کی ذات کو اندھیرے میں دھکیل گیا تھا اور ایک ہی صفحے کی وجہ سے اسی ہی ذات کو فرش سے عرش پہ بیٹھا گیا تھا۔۔۔وہ سوچتی رہ گئی تھی تو کیا وہ اسے ساری رات بے چین ہوتے دیکھتا رہا تھا کیا وہ اس کے پریشانی کو بھانپ گیا تھا۔۔۔!
میم ثنا معزرت کریں ان سے ۔۔۔۔آپ کی ایک غلط فہمی کی وجہ سے بچی ٹارچر رہی ہے۔۔۔آپ پہلے اچھی طرح سے تصدیق تو کرلیتں۔۔۔۔! تو شاید اتنا بڑا واو یلا نہ بنتا ۔۔۔یہ محترم اپنا قیمتی وقت نکال کہ یہاں آئے ہیں۔
پر سر وہ پیج تو اشنال کے بیگ سے ہی نکلا ہے ۔۔پھر میں کیوں معافی مانگوں۔۔۔میم ثنا سر ناظم اور روشنال کی طرف دیکھتی ہوئی بولیں تھیں۔۔۔
میں جو کہہ رہا ہوں وہ کریں۔۔۔۔اب صفائیاں دینے کا کوئی مقصد۔۔۔آپ پھر بھی خود کو ڈیفینڈ کر رہی ہیں ۔۔۔۔!
پر ۔۔۔۔۔سر۔۔۔۔۔!
آپ معافی مانگ رہی ہے یا پھر مجھے آپ کو کالج سے ڈس مس کرنا پڑے گا۔۔۔وہ اب کی بار سختی سے بولے تھے۔۔۔!
سوری سر۔۔۔مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔میں بہت بہت معزرت کرتی ہوں اگر آپ کہتے ہیں تو میں اشنال سے بھی سوری کرلیتی ۔۔۔۔۔مجھے یہ بات آفس میں کرنے سے پہلے سوچنی چاییے تھی۔۔۔انویسٹگشن کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔
میں پھر سے معزرت کرتی ہوں۔۔۔
میم ثنا سر ناظم کے سخت تاثرات سے ڈرتی معذرت کر گئیں تھیں ۔۔۔
اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے محترمہ۔۔۔۔میں عورتوں کی بہت عزت کرتا ہوں ۔۔۔۔! بس مجھے غصہ تھا۔۔۔۔ کیونکہ میری بیوی کا کردار گرا ہوا نہیں ہوسکتا ۔۔۔۔!
یہ یقیناً پہلی اور آخری بار ہے کہ میں اس گھٹیا الزام کی وجہ سے کالج آیا ہوں ۔۔آئندہ ذرا احتیاط کیجئے گا۔۔۔ !
اوکے ۔۔۔۔میم ثنا اب آپ جاسکتی ہیں ۔۔۔!سر ناظم نے کہا تھا۔۔
روشنال صاحب بیٹھیے۔۔۔۔! میم ثنا چلی گئی تھیں جب وہ اس کو کھڑا دیکھ کر بولے تھے ۔۔۔۔!
آپ آج بچی کو لے جائیں ۔۔۔۔۔ جب تک وہ خود کالج نہ آنا چاہیں بے شک انہیں فورس نہ کریں ۔۔۔۔! مجھے بھی لگتا ہے ان کو کچھ دن سکون سے رہنا چاہیے ۔۔۔!
وہ آرام سے کہتے اسے پرسکون کر چکے تھے۔۔۔۔۔!
اشنال بیگ لے کہ آئی تو اس شخص چبھتی نگاہیں دیکھ کر مزید خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔۔۔! اسے پتہ تھا وہ کیوں گھور رہا تھا وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ اس کے اتنے فورس کرنے پر بھی نہ بتا پائی تھی۔۔۔۔! لیکن وہ اس کے ہونے والے شدید رئیکشن سے انجان تھی اس کے آنکھوں کہ تاثرات بتا رہے تھے کہ اس ستمگر کو اس پر بہت غصہ ہے۔۔۔۔!
