Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Sitamgiri (Episode 34)Part 1,2,3

Teri Sitamgiri by Abeeha Ali

اس کو مجید چاچا کے گاؤں آئے ایک مہینہ ہوگیا تھا زندگی نے ایک دم سے پلٹا کھایا تھا وہ یہاں کے ماحول کی عادی ہرگز نہیں تھی اب نہ صرف رہ رہی تھی بلکہ بختی اماں کو کام بھی کروا دیتی تھی بختی اماں نے کبھی اسے مجبور نہیں کیا تھا کہ فلاں کام کرو یا فلاں نہ کرو ۔۔۔۔وہ غصے کی تیز ضرور تھیں مگر دل کی بہت صاف تھیں شروع شروع کے دنوں میں وہ باتوں میں ہی باتوں میں ایسی بات کر جاتی جسے منال بری طرح ہرٹ ہوتی تھی ایک دن اسے روتا دیکھ کر نہ صرف اسے منایا بلکہ معافی بھی مانگی تھی اس کی وجہ صرف اور صرف منال کی خاموشی تھی وہ کچھ بھی کہہ دیتیں وہ آگے سے کچھ بھی نہیں بولتی تھی اب تو وہ اس پہ جان چھڑکتی تھیں وہ اپنی خوشی کی خاطر ان کو بہت سارا کام کروا دیتی تھی صبح سویرے ناشتہ وہ خود تیار کرتی تھیں جب کہ وہ مانو کو سکول کےلیے تیار کرتی اور ان کے ناشتہ تیار کرنے تک وہ سارے صحن سے صفائی کرلیتی تھی

صحن کافی بڑا تھا تو اس کی سانس پھول جاتی تھی لیکن اب اس نے فرض سجمھ کر بہت سارے کاموں کہ ذمہ داری اپنے سر لے لی تھیں طویلہ بختی اماں خود صاف کرتی تھیں مال و مویشی کا کام طویلے کی صفائی بختی اماں نے اسے کبھی نہیں کہا تھا وہ نہیں چاہتی کہ اس گڑیا کو بھاری کام کرنا پڑے وہ انھیں نازک سی مومی گڑیا لگتی تھیں وہ تو جیسے ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتی تھیں کہ کہیں وہ میلی نہ ہو جائے ان کے بس میں تو ہوتا وہ اسے کوئی کام نہیں کرواتی لیکن وہ خود منتوں سے مکھن لگا کر ان کو کام کرتی تھی وہ جانتی تھیں کہ وہ اتنے سارے کام کرکے تھک جاتی تھی کیونکہ مجید چاچا تو دو یا تین دنوں بعد گھر آتے تھے وہ اکیلی سارا کام کرتیں گھر کو سنھبالتی تھیں۔

مانو چھوٹی بچی تھی ضد کر جاتی تھی بختی اماں کبھی کبھی اس کی ضد سے تنگ پڑ جاتی تھی مانو ایسی بچی تھی جو پیار ڈھونڈنے کی کوشش کرتی تھی اسے اس میں اسے اپنا آپ نظر آیا تھا کیونکہ باتوں ہی باتوں میں بختی اماں نے اسے بتایا کہ حسن (مانو کے ابو) کی مو”ت ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہوئی تھی اس کے بعد انہوں نے پھر بہو کی شادی کر دی مانو جب ایک سال کی تھی اسی وقت کر دی تھی وہ تو بیٹے کی وفا”ت کے بعد جیسے زندہ لاش بن گئے تھے لیکن ان کے مسکرانے کی وجہ صرف اور صرف مانو بنی تھی جس کی مسکراہٹ ، قہقوں اور چھوٹی چھوٹی باتوں سے اس گھر کا آنگن کھل اٹھا تھا کیونکہ وہ بہت شرارتی بچی تھی اور منال کے ساتھ بہت زیادہ اٹیچ ہوگئی تھی.

ابھی دو دن پہلے کی ہی بات تھی ثمینہ بیگم کو پاگل کا بہت شدید قسم کا دورہ پڑا تھا وہ ہر چیز بری طرح بکھیر کر رکھ گئی تھیں اس سے قبل بھی اس ایک مہینے میں وہ کتنی دفعہ اس کو مار گئیں تھیں اور تو اور وہ ایک دن گھر سے باہر نکل گئی تھیں اسے اب شدید قسم کا خطرہ لاحق ہوا تھا کہ وہ رات کو کئی نکل ہی نہ جائیں وہ انھیں باندھ بھی نہیں سکتی تھیں کیونکہ اسے تکلیف ہوتی تھی ۔۔۔

رات کو وہ ان کے پاس کمرے میں سوتی تھی وہ دلیہ بنا کہ کمرے میں آئی تو وہ گم صم سی بیٹھی ہوئی تھیں جب اس نے دلیہ ان کے آگے رکھا تھا کیونکہ وہ کھانا نہیں کھاسکتی تھیں وہ انھیں کھلانے لگی تو وہ آگے سے بری طرح ہنسنے لگ پڑی تھیں منال ہکی بکی سی ان کو دیکھنے لگی اسی اثنا انھوں نے اس کی سر پہ بہت بری طرح اٹیک کیا تھا جس وجہ اس کا نماز سٹائل ڈوپٹہ کھل گیا تھا اور پھر وہ جنونی انداز میں اس کے بال کھیچھنے لگ پڑی اتنی برے انداز سے انھوں نے اس کے بال کھینچے تھے کہ منال سے چھڑانا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔

وہ خود کو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی رہی لیکن انھوں نے نہیں چھوڑا تھا منال کے سر پہ ٹھیسیں اٹھنے لگ پڑی تھی اس کی چیخ نکلی تھی اس کی چیخ نکلنے کی دیر تھی جب بختی اماں بھاگ کہ اندر آئیں تھیں اور انھوں نے بمشکل اسے چھڑوایا اور اسے کھنیچ کر باہر لے گئیں تھیں اور دروازہ زور سے بند کر دیا تھا وہ بر آمدے میں آتے ہی ان کے گلے لگ کہ خوب روئی تھی اس کا جسم کانپنے لگ پڑا تھا اس حالت میں تو وہ پہلے ہی کھینچی کھینچی سی رہتی تھیں اوپر سے اب ماں کی مار نے اسے بالکل ہی ادھ موا کر دیا تھا وہ کانپتی کانپتی وہیں لیٹ گئی تھی بختی اماں پھر اسے اپنی روم میں لے گئیں آئیں تھیں کیونکہ وہ اکیلی بر آمدے میں اسے نہیں چھوڑسکتیں تھیں مجید چاچا کام پہ گئے ہوئے تھے وہ دن بھر کی خود کو گھر کے کاموں میں لگی رہی اب اپنے ٹوٹے بکھرے وجود کو لے کر لیٹ گئی تھی ۔۔۔

یہ دودھ پتی پی لو طاقت آئے گی ۔۔۔۔وہ لیٹی ہی تھی جب بختی اماں ہمیشہ کی طرح دودھ کا کلاس پکڑے اا کو روم میں دیتی تھیں منال ان کو دیکھتیں وہ خود کچا دودھ پیتیں اور مانو بھی کچا دودھ پینے کی عادی تھی ایک دن انہوں نے اس سے دیا لیکن اس نے انکار دیا اُن کے بہت زیادہ اسرار پہ اس پہ ایک گھونٹ پہ اسے الٹی آگئی تھی اب وہ اسے روازنہ دودھ پتی دیتی تھیں کبھی کبھی اسے پینے نہیں ہوتا تو وہ صحن میں درخت کے نیچے پڑے بلی کے برتن میں ڈال دیتی تھیں بختی اماں اس کی طبعیت کے پیشِ نظر بہت خیال رکھتیں تھیں ان کو اس پہ ترس آتا تھا کہ وہ پاگل ماں کے ہاتھوں بری طرح نشانہ بنی ہوئی تھی۔

بختی اماں مانو کو میرے پاس لٹا دیں پلیز ۔۔۔۔وہ اس کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس لے کہ جارہی تھیں جب اس نے آہستگی سے پکارا تھا۔

اپنی حالت دیکھو بچے وہ تنگ کریں گی تمھیں ۔۔۔۔انہوں نے مڑ کے جواب دیا تھا۔

نہیں وہ چھوٹی بچی ہے میں اس سے تنگ نہیں پڑتی بلکہ اس کے وجود سے سکون ملتا ہے مجھے۔۔۔ پلیز لٹا دیں نہ۔۔۔۔اس نے ملتجیانہ لہجے میں کہا تھا تو انہوں نے مانو کو آہستگی سے اٹھا کہ اس کے پاس لٹایا اور خود باہر چلی گئی تھیں۔

وہ آہستگی سے مانو کے سر پہ ہاتھ پھیرنے پہ ہاتھ پھیرنے لگی اس کے معصوم چہرے کو دیکھتے اس کے گال پہ پیار کیا تھا وہ سوتے ہوئے کسمسائی تو منال نے آہستگی سے ہاتھ پیچھے کرلیے کہ وہ جاگ نہ جائے۔۔۔۔!

وہ معصوم ابھی لاپرواہ تھی یہ نہیں پتا تھا کہ ماں باپ

کے بغیر زندگی کیسے مشکل سے گزرتی تھا عمر کا یہ حصہ ہر حسد، ہر غرض، ہر فکر سے پاک تھا اسے نہیں پتا تھا کہ ماں باپ کا سر پہ سایا کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔؟ اس کا مشغلہ سکول جانا ، کھانا پینا، مسجد میں سیپارہ پڑھنے جانا …اور مٹی کے گھر بنانا گڑیا کی رخصتی کرنا وہ ابھی خوابوں کی زندگی میں تھی عمر بڑی ہو تو غم بھی بڑے ہوجاتے ہیں اس کا پاؤں سے بنا مٹی کا گھر بنا دیکھ کر منال کے دل میں ہوک سی اٹھتی تھی اسے اب گھر کے معنی سمجھ آئے تھے کہ گھر چیز کیا ہے۔۔۔؟

وہ ہر سوچ کو جھٹکتی سر پہ ہاتھ رکھ کہ آنکھیں موند لیں تھیں آنکھوں کے بند ہوتے چھم سے حسنال بخت کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آیا تھا کبھی غصہ کرتے، کبھی مذاق کرتے ، کبھی سرد رویہ سے ، تو کبھی نرم روایے سے ۔۔۔۔وہ جتنا ماضی سے پیچھا چھڑاتی پھر بھی کوئی نہ کوئی سوچ اس کے آگے کسی پھن پھیلاتے ناگ کی طرح کھڑی ہوتی اس سوچ کی ہر تار ماضی سے جڑ ہوتی اور اس تار کا کنکشن جو ذرا سا غلط ہوا تو اسے عذاب کن تنہاہیوں میں مبتلا کرگیا تھا جس سے اس کی روح میں آبلے پڑ جاتے وہ اس شخص کو دور کئی پیچھے چھوڑ آئی تھی اور اب پیچھے مڑکر وہ دیکھنا نہیں چاہتی تھی

حسنال بخت نامی باب اس کی زندگی سے کب کا ختم ہوگیا تھا یہ نہیں تھا کہ وہ اسے یاد نہیں آتا تھا وہ یاد آتا تھا بہت بری طرح یاد آتا تھا ۔۔۔۔وہ اس شخص کو کم از کم اپنی زندگی میؔں بھول نہیں سکتی تھی بھلا ” حسنال بخت “بھی کوئی بھولنے والی شے تھا وہ آنکھیں بند کرتی تو وہ شخص اسے سونے نہیں دیتا ، اس کی نیندوں کو بری طرح روند کہ رکھ گیا تھا اگر کبھی بھولے بھٹکے نیند آنکھوں میں بیسرا کر بھی لیتی تو وہ خوابوں میں لفظوں کے زہر پھینکتا ہوا نظر آتا تھا سوتے جاگتے ہوئے اس کے حواس مختل رہتے تھے وہ اس کےلیے لاعلاج مرض بن گیا تھا اس ستمگر کی یادیں ہی اس کے درد دوا تھی

اس کے کانوں میں ہر روز ایک ہی گونج ہوتی کہ تم اور تمھاری ماں میرے بھائی کی قاتل ہو۔۔۔۔! وہ سوتے ہوئے اٹھ کہ بیٹھ جاتی تھی اور سوچوں میں پڑھ جاتی کہ روشنال بخت کیا پتا زندہ تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔! یہ سوچیں ہر وقت ایک انجانے درد میں مبتلا رہتی تھی

وہ کبھی کبھی سوچتی کہ بچے کی پیدائش پہ اسکو موت آجائے تو اس کی زندگی میں سکون آجائے کیونکہ حسنال بخت کے الفاظ چابک کی طرح اس کے دل پہ لگتے تھے ۔۔۔۔! لیکن پھر اپنی کوکھ میں جنم لیتے اس کی نشانی کا سوچ کر استغفار کرتی کہ اس کی موت نے اس کی اولاد کے چہرے سے مسکراہٹ چھین لینی ہے کہ کیسے وہ اس کے بعد اس کی طرح کمپلیکس سی زندگی گزارے گا۔۔۔۔! اس رات وہ کسی بھی طرح رک جاتی لیکن اس نے سوچا تھا کہ حسنال تو بچے کی پیدائش اسے طلاق دے کر جینے کی آخری وجہ بھی چھین لے گا۔۔۔۔! اس لیے وہ خاموش ہوکر ماں کے ساتھ چلی آئی تھی۔

****

سیاہ تار کول پہ گاڑی فراٹے بھر رہی تھی رات اپنے پر بری طرح پھیلا چکی تھی دونوں بھائی اپنی خاموشیوں میں الجھے ہوئے تھے آخر اس خاموشی کو روشنال نے توڑا تھا۔۔

اب کہاں لے کہ جاؤں ۔۔۔۔بتاؤ ۔۔۔۔روشنال بخت اسٹیرنگ پہ ہاتھ جمائے لمبی سڑک کو دیکھتے ایک نظر حسنال بخت کے مرجھائے چہرے کو دیکھتا سنجیدگی سے بولا جو کہ اس تاریکی کی عملی تصویر لگ رہا تھا۔۔

گھر لے چلیں بھائی وہ اب مجھے کئی نہیں ملے گی میں نے اس کی ناقدری کی خدا کی دی گئی نعمت کی ناشکری کی ہے تو وہ مجھے کیسے مل پائے گی۔۔خدا ناقدروں کو بہت مہلت دیتا ہے لیکن ایک وقت آتا ہے اسے نعمت چھن جاتی ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہوا ہے۔۔!

حسنال حاکم بخت نا امید نہ ہو ۔۔۔اس رب نے ہجر لکھا ہے تو اس میں بھی کوئی مصلحت ہوگی کیا پتہ اس نے تم سے منال کو کیوں چھینا ہے۔۔۔؟کیونکہ تم اس کی بعد میں ناقدری نہ کرسکو۔۔۔! روشنال نے اسے سمجھایا تھا جدائی کا یہ روگ اس کے چہرے سے نظر آ رہا تھا وہ دن بدن کمزور ہو رہا تھا۔

بخت ۔۔۔۔۔۔ !

پتا نہیں یہ بخت ۔۔۔۔کب تک ہمارا ساتھ چھوڑے گا۔۔۔۔۔!اس بخت نے ہمیں کئی کا نہیں چھوڑا پتا نہیں یہ نام ہمارے آباؤ اجداد نے کیسے رکھ دیا ہے یہ ضرور بتا کہ جاتے کہ نیک بخت ہے یا بد بخت۔۔۔؟ ہم صرف بخت نام کے ہی ہیں دیکھیے گا ہماری بدبختی کی مثال ہماری نسلیں دے گی ۔۔۔وہ یہ کہتے کہتے طنزیہ ہوچکا تھا۔۔

سوچ سمجھ کہ بولا کرو۔۔۔۔تم تو دنیا تسخیر کرنے کا ارداہ رکھتے تھے اب اپنے مقدر پہ رو رہے ہو۔۔۔! روشنال نے ایک نظر پھر اس کے چہرے پہ نظر ٹھہرا کر نگاہیں ونڈو سکرین پہ جمالی تھیں

جن کے منہ کے آگے ناکام اور شکستہ محبتیں ٹھہر جاتی ہے نا۔۔۔۔ان کو پھر دنیا بھی بیزار اور پھیکی لگنے لگ پڑتی ہے میں آج دنیا کو تسخیر کرنے کی کوشش کروں نہ تو نہیں کرسکتا کیونکہ اس کی یادوں کی فتح ہوجاتی ہے۔۔۔۔میں اب دنیا کیا تسخیر کروں گا بھی کیا وہ مجھےتسخیر کرگئی بھائی۔۔۔وہ سر سیٹ پہ ٹکاتے آنکھیں بند کرگیا تھا۔

پھر روشنال نے کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا گھر کی طرف ٹرن لیا تھا پہلے آفس، پھر اس کے ساتھ منال کی تلاش تھکن نے اس کی آنکھوں پہ ڈیرہ جمالیا تھا وہ اب گھر جا کہ آرام کرنا چاہتا تھا۔۔ اس کی رائٹ سائیڈ پہ درد ہونے لگا تھا روازنہ کی بے پروائی نے زخموں پر سے ٹانکے اڈھیڑ دیے تھے ۔۔!

*****

حسنال بھائی آپی کا کچھ پتہ چلا۔۔۔۔؟ وہ سیٹرھیوں پہ انھی کے انتظار میں کھڑی تھی اس کو راستہ دیتے ایک دم سے پیچھے ہوکر ہر روز والا سوال دہرایا تھا

وہ سارے پتے ختم کرکے کے گئی ہے اشنال ۔۔۔۔! میں روز اسے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن بری طرح ناکام ہوجاتا ہوں۔۔۔ایسے لگتا ہے وہ منال نہیں میری زندگی کی الجھی ہوئی پہیلی تھی جسے میں جتنا سلجھاتا تھا وہ اتنی ہی الجھتی چلی جاتی تھی وہ میرے ساتھ تھی تب میں بدسکون رہتا تھا اب وہ مجھ سے دور ہے تب بھی مجھے سکون نہیں آتا۔۔۔۔وہ یہ کہتے ایک دم سے چپ ہوا تھا وہ ہر روز کی طرح نفی میں سر نہیں ہلا سکا بلکہ دل کا درد بتا کہ کوٹ کندھوں پہ لٹکاتا شکستہ قدموں سے چلا گیا تھا۔

کتنی بدبخت ہیں ہم دونوں بہنیں بھی ایک دوسرے سے مل ہی نہیں سکی ۔۔۔۔! اس کی تسلی ہمیشہ کی طرح ادھوری ہی رہ گئی تھی وہ اپنے بے ساختہ آنے والے امڈتے آنسوؤں صاف کر ررہی تھی جب روشنال نے قدم رکھا تھا وہ بھی بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا اس کا آہستگی سے چلنا بتا رہا تھا کہ وہ بہت تھک گیا ہے وہ چلتا چلتا اس کے پاس آ رکا تھا

السلام علیکم۔۔۔۔ اس کو دیکھتے جلتی آنکھوں کو سکون ملا تھا

وعلیکم سلام ۔۔۔۔! آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نہ۔۔۔۔! اس نے اس کے پھیکے چہرے کو دیکھ کر کسی خدشے کے تحت پوچھا اور اس کے ہاتھ سے اس کا بیگ لیا تھا۔

اس کو اپنے لیے پریشان دیکھ کر روشنال نے ایک دم سے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔

طبعیت تو ٹھیک ہے لیکن کندھوں پہ مسلز پرابلمز ہو رہا ہے بری طرح۔۔۔۔! اور پین بھی بہت شدید قسم کا ہے۔۔۔۔!

اس نے گردن کے پیچھے ہاتھ رکھ کہ تھکے سے لہجے میں جواب دیا تھا۔۔

ماں بابا کہاں ہیں۔۔۔۔؟نظر نہیں آ رہے۔۔۔ ! اس نے ایک طائرانہ نظر لاونج پہ ڈالتے پوچھا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ نیچے ہی ہوتے تھے مگر آج نہیں تھے

وہ آغا جان کو ہوسپٹل لے کہ گئے ہیں اچانک سے ان کا شوگر اور بلڈ پریشر ہائی ہوگیا تھا لیکن بڑے ابو کا فون آیا تھا انھوں نے بتایا ہے اب وہ ٹھیک ہے ٹنشن کی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔وہ آہستہ آہستہ بتانے لگی تھی۔

اوہ۔۔۔تب ہی میں کہوں آج میری زوجم میرے حصار میں اتنی پرسکون کیوں ہیں ورنہ ہر روز ایک ہی ضد ہوتی تھی۔۔” پلیز چھوڑیں مجھے کوئی آجائے گا۔۔۔” اس نے بالکل اس کے انداز میں کہا تھا۔

اچھا۔۔۔اب تو مجھے چھوڑیں۔۔۔میں آپ کےلیے کھانا گرم کرنا ہے۔۔۔!وہ پیار سے اس کے بال بکھیرتی پیچھے ہوئی تھی مگر روشنال کی گرفت سخت تھی۔۔

مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔حسنال نے کچھ نہیں کھایا اس کےلیے کھانا گرم کر دو۔۔۔۔؟ میں اسے کھلا کہ آتا ہوں وہ یہ کہتا اسے کچن میں لے آیا تھا۔۔

آپ پہلے سکون سے بیٹھ کر پانی پی لیں۔۔۔میں گرم کر دیتی ہوں کھانا۔۔۔! وہ اسے پانی کا گلاس تھماتی ہوئی بولی اور خود کاونٹر کے پاس جاکھڑی ہوئی تھی تو روشنال نے سر ٹبیل پہ ٹکا دیا تھا۔

کچھ دیر بعد اشنال نے کھانا اس کے آگے رکھا تو وہ بازؤں پیچھے کرتا اٹھ کھڑا ہوا تھا

کچھ دیر بعد اس نے کھانا دیا تو وہ اس کےلیے کھانا لیتا چلا گیا تھا وہ منال کے بارے میں سوچتی رہی تھی اور پندرہ منٹ تو اسی سوچوں میں بیت گیا تھا کہ اب وہ اسے مل پائیگی یا نہیں۔۔۔۔؟ جب اُس کےلیے چائے بنانے لگی تھی

اور کچھ دیر بعد دو کپ چائے کے اٹھاتے اوپر لے آئی تھی

۞۞۞

سپرمین ۔۔۔۔۔! وہ دورازہ پش کرتی اسے پکارتی ایک دم اندر آئی تھی مگر اس کو بیڈ پہ اسطرح شرٹ اور بنیان سے بےنیاز یکھا جو کوئی دوا اٹھائے کھڑا تھا وہ یکدم منہ پھیرتی سائیڈ بدل کے کھڑی ہوگئی تھی

حد ہے آپ سے بھی ۔۔۔۔۔! مطلب بندہ کچھ تو خیال کرلیتا ہے نہ۔۔۔۔! وہ تپ کر بولی تھی۔۔

ہاں واقعی تمھیں خیال کرنا چاہیے تھا کہ تمھیں ڈور ناک کرکے روم میں آنا چاہیے تھا یوں شتر بے مہار لڑکیوں کی طرح اندر نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔روشنال نے اسے تپانے کی غرض سے کہا تھا۔۔۔

بھول گئے ہیں یاد کرواؤں آپ کو۔۔۔۔آپ نے ہی کچھ دن پہلے کہا تھا کہ زوجم آئندہ ڈور ناک نہیں کرنا۔۔۔۔آپ تو میرے دل کی ملکہ ہیں بنا دستک کہ گھس آیا کریں ۔۔۔۔!

اور ویسے بھی مجھے کیا پتہ تھا آپ نے سلمان کی طرح ڈولے نکالے ہوں گے ۔۔۔۔۔! پتہ ہوتا تو ساری رات نیچے بیٹھی رہتی اوپر نہ آتی ۔۔۔۔اور ویسے بھی مجھے باڈی کی نمائش کرنے والے مرد سخت زہر لگتے ہیں ۔۔۔۔وہ اتنی غصہ ہوگئی تھی کہ سائیڈ ٹیبل پہ چائے کے کپ پٹختی غصہ اتارنے لگی تھی

صیح کترینہ کیف لگ رہی ہو لگ رہا ہے کوئی شے دے مارو گی میرے سر پہ۔۔۔۔! ااس کے لال چہرے کو مزے سے کہتا اور چڑانے لگا تھا۔

اب اتنی بھی ظالم نہیں ہوں ۔۔۔۔اس نے ڈوپٹے سر پہ کرتے ہوئے کہا تھا روشنال کو لگا وہ احتیاطی تدابیر باندھ رہی ہے۔۔

مطلب تھوڑی تھوڑی ظالم ہو۔۔۔چلو اور کوئی چیز نہ مارو آنکھ ہی مار لو ۔۔۔! روشنال درد کو نظر انداز کرتا مسلسل اسے جی بھر کر دیکھنے کی خاطر بے تکی باتیں کر رہا تھا جو اس اناپرست کی فطرت کے خلاف تھا۔

اللہ پوچھے گا آپ سے ۔۔۔۔آپ مجھ معصوم کو تنگ کر رہے ہیں اور میں جا رہی ہوں نیچے ۔۔۔۔چائے پی لیجئے گا ۔۔۔وہ یہ کر جانے لگی تھی

اس کے یہ کہنے کی دیر تھی جب روشنال نے اس کے ہاتھ سے دوسرا کپ اٹھایا اور ٹرے اٹھاتی جانے لگی تھی۔

بات سنو۔۔۔۔! اس نے صرف کہا ہی نہیں تھا بلکہ اس کی کلائی پکڑی تھی اور اپنے سے کچھ فاصلے پہ بیٹھایا تھا

بیٹھو یہاں مساج کرو میرے کندھوں پہ۔۔۔۔وہ دوا اس کے ہاتھ میں تمھاتا سنجیدہ ہوکر لیٹ گیا تھا۔

وہ لیٹ گیا تھا جب کہ اشنال دوا کو گھورنے لگی تھی ۔۔۔

یہ مجھے نہیں کرنا آتا۔۔۔ آپ خود کریں ۔۔۔۔! وہ صاف لفظوں میں انکار نہیں کرسکی تھی تو اس لیے ان ڈائریکٹ کہا تھا وہ اس شخص سے گبھرا گئی تھی اور اٹھ کھڑی ہوئی تھی وہ اس کا شوہر تھا یہ کام کرنے میں وہ ہچکچاتی نہیں لیکن وہ گبھرا ضرور گئی تھی جس کا رئکشن اب روشنال دینے والا تھا

مجھے کوئی شوق نہیں تھا شدید قسم کا درد ہو رہا تھا ڈاکٹر نے کہا تھا کہ زخم کی وجہ سے کھنچاؤ ہوگا ۔۔۔۔میں نے بھی سنی ان سنی کر دی تھی اب یہ وجہ سامنے آرہی ہے ۔۔! تم جانا چاہو تو جاسکتی ہو ۔۔۔یہ کہتے اٹھ کر اس نے وائٹ بینان اٹھا لی تھی۔

میں نے انکار تو نہیں کیا ۔۔۔۔! مجھے کرنا نہیں آتا اس لیے کہا تھا میں کوشش کرتی ہوں ۔۔۔۔وہ اسے کی بنیان پہ ہاتھ رکھتی بولی تھی اور اس کے پاس بیٹھ گئی تھی اسے لگا وہ ناراض ہوگیا تھا اس میں اس بیچاری کی کوئی غلطی نہیں وہ منہ بھی تو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ بنا لیتا تھا۔

نو نیڈ اینڈ تھینک یو ۔۔۔۔اس نے منہ بنا کہ اس کا ہاتھ ہۓایا تگا

اللہ جی ہوگئی شروع ایموشنل بلیک میلنگ ۔۔ وہ غصہ ہوئی اور بیٹھ کر اسکی مساج شروع کرنے لگی تھی وہ طرم خان بن کر مساج تو کرنے لگی مگر ہاتھوں پہ لرزش ہونے لگی تھی اس کی سانسوں کی تپش اور اس کی نگاہوں کا طلسم اس کے کام کو مشکل میں ڈال رہا تھا۔۔۔!

وہ تھوڑی دیر خاموشی سے کرتی رہی پھر ہاتھ دھونے کےلیے واشروم چلی گئی تھی واپس آئی تو وہ اب قمیض پہن کے بیڈ کے ساتھ ٹیک لگا کہ بیٹھ کہ چائے پینے میں مصروف ہوچکا تھا۔

وہ سر سے ڈوپٹہ اتار کر آہستگی سے کمفرٹ کرتی دوسری سائیڈ پہ آکہ لیٹ گئی تھی اس کے فیس ایکسرپیشن دیکھ کر اسے لگا کہ وہ ناراض ہے اس لیے پریشان سی ہوگئی تھی معصوم سے چہرہ مرجھا سا گیا تھا وہ تو اس کی مضبوط پناہ میں سونے کی عادی تھی۔

کیا ہوا ہے منہ کیوں لٹکا ہوا ہے اب تک تو بالکل ٹھیک تھی۔۔۔۔وہ چائے کا کپ سائیڈ پہ رکھتا اس کی طرف کھسک آیا تھا اور اس کے اوپر جھک کر بولا تھا۔۔

کچھ نہیں ۔۔۔۔بس نیند نہیں آ رہی مجھے ….وہ سر مزید بازؤں میں دیے بولی تھی۔۔

آئے گی بھی کیسے بری عادتیں جو ڈال دی ہے تمھیں۔۔۔! وہ اس کے بالوں سے کھیلتا طلسم زدہ لہجے میں کہنا لگا تھا ۔۔

لگتا ہے پچھتا رہے ہیں ۔۔۔۔ویسے میں نے نہیں کہا تھا بری عادتیں ڈالیں مجھے۔۔۔۔! وہ اس کے ہاتھوں کو اپنے بالوں سے پرے کرتی غصہ ہوئی اس کے بالوں کو کھینچتی ہوئی بولی۔۔

ان دونوں میں سہی ٹوم اینڈ جیری والی حرکتیں پائی جاتی تھیں لڑتے لڑتے ایسے ہو جاتے تھے جیسے دنیا میں محبت ان دونوں سے ہی شروع ہوئی ہو۔۔۔۔اور ہنستے ہنستے ایسے لڑنے مرنے پہ آمادہ ہوجاتے کہ نفرت کا لفظ ایجاد ان کےلیے کیاگیا ہو۔۔۔۔!

ایک منٹ سے پہلے آنا ہے میرے پاس تو ٹھیک ورنہ میں۔۔۔۔! وہ جو دور ہوکہ بیٹھا تھا اب آدھی ادھوری دھمکی دی تھی اسکو۔

ورنہ کیا۔۔۔۔کیا کر لیں گے ۔۔۔۔! بتائیں تو سہی ۔۔۔۔وہ اب کی بار رخ موڑتی غصے سے بولی تھی ۔۔

روشنال اس کے پاس پھر کھسکا اور اب کی بار ایک زوردار بوسہ اس کے گال پہ دیا اور اسے مکمل بازؤں کے حصار میں لے لیا تھا روشنال ساکت سی ہوگئی تھی اسکا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔

چھوڑیں ۔۔۔۔۔وہ اس کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی وہ ضدی ہوجاتی تھی

اچھا اب بتائیں آپ کیا کہہ رہی تھیں کہ میں پچھتا رہا ہوں آپ کو غلط عادتیں ڈال کر ۔۔۔۔۔! اور پھر کہہ رہی تھیں میں کیا کرلوں گا ۔۔۔! وہ پھر سے اسے اپنی گرفت میں مضبوط کرتا بولا تھا

میں بہت کچھ کرسکتا ہوں زوجم بھول گئیں ہیں کیا ۔۔۔اور کچھ گزرے لمحات میری سنگت میں جو آپ نے گزارے بھول گئی ہیں تو یاد کروا دوں۔۔۔!اور ضد کرنا اچھی بات نہیں ہوتی جیسے بالکونی پہ کی تھی اس دن کی طرح بہک گیا نا تو پھر کدھر جاؤ گی ۔۔۔۔۔! وہ یہ کہتا جھک کر اس کی ناک سے ناک مس کرتا پیچھے ہوا تھا۔

افف بہت بے شرم ہے آپ ۔۔۔۔! وہ اس کی بات کا اشارہ سمجھتی سر سے پاؤں تک سرخ پڑی تھی اس کہ منہ پہ ہاتھ رکھتی اس کے پاؤں پہ پاؤں مارتی اٹھ بیٹھی روشنال اس کو دیکھتا اس کو اپنی گرفت سے آزاد کیا تو اشنال ناسمجھی سے دیکھنے لگ پڑی تھی۔

تمھیں نیند نہیں آرہی مجھے تو آرہی ہے سکون کی ضرورت ہے اور وہ یہ سکون یہاں سے مل سکتا ہے۔۔۔۔! وہ یہ کہتا اس کی گود میں سر رکھ کہ لیٹ گیا تھا ۔۔

اشنال نے پھر کچھ نہیں کہا اور اس کے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی تھی وہ شاید تھکا ہوا تھا یا اس کی نرم انگلیوں کے لمس کا جادو تھا کی وہ دیوتائی حسن رکھنے والا شہزداہ اچانک سوگیا تھا وہ سوتے ہوئے لگتا ہی اتنا پیارہ تھا کی وہ دیوانوں کی طرح اسے دیکھتی جھک کر اس کی آنکھوں پہ لب رکھ چکی تھی وہ ایسے ہی سوتا رہا تھا اشنال وارفتگی سے اسے دیکھنے لگ پڑی تھی یہ بھی سمجھ لگی کہ وہ جاگ گیا ہے ۔!

یہ رات و رات دیکھنے کا سلسلہ کب سے شروع ہوا ہے زوجم۔۔۔۔۔! آنکھوں میں چمک مگر انداز سادہ تھا ۔۔۔

تو آپ کو دیکھنے پر بھی ٹیکس دینا پڑے گا۔۔۔۔! وہ زچ ہوئی تھی

نہیں بالکل نہیں بلکہ مجھ سے لے لو جتنا لینا چاہو مگر شرط یہ ہے یوں سوتے ہوئے نہیں بلکہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا کرو زوجم ۔۔۔! وہ اس کو دیکھتے شریر سا بولا تھا۔

ویسے مجھے اٹھا ہی دیتی تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔! لیٹ جاؤ۔۔۔اب اس نے فون اٹھا کر ٹائم تو دیکھا تو ساڑھے دس بج رہے تھے۔

آپ سوتے ہوئے لگ ہی اتنے اچھے رہے تھے کہ اٹھانے کا دل ہی نہیں کیا ۔۔۔۔! اس نے سادگی سے کہا تو وہ اس کی گود سے سر اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا تھا۔۔!

کہاں جارہے ہیں اب ۔۔۔۔۔۔۔؟ وہ اس کے یوں اچانک اٹھنے سے گبھرا گئی تھی۔۔۔

درد ہو رہا تھا کافی اس لیے نماز نہیں پڑھ سکا۔۔۔۔تم سو جاؤ۔۔۔۔وہ اپنے کپڑے الماری سے نکالتا ہوا بولا ۔۔۔۔!

میں نے تو نماز پڑھ لی ہے ۔۔۔۔۔! لیکن مجھے بھی آپ کے ساتھ نفل پڑھنے ہیں سپرمین ۔۔۔۔! آپ کے ساتھ نماز ادا کرکے سکون ملتا ہے وہ فجر کی نماز ہمیشہ اس کے ساتھ ادا کرتی تھی عشا کی نماز اس کے لیٹ آنے کی وجہ سے وہ خود ہی پڑھ لیتی تھی آج تو وہ پھر جلدی آگیا تھا۔ وہ یہ کہہ کر ڈوپٹہ اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔۔

یہ تو اچھی بات ہے ۔۔۔۔۔! تم بیٹھو میں تب تک فریش ہو لوں۔۔۔۔! وہ یہ کہتا باتھ لینے چلا گیا تھا وہ واپس آیا تو وہ وضو کرنے چلی گئی تھی۔۔۔

پھر اس نے روشنال کے ساتھ نفل پڑھے تھے اور اس کے کندھے پہ سر رکھا تھا ہمسفر کے ساتھ تو عبادت کرنے میں اپنا ہی لطف تھا اس نے ایک دن سورہ رحمن کی فرمائش کی تو اب وہ اسے خوبصورت آواز سے روز سناتا تھا ۔۔۔۔۔! اشنال کی ہر دعا میں بہن سے ملنے کی دعا ضرور ہوتی تھی ۔۔۔۔!

******

انا۔۔۔۔۔۔میں نے آج نہیں جانا مسجد نہ۔۔۔۔۔! وہ جو پہلے اسے تیار کر چکی تھی اب اسے چھوٹے سے ڈوپٹے کا حجاب کروا رہی تھی اس کی ضد سن کر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔

میری مانو تو بہت اچھی بچی ہے نا ۔۔۔۔۔! مسجد جائیگی نا۔۔۔مسجد تو گندے بچے نہیں جاتے نہ ۔۔۔۔۔آپ تو اچھی بچی ہو نا مسجد جاؤ گی تو اللہ آپکو اتنی زیادہ چیز دے گا ۔۔۔۔! وہ ہاتھوں کے اشارے سے بازؤں کو کھولتی اسے بتا رہی تھی۔۔

انا ۔۔۔حافظ جی تو کہتے ہیں اللہ جی بڑے ہیں تو اللہ سے ادب سے بات کیا کرو ۔۔۔۔پھر آپ کیوں کہہ رہی ہیں وہ چیز دے گا ۔۔۔وہ تو چیز دیں گے ۔۔۔۔وہ تو سب سے بڑے ہیں ۔۔۔؟ اور بختی اماں تو کہتی اللہ تعالی جہنم میں ڈالیں گے۔۔۔ مانو یہ کہتے الجھی ہوئی لگ رہی تھی

ابھی تم چھوٹی ہو جب بڑی ہو گی تب بتاؤں گی۔۔۔۔! اور اللہ ایک ہے اس لیے اللہ کو آپ کہنا کفر میں شامل ہوتا ہے اور اللہ کو توُ کہنے سے ثواب ملتا ہے وہ اس کے ذہن کے آسان لفظوں میں سمجھا رہی تھی ۔۔۔!

مگر اس کی دوسری بات سن کر سوچنے لگ پڑی تھی کہ اس چھوٹی سی بچی کے ذہن میں اللہ کا ڈر ڈال دیا گیا تھا پھر بھی وہ مسجد نہیں جاتی تھی دراصل ہم اپنے بچوں کو اللہ سے ڈارتے ہیں اسے کبھی محبت سکھائی ہی نہیں جاتی تب ہی تو وہ اللہ سے دور ہوجاتے ہیں ان کے کچے ذہنوں میں ہم ڈر ہی بٹھاتے ہیں اس لیے تو وہ خدا کا خاکہ اپنے ذہن میں عجیب سا بنالیتے ہیں اگر ہم ان کو اللہ سے محبت سکھائیں نہ تو وہ اللہ ہی کو دوست سمجھیں ۔۔۔۔اور خدا کی محبت تو پھر سب محبتوں سے برتر ہوتی ہے ۔۔۔!

جب آپ جتنی ہو جاؤں گی تب بتائیں گی ۔۔۔وہ رومالی کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے کرتی بہت معصومیت سے بولنے لگی ۔۔۔!

جب آپ مجھ جتنی ہوں گی تب آپ کو ہر چیز کی خودبخود سمجھ آئے جائے گی ۔۔۔۔! وہ اسے بتاہی رہی تھی جب محلے کے بچے حلیمہ سعدیہ اور ایک چھوٹا سا بچہ بھاگتا ہوئے آئے تھے ۔۔۔

مانو مسجد چلو۔۔۔۔۔حافظ جی مرغا بنائیں گے ۔۔۔! کچھ دیر میں اپنے ساتھ لے کے چلے گئے تھے بچوں کی بات سے اسے یاد آیا کہ مرغی اور اسکے بچے بنجرے سے باہر نکالنے ہے اس نے دھریک کے نیچے سے ہلکا سا بنچرہ اٹھایا تو وہ قلابازیاں کھاتے ماں کے ساتھ نکل پڑے تھے وہ کچھ دیر ان کو دیکھتی جھاڑوں اٹھائے صحن کی طرف آچکی تھی مسجد سے بچوں کےپڑھنے کی آوازیں آئیں تو اس نے وقت دیکھا تھا۔۔

پونے پانچ بج چکے تھے بختی اماں کے چارہ لانے سے پہلے اس نے ساری صفائی بھی کرنی تھی اور ہانڈی بھی بنانی تھی اس نے سوچا تھا وہ جلدی جلدی کرلےگی ہلکی ہلکی ہوا کی وجہ درختوں کے زرد پتے ساری صحن میں بکھرے پڑے تھے ایک دفعہ آگے ہوکر ماں کو دیکھنا مناسب سمجھا آگے ہوکر دیکھا تو وہ ایک سادہ سا بیج اٹھائے اس کے نوٹ بنا رہی تھی وہ تاسف سے سر ہلاتے پھر سے صحن میں آچکی تھی۔

منال سوچا کہ ان کے ذہن سے ہرچیز خالی ہوگئی تھی کوئی شے ان کو یاد نہیں تھی لیکن ان کے ذہن کی خالی سلیٹ پر لفظ دولت کا نشہ ابھی تک تھا اور وہ شاید مرنے تک رہنا تھا اس کی ماں ہر چیز لے کہ آئی تھی زیوارت پیسے وہ سب کے سب جوں کے توں بیگ میں پڑے ہوئے تھے وہ ہاتھ بھی مشکل سے لگاتی تھیں وہ چیزیں دیکھ کر ہی اسے وحشت ہوتی تھی اُن چیزوں نے اس کی خوشیاں چھین لی تھی سکون برباد کرکے رکھ دیا تھا ان کی وجہ سے سب کا اعتبار ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔اور سب سے بڑھ کر حسنال بخت جیسا محبت کرنے والا شوہر روٹھ گیا تھا ۔۔۔!

وہ صحن سے صفائی کرنے لگ پڑی تھی وہ ابھی صفائی کر ہی رہی تھی جب چوزے کے شور مچانے کی آواز سنائی دی وہ چوں چوں کر رہی تھا وہ چوزا ماں سے دور اکیلا تھا ۔۔۔اس نے دیکھا تو وہ کوا اس چوزے کے ارگرد گھاٹ لگائے بیٹھا تھا وہ اڑ کر جیسے ہی اس کے پاس پہنچتا مرغی جو اپنے گیارہ بچوں کو چھوڑتی اس تک آئی اور غضب سے اس کے آگے لڑنے مرنے کو تیار ہوگئی تھی کوا ایسے ہی بیٹھا تھا جب وہ جھپٹ کے پھر اس کو مارنے کےلیے آگے بڑھی تھی تو وہ ڈر کے اڑگیا تھا ڈرا سہما سا چوزہ ماں کے پروں کے نیچے چھپنے لگا تھا اس کو بے اختیار اپنی ماں کی یاد آئی تھی جس نے وقار جیسے کوے اور حسن آرا جیسی چیل سے بچایا تھا ماں تو ماں ہوتی ہے جیسی بھی ہو ۔۔۔۔۔۔اس کی ماں جتنی بھی بری سہی مگر اس کی آبرو کی خاطر اس سے لڑ پڑی تھی ابھی تو اس نے تو سوچا تھا ابھی تو اس کے دکھوں کی شروعات ہوئی تھی لیکن اب اس نے صبر کرنا خود پہ لازم کرلیا تھا۔۔۔

*زندگی کی کتاب میں ہر قسم کا chapter شامل ہوتا ہے، ہـر صفحہ نئی داستان سُناتا ہے…!* کسـی صفحے پر خُوشیاں بِکھری ہوتی ہیں تو کسی صفحے پر غم. اگـر آج آپ کو کسی ایسے chapter کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جہاں آپ کـے پاس صرف غم ہی غم ہیں تو یقین رکھیں یہ حالات صــرف وقتی ہیں..آپ آج کے غم پر رونے میں اِتنا وقت نہ لگائیے کہ صفحہ پلٹنـا ہی بُھول جائیں…!*یقیـــن کریں! اگلے صفحے پر خوشیاں ہاتھ پھیلائے آپ کی منتـــظر ہیں…!بــس آپ کے Move on کرنے کی دیر ہے…!*

Part 2

میں نے کتنی بار سمجھایا ہے مت جایا کرو اس عورت کے قریب منال پتر اس کا دماغ خراب ہے تمھارا تو نہیں مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ تمھارے ساتھ یہ حال کرے گی نہیں تو میں گھر سے نکلنے کا سوچتی نہیں لیکن اس رب کا میں جتنا چکر ادا کروں کم ہے وہ تو مانو میری پیچھے نہ آتی تو وہ پاگل خداخواستہ تمھارے بچے کے ساتھ کچھ کر دیتی۔۔۔۔!

وہ اس کے سر پہ کوئی گھریلو ٹوٹکہ کر رہی تھیں جس کے بالوں میں کٹ وغیرہ لگے ہوئے تھے وہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے کہ گئیں تھیں جو ثمینہ بیگم نے کئی جگہ سے کاٹ دیے تھے وہ اتنے زیادہ خراب تو نہیں ہوئے لیکن کچھ حد تک وہ ۔۔!

کچھ سر پہ زخم بھی ہوگئے تھے ۔۔۔بختی اماں تو غصے اور صدمے سے پاگل ہو رہی تھیں اس کو چھڑاوتے وقت کئی خراشیں اور قنچیوں کے نشان ان کے بھی ہاتھ میں لگے تھے لیکن انھیں پروا اپنی نہیں تھی اسکی تھی جو انھیں بہت اچھی اور سادہ دل لگتی تھی۔۔

بختی اماں میں ہر بار کی طرح مجبور ہوگئی تھی اور مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ وہ دوبارہ سے میرے سر پہ اٹیک کریں گی ۔۔۔ اگلے منتھ ان کے دماغ کے ٹیسٹ کروانے تھے جو کہ بہت ضروری تھی اور پتہ نہیں انکو قینچی کہاں سے مل گئی تھی وہ میڈیکل کی رپورٹیں کاٹنے لگیں تھیں ساتھ میں میڈیکل کارڈ بھی تھا۔

ان ہی رپورٹ کی بدولت انکے اگلے ٹیسٹ ہونے تھے ورنہ تو ڈاکٹر علاج سے انکار کر دیتے ۔۔۔۔! ڈاکٹر نے ذرا سی بے احتیاطی سے ان کی جان جانے کا خطرہ بتایا ہے۔۔ مجھے ان کی زندگی بہت ضروری ہیں بختی اماں۔۔! وہ آہستگی سے بتا رہی تھی

تجھے ذرا عقل نہیں ہے منال ان کاغذکے ٹکروں کےلیے توُ اپنے اور اپنے بچے کی زندگی داؤں پہ لگا رہی تھی۔۔۔ ! اس کی وضاحت سن کر ان کا اس کے بالوں میں گردش کرتا رک گیا۔۔!

واقعی عقل ختم ہو رہی ہے بختی اماں ۔۔۔۔۔میں خود ختم ہو رہی ہوں ۔۔۔میرے اندر سے احساس مرتا جا رہا ہے میری زندگی ویران ہوتی جارہی ہے ۔۔۔۔! وہ اگر عورت ہوتی نہ تو میں شاید کبھی پلٹ کر ان کو نہ دیکھتی ۔۔۔۔! لیکن وہ ماں ہے اور ہیں بھی میری۔۔۔۔اور اس بات کا احساس مجھے بھی نہ ہوتا کہ وہ میری ماں ہیں میں شاید ابھی ان سے بدتمیزی کرتی ان کو برا بھلا کہتی ۔۔۔کیونکہ میں شروع سے مغرور اور بدتمیز تھی لیکن اب خود بخود اس پاگل ماں پہ پیار آجاتا یے میں چاہا کر بھی ان سے نفرت نہیں کرپاتی پہلے میں ان کو بہت عجیب اور ذہنی مریضہ سمجھتی تھی جس دن سے خود کے اندر سے ممتا کا احساس پلتا محسوس ہوا ہے اس دن سے اس پاگل پہ ماں پیار آتا ہے کہ کیسے اس نے نوماہ پیٹ میں رکھا ہوگا اور تکلیفیں برداشت کیں ہوں گی ۔۔۔۔!

اب اپنے اندر یہ احساس آتا ہے تو اس ماں کی تکلیفں یاد آتی ہے میں سوچتی تھی کہ اس ماں نے کبھی پیار نہیں دیا ۔۔۔۔لیکن اب مجھے لگتا ہے میں نے کبھی ان سے پیار لیا ہی نہیں ہے ایک دفعہ ان کے گلے میں ہاتھ ڈال کے پیار سے احساس جاتی ۔۔۔کیسے نہ ان کو مجھ سے پیار ہوتا۔۔۔۔! مجھے لگتا تھا کہ انہوں نے میرے لیے کیا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔۔ ؟ لیکن اب پتہ چلا انھوں نے سب کچھ تو میرے لیے ہی تو کیا ہے۔۔۔۔۔؟ اور کیا کیا نہیں کیا۔۔۔۔۔ ؟ میرے اندر احساس کمتری تھی تو کیا پتہ میری ماں کی زندگی میں بھی احساس کمتری ہوگی۔۔۔! یہ بات کبھی نہیں سوچی تھی لیکن اب خوبخود یہ سوچیں آجاتی ہیں ۔۔۔۔!

وہ جس نے قسم کھا رکھی تھی کہ اب کبھی کسی کو اپنا درد نہیں بتائے گی لیکن اندر کے خالی پن نے اس خالی ماں کے سامنے درد کھول کر رکھ دیا تھا پانچ ماہ سے تنہائی کا روگ اسے ڈس رہا تھا انہوں اس کو چارپائی پہ بیٹھا کہ اپنے اسے ساتھ لگایا تھا وہ ایسی روئی کہ پھر دونوں کا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔۔۔ آج ایک خالی ماں اپنے بیٹے کے غم میں اور ایک ہاری ہوئی بدنصیب بیٹی آہ و بکاہ سے روئی تھیں ان کو اپنے آٹھ سال سے محروم بیٹے کا غم آنسؤ کے ذریعے نکالا تھا ان کا یہ آٹھ سالہ پرانا زخم ایسا تازہ ہوا تھا جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔۔۔۔!ان کے سبھی زخم ہرے گئے تھے پھر منال نے ہی ان کو بڑی مشکل سے چپ کراویا تھا۔

بختی اماں۔۔۔۔۔مانو جو درخت پہ لگے جھولے پہ بیٹھی جھولے لے رہی تھی وہ ان کو روتا دیکھ کر آکے چرپائی کے پاس کھڑی ہوگئی تھی وہ بری طرح سہمی ہوئی تھی وہ اب اپنی انگلیوں میں منہ دبائے سہمی سے ان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

مانو ادھر آؤ۔۔۔۔۔! وہ جو ذرا سی چپ ہوئیں تو منال نے اسے اپنے پاس بلا لیا ۔۔۔!

کیا ہوا ہے۔۔۔؟ منال نے اس کی روتی شکل دیکھ کر کہا تھا۔

ب۔۔۔بختی اماں کیوں رو رہی ہے انا ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس کے گالوں پہ بھی آنسوں لگے تھے ۔۔۔

پاگل ہو آپ ۔۔۔۔۔ ! ایسے نہیں روتے۔۔۔ بختی اماں کے تو سر میں درد ہے نا۔۔۔۔ منال نے اس کا چہرہ صاف کرکے تسلی دی تھی ۔۔!

کیا آپ کے سر میں بھی درد ہے انا۔۔۔۔۔؟ مانو نے پلکوں کے نیچے اس کے آنسوؤں دیکھے تو سوال کیا تھا..

درد جب حد سے بڑھیں نہ تو وہ سر درد ہی بن جاتے ہیں وہ فقط دل میں ہی سوچ سکی تھی ۔۔

انا۔۔۔۔میری گڑیاں کی شادی ہے نا۔۔۔مجھے پاؤڈر اور سرخی لگائیں نہ۔۔۔میں لے کہ آتی ہوں ۔۔۔۔۔وہ اس کا ہاتھ ہلا کہ اس کو متوجہ کرتی خود بھاگی تھی اور کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو ہاتھ میں باکس اٹھائے اس کے پاس آئی تھی جو کہ کافی پرانا تھا اور وہ ہر دوسرے تیسرے دن اٹھا کہ لاتی اور اس کو تیار کرنے کا بولتی تھی۔۔!

اب بھی وہ باہر آئی تو ۔۔۔۔۔! اور اس کے پاس رکھ دیا تھا بختی اماں بوجھل دل لیے اپنے ڈوپٹے سے آنکھوں کے کنارے صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی کیونکہ فلحال ان کو مانو کے جواب دینے کی ہمت نہیں تھی منال ان کو جاتا دیکھتی رہی پھر گہرہ سانس بھرتی اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔

وہ اس کو تیار کرنے لگ پڑی تھی اس کے ساتھ رہ کہ تو ویسے بھی مسکان منہ پہ آجاتی تھی ۔۔۔۔

انا سرخی بھی لگائیں نا ۔۔۔۔؟

اس کے بال بنائے پھر سرمہ اور تبت پاؤڈر لگا کر فارغ تو وہ جھٹ پٹ بول اٹھی تھی منال اس کی بات سنتی سرخی لگانے لگ پڑی تھی۔۔۔۔

شیشہ بھی دکھائیں نہ ۔۔۔۔۔! وہ جب تیار ہوچکی تھی تو پھر شیشہ دیکھنے کی ضد کی جیسے خود کو بنا دیکھے اپنی تیاری ادھوری سی لگی تھی پھر بیوٹی بیگ سے سرخ رنگ کے پلاسٹک کا شیشہ نکال کے خود کو دیکھا اور پھر خوشی سے اچھلتی شیشہ اس کے ہاتھ میں تھمایا تھا۔۔

انا میں حلیمہ کو دکھا کہ آتی ہوں وہ یہ کہتی قلہ بازیاں

کھاتی اچھلتی کودتی نکلتی چلی گئی تھی منال جو اس کا بیگ سمیٹنے لگی تو شیشے پہ نگاہ پڑی تھی اپنے بالوں کو دیکھتی اذیت کی لہر اپنے اندر دوڑی تھی بے ساختہ حسنال کا ہر وقت اس کے بالوں کو سلانا اور پیار کا لمس دینا یاد آیا تھا اس کا دل کیا کہ چیخیں مار مار کہ روئے اُس ستمگر کو تو ان بالوں سےعشق تھا ۔

حسنال ایک بار دیکھ لو نہ اپنی بھوری بالوں والی کا حال تمھیں تو ان سے عشق تھا میں مر رہی ہوں جدائی کا یہ روگ ، تنہائی کا یہ ذہر پل پل میرا خون چوس رہا ہے پانچ ماہ سے میں ہجر کی راتیں تنہا کاٹ رہی ہوں ۔۔۔۔تمھارا مہربان ،تمھارا محسوس کیے بغیر ہی ایسا لگتا مر جاؤں تم تو شاید اپنی زندگی میں مگن ہوگئے ہوگے لیکن میرا وقت جیسے رک ہی گیا ہے تمھاری یہ اپنے اندر پلتی کو محسوس کرتی ہوں تو پھر بھی تمھارے ساتھ تمھارے نام کا بھی تحفظ محسوس ہوتا ۔۔۔۔مجھ سے محبت نہیں تو رحم ہی کھا کہ اپنے پاس رکھ لیتے ۔۔۔۔شاید تمھارے بچے کو جنم دینے دیتے میں خود ہی فنا ہو جاؤں ۔۔۔۔!وہ یہ کہتی پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔! وہ اپنے بالوں کو دیکھتی زندگی سے روٹھی روٹھی بولتی پھر رونے لگی تھی۔

منال ۔۔۔۔۔بختی اماں اس کو خود سے باتیں دیکھ کر پھر سے اس کے پاس آکہ بیٹھ گئی تھیں۔۔

کیا ہوا ہے سر میں درد تو نہیں ہو رہا انھوں نے اس کا سر دبایا تھا۔۔

جب میں دل میں رکھتے میں تمام درد اور جدائی لیے مرجاؤں گی نہ اسے ایک کال کر دیجئے گا بختی اماں ۔۔۔کہ وہ میرا آخری دیدار کرنے آجائے ۔۔۔۔۔کیا پتہ میری

بند آنکھیں دیکھ کر اسے رحم آجائے اس کی نفرت کی آنچ مدھم پڑ جائے۔۔۔۔! اسے کہیے گا بختی اماں ۔۔۔۔۔منال بخت کو موت نے نہیں بلکہ اس کی جدائی نے مار ڈالا ۔۔ وہ اذیت کی حدوں میں کھوتی اپنی دھندلی ہوئی عکس کو دیکھے بنا بولی تھی ۔۔۔

اللہ نہ کرے گا ۔۔۔۔کیا اول فول بک رہی ہو۔۔۔۔وہ دھیلتی ہوئی اپنے سینے پہ ہاتھ رکھ گئی تھی۔۔

اسے کہیے گا۔۔۔۔! کہ نصیبوں سے ہاری ایک بیٹی اپنے ماں کے گناہوں کو چھپانے اور اسے بچانے کےلیے ان کی گناہوں کو مٹانے کےلیے خود مٹ گئی ۔۔۔۔۔! اسے کہیے گا وہ ماں کی باتوں سے مجبور نہیں ہوئی تھی بلکہ اپنی ماں کی محبت میں مجبور ہوئی تھی اسے کہیے گا کہ میں ایک خودغرض عورت کی بیٹی ضرور تھی مگر میرے اندر بھی تو کبیر بخت کی رگوں کا خون تھا جس نے محبت نبھاتے نبھاتے اور معافیاں مانگتے مانگتے قبر کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔۔ اسے کہیے گا کہ وہ کہہ رہی تھی کہ اس کی زندگی کی ایک غلطی سزا بنی تھی اور دوسری غلطی گناہ بنی تھی ایک غلطی حسد میں کی تھی اور دوسری غلطی محبت میں کی تھی اسے کہیے گا دوسری غلطی مجھے قبر میں اتار گئی تھی ۔۔۔۔!

اللہ نہ کرے ۔۔۔۔۔وہ آج سب کام بھول گئی تھی اور اس کے آنسو صاف کرنے لگی تھیں

بختی اماں اسے کہیے گا کہ تمھارے بھورے بالوں والی بلی تمھاری جدائی اور روگ برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھ سکی اور زندگی سے منہ پھیر گئی اسے کہیے گا کہ اس کی نفرت جیت گئی اور اسے محبت کرتے کرتے اور اس کی نفرت جدائی کی صورت میں سہتی سہتی وہ بدنصیب مو”ت کو فرض سمجھ کر گلے لگا گئی ۔۔

ہم نے مانا کے تغافل نہ کرو گے۔۔۔۔۔۔۔۔💔💔

لیکن خاک ہوجائیں گے تمھیں خبر ہونے تک

وہ ان کی بات کو نظر انداز کرتی ڈھلتی شام کی طرح جیسے خود کو الوادع کر رہی تھے وہ تسلی کا مزید ایک لفظ بھی نہیں کہہ سکی تھی وہ جانتی تھی کہ وہ لڑکی دل ہی دل میں روگ رکھ کہ مرے جا رہی تھی اب وہ مجید چاچا کے آنے کے انتظار میں تھیں کہ وہ کسی بھی طرح سے اس کے شوہر کا پتہ لگوانا چاہتی تھیں انھوں اسکا سر گود میں رکھ لیا تھا وہ انھیں سارے کام کرواتی تھی وہ لڑکی بہت احساس مند تھی انھوں نے سچ اسے بہت مشکل سے اگلوایا تھا اس نے آگے وہ اپنے شوہر سے ملنا ہی نہیں چاہتی تھی شاید دل میں کیسا ڈر تھا انھیں باتوں باتوں میں اسے پالیا تھا شوہر کے طلاق کے ڈر کی وجہ سے نکل آئی تھی جو اس کو بچے کی پیدائش تک پنے نام کا حوالہ رکھنا چاہتا تھا لیکن وہ اب سوچنے لگ پڑی تھی ۔۔

وہ اس کو تھپکتی آخر اسے سکون کی نیند سلاتی اٹھی اور تکیہ لا کہ ٹھیک سے لٹایا تاکہ اسے تکلیف نہ ہو اور ایک بڑی سی چادر اس کے اوپر ڈالی تھی تاکہ وہ سکون سےسوئی رہے ۔۔۔۔انھوں نے شکرانے کے نفل پڑھے تھے۔۔۔۔!

انا۔۔۔۔مانو جیسے ہی گیٹ کے اندر آئی اور وہیں منال کو پکارنا شروع ہوگئی بختی اماں نے اسے پلٹ کہ دیکھا جس کے اس کے ہاتھ میں ٹافیاں تھی وہ تیز سے اسکی طرف آئیں تھیں۔۔

ادھر آؤ میرے ساتھ۔۔۔۔۔ ہر وقت اس بیچاری کو تنگ کرتی ہو دو گھڑی سکون سے رہنے دیا کرو اسے۔۔۔۔! سارا دن وہ تمھاری ہی فرمائشوں کے پیچھے لگی رہتی ہے ۔۔۔۔اب اگر اس کے پاس بھی نظر آئی نہ تو میں جوتی سے ماروں گی پھر یہ نہیں دیکھوں لگتی کہاں ہے۔۔۔وہ غصہ ہوئیں اور اسے پکڑ کر لے گئیں تھیں۔۔۔

انھوں نے ایک آخری دفعہ بند کمرے کو دیکھا جہاں انھوں نے تالا لگایا ہوا تھا اور پھر سکون سے مانو کو جھولے پہ بیٹھائے خود بھنیس کا دودھ نکالنے چلی گئی تھی ۔۔

****

اشنال بہن کو سوچ کر پریشان رہنے لگی تھی کیونکہ پانچ مہنیے سے بہن کا لاپتہ ہونا تو پریشانی کی بات تھی ویسے تو سب نارمل تھا لیکن پھر بھی سب کی زندگیوں میں پریشانی تھی صیغیر صاحب نے یہ کہہ کر مطمن کردیا تھا کہ وہ ماں کے ساتھ ہے خوش ہی ہوگی کیونکہ اس کی ماں نے سب اُسی کےلیے تو کیا ہے کسی گھر میں ہنسی خوشی رہ رہی تھیں

کیا ہوا کیا سوچ رہی ہو زوجم ۔۔۔۔۔! روشنال جو اس کو سوچوں میں دیکھتے ہوئے اس کے پاس آجما تھا اور اسے اپنے پاس لگا لیا تھا۔

منال آپی کے بارے میں سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔وہ جو بیٹھی منال اور اپنا موازنہ کر رہی تھی وہ اس کے پاس بیڈ پہ آکہ بیٹھا تو وہ اس کے سینے پہ سر ٹکا گئی تھی۔۔

وہ کوئی ایسا وقت ہو تو جو تم نے گزارا تھا یار کیا پتہ وہ اپنی زندگی میں خوش اور مگن ہو تم فضول میں مجھے پریشان کرتی رہتی ہو۔۔۔۔! وہ اس کے چہرے پرسکون سا ہاتھ پھیر رہا تھا مگر ہر روز اسکا ذکر سن کر وہ پریشان ہو جاتا تھا۔۔۔

مگر میرا دل نہیں مانتا کہ وہ خوش ہیں اور آپ بھی تو ایسے کہہ رہے ہیں جیسے وہ آپکی کچھ نہیں لگتیں ۔۔۔۔وہ بولی تو اداسی تھی خفگی سے اسے پرے ہوئی تھی

اوہ سوری میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا ۔۔۔۔! اس نے بےبسی سے سر پہ ہاتھ رکھ لیا تھا۔

آج تمھاری دوست سارہ میرے آفس میں آئی تھی ۔۔۔کچھ پل بعد وہ ریلیکس ہوا تو اور کچھ یاد آنے پہ بتایا تھا۔۔

کدھر آئی تھی میرا پوچھا تھا سارہ نے۔۔۔۔! وہ سارہ کا نام سن کر اسے سننے کو بےتاب ہوئی تھی ۔۔۔!

زوجم وہ تمھارا ہی پوچھ رہی تھی نہ تو وہ میری سہیلی ہے اور نے ہی میں اس کے ساتھ اکیڈمی میں چھپ چھپ کہ پڑھانے جاتا تھا ۔۔۔!

آ۔۔۔۔۔آ۔۔۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔آپ کو کیسے پتہ چلا کہ ۔۔۔۔ مجھے پتہ تھا وہ کوئی نہ کوئی راز کھول دے گی اس کے پیٹ میں تو کوئی بات ٹکتی ہی نہیں ہے وہ پہلے شاک ہوئی پھر غصہ ہوئی تھی ۔

اس بچاری نے مجھے کچھ نہیں بتایا ۔۔۔۔! مجھے علم تھا کہ میری زوجم میرا احسان اپنے اوپر سے اتارنے کےلیے بچوں پہ احسان کرنے جاتی تھی اور ان کا برائٹ فیوچر

اور زیادہ روشن کر کہ آئی ہے لیکن پھر بھی تمھارے وہاں پہ کیے نقصان میرے ہی پلے پڑے ہیں لیکن وہاں کوئی ایسا شخص ہوتا جو تمھیں اکیلا سمجھ کر ہراساں کرتا لیکن ۔۔۔! کبھی سوچا تھا میری زوجم نے ۔۔۔۔تم تو محض دس بارہ ہزار کی خاطر میرا قرض اتارنے نکلیں تھیں اگر اس کے بدلے تم میرا کوئی بڑا نقصان کر دیتی مگر اکلہ کا شکر ہے اس نے تمھیں ہر شر سے بچایا ۔۔۔۔؟ اس لیے سختی کرتا تھا میں جانتا تھا کہ میری یہ زوجم بونگی سی ہے۔۔۔! وہ سچائی بیان کر رہا تھا۔

اچھا نہ سوری نہ یہ بتائیں نہ سارہ کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔!

وہ فلحال کےلیے اس کی بات کو نظر انداز کرگئی تھی ۔

اس کی شادی ہے اگلے ویک میں اس لیے وہ انویٹیشن کارڈ دینے آئی تھی

ہے سچی مجھے لے کہ جائیں گے نہ ۔۔۔۔! وہ آس بھری نظروں سے دیکھ کر بہت معصومیت سے پوچھنے لگی تھی

اللہ جی ۔۔۔! نہیں میں اکیلا پٹاخے بجانے جاؤں گا اور تم کہو تو چھوہارے بانٹ کے آؤں گا۔۔پاگل لڑکی تمھارے لیے ہی تو جا رہا ہوں ورنہ وہاں میرا وہاں کیا کام ۔۔! اس کی بات سنتے روشنال کا دل کیا کہ اپنا ماتھا پیٹ لے ۔۔۔!

آپ بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔! یہ کہتی اس کے گلے گرد بازؤں کا ہار کیا تھا۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔! روشنال نے ایک دم سے اسے بیڈ پہ گرایا اور خود اس کے اوپر سایہ فگن ہوا تھا ۔۔

یہ۔۔۔یہ ۔۔۔کک۔۔کیا کر رہے ہیں وہ بری طرح ہکلا کررہ گئی تھی اسے بالکل نہیں اندازہ تھا کہ وہ اسے طرح کرے گا وہ اس کے مضبوط آہنی سینے کے نیچے بالکل دب کر رہ گئی تھی۔۔۔

رومینس۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے اس کے ڈوپٹے کو گلے سے نکالا اور اس کی گردن پہ لب رکھے تھے ۔۔۔!

پلیز ۔۔۔پلیز ۔۔۔۔ آپ تو ب۔۔۔۔بہت اچھے ہیں نا۔۔۔۔! یہ سنتے اور اس کے بڑھتی اس کی ہچکی سی بند ہوگئی تھی ۔۔۔۔

نہیں بالکل بھی نہیں زوجم میں تو بہت برا ہوں۔۔۔۔اب کی بار نفی میں سر ہلاتے ان نشانوں پہ لب رکھے تھے جہاں کچھ عرصے پہلے زخم دیے تھے۔۔۔۔ اشنال میں تو طاقت ہی نہیں رہی تھی کہ وہ اسے روک سکے وہ شخص محبت کے معاملے میں بہت بےباک تھا۔

چھ۔۔۔۔چھوڑیں نہ۔۔۔۔! وہ اس کے بالوں کو کھنچنے لگی تاکہ وہ ہٹ جائے وہ پھر بھی نہیں ہٹا اب کی بار اس کے گریبان کو ضرور سے کھینچا تھا روشنال کو غصہ آیا اور اس کے ہاتھ پکڑ کر قابو کیے تھے جو ہر روز اس کا مزہ خراب کر دیتی تھی ۔

آ۔۔۔۔پ۔۔۔۔آپ بہت برے ہیں ۔۔۔۔۔وہ بکھرتی سانسوں پہ قابو پانے کی کوشش کرتے اب کی بار اپنے اوپر جھکے روشنال کے گرد باہوں کے گلے کا ہار بنا لیا تھا۔

شکر ہے تمھیں جلدی سمجھ آگئی ہے ۔۔۔! اس کی بات سن کر خوبصورت سا قہقہ کمرے میں گونجا تھا ۔۔۔

اشنال نے اسے ہنستے دیکھ کر مسمرائیز ہوکر اوپر ہوکر اس کی کشادہ پیشانی پہ لب رکھے تو روشنال نے ییچھے ہوکر اس کے گال کے ساتھ اپنے بیئڑڈ زدہ گال رب کیے تھے

گندے ۔۔۔۔! اشنال کو ایسے الجھن سے ہوئی تھی کیونکہ اسے داڑھی چبھی تھی اسے ایسے لگ کہ کانٹے چبھے ہوں

وہ تنگ آگئی تھی

روشنال نے اسے اپنے گال صاف کرتے اور اسکی گلابی رنگت کو دیکھا تو پیچھے ہوکر لیٹ گیا تھا کچھ ہی پل میں وہ سویا گیا تھا اور اشنال اسے دیکھنے لگ پڑی تھی

❤
❤
❤

حسنال جو وقار کے بارے میں پوری تحقیق کےلیے کر رہا تھا اسے یہ تو پتہ لگ گیا تھا کہ وہ سٹی ہوسپٹل وہ روازنہ چکر لگا رہا تھا لیکن وقار نامی شخص ابھی تک بے ہوش تھا وہ جیسے ہی ایک روم سے نکلا اسے سیٹرھیوں پہ منال کی جھلک محسوس ہوئی تھی اس نے ایک دفعہ لیکن وہ سیٹرھیاں سے اتر گئی تھی وہ اس کے ساتھ بنے دوسری سیٹرھیوں سے بھاگ کہ اترا تھا۔۔۔

منال منال ۔۔۔۔۔اس نے پیچھے سے پکارا تھا مگر وہ جو کوئی بھی تھی تیز تیز چلنے لگی وہ پھر بھی اس کے پیچھے بھاگ بھاگ رہا تھا آخر اس تک پہنچتے اسکا بازوں پکڑا تھا۔

وہ جو ایک جوان سی لڑکی تھی پیچھے مڑی اور ایک زناٹے تھپڑ اس کو مارا تھا۔۔۔

کیا بدتمیزی ہے۔۔۔۔۔؟ شرم آنی چاہیے تمھیں شکل سے تو شریف گھرانے سے لگتے ہو۔۔وہ لڑکی شروع ہوگئی تھی یہ بھی نہ دیکھا کہ مخالف کس حال سے گزر رہا ہے۔۔ !

سوری سسٹر ۔۔۔۔۔! مجھے لگا کہ میری کوئی عزیزہ ہیں آئی ایم رئیلی رئیلی سوری ۔۔۔۔۔! اس لگا کہ وہ غلطی پر ہے اس لیے اسے معافی مانگی تھی ۔۔۔!

ایسے تو آپ کو اپنی عزیزہ ہی لگے گی تو کیا ایسے ہی تھپڑ کھاتے رہیں گے ۔۔۔۔۔وہ طنزیہ ہوئی تھی۔۔۔

اگر اُس عزیزہ کےلیے مجھے جوتے بھی کھانے پڑے نہ بیچ میدان میں تو خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ کھالوں گا مگر شرط یہ ہے کہ وہ مل جائے۔۔۔۔اس نے نم ہونٹوں پر مگر چہرے پہ مسکراہٹ لیے کہا تھا۔۔۔!

کیا اتنی محبت کرتے ہیں ان سے ۔۔۔۔کہ ان کا ذکر کرتے آپ کی آنکھوں میں نمی آگئی اور چہرے پہ مسکراہٹ۔۔۔اگر اتنی ہی محبت کرتے ہیں تو ان کو پرپوز کریں اور شادی کرلیں۔۔۔۔۔وہ لڑکی متاثر ہوتے غصہ بھلائے اسے مخاطب ہوئی تھی ۔

محبت تو کی تھی لیکن اسکا ثبوت نہیں دے سکا۔۔۔ محبت میں تو قوتِ برداشت ہوتی ہے محبت میں غصہ اور انائیں نہیں چلتی ۔۔۔۔! اسے رشتے بےنام ہو جاتے ہیں

کیا آپ کی محبت مرچکی ہے ۔۔۔۔؟ اسے نے اس نوجوان کو اداس دیکھ کر مشکل سا سوال کیا تھا۔۔۔؟

نہیں مار دی ہے ۔۔۔۔۔! محبت نہیں مری میں نے مردہ کر دی ہے وہ یہ کہتے تیز قدموں سے باہر نکل گیا تھا اپنے رشتے کی سچائی بھی نہیں بتا سکا تھا ۔۔۔۔!

سوری مسٹر جو بھی تھا مگر مجھے تھپڑ نہیں مارنا چاہیے تھا آپکو۔۔۔۔وہ پیچھے سے بولی مگر تب تک وہ تیز قدموں سے نکلا تھا۔۔

حسنال گھر پہنچا تو ماں اور بابا اسی ہی کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔ !

کہاں تھے تم پچھلے پندرہ دنوں سے۔۔۔۔۔وہ جیسے ہی لاونج میں پہنچا ۔۔۔۔۔صیغیر صاحب جی گرجدار آواز آئی تھی

منال کو ڈھونڈ رہا تھا اور اس وقار نامی کے ہوش میں آنے کے انتظار میں ہوں مجھے منال کا کچھ پتہ چلے ۔۔۔۔! اس نے بغیر کسی لگی لپٹی کے جواب دیا تھا۔۔

اور لگ گیا پتہ پچھلے پانچ مہنیوں سےمیں یہ ہی سن رہی ہوں کہ تم اسے ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔۔! اگر وہ تمھارے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی تو وہ اس گھر میں پلٹ کے قدم ضرور رکھتی ۔۔۔۔۔! کتنی بار بتا چکا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ گئی ہے اب خوش ہوگی کیا پتہ وہ اپنی ماں کے ساتھ اس ملک سے ہی چلی گئی ہو۔۔۔۔۔!

کتنی دفعہ تمھیں سمجھا چکے ہیں مگر تم تو پاگل ہوگئے ہو اس کے پیچھے ۔۔۔۔! ہم سب تم سے کہہ رہے ہیں اپنی زندگی کو خراب مت کرو ۔۔۔۔اور آگے بڑھو۔۔۔۔۔! ان کے ایک لفظ لفظ میں سچائی تھی اس لیے حسنال چند پل کےلیے خاموش ہوگیا تھا اور جیسے ان کے کہنے منال کا ہی قصور نظر آیا تھا وہ سہی ہی تو کہہ رہے تھے کہ اس نے ایک بار بھی بخت ولا میں قدم نہیں رکھا تھا اس کا مطلب تو صاف تھا کہ وہ اسے دور رہ کہ خوش تھی۔۔

بڑھ جاؤں گا آگے۔۔۔۔لیکن ایک دفعہ اس بے وفا کو خوشیوں بھری زندگے میں دیکھنے کی خواہش ضرور ہے وہ تو ماں کے ساتھ ہی خوش ہے جانت ہوں مگر ابھی وہ میری پابند ہے اور کچھ حساب بھی کلئیر کرنے ہیں میں ہی کیوں تنہائی کا بوجھ سہہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ! وہ دل کی کیفیت کو سمجھے بغیر بول رہا تھا

اور وقار کے ہوش میں آنے تک ہر روز ہسپتال جاؤں گا کیونکہ اس نے بہت ساری لڑکیوں کی زندگیاں خراب کی ہیں حساب تو بنتا ہے نہ۔۔۔۔! اور فکر نہ کیجئے میں کام پہ بھی جاتا ہوں محبت نےروگ ضرور لگایا ہے لیکن ہوارہ نہیں ہوا یہ فکر مت رکھئیے گا۔۔وہ آہستگی سے کہتا لمبے لمبے ڈاگ بھرتا اوپر چلاگیا تھا۔۔۔۔۔۔

❤❤❤ابیہا علی شاہ ❤❤❤

آج صبح سے ہی موسم ابر آلود تھا رات کو بارش بھی اچھی خاصی ہو چکی تھی وہ جو کام کرچکی تھی اب اس کی طبعیت کچھ حد تک بہتر تھی لیکن ہاتھوں پہ چھالے بھی درد کرتے تھے وہ تو بختی اماں سے روٹی تندور پہ سیکھتی رہتی تھی وہ جتنا اسے منع کرلیتی لیکن اسے کوئی اثر نہیں ہوتا کبھی ہاتھ جل جاتے تو کبھی زیادہ چلنے سے پاؤں سوج جاتے تھے وہ چھالے زدہ ہاتھوں پہ کولگٹ لگانے لگی ویسے تو اس نے سارا کام کرلیا تھا وہ جو ماں کو صبح ماں کو کھانا کھلا کہ آئی تھی اب ماں کے کمرے میں آئی تاکہ انھیں دیکھ سکے اور کوئی چیز ان لےلیے پکا کہ رکھے ۔۔۔۔۔!

امی۔۔۔۔اس نے انھیں پکارا آج وہ سکڑے سمٹی چارپائی پہ لیٹی ہوئی تھیں کوئی بات نہیں کی تھیں پچھلے دو تین دن سے ان کو پاگل پن کا دورہ بھی نہیں پڑا تھا وہ اب تھوڑی بہت کوئی بات کوئی لفظ کہہ دیتی تھی منال اب خوش تھی کہ اس کی ماں ٹھیک ہو رہی ہے مگر یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ مرنے کےلیے ٹھیک ہو رہی ہیں کاش جان لیتی اپنی اس آخری خوشی کو بھی دفنا دیتی ۔۔

امی ۔۔۔اس نے پھر پکارا وہ تو پہلے کچھ نہ بولی تھی اس کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی اس نے ان کا چہرہ تھپتایا تھا امی آپ ٹھیک تو ہیں نا۔۔

وہ اسے دیکھتی رہی اور زندگی کا آخری لمحہ دیکھ کر انھوں نے اس کے آگے ہاتھ باندھ دیے تھے معافی مانگ رہی ہو بولنے کے قابل تو وہ رہی ہی نہیں تھی ۔۔۔

امی۔۔۔۔امی۔۔۔کیا ہوا ہے آپکو۔۔۔۔وہ ان کے ہاتھ پہ ملنے لگیں جو کہ ٹھنڈے ہو رہے تھے ان کی آنکھوں سے قطرے مسلسل گر رہے تھے ۔۔۔۔!

م۔۔۔۔م۔۔۔ممممم۔۔۔مجھے مممم۔۔معاف۔۔۔۔ککک۔کر دینا ۔۔۔۔۔اششن۔۔۔اشنال کو کہ۔۔۔۔کہنا م۔۔۔۔مممجھے معاف کر دے س۔۔۔۔۔سب ۔۔۔۔کو کہنا ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔مم۔۔۔معاف ۔۔۔۔۔کردنیا۔۔۔۔

مم۔۔۔۔میں ان ۔۔۔سسس۔سب کے سامنے ۔۔۔۔معافی ۔۔۔۔مانگنی ہے ۔۔۔

وہ آج بہت مشکل اور ٹوٹے پھوٹے لفظوں سے معافی مانگ رہء تھی ۔۔۔

اشنال جو ان کو آج پورے پانچ مہنیوں بعد اور کچھ دنوں بعد بولتے دیکھ رہی تھی جو آج بے بس تھیں بری طرح ۔۔۔۔۔موت کا فرشتہ ان کے گرد منڈلا رہا تھا منال سمجھ نہیں سکی وہ کیوں معافی مانگ رہی ہیں ۔۔۔۔!

اس نے ان کے ٹھنڈے ہوتے ماتھے پہ ہاتھ پھیرا اور گبھرا گئی تھیں اور ان کے آنسو صاف کر چکی تو ثمینہ بیگم نے اس کے ہاتھ اپنے آگے کیے اور چومے اور بہت ہی شدت و بے بسی سے آخری بار دیکھنے لگی تھیں ۔

منال سوچ رہی تھی کہ وہ کسی طریقے سے ان لوگوں کو لے کہ آئے اور ان کے ماں ان سے معافی مانگ لے مگر یہ کیسے ممکن تھا۔۔۔۔موت وقت تو بالکل نہیں دیکھتی ۔۔۔۔!

اور اس کی ماں بھی زندگی سے ہار رہی تھی ۔۔۔

ہم اپنی ساری زندگی میں ہر چیز کو تسیلم کرلیتے ہیں اور ہر حقیقت ہر خوشی یا غم کو بھی کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کرلیتے ہیں اپنی پوری زندگی میں ہر چیز کی پلاننگ اور سیٹ اپ کرلیتے ہیں مگر نہیں کرتے تو ایک موت کی نہیں کرتے ۔۔۔۔!جو ایک تلخ حقیقت میں ہر چیز خواہش ، حسد ،جوانی ، خوبصورتی کو کچلنے کےلیے تیار کھڑی ہوتی ہے ۔۔۔! موت تو کسی ذی نفس کو نہیں بخشتی اصل حقیقت ہی تو موت ہوتی ہے ۔۔۔۔۔!

کچھ پل ان کے ہلتے لبوں کو دیکھتی رہی اور دیکھتے دیکھتے ان کے ہلتے لب اور آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہوچکی تھیں ۔۔۔۔۔!

؎میں نے اپنے صبر کی انتہا دیکھی

جب اپنی مرتی ہوئی ماں دیکھی

منال بس ساکت سی بیٹھی دیکھ رہی تھی اس نے شور نہیں کیا تھا بس ساکت سے بیٹھی ماں کے ساکت چہرے کو دیکھتی رہی پھر ان کی آنکھوں کو بند کیا تھا ان کا منہ صاف کرکے ہاتھوں کو جلدی سے سیدھے کرکے ان کے سینے پہ رکھے تھےٹانگیں سیدھی کی تھی ۔۔۔۔وہ شور کیا کرتی آخر سب کچھ ختم ہوگیا تھا آخر بے نام سا رشتہ بھی ختم ہوگیا تھا۔۔۔

*****

ثمینہ بیگم کی وفات کو بیس دن سے اوپر ہوگئے تھے ۔۔۔! اس دن کے بعد وہ خاموش ہوگئی تھی کوئی بلاتا تو بول لیتی نہیں تو ہر وقت خلاؤں میں گھورتی رہتی بختی اماں اب ہر وقت اس کے ساتھ سائے کی طرح ہوتی اس کو کھانا تو وہ زبردستی کھلا رہی تھی وہ اس کی حالت دیکھتی حتمی فیصلہ کرنے کی ٹھان چکی تھی وہ کل بھی اسے گاؤں کے چھوٹے سے ہسپتال میں بمشکل لے کہ گئی تھیں لیکن وہاں کوئی اچھی دوائی اور الٹرا ساؤنڈ کی سہولت نہیں تھی اسے لیے وہ اسے شہر کے اچھے اور بڑے سے ہسپتال میں لے کہ جانا چاہتی تھی اور وہ مجید چاچا سے بات بھی کرچکی تھی اور جس کےلیے وہ راضی بھی ہوگئے تھے اب اسے شہر لے جانے کا معاملہ حل کرنا تھا ۔۔۔۔

Part 3

منال پتر ۔۔۔۔۔بس کر دیں ہر وقت ایسے نہ بیٹھی رہا کر۔۔۔۔وہ جو ماں کی دوائیوں کو گھور رہی تھی ان کی چیزیں ہر جگہ نظر آرہی تھی وہ ماں کو بھول نہیں پا رہی تھی ان کا آخری پیار اپنے ہاتھوں پہ یاد آیا تو وہاں لب رکھ دیے تھے وہ اسے مسلسل دیکھ رہی تھیں جو ماں کو دیکھ کر روئی نہیں تھی ہر روز ان کے کپڑے چیزوں کو دیکھنا معمول بن گیا تھا ۔۔۔۔!

بختی اماں مجھے امی کی قبر پہ لیں جائیں گی ۔۔۔۔؟ اس نے جیسے منت کی تھی ۔۔۔

مگر تمھاری طبعیت نہیں ٹھیک۔۔۔۔! وہ یہ کہتی اسے باہر پلنگ پہ لیں آئی تھیں ۔۔

بختی اماں مم۔۔۔مجھے لے چلیں نہ ۔۔۔۔! میں نے دیکھنا ہے ان کی قبر کو ۔۔۔۔۔! اس نے عرض کی تھی ۔۔

ٹھیک ہے کب جانا ہے ۔۔۔۔؟ انھوں نے اسے دیکھ کر پوچھا تھا۔۔

ابھی لے چلیں نہ ۔۔۔۔میں نے ابھی جانا ہے وہ جھٹ سے بولی تھی۔۔

اچھا بیٹھو میں تمھاری چادر لے آتی ہوں ۔۔۔وہ یہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی تھی وہ چادر لے کہ آئیں تو منال پوری طرح سے خود کو ڈھانپ لیا تھا ۔۔۔

بختی اماں میں وضو کرکے آتی ہوں ۔۔۔۔! ایکدم سے اس نے کہا تھا اور پھر آہستگی سے وضو کرنے چلی گئی تھی اور کچھ پل وہ واپس آئی تھی بختی اماں اٹھی تاکہ نلکا چلا کہ اس کےلیے پانی نکال اور وہ آسانی سے وضو کرلے جو آستینں اوپر کررہی تھی وہ کھڑے ہوکر ہی وضو کرنے لگی تھی بختی اماں اسے دیکھنے لگی جس کے ہاتھ پاؤں سوج رہے تھے وہ پانی نکالتی رہیں جبکہ اس نے بمشکل وضو کیا اور ڈوپٹہ سے چہرہ صاف کرنے لگ پڑی تھیں۔۔۔

وہ ایک دم سے وہ پہلے دن والی منال کا موازنہ کرنے لگ پڑی جو پہلے دن بہت ہی پریشان سی دکھائی دے رہی تھی جب سے وہ آئی تھی انھیں بہت پیاری ہوگئی تھی وہ اسے اب خود زبردستی صحن میں لے کہ آتیں بے شک وہ چپ رہتی تھی لیکن اس کا گھر میں چلنا پھرنا ، کام کرنا ماہ نور کی چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کرنا ان کو اس کی بہت زیادہ عادت ہوگئی تھی وہ اب گھر کی فکر سے آزاد ہوکر کھیتوں میں کام کرتی تھیں انھیں اس کی کنڈیشن بہت زیادہ فکر تھی وہ اسے زبردستی دودھ مکھن کہلاتی تھی جس سے اس کا چہرہ تو ٹھیک تھا لیکن وہ جانتی تھی وہ لڑکی اندر ہی اندر خود کو ختم کر رہی ہے اس لیے انھوں نے ایک بکری کا بیچ دیا تاکہ شہر جاکہ میں اسکا کا علاج کراسکیں اور اسکےلیے انھوں نے منال کو کہا بھی تھا فلحال تو وہ نہیں مانی تھی پھر بھی وہ اسے منوانے کےلیے تیار تھی وہ یہ سوچ رہیں تھیں کہ اسے کیسے منائیں مگر فلحال کوئی کارآمد ترتیب ان کے ذہن میں نہیں رہی تھی۔۔

بختی اماں چلیں۔۔۔۔وہ اٹھی تو وہ سوچوں میں ڈوبی ہوئیں تھیں اس نے انھیں ہلکے سے پکارا تھا۔۔

منال بچے ۔۔۔۔تو ادھر ہی رک میں آ رہی ہوں ۔۔۔۔! وہ یہ کہتی چلی گئی تھیں اور پھر کچھ دیر بعد آئیں تو ان کے ہاتھ میں پرس تھا چل چلتے ہیں ۔۔۔! وہ اسے لیے دروازہ بند کرتی ساتھ چلی تھیں۔۔۔۔

منال بمشکل چلتے چلتے قبرستان میں آئی قبرستان کافی دور تھا انھوں نے اس کی امی کی قبر کی طرف اشارہ کیا جہاں باقی قبروں سے ہٹ کر ایک اکیلی قبر تھی وہ سوچتی رہ گئی تھی کتنی پرسکون سی جگہ تھی نہ کوئی جھگڑا نہ کوئی رنجش نہ کوئی دھوکہ نہ کوئی طعنہ ۔۔۔۔۔ حسن ، غرور جوانی ۔۔۔! قابلیت دماغ۔۔۔

ہر چیز یہ ہی پڑی رہ گئی تھی بے شک قبروں کا عذاب تو کسی نے نہیں دیکھا لیکن وہ رب عفو ہے بندے کو معاف کرنے والا وہ آہستگی سے چلتی ماں کی قبر کے قریب چلی آئی تھی۔۔

کچی قبر کے اوپر کانٹے سے پڑے ہوئے تھے اس چھوٹے گاؤں میں اس کی ماں کی قبر تھی جو محلوں میں رہنے کی عادی تھیں جو بہت زیادہ مادہ پرسٹ تھیں کہاں کی پیدائش ، کہاں کی رہائش ….. اور کہاں پہ آخری ٹھکانہ ۔۔۔۔! ہر طرف ایک سکوت سا تھا اصل جنت میں یہ لوگ رہ رہے تھے سارے سکون سے خاموس سے رہے ہیں ۔۔۔۔!

مرنے کے بعد رب تو شاید معاف کر دے مگر دنیا والے جیتے جی جینے نہیں دیتے ۔۔۔اور مرنے کے بعد شکوؤں کا انبار اپنے پاس رکھتے ہیں وہ اس کچی قبر کے ساتھ سر ٹکا گئی تھی کئی دیر ماں کی ٹھنڈک کو محسوس کرتی رہی تھی گویا وہ اس کے ساتھ ہو۔۔۔۔پل میں بچپن کے کتنے مناظرات کھوگئے تھے جس میں وہ اپنی ماں کا ڈوپٹہ کھنچتی ۔۔۔۔۔ان کے بال سے بگاڑتی ۔۔۔۔ ہر چیز یاد آئی تھی بختی اماں اس کو دیکھ رہی تھیں جو قابلِ رحم تھیں ۔۔۔!

کچھ دیر اٹھتی اس نے فاتحہ کےلیے ہاتھ اٹھائے تھے ان کی بخشش کےلیے دعا مانگی غم دل میں بن رہا تھا آنسوؤں پھر بھی نہیں آئے تھے آنسوؤں بھی جیسے روٹھ سے گئے تھے ماں کی قبر سے اٹھتے اسے یہ خیال آیا تھا

کہ ‏قبرستان کو قبرستان نہیں بلکہ”شہرِ مُحبت ” یعنی مُحبتوں کا شہر کہنا چائیے ہے کہ جہاں قدم قدم پر کِسی نہ کِسی کی مُحبت دفن ہے ، باظاہر یہ جو مٹی کے ڈھیر لگتی ہیں نہ اصل میں یہ کِسی نہ کِسی کی جان ہوتی ہیں

وہ تو محبتوں کے شہر میں آئی اس کا اٹھنے کا دل ہی نہیں کیا تھا ۔

آخر بختی اماں اسے مشکل سے قبرستان سے اٹھا کر لے گئی تھیں ۔۔۔۔!

۞۞۞۞

وہ اسے رکشے میں بیٹھتی ایک چھوٹی سی مارکیٹ میں آئی ہیں تھیں تاکہ اس کےلیے چپل اور سوٹ وغیرہ لےکہ جائیں اس کے کپڑے تو بہت زیادہ تھے وہ جانتی تھی کہ وہ سوٹ اسے تنگ ہوگئے ہیں اس لیے اس کےلیے دوجوڑے تو نئے لاکر دیں وہ ان کے گھر رہتی تھی اس لیے ان کا فرض بنتا تھا اور دوسری بات انھوں نے اسے شہر لے کہ جانا تھا۔۔۔

وہ اسے ایک چھوٹی سی دکان پہ لے کہ آئیں تھیں اس کےلیے کپڑے لینے تھے منال نے سمجھا کہ وہ اپنے لیے لے رہی تھی ۔۔

منال پتر کوئی اپنے لیے پسند کرلو سارے کپڑے تنگ ہیں ۔۔۔ وہ اسے وہاں پہ سٹول پہ بیٹھاتی ہوئی بولیں تھی جو کہ چھوٹی سی کپڑوں کی شاپ تھی

نہیں نہیں۔۔۔بختی اماں ۔۔میرے کپڑے ہیں ۔۔۔! وہ ان کی بات سنتی انکار کرگئی وہ ان پہ بوجھ نہیں بننا چاہتی اس لیے مزید نہیں کہا ۔۔۔!

ٹھیک ہے پھر مجھے ماں مت کہنا انھوں نے بلیک میل کیا تھا وہاں پہ کپڑے تہہ کرتا ایک درمیانی عمر کا شخص ان دونوں کو بڑی دلچسپی سے سن رہا تھا ۔۔۔!

اور یہ ہی منال کی ضد ختم ہوئی تھی انھوں نے اسے بےبس ہی اتنا کر دیا تھا۔۔

اس کے دو سوٹ لیتی اس کےلیے شال لی تھی ۔۔۔۔۔!

بختی اماں میں نے مانو کےلیے فراق اور گڑیا لینی ہے اس وقت مجھے کچھ پیسے چاہیے میں گھر جاتے ہی آپ کو دوں گی۔۔

مانو کےلیے جو لینا ہے لے لو اور منال آج کے بعد اس طرح بات نہ کرنا قریب ضرور ہوں لیکن کنجوس نہیں ہوں۔۔۔۔اتنی ججھک کر بات مجھے سے مت کیا کرو میں نے تمیں بیٹی کہاں ہی نہیں سمجھا بھی ہے۔۔۔۔!

وہ اب سخت سی بولیں منال شاپ والے انکل کے سامنے کھسیا کر رہ گئی تھی۔۔

پھر وہ اسکےلیے سوٹ اور شال لیتی مانو کےلیے فراق اور گڑیا لیتیں جلدی سے نکلی تھیں کیونکہ مانو کے گھر آنے کا وقت ہوگیا تھا منال بھی مانو کےلیے فکرمند تھی۔

*****

منال جو آج پرسکون تھی ماں کی قبر پہ فاتحہ پڑھ کہ آئی اور جیسے اسے لگا کہ اس کی ماں کی روح سکون میں ہے ۔۔

آج اس نے پہلے کی طرح مانو کو نوڈلز بنا کہ کھلائے تھے شام کا وقت تھا وہ اسے پڑھا رہی تھی آج تو گویا مانو بھی خوشی سے اچھل کود رہی تھی کہ اس کی انا آج اس کےلیے کام کر رہی تھی اور اس کےلیے فراق اور نئی گڑیا لے کہ آئی تھی وہ تو اچھل کود رہی تھی وہ اس کے پیچھے آتی خوشی سے اس کے گرد باہوں کے گلے کا ہار کیا تھا اور اسے گال پہ پیار کیا تھا۔۔

انا ۔۔۔۔آپ بہت اچھی ہیں انا۔۔۔۔! وہ اس کو پیچھے سے ہگ کرکے ایک قسم کے جھولے لے رہی تھی بختی اماں گائے کو ایک بڑے سے برتن میں پانی پلا رہی تھی ان کا ڈوپٹہ جو سر پہ باندھا ہوا تھا اسے تھوڑا سا پیچھے کیا ان کی نظر جیسے ہی مانو پہ پڑی جو منال کے ساتھ لاڈ کر رہی تھیں وہ گائے کو پانی پلا کہ باندھ کہ آئی اور پاؤں سے چپل اتار لی تھی ۔۔۔۔!

مانو میرے پیچھے چھپ جاؤ۔۔۔۔! منال نے بختی اماں کے تیور دیکھ کر اسے پکارا تھا۔۔

منال اپنے گلے سے اس کے بازوؤں ہٹاتی اپنی شال اس کے اوپر جلدی سے کرائی تھی۔۔۔بختی اماں جو اب پلنگ کے قریب آگئی تھی ۔۔

منال پتر اسے نکالو پیچھے سے ۔۔۔۔اسے دو لگاؤں گی تب ہی یہ سدھریں گی ہر وقت یہ تمھیں تنگ کرتی ہے بہت بگڑ گئی ہے یہ ۔۔۔!

ذرا سا مجھے اپنے کام سے لگا ہوا دیکھا تو پھر سے تمھارے ساتھ بندروں کی طرح لٹکانا شروع ہوگئی ہے تمھاری حالت کی پرواہ نہیں اسے۔۔۔

وہ اس طرف آتی اسے نکالنا چاہا تاکہ اس کی ٹھکائی کرسکیں ۔۔

بختی اماں ۔۔۔۔۔پلیز نہیں ۔۔۔۔بچی ہے یہ ۔۔۔! اس نے ہاتھ اس کے اوپر رکھے جو اس کے پیچھے چھپی بیٹھی تھی۔۔۔

آج تو میں اسے معاف کر رہی ہوں کیونکہ تم اس کی حمایت کر رہی ہو ۔۔۔۔مگر آئندہ تم نے اسے بچانے کی کوشش کی تو میں لحاظ نہیں کروں گی وہ سختی سے کہتی چپل پھینکتی چلی گئیں تھیں ۔۔۔!

انا۔۔۔۔بختی اماں چلی گئیں۔۔۔اسے دو تین منٹ بعد مانو کی ڈری سہمی سی آواز آئی تھی ۔۔۔

مانو بچے ۔۔۔۔کسی دن بختی اماں مجھے بھی چپلوں سے ماریں گی وہ اس کے اوپر سے ڈوپٹہ ہٹاتی مصنوعی خفا خفا سی بولی تھی۔۔۔!

وہ آپ کو کچھ نہیں کہتیں اس لیے تو آپ کے پاس آتی ہوں وہ یہ کہتی کھکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔۔!

جب اس کے پیارے سے معصوم چہرے کو اتنے خوبصورت انداز سے ہنستا دیکھ کر اس نے مانو کے چہرے کو چٹ پٹ چوم ڈالا تھا۔

بختی اماں نے واپس پلٹ کے دیکھا تو ان دونوں کو پھر سے لاڈ کرتے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی چارے والی چادر اور درانتی لے کر گیٹ سے باہر نکل گئی تھی ۔۔۔

چلو شاباش ۔۔۔سکارف اور سیپارہ لے کر آؤ۔۔۔۔وہ اسے بازؤں سے پکڑ کر اٹھاتی ہوئی بولی تھی اور پھر مانو کو اس نے سیپارے کےلیے بیھجا اور خود سنبری وغیرہ کاٹنے کےلیے اٹھی تھی۔

****

میم آپ ہمارے ہوسپٹل کا ڈسپلن خراب کر رہی ہیں۔۔۔فی میل نرس نے حسن آرا کے مقابل آئیں تھیں۔۔

میں جو پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دو تم۔۔۔حسن آرا نرس پہ چیخی تھی۔۔

وہ لڑکا یہاں کیا کرنے آتا ہے ۔۔۔حسن آرا جو نرس کے منہ سے جواب سن کر غصے سے آگ بگولہ ہوگئی تھی وہ کل بھی یہاں وقار کو دیکھنے آئی تھیں جو اب ٹھیک ہو رہا تھا اس نے بھی اسے بتایا تھا کہ حسنال بخت نے پوری میڈیا کو انولو کر لیا تھا پولیس بھی دو تین دوفعہ چکر لگا چکی تھی پولیس نے اسے حراست میں تو لے لیا تھا جس کا خدشہ حسن آرا کو بھی تھا

وہ جو جرنلسٹ حسنال بختب تھے اور انویسٹگشن کرنے آئے تھے اور وہ روز آتے ہیں اس میں اتنی حیران ہونے کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔! انھوں نے کہا ہے پیشنٹ کرمنل ہے میم ۔۔۔۔اور کل پو”لیس بھی آئی تھی اس لیے ہم پورا پورا ساتھ دیں گے آپ ہمیں دھمکیاں مت دیں جو کرنا ہے وہ کریں ہم پہ چیخنے کی بجائے خود کو ٹھیک کریں۔۔۔۔!

وہ نرس بغیر ڈرے پورے اعتماد سے کہتی چلی گئی تھی

جبکہ پیچھے کھڑی حسن آرا غصے سے لال پیلی ہوگئی تھیں تم جو بھی ہو لڑکے ۔۔۔۔میں تمھیں زندہ چھوڑوں گی تو تم ہماری انویسٹگیشن کر پاؤ گے ۔۔۔۔! تمھارے حقیقت تک پہنچنے سے پہلے ہی تمھیں اوپر نہ پہنچا دیا تو میرا نام حسن آرا نہیں جرنلسٹ حسنال بخت ۔۔۔۔! وہ مکرویہ انداز میں ہنستی وقار کے روم کی طرف بڑھ گئی تھی

*****

منال بچے یہ محلے کی درزن سے تمھارے سلائی کروا دیے ہے اور کل تیار رہنا تمھیں سٹی ہوسپٹل لے کر چلنا ہے مانو کے داد ابو کہہ رہے تھے کہ الٹرا ساونڈ کےلیے انھوں نے نمبر لگوایا ہے وہ وہیں ہوں گے تم میرے ساتھ چلنا صبح صبح نکلیں گے تو وقت سے کل شام تک گھر آجائیں گے ۔۔۔! وہ اس کے کمرے میں آتی جلدی جلدی بولیں تھیں

بختی اماں اس کے سوٹ نکالتی ہوئی اس کے ہاتھ میں تھماتی ہوئی بولیں تھیں ۔۔

کک۔۔۔کہاں۔۔۔سٹی ہوسپٹل کا نام سن کر منال کی زبان ایک دم سے لڑکھڑائی تھی وہ جہاں سے نکلی تھی وہی جانے کا سوچ کر دم گھٹنے لگا تھا اب تو پورے مہینے سے ماں کی جدائی سہہ کر اسے ہر رشتے سے دل بھر گیا تھا۔۔

نہیں اماں میں وہی نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔! میں جہاں سے نکلی ہوں میں ہر گز وہاں نہیں جاؤں گی اگر کسی نے مجھے دیکھ لیا تو وہ مجھے لے جائیں گے حسنال نے کہا تھا وہ میرا بچہ مجھ سے لے لے گا کہ مجھے طلاق دے دے گا میں وہاں ہرگز نہیں جانا چاہتی مانتی ہوں میرا غلطی ہے لیکن میں نے بہت زیادہ ہرجانہ بھرلیا ہے اور آگے بھی بھر لوں گی ۔۔۔۔! لیکن میں اس خاندان میں ہرگزقدم نہیں رکھوں گی پتہ ہے میرا دل کرتا ہے کہ اس پیدا ہونے والے معصوم کا سر پرست اس کی پیدائش پہ اسے دیکھے۔۔۔! لیکن کیا کروں بختی اماں میں ماں ہوں خود غرض بن رہی ہوں کیونکہ میرا یہ آخری سہارا ہے شاید اسی ہی اسی کہ سہارے جی رہی ہوں ۔۔۔۔! وہ اپنے دل کا ڈر واضح طور پہ بتا بھی نہیں پا رہی تھی۔

نہیں اگر یہ کل کو پیدا ہوگیا ۔۔۔۔تم مجھ پہ بوجھ نہیں منال ۔۔۔۔لیکن پھر یہ بڑا ہوگا تم سے سوال کرے گا کہ اس کا باپ کون ہے تو کیا جواب دو گی اسے ۔۔۔۔! اس کے باپ کا حوالہ اس کے پاس نہ ہوا نہ تو لوگ پھر تم پہ انگلیاں اٹھائیں گے ۔۔۔۔! یہ معاشرے کی تلخ حقیقت ہے ۔۔۔! وہ اسے بتا رہی تھی کہ اکیلی عورت کا جینا کیسے مشکل ہوتا ہے۔۔!

میں اگر زندہ رہوں گی تو جواب دوں گی نا۔۔۔۔اور جس دن میں مرگئی اس دن اسے اس کے باپ کا حوالہ دے دیجئے گا بختی اماں ۔۔۔۔اسے کہیے گا کہ اس کا باپ حسنال بخت ہے بھیج دیجئے گا اسے اپنے اپنوں کے پاس ۔۔۔۔۔! وہ پھر سے تلخ ہوئی تھیں۔۔!

اور اگر تم نہیں جاؤ گی خود کا علاج نہیں کراؤں گی ۔۔۔۔! تو کیا یہ دنیا میں آ پائے گا۔۔۔! میں تمھارا برا نہیں چاہتی اس لیے کہہ رہی ہوں بس تم کل میرے ساتھ جاؤ گی کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو اس کا باپ تمھیں معاف کر دے گا اور جتنی بدگمان وہ ہے خطا کار تو وہ تمھیں سمجھیں گا ۔۔۔!

ان کی بات سن کر وہ کانپ کر رہ گئی تھی اور مثبت میں سر ہلایا تھا کہہ تو وہ ٹھیک رہی تھیں وہ اس کے ساتھ جانے کے لیے راضی ہوئی تھی ۔۔

بختی اماں مانو کو بھی ساتھ لے کہ جائیں گے ۔۔۔! اس نے اس لیے پوچھا کہ وہ اس کے کپڑے تیار کردے گی۔۔۔!

نہیں اسے میں حلیمہ کی ماں کے پاس چھوڑ دوں گی فضول میں تنگ کرے گی 🖤منال نےاب اپنے آپ کو وقت کے دھارے پہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔

****

میم آپ اوپر روم نمبر 4 میں چلی جائیں گی ڈاکٹر ناز آپ کا چیک اپ کریں گی ۔۔۔۔! وہ بختی اماں کے ساتھ ہوسپٹل آئی ہوئی تھی اسے چلنے نہیں ہو رہا تھا لیکن پھر بھی وہ چل رہی تھی صبح سے دوپہر کا وقت ہوگیا تھا وہ بری طرح ہلکان ہوگئی تھی پیسنہ بار بار چہرے پہ آرہا تھا جو بختی اماں اپنے ڈوپٹے سے پونچھ رہی تھی اس کا چہرہ سرخ لال ہو رہا تھا سانس بھی مشکل سے لے رہی تھی ریسپشن پہ کھڑی لڑکی کی بات سن کر منال رونے والی ہوگئی تھی کیونکہ وہ بمشکل یہاں تک چل کہ آئی تھی صبح سے وہ اوپر نیچے چکر لگا رہی تھی ۔۔۔!

بختی اماں مجھ سے نہیں چلنے ہو رہا ۔۔۔۔اور گائناکالوجسٹ کا روم بھی اوپر ہے۔۔۔! وہ ان کے پاس بیٹھتی چپل سے پاؤں نکالتی تھکے تھکے لہجے میں بولی تھی اتنے میں مجید چاچا ان کےلیے ہاتھ میں جوس اور کوئی چیز لے کر ان کے پاس آئے تھے۔۔!

یہ لو اور میں باہر ہوں میری ضرورت پڑے تو مجھے بلا لینا ۔۔۔۔! وہ چیز تھماتے ہوئے بولے اور پھر باہر چلے گئے تھے۔۔!

منال تمھارے پاؤں تو بہت سوج رہے ہیں وہ فکرمند انداز میں کہتی ہوئی دیکھنے لگیں جس کے سفید پاؤں پہ نظر ٹکی سفید پاؤں پہ لال لال سے نشانات تھے بختی اماں کو اس کی تب ہی سمجھ آئی تھی اس لیے وہ بار بار چپل اتار رہی تھی ۔۔۔

مجھے بتاتی نہ میں مالش کر دیتی اور پھر ساتھ لاتی۔۔۔!

وہ بہت پریشان تھیں !

بختی اماں پریشانی کی بات نہیں ہے آپ پریشان مت ہوں یہ زیادہ چلنے کی وجہ سے ہوئے ہیں ۔۔۔۔! وہ ان کو اپنے لیے پریشان دیکھ کر گبھرا گئی تھی اور جلدی سے پینے لگی تھی ۔۔۔۔!

آٹھوں مہنیہ ہے چل رہا ہے میرا ۔۔۔۔طبعیت تو خراب ہوگی نہ بختی آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں اب میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔؟ اس نے انھیں مسکرا کر تسلی دی تھی کہ وہ ٹھیک نہیں تھی حالانکہ وہ ٹھیک نہیں تھی جب دل خالی ہو جائیں تو مسکراہٹ خود بخود آجاتی ہیں ۔۔۔!

میں سب جانتی ہوں منال ۔۔۔۔۔پر چھوڑو یہ جوس پی لو پھر میں خود لے کر چلتی ہوں ۔۔۔! منال نے بمشکل تین چار گھونٹ بھرے اور ان کے کندھے پر سر رکھ لیا تھا تکلیف اس کے چہرے سے صاف نظر آرہی تھی۔۔۔!

چلو۔۔۔انھوں نے آہستگی سے اسے پکارا اور اس کی چپل ہاتھ میں اٹھا لی تھیںر اس کا پیسنہ صاف کرکے وہ اسے اپنے سہارے چلاتی ہوئی نیچے سیٹ سے اٹھایا اور اسے لے کر آہستہ آہستہ چلنے لگی تھی

حسنال جو عجلت میں نیچے اترا رہا تھا ارحم کا فون بار بار آر رہا تھا وہ تیزی سے زینوں سے اتر رہا تھا نیچے نگاہ پڑی تو پلٹنا ہی بھول گئی تھی کیونکہ منظر ہی کچھ ایسا تھاوہ ساکت اور معبوت ہوکر وہیں رک گیا تھا نگاہوں کا پھیر تھا ان آنکھوں سے اسے دیکھ لیا جس کا مل جانا ناممکن تھا وہ اسے آنکھوں کے رستے اندر اتار تھا

وہ جن آنکھوں میں ویرانیاں ہوتی تھیں ۔۔۔۔!

؎یہ کائنات صراحی تھی جام آنکھیں تھیں

مواصلات کا پہلا نظام آنکھیں تھیں ۔۔۔۔!

وہ قافلہ شاید اندھے نگر سے آیا تھا۔۔۔!

ہر شخص کا تکیہ کلام آنکھیں تھیں

یوں تو یوسف کا پیراہن تھا شاید ۔۔۔۔!

دیارِ مصر سے پہلا سلام آنکھیں تھیں

پورے سات مہنیوں بعد اس دشمنِ جان کو دیکھا تھی صورتں وہ وہی تھا مگر احساسات بدل گئے تھے ۔۔

سیاہ شال میں لپٹا سفید پرنور چہرہ ، لبوں کو بھینچتی خاموش آنکھیں ، بھرا بھرا وجود ۔۔، ممتا کا روپ تو گویا اس پہ ٹوٹ کہ آیا تھا کسی عورت کے بازوؤں کے سہارے چلتی بغیر جوتوں کے دیکھا جو کہ بہت ہی تکلیف میں تھی اسے تو لگا کہ وہ خود غرض لڑکی اس کے بچے کو ختم کر دے گی مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس خودغرض ماں نے اس کی اولاد کےلیے خود کو ختم کرلیا تھا اور بہت جلد جاننے والا تھا ۔۔

حسنال حاکم بخت کو امید نہیں تھی کہ وہ اسے اس دنیا کے ہجوم کی بھییڑ اور اپنی لاپتہ سی زندگی میں یوں مل جائے گی وہ وہیں کھڑا اسے مجنوں کی طرح دیکھے جا رہا تھا اس نے تو سوچا تھا کہ وہ مل جائے گی تو وہ چیخ چیخ کر دنیا کو بتائے گا مگر اس کو دیکھ کر تو بے یقینی کی کیفت میں ایسا گھرا کہ کسی چیز کی ہوش نہیں رہی تھی ۔۔۔۔!

بختی اماں مجھے یہ ہی اوپر کسی سیٹرھی پہ بیٹھا دیں مجھ سے چلنے نہیں ہو رہا وہ اس عورت کو کہہ ہی رہی بختی اماں مجھے چھوڑ دیں میں خود چل لیتی ہوں انھوں نے اس پر سے بازؤں ہٹا لیے تھے ۔۔۔۔!

آپ میرے ساتھ روم میں چلیں گی نا۔۔۔۔؟ وہ ان سے پوچھ ہی رہی تھی جب نظریں اٹھی تو جھپک ہی نہ پائی بھول گئی تھی کیا بات کہنی ہے وہ ستم گر مزید نکھر گیا تھا

وائٹ سوٹ پہنے ۔۔۔۔! آنکھوں پہ گلاسز لگائے ….ہاتھ میں کمیرہ اٹھائے اسے لگا کہ وہ اس شخص کو جہاں چھوڑ کہ گئی تھی وہ وہیں تھا وہ تو نہیں بدلا تھا ۔

اس پہ نظر پڑی وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جدائی کا یہ درد دونوں کی آنکھوں میں سے ہی نظر آرہا تھا ۔۔۔

منال کی آنکھوں میں مزید خالی پن اتر آیا تھا اس شخص کو آج روبرو دیکھا جس کی تصویر پچھلے سات مہنیوں سے اس نے اپنے دل میں بسائی ہوئی تھی اس سے تو تعلق قطع ہوگیا تھا مگر اس کی یادوں سے نہیں ہوسکا تھا ان ساتھ مہینوں میں اسکا تو کچھ گیا نہیں تھا لیکن منال حاکم بخت کا کچھ رہا نہیں تھا وہ اس ساتھ مہنیوں میں اپنی پوری زندگی جھیل آئی تھی وہ ہجر کی راتیں تنہا کاٹ آئیں تھی زندگی کے ستم سہہ آئی تھی شخص کو دیکھا تھا توان آنکھوں میں نمکین قطرے چمکنے لگے تھے ….!

دونوں ایک دوسرے کو تعلق سے دیکھ رہے تھے وقت جیسے رک سا گیا تھا وہ اسے بہت کچھ بتانا چاہتی تھی اسے اپنے اوپر گزرے درد سننا چاہتی تھی مگر اس شخص نے سنا تو کیا دیکھا بھی اس کی نگاہوں میں نہیں تھا وہ تو اس وقت محبت کا امتحان لینے کے چکروں میں تھا اور محبت کے اس چکر میں منال حاکم بخت کی ذات بری طرح سے بکھیرکہ رکھ گیا تھا جس کا خمیازہ تقدیر نے اس کی قسمت میں لکھ دیا تھا اس کی نگاہوں میں دل چیر لینے والے شکوے تھے اتنا درد تھا کہ حسنال بخت صرف اس کی آنکھوں کو دیکھ کر فریز ہوگیا تھا۔۔۔۔!

؎ مجھے یاد ہے کبھی ایک تھے مگر آج ہیں ہم جدا جدا

وە جدا ہوے تو سنور گئے ہم جدا ہوے تو بکھر گئے

کبھی رُک گئے کبھی چل دئیے کبھی چلتے چلتے بھٹک گئے

یوں ہی عمر ساری گُزار دی یوں ہی زندگی کے ستم سہے

کبھی نیند میں کبھی ہوش میں تو جہاں ملا تجھے دیکھ کر

نہ نظر ملی نہ زباں ہلی یوں ہی سر جُھکا کے گزر گئے

کبھی زلف پر کبھی چشم پر کبھی تیرے حسین وجود پر

جو پسند تھے میری کتاب میں وہ شعر سارے بکھر گئے

کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی دربدر

غم عاشقی تیرا شکریہ ہم کہاں کہاں سے گزر گئے

🖤
🖤
🖤

وہ اس پہ نگاہیں ہٹا کر خاموش سی لا تعلق بن کر گزرگئی تھی حسنال نے اس کی نگاہوں میں دل چیر شکوے دیکھے تھے وہ ہوش میں آیا تھا جو دوسری سیڑھیوں سے اوپر چلی گئی تھی وہ جو خود میں گم تھا پلٹ کر سیٹرھیوں پہ جو اب کئی نہیں تھی وہ اسکے پیچھے لپکا تھا وہ آہستگی سے چلتی جا رہی تھی

منال ۔۔۔۔۔! حسنال اور اس کو بازؤں سے پکڑا تھا ہر کام بھول گیا تھا بس یاد رہی تو صرف وہ۔۔۔۔! منال رکی ضرور تھی مگر پلٹی نہیں تھی اس کا دل خوف کے مارے دھڑک رہا تھا ۔۔۔!

کہاں چھپی ہوئی تھیں آپ۔۔۔۔۔۔؟ منال نے مصنوعی رعب دار لہجے سے پوچھا وگرنہ دل تو کیا کہ اسے گلے لگا لے ۔۔۔۔ !

آپ کی ہمت کیسے ہوئی مجھے چھوڑ کر جانے کی ۔۔۔۔۔! اپنی حصے میں تکلیف آئی تو ڈر کے مارے رات کے اندھیرے میں نکل پڑی۔۔۔۔!وہ اس کا رخ موڑتااپنی طرف کرتا ہوا بولا تھا بختی اماں کو سمجھ لگ گئی تھی کہ یہ اونچا لمبا مضبوط و توانا اور خوبصورت سا لڑکا ہی منال کا شوہر تھا اوپر سے اس کے اسحقاق بھرا لہجے کو وہ متاثر کن نظروں سے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔!

منال بچے وہ تمھاری پرچی تو میں نیچے بھول آئی تم ادھر رکو میں لے کہ آرہی ہوں ۔۔۔۔۔وہ یہ کہتی بہانے سے نکل گئی تھیں تاکہ ان کے درمیاں اختلاف مٹ سکیں ۔۔۔!

وہ جس بات سے ڈر رہی تھی وہ ہی ہوا تھا وہ وقت کو وہیں چھوڑ کہ گئی تھی گویا وقت تو وہیں کھڑا تھا۔

میں تکلیف سے پل پل مر رہی ہوں ۔۔۔۔۔اور تمھیں اپنے زخم دینے کی پڑی ہوئی ہے حسنال حاکم بخت۔۔۔۔! وہ ڈولتے وجود کو سنھبالتے ہوئے بمشکل بولی تھی۔

اللہ نہ کرے۔۔۔۔۔! اس کی بات سن کر اس کا دل نا انجانی کیفت میں دھڑکا وہ آگے بڑھا اور اسے اپنے آپ میں بھینچ لیا تھا وہ شدت سے اسے خود میں بھینچے اس کے سات ماہ کے درد کو میں خود میں جذب کر رہا تھا

لوگوں کی تو اسے پرواہ بالکل بھی نہیں رہی تھی کیونکہ جو تکلیف ان دونوں نے سہی تھی وہ انھوں نے نہیں دیکھی تھی ۔۔!

چھ۔۔۔۔چھوڑو ۔۔۔۔وہ تڑپ کر پیچھے ہوئے تھی جبکہ حسنال تو فلحال اس کی طبعیت کہنے سننے کے موڈ میزن نہیں رہا تھا اسے نرمی سے اٹھاتا وہاں پہ پڑی کمفرٹیبل سیٹ پہ بیٹھایا اور اس کے نزدیک بیٹھا تھا اور اس کے پاؤں کا معائنہ کیا جو سویل تو ہوئے ہوئے تھے مگر ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤں میں سے خو”ن آنے والا ہو۔۔۔! اس نے جھک کر پاؤں اپنی ٹانگ پہ رکھے اور رومال اٹھا کر صاف کرنے لگا تھا اس کے پاؤں پہ لگی گرد صاف کی تھی اور اپنی مرادنہ فینسی چپل اسے پہنائی تھے وہ اس شخص کو جھٹکنا چاہتی تھی مگر جھٹک نہ سکی تھی وہ ایک دم سے اس نرم شخص کی قربت میں سب کچھ بھولتی جا رہی تھی اس کا لمس اسے اپنے زخم کی دوا لگا تھا گویا فاصلوں سے تو کوئی فرق نہیں پڑا تھا یہ اس شخص کی اچھی یادوں کا ہی اثر تھا کہ اس کا دل اتنے مہنیوں کے بعد معمول سے ہٹ کر دھڑکا تھا حسنال نے اس کا سر ہاتھوں میں لے کر اپنے کندھے کے ساتھ ٹکا لیا تھا۔۔۔

منال اس شخص کو اپنی پروا کرتی دیکھ رہی تھی جس نے اسے زندہ درگو کر دیا تھا۔۔!

اب کمفرٹیبل رہیں گی آپ ۔۔۔۔! وہ اس کے اندر کے خالی پن سے انجان بولا تھا۔۔۔!

بختی اماں ۔۔۔۔۔وہ یہ کہتی اس کے پاس سے اٹھتی بختی اماں کو دیکھتی ان کے طرف گئی تھی۔۔۔!

اماں۔۔۔۔۔چھوڑیں الٹرا ساونڈ کو۔۔۔۔۔! ہ۔۔۔ہم گھر چلتے ہیں مانو انتظار کر تے ہیں اس نے گبھرا کر کہا تھا اور خود ہی لیے سیٹرھیوں سے اتری تھی ۔۔! وہ سانس بھرتا اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *