Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Sitamgiri by Abeeha Ali

وہ دو دن سے گھر نہیں گیا تھا کیونکہ بات ہی کچھ ہی
ایسی تھی اس کی محبت جو کہ چار سال اس کے نام رہی تھی آج پل میں اسکے چھوٹے بھائی حسنال بخت کے نام ہوگئی تھی وہ اپنی ذات میں سلجھا ہوا شخص بہت بکھرا ہوا تھا اس بکھرے پن کی وجہ اشنال بخت تھی روشنال بخت کو تو یقین نہیں آرہاتھا کہ اشنال بخت اس کے ساتھ ایسا کرے گی وہ جو اسے بارہ سال چھوٹی تھی اس کا منہ اسے بچہ بچہ کہتے کہتے نہیں تھکتا تھا وہ دو دن پہلے اس کی بیوی بنا گئی تھی اگر اشنال بخت اس کے سامنے ہوتی تو روشنال بخت اس کا حشر کر دیتا پچھلے دو گھنٹوں سے وہ مسلسل کمرے میں ٹہل رہا تھا اسے سب سے زیادہ دکھ تو اس بات کا تھا کہ اس کے والدین جو اس کی تعریفیں کرتے کرتے نہیں تھکتے تھے اشنال کی ایک بات کی وجہ وہ ساری عزت ریت کا محل ثابت ہوئی تھیں بابا کی ایک بات وہ سہہ نہیں پا رہا تھا کہ مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی بار بار بابا کی آواز اس کے کانوں میں گونج رہی تھی ۔ دو دن سے اس کو کوئی بلا نہیں رہا تھا غصہ جب حد سے سوا ہوا تھا تو گھر کی طرف قدم بڑھائے کیونکہ دو دن سے وہ گھر والوں کے طعنے ہی برداشت کر رہا تھا ۔۔۔ وہ کمرے میں آیا ڈور لاک لگایا پھر بیڈ کی طرف بڑھا لیکن یہ کیا وہ اس کے بیڈ پہ سوئی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اسکے غصے کا گراف اور بڑھا تھا اٹھو میری نیندیں برباد کر کہ مزے کر رہی ہو روشنال بخت نے غصے سے بلیکنٹ اتار کر نیچے پینھکا تھا جس سے اشنال کے کپڑے بے ترتیب هوئے تھے ۔۔۔اے اٹھو بے غیرت عورت وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا غصہ کنڑول نہیں کرپایا تھااس کو اپنے سامنے دیکھ کر جو آیا بول گیا تھا اشنال اس کو دیکھ کر اٹھ بیٹھی تھی بھا۔۔۔۔بھائی آپ یہاں وہ اٹھ کر ایک دم سے اٹھ کر اس کے گلے لگی تھی اشنال اس کی گالی نہیں سنی اس لیے اس کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔بھائی آپ تو مجھے جانتے ہیں نا میں ایسی نہیں ہوں ۔۔چٹاخ وہ اسے خود سے علحیدہ کرتا اس کے نازک لب پہ تھپڑ رسید کرگیا تھا خبردار بازاری عورت تمیں کس نے کہا ہے کہ میرے روم میں آؤ تمھاری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔وہ مجھے چھوٹی امی نے کہا تھا کہ آئندہ میں اس کمرے میں رہوں گی وہ سہم کر بولی تھی! تو اپنی جگہ پہ سو یہاں میں تمھیں برداشت نہیں کر سکتا وہ اسے نیچے زمین پر دھکا دیتے ہوئے بولا تھ یہ جگی ہے تمھاری۔ اشنال نے تو اس کے تیور دیکھ کر سہمی تھی ۔۔۔