Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Sitamgiri (Episode 36)

Teri Sitamgiri by Abeeha Ali

حسنال یہ لیفٹ لو اب ہمیں چل کہ جانا پڑے گا ۔۔۔! کیونکہ آگے گاڑی نہیں جائے گی ۔۔۔! منال نے اسے صاف راستہ بتانے لگی۔۔

یہ گاؤں تو بہت بیک ورڈ ہے ۔۔۔! وہ کچی پگڈیڈنڈیوں کو دیکھتا آبادی سے ہٹ کر کچھ گھروں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔

بیک ورڈ ہی سہی مگر بہت خالص ہے یہاں کے لوگ جیسے اندر سے ویسے باہر سے ہی ہے۔۔۔۔صبح جلدی اٹھتے ہیں رات کو جلدی سوتے ہیں ان کے کچے گھروں میں بہت زیادہ برکت ہوتی ہے صبح ایسے لگتا ہے جیسے فرشتے خود ان کا رزق لے کہ آر ہے ہوتے ہیں نور ہی نور ہوتا ہے ۔۔۔۔

وہ گاؤں کے ماحول میں چھائی کیفت میں بولی ۔۔۔!

کیا آپکو یہ گاؤں بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔۔؟ حسنال اس کو محویت میں دیکھتے سوال پوچھا ۔۔۔

صرف اچھا نہیں ۔۔۔۔بہت اچھا۔۔۔۔۔! بس یہ ہی روک دو۔۔۔ منال نے تبصرہ کرتے جلدی سے کہا۔۔۔

کوئی اتنا تنگ راستہ نہیں ہے کچا ضرور ہے مگر چلی جائے گی اور ویسے بھی میں نہیں چاہتا کہ آپ کو چلنا پڑا اپنے پاؤں پہ ایک دفعہ نظر ثانی کرلیجئے گا میں تو اس حق میں ہی نہیں تھا کہ آپ کو بچے کی پیدائش سے پہلے لے کہ آؤں۔۔وہ فکریہ کہتے اس گھر کے راستے پہ لے جانے لگا تھا۔۔

یہ کہتے ہوئے اس نے کچی گلی سے ہٹ کر کچھ فاصلے پہ گاڑی روکی اور اس کی سائیڈ سے گاڑی کا دروازہ کھولا وہ آہستگی سے اتری تھی حسنال نے گاڑی لاک کی اور اس کا ہاتھ تھام کے چلنے لگا۔۔وہ جیسے ہی گلی میں داخل ہوئے تو محلے کی کچھ عورتیں اشتیاق سے دیکھنے لگ پڑی تھیں منال نے دیکھا تو بختی اماں کی سہیلی ان کی جانب آئی تھی جو ایک دفعہ اُن کے گھر آئی تھی۔۔۔

دیکھو تو بختی کی بھانجی آئی ہے۔۔۔! اُس عورت نے اپنے ساتھ کھڑی عورت سے کہا اور چلی گئی تھی پیچھے کچھ کھیلتے بچے بھی اشتیاق سے انھیں دیکھنے لگ پڑے تھے

منال اس کے ساتھ آگے آئی تھی اور وہ ہی گھر کا بوسیدہ

دروازہ دیکھا جو کھلا ہوا تھا وہ اندر داخل ہوئی تو بختی اماں گوبر اٹھا رہی تھی اس نے حسنال کو اشارتاً پیچھے رکنے کا بولا تھا شام کا وقت بچوں کے پڑھنے کی آوازیں آرہی تھی منال کو پتہ چل گیا تھا مانو پڑھنے گئی ہوئی ہے کیونکہ وہ یہاں نہیں تھی

وہ چپکے سے پیچھے گئی اور ان کے گرد بازوں باندھ لیے تھے ۔۔۔!

کون ہے۔۔۔۔! ان کے اجنیبت سے بھرپور آواز آئی تھی ۔۔۔!

السّلام علیکم ۔۔بختی اماں کیا حال ہے ۔۔۔۔! اس نے بہت لاڈ سے پکارا تھا اور ہاتھ کھول لیے تھے۔۔ بختی اماں اس کی آواز سنتی حیرت و بے یقینی سے پلٹی تھی ان کے ہاتھوں کے گرد بھوسہ لگا ہوا تھا اس کو دیکھتے ہی پلٹی تھی ان کی آنکھوں میں پہلے نمی چمکی تھی اور پھر وہ آنسوؤں صاف کرتے مسکرانے لگی تھیں۔

بختی اماں میری یاد نہیں آئی کیا۔۔۔۔!اب کی بار اس کی آنکھوں میں بھی آنسوؤں آگئے اور وہ اُن کے گلے لگی تھی ۔۔

منال بچے ۔۔۔کپڑے گندے ہو جائیں گے تمھارے ۔۔۔۔ان کی تشویش سے بھرپور آواز تھی ۔۔

ہو جائیں پر مجھے اپنی ماں سے تو ملنے دیں نا پلیز ۔۔۔اپنی ماں سے زیادہ مجھے آپ سے ممتا کی خوشبو آتی ہے وہ پھر سے ان کے ساتھ لگی اب کی بار آنسوؤں آئے تھے۔۔حسنال پیچھے ان دونوں کے پیار کو دیکھ کر بہت زیادہ حیران ہوگیا تھا اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آئی تھی منال نے واقعی سہی یہاں کے لوگ بہت ملنسار تھے وہ کچھ سوچتا آہستہ آہستہ چلتا ان کے پیچھے کھڑا ہوا ۔۔۔

بختی اماں آپکی بیٹی کا ایک عدد شوہر بھی ہے معصوم سا۔۔۔۔! کیا صرف بیٹی سے ہی ملیں گی یا میں پھر یہاں سے تشریف لے جاؤں۔۔۔۔! حسنال نے ایسے کہا جیسے برسوں سے جان پیچان ہو۔۔۔!

کیوں نہیں پتر لیکن میرے ہاتھ گندے ہیں بہت ۔۔۔وہ اس کی شریر آواز سنتی مسکرائی تھیں حسنال ان کا سادہ سا لہجہ دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔

وہ انھیں ساتھ لیے آئیں اور چارپائی پہ بیٹھایا تھا اور خود نلکے سے ہاتھ دھو کہ آئیں اور ڈوپٹے سے ہاتھ صاف کیے تھے ۔۔۔!

بختی اماں چوزے کدھر ہیں نظر نہیں آر رہے ۔۔۔۔ ! وہ تقربیاً دس منٹ ہی پلنگ پہ بیٹھی پھر سے انھیں پکارا تھا جو کچن سے چیزیں اٹھا رہی تھی وہ ان سے پوچھتی

کچھ یاد آنے پہ پنجرے تک پونچھی تھی جہاں صرف چوزے تھے جو تنہا اور اُداس سے بیٹھے تھے ۔۔۔ !

بختی اماں ۔۔۔انکی ماں کدھر ہے ۔۔۔۔۔؟ اس نے اونچی سی آواز میں کہا تھا۔

شاید سانپ نے ڈس لیا ۔۔کل صبح تو ٹھیک ٹھاک دانہ چگُ

رہی تھی جب میں شام کو نکالنے آئی تو آگے وہ ایسے ہی پڑی میں نے بنجرہ اٹھا کہ ہلایا لیکن تب تک وہ مرگئی تھی بختی اماں نے باہر نکل کر اُداس سا بتایا۔۔اور پھر اندر ہوگئی تھی منال کی آنکھوں سے پانی برسات کی طرف برسنے لگا آنکھوں میں چھم سے ماں کی موت کا منظر آیا ۔۔۔

ان معصوموں کو اُداس دیکھ کر آنکھوں سے پھر سے آنسوؤں نکل آئے تھے اس نے مخصوص آواز نکالی تھی مگر وہ ایسے ہی اُداس بیٹھے تھے وہ سوچتی بغیر پروا کیے کچن میں آئی اور وہاں پڑے ہوئے ایک سٹیل کے برتن سے دانے نکال کہ باہر لے کہ گئی تھی اور ان کو ڈالے ۔۔۔!

حسنال جو خاموش سا اس کی کارگردگی دیکھتا رہا وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے پیچھے آیا جو اب دانے ڈال کے پیچھے کھڑی ہوئی اور رخ موڑ کہ پلکوں سے آنسوؤں کرنے لگی ۔۔۔!

یہ بات بہ بات رونے کیوں لگ پڑتی ہیں ۔۔۔وہ اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا اور ہاتھ بڑھا کہ اس کے آنسوؤں صاف کیے تھے۔۔۔!

دیکھو نہ حسنال یہ ماں کے بنا کیسے رہے گے ۔۔۔۔! یہ اتنے بڑے بھی نہیں ہے وہ بڑے ضبط سے بولی میں کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ جب میں مر جاؤں گی تو میری اولاد میرے بغیر کیسے رہے گی جیسے میں نے محرومی والی زندگی گزاری ہے ایسے میں بھی گزاروں گی۔۔۔!

منال میرا بچے یہ کھالو نہ پھر دیکھتی رہنا ۔۔۔ویسے آج میرے پاس رہو گے دونوں ۔۔۔۔انھوں نے ٹیبل پہ چائے بسکٹ رکھے اور وہ ان کے ساتھ باتیں کرتے رہے ۔۔۔۔۔! شام تک مانو بھی آچکی تھی وہ اس کے ساتھ ایسی چپکی کے ہٹنے کا نام نہیں تھی منال نے بھی اس کے گلے میں بازؤں چٹ پٹ چوم ڈالا تھا وہ اسے اچھی بھی لگی وہ چھوٹی سی بچی بہت کیوٹ تھی مگر وہ ان دونوں کے پیار کو دیکھ کہ جیلس ہوگیا تھا ۔۔۔

اس طرح مجھ تو کبھی پیار نہیں کیا۔۔۔۔! اب بتائیں میں کیا کروں وہ ہلکے سے اس ہلکا سا اس کی طرف جھک کر بولا۔۔

تم جیلس ہو رہے ہو نا۔۔۔۔؟ منال نے بہت معصومیت سے کہا ۔۔۔ بختی اماں ان دونوں کی نوک جھونک سن کر مسکرائی تھی

آپ یہ سمجھتی ہیں تو سمجھ لیں ۔۔۔۔! وہ یہ کہتا مسکرا یا۔۔

شام تک وہ بختی اماں کو کسی ماہر کھلاڑی کی طرح روٹیاں پکواتی رہی حیران سا پلنگ پہ بیٹھا نا جانے کتنے ثانیے اسے دیکھتا رہا ۔۔پھر وہ چپکے اس کی تصویریں بناتا رہا ۔۔۔۔!

وہ رات کو گاؤں میں ہی رہے صبح وہ حسنال کے ساتھ ثمینہ بیگم کی قبر پہ گئی واپسی انھوں نے گھر آنا تھا اس نے بختی اماں سے گزارش کی کہ وہ ان کے ساتھ ان کے گھر چلیں مگر ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کو اپنے کچے گھر سے بہت عشق ہے اس لیے وہ اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتیں۔۔۔۔۔اس نے پھر مانو کا ذکر کیا کہ وہ شہر کے اچھے سکول میں مانو کا ایڈمیشن کروا دے گی بختی اماں پہلے تو خاموش ہوگئی مگر پھر مانو کے اچھے مستقبل کا سوچ کر وہ رضا مند ہوئی انھوں نے اپنے دل پہ پتھر رکھ کہ مانو کو ان کے ساتھ روانہ کیا ۔۔

****

میں جا رہی ہوں حسنال آجانا نیچے۔۔۔۔۔! منال سر پہ شال کی اور اسے کہا تھا جو بالوں میں کنگی کر رہا تھا جو اس کے پاس کھڑی شال شال سیٹ کر رہی تھی وہ اس کو چیک اپ کےلیے لے کہ جا رہا تھا حسنال نے ایک نظر اسے دیکھے جو بہت پیاری لگ رہی تھی اس نے ایک نظر اسے دیکھا جو اس کے لائے گرے کلر کے پیروں تک آتے لونگ فراق میں بہت پیاری لگ رہی تھی اور اوپر سے اس کی شخصیت میں دن با دن متانت آتی جا رہی تھی اس نے دل ہی دل میں اس کی نظر اتاری اس ڈر سے کہ کئی اسے اس کی ہی نظر نہ لگ جائے اس نے کنگھی ادھر ہی رکھی اور اس کے قریب ہو کہ ہلکے سے بازؤں کے گھیرے میں لیا اور اسے کے ماتھے پہ لب رکھے اس نے کچھ سورتیں دل میں پڑھ کہ اس پہ پھونکی تھی اور اس کے سر سے پیسے پھیر کے پاکٹ میں رکھے تھے۔۔۔!

تم تیار ہو جاؤ میں جا رہی ہوں۔۔۔۔مجھے اشنال نے بلایا تھا مانو کے فارم اس نے روشنال بھائی کو دیے تھے نا۔۔۔۔۔!

تو میں نے اسے پوچھنا تھا کہ اُس نے ایڈمیشن کروا دیا ۔

وہ یہ کہتی اس کی ناک سے ناک ٹکراتی پیچھے ہٹتی نیچے اس سے دور ہوئی تھی۔۔

حسنال نے دل میں سوچا کہ اسے روک لے ۔۔۔۔۔! اور کاش وہ اسے روک لیتا نہ جانے دیتا۔۔۔۔اس کا دل کیا تھا کہ وہ اسے ساتھ لہ کہ جائے دو منٹ ہی توتھے اس نے صرف کوٹ ہی تو پہننا تھا لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ دو منٹ میں ہی تقدیریں پلٹ جایا کرتی ہیں وہ اپنی موت کے قریب خود جا رہی تھی۔

وہ گھڑی پہن کے اس کے پیچھے آیا ہی تھا جو دوسری تیسری سیڑھی پہ جا رہی تھی اچانک اس کا پاؤں رپٹا اور حسنال کی نگاہوں کے سامنے ہی وہ نیچے گری تھی لمحوں کا کھیل تھا وہ لڑکھڑتی جا رہی تھی حسنال کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک منٹ کے ہزارویں یہ سب ہو جائے گا۔۔۔

وہ بد حواس سا اس کی جانب بھاگا تھا اس تک پہنچا جس کا ۔۔خو”ن نکل رہا تھا اشنال اور ثمینہ بھاگتی ہوئی آئی تھیں اس کے پاس بیٹھی کیا خوشیوں کا دورانیہ اتنا مختصر ہوتا ہے۔۔۔

وہ کچھ پل اسے دیکھتا رہا جس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی پھر ایک دم سے اسے بازوؤں میں اٹھایا لیکن اسکی ٹانگوں میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ چل پاتا۔ ۔۔۔اس کے ٹانگیں چلنے سے انکاری ہوگئی تھیں لیکن پھر بھی اس نے اسے بہت کم ٹائم میں ہوسپٹل پہنچایا تھا۔۔

اسے ایمرجنسی وارڈ میں ایڈمٹ کر لیا گیا تھا نرس اور ڈاکٹر آ جا رہے تھے روشنال صیغیر اور ثمینہ بیگم پریشان کے عالم میں ہوسپٹل آئے تھے آغا جان اور اشنال گھر تھے

شام تک ایسے ہی چلتا رہا منال کا آپریشن تھا انھوں نے حسنال سے پیپر پہ سنگنیچر کروا لیے تھے جو کہ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کیے ۔۔۔ دن سے رات ہوگئی تھی مگر ڈاکٹر کے مطابق اس کی کنڈیشن میں کوئی فرق تھا اس کا آپریشن ہوگیا تھا جب ایک ڈاکٹر ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکلی سب اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے

مبارک ہو سر بیٹی پیدا ہوئی ہے۔۔۔۔۔! لیکن آپ کی وائف کی حالت بہت خراب ہے دعا کی ضرورت ہے ان کی سر پہ بہت زیادہ چوٹیں آئی ہیں ان کے کیس میں بھی کافی کپملیکشن تھی ان کے کومے میں جانے کا خدشہ ہے ۔۔۔۔! بس آپ دعا کریں اور حوصلہ رکھیں ۔۔۔۔۔وہ یہ کہتی چلی گئی تھی جبکہ پیچھے حسنال کے ذہن میں منال کی باتیں گردش کر رہی تھی ۔۔۔

****

سر مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔! آج چھٹا مہنیہ تھا اس کو ہوش کی دنیا سے باہر قدم رکھے ہوئے حسنال نا اُ مید نہیں تھا لیکن اس کےلیے پریشان ضرور تھا سب نے اسے کہا تھا کہ شادی کرلو کیونکہ اس کے ہوش میں آنے کے چانسز بلکل نہیں تھے

اور فاطمہ کی دیکھ بال اور پرورش کےلیے ثمینہ بیگم اور صیغیر صاحب نے اسے دوسری شادی کےلیے بہت زیادہ فورس کیا تھا مگر وہ امید کا آخری تمٹمٹاتہ لو بجانا نہیں چاہتا تھا جو اسکے رب نے اس کےلیے رکھا تھا فاطمہ میں تو اس کی جان بستی تھی وہ اس کی کل کائنات تھی وہ دوسری اپنی ماں کی کاپی تھی حسنال خود اس کا خیال رکھتا وہ اسے ماں کی کمی محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا وہ اس کےلیے ماں باپ دونوں بن رہا تھا۔۔

اس بچی کی تو ماں کی ضرورت تھی اشنال بے شک اس کا خیال رکھتی تھی لیکن جو کشش ماں کی گود میں ہوتی ہے وہ دوسری عورت کی گود میں تھوڑی ہوتی ۔۔۔۔! اور اشنال خود تخلیق کے مراحل میں تھی وہ خود ماں کے درجے پہ فائز ہونے والی ہوگئی ۔۔۔۔

وہ ہوش و حواس سے بیگانہ تھی وہ تو اپنے حصے کی سزا بھگت چکی تھی پھر کیا ہوا تھا اس کے ساتھ یا شاید اللہ کا امتحان رہتا تھا۔۔۔

سنیے سر آپ سے ضروری بات کرنی تھی کیا دو منٹ کےلیے آپ میری بات سن سکتے ہیں ۔۔ ! نرس پھر سے اس کے پاس آئی تھی وہ اس کو کھویا ہوا دیکھ کر بولی اس نے بڑی ڈاکٹر کا پیغام دیا تھا وہ اس کی بات سنتا اٹھ کھڑا ہوا اور مین روم میں آیا تھا۔۔

السلام علیکم ۔۔۔۔ڈاکٹر نے پیشہ وارانہ انداز میں سلام کیا اور اسے سامنے بیٹھایا ۔۔۔!

دیکھیں سر ۔۔۔۔ ہم اپنی طرف سے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں کہ آپکی بیوی کو بچالیں لیکن آپکی بیوی بے ہوشی کے ٹروما میں ہیں کہ ان کے ڈیٹھ ہونے کے چانسس ننانوے فیصد ہیں ان کا بچپنا ناممکن ہیں لیکن پھر بھی آپکی تسلی کےلیے ہم نے نرسز اور تمام آلات کا بندوبست کر دیا آپ چاہے تو انھیں گھر لے جاسکتے ہیں شاید ماحول چینج ہو تو ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔ہمارا پورا عملہ چنیج ہوتا رہے گا ان کے سر پہ گہری چوٹیں آئیں ہیں ہم ان کا مکمل علاج بھی کر رہے ہیں دیکھیے یہ ایسا مرض ہے جہاں انسان اچانک سے زندگی کی طرف بھی سراوئیو کرسکتا ہے یہاں اچانک اس کی ڈیٹھ بھی ہوسکتی ہے

اس لیے کہہ رہی ہوں ان کا بچنا ناممکن ہے ۔۔!

وہ اسے معاملے کی باریک بینی سے آگاہ کر رہی تھیں۔۔!

آپ ڈاکٹر ہیں۔۔۔۔۔؟ وہ ان کی بات سنتا کچھ توقف کے بعد بولا تھا۔۔۔

جی کیا مطلب ۔۔۔۔؟ ڈاکٹر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگ پڑی تھی۔۔۔

مطلب یہ کہ آپ ڈاکٹر ہیں اور آپ نے میری وائف کے مرض کو لا علاج کر دیا ہے میں نے صرف سنا تھا کہ سائنس والے اللہ سے زیادہ دریافت پہ یقین رکھتے ہیں لیکن آج دیکھ بھی لیا ۔۔۔۔ آپ ڈاکٹر ہیں آپ نے مجھے مایوس کیا لیکن اُس ڈاکٹروں کے ڈاکٹر نے مجھے مایوس نہیں کیا آپ مجھے اس سے نا اُمید کر رہی ہیں جس کی تخلیق آپ ہیں میں ہوں سب ہیں ۔۔ اس نے انگلی سے اوپر کی طرف اشارہ کیا تھا ۔۔

دیکھیں میں تو صرف آپ کو ان کی صورتحال سے آگاہ کر رہی تھی میں نے تو ایسا نہیں کہا ۔۔آپ تو عجب ہی خطبی شخص ہیں ۔۔ ڈاکٹر نے اب کی بار تھوڑا سا تلخی لہجہ اپنایا۔۔

مجھے علم ہے کہ آپ مجھے آگاہ کر رہی تھیں لیکن آپ کی گفتگو میں اس پاک ذات پہ بھروسہ نہیں تھا آپ نے یہ ہی کہا کہ شاید وہ ہوش میں آ جائیں یا ہوسکتا ہے ان کی ڈیٹھ ہو جائے۔۔۔۔! ایک بار آپ نے انشا اللہ نہیں کہا ۔۔۔کوئی بھی یقین کا پہلو میرے ہاتھ میں نہیں تمھایا ۔۔۔! جب آپ ڈاکٹر ہو کر کسی کو مایوس کرتی ہیں تو سوچئیں تو کیا وہ اللہ آپ سے خوش رہتا ہوگا ۔۔۔۔جب آپ مریض سے پہلے اس کے احباب کو مارتی ہیں ان کی آنکھوں سے چمک چھینتی ہے تو کیا آپکو لگتا ہے کہ اللہ کو آپ سے شکوہ نہیں ہوتا ہوگا۔۔۔آپ کی تسلی کا ایک لفظ ان کے زخموں پہ مرہم رکھ سکتا ہے ۔۔۔۔؟

وہ مضبوط اعصاب والا شخص ڈاکٹر کو اللہ پہ یقین کا درس دے رہا تھا ۔۔۔۔۔ْ!

دیکھیں میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔۔آپ اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں وہ آپکے حلیے کو دیکھ کر بھی لگ رہا ہے اس لیے آپ کو غصہ آ رہا ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر کو لگا کہ اس کے ایسا کہنے سے غصہ آیا ۔۔۔۔!

کیا آپ کو لگتا ہے میں غصہ ہوں۔۔۔۔؟ مجھے غصہ آتا تو آپکی ہوسپٹل کی ایک چیز بھی سلامت نہ رہتی اور مجھے غصہ کیوں آئے گا جب مجھے اللہ پہ یقین ہے پتہ ہے یقین کی دو صورتیں ہوتی ہیں کوئی اللہ تعالیٰ کےلیے سب چھوڑ دیتا ہے اور کوئی اللہ پہ سب چھوڑ دیتا ہے اور میں نے تو اپنا سب کچھ اس پاک ذات پہ چھوڑ دیا ہے پھر میں کیسے نا اُمید ہوسکتا ہوں ؟۔۔۔۔! خیر اٹس اوکے معذرت چاہتا ہوں لہجہ تیز ہوگیا تھا میرا لیکن میرا رویہ ہرگز غلط نہیں تھا ۔۔۔آپ سارے ارینمنٹس کر دیں میں انھیں گھر لے جاؤں گا آپ چارجز کی لسٹ مجھے بنوا دیجئے گا میں ادا کر دوں گا۔۔! وہ ان سے ایکسکیوز کرتا چلا گیا تھا۔۔

جب کہ پیچھے ڈاکٹر یہ سوچنے پہ مجبور ضرور ہوئی کہ کوئی اتنا صابر کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔؟ ڈاکٹر خود عمر میں کافی بڑی تھی اور تو بائیس تئیس کا لڑکا ہی تھا پھر وہ اتنا سمجھدار کیسے تھا ۔۔۔۔وہ کتنا صالح تھا کہ اسے اللہ پہ اتنا یقین تھا چھ مہنیے سے وہ راوزنہ آ رہا تھا لیکن کبھی وہ نا امید نہ ہوا تھا۔۔۔!

****

دن ویسے ہی گزر رہے تھے مگر اس کی حالت پہ کوئی فرق نہ پڑا تھا نرس اس کا باقدہ چیک اپ کر کے جاتی اشنال اپنی طبعیت خرابی کے باوجود بھی اسے دیکھتی رہتی تھی حسنال گھر آتا تو اسے دیکھ کر نیند روٹھ گئی تھی

نرس جو اس کا بھرپور خیال رکھ رہی تھی اس شخص کو تھکا تھکا دیکھ کہ اس کی آنکھوں میں نمی سی چھا گئی حسنال بخت نے تو جیس چین و سکون خود پہ حرام کرلیا تھا اس کے اندر کا شرارتی سا لڑکا نجانے کب کا مر چکا تھا وہ اب ایک سمجھ دار شوہر تھا اور سب سے بڑھ کہ اپنی گڑیا کا باپ تھا جو اب نو مہنیے کی ہوگئی تھی وہ اب بیٹھتی تھی اس کو دیکھتے ہی با ۔۔۔۔با کرنے لگ پڑتی ۔۔۔۔! حسنال گھر آیا اشنال سے فاطمہ کو لے کہ آیا اور اسے بسکٹ کیک وغیرہ کھلاتا رہا وہ کھاتی اور ساتھ ساتھ کھکھلاتی ۔۔۔۔۔اس کو کھکھلاتا دیکھ کر اس کی آنکھوں میں نمی آئی ایکدم سے وہ منظر سامنے آیا جا دن اس پہ قیامت بیتی تھی جب وہ تیار ہو رہی تھی جب اسے بختی اماں کے گھر لے کہ گیا تھا دو تین منظر نگاہ کے سامنے آئے تھے وہ کھینچ کر فاطمہ کو ساتھ لگا گیا تھا وہ تئیس سالہ مضبوط باپ نو مہنیے کی بیٹی کو گلے لگایا کہ رویا ۔۔۔۔وہ بہت صابر تھا لیکن اپنی بیٹی کو دیکھا جو بن ماں کے تھی اپنے آنسوؤں پہ نہ کنٹرول کر سکا تھا پھر کچھ دیر بعد وہ نارمل ہوا اور اس کو ساتھ لگا کہ تھپکنے لگ پڑا جو تقربیاً پندرہ منٹ بعد باپ کے مضبوط اور شفقت آمیز کندھے پہ سر ٹکائے سو گئی تھی ۔۔۔!

حسنال نے اس کو سوتا دیکھ کر نرمی سے لٹایا اور خود فریش ہو کہ اپنی اس نیند کی اسیر بیوی کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔

جو نیند کی شیدائی آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی وہ اس کے پاس آکے بیٹھ گیا وہ اس کو دیوانہ دیکھنے لگ پڑا ۔۔۔

لگتا ہے ناراض ہو۔۔۔۔جو یوں خاموش ہوگئی ہو مجھے نہیں پتہ تھا کہ اتنی ناراض ہو جاؤ گی مجھ سے پلیز آنکھیں کھولو ایک دفعہ اپنی اور میری بیٹی کو دیکھ لو وہ بہت پیاری ہے بالکل تمھارے جیسی ہے پاکیزہ سی ۔۔۔!

ایک بار اسے دیکھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے وہ اس کے عارض کو چھوتا درخواست مندانہ ہوا ۔۔۔! میں تمھارے بغیر ادھورا ہوں ۔۔۔۔میں خود میں سے تمھارا عکس ڈھونڈ رہا ہوں پلیز منال ایک دفعہ آنکھیں کھولو گی تو پتہ چلے گا کہ زندگی بہت خوبصورت ہے میرا دل چاہتا ہے ایک چھوٹا سا جہان ہو جس میں۔۔۔۔ میری بیٹی اور تم ہو۔۔۔۔اور میرا اللہ تمام نعمتوں سے نوازے۔۔۔میں زندگی کے ان حسین پلوں کو تمھارے ساتھ انجوائے کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔وہ اس کی ٹھنڈی پیشانی پہ لب رکھتا ہوا بے بس سا بولا

وہ کچھ پل اسے محسوس کرتا رہا اور پھر اٹھا عشا کی نماز ادا کی اور سورہ رحمن کی تلاوت روازنہ کی طرح کرتا جو اس کا معمول تھا وہ اونچی آواز میں تلاوت کرتا اور کچھ دیر اس کے پاس بیٹھا رہتا روازنہ ۔۔۔۔ تلاوت کرکے جیسے ہی سر اٹھایا تو دیکھا اس کی آنکھوں سے آنسوؤں نکل رہے تھےوہ حیران رہ گیا تھا اس نے چھوکر لگے اس کے پلکوں سے آنسوؤں صاف کیا اسے لگا وہ اب رسپونس کرے گی وہ دیکھتا ہی رہ گیا لیکن اس کا رسپونس نہیں آیا تھا لیکن اس کا دل خوشی سے سرشار ہوگیا وہ قرآن پاک عقیدت سے الماری پہ رکھ کے پلٹا اور آئل لیتا اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔

اور پھر ہمیشہ کی طرح اس کے بالوں پہ آئل لگایا اسے پتہ تھا کوئی رنسپونس نہیں آنا ۔۔۔۔! لیکن پھر بھی اس کے بھورے بالوں پہ سکون سے ہاتھ پھیرتا رہا ۔۔ اس دن پتہ ہوتا تو تم پر سے صدقے کے پیسے نہیں بلکہ اپنا آپ وار دیتا اس دن تمھیں میری نظر لگی وہ اسکے چہرے کو دیکھتا دھمیے لہجے سے بولا ۔۔۔۔وہ اتنا تھکا ہوا تھا اس سے باتیں کرتا کرتا وہ اسکے کندھے کے ساتھ رکھتا نیند کی وادی میں جا اترا تھا وہ سر اتنا دور ضرور رکھتا کہ اُسے تکلیف نہ ہو وہ اس کے پاس رکھتے ہی سو گیا اس کے پاس سکون تھا ۔۔۔

حسنال سویا ہوا تھا جب اسے بازؤں پہ سر سراہٹ سی محسوس ہوئی وہ حیران ہوا اس نے دیکھا تو تو منال اپنی انگلیاں ہلا رہی تھی۔۔۔

وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگ پڑا ۔۔۔اور پھر آن کی آن میں اس نے اپنا ہاتھ اوپر کی تھی وہ نرسز کی جانب کی بھاگا جو اس کے زیرِ نگران تھی کچھ ہی دیر میں ڈاکٹر کی ٹیم آئی اور اس کا ٹریمنٹ کرنے لگی تھی اس کو آکسجین لگایا گیا کیوں وہ رنسپونس دے رہی تھی حسنال تشکر بجا لایا وہ سجدہ ریز ہوگیا تھا ۔۔۔۔

MashAllah love is a miracle ….

ڈاکٹر باہر نکلا اوراس کو سجدے میں دیکھتے ہوئے حیران کن لہجے میں کہا پورے نو مہنیے بعد ہوش میں آنا ایک معجزہ ہی تو تھا وہ معجزہ رب نے حسنال بخت پہ کیا تھا آج اس کا یقین رنگ لایا تھا وہ صبر کی آخری حدوں سے نکلا تھا وہ کاسئہ لیے رب کے پاس گیا اور پھر اس رب نے اسے خالی ہاتھ نہیں لٹایا تھا اور بے شک وہ خالی ہاتھ لٹاتا بھی نہیں ہے بس دعاؤں میں یقین ہونا چاہیے طاقت ہونی چاہیے اگر وہ ہماری دعاؤں کو قبول نہیں کرتا تو مایوس ہونے کی بجائے رب کی مصلحت کو سمجھنا چاہیے اور ہم سے بہت زیادہ لوگ مصلحت سمھتے نہیں ہیں وہ مایوس ہو جاتے ہیں جبکہ مایوسی تو کفر گناہ ہے۔۔۔۔آج حسنال بخت کا اپنے اللہ پہ یقین رنگ لے آیا تھا۔۔۔۔بے شک نو ماہ کم عرصہ نہیں تھا اور اس کی تکلیف بھی بہت بڑی تھی لیکن اس رب کی رحمت سے کم تھی اور وہ اللہ تو بندے پہ اس کی وسعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔۔۔۔۔۔! اب نےشک حسنال بخت کی آئندہ آنے والی زندگی میں بہاریں اسکی منتظر تھیں۔۔۔

*****

منال ہوش میں آنے کے بعد نارمل نہیں رہی اس کی بیماری نے بالکل اسے مرجھا کہ رکھ دیا تھا وہ خالی ذہن سے خلا میں دیکھتی رہتی حسنال نے اس کی تیماداری میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی لیکن اس کے چہرے کی شادابیت ختم ہوگئی آنکھوں میں عجیب سی ویرانی چھائی رہتی حسنال کے بعد تہمینہ بیگم اور اشنال اس کا بہت زیادہ خیال رکھ رہی تھیں۔

وہ فاطمہ کو اس کے پاس لے کہ آتی مگر وہ فاطمہ کو پیچان نہیں پاتی حالانکہ وہ اس کی وہ بیٹی تھی جس کےلہے موت کے منہ سے بچ کہ آئی تھی حسنال اُسے روز اس کے پاس لے کہ آتا۔۔۔وہ اسے دیکھتی رہتی مگر کچھ بولتی نہیں ۔۔۔۔۔وہ آج بھی فاطمہ کو اس کے پاس لے کہ آیا تھا۔۔۔

یہ ہماری بیٹی ہماری جنت ہے یہ ہماری فاطمہ ہے۔۔۔اس نے فاطمہ پہ نظر مرکوز کی ہوئی حسنال نے کراؤن سے ٹیک لگائے منال کو پیار محبت اور نرمی سے بتایا۔۔منال نے کچھ کہا نہیں وہ رونے لگ پڑی ……اور کچھ دیر بعد اس نے کانپتے بازوں آگے کیے تو حسنال نے حیران سا ہوکر اسکی بانہوں میں فاطمہ کو دیا تھا۔۔

بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔۔گول مٹول سا چہرہ اس معصوم کی نظریں ماں پہ ہی ٹکی ہوئی تھی

یہ۔۔۔۔یہ ہ۔۔۔ہماری بیٹی ہے فاط۔۔۔۔فاطمہ ۔۔۔۔اس نے ایک نظر اس پہ ڈال کے تصدیق چاہی اور اس کے اثبات پہ سر ہلانے پہ وہ اس کو اپنے سینے سے لگائے ممتا کی ٹھنڈک محسوس کرنے لگی ۔۔۔۔۔وہ ساتھ ساتھ روتی جارہی تھی اور ساتھ ساتھ اس کے معصوم چہرے پہ پیار کیے جا رہی تھی ۔۔۔ اور اس کی آواز سن کر حسنال کے دل میں ٹھنڈی سی پھوار اترتی محسوس ہوئی تھی

وہ نجانے کتنی دیر فاطمہ کو پیار کرتی رہی فاطمہ ممتا کے زیر اثر سوکی تھی منال نے ایک دفعہ پھر فاطمہ کے معصوم چہرے پہ لب رکھے اور اس کی جانب دیکھا جو تھکن میں ہونے کے باوجود اپنے آپ کو ایکٹو ظاہر کرنے کی بہت کوشش کر رہا تھا وہ بہت پیار سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

اسے مجھے دے دیں آپ تھک جائیں گی۔۔۔! اس نے اس کی گود سے فاطمہ کو لے کر اس کے ساتھ لٹایا تھا ۔۔۔

نہیں میں بالکل ٹھیک ہوں آج ۔۔۔! اور ویسے بھی مجھے نیند نہیں آرہی ۔۔۔۔! منال آج ٹھیک لگ بھی رہی تھی۔۔۔

کیا واقعی ۔۔۔۔۔؟ اس نے پوچھا تو منال کی دھیمی مسکراہٹ اور اثبات میں سر ہلنے کے ساتھ ہی وہ اس کی گود میں سر رکھتا اس کے گرد بازؤں باندھ گیا ۔۔۔

تم بہت اچھے ہو ۔۔۔۔! وہ اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کہ اس کے بکھرے بالوں کو ہٹاتی اس کی کشادہ پیشانی پہ لب رکھ گئی تھی اور اس کی ناک سے ناک مس کرتی پھر اس کی آنکھوں پہ لب رکھتی حسنال بخت کو حیرت کے جھٹکے دے رہی تھی ۔۔

آپ ٹھیک تو ہیں نا ۔۔۔۔۔۔وہ کسی خدشے کے تحت بولا تھا

میں ٹھیک ہوں پر تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہے۔۔۔تم کتنے کمزور ہوگئے ہو ۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں کے نیچے حلقے دیکھتی اس کو پہلے سے کمزور سے دیکھتی فکرمندی سے بولی ۔۔۔

یار فٹ فاٹ ہوں میں ۔۔۔بس کام زیادہ ہوتا ہے تو تھک جاتا ہوں میں ۔۔۔۔! اس کو اپنے لیے پریشان دیکھ کر اس نے مطمن کیا ۔۔۔۔!

منال اس کی کمزور دلیل سن کر مسکرائی اس کی آنکھوں میں نمی بھی آئی ۔۔۔۔وہ کہنا تو یہ چاہتی تھی کہ کام تو پہلے بھی ہوتا تھا۔۔۔ اس نے اپنی ایک جانب سوئی فاطمہ پہ اور ساتھ اس کے باپ پہ بھی کمفرٹ درست کیا تھا جو اب پرسکون سا سو رہا تھا اور منال ساری رات ان دونوں باپ بیٹی کو دیکھ کر آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتی رہی ۔۔۔! وہ کبھی ایک کو دیکھتی اور کبھی دوسرے کو ۔۔۔۔اس نےجھک کر فاطمہ کے سر پہ لب رکھے اور فاطمہ کے باپ کے بھی۔۔۔۔۔وہ دونوں اب اس کی کل کائنات تھے وہ دونوں ہی اس کےلیے لازم و ملزم ہوچکے تھے۔۔۔

ْ۞۞۞۞

دو سال بعد ۔۔۔۔!

روشنال جو آغا جان کو ایکسائز کروا رہا تھا اس کو رونے کی آواز آئی تھی وہ ان سے اجازت لیتا اندر کی جانب آیا اور اندر کا منظر دیکھ کر وہ شاک ہوگیا تھا اس کا ایک سال کا بیٹا ماں کو دیکھ کر رو رہا تھا اور ان کی زوجم لولی پاپ منہ میں لیے چوس رہی تھی ایشل تو سکون سے سوئی ہوئی تھی جبکہ مسیم ماں کو دیکھ کہ رو رہا تھا جس نے اوپر سے ریپر اتار کے اسے تمھایا پھر کھینچ کہ خود کے منہ میں ڈالا تھا ایشل اور میسم جڑواں تھے ایشل باپ اور میسم کی شکل ماں پہ تھا دونوں ہی بہت پیارے تھے اللہ نے انھیں رحمت اور نعمت دونوں سے نوازا تھا۔۔

یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔؟ اس کی آواز میں اتنی غراہٹ اور سختی پوشیدہ تھی اس نے گبھرا کر دیکھا اور دیکھتی رہ گئی روشنال بخت کے کشادہ چہرے پہ بلا کی سنجیدگی چھائی ہوئی تھی اشنال نے لولی پاپ کو غیر ارادی طور پہ ڈوپٹے کے نیچے چھپایا تھا روشنال اس کے پاس آکہ بیٹھا اور جھک کر ایشل کے ماتھے پہ پیار کیا کچھ دیر اس کے ساتھ لاڈ کرتا رہا تو ایک گھوری اشنال پہ ڈالنا نہ بھولا تھا۔۔اشنال کو پتہ تھا اب اس کی خیر نہیں اس نے اٹھنا چاہا ۔۔۔۔۔مگر یہ کیا اس کے ہاتھ اس کی کمر تھے اس کی نازک سی کمر کے گرد اس شخص کے مضبوط لمس کی گرفت اتنی سخت تھی کہ اشنال کپکپا کر رہ گئی تھی اس کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر اس کی گرفت سخت رہی تھی وہ تو مرنے والی ہوگئی تھی اس کی ایک سانس آ رہی تھی تو دوسری جا رہی تھی

اوئے۔۔۔۔۔! یہ دیکھتے مسیم روشنال بخت چھوٹی سی آواز نکال کہ آگے ہوا اور باپ کے کندھے پہ اپنے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ مارے روشنال نے اسے خود میں بھینچا تھا

وہ ۔۔۔۔۔وہ کچھ نہیں ۔۔۔۔۔ڈر کے مارے اس کے منہ سے آواز بھی نہ نکل سکی تھی لیکن پھر بھی روشنال کے نارمل ری ایکشن دیکھ کہ لگا کہ روشنال کو پتہ نہیں چلا کہ وہ لالی پاپ کھا رہی تھی اس نے دل میں شکر ادا کیا تھا ۔۔۔!

ادھر مجھے دو ۔۔۔۔۔اس کی کمر سے ہاتھ گزار کر بغیر کسی رعایت کے لہجے میں کہا تھا۔۔۔

کک۔۔۔۔ککیا ۔۔۔۔۔؟ اشنال بی بی نے تو ایسے پوچھا جیسے کچھ جانتی ہی نہیں آخر یہ بھی تو شو کروانا تھا کہ اسے کچھ علم نہیں ہے اس کی زبان گھگھا کر رہ گئی تھی۔۔۔

میں کھلونا یا چھوٹا بچہ نہیں ہوں جسے تم بہلا لوگی ۔۔اس کی آواز اتنی کاٹ دار تھی کہ اشنال کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ رہے تھے اس کی تھوڑی اس کے کندھے پہ سختی سے ٹکی ہوئی تھی وہ یہ کہتے اس کے ہاتھوں سے لولی پاپ لے چکا تھا جو روشنال کو کانپتے ہوئے محسوس ہوئے تھے

یہ سب میری دی گئی نرمی اور ڈھیل کا نتیجہ ہے جو تم

ایسی فضول حرکتیں کر رتی ہو۔۔میں نے منع کیا تھا ایسی حرکت دوبارہ نہیں کرنی تم نے تو میری سننی ہی نہیں ہے خود بھی دن بدن خراب ہو رہی اور میرے بچوں کو بھی کر رہی ہو ۔ ۔۔۔۔یہ لاکر کس نے دیے ہیں !

روشنال نے پچھلے دنوں اسے منع بھی کیا تھا کہ اب نہیں کھانا اس نے تو بہت احتیاط سے چھپا کر رکھے وہ جب کام پہ چلا جاتا وہ تب کھاتی تھی مگر اس کی چوری پھر پکڑی گئی تھی ۔۔

اور کہاں ہیں ۔۔۔۔۔؟ اس نے سختی اور کڑے تیور سے اسے دیکھا اس کو دیکھ کر پیار بھی بہت آیا جو ماں بننے کے بعد اور خوبصورت ہوتی جا رہی تھی اس نے تو اکثر دیکھا تھا کہ مائیں بہت سمجھدار ہوتی ہیں مگر بقول اس کے اس کی بیوی خود ہی بچی بنتی جا رہی تھی وہ سمجھدار تو بہت تھی ان کا بہت اچھے سے خیال رکھتی تھی رات کو ایک کی طبعیت خراب ہوتی تو وہ ساری رات کوئی نہ کوئی ٹوٹکہ کرتی رہتی۔۔۔!

ا۔۔۔او ۔۔اور ت ۔۔و تو میرے پاس نہیں ہیں ایک ہی ہے ۔۔۔۔! وہ جتنا لہجے پہ قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی اتنا ہی لہجہ لڑکھراتا جا رہا تھا ۔۔۔

میں خود دیکھ لیتا ہوں اس کے علاوہ مجھے ایک بھی نظر آگیا تو زوجم تمھاری خیر نہیں ہے ۔ ۔۔اس کے ساتھ لگے جھکتے اس نے سختی سے کہا اشنال ڈر گئی تھی مگر بمشکل اثبات میں سر ہلا کہ اسے تسلی دی تھی۔۔

وہ اب کبڈ ۔۔۔۔الماری چیک کر رہا تھا اشنال کی نظریں اس کی چوڑی پشت پہ تھیں جو ایسے انوسیٹگیشن کر رہا تھا جیسے اشنال کو ئی جا”سوس ہو اور سی آئی ڈی کا مخصوص شخص ۔۔ وہ جانچ پڑتال کرتے وقت ایک نظر گھور کہ اس پہ بھی ڈالتا ۔۔

شکل بے شک میری جیسی معصوم ہے لیکن حرکتیں تو باپ سے ڈونلوڈ کی ہیں ان کی طرح کھڑوس ہو میں بھول ہی گئی تھی کہ خون کا بھی اثر ہوتا ہے دوسری ان کی فوٹو کاپی ہو ۔۔۔۔میں نے تو ففٹی پرسنٹ شیئر کرنا تھا لیکن میرے بچے عزت تمھیں راس نہیں آئی اب سے تم بھی میرے کرائم پارٹنر کی لسٹ سے فارغ ہو تمھیں تو ہمدرد سمجھا تھا ۔۔۔۔! وہ بالکل ہلکی آواز سے اس کے کان میں بھی سرگوشیاں کر رہی تھی وہ یہ کہتی ایک نظر روشنال کو دیکھتی اور ایک نظر اپنے بیڈ سائیڈ کے تکیے کے نیچے دیکھتی خود کو داد دے رہی تھی جیسے وہ کبھی اس کے راز تک نہیں پہنچ پائے گا۔۔

روشنال جو اس کی معصوم اور شکوے بھری باتیں سنی

جو بیٹے سے راز و نیاز کر رہی تھی چہرے کے تنے ہوئے تاثرات ایک دم سے ڈھیلے پڑے تھے اب بالکل ہی روشنال کا قصور بھی نہیں تھا وہ اسے تنگ ہی بہت کرتی تھی روشنال نے پیچھے مڑ کہ دیکھا تو اس نے اشنال کی نظر کے تعاقب میں دیکھا جس کی نظر دوسری سائیڈ پہ پڑے تکیے پہ تھی وہ پھر سے مصروف ہوگیا تھا اشنال بچا کہ نگاہ اس پہ ڈال رہی تھی۔۔

وہ دیکھتا رہا مگر کچھ نہ ملا تھا وہ مضبوط قدم اٹھاتا دوبارہ بیڈ پہ آ بیٹھا تھا اور اس کا ہاتھ پکڑا تھا۔۔

اب بہت سخت سزا ملے گی میری جان ۔۔۔۔ اس کی آواز میں سرد پن تھا وہ اس کے پاس بیٹھتا ہنوز سنجیدگی سے بولا ۔۔۔!

مم۔۔۔مگر ۔۔۔۔اب ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔نے کچھ نہیں کیا۔۔۔اس کے الفاظ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے تھے۔۔۔!

سچ میں کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔اس نے تصیدیق چاہی تھی ۔۔

ججج۔۔۔۔جی ۔۔۔۔! اس نے گڑبڑا کر کہا تھا۔۔۔!

یہ کیا ہے ۔۔۔۔ایکدم سے اس نے بیڈ کا فوم اوپر کیا نیچے دیر سے لالی پاپ پڑے ہوئے تھے وہ کوئی ایک دو نہیں تھے ڈھیر سارے پڑے ہوئے تھے۔۔۔

یہ کیا ہے پھر ۔۔۔۔۔؟ اب کی بار اس کے سوال میں اور زیادہ سختی تھی اشنال بول بھی نہ سکی تھی ۔۔۔

کیا ہے یہ اشنال ۔۔۔۔منع کیا تھا یہ گند بلا نہیں کھانا اس میں کمیکل ہی پایا جاتا ہے یار تمھارے لیے چاکلیٹ لایا تھا وہ کھالیتی ۔۔۔۔تم خود میں تو بری عادتیں ہے ہی سہی مگر میرے بچے کو بھی ڈال رہی ہو ایک تم میرے منع کرنے کے باوجود لائی بھی دوسرا تم چھپ چھپ کہ کھا بھی رہی ہو تیسرا تم میرے پوچھنے کے باوجود بھی نہیں بتا رہی اور چوری پکڑنے پہ بھی جھوٹ بھی بول رہی ہو۔۔۔۔بتاؤ کیا سزا دوں ۔۔۔۔! اس کے بازؤں کو پکڑ کے وہ سختی سے استفسار کرنے لگا ۔۔۔

سپرمین ۔۔۔۔وہ یہ کانپتے اور دھکتے دل سے اس کی سرد نگاہوں کو ہنوز خود پہ جمے دیکھ کر شدت سے اس کے سینے سے آ لگی اس کے گرد اپنے ہاتھ باندھے۔۔۔۔وہ روشنال بخت کے دل میں ہمیشہ ہلچل مچا دیتی تھی اس کے مضبوط ارادوں کو ڈول نواں کر دیتی ۔۔۔۔اس کی غصے بھری آنکھوں سے ساری سرد مہری ختم کر دیتی تھی ابھی بھی اس نے اس سنگی مجسمے کے اندر فٹ پتھر دل میں ہلچل مچا دی تھی

سوری نا ۔۔۔وہ اس کے ساتھ لگ کہ رونے لگ پڑی ۔۔۔۔۔مسیم

باپ کے طرف آیا ۔۔۔۔اور اس کے ہاتھوں پہ غصے سے ہاتھ مارنے لگا ۔۔روشنال نے اشنال کے آنسو دیکھے اور اپنے ہاتھوں سے اس کے آنسوؤں صاف کرکے اس کی آنکھوں پہ لب رکھے ۔۔۔۔!

یہ لایا کون تھا۔۔۔۔؟ اب کی بار نرمی سے پوچھا اور پھر میسم کو ساتھ لگایا ۔۔۔!جو اب اس کی گھڑی کے ساتھ کھیلنے لگا۔۔۔

وہ حسنال بھائی لائے تھے ۔۔۔اشنال نے لاڈ سے کہا اور اس کی بیرڈ پہ ہاتھ پھیرنے لگی جو اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

اس کی تو۔۔۔۔۔۔! اس سے یہ بات سن کر روشنال کی منہ سے اچانک سے الفاظ پھسلے ۔۔

آپ گالی بھی دیتے ہیں سپرمین ۔۔۔۔اشنال نے بے یقینی سے اس کی جانب دیکھا تھا۔۔

میرا مطلب۔۔۔اس کی تو میں سٹینگ کرتا ہوں ۔۔۔روشنال نے بات کو اچانک سے بات کو سنبھالا۔۔۔۔لیکن گالیاں کیا حسنال تو اس سے زیادہ کا مستحق تھا۔

آپ انھیں کچھ نہیں کہے گے ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی ۔۔۔! اس کے بالوں پہ ہاتھ پھیر کر اشنال نے جتلایا تھا ۔۔۔۔

میں اسے کچھ نہیں۔۔۔۔۔ بہت کچھ کہوں گا ۔۔۔میں تمھیں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم ہمیشہ مجھے بےبس کر دیتی ہو یہ کہہ کر اس کے ماتھے پہ لب رکھ کہ وہ ہٹا اور سارے لولی پاپ ہاتھ میں لیے اور نکل گیا جب کہ اشنال بے بسی سے حسنال کی خیریت کی دعا مانگنے لگی جو آج دوسری بار بری طرح پھنسنے والا تھا۔۔

****

حسنال جو کام پہ تھا اس کے فون پہ بہت زیادہ کال لگی ہوئی تھیں اس نے دیکھا تو منال کی مسڈ کال تھیں وہ ہر چیز کلوز کرتا جلدی سے نکلا تھا اسے فکر نے آگھیر تھا کیونکہ جہاں اُسے وہ تھی وہاں کوئی دوسرا تیسرا نہیں تھا۔۔۔

وہ جلدی سے گھر پہنچا اس نے تیزی سے سیٹرھیوں پہ قدم رکھے اور بھاگا ۔۔۔۔! جب گھبرا ہوا وجود اس کے ساتھ آ ٹکرایا اس سے پہلے وہ ٹکرا کے گرتی حسنال نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا۔۔

کیا ہوا ہے آپکو۔۔۔۔۔؟ بکھرے بال ، روتی آنکھیں پھولی سانسیں ڈوپٹے سے بے پروا وہ اس کی جان سے پیاری تھی جس کی زندگی کےلیے اس نے منتیں مانگی تھی۔۔۔

کیا ہوا آپکو۔۔۔۔؟وہ اس کو پریشان دیکھ کر گبھرا ہی تو گیا تھا۔

وہ۔۔۔۔وہ حسنال ۔۔۔۔۔فاط۔۔۔۔۔فاطمہ پ۔۔تہ پتہ نہیں کہاں گئی ہے وہ مجھ سے ضد کر رہی تھی ممم۔۔۔میں نے اسے تھپڑ مارا اب پتا نہیں کہاں چلی گئی ہے ۔۔۔۔! میں فیڈر میں دودھ ڈال رہی تھی وہ اس کے ساتھ لگی بلک بلک کر رو رہی تھی۔۔

آپ کو مجھ پہ رحم نہیں آتا ۔۔۔۔کیوں مجھے اتنا تنگ کرتی ہیں کیوں ستم کرتی ہیں مجھ پہ ۔۔۔۔حسنال نے اس کی بات سن کر گہرا سانس لیا اور پھر سے خود سے لگائے اوپر آیا تھا ۔

پتہ ہے مجھے لگا ہے پتہ نہیں کیا ہوگیا۔۔۔ آپ کی یہ حالت مجھے بے بس کر دیتی ہے آپ جب بھی اس اجڑے حلیے میں میرے سامنے آتی ہیں تو مجھے لگتا ہے میری محبت میں کوئی کمی رہ گئی تھی وہ یہ کہتے اسے کمرے میں لے آیا تھا۔۔

حس۔۔۔۔۔حس۔۔۔نال ۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔فاطمہ۔۔۔۔چھ۔۔۔چھوڑکر چلی گئی مجھے ۔۔۔۔۔! وہ تڑپ کر اٹھی ۔۔۔

ٹیک اٹ ایزی یار ۔۔۔۔وہ آغا جان کے پاس کھیل رہی ہے اس نے حوصلہ دیا اور اسے گود میں بیٹھا لیا ۔۔

منال ہوش میں تو آچکی تھی اسے نہیں پتہ تھا مومہینے کومہ میں رہی تھی لیکن وہ بے ہوشی کی کیفت میں بھی اسے محسوس کرتی حسنال کو پتہ تھا کہ اتنے عرصے بیمار رہنے کے بعد وہ خالی دماغ ہو جایا کرتی تھی اس کے دماغ میں گہری چوٹیں آئی تھیں حسنال نے اس کا بہت زیادہ خیال رکھا وہ وہ اب پہلے جیسی ہو رہی تھی اس نے اپنی بھورے بالوں والی بلی کے بالوں کےلیے کوئی بھی ہومیو پتھک والی دوائی نہیں چھوڑی جو اس کے بالوں پہ نہ آزمائی ہو ۔۔۔۔اس کی محنت رنگ لائی اس کے بال پہلے سے لمبے بلکہ خوبصورت ہوگئے تھے دوسال سے وہ اس کو کام کرنے نہیں دیت یہ بات الگ تھی کہ اس کے جانے بعد وہ کر دیتی تھی۔۔۔

حسنال تم دوسری شادی کرلو۔۔۔۔تم بہت اچھے ہو ۔۔۔مم۔۔۔بیمار رہتی ہوں ۔۔۔کوئی کام نہیں کرتی ۔۔اس نے اپنی طرف سے صلاح دی تھی جبکہ حسنال جو اس کے کندھے پہ لب رکھ کہ اسے بازؤں کے حصار میں لیے پرسکون سا لیٹا وہ جھٹکے سے آنکھیں کھول گیا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *