Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Episode 30,31)
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Episode 30,31)
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
اس کا سر اٹھا کر اس کی گلابی ڈوروں والی آنکھیں
دیکھتا اس کو اس وقت اپنے روم میں شدت سے روتا دیکھ کر بھونچکا رہ گیا تھا
کیا ہوا ہے بتاؤ تو سہی رو کیوں رہی ہو ۔۔۔۔۔؟ اس کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ وہ اس کے ہاتھوں پہ سر رکھ کہ پھوٹ پھوٹ کر رونے تھی۔
یار کچھ تو بتاؤ ۔۔۔۔امی نے کچھ کہا تو نہیں ہے ۔۔۔! وہ کتنا پریشان تھا اور کتنا حیران نظر آ رہا تھا ادھر وہ بس روہے جا رہی تھی۔
مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔وہ اپنی گھنی ریشمی آنسوؤں زدہ پلکوں کی بار اٹھاتے ہوئے بولی تھی
کس بات کےلیے۔۔۔۔۔روشنال کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ معافی کس بات پہ مانگ رہی ہے وہ پریشان سا ہوا تھا۔
میں نے بہت بدتمیزی کی نہ آپ سے۔۔۔! آپ کو میری وجہ سے تھپڑ پڑا تھا اس لیے آپ ناراض ہو کہ گئے تھی یہ کہہ کر پھر اس سے اس کے رونے میں شدت آگئی تھی.
ہائے اللہ میں کس دیوار پہ سر ماروں یعنی یہ لڑکی صرف میرے تھپڑ کی وجہ سے روتی رہی ہے ۔۔۔۔روشنال نے اسکی بات سن گہری سانس لی تھی اور دل ہی دل میں اسکی معصومیت پہ حیران تھا۔
اچھا ادھر بیٹھو۔۔۔۔وہ اسے شانوں سے تھامتا صوفے پر بیٹھا گیا تھا۔۔
یعنی میری اس جھلی سی بیوی اتنی چھوٹی سی بات پہ اتنا سیلاب بہا رہی ہے اور تھپڑ تو مجھے پڑا ہے پھر میری جھلی کیوں اتنی رو رہی ہے۔۔۔! وہ اس کے چہرے سے اسکے ہاتھوں کو اٹھاتا ہوا بھاری لہجے میں بولا تھا
مسئلہ ہی یہ ہے کہ تھپڑ آپ کو پڑا ہے لیکن درد مجھے ہوا ہے۔۔۔وہ یہ کہہ کر اسے لاجواب کرگئی تھی۔۔
لیکن یہ تھپڑ بھی تو ادلے کا بدلے تھا مسز روشنال ۔۔۔۔! آپ کو خوش ہونا چاہیے تھے کہ آپ کے تپھڑ کے بدلے میں مجھے تھپڑ پڑا تھا ۔۔۔
لیکن جس طرح سے آپ گھر سے گئے تھے غصے سے مجھے لگا کہ آپ مجھ سے ناراض ہوکہ گئے ہیں۔۔
نہیں میری زوجم ۔۔۔۔۔ میں بھی تو آپکے ساتھ غلط کر جاتا ہوں اسکا تو آپ حساب بھی نہیں لیتی ۔۔۔۔!
آپ سچ میں ناراض نہیں ہیں۔۔۔۔وہ آنکھوں کو اٹھاتے تحیر سے پوچھنے لگی تھی۔۔
اور میری اس چھوٹی سی جان نے ایسا کونسا کام کیا ہے کہ میں ناراض ہوجاؤں گا اور مجھے لگتا ہے کہ میری چھوٹی سی جان مجھ سے خفا ہوگی ۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا نرمی سے پوچھنے لگا۔ ۔
وہ تو میں آپ سے ہوں ۔۔۔! وہ اسکو اتنے نرم لہجے میں دیکھ کر لاڈ سے بولی تھی۔۔!
اچھا اتنا دنوں سے ظا لم بن کر جو بدلے لے رہی ہو میری جان اسکا کیا۔۔۔۔! وہ اسکو کیوٹ کیوٹ سے منہ بناتے دیکھ کر تھوڑا سا قریب ہوا تھا…
آپ نے مجھے تھپڑ بہت زور سے اور سب کے سامنے مارا تھا۔۔ اس نے کہا تو ضبط سے تھا لیکن روشنال نے اس کی آنکھوں میں ہلکی ہلکی نمی محسوس کی تھی۔
پھر پیار بھی تو ایسے ہی کیا تھا نہ۔۔۔۔! روشنال نے اس کے ہاتھوں میں اپنے ہاتھوں میں لے کر پوچھا تھا۔
اشنال اس کی بے باک جسارت پہ گبھرا گئی تھی لیکن پھر بھی لہجے کو مشکل سے نارمل کیا تھا۔
لیکن بڑی امی کہتی ہیں کہ منہ پہ تھپڑ مارنے اس بندے کی ساری نیکیاں اس کی طرف چلی جاتی ہیں جس معصوم کو تھپڑ پڑتا ہے۔۔۔! اس نے معصومیت سے بڑی امی کا حوالہ لیا تھا۔
اچھا پھر ٹھیک ہےمیں نے تو گناہ گار سا بندہ ہوں میری نیکیاں کہاں ہوں گی۔۔۔۔؟ وہ اس کی بات پہ اطمنیان کرتا اس کو سکڑے بیٹھا خود ایزی ہوکر لیٹ گیا تھا۔
استغفراللہ ۔۔۔۔ ! ایسا نہیں کہتے ۔۔۔۔! لیکن آپکا ریلائز ہونا چاہیے کہ آپ نے مجھے تھپڑ سختی سے مارا تھا ۔۔
اور اس کی یہ بات سیدھی روشنال بخت کے دل میں لگی تھی وہ جو دو دن سے اسے مار کر بےچین تھا اس کے لفظوں سے جیسے گہری کھائی میں گرا تھا۔۔
اچھا ایک کام کرو جتنا تمھیں زور سے تھپڑ مارا تھا نا اسے دوگناہ زور سے مجھے مارو ۔۔۔۔! وہ لیٹے لیٹے بازوں سے پکڑے اپنے پاس کرگیا تھا۔۔۔
نہیں آپ مجھ سے بڑے ہیں مم۔۔۔میں ایسا نہیں ۔۔۔کرسکتی۔۔۔! وہ اس کے گرفت میں گبھرائی تھی۔
نہیں اشنال آج میں کھلے دل سے اجازت دے رہا ہوں ایک زور کا تھپڑ مجھے مارو جس طرح میں نے تمھیں مارا تھا۔۔اور بھی کوئی ایسی سزا تجویز کرو جسے تمھارے روح اور وجود کے زخم مت جائیں ۔۔! وہ گہری یاسیت سے کہنے لگا تھا۔۔
چھ۔۔۔چھوڑیں۔۔۔مم۔۔۔میں نے جانا ہے ۔۔۔۔! وہ اس کے گہرے دلگیر لہجے اور ایک دم سے اسکی آنکھوں میں چمکتی نمکی کو دیکھ کر ہکلائی تھی وہ ہر روپ میں اسے زیر کرنے کا فن رکھتا تھا لیکن وہ اسے اس حال میں ہی نہیں دیکھ پا رہی تھا وہ جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی اس کی طر دیکھا تو پتھر کی ہوکہ رہ گئی تھی اس شخص کی آنکھوں میں آنسوؤں تواتر سے بہہ رہے تھے۔
وہ اندازہ نہیں کر پائی تھی کہ وہ شخص اپنے ہی دئیے گئے زخموں پر رو رہا ہے ۔۔۔
کیا ہوا ہے سپرمین آپ رو کیوں رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے قریب ہوئی تھی …
کچھ نہیں ہوا مجھے جو کہہ رہا ہوں وہ کرو۔۔۔۔۔جس طرح تمھیں زور کا لگا تھا اتنی شدت سے مارو ۔۔۔! جس دن سے تمھیں مارا ہے اس دن سے اس سنگدل کو چین نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔! سکون ڈھونڈ رہا ہوں میں مجھے سکون نہیں ملتا کیونکہ تمھاری آنسوؤں سے نکلے آنسوؤں نے مجھے بہت سخت قسم کی بد دعا دی ہے ۔۔۔۔۔میں ایسی راہ ڈھونڈ رہا ہوں جس راہ سے کوئی مداوا ہوجائے۔۔!
ہری اپ اشنال جلدی کرو۔ ۔۔۔۔! وہ اتنا تیز بولا تھا کہ اشنال کانپ کہ رہ گئی تھی۔۔۔۔
نہیں سپرمین نہیں ۔۔۔۔! پلیز نہیں وہ روہانسی ہوئی تھی ۔۔
اشنال میں جو کہہ رہا ہو وہ کرو ۔۔۔۔۔۔وہ اب کی بار پہلے سے کافی اونچے لہجے میں بولا تھا۔۔
اشنال نے اس کے آنسوؤں اپنے ہاتھوں سے صاف کیے تھے
ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔نہیں ۔۔۔وہ یہ کہتے جھک کر اس کے گال پہ لب رکھ گئی تھی اور پھر اس کے گال کے ساتھ گال ٹکا لیا تھا۔۔
روشنال ساکت رہ گیا تھا وہ اب اس کے اوپر پڑی اس کے گال ساتھ گال ٹکائے اس کے قمیض کے کالر کو تھامے لمبی لمبی سانس لے رہی تھی۔۔
اس بار بڑی امی نے نہیں کہا کہ اس طرح پیار کرنے سے بھی ساری نیکیاں پیار کرنے والے شخص کو چلی جاتی ہے۔۔۔
وہ جو خود کو چھپا رہی تھی اس کی شوخ گمھیبر آواز سنتی اس نے جلدی سے اٹھنا چاہا تھا اس کی سانسیں اتھل پتھل ہو رہی تھی وہ خود کو سنھبال نہیں پا رہی تھی۔
آپ میرے ساتھ ایک گیم کھلیں گے ۔۔۔۔۔؟ وہ اٹھتی بات بدلتی ہوئی بولی تھی۔
یہ کیا بچپنا ہے ۔۔۔۔اس عمر میں گمیز کھیلتا اچھا لگوں گا کیا۔۔۔۔۔؟وہ اس کی اچانک فرمائش پہ حیران ہوا تھا۔
ایج سے کیا ہوتا ہے ۔۔۔۔! آپ میری خاطر کھیل لیں نا۔۔۔!
اچھا۔۔۔۔کونسی وہ اسے مایوس کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی خاطر بولا تھا کیونکہ اب وہ اس کی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔۔
ٹروتھ اینڈ ڈیر ۔۔۔۔اس نے گیم بتائی تھی اور اسکی پاکٹ سے پنسل نکال لی تھی ۔۔۔! میں آپ سے محبت کرتی ہوں اس نے اپنی ہتھیلی پر لکھ کے اسے دکھایا تھا ۔۔۔۔وہ جیسے اپنا آپ منوانے آئی تھی۔
اور آپ مجھ سے۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے ہاتھ میں پنسل دیتے پوچھنے لگی تھی
زوجم محبت لکھی نہیں جاتی محسوس کی جاتی ہے بالکل خاموش دھڑکتے دلوں کی طرح۔۔۔! وہ انا کا مارا شخص جیسے آج بھی محبت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔
کیا میں آپ کو اچھی بھی نہیں لگتی ۔۔۔۔۔! اس نے نظریں اٹھائیں تو اسکو گھورتے ہوئے پایا تھا وہ اس شخص کو سچ میں سمجھ نہیں پائی تھی ایک دم سے گبھرا گئی تھی۔۔
مطلب میرا اور آپکا گزارہ زندگی بھر ہو جائے گا نا۔۔۔ وہ گڑبڑاتے بات کو سنھبال گئی تھی۔
کیا عملی ثبوت چاہیے میری محبت کا زوجم۔۔۔۔! روشنال کے ہونٹوں پر بڑی خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی ۔۔
پھر بھی۔۔۔۔۔وہ پھر سے بضد ہوئی تھی آج تو وہ اسے اظہار محبت منوانے آئی تھی۔۔
تم نہیں جانتی مگر زوجم ۔۔۔۔میں اپنے سے جڑے ہر رشتے سے بے انتہا محبت کرتا ہوں اور اس محبت میں ” اشنال بخت “
پہلی صف میں کھڑی ہے ۔۔۔!
اب خوش ہیں میری زوجم۔۔۔۔!
اشنال بخت میری چلتی ڈھڑکنوں کےلیے بہت ضروری ہے وہ یہ کہتا اٹھ کر اسے اپنے ساتھ لگا چکا تھا۔۔
وہ آج اسے واقعی خوش کرچکا تھا اس نے آج اپنی سوچ سے بڑھ کر روشنال بخت کو خوبصورت پایا تھا اس کے ہاتھوں کی تپش اور نگاہوں سے بچ پانا اشنال بخت کو بہت مشکل لگا تھا ۔۔اس کی گالوں پہ لالی بکھر گئی تھی آج وہ اسے اور زیادہ عزیز ہوگیا تھا کیونکہ اس نے اس شخص سے اپنا آپ جو منوا لیا تھا ۔۔۔جو اپنے آگے کسی کی نہیں مانتا تھا۔وہ شخص اس کے آگے جھک گیا تھا جو اپنے رب کے علاوہ کسی کے آگے نہیں جھکتا تھا۔
![]()
ابیہا علی شاہ ![]()
![]()
منال فجر کی نماز پڑھ کر اپنے رب کا شکر ادا کر رہی تھی
کیوں جو گڈ نیوز اسے اللہ نے دی تھی وہ بہت بڑی تھی وہ آج ماں کے رتبے پہ فیض ہونے والی تھی جیسے ڈاکٹر نے اسے گڈ نیوز دی تھی وہ روئی بھی بہت اور خوش بھی بہت تھی کیونکہ اولاد ہوتی تو رب کی طرف سے رحمت ہے لیکن اگر اس کی پرورش میں ذرا بھی کمی ہو جائے تو وہ زحمت لگنے لگتی ہے۔۔۔۔ !
وہ اس لیے سوچ رہی تھی کہ اگر اس سے ذرا خطا ہوگئی تو کیا اسکی اولاد اسکی طرح محرومی والی زندگی گزارے گی۔۔۔! لیکن اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اپنے آنے والے نسل کی اچھائی خود کو قربان کر دے گی لیکن ان کو اچھا مستقبل دے گی ۔۔وہ دعا مانگتی جائے نماز کو تہہ کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی
اس نے ڈوپٹہ اتار کہ گلے میں ڈالا ۔۔۔۔! ڈریسنگ ٹیبل کے پاس کھڑے ہوکر خود کو دیکھا تھا وہ حسنال کے دلائے گئے ریڈ کلر کے فراق میں بہت پیاری لگ رہی تھی ساتھ میں میچنگ چوڑیاں بھی اس کے حسن میں اضافہ کر رہی تھیں۔ ہاتھوں پہ مہندی حسنال نے خود لگوائی تھی مہندی سے اس کے ہاتھوں پر منال حسنال بخت لکھا ہوا تھا جو کہ حسنال نے خود لکھا تھا اسے حسنال بے ساختہ پیار آیا تھا۔
اس نے پہلے بال سنوارے پھر ہلکا ہلکا میک اپ کیا ، لپ اسٹک ہونٹوں پہ لگائی اور کاجل کی دھاری آنکھوں میں لگا کہ خود پہ ایک بھرپور نظر ڈال کے وہ بیڈ کی طرف آئی تھی جہاں بہت سکون سے وہ مہرباں شخص سو رہا تھا۔۔
حسنال۔۔۔۔۔حسنال۔۔۔اس نے قریب بیٹھ کر اس کی بالوں پہ ہاتھ رکھ کہ ہلکے سے پکارا تھا۔۔
جی۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر آنکھیں بند کرکے محض اتنا ہی بولا تھا۔۔
اٹھو نہ تم لیٹ ہو جاؤ گے گیارہ تو بج گئے ہیں ۔۔۔منال نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا تھا تاکہ وہ جلدی اٹھ جائیں ۔۔۔اور واقعی اس کا جھوٹ رنگ لایا تھا وہ جلدی سے اٹھ کہ بیٹھ گیا تھا۔۔
کیا۔۔۔۔کیا۔۔۔وہ آنکھیں کھولتا شاک ہوا تھا مگر منال کو زور زور سے ہنستا دیکھ کر اسکی کارکردگی سمجھ میں آئی تھی ..
میری قربت میں رہ کہ بہت چالاک ہوتی جا رہی ہیں آپ۔۔۔۔! وہ اسے جھٹ سے اپنے حصار میں لےگیا تھا۔
ہاں تو اور کیا ایسے تو تم نے اٹھنا ہی نہیں تھا۔۔۔! وہ پرسکون سی اس کے سینے پر سر ٹکا کر خوشی سے کہنے لگی تھی…
تھینک یو ۔۔۔مجھے اتنا بڑا گفٹ دینے کےلیے۔۔۔۔! مجھے اتنے معتبر رتبے پہ فائز کرنے کےلیے۔۔۔۔ہر اس چیز کےلیے جس کےلیے جو میرے لیے خوشی کا بحث بنا آپ نہیں جانتی کہ آپ نے مجھے کتنا خوش کیا ہے میری زندگی کو مکمل کر دیا ہے آپ نے۔۔۔۔! وہ اس کی پیشانی پہ پیار کرتا نرم سا بولا تھا۔۔۔!
Do everthing with a good hearted and expect nothing in return and you will never disoppionted….
اس نے یہ لائن انگلش میں کہی تھی پتہ ہے منال میں آپکے ساتھ کچھ برا نہیں کرپایا ۔۔۔رشتوں میں انائیں نہیں چلتی ۔۔۔ میں رشتوں کو ایمانداری سے نبھانے کا عادی ہوں آپکو معاف کیا تو اب میں خود بھی پرسکون رہتا ہوں
اور اللہ نے اس خوبصورت دل کے بدلے اتنا پیارا تحفہ بھی دیا ہے مجھے ۔۔۔۔! وہ اس کے کانوں میں رس گھول رہا تھا۔۔
(In love or always be …honest
)
محبت میں ہمیشہ ایماندار رہیں ۔۔۔!
اور مجھے اس رشتے میں ایمانداری چاہیے ۔۔۔۔! وہ اسے بتا بھی رہا تھا اور جتلا بھی رہا تھا۔۔
اچھا ادھر آئیں تھوڑی دیر میرے ساتھ لیٹیں خود کو مجھے محسوس کرنے دیں ۔۔۔۔! وہ اس کو کھینچ کہ اپنے اوپر لٹا چکا تھا۔۔۔!
حسنال پلیز۔۔۔۔۔کچھ دیر بعد اسکے ہونٹ اپنی گردن پہ محسوس وہ گبھرا کہ رہ گئی تھی ۔۔
خاموش سو جائیں ۔۔۔۔! اب آپ کی آواز نہیں آنی چاہیے نہیں تو میں اپنے طریقے سے بند کرواؤں وہ اسے خود میں سمیٹے بند بولا ۔۔۔۔
اس کی بات سنتی منال نے جھٹ سے آنکھیں بند کیں تھیں۔
![]()
ابیہا علی شاہ![]()
![]()
شکر ہے تم تیار ہو۔۔۔میں ویسے ہی پریشان تھی ہر چیز میں بازار سے منگوالیتی ہوں تم بس چائے بنالو۔۔۔۔!
منال حسنال کو بھیج کر پرسکون سی بیٹھی اس ہی کو سوچ رہی تھی جب ثمینہ بیگم اندر آئیں تھیں۔۔۔
کو۔۔۔کون آ رہا ہے ۔۔۔اس نے سمجھا اشنال اور روشنال لوگ آرہے ہیں لیکن ماں کی چہرے پر خوشی دیکھ کر اسے گڑبڑ لگی تھی تبھی پوچھے بغیر نہ رہ سکی تھی۔۔
ثمن اور اسکا بیٹا تمھیں دیکھنے ۔۔۔۔۔وہ لاپروائی سے بولی تھیں جیسے وہ تیار بیٹھی ہو۔۔!
امی ۔۔۔۔وہ بے یقینی سے اتنا ہی کہہ سکی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئی تھیں وہ اٹھ کہ کھڑی ہوگئی تھی۔۔
بس اب تمھاری نوٹنکی شروع ہوئی نہ تو تم میری فطرت جانتی ہو۔۔۔۔انہوں نے اسے دھمکایا تھا۔۔
بس بہت ہوگیا امی۔۔۔۔ آپ بےشک ان کو گھر میں بلا لیں لیکن میں ابھی حسنال کو کال کرتی ہوں ۔۔۔۔! یہ کہتے اس نے فون کی تلاش میں نگاہیں ڈورائیں اور فون اٹھالیا تھا ۔۔۔
منال۔۔۔۔۔ثمینہ بیگم اسکو آگے بڑھتا دیکھ کر غصے سے آگے بڑھی تھیں اور اس کے ہاتھ سے فون لے کر دیوار پر زور سے مارا تھا منال حیرت سے جہاں کھڑی وہیں کھڑی رہ گئی تھی وہ کمرے کے بیچ و بیچ دوٹکڑے ہوتے فون کو دیکھتے پریشان ہوگئی تھی۔۔
میں جو کہہ رہی ہوں خاموشی سے مان لو۔۔۔۔اس رشتے میں تمھارا فائدہ ہو نا میرا بہت ہی فائدہ ہے انہوں نے اسکی کلائی مڑوڑ کر کہا تھا۔۔
میں بتاؤں گی حسنال کو آپ بے شک جو کچھ کر لیں۔۔۔۔ منال کی درد سے چیخیں نکلیں تھیں لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری تھی ۔
یہ مت سمجھنا کہ تم میری کمزوری ہو تو میں تمھارے آگے نرم پڑ جاؤں گی جو عورت دولت کےلیے انی جوانی تباہ کر سکتی ہے اپنے سہاگ کو مار سکتی ہے اپنی سوکن کو مار سکتی ہے ۔۔۔۔وہ سوچو کچھ بھی کر سکتی ہے۔۔۔
سوچو میں کتنی زہریلی ہوسکتی ہوں۔۔۔۔آج دس سال بعد کا راز انہوں نے اس پہ آشکار کیا تھا۔۔۔!
تو پھر سوچ لو جو عورت دولت کےلیے اپنے سہاگ کو مار سکتی ہے تو کیا وہ اپنی بیٹی کے سہاگ کو زندہ چھوڑ سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟ ان کا انداز بہت ہی خطرناک تھا۔
ا۔۔۔۔۔ام۔۔۔۔امی یہ ۔۔۔۔یہ سب۔۔۔۔کچچ ۔۔۔۔۔کچھ آ۔۔۔آپ نے کیا ہے نہ ۔۔۔۔۔بابا ۔۔۔کو آپ۔۔۔۔نے۔۔۔م۔ممار دیا ۔۔۔! اتنا بڑا تلخ سچ سن کر اسکا لہجہ بالکل ٹوٹ گیا تھا ماں کے زور سے پکڑنے سے چوڑیاں ٹوٹ چکی تھی ۔۔۔کلائیوں میں سے خو*ن آر رہا تھا ۔۔۔
اسے آج اس چوٹ کی تکلیف نہیں ہو رہی تھی جتنی ماں کا بھیانک روپ کھلنے پہ درد ہو رہا تھا۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ کاجل بھی بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
آج وہ کھل کر رونا چاہتی تھی لیکن اسے آنسوؤں نہیں آ رہے تھے۔۔۔!
Episode 31
آج وہ کھل کر رونا چاہتی تھی لیکن اسے آنسوؤں نہیں آ رہے تھے۔۔۔!
رو لو بے شک ۔۔۔۔! لیکن مجھے تم تیار چاہیے جب تک ثمن اور اسکا بیٹا آتے ہیں تب تک خود کو تیار کرلو اس میں تمھارا ہی فائدہ ہے
نہیں۔۔۔۔امی آج نہیں آج میں آپ کو اس سازش میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی میں دیکھتی ہوں آپکی وہ دوست اور انکا دو ٹکے کا گھٹیا بیٹا کیسے اس گھر میں قدم بھی رکھتے ہیں۔۔
وہ جو باپ کی موت اور اتنی بڑی حقیقت صیح سے صدمہ بھی نہ منا سکی تھی ماں کی غلط بیانی پہ اٹھ کر ڈھاری تھی۔
وہ آئیں گے اور تم جاؤ گی ان کے پاس کوئی بھی گڑ بڑ کیے بغیر۔۔۔۔۔! اگر کوئی گڑ بڑ کی نہ تو میں بتا رہی ہوں حسنال کی زندگی تمھارے ہاتھ میں ہے ۔۔۔! وہ اسے ڈھمکا چکی تھی اس کا پیلا پڑتا چہرہ دیکھ کر اُن کو اپنا پلان کامیاب ہوتا نظر آیا تھا۔
ٹھیک ہے میں مم۔۔میں۔۔تیار ہوں۔۔۔لیکن ۔۔۔۔اس۔۔اسکے بعد ک۔۔ککچ بھی میری بہن یا میرے شوہر کو ہلکی سی خراش بھی پہنچی تو پھر میں آپ سے حساب کروں گی۔
تم نے تو میرا دل خوش کر دیا میری بچی ۔۔۔! وہ اس کے پاس بیٹھتی پچکارتی ہوئیں بولی تھی جلدی سے میک اپ کرو دیکھو کیا حال کرلیا ہے تم نے ۔۔۔۔خود پہ رحم کرو ۔۔ انہوں نے اس کے بکھرے بالوں کو پیچھے کیا جب کہ منال ان کے ہاتھ جھٹکنے لگ پڑی تھی جیسی بھی تھیں وہ اس کی ماں تھیں وہ کچھ کرنا چاہتی تھیں لیکن کوئی چیز اسے روک رہی تھی یہ سب کرنے۔۔۔اور کچھ نہیں انہوں نے اسے پالا تھا۔
چلو شاباش ۔۔۔۔وہ گھر سے نکل آئے ہوں گے تم تیار ہو جاؤ لیکن کوئی گڑبڑ کی نہ تو تمھاری چالاکی تم پہ الٹ دوں گی گیارہ سال ہوگئے ہیں تمھارے باپ کو مروائے ہوئے کانوں کان کسی کو خبر نہیں ہوئی ۔۔۔۔! میں نے اس کلموہی کی ماں کو خبردار بھی کیا تھا لیکن وہ تھی کہ میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دی لیکن چچ چچ دو دن بعد مرگئی ۔۔۔۔!
اپنی اور اپنے شوہر کی ذمہ دار وہ عورت خود ہے ۔۔۔۔!
کیا تم بھی اپنے شوہر کی موت کی ذمہ دار بننا چاہتی ہو۔۔۔ !کیا ساری زندگی کےلیے پچھتاے میں رہنا چاہتی ہو ۔؟
وہ تو میری سوکن تھی اس کو کیسے زندہ چھوڑ سکتی تھی۔۔۔؟
لیکن تم بیٹی ہو تمھیں تو پیدا کیا ہے خود۔۔۔! اتنی ظالم تو نہیں ہوں نہ ۔۔۔۔! وہ اسے مکمل ٹارچر کرچکی تھی وہ ٹارچر ہو بھی رہی تھی وہ فتح حاصل کرچکی تھیں انھیں سمھ لگ گئی تھیں کہ اشنال ٹریپ ہوچکی تھی۔
میں جارہی ہوں شاباش آ جاؤ میرے پیچھے۔ ۔۔! وہ اس کا گال تھپتھپاتے اٹھ چکیں تھیں۔۔
وہ پیچھے روتی لفظوں کے دھارے میں روتی دھوتی اٹھ بیٹھی تھی اسے توزندگی اب ہی حسین لگنے لگی تھی لیکن خوشیوں کا دوارنیہ اتنا مختصر ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا۔۔۔۔۔!
۞۞۞۞۞
اشنال بیٹا ۔۔۔۔انڈے میں خود فرائی کرلیتی تم تب تک یہ ٹیبل پہ سیٹ کر دو۔۔۔وہ ناشتے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولیں تھیں۔
وہ ثمینہ بیگم کے ساتھ ناشتہ بنوا کے فارغ ہوئی تھی جب انہوں نے اسے کہا تھا۔
اس نے پانچ منٹ میں ٹیبل پہ ہر چیز سیٹ کی اور تنقیدی نگاہ ڈالی تھی۔۔
بڑی امی اور کوئی کام۔۔۔۔! وہ ان سے پوچھنے لگی تھی
نہیں تم جاؤ ۔۔۔۔روشنال کو اٹھاؤ وہ ناشتہ کرلے پھر آفس بھی جانا ہوگا شام کو نکلنا بھی ہے سب نے اسے کہنا آج جلدی آجائیں ۔۔۔۔وہ مصروف سی جواب دیتی انڈے کو فرائی پین میں ڈال چکی تھی ۔۔
جی ٹھیک ہے میں جاتی ہوں۔۔۔۔وہ پیچھے ہگ کرتی پیار دیتی چلی گئی تھی ۔۔!
وہ کمرے میں آئی تو وہ شہنشاہ شخص کشن کو ہاتھوں میں دبائے سویا ہوا تھا جو سوتے ہوئے بہت معصوم لگ رہا تھا وہ جاکر آرام سے اس کے پاس بیٹھ کر فرصت اور وارفتگی سے دیکھنے لگی تھی کیونکہ وہ اس شخص کو جاگتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی تھی کیونکہ اس کی نگاہوں کی چمک اسے کچھ دیکھنے ہی نہیں دیتی تھی
جب سے تہمینہ بیگم نے بخت ولا کا تھا اس وقت سے وہ بہت پریشان تھی اداسی اور ویرانی اس کی آنکھوں میں سمٹ آئی تھی جس وقت سے بخت ولا میں جانے کا سنا تھا منہ پہ اداسی خود بخود چھا گئی تھی کیونکہ ثمینہ بیگم کو وہ جانتی تھی اسے لگ رہا تھا وہ جیسے ہی وہاں وہ پھر سے بچپن کی طرح ٹارچر کریں گی۔
وہ اسی اداسی کی کیفت میں نجانے کب سے دیکھ رہی تھی اسے سمجھ نہیں لگی اور وہ جاگ گیا روشنال جو کروٹ لینے لگا تھا اس کو دیوانوں کی طرح دیکھتے پایا وہ تو مسکرایا تھا لیکن ان آنکھوں میں پریشانی واضح دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔۔
زوجم ۔۔۔۔کیا بہت پیارا لگ رہا ہوں۔۔۔۔ !وہ آہستگی سے کھنکھارتا ہوا بولا تھا اس نے جھٹکے سے ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
پلیز مجھے چھوڑیں ۔۔۔۔وہ ایک دم پھر سے ہچکچا گئی تھی اور ہاتھ چھڑانے کی کوشش بہت زور سے کی گئی تھی۔
چھوڑنے کےلیے تھوڑی پکڑا ہے ۔۔۔۔۔اس نے ہاتھوں پہ گرفت سخت کی تھی
پلیز چچ۔۔۔۔چھوڑیں۔۔۔۔! وہ اس کی نظریں خود جمے پاکر التجائی ہوئی تھی اس کی آنکھوں میں آنسوؤں بھر آئے تھے ۔
اگر میری زوجم یہ سمجھتی ہیں کہ وہ دو آنسوؤں بہا کر جان چھڑا لیں گی تو ایسا ہرگز نہیں ہونے والا کیونکہ میں اپنی جان کی جان تو ہرگزنہیں چھوڑنے والا۔۔ اس نے اس کا رخ اپنی طرف موڑا تھا۔
اچھا یہ بتاؤ اداس کیوں ہو۔۔۔۔؟ اس نے تفیششی لہجے میں بوچھا جو گرین کلر کے سمپل سے سوٹ میں نماز سٹائل ڈوپٹہ لیے بہت پیاری لگ رہی تھی لیکن اس کی آنکھوں میں اداسی ہی اداسی تھی۔
روشنال کہ یہ کہنے سے وہ حیران ہوگئی تھی کہ کیسے اس نے جان لیا تھا کہ وہ اداس ہے ۔۔۔!اس نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تھا۔
حیران مت ہو تمھاری رگ رگ سے واقف ہوں تمھارے دل و دماغ پہ قبضہ ہے میرا۔۔اس ننھے سے دماغ میں جو کچھ چل رہا ہے مجھے سب کچھ پتہ ہے ۔۔۔! تم کیا کرتی ہو کیا سوچتی ہو مجھے ہر شے کے بارے میں علم ہے زوجم۔۔۔! اس کی کھلی آنکھوں اور کھلے منہ کو حیرت سے کھلا دیکھ کر وہ مسکرا اٹھا تھا۔
اب بتاؤ کیا چیز پریشان کر رہی ہے تمھیں ۔۔۔۔؟ وہ خود کہنیوں کے سہارے اٹھ بیٹھا اور اس کی تھوڑی اٹھاتے پوچھا تھا۔۔
نہیں ہوں پریشان ۔۔۔۔پلیز چھوڑیں۔۔۔۔وہ اور زیادہ روہانسی ہوئی تھی
اشنال مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے سچ بتاؤ کیا ہوا ہے ۔۔وہ اسے جھٹکے سے کھینچتے اپنے قریب کرگیا تھا۔
تم بخت ولا نہیں جانا چاہتی کیا۔۔۔۔؟ اس وجہ سے پریشان ہو کہ کوئی تمھیں کچھ کہے گا ۔۔۔۔؟ وہ اس کو کمر سے پکڑتے بالکل اپنے ساتھ لگا چکا تھا۔
جی۔۔۔لیکن چھوٹی امی مجھے ماریں گی اور ڈانٹے گی بھی یہ کہتے اس کی آنکھوں میں مزید نمی آنے لگی تھی
اور کیوں میں اس وقت کہاں ہوں گا۔۔۔۔؟ وہ اس کے نماز سٹائل کو کھول کر اس کا ڈوپٹہ نیچے کرکے اس کے بالوں میں انگلیاں چلا رہا تھا۔
آپ جب آفس جائیں گی وہ مجھے مارا کریں گی سٹوروم میں بند کر دیں گی۔۔۔مجھے گرم چیزیں لگائیں گی۔۔۔میرے بال سے پکڑ کر کھینچے گی۔۔۔۔میرے منہ پہ کپڑا باندھ دیں گی ۔۔استری لگائیں گی ۔۔۔وہ جو بے خبری اور بے دھیانی بچپن کے واقعات سوچ رہی تھی اور ساتھ بتا رہی تھی وہ بے خبری میں سارے راز افشاں کر رہی تھی جسے سن کر روشنال کے چہرے کا رنگ بدلتا جا رہا تھا۔۔۔
کس نے مارا ہے تمھیں اور کیوں مارا ہے ۔۔۔۔؟ روشنال نے اشنال کو خود سے علحیدہ کرکے سختی سے پوچھا تھا جسے اشنال سہم گئی تھی ۔۔۔
بتاؤ اشنال کب کرتی رہی ہیں وہ تمھارے ساتھ ایسا ۔۔کب سٹور میں بند کیا ہے۔۔۔۔کب تمھارے منہ پہ کپڑا باندھا ہے ۔۔۔کب تمھیں استری سے جلایا ہے ۔۔۔۔۔؟اس نے زور زور سے اسے بازوؤں سے ہلایا تھا۔
بتاؤ اشنال بالکل سچ بتاؤ مجھے۔۔۔۔اس نے اس کی تھوڑی پکڑ کر سر اوپر اٹھا کر پوچھا تھا۔
وہ ۔۔وہ میرے منہ سے نکل گیا تھا ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔وہ ایسے سہمی جیسے ثمینہ بیگم کے سامنے روشنال انویسٹگیشن کرر رہا ہو۔۔۔
اشو۔۔۔۔میں کیا کہہ رہا ہوں منہ سے ایسے ہی کچھ بھی نہیں نکلتا کچھ تو ہوتا رہا میرے پیچھے سچ بتاؤ بالکل ۔۔۔۔مجھے اسے غصہ آگیا وہ سچ بتا ہی نہی رہی تھی۔۔۔
اس کے اونچا بولنا سے اشنال سر پہ منہ کے آگے دونوں ہاتھ الٹے رکھ گئی جیسے وہ مارنے لگا ہو اشنال مسلسل کانپ رہی تھی اس کے ہاتھوں کی لرزش اتنی زیادہ تھی کہ روشنال کچھ سوچنےپہ مجبور ہوا اُسے کچھ کچھ یہ ماضی کا حادثہ لگا تھا۔
اس نے ایک نظر اسے دیکھا جس کے بال آگے پیچھے کندھوں پہ پڑے ہوئے تھے کچھ منہ کے آگے پڑے ہوئے تھے وہ کسی ڈری سہمی بچی کی طرح تھر تھر کانپ رہی تھی جیسے ہجوم میں ماں باپ سے بچھڑ جائے اور اسے ماں باپ کا پتہ نہ ملے۔۔
اشو۔۔۔۔آہستگی سے کہتے اس کو پکارا تھا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تھی وہ ہنوز ایسے ہی کانپ رہی تھی۔۔
اس سے بالکل ایسے ہی کانپتا دیکھ کر اور کوئی سوال و جواب نہ پاتے وہ اس کے قریب ہوا اور کمر سے پکڑ کر اپنے ساتھ لگاکہ اس کے بال سلانے لگا تھا وہ کانپ ایسے ہی کانپ رہی تھی روشنال نے اسے اپنی گود میں لٹایا تھا
اور اس کے گرد مضبوط حصار باندھا وہ بلکتی رہی روشنال اس کے بال سلاتا رہا پھر جھک کر ایک جاندار بُوسہ اس کے گال پہ دیا تھا۔۔۔!
اشو بات سنو میری ادھر میری طرف دیکھو۔۔۔۔! اس نے دیکھنا تو کیا سنا بھی نہیں اور اس کی پشت کے گرد بازو باندھ کے منہ اس کے سینے میں چھپایا تھا۔۔
اب مجھے پتہ لگا تم بخت ولا سے اتنی ڈرتی ہو۔۔۔۔میرے پیچھے خالہ تمھارے ساتھ اتنا بھیانک سلوک کرتی رہی تمھاری معصیومیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہیں اوپر سے میری بغیرتی کی انتہا بھی ختم ہوگئی تھی میں بھی اپنی انا کی بھٹی میں تمھیں جھونک دیا جسے تمھیں بھی زخمی کیا اور خود بھی جلتا رہا ۔۔۔وہ بہت غصے تھا اس کا وجود مسلسل کانپ رہا تھا۔
اب میں بابا کی ضد کے آگے خاموش نہیں تو میرا بھی دل نہیں کر رہا لیکن اپنے سپرمین پہ بھروسہ رکھو میں ہر مشکل کے آگے آجاؤں گا ۔۔۔جہاں تمھارے آگے مصبیتں ہوں گی میں ان مصبیتوں کے آگے ڈٹ جاؤں گا ۔۔۔۔میں سائےکی طرح تمھارے ساتھ رہوں گا لٹل گرل ۔۔۔۔تمھاری سیفیٹی کےلیے مجھے موت بھی آگئی تو میں اس سے بھی نہیں ٹلوں گا۔۔۔! خدا کے بعد تم مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ پاؤں گی میں تمھارے لیے موت سے لڑ جاؤں گا۔۔
وہ یہ کہہ رہا تھا جب اس کا نازک ہاتھ اپنے لبوں پر پڑا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔
پلیز ایسے نہ کہے سپرمین آپکے بعد میں کیا کروں گی ۔۔۔۔میرا وجود تو آپکے بغیر ادھورا ہے اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے جیوں مجھے تو موت ویسے ہی آجائے گی۔۔۔میں تو اس دن ہی مر جاؤں گی وہ روئے روئے لہجے میں کہتی اس کی گود میں سرٹکائے ہولے سے بولی تھی ۔۔۔
روشنال کو اس پہ ٹوٹ کے پیار آیا تھا اسے اب محسوس ہوا کہ وہ اس کے پاس تحفظ محسوس کر رہی ہے ۔۔۔
تو پھر مجھ پہ یقین ہے نہ میری اشو کو۔۔۔۔اس نے اس کی نگاہوں میں نگاہیں ڈالتے پوچھا تھا۔
جی خود سے بھی زیادہ۔۔۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا تو روشنال نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اسکے آنسو اس کے گال پہ پیارا بھرا لمس چھوڑا تھا…
اچھا پھر یہ بتاؤ ۔۔۔۔خالہ کہاں مارتی تھی میری اشو کو اس نے آہستگی سے اور بہت ہی پیار سے پوچھا تھا۔۔۔
یہاں ۔۔۔۔یہاں استری لگائی تھی پپ۔۔۔۔پیچھے۔۔۔۔اس نے ہلکی سی شرٹ اٹھائی تو جلے کا نشان سامنے نظر آیا تھا روشنال کو وہ نشان کافی بڑا لگا تھا بے شک درد اسے نہیں ہور رہا تھا زخم پرانا ہوگیا تھا لیکن نشان رہ گئے تھا۔۔۔۔وہ ساکت رہ گیا تھا وہ اسکا محرم تھا اس کے درد سے بےخبر ۔۔۔۔وہ اسے مارتی رہی تھی ذہنی ٹارچر بھی کیا تھی ۔۔۔۔اس نے جلدی سے اس کی شرٹ صیح کی تھی تاکہ وہ بعد اپنی بے اختیاری پر شرمندہ نہ ہو ۔۔۔۔۔جو چیز اسے بے اختیاری کے لمحوں میں ہو جاتی تھی وہ بعد میں اکثر بہت پریشان رہتی تھی ٹنشن میں رہتی تھی روشنال سے بہتر یہ بات کون جانتا تھا ابھی بھی یہ ہی ہوا تھا وہ شرمندہ نظر آرہی تھی ۔
اس کی شرمندگی دیکھ کر اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور پھر بیڈ سے اترتا بانہوں میں اٹھا چکا تھا۔۔۔
مم۔۔۔۔مجھے ننن۔۔۔۔نیچے ۔۔۔اتاریں پلیز۔۔۔! مم۔۔۔۔میں نے کچن میں جانا ہے وہ منمائی تھی۔۔
ٹو منٹ ویٹ ۔۔۔۔اس کی بھاری سن کر وہ اس کے سینے کے ساتھ سر ٹکا چکی تھی۔۔
اپنی آنکھیں بند کرو۔۔۔۔۔اس نے حکم دیا تھا اور وہ جلدی سے آنکھیں بند کر گئی تھی اشنال کو الماری میں سے کھٹ پھٹ کی آواز آئی تھی ۔
اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔۔! وہ یہ کہتا اسے زمین پہ اتار چکا تھا۔۔۔
یہ چینج کرکے آؤ۔۔۔۔۔وائٹ اینڈ بلیک کلر کی میکسی جس پہ ہاتھوں کا کام بن ہوا تھا لائٹ لائٹ سا کام ہوا تھا وہ بہت پیاری مکیسی تھی اپنی میکسی دیکھ کر اس کی آنکھیں ہی چندھیا گئی تھی۔۔۔
ہم کہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔وہ میکسی دیکھ کر شاک شاک سی بولی تھی۔۔۔
آپکے سسرال مادام اور کہاں۔۔۔۔! اس نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔
ویسے یہ۔۔۔کب۔۔۔کب لائے آپ۔۔۔۔؟ وہ منہ پھاڑ سر جھاڑ والے لہجے میں پوچھ رہی تھی
جب کل بابا نے تھپڑ مارا تھا خفا کہ فرقان کے ساتھ بازار گیا تھا اس نے بھابھی کےلیے ڈریس لیا تو مجھے یہ میکسی بہت پسند آئی تھی ساتھ میں میچنگ ہیل بھی ہیں ۔۔۔!اس نے مسکرا کر عام سے لہجے میں بتایا تھا
لیکن ۔۔۔۔وہ۔۔۔وہاں۔۔یہ ڈریس کیسے پہن کر جاسکتی ہوں۔۔
وہ بولی تو جیسے ابھی تک صدمہ تھا اسے۔۔
یہ ہی پہن کہ جانا ہوگا۔۔۔آخر سب کو بھی تو پتہ چلے کہ بخت ولا میں پریوں کی حور اتری ہے وہ سنجیدہ سا کہتا آخر میں شرارتی ہوا تھا۔
جلدی جاؤ۔۔۔۔۔مجھے بھی لیٹ ہو رہا ہے۔۔۔! اس نے اب اسے کا بازوں ہلایا تھا جو خاموش سی میکسی دیکھ رہی تھی۔
وہ چلی گئی روشنال اسکی بلیک کلر کےہیلز لیے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
دس منٹ بعد وہ میکسی کو ہاتھوں سے پک کیے کنفیوز کنفیوز سی باہر آئی تھی ۔
یہ کئی گر کہ نہیں نہیں بھاگ چھوڑ دو اسے۔۔۔ وہ شرمندہ ہوتی ہاتھ اٹھا گئی تھی وہ جیسے ہی ایک قدم چلی میکسی اسے بہت بڑی تھی اسکا پاؤں میکسی میں آیا وہ بری طرح زمین پہ گری تھی۔
روشنال چلتا اس کے قریب گیا اس کے قریب گھنٹوں کھ بل بیٹھا تھا جو اب گردن پکڑ کے بیٹھی رونے کی تیاری پکڑ رہی تھی۔۔
اس نے اس کے بال ہٹا کر گردن کو اپنے ہاتھوں سے سہلایا تو اشنال نے خفگی سے اس کے ہاتھ جھٹکے تھے جیسے گرانے میں سارا قصور روشنال کا ہی ہو۔
اشو ۔۔۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔۔۔۔! روشنال نے اس کو منہ کے ٹیڑھے میڑھے زوایے اور غصے میں دیکھا تو مسکراہٹ دبا کر صفائی دی تھی کیونکہ اس کا غصے اور شرمندگی سے چہرہ لال تھا۔
سارا قصور آپ کا ہی ہے آپ نے کہا تھا چھوڑ دو نہیں بھاگے گی وہ تو نہیں بھاگی میں ضرور گرگئی ہوں ۔۔۔!
وہ یہ کہہ کر بچوں کی طرح رونے لگی تھی ۔۔
اچھااچھاسوری یار۔۔۔۔میرا ہی قصور ہے آپکی شان میں کوئی گستاخی ہوئی ہو تو ہم آپ سے معافی مانگتے ہیں وہ اپنے کانوں کو گہرے سنجیدے لہجے میں بولا تھا
اس کو کان پکڑے دیکھ کر اشنال کے چہرے پہ بہت ہی خوبصورت مسکراہٹ آئی تھی وہ ہنسی اور بے اختیار ہنستی چلی گئی تھی روشنال اس کے چہرے کی مسکان میں کھو سا گیا تھا کیونکہ وہ اتنے دنوں بعد کھل کر مسکرائی تھی آج وہ بچی لگ رہی تھی زندگی کی تلخیوں نے اسے بہت سمجھ دار بنا دیا تھا اب وہ پہلے کی طرح منہ کھول کر ہنستی نہیں تھی لیکن آج وہ کھلے دل سے مسکر ارہی تھی جسے روشنال پرسکون ہوا تھا۔
تم ہنستی اچھی لگتی ہو زوجم ۔۔۔میری دعا ہے تم ہمیشہ ایسے ہی مسکراتی رہو ۔۔۔
روشنال نے اس کے کانوں میں جھک کر مدھر سا کہا تھا وہ شرما سی گئی تھی اس نے جھک کر اس کے کندھوں پہ لب رکھے تھے۔۔۔
اٹھو گی یا میں بلڈوذر منگواؤ ۔۔۔۔وہ اس کے بھری بھری صحت پہ چوٹ کرتا ہوا بولا تھا روشنال نے اسے مزید تنگ کیا تھا اور وہ چڑ بھی گئی تھی ۔۔
میں موٹی بالکل بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔میں اٹھ سکتی ہوں اس نے منہ پھُلا کر جواب دیا تھا
مزاق کر رہا تھا یار ورنہ میری اشو تو نازک سی گڑیا ہے جسے میں ہاتھوں اٹھا کہ پورا دنیا گھما سکتا ہوں وہ یہ کہتا بازوؤں میں اٹھا کر اسے ڈریسنگ ٹیبل کے پاس چیئر پر بیٹھایا تھا اور اس کے بال سیدھے کیے اور ہیلز اٹھا کر اس کے پاؤں میں پہنانے لگا۔۔
یہ ۔۔۔۔یہ۔۔۔۔۔کک۔۔۔کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔مم۔۔۔مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔اشنال جو شرما رہی تھی اس کو چپل پہناتا دیکھ کر ساری شائینس اڑی تھی ۔۔۔
کیوں تمھارے پاؤں کو ہاتھ لگانے سے میری شان گھٹ جائے گی اور ویسے بھی بچپن میں میں ہی پہناتا تھا تمھارے شولیس اسٹریپ باندھنا میرا کام تھا ایسے چھوٹی چھوٹی منہ پھاڑ کر حیران مت ہوا کرو۔۔۔ تم بے شک میری بیوی ہو لیکن میرے لیے ابھی تک بچی ہی ہو زوجم ۔۔۔
پلیز مجھے اچھا نہیں لگتا آپ بڑے ہیں مجھ سے۔۔۔۔!
چپ کرکے بیٹھی رہو۔۔۔اور مجھے میرا کام کرنے دو روشنال نے اب سنجیدگی سے کہا تھا۔۔
ن۔۔۔۔نہ نہیں میں آپ کو اپنے پاؤں پہ ہاتھ نہیں لگانے دوں گی اس نے پاؤں پیچھے کھینچ لیے تھے۔۔
اشو پٹو گی مجھ سے۔۔۔۔سیدھی طرح پاؤں آگے کرو نہیں تو مجھے اور بھی طریقے آتے ہیں ۔۔
آپ اب بھی ماریں گے مجھے ۔۔۔۔وہ پھر سے حیران ہوئی تھی۔
ہاں بالکل ۔۔۔۔۔اس میں کوئی شک۔۔۔۔۔روشنال نے ہنس کر اس کی بات پہ مہر پکی کی تھی ۔
آپ کو رحم نہیں آئے گا مجھ پر۔۔۔۔! اس نے آنکھیں اٹھا کر پوچھا تھا۔۔
اور وہ کیوں آئے گا تم مجھے تنگ ہی اتنا کرتی ہو کوئی بات نہیں مانتی ۔۔۔۔۔روشنال نے اس کے پاؤں میں ہیلز کے سڑپس باندھ کر کہا تھا۔
اچھا سوری ۔۔۔۔آئندہ نہیں کروں گی ۔۔۔!
اٹس اوکے ۔۔۔۔لیکن تم کام ہی مرنے مروانے والے کرتی ہی کیوں ہو۔۔۔!اس کا ڈوپٹہ اس کے سر پہ کرواتے ہوئے روشنال نے ہنس کر کہا تھا ۔۔
اب ٹھیک ہے ۔۔۔۔اب میں خود شاور لے لوں۔۔۔تم تک ادھر ہی بیٹھو اکھٹے نیچے چلیں گے ۔۔۔۔۔!وہ اس پہ طائرانہ نگاہ ڈالتے واشروم کپڑے لیے واشروم چلاگیا تھا وہ وہیں بیٹھے خود کو شیشے میں دیکھ کر شرماتی رہی کیونکہ وہ لگ ہی بہت پیاری تھی وہ اٹھ کہ کھڑی ہوتی کبھی ایک بال سائیڈ پہ کرتی تو کبھی دوسرے پر اور کبھی کمر پہ ہاتھ رکھ کہ پوری گھوم جاتی وہ خود میں اتنی گم تھی جب روشنال باہر آیا اور اس کو بچوں کی طرح چلتے پایا تھا جو بیڈ کے پاس سے بڑے طمطراق سے چلتی شیشے کو دیکھتی گردن اٹھائے ایسے چکر کاٹ رہی تھی اسے دیکھ کر روشنال کو ایسے لگا جیسے وہ ماڈل کو کاپی کر رہی ہو وہ جیسے ریمپ پہ نخریلے انداز میں چلتی ہوئے آ جا رہی ہو ۔۔۔۔وہ بغیر کوئی آواز پیدا کیے اسے دیکھتا رہا۔۔۔۔
اشنال جو اپنے آپ میں مگن تھی اس پہ نظر پڑی جو مسکراکر اسے دیکھ رہا تھا وہ کمر میں ہاتھ دئیے آنکھیں کھولیں وہیں اسٹیچو بن گئی تھی ۔۔۔!
میرے پاس ایورڈ تو نہیں ہے زوجم ۔۔۔۔جو آپکو پیش کروں لیکن آپکی پرفامنس بہت اچھی تھی روشنال نے سنجیدہ لہجے اور مسکراتی آنکھوں سے کہا تھا ۔۔
یہ تعریف تھی یا تنقید ۔۔۔۔۔۔؟ اشنال کو لگا وہ طنز کر رہا ہے کیونکہ وہ تو اسے ڈوپٹہ کروا کہ گیا تھا اس لیے کہہ رہا ہے وہ جلدی سے کمر سے ہاتھ ہٹا کر سر پہ الٹا سیدھا ڈوپٹہ کیے بولی تھی۔
بالکل زوجم تعریف ہی تھی ورنہ اس غلام میں اتنی ہمت کہاں کہاں کہ آپکی ذات سے خامی نکالے۔۔۔۔۔! روشنال نے ایسے کہا جیسے وہ کسی دیس کی ملکہ ہو ۔۔۔! اشنال اس کے لہجے سے اور زیادہ کنفیوز ہوئی تھی کیونکہ اس کا لہجہ سنجیدہ مگر آنکھیں مسکرا رہی تھی ۔
اچھا یہ بٹن تو بند کر دیں گی زوجم ۔۔۔۔اس نے کینفوز سی کھڑی اشنال کو دیکھ کر کہا تھا۔۔
اشنال اس کے قریب آتی اس کے بازوں کے بٹن بند کرنے لگی تھی اس نے بٹن کرکے اسے دیکھا جو سفید جوڑے اور پیشانی پہ گیلے بکھرے بال ہونے کے وجود بہت ہی نکھرا نکھرا اور پیارا سا لگا تھا ۔۔۔اشنال نے خود کو اسے شیشے میں دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔
روشنال نے شیشے میں سے دیکھا جو اسے اور خود کو ہی دیکھ رہی تھی اس نے جلدی سے اس کی پیشانی پہ پیار کیا اور پھر گال پہ کیا وہ اس کی بےباک جسارتوں سے شرم سے لال ہوگئی تھی ۔۔۔
آؤ چلتے ہیں باہر ۔۔۔۔! وہ بالوں پہ کنگھی اور خود پہ پرفیوم سپرے کرکے ییچھے ہوا اور اسے بازوں سے پکڑ کر اسے شرماتا دیکھ کر کہا تھا۔۔
جی چلتے ہیں ۔۔۔وہ سر پہ نیٹ کا ڈوپٹہ کا صیح سیٹ کرکے اس کے ساتھ باہر جانے کےلیے تیار ہوئی تھی
۞۞۞۞
ماشا اللہ ۔۔۔۔ماشا اللہ ۔۔۔۔۔اللہ نظرِ بد سے بچائے ۔۔۔۔وہ جیسے ہی روم سے نکلے تو ثمینہ ان کی پرفیکٹ جوڑی ایک کو ہنستا اور دوسرے کو شرماتا دیکھ کر پلک جھپکنا بھول گئی تھی۔۔۔۔
ماشا اللہ میرا بیٹا اور بہو چاند سورج کی جوڑی لگ رہی ہیں ۔۔۔۔! وہ جلدی سے پیسے لے کہ اور ان لے سر سے پیسے وارے تھے
ماں چاند تو یقیناً آپکی بہو ہی ہوگی ٹھنڈی آئس کریم کی طرح۔۔۔۔روشنال اس کے من موہنے سے چہرے کو دیکھ کر کہا تھا۔
ہاں سورج تو آپ ہی ہیں گرم دیگچے کی طرح ۔۔۔اشنال نےمنہ بنا کر آہستگی سے کہا تھا جو صرف روشنال نے ہی سنا تھا۔۔
وہ تو میں ہوں بالکل گرم گرم ۔۔۔۔۔جس کی تپش میں آپ جل رہی ہیں زوجم ۔۔۔۔روشنال نے بھی بالکل سرگوشی میں جواب دیا تھا ۔
ماشا اللہ میری بیٹی تو رنگوں میں نہائی ہوئی ہے وہ اس کے چہرے کو دیکھتی بغیر صغیر صاحب اور آغا جان کی پرواہ کیے بغیر اونچی بولی تھی جو ٹیبل پہ ناشتہ کر رہے تھے جس کا چہرہ کی طرح سرخ ہو رہا تھا تو گلابی۔۔
آفٹر آل آپکے بیٹے کی سنگت میں رہ کہ آئی ہے ہزار رنگوں سے روشناس کروا کہ لایا ہوں اپنی زوجم کو۔۔۔۔۔روشنال نے بالکل مدھم لہجے میں اسے آنکھ اور کندھا مارتے ہوئے کہا تھا۔
آپ۔۔۔۔آپ۔۔۔۔روشنال کا چہرہ اس کی بے باک باتوں سے جل اٹھا تھا۔۔۔
یہ تم لوگ کیا کیا کھسر پھسر کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔بیٹھ کہ ناشتی کرو نہ ۔۔۔۔۔آجاؤ ادھر ۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے انھیں آپس میں لگے دیکھا پہلے تو مسکراہی پھر ان کی بحث بڑھتا دیکھ کر ڈانٹنا ضروری سمجھا تھا۔
وہ دونوں بیٹھ گئے اشنال تو خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی جب کہ روشنال خاموشی سے بچ بچا کہ کبھی اس کے پاؤں پہ پاؤں مارتا کبھی اس کے ہاتھ پکڑلیتا تو کبھی آنکھ ونک کرتا جسے روشنال کا دل کیا روشنال کے خوبصورت بالوں کا ستیا ناس کردے ۔۔۔۔لیکن وہ صرف سوچ ہی سکی تھی۔۔۔!
صیغیر صاحب اٹھے تو اشنال کے سر پہ ہاتھ پھیرا تھا
آغا جان بھی ان کے پیچھے اٹھے انھوں بھی ہاتھ اٹھایا لیکن جھکجک کہ پیچھے کرلیا تھا وہ جانے لگے ۔۔۔اشنال اُن ہی کو دیکھ رہی تھی وہ ا اشنال نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
ان کا کانپتا ہاتھ پکڑ کے سر پہ رکھا اور پھر ان کے ساتھ لگ گئی تھی وہ کتنے دنوں سے ان کو اپنی طرف بےبس نظروں سے دیکھ رہی تھی اتنا بے چین دیکھ کر دشمن بھی پگھل جاتا وہ تو پھر اُن کی پوتی تھی معصوم دل کی لڑکی تھی کیسے نہ پگھلتی۔۔۔۔! اس نے باپ سے ہی تو سیکھا تھا کہ خود مر جاؤ لیکن رشتے کو مرنے نہ دو۔۔۔اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی تلخی سے کوئی رشتہ مرے یا کسی کا دل مر جھا جائے ۔۔۔۔!
دل ایک نازک پھول کی طرح ہے جو ایک دفعہ مرجھائے نہ تو پھر انسان لاکھ کوششیں کرکے اس کی آبپاری کرے لیکن پھر وہ پروان نہیں چڑھتا کیونکہ اس کی کمزوری آپکے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے کیونکہ اس پھول کے پودے کی جڑیں ہی کمزور ہوتی ہے اور جس کی بنیاد کمزور ہو وہ پودا تو تاعمر کھل نہیں سکتا وہ ایسا مرتا کہ اس کا زندہ ہون مشکل نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔
سوری آغا جان ۔۔۔۔۔وہ ان کے سینے لگتے ایسی روئی کہ روشنال کو بھی چپ کرانا مشکل ہوگیا تھا آغا جان کے جلتے دل کو قرار آگیا تھا۔۔۔وہ بوکھلا گیا تھا۔۔۔
کس بات کےلیے میرا بچہ۔۔۔۔یہ تمھارا حق تھا اور حق کےلیے تو تمیں میرا گریبان پکڑنے میں کوئی عیب نہیں تھا ۔۔
نہیں آغا جان سوری فار ایوری تھنگ۔۔۔۔! اس نے ان کے گرد گرفت مضبوط کرتے ہوئے کہا تھا ۔۔۔
روشنال صیغیر صاحب اور ثمینہ بیگم ان دونوں کو دیکھ کر رو پڑے تھے کیونکہ آج بھرسوں کی عدوات کا خاتمہ ہوگیا تھا آغا جان اس کو لیے لاونج کے صوفوں پر آگئے تھے وہ بھی ساتھ نکلے تھے ۔۔۔۔
اچھا اللہ حافظ آپ سب سے واپسی میں بات ہوگی میں شام تک آجاؤں گا کچھ دیر روشنال ان کو دیکھتا رہا پھر ان سے اجازت طلب کرتا نکل گیا تھا۔۔
اشنال نے آغا جان کے بازوں کے بیٹھے سب کے پرسکون اور مُسکراتے چہرے دیکھےتو بے ساختہ دل میں اللہ کا شکر ادا کیا تھا بے شک جس ذات نے دکھ دیے تھے وہ پاک ذات دکھ سمیٹتی بھی جلدی ہے بے شک زندگی پھولوں کی سیج نہیں تھی لیکن اس پاک ذات نے ہر رات کے بعد اک روشن ہو اور چمکتی صبح بھی تو رکھی تھی ہر غم کے بعد خوشی بھی تو تھی نا وہ سوچتی تھی کہ اللہ نے اسے ہی کیوں دکھوں میں دکھیلاتھا کاش اس کی شادی حسنال سے ہوتی تو سب رشتے اس کے ساتھ ٹھیک ریتے اس سے پیار کرتے ۔۔۔۔۔لیکن آج اسے اپنے اللہ پہ بڑا پیار بھی آ رہا تھا۔۔۔کیونکہ اسکے اللہ نے اس کےلیے وہ فیصلہ کیا تھا جو اسے پہلے ٹھیک نہیں لگا تھا لیکن اس کے حق میں بہتر تھا اور اسکےلیے بہترین تھا آج اسے اللہ کا فیصلہ اپنے لیے بہت زیادہ اچھا لگاتھا۔۔۔آج اللہ کا وہ جتنا شکر کرتی اتنا ہی کم تھا ۔۔وہ اپنے خاص بندوں کو رحمت سے نوازاتا ہے
اس پاک ذات نے اسے آزمائش کےلیے چُنا تھا لیکن اس کا انعام اس نے پہلے ہی رکھا تھا وہ اس کےلیے صرف انعام نہیں تھا انعامِ عظیم تھا۔
۞۞۞۞
یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔! حسنال جو کسی کیس کے اوریجنل ڈاکومنٹس بھول گیا تھا وہ لینے گھر آیا تھا ایک لڑکا جو صوفے پر بیٹھا عجیب نظروں سے منال کو دیکھ رہا تھاوہ منال کو ایک عورت کے پاس سجا سنورا دیکھ کر غصے میں آیا تھا اسے معاملے کی سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ بہت کول نیچر کا تھا لیکن یہ معاملہ دیکھ کر اسے غصے پی اشتعال پانا بہت مشکل لگا تھا دوسری طرف حسنال کو منال کی سانس اٹکی تھی ۔۔سارے نفوس اس کی ڈھارتی آواز سن کر اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ہونا کیا ہے ۔۔۔۔۔منال کا رشتہ دیکھنے آئے ہیں یہ لوگ اور وقار اور منال ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔۔۔۔!ثمینہ بیگم اسے دیکھ کر غصے سے لال پیلی ہوگئی تھی اور گبھرائٹ ان پہ طاری ہوچکی تھی لیکن اپنے لہجے پر کنڑول بڑی مشکل سے کیا تھا وہ تو ایسے کہہ رہی تھی جیسے منال کی پسند کی منگنی کرنے جا رہی ہو۔۔۔۔!
خالہ یہ کیا گھٹیا پن ہے ۔۔۔۔۔ْ! وہ اتنا زور سے ڈھارا ساری تمیز اڑن چھو ہوگئی تھی ۔۔۔
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو۔۔۔۔۔اپنی بیوی سے پوچھو ۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے نازک صورتحال دیکھ کر منال کہ کندھے پہ بندوق رکھ کہ چلانی چاہی ۔۔۔۔۔جو چل بھی چکی تھی کیونکہ انھوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک خطرناک اشارہ کیا تھا جسے منال کی آنکھوں میں خطر ناک حد تک پھیل چکا تھا۔۔
منال ۔۔۔۔۔خالہ کیا کہہ رہی ہیں حسنال نے بہت یقین سے پوچھا تھا اس کا لہجہ اب نارمل تھا اسے لگا کہ منال انکار کر دے گی اس لیے وہ پرسکون ہوگیا تھا ۔۔۔
ام۔۔۔۔امی سچ ک۔۔کہہ رہی ہے ۔۔۔۔منال نے آنکھیں جھکا خود پہ ضبط پاکر کہا تھا حالانک دل کر رہا تھا کہ اس کے سینے سے لگ کر باپ کی موت کا غم منائے۔۔۔
منال جو میں پوچھ رہا ہوں مجھے اسکا جواب چاہیے خالہ جو کہہ رہیں ہیں وہ سچ ہے تمھارا یہ رشتہ تمھاری مرضی سے آیا ہے ۔۔۔۔!
وہ۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔منال ہچکچا گئی تھی۔۔۔
وہ ۔۔۔۔وہ ۔۔۔کیا۔۔۔حسنال اب کی بار ڈھاڑا اٹھا اس کا سارا اکون تباہ ہوا تھا۔
کیوں دیکھ لیا نہ میرا روپ۔۔۔۔۔میں ایسی ہوں شروع سے۔۔!تھوڑا سا شرافت کا لبادہ کیا اوڑھا۔۔۔تم تو میرے قدم چاٹنے پہ آگئے ۔۔۔! اس نے ماں کی آنکھوں کے تاثرات دیکھ کر پتہ نہیں کیسے یہ لفظ استعمال کیے تھے وہ اُس کا دل جانتا تھا۔
سن لیا پڑھ گئی کلیجے میں ٹھنڈ ۔۔۔۔ثمینہ بیگم نے مسکرا کر کہا تھا۔
خالہ آپ خاموش رہیں ۔۔۔۔۔یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے۔۔اس نے انھیں خون خوار نظروں سے دیکھ کر کہا تھا۔۔
پلیز منال ۔۔۔۔میں جانتا ہوں یہ تم کسی دباؤ میں آ کہہ رہی ورنہ تم تو بہت خوش تھی حسنال نے جلدی سے اسکا بازؤں پکڑا تھا اور التجائی کی تھی۔
کیوں جونک کی طرح چمڑ ہوگئے ہو۔۔۔۔پلیز اللہ کا واسطہ ہے چھوڑ دو مجھے جب نہیں رہنا تمھارے ساتھ لیکن تم تو ہو ہی بےشرم ہر وقت میرے قدموں میں بچھے رہنے کو تیار رہتے ہو ۔۔۔۔اس کے گلے میں یہ کہتے پھانس اٹکی تھی ۔۔۔
اس کے اتنے گر ہوئے الفاظ سن کر وہ تو جیسے سن رہ گیا تھا اس نے بمشکل خود کو سنھبالا اور دھیرے سے اس کا بازو چھوڑ دیا تھا۔
ٹھیک ہے میں تمھیں طلاق دوں گا مگر اس سے پہلے یہ بغیرتی نہیں کرنے دوں گا پہلے میرے بچے کو سہی سلامت میرے حوالے کرو۔۔۔۔۔!اس کے بعد میں خود تم جیسی عورت کو رکھنا تو کیا تھوکنا پسند بھی نہیں کروں گا۔۔۔۔!
جس دن میرا بچہ پیدا ہوگا اسی دن ڈرائیورس کے ڈاکومنٹس تمھیں مل جائیں گے لیکن اُس سے پہلے تمھارا کوئی آشنا اس گھر میں آیا یا تن اس گھر سے نکلی نا تو تمھاری اور اسکی قبر یہ ہی بناؤں گا۔۔یہ میری دھمکی نہیں میرا حکم ہے۔۔۔اس نے پھر اسکا بازوں پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا تھا۔
حسنال بخت اس کا اتنا بدتمیز لہجہ دیکھ کر اور اسکی باتیں سن کر پھٹ پڑا تھا۔۔
ثمینہ بیگم اس کے بچے کی بات سن کر ساکت ہوئیں تھیں لیکن پھر سکون میں آئی تھیں ۔۔۔
مسٹر آپ ان سے ایسی بات نہیں کرسکتے آپ ان سے بدتمیزی کر رہے ہیں آپ میں شرم نہیں ہے ۔۔۔وقار اس کو دیکھتا منال کو متاثر کرنے لگا تھا۔۔
ہاں اس معاملے میں بہت بےشرم واقع ہوا ہوں۔۔ جو یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی خاموش ہوں۔۔۔!
وہ اس کے پاس اتنے سنجیدہ تاثرات لے کر گیا تھا کہ وہ سہم گیا تھا۔۔
بے شرم ہوں لیکن بےغیرت نہیں ہوں ۔۔۔۔۔! قبر تو تمھاری ہی ادھر بھی بن جائے گی۔۔۔
اپنی بیوی سے پوچھو لڑکے۔۔۔۔وہ اگر اتنی ہی صاف کردار کی ہوتی تو تمھیں یہ دن دیکھنے کی نوبت ہی نہ پڑتی ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ کا مکا بنایا تھا مگر اس لڑکے کی ماں آگے ہوئی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر فقرہ کسا تھا۔۔
تم تو چلو نہ ۔۔۔۔۔وہ اسے بازوں سے پکڑ کر کھینچ اتنے غصے میں لے گیا تھا جب کہ پیچھے منہ کھولے اس کو دیکھتے رہ گئے تھے ۔۔۔