آپ بھی مجھے غلط سمجھ رہے ہیں مم ۔۔میری بات آپ نہیں سنے گے نا میں تو سمجھی تھی آپ دنیا کہ آخری انسان ہوں گے جو میری بات رد نہیں کریں گے ۔۔۔ایک اور لفظ نہیں آج میں بولوں گا اور تم سنو گی واقعی ایسی لڑکی نہیں ہو یہ بات کاش مجھے سمجھ آجاتی ۔۔۔۔یہ لفظ تو اٹھارہ سال کہ معصوم لڑکی پر تازیانہ بن کر لگا تھا۔ بھ۔۔بھائی آپ میری بات تو سنیں۔۔۔۔؟ بھائی ۔۔۔!بغیرت عورت جو تم نے کیا ہے آج تھمارا اور میرا نکاح ہوا ہے پھر معصومعیت کا ناٹک کر رہی ہو میں نے تو تمھیں بہن سمجھا تھا لیکن تم نے مجھے بھائی نہیں سمجھا بتاؤ کیوں کیا تم نے ۔۔۔۔؟اب زمین پر بیٹھا اس کے پاس اس کو جنجھوڑ رہا تھا میرے ماں باپ کا یقین اٹھ گیا مجھ سے ۔۔۔میری محبت مجھ سے جدا کر دی ہے تم نے ۔۔۔میرے بھائی کو میرے خلاف کر دیا ہے تم نے ایسی کونسی آگ تھی جو تم مجھ سے بجھانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ سب لوگوں نے مجھ پہ بہت مان کیا تھا ٹوٹ گیا پل میں جو کہ میں نہیں توڑا تم نے توڑا ہے ۔۔۔۔پلییز میں سب کو بتا دوں گی سچ کیا ہے کہ مجھے منال آپی نے اس رات آپ کے کمرے میں ۔۔۔۔۔! اپنی بکواس کرو یہ نہ ہو زندہ زمین میں گاڑ دو واہیات عورت ۔۔خبردار جو تم نے منال کے بارے میں کچھ کہا اپنے گناہ اس بچاری پہ نہ تھوپو ۔۔ تھو ہے تم پر ۔۔اپنی بہن کی خوشیاں چھین لی ہے تم نے میں تو پھر ۔۔۔۔ اشنال کی تو مانو کاٹو تو بدن میں لہو نہیں وہ والی حالت تھی ۔۔پلیز آپ میرے لیے یہ الفاظ استعمال نہیں کرسکتے ممم ۔۔۔میں تو آپکی لاڈلی تھی نا ۔۔۔ آپ میرے لیے میرے سامنے اتنی آبس ورڈنگ یوز کر رہے ہیں وہ اتنے معصوم لہجے میں بات کر رہی تھی کہ ایک پل تو روشنال بخت بھی ٹھٹکا تھا لیکن اس کے آگے اس کے الفاظ آئے تھے جس کی وجہ سے وہ جل کر رہ گیا تھا۔۔۔۔۔تمھارے چہرے پر معصومیت کا جو ماسک ہے نا کل تمھاری گھٹیا حرکتوں کی وجہ سے اتر گیا ہے مم۔۔میں آپ کے سامنے کل گھر والوں کو بولوں گی کہ آپ بے قصور ہیں مم۔۔میں سب ٹھیک کر دوں گی پھر ۔۔پھر تو آپ مجھے غلط نہیں کہیں گے نا اور گالیاں بھی نہیں دیں گے نا۔۔۔۔وہ بڑی آس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔ کیا ٹھیک کرو گی میرے ماں باپ کا بھروسہ تو تم نے توڑ دیا ہے ۔مم تم نے تمھاری وجہ سے منال مجھ سے دور ہوگئی ہے تمھیں تو پتہ تھا نا کہ میں اس سے کتنی محبت کرتا ہوں پھر کیوں یہ فریب ۔ ۔۔