Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Episode 28)Part 1,2
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Episode 28)Part 1,2
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
سوری مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا میں نے تمھارے لیے غلط الفاظ استعمال کیے ہیں سوری مجھے ایسا بالکل بھی نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔
وہ اس کے کندھے پر دباؤں ڈالتا اس کی بدلتی طبعیت کو دیکھتا گبھرا کر بولا تھا…
مم۔۔۔۔میں جتنی بھی غلط تھی لیکن مم۔۔۔۔میرا کردار ای۔۔۔ایسا گھٹیا نہیں تھا۔۔۔م۔۔۔سچ میں نے کسی کو نہیں ورغلایا تھا کسی کو نہیں اپنی جانب مائل نہیں کیا ۔۔۔میں حسد پرست ضرور تھی لیکن نفس پرست نہیں تھی حسنال میں ایسی نہیں حسنال یقین کرو میرا۔۔۔
یہ کہہ کر وہ صلیب پہ ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ پڑی تھی وہ بمشکل سانس لے رہی تھی تم میرا یقین نہ کرو لیکن ایک حسد کی وجہ سے میں نے اپنی ذات دو کوڑی کی کرلی ہے تم نے تو دوستی کے رشتے کا بھی بھرم نہیں رکھا۔۔۔۔۔!
اس بارے میں بعد میں بات کریں گے چھوڑو اس ٹاپک کو فلحال کےلیے۔۔۔۔۔۔!
تمھیں آرام کی ضرورت ہے میں تمھیں روم میں چھوڑ آتا ہوں ۔۔میرے پاس وقت نہیں ہے پھر میں نے نکلنا بھی ہے ۔۔۔۔!
وہ یہ کہے آرام سے اسے روم میں لے آیا تھا اور اسے بیڈ پہ بیٹھایا تھا لہجہ پھر سے تلخ ہوا تھا۔۔
کک۔۔کہاں۔۔۔۔؟ منال اس کے جانے کا سن کر بے یقین سی ہوئی تھی پھر بھی ایک دفعہ کنفرم کرنا ضروری سمجھا تھا۔۔۔
کام پہ اور کہاں۔۔۔۔ حسنال کو اپنی پشت پہ اس کی کانپتے ہوئے ہاتھوں کی سرسراہٹ محسوس ہو رہی تھی
وہ پھر بھی سنگدل بنا ہوا تھا۔۔
پر آج ادھر ہی رک جاؤ نا پلیز۔۔۔۔۔! میں اکیلی کیسے رہوں گی۔۔۔۔منال نے اس سے عرض سی کی تھی۔۔۔
تو اب میں تمھارے گُھٹنے سے لگ کر بیٹھ جاؤں۔۔۔۔وہ تلخی سے بولا لہجے میں نرمی ذرا نہیں تھی۔۔۔!
نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا اگر تم جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ۔۔۔! میں روم لاک کرلوں گی وہ اس کی تلخی سے گبھرائی تھی کہ مباداً وہ اسے پھر سے غلط الفاظ نہ کہے۔۔۔۔ !
وہ اسے چھوڑتا صوفے پہ بیٹھتا اپنے لیپ ٹاپ سے ایک کاغذ اور پنسل نکال کہ بیٹھ گیا تھا اور کچھ لکھنے لگ پڑا تھا۔
اس کو دیکھتے منال کی آنکھیں بار بار نم ہو رہی تھی وہ
سوچ رہی تھی کہ وہ اسے محبت نہ سہی ہمدردی کے رشتے میں رک جائے لیکن وہ صرف سوچ ہی سکتی تھی کیونکہ وہ نرم شخص اب بالکل بدل گیا تھا جو اُسے معاف کرنے کو تیار ہی نہیں تھا ۔۔
منال کے دل پہ بوجھ سا بنا ہوا تھا اس کا دل متلانے لگا تھا اس ی طبعیت خرابی اسے خود نہیں پتہ تھا۔۔۔!
منال میں جا رہا ہوں ۔۔۔۔! ڈور لاک کر لو ۔۔حسنال نے اسکو دل پہ ہاتھ رکھے جھکے دیکھا تھا اور اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
وہ اس کی بات سن کر اپنے کانپتے کو سنھبالتی بمشکل اٹھی تھی وہ اس کے پاس سے گزرتی ہی کہ دل نے فریاد کی تھی کہ اس شخص کو ڈھیٹ بن کر ہی روک لو شاید وہ رک جائے وہ اس کو بیگ بند کرتی دیکھ کر پاس آئی تھی اور اس کی پشت پہ بازوؤں کا گھیرا بنائے اس کو سختی سے پکڑ کر کھڑی ہوگئی تھی ۔۔۔اس کی طبعیت خراب ہو رہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا کہ اس کے جسم سے طاقت ختم ہو رہی ہو ۔۔۔آنسو بھی خشک خشک سے آرہے تھے۔
منال۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے تم ٹھیک تو ہو نہ۔۔۔۔! حسنال جو بزی تھا اس کے ایک دم سے ساتھ لگنے سے تشویش مبتلا ہوا تھا اس کا دل اتنے دنوں بعد پہلی دفعہ دھڑکا تھا اس کے کانپتے ہاتھوں کو اپنے سینے پہ دیکھ رہا تھا وہ کس کے اس کو پکڑے ہوئے تھی۔
طبعیت خراب ہے۔۔۔؟ اس کا رخ موڑ کر تھوڑی سے پکڑ کر نرمی سے اسے پوچھا۔۔!
وہ بنا بولے اتنے دنوں بعد اس کی نرمی و التفات پاکر اسکے سینے پہ سر رکھے شدت سے رو دی تھی جبکہ حسنال اس کے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔۔۔!
وہ کچھ دیر روتی رہی جب اسے ابکائی آئی تھی اس نے جو کھایا پیا اس پہ الٹ دیا تھا وہ اسے دور ہوتے ہوش میں آئی تھی شرمندگی کے مارے نگاہیں ہی نہیں اٹھ رہی تھی نگاہیں اٹھائیں تو اس کو اپنی طرف ہی دیکھتا پایا تھا وہ اس کی نگاہوں کے تاثرات کو پہچان نہیں پا رہی تھی ۔۔۔!
سوری سوری ۔۔۔مم۔۔۔میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا مم۔۔۔۔میں صاف کر دیتی ہوں شرٹ دے دو مجھے۔۔۔
وہ اس لمحہ کو پچھتا رہی تھی جب اس نے اسے روکا تھا وہ پچھلے تین چار دنوں سے اپنی بدلتی طبعیت کےلیے پریشان تھی اس کی طبعیت گری گری سی تھی۔۔
لیکن وہ سوچ رہی تھی حسنال تو اسے پہلے ہی خفا رہتا ہے اب اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔۔۔۔؟
حسنال نے اپنی شرٹ پہ ایک نگاہ ڈالتے اسے دیکھا جس کے لہجے سے شرمندگی ٹپک رہی تھی وہ اس کی نگاہوں کو جھکے دیکھ کر سانس پھیرتا بنا کچھ کہے اسے تھامے باتھ روم چلا آیا تھا ۔۔۔
اب حسنال اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔۔۔اس نے تو جانا تھا وہ اپنے لیٹ ہونے پر اسکے ساتھ خفا ہوگا وہ یہ ہی سوچ رہی تھی ۔۔۔!
اس نے نے اپنی شرٹ اتار کے صاف کی جس پہ منال نے وومٹ کی تھی صابن لگا کہ اپنا کشادہ سینہ دھویا تھا۔
حسنال نے اسے بیسن کے قریب کھڑا اور اسکا نماز اسٹائل ڈوپٹہ کھولا اسے لگا کہ شاید اس کے کس کے ڈوپٹہ کرنے سے ایسا ہو رہا ہے ۔۔۔۔!
اس کو پھر سے ابکائی آئی تھی اس کی جان آدھی ہوگئی تھی اسے لگا جیسے اسکی آنتیں باہر کو آنے لگی ہیں وہ منہ دھوتی پیچھے ہٹی تھی جب حسنال نے ٹاول لاکہ ہلکا سا گیلا کرکے اسکا چہرہ صاف کیا تھا۔۔
وہ گیلا ٹاول کرکے اس کے کپڑوں کو بھی صاف کر رہا تھا اس وقت اس کے لہجے میں نہ کوئی حقارت تھی نہ نفرت تھی اس کو اس حالت میں دیکھ کر الٹا اس کی طبعیت دیکھتا اس کے دل میں ایک اضطراب سا جاگا تھا۔
منال حیرت کی حدوں کو چھوتی اس ستمگر کو شرٹ لیس کھڑے اپنے لیے پریشان ہوتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
کیا یہ کچھ دیر پہلے والا ” حسنال بخت ” ہے ۔۔۔ ؟ کبھی اپنا سا لگتا ہے کبھی پرایا سا ۔۔۔۔کبھی نرم سا ۔۔۔۔ کبھی سرد سا ۔۔۔۔کبھی ایسا مہرباں کہ اس کے لیے جان دینے والا ۔۔۔۔تو کبھی ایسا پتھر دل اس کی جان لینے پہ آمادہ۔۔۔۔۔!
جب کبھی پاس ہوتا تو ایسے لگتا جیسےاس ستمگر شخص کے علاوہ دنیا میں کوئی مہرباں نہیں ہے کبھی ایسا بے نیاز سا۔۔۔۔اُسے ایسا لگتا کہ بھری دنیا میں اکیلی ہو۔۔۔۔! وہ دشمنِ جاں اس کا راز داں تھا مگر اب تو اس کی جاں کا دشمن رہتا تھا مگر تب بھی یہ سامنے کھڑا یہ ظالم شخص اپنے ظلم سمیت اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا وہ اس شخص کےلیے اپنے ماں کے ستم سہہ جاتی تھی۔۔
کہاں ملے گی بھلا اس ستمگری کی مثال
ترس بھی کھاتا ہے تباہ کرکے مجھے۔۔۔۔۔۔!
وہ مغرور لڑکی اس شخص کے ظلم سہہ رہی تھی بنا کوئی بھی حرفِ شکایت زباں پہ لائے ۔۔۔۔! وہ مغرور لڑکی اپنا تن من اس پہ وارنے کو تیار ہوگئی تھی صرف اس لیے اسے کہ وہ محبت کہ مرض میں مبتلا ہوئی تھی۔
آج کیا کھایا تھا۔۔۔۔۔۔؟
حسنال جو اس کو بغور دیکھ رہا تھا اس کے قریب آتا اسے کمر سے تھام گیا تھا اور نرمی سے بولا اور اسکی کمر پر نرم سے ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔۔۔۔!
کھانا ہی کھایا تھا۔۔۔وہ اس کو شرٹ لیس دیکھ کر کانپ رہی تھی جس کی نظریں اس پہ ہی ٹکی ہوئی تھی وہ اپنی خراب طبعیت کو بالکل ہی بھول گئی تھی۔۔۔!
حسنال۔۔۔۔پلیز ڈوپٹہ دو مجھے۔۔۔۔۔وہ اس کی طرف دیکھ
کر کہتی پھر سے نظریں جھکا گئی تھی۔۔
اس کے سنہری بال آگے پیچھے بکھر گئے تھے حسنال تو اس حسن کی دیوی کو دیکھ کر معبوت ہوا تھا ۔۔۔اس کا حسین سراپا دیکھ کر حسنال کے دل پہ جمی گرد اتار گیا تھا وہ بنا جواب دیے اس کو ساتھ لگا کر اس کے نم بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا تھا۔۔
اس کے نرم نرم سے لمس پہ منال کو نیند سی آگئی تھی
وہ بمشکل اپنی آنکھوں کو کھولتی اس کے چہرے کو ہاتھوں میں تھام گئی تھی۔۔
پلیز مجھ سے بالکل مت خفا ہونا حسنال ۔۔۔۔! مم۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر بالکل ایسا نہیں کیا تھا میری طبعیت سچ میں خراب تھی وہ ابھی تک شرمندہ تھی وہ اسے دیکھ رہا تھا نیند میں جاتے ہوئے بھی اس کو اسکی ناراضگی کی فکر تھی کیسے وہ اس کی نفرت سہتے سہتے کمزور سی ہوگئی تھی۔۔۔!
وہ جھکا اور اسکی بند آنکھوں پہ لب رکھے تھے منال نے اسکی پشت کو سختی سے پکڑ لیا تھا وہ نیند میں جاتے ہوئے بھی اسکا جھکاؤ محسوس کرسکتی تھی اس لمس میں اس کو بند آنکھوں کے ساتھ بھی لمس سا محسوس ہوا تھا۔۔۔!
اس کے لمبے سنہری مگر بکھرے بالوں سے حسنال کو عشق سا ہوا تھا جو اسکی پشت پہ بکھر سے گئے تھے وہ ان لمحوں کو محسوس کرنے لگا اس کے بالوں سے اٹھتی شمیو کی خوشبو اس کو دیوانہ کر رہی تھی۔۔۔۔!
منال اٹھو۔۔۔ اب کی بار حسنال نے اسکا چہرہ تھپتھایا تھا
اس کی آنکھیں بند تھیں حسنال بخت کو وہ اضمحلال و اضطراب کا کھلا شہکار لگی تھی وہ دیکھتا رہتا تھا وہ جو ہر روز نیا سوٹ پہنتی تھی اب ہفتہ ہفتہ ایک ہی سوٹ میں گزار دیتی تھی وہ اس اسے بغور دیکھنے لگ پڑا تھا آنکھوں تلے گہرے حلقے، خشک پڑتے ہونٹ مگر وہ اس قدر مکمل حسن رکھتی تھی اس مرجھائے ہوئے روپ کے باوجود بھی اس کے ارگرد پرنور سی سنہری عکس زدہ شعاعیں محسوس ہو رہی تھی۔
میں تمھارے کپڑے لے آتا ہوں تم چینج کرلو تم تب دانت برش کرلو ….! وہ اسکا چہرہ تھپتھاتا ہوا ہولے سے بولا جس سے وہ آنکھیں کھول گئی تھی اور اس کو قریب دیکھ کر ہوش میں آئی تی۔۔۔۔!
دانت برش کرلیے۔۔۔۔؟
وہ اسے سٹول پہ بیٹھا کہ اس کے کپڑے لینے روم میں آیا تھا اور اس کے کپڑے لے کر پھر سے باتھ میں آیا اور اسے پوچھا تھا اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا۔۔۔
تم شاور لے کر چینج کرلو۔۔۔۔! میں روم میں ہی ہوں گا بس آواز دے دینا مجھے۔۔۔!
وہ یہ کہتا ڈور باہر سے لاک کرتا نکل گیا تھا منال اس کو نظروں سے اوجھل ہوتا دیکھ کر ہمت کرکے اٹھی تھی۔
دس پندرہ بعد وہ شاور لے کر وہیں بیٹھ گئی تھی اپنے ہاتھ میں ہمت لا کر فراق کی الٹی سیدھی ڈوریاں بند کی اور ڈوپٹہ اپنے گرد پھیلا لیا تھا اس کی ہمت نئی ہوئی تھی اسے پکارنے کی وہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی اسے سردی سی محسوس ہونے لگی وہ ڈوپٹہ کور کرکے بیٹھ گئی تھی۔۔۔
منال منال….! اسے لگا کہ اس کی طبعیت خراب نہ ہوگئی وہ جو باہر پرسکون سا بیٹھا تھا اندر سے آواز نہ پاتا دیکھ کر باتھ آیا اور ناک کیا تھا اور پھر خود ہی کھولاتھا اس کی سوچوں کے عین مطابق وہ ٹیک لگائے بیٹھی کانپ سی رہی تھی اور دیوار کے ساتھ سر ٹکائے غنودگی میں جا رہی تھی ۔
ادھر کیوں بیٹھ گئی ہو پاگل لڑکی۔۔۔۔مجھے آواز لگا لیتی تو میں آجاتا نا ۔۔۔۔۔وہ اس کو کانپتے دیکھ کر متفکر سا تھوڑا غصہ ہو کر اونچا بولا تھا جس سے اس نے آنکھیں کھولی تھی۔۔۔۔۔۔!
میں نے کوشش کی تھی لیکن مجھ میں اتنی ہمت ہی نہیں تھی وہ دھیمی سے لہجے میں بولتی اس کا دل دھڑکا چکی تھی اسے کانپتا دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے اسکو بازوؤں میں اٹھا لیا تھا۔۔۔!
منال نے اس کی گردن میں منہ چھپایا تھا اپنے دونوں بازوؤں کو اس کی گردن کے پیچھے وہ اس کے سینے پر سر ٹکا گئی تھی۔۔۔
اس کو کانپتا دیکھ کر اسے بیڈ پہ بیٹھانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ تو اس کے ساتھ جیسے چمٹی بیٹھی تھی
منال ۔۔۔دو تین دفعہ پکارا لیکن کوئی جواب نہیں آیا تھا اسے لگا کہ وہ جان بوجھ کر رہی ہے اس لیے جھک کر اسے دیکھا تھا لیکن وہ گہری نیند میں تھی ۔۔۔!
کمفرٹ کھینچ کر اس کے اوپر ایسے ہی کر دیا تھا وہ ساتھ میں خود بھی آدھا کوور ہوگیا تھا۔۔۔!
یار کیا مصبیت ہے اب ۔۔۔۔؟ وہ اسے دیکھ کر اب سچ میں جنجھلایا تھا وہ اس کو ساتھ لگا دیکھ کر غصہ ہو رہا تھا جو اس کا ضبط آزما رہی تھی نہ اسے اٹھنے دے رہی تھی اور نہ لیٹنے۔۔۔وہ اس لیے گھر نہیں آتا تھا کہ وہ لڑکی اسکا ضبط آزماتی تھی اسکی سادگی ہی اس کو آزماتی تھی ورنہ اسے آج تک یاد نہیں پڑتا تھا کہ وہ صیح تیار ہوکر اس کے سامنے آئی ہو ۔۔وہ خود سادہ دل مرد اس کی سادگی سے ہی بہک جاتا تھا اب وہ اسے مکمل طور پہ آزما رہی تھی ۔۔۔
اس نے زبردستی اس کے بازؤں اپنی گردن سے آزاد کروائے اور خود آگیا دوسری سائیڈ پہ آکے منال کی طرف بیک کرکے لیٹ گیا تھا تھوڑی دیر وہ ضبط کے پہرے بیٹھا کہ لیٹا رہا جب اسکا ہاتھ اپنی گردن پہ محسوس ہوا تھا۔۔۔
اس نے سر اٹھا کہ دیکھا تو وہ گہری نیند سوئی ہوئی تھی
حد ہے ویسے۔۔۔ دل کر رہا ہے دو کھینچ کر لگاؤں وہ بڑ بڑایا تھا اس کا دل کیا دو کھینچ کر لگائے جو اسے سونے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔!
وہ ہاتھ آنکھوں پر رکھے پھر سے لیٹ گیا تھا مگر نیند تھی آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اس نے سر پٹخ کر منال کی طرف رخ کیا تھا لیکن اس کی بیک اس کی طرف تھی
نہ چاہتے ہوئے بھی اس کو کھینچ کر اپنے قریب کرلیا تھا
وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیرنے لگا تھا جو خود تو چین میں تھی لیکن اب اسے بےچین کیا ہوا تھا۔
پتہ نہیں تم میں ایسی کونسی مقناطیسی کشش ہے کہ میں نا چاہتے ہوئے تمھاری طرف کھنچتا چلا جاتا ہوں منال حاکم بخت ۔۔۔۔!میں جانے انجانے میں ہی تمھارے سحر میں گم ہوجاتا ہوں ۔۔۔۔ میں موقع دینا چاہتا ہوں تمھیں کہ تم اپنی بےگناہی کا یقین دلواؤں مجھے ۔۔۔!
میں تمھارے ساتھ ایسا سلوک کرتا نہیں چاہتا تھا تم اتنی بے مایہ ہرگز نہیں ہو منال حاکم بخت کہ تمھاری تذلیل کی جائے اور اس روپ میں تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔!
تم ہر روپ میں قابلِ عزت ہو میرا یہ دل تمھاری اسیری کا بہانہ ڈھونڈتا ہے میں چاہتا ہوں کہ تمھیں ایک موقع دوں تم مجھے اعتبار دلواؤں۔۔۔۔ !
وہ اس کے پرسکون چہرے کو دیکھتا اس کی ماتھے پہ انگلیوں سے اپنا نام لکھتا ہوا اس کی بند آنکھوں کو دیکھتا بڑبڑایا تھا۔۔
پھر تقربیاً دو گھنٹے وہ بہت ڈسڑب رہا تھا کیونکہ وہ چہرہ کبھی اس کے بازؤں پہ رکھتی تو کبھی اس کی پشت کے ساتھ ٹکا لیتی اور کبھی اس کے سینے میں دے مارتی ۔۔۔۔! اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ صبح سارے حساب بےباک کرے گا۔۔۔
وہ یہ سوچتے سوچتے نیند کی وادیوں میں کھویا تھا اسے خود بھی نہ پتہ چلا تھا ۔۔۔۔
*****
سپرمین…………سپرمین اُس نے دو تین دفعہ پکارا تھا وہ کوئی جواب نہ پاکر اس کے روم میں آئی تھی لیکن وہ یہاں بھی نہیں تھا۔۔۔۔
لگتا ہے باہر چلے گئے ہیں ایک تو بتا کر بھی نہیں جاتے صرف اور صرف مجھے تنگ کرنے کےلیے ایسا کرتے ہیں
مجھے کیا ہے میں تو اپنے روم میں سونے جا رہی ہوں ۔۔۔!
جب آئے گے تو خود ہی کھانا کھالیں گے ۔۔۔۔!
وہ بڑ بڑاتی ہوئی اپنے روم میں چلی آئی تھی اور ڈور بند کرکے بیڈ پہ آکہ لیٹی ہی تھی۔۔۔
جب لائٹ آف ہوئی تھی ہائے اللہ اب میں باہر کیسے جاؤں گی وہ ابھی اٹھتی ہی کہ اسے قدموں کی چاپ سنائی دی تھی اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا تھا وہ اٹھی تھی بھاگنے کےلیے جب کسی نے اسے بازوؤں سے پکڑ پھر سے بیڈ پہ پھینکا تھا اس کو لگا کمر ٹوٹ گئی تھی درد اسکے منہ سے سسکی نکلی تھی ۔۔۔۔!
ک۔۔۔۔کون ۔۔۔کون ہو تم ۔۔۔اس کے حلق سے آواز ہی خوف کے ماری پھنسی پھنسی سی نکلی تھی اس سے اپنی آواز کھوئی کھوئی سی محسوس ہوئی تھی اسے اپنی عزت کا بھی خطرہ محسوس ہوا تھا بےبسی سے اس کی آنکھوں سے آنسوؤں نکلنے لگے تھے۔۔
اس شخص کی گرفت اپنے بازوؤں پہ ہلکی دیکھ کر وہ اٹھ کر بھاگتی کہ پھر سے کلائی سے کھینچ کر اس شخص کے اوپر گری تھی۔۔۔
مانوس سی خوشبو محسوس کرتے جہاں اس کی جان میں جان آئی تھی وہی خفگی بھی در آئی تھی وہ اس کے سینے پر سر اسکی قمیض سے ہی اپنے رویا رویا چہرہ صاف کرنے لگی تھی۔۔
بہت بہت برے ہیں آپ ۔۔۔بب۔۔۔بہت بڑے ظالم۔۔۔کوئی ایسا کرتا ہے معصوم جان کے ساتھ۔۔۔آپ بہت پتھر دل ہے سپرمین تو ایسا نہیں ہوتا۔۔۔
؎ ہم پتھر ہی سہی مگر پارس جیسے
کسی روز ملو ہم سے تمھیں سونا کر دیں
وہ گمبھیر لہجے میں کہتا اس کی ننھی سی جان کو ہوا کرگیا تھا اب بتاؤں اس پارس کے ہاتھوں سونا ہونا چاہتی ہو۔۔۔وہ پھر سے بھاری آواز میں بولا تھا وہ اسے پتھر کہہ کر پچھتائی تھی وہ کیوں بھول جاتی تھی کہ وہ شخص لاجواب کرنے کےلیے تو اس کی زندگی میں آیا تھا۔۔۔
آپ۔۔۔۔۔آپ م۔۔میرے روم میں کیا کر رہے تھے وہ اس کا دھیان بٹانے کی خاطر اونچی مگر نم آوز میں بولی تھی۔۔۔!
دراصل تم میرے روم میں نہیں سوسکتی یہ طے ہوا تھا
کہ تمھیں میرے روم میں سونے سے مسئلہ کہ میں کئی بہک نہ جاؤں۔۔۔۔!
لیکن میں تمھارے روم میں تو سو سکتا ہوں نا ۔۔۔۔یہ طے تو نہیں ہوا تھا وہ شریر سے لہجے میں بولا تھا۔۔
مگر آپ کو اپنے بستر کے علاوہ تو نیند ہی نہیں آتی آپ کیسے سوئے گے ادھر ۔۔!
سچ بتاؤں یا جھوٹ ۔۔۔۔۔؟ وہ اسے اٹھاتا اس کے گرد حصار باندھتا لو دیتی جذبوں کی آنچ سے بولا ۔۔!
صرف سچ…………! وہ صرف یہ ہی بولی جیسے جھوٹ سننا اسے پسند نہ ہو ۔۔۔۔۔!
تو سچ یہ ہے میری جان ۔۔۔۔۔! کہ اب مجھے اپنی بیوی کے بنا نیند نہیں آتی وہ کمرہ کاٹ کھانے کو ڈورتا ہے ۔۔۔۔! وہ اناؤں کا شہزداہ یہ تسیلم کر رہا تھا کہ اس کہ بغیر اس کی بھی زندگی نہیں ہے۔۔۔
نہ کریں ۔۔۔۔۔وہ اس کے حصار کھوئی کھوئی حیرت زدہ سی بولی تھی۔۔
ہاں کریں ۔۔۔۔۔وہ اس کی بات سنتا مسکراتا ہوا بولا تھا۔۔
اب کب سے یہاں تھے اور میرے روم میں کیا کر رہے تھے وہ اسے علحیدہ ہوتے جواب طلب لہجے میں بولی تھی۔
میں نے تو ادھر ماونٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے کا یونیک سا پلان بنایا تھا۔۔۔لیکن مجھے یہاں اب مجھے بالکل بھی ارادے نہیں لگ رہے اور کامیابی کے چانسز بھی بالکل زیرو لگ رہے ہیں لہذا آج سیگریٹ ہی پھونکوں گا۔
وہ اس کی بات سنتی جھٹ سے علحیدہ ہوئی تھی اسے منہ زور شخص کی بات سن کر اسے اپنے کانوں سے دھواں چھوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
میرے کمرے سے نکل جائیں ایک منٹ کے اندر اندر۔۔۔یہ نہ ہو کہ میں کوئی شے دے ماروں آپ کے سر پر۔۔۔۔! وہ اس کی معنی خیز باتوں سے پہلے تو گھبرائی تھی لیکن پھر جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔۔۔!
اوکے گڈ نائیٹ جا رہا ہوں میں ۔۔۔۔! لیکن پلیز اپنی تصویر تو کوئی دے دو ۔۔ اس نے ڈور کے پاس پہنچ کر لائٹ آن کی تھی ۔
اور وہ کیوں چاہیے آپکو وہ جو اس کے اتنے جلدی جانے پر حیران ہوئی تھی اس کی فرمائش پر ہکی بکی رہ گئی تھی ۔۔۔
جاناں نہ سہی تصویرِ جاناں سے ہی دل بہلاؤں گا ساتھ میں سیگریٹ بھی پھونک لوں گا۔۔وہ آرازدہ زدہ سا کہتا شیو پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کو مزید تپا گیا تھا وہ مڑنے لگا جب وہ پھر واپس پلٹا تھا۔۔!
اچھا بات سنو یسو پنجو کھیلو گی ۔۔۔۔! ایکچولی میں آیا تو یسو پنجو ہی کھیلنے تھا وہ اس کی دل کی بات کہہ رہا تھا۔۔
آپ جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔۔وہ اپنی حیرت کو چھپاتی سنجیدگی سے بولی تھی اس کی ہرنی جیسی آنکھیں کھل کر بڑی ہوگئی تھی اسے لگا وہ مذاق کر رہا ہے وہ اتنا بڑا بزنس ٹائیکون اسے چھوٹے سے کھیل کےلیے پاس آیا واقعی مقامِ حیرت تھا ۔۔۔
نہیں بالکل سچ ۔۔۔۔اگر نہیں یقین تو آزما لو یار۔۔۔۔! تم حیراں تو ایسے ہو رہی ہو جیسے میں اجنبی ہوں اور تم سے مخاطب ہوں۔۔۔۔!
حیرت کی بات تو ہوگی نا۔۔۔۔! آپ اتنے بڑے وکیل اور بزنس ٹائیکون ہوکر مجھ جیسی ادنیٰ لڑکی کے ساتھ یسو بنجو کھیلنے کا کہہ رہے ہیں وہ دل کی بات آخر کار منہ پہ ہی لے آئی تھی۔
بیوی کے سامنے تو بڑے بڑے سورماں ہار جاتے ہیں اس کے قدموں میں بیٹھ جاتے ہیں میں تو ادنیٰ سا وکیل ہوں ۔۔وہ یہ کہہ کر ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔مسکراہٹ بھی ایسی جو کسی کو قاتل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی تھی۔
اشنال کو اپنے دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دینے لگیں تھیں۔۔
کھیلو گی نا میرے ساتھ ۔۔۔۔ ! کھیلنے سے پہلے شرط یہ ہے جو ہارا جتینے والا شخص اس کی سزا کو تعین کرے گا ۔۔۔!
منظور ہے اشنال نے مسکرا کر کہا تھا کیونکہ وہ بھی کھڑوس شخص کے ساتھ اتنے مہینوں بعد ایڈوینچر کرنا چاہتی تھی آج ہی تو اسے وہ بدلا بدلا لگ رہا تھا۔۔
چلو ٹھیک ہے ادھر آؤ۔۔۔۔وہ دھیمی چال چلتا بیڈ پہ بیٹھا تھا اور ہاتھ سے پکڑ کر اسے اپنے پاس بیٹھایا تھا۔
سٹارٹ کریں وہ اس کے ہاتھوں کو تھامے مضبوطی سے بولا اشنال ایک نظر اس کے مضبوط میں ہاتھوں میں دبے ہاتھوں کو دیکھا تھا اور اسے فخر سا ہوا تھا اس نے اس کے ہاتھ کو ہوا میں اچھال کے بیڈ پہ رکھا تھا۔۔
اس نے گنا تو پہلے دو تین مرتبہ ایسے ہی گئی تھی کیونکہ وہ صرف دو تھے لیکن پھر پہلے اشنال جیتی تھی اس کی خوشی دیدنی تھی۔۔
اب سزا مقرر کرو میری جانم ۔۔۔۔! وہ اس کو خوش دیکھ کر س کے چہرے پہ قوس و قزح کے رنگوں کو دیکھتے دھیرے سے بولا تھا۔۔۔!
آپ سٹ اسٹینڈ کریں سپرمین ۔۔۔۔۔وہ ہوشیاری سے بولی تھی۔۔۔۔!
اچھا چھوڑیں یہ نہ کریں ۔۔۔۔وہ خود ہی بولی تھی صرف اور صرف اس لیے کہ وہ اسے جھکانا نہیں چاہتی تھی۔
کیوں نہ کروں اب تو میں کروں گا۔۔۔۔وہ ضدی سا ہوا ۔۔۔!
میں تو پنشمنٹ دیتا ہوں وہ بھی سخت سی ۔۔۔۔! اس لیے مجھے سزا دینی ہے تو دو اس طرح تو کھیل کا مزا نہیں آتا۔۔۔
سچ میں اگر میں ہاری تو آپ مجھے پنش دے گے مارے گی بھی ؟۔۔۔۔۔۔وہ بے یقینی کی کیفیت میں گھرتی ہوئی بولی تھی۔۔۔
ہوں سچ میں تو کوئی رعایت نہیں دیتا میری سزا تو سخت ہوگی۔۔۔۔! وہ اپنی مسکراہٹ دباتا سختی سے کہنے لگا۔۔۔
چلیں ٹھیک ہے آپ مجھے پنش دے دیجئے گا لیکن میں آ کو پنش نہیں دے سکتی ۔۔۔۔! وہ سنجیدگی سے بولی تھی۔۔۔!
اس نے پھر سے ہاتھ کیا تھا تو اس دفعہ روشنال ہی جیتا تھا وہ اسکے جیتتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو باندھ گئی تھی۔۔۔۔
روشنال بغور اپنے سامنے بندھے اس کے کانپتے ہاتھوں کو دیکھنے لگا تھا جس کے ہونٹ بھی کانپ رہے تھے اس پیاری کو دیکھتا وہ اس کے بندھے ہاتھوں کو دیکھتے ہاتھ اونچے کیا تھا روشنال کو لگا کہ وہ اب مارنے لگا ہے ۔۔۔۔!
کھڑوس اس کے منہ سے بڑبڑاہٹ سے یہ ہی نکلا تھا ۔۔۔روشنال نے ہاتھ بڑھا کہ اسے کمرکے پیچھے ہاتھ لے جا کر اپنی طرف کھینچا اس کے زور سے اپنی طرف کھینچنے سے اسکا ڈوپٹہ سر سے اتر گیا تھا وہ دومنٹ میں اس کا حلیہ بگاڑ چکا تھا ۔۔۔۔!
میری پنشمنٹ شاید تمھیں پسند نہیں آئی وہ اس کے بکھرے بال سیٹ کرتا گھمبیر سے لہجے میں بولا تھا۔۔
اشنال کا تنفس بگڑا تھا وہ اسے پیچھے ہوتی جھک کر سانس لے رہی تھی وہ تھوڑی سی نارمل ہوئی تھی جب وہ اس کی طرف پھر جھکنے لگا تھا جب وہ پھرتی سے باہر بھاگنے لگی تھی ۔۔۔۔
روشنال اس کو اٹھتا دیکھ کر اس کے پیچھے ہوتا اس کو کمر سے پکڑتا پھر سے اپنی طرف کھینچ کر اسے اپنے ساتھ لگایا گیا تھا۔۔
چھ۔۔۔۔۔چھوڑیں آپ بہت گندے انسان ہیں میں تو آپکو ڈیسنٹ ہی سمجھتی تھی۔۔۔ ! مگر مجھے نہیں پتہ تھا آپ اتنے ٹھرکی نکلیں گے ۔۔۔۔۔!وہ بھرپور مزاحمت کر رہی تھی
بیگم اب آپ کو بتائیں گے کہ اصل ٹھرکی ہونا کسے کہتے ہیں آپ نے ہمیں ہلکے میں لیا ہوا تھا۔۔۔؟ وہ اسکے بالوں سے کیچر کر نکال کر چھپاتے شریر سے لہجے میں بولا تھا۔۔۔
اشنال کی سمجھ میں نہیں آیا کہ منہ زور شخص کو قابو کیسے کریں ۔۔۔۔ ! لیکن ایک منٹ دیر کیے بغیر وہ اپنے دانت اس کے کشادہ سینے میں گاڑ چکی تھی ۔۔۔۔!
صبر کرو جنگلی بلی ۔۔۔۔! وہ جو اسکے سحر میں کھویا ہوا تھا اس کے کاٹنے سے اس کی گردن پہ جھکنے لگا تھا ۔۔۔۔!
جب ڈور بیل کی مسلسل آواز سے اس کے سحر سے نکلا تھا۔۔۔! وہ جلدی سے پیچھے ہٹتا اس کے سر پہ ڈوپٹا کرا گیا تھا۔۔۔!
ریلکیس یار۔۔۔۔۔۔! لگتا ہے فرقان ہے ۔۔۔۔وہ اس کے ماتھے پہ لب رکھتے پھر سے سنجیدگی کے خول میں سمٹتا باہر نکلا تھا۔۔۔!
اس نے دروازہ کھولا تو سامنے کھڑی ہستیوں کو دیکھ کرساکت رہ گیا ۔۔۔۔۔!
آپ اس وقت۔۔۔۔۔۔! وہ سوچ نہیں سکتا تھا کہ اتنی رات کو وہ ادھر آئیں گے۔۔۔۔۔! اس نے تو ابھی اشنال کو اعتماد میں ہی نہیں لیا تھا۔۔۔
Part 2
آپ لوگ اس وقت ۔۔۔۔۔؟
وہ متفکر و پریشان سا کھڑا انہیں دیکھ رہا تھا کیونکہ ابھی اس نے اشنال کو اعتماد میں نہیں لیا تھا۔
السلام علیکم ۔۔۔۔۔شیر جواں۔۔۔۔!
وعلیکم سلام شیر جواں صیغیر صاحب نے آگے ہوکہ بہت ہی گرم جوشی سے گلے سے لگایا تھا۔۔۔!
پلیز آپ اندر آ جائیں رات کافی ہوگئی ہے۔۔۔! اتنی رات کو مناسب نہیں لگتا وہ ڈور سے ہٹ کر انھیں راستہ دیا تھا۔
اور ڈور بند کرکے واپس پلٹا تو آغا جان کو اپنے پیچھے کھڑا پایا تھا۔۔!
اتنا خفا ہوگیا ہے کہ میری طرف دیکھ ہی نہیں رہا ۔۔۔! اس نے ان کی طرف دیکھا جو لاٹھی اٹھائے کمزور نحیف سا شکوہ کر رہے تھے۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے پیچھے مڑتا انا کی فیصیل کو ختم کرتا بہت ہی گرم جوشی سے ان کے گلے لگا تھا اور آغا جان کی تو آنکھوں سے تو آنسوؤں پانیوں کی طرح نکلنے لگا تھا وہ ان کے ساتھ لگا ان کی پشت کو سلاتا دلاسا سا دے رہا تھا۔
آغا جان آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔۔! میرے ساتھ آئیں وہ انھیں تھامے لیے لاونج کے صوفوں پر لے آیا تھا ۔۔۔۔! ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔۔!
آپ آنے سے پہلے مجھے کنفرم تو کر دیتے میں آپکو خود لینے آجاتا وہ آغا جان کے ساتھ ان کی تھکن کو دیکھتا ماں باپ سے شکوہ زدہ لہجے میں بولا تھا۔۔
دراصل آج ہمارا سارا دن بازار میں گزرا ہے تو اس لیے آتے آتے دیر ہوگئی تھی
میری بیٹی کہاں ہے نظر نہیں آرہی ۔۔۔!کئی سو تو نہیں گئی وہ اردگرد نگاہیں ڈوارتی بے تابی سے بولنے لگیں تھیں۔۔۔۔!
اوہ سوری میں آپکی بیٹی کو بلا کہ لاتا ہوں وہ مسکرا کہتا اشنال کے روم میں آیا تھا۔
اشنال۔۔۔۔۔اشنال اس نے پکارا لیکن وہ روم میں تھی باتھ سے پانی گرنے کی آواز آ رہا تھا۔۔
وہ دومنٹ ادھر ہی کھڑا رہا جب وہ فولڈ ہوئی شرٹ کے بازوں کو باہر نکلی تھی وہ شاید وضو کرکے آئی تھی روشنال کو پتہ چل گیا تھا کہ وہ ان لوگوں کی موجودگی سے لا علم ہے
اشو ادھر آؤ بات سنو میری ۔۔۔۔؟ اس نے ٹھہرے اور محتاط لہجے میں اسے پکارا تھا۔۔!
جی بولیں۔۔۔۔؟ ڈور پہ کون تھا ویسے ؟
وہ اس کے قریب آتی ڈوپٹہ کو سیٹ کرتی آرام سے کہنے لگی تھی نگاہیں اٹھا کر بات وہ ہولے سے بولی اس کے نگاہوں میں روشنال بخت کےلیے احترام ہی احترام تھا۔۔
مجھے تم سے کچھ کہنا تھا۔۔وہ لہجے کو تول تول کر بول رہا تھا۔۔
آپ کو کوئی ضروری بات کرنی ہے تو میں سن لیتی ہوں لیکن میں آلریڈی لیٹ ہوں نماز سے۔۔۔! اگر آپ کو برا نہ لگے تو میں پہلے نماز پڑھ لو۔۔۔؟
باہر امی بابا اور آغا جان آئے ہوئے ہیں تم ان سے مل کہ آجاؤ پانچ منٹ لگے بعد میں نماز پڑھ لینا۔۔۔!
وہ اسے صاف لہجے میں کہتا مگر نظریں چراتا کہہ گیا تھا وہ اس کے رئکشن بھی سوچ رہا تھا۔۔
اشنال بے حس بن گئی تھی جیسے اس کی بات سنی ہی نہ وہ اسٹیچو بن کر کھڑی ہوگئی تھی ۔
چپ کیوں ہوگئی ۔۔۔! آؤ نہ پہلے بابا مما سے مل آؤ۔۔۔۔۔!
وہ اس کے جامد تاثرات دیکھتا سمجھ کر ناسمجھی سے کہنے لگا تھا۔۔۔
وہ کیوں آئے ہیں اب یہاں۔۔۔۔؟ اشنال نے تلخی سے کہا تھا آنکھوں میں واضح نمی چمکی تھی۔۔
اچھا میرے ساتھ تو آؤ۔۔۔! وہ کب سے ویٹ کر رہے ہیں اس طرح اچھا لگتا وہ کیا سوچیں گے ۔۔۔وہ اسے بے حس و حرکت لیے تھامتا ہوا لاونج میں لے آیا تھا۔
السلام علیکم میراکیسا بچہ ہے۔۔۔۔؟ سب سے پہلے تہمینہ بیگم ہی اٹھیں اور اس کو گلے لگایا تھا ۔۔۔
جی ٹھیک ۔۔۔۔۔اس نے ان کی گرم جوشی کو دیکھتے پھیکے سے لہجے میں جواب دیا تھا صیغیر صاحب اس کو دیکھتے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور اس کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا۔۔
تایا ابو سے ملنے کے بعد ایک نظر آغا جان کو دیکھا تھا جو وہ اسے لے کر صوفے پہ بیٹھی تھی اس نے ایک بے تاثر اٹھا کر آغا جان کی طرف دیکھا جن کی نگاہوں کو و ہ پہچان نہیں سکی تھی آج اسے ان آنکھوں میں اپنے لیے نفرت نظر نہیں آ رہی تھی بس بے بسی تھی اشنال ایسے بے تاثر کھڑی رہی ۔۔
وہ اٹھے اور اس کے سر پر ہاتھ رکھنے لگے تھے جب اشنال ایک دم سے پیچھے ہٹی تھی آغا جان کا ہاتھ ہوا میں ہی تحلیل رہ گیا تھا۔
اشنال کو جیسے کسی بچھو نے ڈنک مارا تھا وہ ان کے ہاتھوں کے لمس سے نا واقف تھی اسے وہ ہاتھ لوہے کی مانند بھاری اور چھری کی تیز دھار سے بھی لگے تھے جیسے وہ ہلکے سے بھی اسے لگے خون تو لہو رسنے لگ پڑے گا۔
وہ تڑپ کر دور ہٹی تو آغ جان سب اسے دیکھنے لگ پڑے تھے روشنال جانتا تھا کہ وہ حق پر ہے لیکن اسے آغا جان کی کنڈیشن کو دیکھ کر ترس آر رہا تھا۔
آغا جان میں پوتی کا رئیکشن دیکھ کر احساس بڑھتا لگا تھا وہ اس کے آگے ہوئے تھے۔۔
مم۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔معاف ۔۔۔۔۔کر ۔۔۔ ان کا لہجہ آج کئی سالوں بعد لڑکھڑایا تھا وہ بول نہیں سکے تھے ان کے ذہن میں بیٹے کی بات گردش کی تھی جب انہوں نے کبیر صاحب کو بے دردی سے گھر سے نکالا تھا تو ان کے آخری الفاظ ان کے ذہن میں نقش ہوگئے تھے لیکن آج دماغ نے کھرچ کھرچ کر ان الفاظ کو ادھیڑا تھا انہوں نے جاتے وقت بس یہ ہی کہا تھا کہ آغا جان کسی سے اتنی نفرت مت کریں یا غصے میں آکر اس کہ دل پہ اتنے زخم نہ لگاہیں کہ بعد میں اسے معافی مانگتے ہوئے بھی آپ کو نگاہیں اٹھاتے ہوئے بھی شرم محسوس ہو۔۔۔ اور آج وہ بری طرح پچھتا رہے تھے۔
معافی ۔۔۔۔۔کس بات کی ۔۔۔ معافی مانگیں گے مسٹر بخت۔۔؟ یا کسی بات پہ معاف کروں۔۔۔؟
اپنے ماں باپ کی جدائی سہنے پر۔۔۔؟ اپنی بچپن کی محرومیوں پر ، آپکی نفرت پر، سویتلی ماں کے ظلم وستم پر۔۔۔۔۔ ؟ اپن کر دار کشی کی ، اپنے کر دار کی ، اپنی مری ماں کے کر دار کی ، اپنی احساس کمتری کی ؟
اپنے سیاہ راتوں کی ڈر کی ۔۔۔۔؟ یا اپنے گزرے ہوئے بارہ سالوں کے نقصان پر ۔۔۔۔؟ کس کس بات کی معافی مانگیں گے آغا جان ۔۔۔۔۔؟ وہ پھٹ پڑی تھی آغا جان تو بولنے کے قابل ہی نہیں رہے تھے۔۔ !
کیا آپکے اپنے ضمیر نے ایک دن ملامت نہیں کی تھی کہ میں آپکا خون ہوں پتہ ہے جب آپ حسنال اور منال کےلیے چیزیں لے کر آتے تھے تو میں بھی آپکو رحم طلب نظروں سے دیکھ رہی تھی آپ خیرات میں ہی سہی مجھے ڈول یا ڈریس وغیرہ دے دیں گے وہ میرے اندر کا لالچ نہیں تھا وہ میری محرومیوں ۔۔۔!
؎ اپنے ماضی کی تصویر سے ہراساں ہوں میں
اپنے گزرے ہوئے ایام سے نفرت ہے مجھے۔۔۔![]()
مجھے چیزوں کا لالچ نہیں مجھے پیار کا لالچ تھا آپ شاید اس لیے انہیں میرے سامنے پیار کرتے تھے میں آپ سے مانگنے آؤں گی لیکن سچ میں آغا جان مجھے ان مصنوعی چیزوں کا شوق نہیں تھا۔
میں تو اپنے باپ کی ریاست کی مغرور شہزادی تھی جس نے اپنی زندگی میں اپنی ساری سلطلنت میرے نام کی تھی اپنا ایک ایک پل ، ایک ایک منٹ انہوں نے سب کچھ میرے لیے قربان کیا ۔۔ جس دن ان کی بند آنکھیں دیکھی تھی اس دن ہی سمجھ گئی تھی کہ ان کو اکسیڈنیٹ نے نہیں مارا بلکہ جدائی ، تلخی اور فکر نے مار دیا ہے اس دن ہی اس دل کو سمجھا لیا تھا کہ میں اس باپ کی بیٹی ہوں جو صرف انا کی نذر ہوا ۔۔۔۔
جس کو اس کے اپنوں کی انا نے مار ڈالا ۔۔۔۔اس دن اس دس سال کی بچی صرف یتیم نہیں ہوئی تھی بے گھر ہوئی تھی اس دن آغا جان میں چھت کی تلاش میں بخت ولا نہیں گئی تھی میں سہارے کی تلاش میں گئی تھی چھت تو مجھے آرفن ہاوس میں مل بھی جاتا۔۔۔ میں تو بس آوارہ بننے سے بچنا چاہتی تھی لیکن اپنی ذات کو سمیٹ کر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔۔! جیسے ہی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھا تو اسی ذات کو سب نے اپنے الفاظوں سے توڑ بکھیر کر بھیڑ بکری کی طرح راہ لگادیا تھا آج پھر معافی مانگنے آ گئے ہیں کہ گھر چلو۔۔۔؟ آج پھر سے مجھے اپنانے کےلیے تیار ہوگئے ہیں وہ آج ڈھارتی ہوئی شیرنی لگ رہی تھی۔۔
اس کے الفاظ سن کر آغا جان کا دل کیا کہ زمین پھٹے اور وہ جہاں اس میں سمائیں۔۔۔۔ان کی بیٹے کی نشانی دل میں اتنا درد چھپائے بیٹھی تھی آج ان کو چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی تھی جبکہ روشنال کے دل پہ اس کے آنسوؤں گرے تھے۔۔
نہیں آغا جان آج نہیں۔۔۔۔! آج اشنال کبیر آپ کو ہرگز معاف نہیں کرے گی آج میں آپ سے اپنے گزرے ہوئے بارہ کا حساب سود سمیٹ واپس لے کر رہوں گی آغا جان معافی اگر مانگنی تو میرے بابا سے مانگیں لیکن میں جانتی ہوں یہ ناممکن ہے بات کڑوی ہے مگر ہے سچی مگر معافی مانگنا آسان ہوتی نا آغا جان تو جو قبروں میں ہماری تلخیاں سہہ کر پڑے ہوئے ہیں وہ بھی معافی کا لفظ سن کر ہمارے ساتھ پھر سے زندگی گزارنے کی خواہش کر رہے ہوتے ۔۔۔! مگر وہ حقیقت جان چکے ہوتے ہیں کہ ہم لاحاصل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔۔
وہ محض ایک پل رہی خاموش رہی اور پھر سے بولنا شروع ہوگئی تھی۔ آج آغا جان کو اس ڈھارتی ہوئی پوتی اپنے لاڈلے بیٹے کبیر بخت کی جھلک نظر آئی تھی
چلو روم میں چلو بہت رات ہوگئی ہے صبح اس بارے میں بات کریں گے۔۔۔۔روشنال اس کے پاس بازوؤں سے پکڑتا نرم لہجے میں بولا تھا۔
نہیں جانا مجھے آپ کے ساتھ آج ہی تو عدالت لگی ہے ادھر۔۔۔ آج تو انھیں ہر جرم سے بری الذمہ نہیں ہونے دوں گی۔۔۔
روشنال تم اس معاملے سے دور رہو یہ میرا اور میری پوتی کا معاملہ ہے یہ صیح کہہ رہی ہے آج یہ بولے گی اور میں سنوں گا ۔۔۔انہوں نے اسے کھردرے سے لہجے میں خاموش کروایا تھا۔
نہیں ہوں میں آپکی پوتی ۔۔۔! آپ ہی نے کہا تھا میں غیر خاندان کی عورت ہو یاد ہے یا بھول گئے ۔۔۔آغا جان اس عدالت میں تو آپ بری الذمہ ہو جائیں گے لیکن روزِ محشر جو عدالت لگے گی جب حشر کا دن ہوگا سب خاموش ہوگے ۔۔
تو کیا میرے بابا چاہے گے۔۔۔۔کہ وہ اپنے باپ کا گریباں پکڑیں ۔۔۔ ؟ اس نے نم لہجے سے کہا تھا۔۔
اشنال میں جانتا ہوں تم اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔لیکن
یہ باتیں صبح بھی تو ہوسکتی ہیں چلو روم میں ۔۔!
ان کی کنڈیشن دیکھو وہ پہلے ہی شوگر بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔۔ اس طرح وہ اور بیمار ہوجائیں گے ۔۔۔!
روشنال نے اسکا بازوں پکڑ کر ایک دفعہ پھر سے مداخلت کرکے سمجھایا ۔۔
اوہ اچھا اب میں سمجھی آپ ان کےساتھ اس سازش یں ملوث ہیں میں کتنی بیوقوف تھی میں نہ سمجھ سکی کہ آپ ان کے ساتھ گھٹیا کھیل میں شامل تھے لیکن اب سمجھ آگئی کہ اب سب نے اتنی نفرت کے بوجود بھی کیسے اپنے شاندار وارث کی شادی مجھ سے کراؤئی آپ کی نفرت میں بھی غرض چھپی ہوئی تھی کہ گھر کی دولت بس باہر نہ جائے ۔۔۔۔!
مجھے کہہ دیتے میں نام کر دیتی ساری جائیداد آپکے نام پر یہ گھٹیا چلنے کی ضرورت تھی ۔
اشنال میں کہہ رہا ہوں روم میں جاؤ۔۔۔۔۔اب کی بار اس کے لہجے میں اتنی نفرت دیکھ کر روشنال نے لہجے پر مشکل ضبط کرتے اندر جانے کا تھا لیکن اس کے اندر اشتعال کا لاوا پھٹ رہا تھا وہ کتنی آسانی سے پل میں اسکی توجہ اور محبت ، کئیر منہ پہ مار گئی تھیم۔۔
نہیں آج کئی نہیں جاؤں گی آج آپ میرا منہ بند نہیں کروا سکتے آج ہی تو آپکی اصلیت اور گھناونا چہرہ سامنے آیا ہے مجھے اس دن کا بڑا شدت سے انتظار تھا کہ آپ کو سب کے درمیاں کہٹرے میں کھڑوں ۔۔۔۔! تب ہی تو آپ سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی ۔۔۔! آپ کے اتنے غلط رویے اور ظلموں کی وجہ س بھی آپ کو شکایت کا لفظ نہیں کہا۔۔۔۔! وہ چیخی تھی اب کی بار ۔۔۔! اس کا اتنا شیرنیوں جیسا انداز سب کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا تھا۔۔۔۔
اشنال آئی سییڈ گو ٹو روم۔۔۔! وہ اب کی بار اتنے زور سے
ڈھارا تھا اس کی دماغ کی نسیں ابھر آئی تھیں وہ سب کے سامنے اس کا بھی بھرم توڑ گئی تھی ۔۔
روشنال اس طرح بچی پر چیخ کر کیا ثابت کرنا چا رہے ہو ۔۔۔۔؟ تمھارا کوئی حق نہیں بنتا روشنال بچی کے ساتھ اسطرح رویہ رکھو صیغیر سب جو کب سے خاموش بیٹھے دے تھے اسے ڈھاڑتا ہوا دیکھ کر برس پڑے تھے۔۔
آپ میری حمایت میں مت بولے۔۔۔۔! آپ تو ان کے باپ ہیں میں آپکی لگتی ہوں۔۔۔۔؟ صرف آپکے محروم بھائی کی بیٹی ہوں ۔۔۔۔! اگر اتنا ہی مجھے اپنا سمجھا ہوتا تو اس دن یوں بے دردی سے گھر سے نہ نکالتے ۔۔۔۔! آپ ان کی طرفداری مت کریں ۔۔۔۔! اب مجھے کسی پر یقین نہیں رہا ۔۔۔ آپ بھی تو ان کے ساتھ چال۔۔۔
اشنال ۔۔۔۔وہ پھر سے ڈھارا اور اس بار ناچاہتے ہوئے بھی ہاتھ اس پہ اٹھ گیا تھا روشنال نے اسکی بات مکمل ہی نہیں ہونے دی تھی اسکے بھاری ہاتھ روشنال پر چھب کر رہ گئے تھے۔۔
اشنال تو منہ پہ ہاتھ رکے ساکت سی کھڑی اس کو دیکھ رہی تھی تھپڑ اتنا زور کا نہیں تھا جتنا زور کا اسے لگا تھا یہ تھپـڑ اس کی روح کے بخیے ادھیڑ کر رکھ گیاتھا وہ بے یقینی سے اسے دیکھتی رہی جو ہاتھ اٹھا کر اب شرمندہ سا لگ رہا تھا اس کو اسے یہ امید نہیں تھی وہ کچھ پل اس کو نظریں جھکائے دیکھتی رہی پھر وہاں سے نکلتی چلی گئی تھی
روشنال دماغ خراب ہوگیا ہے تمھارا ۔۔۔۔۔؟ ثمینہ بیگم نے اس بازوں سے پکڑ کر سختی سے کہا تھا۔۔
کیا ضروت تھی ہاتھ اٹھانے کی ۔۔۔؟ بچی ہے اتنے دور اکیلی رہی ہے اوپر سے جس طرح وہ تم سے بدتمیزی کر ری تھی مجھے نہیں لگتا کہ تمھارا رویہ اس کے ساتھ رہا ہو ۔۔۔انہوں نے تفشیش زدہ لہجے میں کہا تھا۔۔
بہت غلط کیا ہے تم نے ۔۔۔۔! میں تایا ہوں اسکا۔۔۔وہ بڑے مان سے گلے شکوے کررہی تھی گلے شکوے بھی وہی ہوتے ہیں جہاں مان ہوتا ہے ۔۔ اب کی بار صیغیر صاحب نے اسے جھاڑا تھا۔۔
تو میں کیا کروں بابا۔۔۔۔! وہ چپ ہی نہیں ہو رہی تھی اوپر سے سب سے غلط لہجے میں بات کر رہی تھی میں نے بہت ضبط کیا تھا لیکن نہ چاہا کر بھی ہاتھ اٹھ گیا تھا اب کی بار اس نے بہت ہی لہجے میں کہا تھا۔۔
اچھا چھوڑیں فلحال ۔۔۔۔۔ یہ بتائیں آپ کھانا کھائیں گے ۔۔۔۔۔؟ اس نے آغا جان کو شرمندہ بیٹھے دیکھ کر ماحول کی تلخی کو کم کرنا چاہا تھا۔
نہیں کھانا ہم کھا ہی آئیں ہیں ۔۔۔۔! ثمینہ بیگم اسے پریشان دیکھ کر کہا تھا۔
اچھا چھوڑیں آپ کو کافی تھکاوٹ ہورہی ہوگی میں آپ کو اسٹرونگ سی چائے بنا کر پلاتا ہوں ۔۔۔
وہ اٹھ کر نارمل سے لہجے میں کہتا کچن میں چلا گیا تھا۔۔
************
وہ تقریباً دو گھنٹے ان کے ساتھ گپ شپ کرتا رہا رات کے بارہ بجے وہ ماں بابا اور ثمینہ بیگم کو بھیج کر خود لاونج میں ہی بیٹھ کہ سیگریٹ پھونکتا رہا اس کا دماغ جیسے جنگ لڑ رہا تھا وہ سوچتا رہا ۔۔
وہ بے چین سا اٹھتا اس کے روم میں چلا آیا تھا پہلےاسے ایسے لگا کہ دروازے کو لاک لگا ہوا ہے لیکن صد شکر کہ غصے میں اس نے لاک نہیں لگایا تھا
وہ چلتا ہوا اس کے بیڈ پہ آیا تھا اور دوسری سائیڈ پہ بیٹھا تھا اسے لگا کہ وہ منہ دوسری طرف کیے کمفرٹ تانے سو رہی تھی وہ اسے ایسے ہی دیکھتا رہا ہر دس سیکنڈ بعد اسکی ہچکی نکلتی شاید بہت زیادہ رونے کی وجہ سے ایسا ہوا تھا۔۔۔
اس نے کمفرٹ ہٹایا تو وہ جاگی ہوئی تھی بازؤں سر پہ رکھے سسک رہی تھی سرخ ناک۔۔۔۔گلابی گال ۔۔۔روئی روئی متورم آنکھیں ، ناراض ناراض سا چہرہ ۔۔۔وہ اس کے ہاتھ کے نشان اس کے سفید چہرے پر نظر آ رہے تھے۔۔ لب کپکپا رہے تھے اسے اس طرح بے ساختہ روتے س پہ بے تحاشہ پیار آیا تھا اور خود پہ بے تحاشہ غصہ ۔۔۔۔! وہ اس کے قریب بیٹنھنے سے غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتی کمفرٹ مزید اپنے اوپر تان چکی تھی ۔۔۔
اشو بات سنو میری ۔۔۔۔وہ اسکا کمفرٹ پھر سے ہٹا کر کہنے لگا لہجے میں نرمی تھی۔۔
پلیز آپ اپنے روم میں جائیں مجھے اکیلا چھوڑ دیں ۔۔۔!وہ پھر سے ناراضگی سے کہتے کمفرٹ بازوں میں زور سے بھینچے چیخی تھی۔۔
اوکے آئم ساری یار میں جا رہا ہوں آئی ایم ایکسٹریملی ناچاہتے ہوئے ہوئے ہاتھ اٹھ گیا تھا۔۔۔۔
یہ احسان میرے اوپر مت کریں ۔۔۔مار ڈھاڑ کہ پھر سے سوری کرنے آجاتے ہیں وہ کمفرٹ اتارتی زور سے پھینکتی اسکا گریباں ہاتھوں میں تھامتی روشنال کو ساکت کر گئی تھی ۔۔۔
بہت کچھ کھونے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میری بھی کوئی سیلف ریسپکیٹ تھی پر افسوس مجھے دیر سے یاد آیا جب میں آپکے ٹوٹ کر کھلونا بن چکی ہوں۔۔۔!
وہ اسکو جکڑے دوسری دفعہ روپ دکھا رہی تھی آج وہ اسکو کچھ بھی نہیں کہہ رہا تھا وہ اسکا گریباں ہاتھوں میں تھامے چلا رہی تھی وہ واحد تھی جسےوہ کچھ بھی نہیں کہہ رہا تھا مگر جو اس کی طرف ہاتھ بھی اونچا بھی کرتا وہ اسے جہنم واصل کر دیتا تھا ۔۔۔
آج اشنال بخت کے ہاتھ اس کے گریباں پر گئے تھے لیکن اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا کیونکہ وہ اس کی رگوں میں اتر گئی تھی اسے محبوب ترین ہوگئی تھی اور محبوب کی پھر دیے گئے زخم بھی مرہم لگتے ہیں پھر چاہے وہ کانٹوں پر گھیسٹے یا زہر دے ۔۔۔۔! اور وہ اسکا عشق بن گئی تھی اس کی ہر سزا اسے قبول تھی آج وہ اس پہ ہاتھ اٹھا کہ پچھتا رہا تھا۔
؎ عشق بوعلی سکندر کرتا ہے۔۔ ۔۔۔۔![]()
عشق پاگل نہیں پاگل کو ولی کرتا ہے
اس وقت وہ ڈھارتے ہوئے شیرنیوں کو بھی مات دے رہی تھی آج غلطی بھی اشنال کی تھی اور شرمندہ بھی وہ خود تھا وہ اس کا چہرے اپنے ناخنوں سے نوچ رہی تھی اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا بس اس کے ہاتھوں سے مار کھاتا رہا ۔۔۔اسے پتہ تھا وہ دل کی بھڑاس نکال رہی ہے ۔۔۔ْ!
وہ اسے کے ہاتھوں سے مار کھاتا وہ اسکے سینے پر مکے برساتی رہی ۔۔۔۔آخر کار وہ تھک کر پیچھے ہٹنے لگی تھی جب روشنال نے اسے اپنے ساتھ لگالیا تھا۔۔۔
چھوڑیں مجھے ۔۔۔؟ وہ اس سے خود کو چھڑوانے لگی تھی۔۔
چھڑوا سکتی ہو تو چھڑوا لو ۔۔۔روشنال نےجیسے چیلنج کیا تھا۔
وہ ایڑھی چھوٹی کا زور رکھ کہ چھڑاتی رہی مگر روشنال کی مضبوط گرفت سے نہیں نکال سکی تھی جب تک وہ جاگتی رہی روشنال نے تب تک پکڑے رکھا تھا آخر تھک ہار کر اس کے کندھے پر سر رکھے بے بسی سے آنسوؤں نکالنے لگی کہ شاید وہ اسکا رونہ دیکھ کر چھوڑ دیں مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا اسے ترس نہیں آیا تھا۔۔
جب تک وہ سوگئی تب تک اس کی گرفت مضبوط رہی جیسے ہی اس کی ہلکی ہلکی سانسوں کی آواز آئی اس کی گرفت ڈھیلی ہوگئی تھی۔۔۔ !
جیسے اس نے گرفت ڈھیلی کی تو وہ اسکی بانہوں میں آ گری تھی اب اسکا چہرہ سامنے تھا
سوری ایم رئیلی سوری مائی لائف لائن ۔۔۔ تم تو صرف سراہے اور چاہے جانے کے قابل ہو۔۔۔!
اس کا معصوم چہرہ دیکھتے گھمبیر لہجے میں کہتے اس نے جھک کر اسکے گال پہ لب رکھے تھے وہ کتنی دیر پھر سے اپنے ساتھ لگائے محسوس کرتا رہا اور پھر آرام سے اس کو بیڈ پہ لائے کہ خود میں بھینچتے سوگیا تھا۔۔
*****
دور کئی فجر کی اذانیں ہو رہی تھی منال جو بالکل اذان کے ٹائم اٹھ جاتی تھی اب ویسے ہی اس کی آنکھ کھل جاتی تھی اس کا جلدی اٹھنا اللہ کی طرف سے سائن تھااسکےلیے۔۔۔۔!
اس کو اب عادت سی ہو رہی تھی صبح ا ٹھنے کی۔۔۔!
وہ اذانوں کی آواز سن کر آنکھیں کھول گئی تھی۔۔۔۔
جنٹیس پراڈا پرفیوم کی ہلکی ہلکی مہک سے اس نے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا تھا ایک دم سے آنکھیں پوری طرح کھل چکی تھی وہ اس کے ساتھ لگی سو رہی تھی
اس کے آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئی تھی وہ ایک دم سے رات کے واقعات میں زور ڈالنے لگی کچھ دھندلے سے منظر اس کی نگاہوں میں گھومے مگر صیح سے کچھ بھی اس کے ذہن میں نہیں آر رہا تھا وہ آنکھیں کھولے دیکھنے جب رات کو اس نے نہایت گرے ہوئے الفاظ استعمال کی اور وہ اپنے کردار کی گواہی کےلیے رو پڑی تھی اس کے بعد جب اس کو روکا تھا کہ رک جاؤ وہ سوچتی رہ گئی تھی تو کیا وہ اس کےلیے رکا تھا لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔۔
اگر وہ صرف ہمددری میں رک بھی گیا تھا تو وہ تو اسکا بھرپور تاوان ادا کروائے گا۔۔۔
اس کی پشت سے اپنے ہاتھ باندھے دیکھ کر وہ ایک دم سے اپنے ہاتھ ہٹا گئی تھی حسنال بخت گہری نیند میں تھا وہ بے ساختہ سی اس کو دیکھے گئی جو نیند میں بالکل سادہ دل اور معصوم اور مہرباں سا فرشتہ لگ رہا تھا۔۔۔
لیکن اسے پتہ تھا یہ مہربان فرشتہ جب اٹھے گا تو اس کے کردار کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دے گا وہ گناہ گار ضرور تھی لیکن گری ہوئی ہرگز نہیں تھی۔۔۔
اس کے رات کے تلخ الفاظ اس کے تخیل کے پردوں میں کھوئے تو آنکھوں سے آنسو چہرے کو دھوتے چلے گئے تھے وہ ہلکی سے پیچھے اٹھ بیٹھی تھی اور اپنا ڈوپٹہ سر پہ صیح کوور کرکے اسے دور ہوتی خاموشی سے اذان سننے لگی تھی ایک پرلطف سا احساس اس کے ارگرد بکھرا تھاجہاں رگ رگ میں سکون اترا تھا ۔۔
جب اذان ختم ہوئی تو اس پہلے کلمہ پڑھا اور دعا بھی سرگوشی میں کی تھی وہ آہستگی سے اس کے اوپر کمفرٹ سیٹ کرنے لگی وہ جو تکیے کو بازؤں میں دیے منہ اس کی طرف ہی کرکے سو رہا تھا منال کے بیوقوف دل نے شدت سے چاہا کہ ایک دفعہ اس کے بکھرے بال سمیٹے مگر عقل مند دماغ نے جنجھوڑ کر کہا کہ نہ کراؤ اس شخص سے اپنی تذلیل ۔۔۔۔۔! اور وہ پھراس عقل مند دماغ کی مانتی نماز پڑھنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی تھی..
نماز پڑھ کر وہ فارغ ہوئی تو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تھے
اپنی زندگی کی آسانی کےلیے دعا مانگنے لگی کیونکہ اسکی مشکلاتیں وقت کے ساتھ بڑھنے لگی تھیں وہ اس کے الفاظ نہیں بلا پا رہی تھی آنسوؤں جیسے دعا میں بھی ہتھلیوں پہ گرے تھے وہ بول نہیں پار رہیتھی مگر اسکے آنسوں اسے اللہ سے مخاطب کروانے لگے تھے۔
*جب انسان کی تکلیف حد سے بڑھ جائے تو وہ آنسوؤں کے ذریعے “ﷲ” سے ہم کلام ہوتا ہے
*انسان کے آنسو درحقیقت ایسی سیکرٹ فائل ہوتے ہیں جس کو چاہ کر بھی کوئی دوسرا انسان پڑھ نہیں سکتا کیونکہ اس کا پاسورڈ صرف “ﷲ” کے پاس ہوتا ہے*
*_اپنے دل کی بات اپنے “اللہ” سے کیجئے
* اور وہ اب زمین والوں سے اللہ پہ بھروسہ کرتی تھی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں سیلابی ریلے کی طرح بہنے لگے تھے اور بے شک انسان کی آنکھوں سے نکلا جانے والا ندامت کا آنسو بھی بارگاہ الہی میں ہلچل مچا دیتا ہے۔۔!وہ کتنی دیر رب سے مخاطب رہی تھی۔۔۔
پھر اسکے کپڑےاستری کرکے رکھتی ناشتہ بنانے کےلیے کچن میں چلی آئی تھی اسے ٹینشن تھی اس کے ناشتے کی۔۔۔
کیونکہ اگر اس کی آنکھ کھل گئی وہ سب سے پہلے دیری کا اس کے پھوہڑ پن کا رونا روئے گا اور خفا ہوکر آفس چلا جائے گا۔۔۔
وہ تقربیاً ناشتہ بنا کر آدھے گھنٹے بعد واپس آئی تو وہ اپنے استری شدہ کپڑے شاید شاور لینے جا رہا تھا۔
وہ اسکا پھیلاوا سمیٹنے لگی تھی اسکے سوٹ وغیرہ سمیٹ کر لیپ ٹاپ بیگ ٹیبل پہ رکھا کمفرٹ تہہ کر کے
بیڈ شیٹ سیٹ کی تھ اس کے آنے اس نے روم صاف کیا تھا۔۔۔!
وہ فریش ہو کہ ٹاول سے بالوں کو خشک کرتا روم میں آیا
تو بالکل ساری صفائی دیکھ کر اس کے بدلنے کا قائل ہوگیا تھا وہ الماری میں کپڑے تہہ کرکے رکھ رہی تھی۔۔
ناشتہ یہ ہی لاؤں تمھارے لیے۔۔۔۔۔؟ وہ الماری سیٹ کرکے پلٹی تو اس کو اپنی طرف ہی دیکھتے پایا تھا وہ نگاہیں جھکا کر پوچھنے لگی تھی ۔
اس کی سحر زدہ آنکھوں کے حساس حصوں پہ چھائی سرخی اس کی شدت گریہ آنکھوں کی رونے کی گواہی دے رہی تھیں ۔۔
اس کو دیکھتے حسنال کے دل میں عجیب سی جنجھلائٹ سے اترنے لگی تھی وہ مجرمانہ احساس جو اسے رات سے اس کے دل میں اتر تھے وہ خود ہی انھیں قبول کرنے سے خوفزدہ تھا۔
وہ بغیر کچھ کہے ایک تلخی سے بھرپور نگاہ ڈالے پلٹ کہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس چلا گیا تھا وہ پھر سے اس کی ذات کو لاتعلق کرکے منہ پھیر گیا تھا پھر سے اس زمین پر گراگیا تھا۔۔۔
؎ ہم حادثوں سے گرگئے محسن زمین پر۔۔۔۔![]()
![]()
ہم رشکِ آسماں تھے ابھی کل ہی کی تو بات تھی
( محسن نقوی)
ادھر آؤ۔۔۔۔اس نے سنجیدہ لہجے میں پکارا تھا وہ چلتی ہوئی اس کے پاس چلی آئی تھی ۔۔
یہ بند کرو۔۔۔۔! گاڑی ہاتھ پہ رکھے اسکی طرف اشارہ کیا تھا۔۔۔
وہ نگاہیں جھکائی اس کی گھڑی کو لاک کرنے لگی لیکن اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اس کی آنکھوں کے اچانک سے بدلتے تقاضوں کو دیکھ کر کانپنے لگی تھی اس کی گھڑی کا لاک بند ہی نہیں ہو رہا تھا لیکن تھوڑی سی کوشش لگا اللہ اللہ کرکے وہ بند ہو ہی گیا تھا وہ بند کرکے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔!
ادھر آؤ۔۔۔۔ اس نے پکارا وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگ پڑی حسنال آگے ہوا اس کے چہرہ کو تھام اس کی شدت گریہ آنکھوں پہ لب رکھتے منال کے دل کو دھڑکا چکا تھا۔۔
منال نے تو سوچا تھا کہ وہ رات والی بہن کو ذہن میں رکھ کہ اسے ٹارگٹ بنائے گے لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی اس کی نگاہوں میں نہ کوئی طعنہ نہ کوئی طنز تھا اس وقت وہ نرم نرم نظروں سے دیکھتا اسکا مہرباں سا شوہر لگ رہا تھا۔۔
میں اپنے اور تمھارے رشتے کو محض انا کی نظر نہیں کرنا چاہتا منال میں تمھیں وقت دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔وہ یہ کہتا اس کے ماتھے پہ لب رکھتے اسکی روح کو سرشار گیا تھا اس کی زندگی کو نوید سناگیا تھا۔۔
شکریہ ۔۔۔۔۔وہ جو نگاہیں جھکا کر کھڑی تھی اس کے الفاظ پہ نگاہیں اٹھا کربے یقینی و خوشی سے منہ کھولے اسے دیکھا تھا وہ اسے دیکھتی رہی تھی۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔۔اسے حیران کھڑا دیکھ کر حسنال نے مسکرا کر پوچھا جس سے اسکا ڈمپل سامنے آیا تھا منال کا شدت سے دل کیا کہ ان ڈمپل پہ وہ ایک دفعہ لب رکھے ۔۔۔۔!
اور آخر کار دل کی مانتی وہ اسکے گال پہ پیار کرنے لگی لیکن اس کی ہائیٹ چھوٹی تھی اس سے۔۔۔! وہ پھر سے ایڑھیوں کو اٹھائے اونچا ہوئی لیکن پھر سے ناکام ۔۔۔حسنال کو سمجھ نہیں آئی کہ وہ کر کیا رہی ہے ۔۔۔۔!
وہ اس کے سمجھنے سے پہلے ہی اس کے پاؤں پہ پاؤں رکھتی اس کے ڈمپل والی جگہ پہ لب رکھ گئی تھی ۔۔
اور حیران سا حسنال کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جب تک اس کو سمجھ آئی تب تک وہ چہرہ ہاتھوں میں چھپاتی دور ہوگئی تھی ۔۔
واپس آؤ منال ۔۔۔؟
نیچے آؤ میں ناشتہ لگا رہی ہوں ۔۔۔۔! وہ یہ کہتی مسکرا کرچلی گئی تھی ۔۔
جبکہ وہ اس کے لمس کو ابھی تک محسوس کر رہا تھا اس کا ناانجانی میں دیا گیا یہ پیارا سا تحفہ اسے بہت پسند آیا تھا وہ اسے یہ تحفہ نہیں بلکہ زندگی دے گئی تھی۔۔۔