تمھارے ایسا کرنے سے کچھ نہیں ٹھیک ہوگا نہ میری کھوئی ہوئی عزت واپس آئے گی اور نہ مجھے منال مل پائے گی تمھاری وجہ سے صرف اور صرف تمھاری وجہ سے میں نے اسے کھودیا ہے میں دو سے اس سے نظریں نہیں ملا پا رہا لیکن یہ مت سوچنا کہ میں تمھیں چھوڑ دوں گا میں تمھاری زندگی میں ایسا زہر گھولوں گا تم جی سکوگی اور نہ تم مر سکو گی موت مانگو گی تو موت نہیں ملیں گی اور زندہ تو میں تمھیں رہنے نہیں دوں گا یہ کہتے ہوئے وہ اس کے قریب ہوگیا تھا اس کا دوپٹہ اس کے وجود سے علحیدہ کر گیا تھا ۔۔۔وہ ٹھنڈی زمین پہ بیٹھی پیچھے کو سرکنے لگی اتنی بچی نہیں تھی کہ اس کی نگاہوں کو سمجھ نہیں پاتی عورت اپنے اوپر پڑی ہر نگاہ سمجھ لیتی ہے لیکن آج اس کی نگاہوں سے اپنے عزت نظر نہیں آرہی تھی۔مم میں نے کچھ نہیں کیا ہے ۔۔۔آج تمھاری وجہ سے سب کی نظروں میں میرا مذاق بن رہا ہے صرف اور صرف تمھاری وجہ سے اور تم کہہ رہی ہو میں نے کچھ نہیں کیا۔۔بہت شوق تھا تمھیں مجھے سے شادی کا تم نے کاٹھ کا الو سمجھ لیا تھا سب نے مجھے تمھارا شوہر بنایا ہے تو میں کیوں اس رشتے سے دور رہوں آج تمھیں تمھارا شوہر بن کر دکھاؤں گا ۔ اس کی بات سن کر اس کا معصوم سا دل بند ہونے لگا پلیز نہیں ۔نن۔۔نہیں ۔ جب میں نے سب کی جلی بھنی سنی ہیں تو تمھیں کیوں نہ اس درد سے گزاروں ۔۔نہ۔۔نہ آپ تو میرے سپر مین ہے نہ آ ۔۔آپ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے وہ ناقابل یقین حالت اپنی آواز کی کپکاہٹ پا کر بولی ۔ میں تمھیں ایسا کرکے دکھاؤں گا ۔۔۔آج اشنال کا یقن ٹوٹنے کی دہلیز پر تھا وہ اپنے اور اس کے درمیان ذرا سا فاصلہ بھی مٹا گیا تھا۔۔۔ جبکہ اشنال بخت کا آج مان ٹوٹنے پہ آیا ہوا تھا وہ جس شخص کی آنکھوں میں عزت ،مان اور عقیدت ہوتی تھی آج نفرت غصہ اور ضد تھی .... آج وہ اس کی سانسیں چھننے پہ آیا ہوا تھا رات کا ایک بج رہا تھا سب سکون سے بستروں پہ سو رہے تھے لیکن وہ اپنا مان ٹوٹٹے ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔پلیز نہیں نہیں مم۔۔میں تو آپکی ایشو ہوں نہ ۔۔۔ سب کیا سوچیں گے پلیز چل۔۔چلیں جائیں یہاں سے ۔۔۔۔۔! مم..میں مر جاؤں گی ۔۔۔ایشو نہیں تم میری نام نہاد بیوی ہو جو کہ کل بڑے مزے سے محبت کا اظہار کر رہی تھی تم نہ ملے تو میں مر جاؤں گی یہ تم ہی تھی گھٹیا عورت جو کل اسی کمرے میں مجھ سے اظہارِ محبت کر رہی تھی وہ اس کے الفاظ دھرا رہا تھا جنازہ نکال کہ رکھ دیا ہے تم نے میری عزت کا ۔۔۔۔ وہ پھر سے ذرا فاصلے پر ہو کر اٹھنے لگی جب پھر وہ اس سے اپنی طرف گھیسٹنے لگا ۔۔خبر دار یہاں سے تو جانا بھی نہیں جن لوگوں کے سامنے میرا تماشہ بنا ان سب کے سامنے تمھارا تماشہ بنے گا ۔۔۔ نہ۔۔۔نہیں پلیز نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *