Teri Sitamgiri by Abeeha Ali NovelR50625 Teri Sitamgiri (Episode 34)Part 4,5
No Download Link
Rate this Novel
Teri Sitamgiri (Episode 34)Part 4,5
Teri Sitamgiri by Abeeha Ali
وہ چلی گئی تھی جب کہ گم صم سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا جو یہاں سے نکل گئی تھیں وہ ننگے پاؤں سیڑھیوں سے ہوسپٹل کی سیٹرھیوں سے اترا اور تیزی سے نیچے آیا تھا جو گیلری سے ہوتی باہر نکل گئی تھی حسنال آج خودغرض بن کر ہی سہی مگر اسے روکنا چاہتا تھا ۔۔۔!
منال ۔۔۔۔اس نے دو تین دفعہ پکارا بختی اماں بھی اسے روکنے کے چکروں میں تھیں لیکن وہ بے حس بنتی جا رہی تھی۔۔
منال میرے ساتھ گھر چلو۔۔۔۔وہ لمبے لمبے ڈاگ بھرتا اس تک پہنچا اور اسے پکڑ کر اپنی طرف کھنیچا تھا ۔۔۔
کیا ہے اب تمھاری زندگی سے نکل تو گئی ہوں اب تو بخش دو ۔۔۔۔اس نے نرمی سے ستے سے لہجے میں اس کی گرفت سے اپنی کلائی چھڑانے کی کوشش کی تھی ۔
میں نے کہا تھا نکلنے کو۔۔۔۔؟ حسنال نے ضبط سے کہا اس کے بازؤں پہ گرفت اور زیادہ مضبوط ہوئی تھی۔۔
نہیں تم نے کہا لیکن میں تم لوگوں کے درمیان بہت مس فٹ تھی اس لیے چلی آئی۔۔۔۔!
بس اب بہت ہوگیا۔۔۔۔میرے ساتھ گھر چلو۔۔۔۔۔! اپنے بچے کےلہے تمھاری ساری خطائیں معاف کر دوں گا تمھارا ماضی کیسا تھا سب فراموش کر دوں گا ۔۔۔۔اس نے نرمی سے کہا تھا۔۔۔!
نہیں جانا چاہتی میں تمھارے ساتھ بخت ولا میں۔۔۔۔! میں تمھیں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں حسنال بخت اب میری زندگی میں تمھاری کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔! اس کا اپنے بچے کےلیے فکر سن کر وہ تو جیسے مر ہی تو گئی یعنی مطلب صاف تھا منال حاکم بخت اس کی زندگی میں اب بھی کوئی جگہ نہیں تھی وہ اپنے بچے کےلیے اسے لے کر جا رہا تھا اس لیے اسے بات کرتے وقت لہجے میں تلخی جا بہت زیادہ عنصر تھا۔
میں بھی تمھارے لیے مرا بھی نہیں جا رہا بہت خوش تھا تمھارے بغیر۔۔۔۔۔! جو کام تم کرکے آئی ہو نا تمھاری بھی زندگی میں صفر بھر بھی اہمیت نہیں ہے شکر کرو اس بچے کی خاطر منہ لگا رہا ہوں تمھیں۔۔۔۔! دونوں نے اپنی طرف سے انا کہ پرچم بلند کرلیے تھے حالانکہ اسی وجہ سے نقصان بھی برابر کا سہہ چکے تھے۔۔۔! بختی اماں خاموش سی ان کی بحث سنتی رہیں پھر چلتی ہوئی مجید چاچا کی طرف چلیں گئیں ۔۔۔۔!
یہ تمھارا بچہ نہیں ہے یہ صرف اور صرف میرا بچہ ہے م۔۔۔مم۔۔۔۔میں اسے تمھیں کبھی نہیں دوں گی ۔۔۔۔! ممم۔۔۔میں اسے خود پال لوں گی ۔۔۔۔۔! اس کی آنکھوں سے پانی رواں ہوگیا تھا اس شخص کے الفاظ سے آج آخری سہارا بھی ختم ہوگیا تھا آج تو جیسے وہ زندہ درگور ہوگئی تھی۔۔!
ایک کام کرو ۔۔۔۔! اس بچے تک میرے ساتھ کانکٹریکٹ کرلو۔۔۔۔جتنے پیسے چاہے لے لینا۔۔۔۔۔! بس مجھے میرا بچہ دے دینا میں کوئی گورنس ہائیر کر لوں گا۔۔۔۔۔! اس نے خنجر رکھ کہ سینے میں اتارا تھا۔۔۔۔!
ممم۔۔۔میں نہیں دوں گی ۔۔۔وہ شدت سے چلائی اور پھر سے اسے ہاتھ چھڑا کہ مڑی تھی ۔۔۔۔!
چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔! وہ اسے پکڑتا ہوا ننگے پاؤں اپنے ساتھ لے کہ جانے لگا تھا سارے لوگ ان کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔
بختی اماں ۔۔۔۔بختی اماں ۔۔۔۔منال کو سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی اس نے بمشکل پکارا تھا۔
بختی اماں سے بات کرتے مجید چاچا غصہ میں آتے آگے بڑھے کہ وہ لڑکا منال کو کیوں کھنچ کہ کیوں لے کہ جا رہا ہے ۔۔۔! جب بختی اماں نے انھیں یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ وہ کسی کی امانت تھی اور جن کی وہ تھی ان اپنوں کے پاس چلی گئی۔۔۔۔بختی اماں اسے تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی آخر وہ پلک چھبکتے ہی ان سے دور ہوئی اس کے جانے کے بعد ان کی روح میں اُداسی سرائیت کر گئی تھی۔۔
*****
مم۔۔۔مجھے جانے دو یہ ڈور کھولو ۔۔۔میں نے بختی اماں کے پاس جانا ہے وہ چلتی ہوئی گاڑی کے شیشوں کو پیٹتی ہزیانی انداز میں چیخی تھی وہ اس کی حرکتوں سے تنگ آیا اور گاڑی کو بریک لگائی تھی ۔
چپ کرکے بیٹھی رہو شکر کرو کہ تم میرے عتاب سے بچ گئی ہو یہ تمھاری کنڈیشن کا ہی لحاظ کر رہا ہوں ورنہ اب تک تمھارے ہوش ٹھکانے لگا دیتا بی بی ۔۔۔۔وہ اب کی بار اس کی طرف جھک کر سرد لہجے میں بولا اور ایک ہاتھ سے اس کا بیلٹ باندھنے لگا منال نے اسکا ہاتھ جھٹک دیا تھا ۔۔۔!
چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔! حسنال نے پھر بیلٹ باندھنا چاہا مگر اس نے پھر جھٹک دیا تھا۔۔
اور اب کی بار اس کی حرکتوں سے غصہ آیا اللہ اللہ کرکے تو وہ ملی تھی وہ اپنے رب کا بہت شکر گزار تھا مگر اس کی حرکتوں سے نالاں نظر آنے لگا تھا۔
سٹاپ اٹ منال۔۔وب تمھاری چوں کی آواز بھی نہ آئے۔۔وہ ڈھاڑا اور اس کا بیلٹ باندھ کر پیچھے ہوا اور گاڑی سٹارٹ کی تھی۔
منال اس کی سرد آواز اپنے کان کے قریب سن کر ڈر گئی تھی پھر کچھ نہیں بولی تھی ہاں البتہ کھڑکی کی طرف منہ کرکے ڈیش بورڈ پہ سر رکھے اپنی ناقدری کےلیے آنسو بہانے لگی تھی چادر سر پہ ایسے ہی لپٹی ہوئی تھی ۔۔۔
حسنال بھی سنجیدگی سے لب بھینچے گاڑی چلانے لگا تھا
وہ فلحال کےلیے کھٹور بن گیا تھا مگر یہ وہ نہیں جانتا تھا اس کا یہ کھٹور لہجہ اس کےلیے کتنا غلط ثابت ہوگا۔۔۔؟
ارحم کی بار بار کال آرہی تھیں اس کی کال اٹھائی اور ایک گھنٹہ ویٹ کا بول کہ کال کاٹ دی تھی ۔
تقربیا آدھے بعد گھر میں گاڑی روکی پہلے خود اترا تھا
منال اترو۔۔۔۔۔! دوسری سائیڈ پہ آکے اس سے پکارا تھا مگر کوئی رسپونس نہیں ہوا اس کو دیکھا جس نے سر پہ فائل رکھی ہوئی تھی فائل اٹھا کہ دیکھا تو اس کی آنکھیں بند تھی حسنال کو تشویش ہوئی وہ اس کے چہرے کو تھپتھانے لگا مگر پھر رکا کیونکہ اس کی سانسوں کی آواز نارمل تھی اس کا مطلب تھا وہ سو گئی ہے حسنال نے جھک کہ آہستگی سے اسے بازؤں میں اٹھایا آہستگی سے اندر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
*****
امی۔۔۔۔۔امی ۔۔۔اشنال اشنال۔۔۔۔۔!
اشنال جودوپہر کا کھانا بنا رہی تھی حسنال کی اونچی آواز سن کر کچن سے باہر نکلی تھی ۔۔
ج۔۔۔جی حسنال بھائی اس کی نظر جیسے ہی حسنال پہ پڑی تو وہ ٹھٹک کے رہ گئی تھی۔۔
آپی۔۔۔۔آپی اس کے تاثرات پہلے حیرانی کے ، پھر بے یقینی اور آخر میں خوشی میں بدلے تھے ….!
کمفرٹ لا دوں اوپر سے ۔۔۔۔۔! حسنال نے اسے نیچے پورشن میں لاونج کے صوفے پہ لٹاکہ اس کے پاؤں سے اپنی چپل اتار کہ اشنال کو پکارا تھا جو کمفرٹ لینے چلی گئی تھی اس نے اس کی بے ترتیب شرٹ گھنٹوں سے نیچے کی تھی اشنال نے کمفرٹ اسے تمھایا اور خود منال کو دیکھنے لگی تھی وہ کمفرٹ اس کے اوپر کراتا اسے گیا تھا۔۔۔
حسنال۔۔۔۔بب۔۔بھائی آپی کہاں سے ملی۔۔۔۔اشنال نے اشتیاق سے پوچھا تھا۔۔
واپس آکے سب کچھ بتاؤں گا لٹل گرل ۔۔۔۔فلحال کےلیے ایک بہت ضروری کام کےلیے جارہا ہوں پلیز امی اور تم میری بھورے بالوں والی بلی کا بہت زیادہ خیال رکھنا ۔۔۔۔یہ جب اٹھے تو اسے فروٹ یا جوس وغیرہ دینا ۔۔۔۔اس کو اوپر خود چھوڑ کہ آنا۔۔۔۔میں خود اس کا دھیان رکھتا لیکن فلحال کےلیے جا رہا ہوں ۔۔۔۔! وہ یہ کہتا ایک نظر منال پہ ڈالے سیٹرھیوں کی طرف گیا خود دوسری چپل پہنتا تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔۔
****
آغا جان، تہمینہ بیگم ، صیغیر صاحب منال کو دیکھ کر بہت خوش تھے تہمینہ بیگم تو اس پہ صدقے واری جا رہی تھی منال بظاہر تو ان سے مل کر خوش تھی مگر وہبگم صم سی ان کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی آغا جان تو اپنی لاڈلی پوتی کو دیکھ کر کھل اٹھے تھے۔۔
کیا ہوا ہے میری بچی کیا آکر خوش نہیں ہوئی ہم سب سے مل کر ۔۔۔۔۔۔؟ آغا جان نے اسے گم صم بیٹھا دیکھ کر پوچھا تھا اس کا اداس چہرہ اس کی خاموشی دیکھی تھی۔
نن۔۔۔۔نہیں ایسی بات نہیں میں بہت خوش ہوں ۔۔! وہ یہ کہتی ہلکی سے مسکرائی تھی۔
پھر کیا بات ہے انھوں نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تھا ۔۔۔!
آغا جان ۔۔۔۔میری امی کو معاف کر دیجیے گا وہ آخری وقت میں بہت تکلیف میں تھیں ثمینہ بیگم جو کھانا کھا رہی تھی دہل کر اس کی طرف دیکھا چائے کا کپ ان کے ہاتھوں سے گرگیا تھا۔
کک۔۔۔۔کیا کہہ رہی ہو۔۔۔۔ ؟ تہمنیہ بیگم اٹھتی اس کے پاس آئیں تھیں جیسی بھی تھی تھیں تو ان کی ماں جائی تھیں۔۔۔۔؟
خالہ امی مجھے چھوڑ کہ چلیں گئی بہت دور ۔۔۔۔۔۔! اس کے یہ کہنے کی دیر تھی تہمینہ بیگم نے اسے ساتھ لگایا تھا آغا جان اور صیغیر صاحب بھی اس کو دیکھ رہے تھے۔۔
کب۔۔۔۔کب ہوا یہ سب ۔۔۔آغا جان نے بے یقینی سے استفسار کیا تھا۔۔
دو مہینے پہلے اس نے ضبط کی انتہاؤں کو چھوتے جواب دیا تھا۔۔
تم پہ اتنی بڑی قیامت ٹوٹ گئی تم ہمیں اب بتا رہی ہو۔۔۔!
صیغیر صاحب نے شدت غم سے کہا تھا اشنال بھی بےیقنیوں کی ذد میں کھڑی تھی جب روشنال اندر آتا ٹھٹکا اور سننے لگا تھا ۔۔۔
پتہ ہے جب میں چھوٹی تھی نا۔۔۔۔؟ تو پوائم یاد نہ ہونے پہ یا ہوم ورک نہ کرنے پہ ٹیچر مجھے باہر کھڑا کردیتی تھیں اور مارتی علحیدہ سے تھیں ان کی پنشمنٹ سخت تھی ۔۔اسی طرح میری امی کے گناہ کی فہرست بہت بڑی تھی میں انھیں مٹانے گئی تھی اس کےلیے اللہ مجھے ساری زندگی بھی پشمنٹ دیتے تو کم تھا لیکن میں ان کی غلطیاں مٹانے گئی تھی لیکن انھیں مٹا کہ آگئی ہوں ۔۔۔۔یہ دیکھیں میرے خالی ہاتھوں کو۔۔۔۔۔! وہ ہاتھوں کو پھیلاتے بچوں کی طرح کہنے لگیں تھیں ۔۔
سارے اپنی جگہ شرمندہ ہوئے تھے وہ یہ بھیگی آنکھوں سے کہتی چھوٹی معصوم بچی لگی تھی روشنال آگے بڑھا اور اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا اسے اس پہ بے تحاشہ رحم آیا تھا وہ کانپ رہی تھی وہ چھوٹی لڑکی قصور وار تھی مگر اتنی بڑی آزمائش کی مستحق نہیں تھی خود کو مکمل ڈھانپے یہ منال اس منال سے بہت الگ لگی تھی جو ضدی اور مغرور تھی اس نے اشارے سے اشنال کو اشارہ کیا کہ وہ اسے دلاسہ دیتے ۔۔۔۔۔اسکا اشارہ سمجھتی اشنال آگے بڑھی اوراسے اٹھا کر اوپر لے آئی تھی۔۔۔
پچھے بیٹھے بخت ولا کہ چار فرد یہ سوچ رہے تھے کہ اس کہانی میں بے قصور کوئی بھی نہیں تھا کسی نے کسی کا کوئی نہ کوئی قصور ضرور تھا۔۔۔! کسی کو غلط بنانے میں ، کسی کو غلط سمجھنے میں سب کا برابر کا ہاتھ تھا۔۔مگر کبھی کبھی سوچیں کے یہ دوارہیں نئی راہیں کھول دیتے ہیں جیسے ان پہ کھلتے جارہے تھے۔
******
بختی اماں ۔۔۔۔بختی اماں ۔۔۔بختی اماں ۔۔۔مانو ان کے ڈوپٹہ کا کونے پکڑے ان کے پاس طویلے تک آگئی تھی۔۔۔۔!
کیا ہے۔۔۔۔۔؟ نہ خود آرام کر رہی ہو نہ مجھے کرنے دے رہی ہو ۔۔۔۔؟ جاؤ مسجد میں سیپارہ پڑھنے کا وقت ہوگیا ہے۔۔۔
مجھے بتائیں نا ۔۔۔۔؟ انا کہاں ہیں ۔۔۔۔؟ وہ ان سے کوئی نویں دسوایں بار یہ ہی سوال کر چکیں تھیں ۔۔
تمھاری انا اپنے گھر چلی گئی ہے ۔۔۔۔ان نے پلٹ کر سختی سے جواب دیا جو آس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی انھیں اس پہ ترس آیا تھا وہ اسے کیا کہتی وہ خود اُداس تھی وہ خود اتنی رحم دل تھیں کہ کوئی اپنی گائے بکری یا پالتو چیز کو بیچتی تو اسے دن کھانا نہیں کھاتی تھیں ان کو گھر میں رکھے مال مویشی سے اتنی انسیت تھی وہ تو پھر جیتی جاگتی اچھی سی لڑکی تھی ۔
بختی اماں ان کا گھر کہاں ہیں ہم چلتے ہیں نہ۔۔۔۔! اس نے امید سے کہا تھا۔۔۔
تمھارے لیے اتنی زیادہ چیزیں لائی ہوں وہ جا کہ کھاؤ ۔۔۔میرے صندوق میں پڑی ہوئیں ہیں جاؤ جا کہ لے لو۔۔۔۔وہ جو اسے چھپا کہ رکھتی تھیں وہ تو دکان کی چیزوں کی دشمن تھی اس لیے وہ اسے دور رکھتی تھیں کہ اسے تھوڑی تھوڑی مقدار میں دیں گی تاکہ وہ باربار تنگ نہ کریں۔۔۔۔اسے اداسی کی حدوں کو چھوتے نرمی سے بتایا تھا۔۔
نہیں مجھے چیزیں نہیں انا کا بتائیں وہ کہاں ہیں ۔۔۔۔وہ تقربیاً یہ کہتی رونے والی ہوگئی تھی مجھے چیزیں نہیں چاہیے مجھے انا چاہیے۔۔۔۔۔! موٹے موٹے آنسوں پلکوں پہ بہنے لگے تھے۔۔۔!
تھماری انا شہر رہ گئی ہے وہ اتوار تک آجائے گی وہ بیمار تھی اس نے دوائی لینی ہے کہہ رہی تھی آجاؤں گی۔۔۔
سچی نا۔۔۔۔۔وہ یہ سنتے ہی خوش ہوگئی تھی۔۔۔۔!
ہاں سچی وہ کہہ رہی تھی مانو مسجد جائے گی تو میں اتوار سے پہلے آؤں گی انھیں اس پہ حیرت بھی ہوئی اور دکھ بھی جو چیزیں کئی سے بھی نکال لیتی تھی آج ان کے بتانے پہ بھی نہیں گئی تھی۔۔۔انھوں نے اسے بہلایا حالانکہ دل نے کہا تھاکہ جانے والا بھی کبھی لوٹ کے آیا ہے۔۔؟
ٹھیک ہے میں جا رہی ہوں مسجد ۔۔۔۔! ان کے دیکھتے ہی وہ پانچ منٹ میں منہ دھوتی سکارف کرکے سیپارہ اٹھاتی چلی گئی تھی ۔
وہ چلی گئی تو وہ سانس لیتی مڑی تو برآمدے سے باہر پڑے پلنگ پہ نظر پڑی جو آج خلافِ معمول خالی تھا سات مہینوں بعد یہ ویرانگی ان کی روح میں شگاف ڈال گئی تھی وہ بیشک کھلکھلاتی نہیں تھی لیکن کسی کا کسی کام کے ساتھ خود کو جوڑ کہ رکھتی تھی آج صحن خالی تھی بختی اماں کام ساتھ کرتیں رہتیں لیکن گاہے بگاہے نظر اس پہ ڈالی رکھتی تھی جو چوزں اور مرغی کو روٹی کے نوالے چھوٹے چھوٹے کرکے ڈالتی رہتی تھی
آج بھی چوزے اور مرغی وہیں بیٹھے ہوئے خالی پلنگ کو اداس نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے وہ کئی سے آجائے گی
وہ ان چوزوں کو دیکھ کر سوچنے لگی کہ وہ جب نئی نئی آئی تو چوزوں کو بڑا کیا اب پھر مرغی نے دوسری دفعہ چوزے نکالے جن کو دانا پانی بھی ڈالتی شام کو روازنہ وہ اس پلنگ سے کچھ فاصلےپہ بیٹھ کہ مانو کی انا کو دیکھ رہے ہوتے کہ وہ کوئی نہ کوئی چیز انھیں ڈالیں گی وہ کچن میں جاتی تو وہ اس کے پیچھے پیچے کچن کی دہلیز تک پہنچ تھے آج بھی وہ اداس سے ماں کی دونوں اطراف میں بیٹھے پلنگ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ کئی کسی کمرے سے وہ باہر آئے گی۔۔۔!
بختی اماں نے دیکھا کہ وہ کس کے انتظار میں بیٹھے ہیں انھوں نے مخصوص آواز نکال کہ انھیں بلایا کہ وہ ان کی آواز سن کر بھاگتے ہوئے آئیں گے لیکن وہ نہیں آئے انھوں نے پھر آواز نکالی چوزوں نے دیکھا تو پھر منہ پھلا کہ بیٹھ گئے تھے انھیں بھی مانو کی طرح دانے نہیں دانے کھلانے والی چاہیے تھی۔۔
بختی اماں نفی میں سر ہلاتی ڈوپٹہ ٹھیک کرتیں جانوروں کو چارہ ڈالنے لگیں تھیں ڈھلتی ہوئی شام رات کا استقبال کرنے کےلیے تیار کھڑی تھی۔
****
میں نے سوچا تھا تم سے معافی نہیں مانگوں گی اشو ۔۔۔۔کیونکہ میں اس کے قابل نہیں ہوں میں نے جو تمھارے ساتھ کیا اس کا خمیازہ میں شاید مرتے دم تک بگھتوں گی۔۔۔۔وہ اپنے سامنے بیٹھی بہن کو دیکھ کر ایسے کہہ رہی تھی
کیونکہ میں شاید پہلے بھی تم سے معافی مانگ کر گھٹیا حرکت کرچکی ہوں میں اب تم سے معافی مانگ بھی لوں نہ تو تم تو اتنی رحم دل ہو کہ مجھے دوسری دفعہ بھی معاف کر دو گی لیکن اب تم مجھ پہ بھروسہ نہیں کر پاؤں گی یہ میں جانتی ہوں تمھارے دل میں انسکیورٹی رہے گی کہ کئی نہ کئی میں تمھارے ساتھ غلط کر سکتی ہوں ویسے بھی یہ سچ ہی یہ ہے جس انسان کا بھروسہ ٹوٹا ہوا ہو وہ پھر بھروسہ نہیں کرسکتا لیکن بھروسہ نہیں مجھے معافی ہی دے دو شاید تمھارے سامنے کیا گیا ازالہ مجھے مرنے کے بعد سکون دے دے۔۔۔! وہ اشنال کو صاف لفظوں میں کہہ رہی تھی ۔۔۔۔!
آپی پلیز ایسے نہیں کی۔۔۔اللہ آپ کو زندگی دے مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے میں نے آپ کو اللہ کی رضا کےلیے معاف کیا۔اشنال نے اسکو ٹوٹا ہوا دیکھا تو وہ جلدی سے بولی تھی۔۔
لیکن پھر بھی میں امی کےلیے معافی مانگنا چاہتی ہوں وہ آخری وقت میں بہت بے بس تھی بہت ہریشان تھیں میں آخری وقت میں ان کی آنکھوں میں تم لوگوں کےلیے معافی کی طلب دیکھی تھی میں بھی بےبس تھا میں چاہتی تھی کہ میرے پاس ایسی چھڑی ہو جو گمھاؤں تو تم لوگوں کو امی کے پاس لے جاؤں کہ وہ تم سے آخری وقت میں معافی مانگ کر پرسکون ہوجائیں لیکن یہ ازالہ رب نے ان کی قسمت میں لکھا ہی نہیں تھا۔۔۔میں اپنے لیے بھے تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں کہ رب آخری وقت میں میرے حصے میں پچھتاوے نہ لکھ دے میں بے بسی کی موت سے بچنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔! میں نہیں چاہتی کہ جب فرشتہ مجھے میرا نامہ اعمال دکھائیں تو میں بے بس ہو جاؤں۔۔۔میرا اللہ تو مجھے معاف کر دے گا لیکن میں اس دنیا سے مطمن ہوکر جانا چاہتی ہوں ۔۔۔۔! وہ ٹوٹا پھوٹی سے معافی مانگ رہی تھی ۔۔۔!
آپی میں نے چھوٹی امی کو معاف کیا قسم سے مجھے چھوٹی امی کی موت کا بہت دکھ ہے بے شک انھوں نے مجھے جنم نہیں دیا تھا لیکن انھوں نے پالا ضرور تھا مجھے ان سے کوئی گلہ نہیں اللہ انھیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ۔۔ اللہ آپ کو زندگی دے آپ خوش رہیں ۔۔۔!
پلیز پریشان نہ ہوں۔۔۔! دیکھیے آپ کتنی کمزور ہوگئی ہیں وہ اس کے قریب آئی اور اس کے آنسو صاف کرکے اس کے چہرے پہ پیار دیا تھا۔
آپ آرام کریں میں صبح آپ سے ملنے آؤں گی ۔۔۔۔آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔۔۔۔! وہ یہ کہتی اس کے پاس اٹھی تھی ۔۔۔
اشو بات سنو۔۔۔۔! تمھارے پاس کوئی ڈھیلا سا سوٹ نہیں ہے میرے سارے کپڑے تنگ ہیں مجھے الجھن ہو رہی ہے۔۔۔! وہ اس کے ہاتھ کو تھامتی ہوئی بولی جو جانے لگی تھی۔۔!
میرے پاس آپ کے سائز کا سوٹ نہیں آپی پہلے کی بات اور تھی اب آپ موٹی ہوگئی ہیں وہ شرارتی ہوئی تھی۔۔۔لیکن آپ کو ٹنشن لینے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے صبر کریں میں آپ کا مسئلہ حل کر دیتی ہوں آپ تو ایسے پریشان ہیں جیسے یہ مسئلہ کشمیر ہی ہوگیا ہو۔۔۔۔وہ الماری کی طرف آئی تنقیدی جائزہ دیکھ کر حسنال کا ایک بلیک کلر کا سوٹ نکالا تھا۔۔۔
یہ پہن لیں۔۔۔۔۔آپ ایزی بھی ہوجائیں گی اور آسانی سے سوجائیں گی اور یہ شال اتار دیں آپ کو گبھراہٹ نہیں ہو رہی ادھر کوئی مرد تو نہیں ہےنا آپ جب سے آئی یہ لپیٹ کہ رکھی ہوئی ہے ۔۔۔۔وہ اس کے پاس کرتا رکھتی ہوئی بولی اور اس کی شال ہٹانے لگی تھی۔۔۔
شکریہ اشو میں کرلوں گی ۔۔۔۔وہ غیر ارادی طور پیچھے ہوگئی تھی کہ وہ اس کے بال نہ دیکھ لے اس کے زخم تو ٹھیک ہوگئے لیکن بیچ میں بال نہیں بڑھےتھے وہ نہیں چاہتی کہ وہ اب اپنی ٹوٹی پھوٹی ذات کسی کو دکھائے ۔۔۔!
اچھا آپ کرلیں ۔۔۔۔لیکن میرے بھانجے یا بھانجی کا بہت خیال رکھئیں گا آخری بار اس اس کے گلے لگتی اسے پیار کرتی نصحتیں کرتی نکل گئی تھی آخر کار دونوں بہنوں کے دل سے رنجشیں ختم ہوگئیں تھی۔
اس کے جانے کے بعد اس نے وہ اوپر اس کا کرتا پہنا اور پھر مشکل سے اٹھ کر ضو کرتی نماز پڑھی تھی کروٹیں بدل بدل کہ نیند نہیں آئی وہ پھر سے اٹھی اس کی چپل پہنتی کھڑکی کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی ٹھنڈی ہوا کے ہلکے سے جھونکے نے اس کی روح تک شادابی بکھیر دی تھی وہ سر ٹکائے وہیں کھڑی ہوگئی تھی سر دیوار کے ساتھ لگاتی یہ سوچنے لگی کہ کیا سچ میں حسنال اسے چھوڑ دے گا ۔۔؟
*****
کہاں جا رہی ہو اب۔۔۔۔! روشنال جو ہاتھ باندھے باہر اسی ہی کے انتظار میں ٹہل ریا تھا اسے باہر نکلتا دیکھ کر فوراً مخاطب کیا تھا۔۔
وہ ممم۔۔۔میں آرہی ہوں۔ ۔۔اس کی گھمبیر آواز سنتی اسے کوئی بہانہ نہیں سوجھا تو بلا تکان بول اٹھی تھی۔
کمرے میں جلدی آؤ ۔۔۔۔میں تمھارا ویٹ کر رہا ہوں میں جب سے آیا ہوں تب سے میں دیکھ رہا ہوں تمھیں اپنی آپی کہ علاوہ کچھ یاد ہی نہیں ہے۔۔۔۔! روشنال مصنوعی خفگی سے اس کے طرف قدم بڑھاتا ہوا بولا تھا۔۔۔
ویسے جا کہا رہی ہو۔۔۔۔؟ وہ جو کھسکنے کے چکر میں تھی اسے اپنی طرف آتا دیکھا تھا۔۔
وہ آپی کےلیے دودھ بوائل کیا تھا وہ ہی بس دینے جا رہی ہوں ۔۔۔۔اس نے بہانہ گھڑا تھا حالانکہ وہ اسے کافی دیر پہلے پلا چکی تھی۔
اچھا ۔۔۔۔۔وہ جو پہلے گلاس میں وائٹ کلر کا دے کہ آئی تھی اسے پاکسانی زبان میں کیا کہتے ہیں ۔۔۔
وہ وہ۔۔۔میں میں ۔اس سے بولنے ہی نہیں ہوا وہ بری طرح خجل ہوئی تھی۔۔
روشنال نے اسے ہکلاتا دیکھ کر نرمی سے بازوؤں میں اٹھا لیا تھا اشنال مزید گھبرا گئی تھی۔۔
وہ اسے اٹھائے کمرے میں آیا اور بیڈ پہ بیٹھایا تھا ۔۔۔!
کب سے انتظار کر رہا تھا کہ اب آتی ہیں اب آتی ہیں محترمہ ۔۔۔۔مگر نہیں جب تک یہ ڈانٹ نہ سن لیں ان کو آرام نہیں آتا ۔۔۔۔وہ خود لیٹا اور اسے کھنیچ کہ بازوں کے گھیرے میں کر لیا تھا۔۔
سونے دو مجھے ۔۔۔۔! وہ اسے خود میں بھینچتا کہہ رہا تھا
اٹھیں اب ۔۔۔مجھے اٹھا کہ لے آئیں ہیں اب میرے ساتھ پرچیاں کھلیں وہ یہ کہتی اس کا دماغ جگہ سے ہلا چکی تھی ۔۔۔۔
دماغ جگہ پہ ہے تمھارا۔۔۔۔وہ آنکھیں کھولتا کڑے تیوروں سے دیکھ کر کہنے لگا تھا۔
مجھے نہیں پتہ میرے ساتھ پرچیاں کھیلیں ۔۔۔۔وہ اس کے بالوں کو مٹھی میں بھرتی اونچی ہوئی تھی۔۔۔!
اس سے تو اچھا ہے میں تمھیں فیڈرز لا دوں گا ۔۔۔وہ اس کے سر کے بالوں کو سہلاتا نرمی سے بولا تھا۔۔۔
میں بچی نہیں ہوں لہذا مجھے بہلائیں مت ۔۔۔۔۔اٹھیں کھیلیں میرے ساتھ۔۔۔۔! پھر سے اس کے بال کھنچیں گئے تھے ۔
ایک بات مانو گی میری۔۔۔۔۔!اس سال میرے ساتھ رومینس کی اور دو بچوں کی پریکٹس کرو۔۔۔ ۔ انشا اللہ اگلے دو تین سالوں میں اکھٹے پرچیاں کھلیں گے چار ہم بھی ہوجائیں گے اور پرچیاں بھی پوری ہوجائیں گی اسطرح ہمارے چھوٹے چھوٹے سپاہی اور چور بھی آجائیں گے ۔۔۔۔وہ اپنی طرف سے سمجھداری سے کہتا آنکھ ونک کرگیا تھا۔
کک۔۔۔کتنے بے شرم ہیں آپ سپرمین۔۔۔۔۔ وہ اسے مکہ مارتی اسے دور ہوئی تھی وہ جو سکون سے لیٹی ہوئی تھی بات سمج آنے پہ اس کی کانوں کی لوویں تک سرخ پڑ گئی تھی
اتنا۔۔۔۔۔۔روشنال نے لیمپ کی لائٹ آف کی اور اسے کے اوپر
ہیوی ہوتا اس کے گالوں پہ لب رکھتا گمبھیر لہجے میں بولا تھا۔۔
******
رات کے ساماں اور ٹھنڈی ہوا سے ماحول بہت پرسکون تھا مگر گہری خاموشی اور سکوت سا ماحول میں تاثر دے رہا تھق حسنال حسن آرا کو میڈیا کے ذرائع سے پولیس کے حوالے کرچکا تھا مگر ہسپتال سے وقار غائب تھا اس نے جوسز اور فروٹ گاڑی سے نکالے اور جلدی سے باہر نکلا تھا بھوری بالوں والی بلی کا تصور اس کے خیالوں میں آیا تو چہرے پہ بڑے دنوں بعد وہ مسکراہٹ آئی جو اس سے برسوں سے روٹھی تھی۔
صبح اس کی ضد پہ اسکا دل تو دُکھایا تھا لیکن اس کی بھورے بالوں والی بلی اس کے پاس تھی اب اسے کوئی پریشانی نہیں تھی ویسے تو وہ صبح سے پریشان تھا سارا دن کام کی تھکن سے ایک تو برا حال تھا۔۔۔
وہ سب سے پہلے کچن میں آیا تھا لیپ ٹاپ ٹیبل پہ رکھتا کہنیوں کو فولڈ کرتا شاپر سے فروٹ اور کریم نکالی تھی اور پھر سپون سیٹنڈ سے چھری اور ایک باول لے کر کرسی پہ بیٹھ کہ باول فروٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کے رکھے انار کے دانوں کو نکال کے باؤل میں ڈالا آخر میں کریم مکس کرکے ان سب کو اچھے سے مکس کیا ایک باؤل اور گلاس اٹھاتا لیپ ٹاپ بیگ اٹھا کہ پیچھے لٹکاتا لائٹ آف کرتا کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا اس کا ارادہ اسے سوتے ہوئے بھی اٹھا کر کھلانے کا تھا ۔۔۔
وہ کمرے میں آیا تو اسے کھڑکی کے ساتھ سر رکھے پایا خود کو مکمل ڈھانپے وہ باہر کی طرف متوجہ تھی دروازے کی آواز کے ساتھ بھی پیچھے نہیں مڑ کے نہیں دیکھا تھا حسنال لیپپ ٹاپ بیگ اتارتا باؤل سائیڈ ٹیبل پہ رکھتا آہستگی سے چلتا اس کے پیچھے جاکھڑا ہوا تھا۔۔
کیا دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔اس نے بہت ہی پیار سے پوچھا تھا حالانکہ دل کر رہا تھا کہ اسے اپنے سینے سے لگا کر اپنی ساری بے تابیوں کا حال اس کے سامنے کھول کر رکھ دے مگر وہ خود غرض نہیں بننا چاہتا تھا۔
وہ مڑی اور خالی خالی نظروں سے دیکھنے لگی تھی وہ نہ ہی کہنا چاہتی تھی نہ کچھ سننا چاہتی تھی نہ جینا چاہتی تھی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔! ادھر آئیں میرے ساتھ ۔۔۔۔وہ اسے بازؤں سے پکڑتا نرمی سے بیڈ پہ لے آیا تھا اور بیڈ پہ بیٹھا کہ باؤل اٹھایا تھا۔۔
کھائیں یہ ۔۔۔۔۔؟ اس نے چمچ بھر کہ اس کے منہ کے آگے کی تھی
مجھے بھوک نہیں ہے اور میں نے کھالیا تھا۔۔ وہ خفگی سے منہ پھیر گئی تھی ۔۔
اچھا زیادہ نہیں تو تھوڑا سا تو کھالیں ۔۔۔۔ ! اس نے پھر چمچ آگے کی تھی۔۔
میں کہہ رہی ہوں مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔وہ یہ کہتی اضطرابی کی کیفیت میں منہ موڑ چکی تھی۔۔
منال میں کیا بکواس کر رہا ہوں کھاؤ یہ ۔۔۔اتنی بے احتیتاطی تمھاری صحت کےلیے اچھا نہیں ہے۔۔۔۔یہ کہتے غصے سے پھر اس کے سامنے کیا تھا۔۔
میری صحت کےلیے یا تمھاری بچے کی صحت کےلیے ۔۔۔؟
ایک نظر اس پہ ڈالی جس نے چمچ اس کے آگے کی وہ چبھتی نظروں اسے دیکھتی یہ کہتی منہ پھیر چکی تھی
ہاں تو اپنے بچے کےلیے ہی کر رہا ہوں ۔۔۔۔زیادہ نخرے مت دکھاؤ مجھے۔۔۔۔۔! جب پتہ ہے تو پھر یہ سب کرنے کا فائدہ ۔۔۔؟
اب بولنا مت چپ کرکے کھاؤ۔۔۔۔؟ یہ کہتے چمچ اس کے سامنے کی تھی ۔
نہیں کھانا مجھے ۔۔۔۔ ؟ اس کی بات سن کر اسکا وجود پھر سے مردہ ہوا تھا وہ چمچ کو ہاتھ مار کہ گرا چکی تھی ۔۔۔!
کیا بکواس کر رہا ہوں سمجھ نہیں آتی ۔۔۔۔! ایک دفعہ کی بات کو میری ۔۔۔۔اپنے بچے کی وجہ سے تمھیں منہ لگا رہا ہوں تو اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے تم سر چڑ کہ بولنے لگ جاؤ ۔۔۔۔! تمھاری ماں نے جو ہمارے ساتھ کیا ہے وہ معافی کے قابل ہرگز نہیں تھا لیکن اس بچے کےلیے برداشت کر رہا ہوں ۔۔۔۔ اپنے بچے کی پیدائش کے اگلے دن ہی ڈائیورس پیر تیار کروا لوں گا میرے صبر کی حد بھی یہ ہی تک ہے۔۔۔! وہ ناانجانی کی کیفیت میں کہتا اس کی ذات پہ کوڑے برسا گیا تھا۔
ککک۔۔۔۔۔سچ میں ۔۔۔۔چچچ۔۔۔چھوڑ دوگے ۔۔۔ڈوبتے لہجے میں پوچھا گیا تھا چہرے کی حالت خطرناک حد تک پیلی پڑ گئی تھی وہ جس ڈر سے راتوں کو سو پاتی تھی آج وہ ڈر حقیقت بن کہ سامنے کھڑا ہوا تھا۔
منال ۔۔۔۔منال ۔۔۔۔اس کی طبعیت دیکھ کر وہ گبھرا گیا تھا تھوڑا سا آگے ہوتے اس کا چہرہ تھپتھایا تھا۔
تت۔۔تم ۔تم اتنے بے حس ہو جاؤ گے اپنے بچے کی پیدائش کے بعد مجھے چھوڑ دوں گے ۔۔۔۔کیا تمھیں مجھے پہ ترس بھی نہیں آئے گا تم یہ باتیں کرکے میری سانسیں چھین رہے ہو میرا دل چھلنی چھلنی کر رہے ہو۔۔۔۔! تم اتنے بے حس کیسے ہو سکتے ہو حسنال۔۔۔وہ اس کے کالر کو پکڑتی بچوں کے انداز میں کہتی ہچکیوں سے روتی اسے پتھر کا کر گئی تھی ۔۔
پتہ ہے ایک عورت جب ماں بنتی ہے تو وہ تخلیق کے مراحل سے گزرتی ہے وہ اپنے اندر ایک نئی جان کو پال رہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔! ایک انسان کے اندر دوسرے انسان کا جنم لینا بہت مشکل ہوتا ہے ۔۔۔!
میں ان آٹھ مہنیوں میں ایک بھی رات سکون سے سو نہیں پائی کیونکہ میرے اندر کے ڈر نے مجھے سونے نہیں نہیں دیا کہ تم مجھ سے میری اولاد چھین لوں گے تمھارا یہ بچہ میری رگ رگ سے خون چوس رہا ہے میں اندر سے ختم ہو رہی ہوں ۔۔۔۔میں سوچتی ہوں اس کو پیدا کرنے کے بعد تم اسے مجھ سے چھین لو گے تو میں سکون سے کیسے رہوں گی ۔۔۔۔؟ میں کیسے جیوں گی۔۔۔۔۔؟ میرا یہ ڈر مجھے سونے نہیں دیتا کہ میں اپنی اولاد کہ بغیر کیسے رہوں گی تم تو آسانی سے کہہ دیتے ہو ۔۔۔مجھے یہ بچہ دے دینا پھر جہاں مرضی رہ لینا ۔۔۔! مگر ایک ماں اپنے بچے کے بغیر کیسے رہ سکتی ہے اس کی ممتا کو سکون نہیں آتا کبھی سوچا ہے تم نے ۔۔۔ میں اپنے آپ سے اتنی خوفزدہ رہنے لگی ہوں کہ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے کچھ ہوجائے گا ۔۔۔۔
اس حالت میں تو شوہر بیوی کا خیال رکھتا ہے ۔۔۔۔بیوی کو شوہر کی توجہ اور نرمی کی ضرورت ہوتی ہے جن راتوں میں مجھے تمھاری ضرورت تھی ان راتوں میں وحشتوں میں رہی ہوں ۔۔۔آٹھ مہنیے سے یہ میری رگ رگ سے جڑا ہوا ہے تم ایک دم سے اسے چھین لو گے تو میں کیا جی پاؤں گی ۔۔۔۔!
ایک عورت جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اس نے سر پہ کفن باندھ رکھا ہوتا ہے فرض کرو حسنال بخت تمھارے بچے کو جنم دیتے میرے سرہانے کھڑی یہ بے رحم موت جیت جائے اور زندگی کی ہار ہو جائے۔۔۔! وہ یہ اتنی بے رحمی سے کہہ رہی تھی جیسے اسے زندگی جینے سے سروکار نہ ہو۔۔۔۔۔!
ا۔۔۔۔۔الل۔۔۔اللہ نہ کرے اس کی بات سن کر اسکا لہجہ ڈگمگا گیا تھا وہ جو اپنے لفظوں کے نوکیلے خنجر سے اسے زخمی کر رہا تھا اب وہ خنجر اس کے ہاتھ میں تھا اسے لگا کہ وہ خنجر منال نے بہت بے رحمی سے چلایا تھا
وہ باؤل سائیڈ پہ رکھتا کھنیچ کر اسے خود سے لگا چکا تھا وہ کچھ کہنے کے قابل ہی نہیں رہا تھا اسے لگا کہ وہ تو وہ خود اس سے علحیدگی کےلیے بدتمیزی کر رہی تھی اس لیے وہ اس سے ہرٹ کرگیا تھا۔
اس وقت آپ کو آرام کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔؟ اسے خود سے علحیدہ کرتا اس کے پاؤں سے جھک کر شوز اتارے تھے اس کے پاؤں کافی زیادہ سوج گئے تھے ۔۔۔!
حسنال نے اسے صیح سےبازوں میں بھر کہ بیڈ کراؤن کے ساتھ بیٹھایا کہ پیچھے سے باؤل اٹھا کہ پھر سے چمچ میں بھر کے اس کے سامنے کیا اور اب کی بار دوسرے ہاتھ سے اسکا منہ کھول کہ کھلایا تھا پھر وہ اسے کتنی دیر کھلاتا رہا تھا حسنال کو سمجھ لگ گئی تھی اس نے اپنے غبار نکال لیا تھا
بس ۔۔۔۔اس نے مزید کھانے سے انکار کیا تھا تو اس نے گلاس میں جوس نکال کہ اس کے منہ سے لگایا تھا جو وہ آہستگی سے پینے لگی تھی اس نے پی کر گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھنا چاہا تو حسنال نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر خود رکھا تھا۔۔
اب لیٹ جائیں ۔۔۔۔یہ نہ ہو پھر مجھے ہی سلانا پڑے اور میرا سلانا شاید آپ کو پسند نہ آئے وہ اس کے گالوں اپنے انگوٹھے کو سلاتا نرمی سے بولا تھا۔
منال یہ سنتی جلدی سے لیٹی تھی کہ کہیں وہ اسے
سلانے ہی نہ لگ پڑے۔۔۔۔! وہ جلدی سے لیٹی تھی حسنال نے اس کے اوپر کمفرٹ درست کرتا اپنے کپڑے نکال کہ اٹھاتا فریش ہونے چلا گیا تھا ۔۔۔۔
کچھ پل بعد وہ واپس آیا تو وہ سوئی ہوئی تھی وہ اس کے پاس بیٹھتا اسے دیکھنے لگا تھا وہ کتنی دیر اسے دیکھتا رہا پھر اس کی ٹھنڈی پیشانی پہ لمس رکھا اور کتنی دیر تک ایسے محسوس کرتا رہا تھا۔
میں بھی راتوں کو سو نہیں پایا کہ میرے بچے کی ماں مجھے چھوڑ کہ چلی گئی ہلکا سا منہ اٹھا کہ اپنی بے چیناں اسے سنائی اور پھر سے اسکی پیشانی پہ لب رکھے تھے وہ اس کے لفظوں کی وجہ سے دل میں بہت پریشان تھا مگر یہ الجھن اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی آنکھوں سے ٹوٹتا ہوا آنسو اس کے ماتھے پہ گرا تو منال نے اس کا گریبان پکڑ لیا حسنال نے حیرت سے دیکھا مگر وہ سوئی ہوئی تھی ایک اُداس سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیلی تھی وہ کمفرٹ اٹھاتا اس کے پاس لیٹا اور اس کی شال کی گرہ کھولی اور اتار کہ سائیڈ پہ رکھی مگر جیسے ہی نظر اس کے بالوں پہ پڑی تو وہ بے ییقنی کی کیفیت میں دیکھنے لگا تھا جن بھورے بالوں سے اسے عشق تھا کئی کئی جگہ سے کٹے ہوئے تھے آج وہ بھورے بال اسے رولا گئے تھے
وہ لڑکی کتنی صابر تھی اسے نہیں پتہ تھا اس کی یہ حالت کس نے کی تھی وہ تو سمجھتا تھا کہ وہ اپنے ماں کے ساتھ خوش تھی مگر اس نے تصویر کا ایک رخ دیکھا تھا دوسرا رخ ابھی نہیں دیکھا جو کہ بہت اذیت ناک تھا۔
اس کے بالوں پہ لب رکھتے خود کو صبر کی حدوں میں کھڑے پایا تھا مگر بھی ایک باغی آنسوؤں نکلتا اس کے بالوں میں جذب ہوا تھا۔۔۔۔!
منال کی آنکھ سر کے بھاری پن پہ کھلی تو اس کے سر کو اپنے سر کے ساتھ جڑے دیکھا تو آنکھوں کی پتلی پھیلی دیکھی تھی یعنی وہ اس کی ماں کا راز جان جائے گا ۔۔۔۔؟
کس نے کیا ہے سب۔۔۔۔۔مجھے سچ سچ بتانا منال ۔۔۔۔۔ ؟ اس کی آنکھ کھلی دیکھی تو اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے اس نے بہت اذیت سے پوچھا تھا۔۔۔
Part 5
کک۔۔۔۔کس نے کیا ہے حسنال اس کے سر کو سلاتا نرمی سے بولا تھا وہ اس کے سر پہ انگلیاں پھیرتا اس کے بھورے بالوں کو اپنے انگلی میں پھنسا رکھا تھا۔۔
حسنال۔۔۔۔۔امم۔۔۔امی ۔۔۔۔وہ ٹوٹے پھوٹے لہجے میں بولی تاکہ اسے بتاسکیں اس کی ماں اسے چھوڑ کر جا چکی ہے وہ اس کے ہاتھ اپنے بالوں سے ہٹاتی پیچھے ہوتی ہلکی سے اٹھی لیکن اس کے مضبوط حصار سے وہ مکمل اٹھ کر نہیں بیٹھ سکی ۔۔۔
خ۔۔۔خالہ نے یہ سب کیا یہ ۔۔۔۔؟ خالہ نے آپ کو اتنی تکلیف دی ہے مم۔۔۔۔مجھے کیوں نہیں بتایا ۔۔۔! میرے تھوڑے سے غصے کی وجہ سے گھر چھوڑ کر چلی گئیں ۔۔۔کچھ تو بتا کہ جاتیں ناراضگی ، غصہ ، کوئی تو رد عمل دکھا دیتی ۔۔۔خالہ نے آپ کو کہا اور آپ ان کے ساتھ چل پڑی تھی
دوسروں کی زندگیوں سے کھیل کر وہ تو مزے کر رہی ہیں انھوں نے ہم سب کی زندگیاں تباہ کر کہ رکھ دی ہیں انھیں بھی تو سزا ملنی چاہیے اور وہ سزا کی مستحق ہیں منال ۔۔۔۔! اور میں انھیں اس طرح آزاد نہیں چھوڑ سکتا تم مجھے اُن تک لے کہ جاؤ گی ۔۔۔چاہے وہ پاکستان ہے یا باہر ۔۔۔۔۔! ان سے رابطہ کرنا اب میں تم چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔تم مجھے گائیڈ کرو گی نہیں تو میں قانون کے ذریعے ان تک پونہچ جاؤں گا۔۔۔۔! وہ بھی اپنے حصے کی سزا کاٹیں گی تب انھیں کسی کی تکلیف کا پتہ چلے گی اس طرح تو وہ اور بھی کتنی زندگیوں کو خراب کریں گی تم میرا ساتھ دو گی نہ وہ پیچھے ہوتا اٹھ بیٹھا لیکن جھک کر اپنا حصار قائم رکھا تھا۔۔۔؟
وہ صدمے کی کیفیت میں گھرا اس کے دل سے انجان کہہ رہا تھا جس کا دل ماں کے ذکر اور پھر سے ان کے برے کوتک سن کر خون کے آنسوؤ رویا تھا تین مہینے سے آنسوؤں باغی ہوگئے تھے وہ دل ہی دل میں یہ غم رکھ کہ گھٹ رہی تھی۔۔۔ !
حسنال اممم۔۔۔۔امی ۔۔۔۔امی ۔۔۔امی یہ کہتے تھوڑی سی اٹھتی اس نے ہچکی لی اور شدت سے اس کے سینے سے لگتی اتنے عرصے بعد اس کے دل سے لگتے وہ اس کے دل کو بڑی شدت سے دھڑکا گئی تھی منال کا حصار اس کے گرد بہت سخت تھاجیسے وہ اسے چھوڑ کہ نہ چلا جائے ۔۔۔۔وہ اس کی گردن میں سر دئیے ماں کی موت کا غبار نکال رہی تھی وہ تقربیاً دس منٹ اس کے گلے سے لگی روتی جیسے ماں کی موت آج ہوئی ہو ۔۔۔۔! حسنال اس کے ہچکولے کھاتے وجود کو سمیٹتا رہا وہ ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر رہی تھی اور وہ سنھبالتے سنبھالتے نہ تھک رہا تھا اس نے اسے علحیدگی سے آہستہ کیا تھا جو اسے اپنے اوپر گزری داستان سنا رہی تھی کہ کیسے اس کی ماں بیمار رہی ۔۔۔ان کی کنڈیشن کیسی رہی تھی اور وہ ساکت ساسنتا اسے تھپکتا رہا تھا۔
پتا ہے جس دن روشنال کو گولی لگی اس دن میں تمھاری باتوں کی وجہ سے ٹوٹ کر رہ گئی تھی تمھاری انا نے مجھے اندر تک مار ڈالا ۔۔۔!
تم نے دماغ سے نہیں ناک سے فیصلہ کیا اپنی ناک عزیز ہوگئی تھی تمھیں۔۔۔۔! میرے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈال کہ نہ گرہ کھنچی تھی نہ پھندا نکالا جس سے میری سانسیں چلنا بھی محال ہوگئی اور انھوں نے رکنا بھی گناہ سمجھ لیا تھا گرہ کھینچ جاتے کم از کم مجھے موت تو آجاتی ۔۔۔۔۔۔!اور میں نے اپنے گناہ کا بہت بڑا کفارہ ادا کرلیا ہے حسنال ۔۔۔! وہ بہت دکھ سے درد بتا رہی تھی ۔۔۔!
مجھے حیرت ہو رہی ہے منال کہ تم نے ان کےلیے خود کو فنا کرلیا انھوں نے تمھارے ساتھ اتنا برا کیا تمھاری زندگی کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔۔وہ ٹھیک ہوکہ تمھارے ساتھ پاگلوں والا سلوک کرتی رہیں اور میں سوچ رہا ہوں کہ پاگل ہوکر انھوں نے تمھارے ساتھ سلوک کیا ہوگا…مگر پھر بھی تم پاگل جو ان کےلیے اتنی خوار ہوتی رہی۔۔۔! اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں رکھتا اس کی سوجی آنکھوں پہ لب رکھتا پیچھے ہوتا اس سے اپنے ساتھ لگا گیا تھا۔۔۔۔
ایک دفعہ میں نے ایک اسلامک بُک میں پڑھا تھا اس میں حضرت موسی علیہ سلام کا اللہ سے ملاقات کا ذکر تھا جب حضرت موسی علیہ السلام کوہ طور پہ اللہ سے ملاقات کرنے جاتے تھے ایک دفعہ انھوں عرض کی کہ اے دو جہانوں کے رب کے تجھے مجھ سے بھی زیادہ کوئی پیارا ہے تیرا میرے علاوہ بھی کوئی دوست ہے۔۔۔۔۔۔؟
تو غیب سے آواز آئی اے موسیٰٖ : کہ فلاں بستی میں چلے جاؤ وہ چھوٹی سے بستی ہے اس بستی کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھا لینا ۔۔۔۔اس گھر میں ایک شخص ہے میں میرے دل بہت کے قریب ہے وہ میرا محبوب ترین شخص ہے۔۔۔۔!
میں اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں ۔۔؟ غییبی آواز سن کر حضرت موسی علیہ سلام اس بستی کی طرف نکل گئے تھے ۔
وہ اس بستی کے قریب تھکے تھکے سے پہنچے اور لوگوں سے پوچھتے پوچھتے وہ اس شخص کے گھر میں پہنچے تو دروازہ کھلا ہوا تھا دو (سور) باندھے ہوئے تھے ایک شخص جوڑے کو چارہ ڈال رہا تھا وہ اس جوڑے کو چارہ ڈال رہا تھا اور پیار سے کبھی ایک کو تھپکی دیتا کبھی دوسرے کے سر کو سلا رہا تھا۔۔۔۔!
حضرت موسی علیہ سلام باہر کھڑے کھلے دروازے سے یہ ماجرا دیکھ کر حیران پریشان ہوگئے تھے وہ سوچ میں پڑ گئے کہ جس چیز کا نام تک لینے سے زبان ناپاک ہو جاتی ہے وہ اس شخص نے گھر میں پال رکھے تھے اور یہ شخص اللہ کو پیارا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔۔؟ انھوں نے دروازہ کو دستک دی اور وہ شخص ان تک آیا تھا حضرت موسی علیہ سلام غصے سے ان سے سوال و جواب کرنے لگ پڑے تھے تو اس شخص کا جواب سن کر وہ ان کی آنکھوں سے آنسوؤں گئے تھے۔۔
اس شخص کا جواب یہ تھا کہ یہ (سور) میرے ماں باپ ہیں سخت گناہ کی وجہ سے ان پہ یہ عذاب نازل ہوا ہے اور عذاب الہی کی وجہ سے ناپاک جانور بن گئے ہیں اے موسی علیا سلام ۔۔۔۔! میرے تو ماں باپ ہیں اِن کو بھوکا کیسے چھوڑ سکتا ہوں ۔۔۔۔! مجھے تو پیدا کیا ہے پالا ہے۔۔۔۔! اگر یہ گناہ گار تھے تو ان کے گناہوں کا حساب تو اللہ لے گا میں کون ہوتا ہوں۔۔۔۔؟ ان سے حساب کرنے والا۔۔۔۔؟ ان سے رزق چھننے والا۔۔۔۔؟ ان کو بھوکا مارنے والا۔۔۔۔؟ اور اولاد کے بھی تو فرائض ہوتے ہیں ۔۔۔۔؟ میں تو اولاد ہونے کا فرض نبھا رہا ہوں ۔۔۔۔! اس شخص کا جواب سن کر حضرت موسٰی علیہ سلام کے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی تھی انھوں نے اس شخص سے معافی مانگی اور نادم ہوتے اس بستی سے نکل گئے تھے۔۔۔! واپسی پہ وہ اپنے رب سے بہت شرمندہ تھے انھوں نے جو اللہ کے بارے میں اندازے لگائے ان پہ شرمندہ تھے اللہ تو دلوں کے حال جان لیتا ہے ۔۔۔۔!
وہ اللہ کی مصلحت نہیں جان سکے تھے کیونکہ ہر بات میں کوئی نہ کوئی مصلحت ضرور ہوتی ہے انسان بےشک جتنا بھی عقل مند ہو اللہ کی مصلحت نہیں سمجھ سکتا
وہ شرمندہ ہوئے تھے جب وہ شخص اللہ کا محبوب تھا تو میں نہیں ہوسکتی ۔۔۔۔؟ اور حسنال کیا پتہ اللہ مجھے ماں کی خدمت کی ہی بدولت بخش دے میں فرشتہ نہیں ہوں میں اچھی انسان بھی نہیں بن پائی ۔۔۔۔۔! مگر اب مطمن ہوں کہ چلو اب سب کا حساب مجھ سے برابر ہوگیا ہے ۔۔۔۔! وہ اپنے کانپتے ہاتھ اس کے بییرڈ پہ رکھتی اپنا درد سنا رہی تھی ۔
پتہ ہے آپ کی سچائی جاننے کے بعد میں نے آپ کو بہت برا سمجھا۔۔۔۔دل کیا آپ کو طلاق دے دوں ۔۔۔۔یا پھر آپ کو مار دوں یا خود کو ختم کر لوں ۔۔۔۔جس رات آپ کی سچائی جانی کہ آپ نے اشنال نے کے ساتھ بہت برا کیا اس دن آپ کا چہرہ بہت کریہہ لگا۔۔۔۔! اس رات میں بہت اذیت میں رہا مجھے پتہ لگا کہ آپ بہت بری ہیں ۔۔۔پھر آپ کے کردار پہ کیچڑ اچھال کے پرسکون کرتا ۔۔۔۔آپ سے محبت شادی کے بعد ہوئی۔۔۔۔؟ اس سے شاید محبت کہوں یا ایمانداری ۔۔۔۔ ! لیکن پھر آپ کا مسکرانا شرمانا بہت اچھا لگتا تھا لیکن بھائی کی طبعیت جس دن خراب تھی اس دن میں آپ سے کچھ بھی نہیں کہنا چاہتا تھا مجھے پتہ تھا آپ کی کوئی غلطی نہیں ۔۔۔پھر بھی غصے میں باتیں سنا دی آپ کو مگر پھر آپ کا بجھتا چہرہ بھی اچھا نہیں لگا میں تسلی دینا چاہتا تھا دل بہت چاہا کہ آپ کو سینے سے لگا کہ آپ کے ماتھے کو اپنے لبوں سے معطر کرکے ساری بے رونقی ختم کر کہ جاؤں مگر۔۔۔۔۔؟
انا ۔۔۔ہائے یہ انا ۔۔۔۔اس نے گہرا سانس لیا پھر اس کے ہاتھوں کی انگلیوں کو چوم لیا تھا.
آپ نے سہی کہا کہ واقعی میں نے اس انا میں نہ صرف آپکی بلکہ اپنی چلتی سانسیں بھی بند کرلی ۔۔۔۔یہ انا بہت ظالم چیز ہے یہ تباہ نہیں کرتی بلکہ بندے کو قبر میں اتار دیتی ہے اناؤں کے پرچم بلند ہوجائیں تو سر جھک جاتے ہیں لیکن ایک بات بتاؤں آپ ٹوٹ گئی ہیں بکھر گئی ہیں ۔۔۔لیکن آپ نے اس سفر میں اپنے رب کو پالیا ہے اس سے بڑی نعمت اور کیا ہوسکتی ہے ۔۔۔۔۔؟
پتہ ہے جب لوہا شیشے کو توڑتا ہے تو اسے دوبارہ ایک کارآمد اشیا میں ڈھالتا ہے اسے نیا اور خوبصورت نقش و نگار دیتا ہے شیشہ کا وہ ٹوٹنے کا مرحلہ بہت عجیب ہوتاہے لیکن جب وہ خوبصورت بنتا ہے تو پھر لوگ ستائش سے دیکھتے ہیں کہ بنانے والے نے کیا کمال کیا ہے۔۔۔؟ اس شیشے پہ جو ضربیں لگتی ہیں یہ وہ شیشہ ہی جانتا ہے کہ وہ کیسے دو بارہ بنایا گیا ہے وہ بندے کو پیدا تو ایک بار ہی کرتا ہے لیکن وہ انسان کو بناتا بار بار ہے موبائل میں اگر وائرس آجائیں نہ تو ہم ری سیٹ کرتے ہیں کہ ہمارا موبائل ٹھیک رہے۔۔۔اسی طرح جب اللہ کے بندے کے دل میں وائرس آجائے نہ تو وہ رب غم سے جوڑ کہ اس بندے کو ری سیٹ کرتا ہے۔۔۔
میرے عمل سے لوگوں کے عمل سے تم نئی اور ٹوٹ کر بنی ہو منال جتنا وقت نے تمھیں توڑا ہے اتنا ہی تمھارے رب نے تمھیں خوبصورت بنایا ہے ۔۔۔۔! تمھارا یہ ٹوٹنے کا مرحلہ جتنا تکلیف دہ تھا لیکن اس سے اس بنانے والے نے تو تخلیق پہلے ہی بہت خوبصورت بنائی تھی لیکن اس عظیم رب نے پھر تمھیں سمجھنے کی آنکھ عطا کی ہے جو ہر کسی کی نہیں ہوتی ۔۔۔۔؟ تمھارے رب نے تمھیں سب کی نظر میں معتبر کیا ہے ۔۔۔! تم میری نظروں میں سر بلند ہوگئی ہو بھورے بالوں والی بلی ۔۔۔۔! وہ اسے آپ اور تم سے نوازتا آسمان پہ بیٹھایا گیا تھا۔۔
پتہ ہے تم میری زندگی کا وہ حسین خواب ہو جسے میں بار بار دیکھنا پسند کروں گا جو ایک دفعہ آیا تو میں آنکھیں کھولنا نہیں چاہوں گا تم اوجِ کاملیت کی بلندیوں کو چھوگئی ہو منال ۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے جھک کہ وہ اس کے دل کے مقام لب رکھتا اس کی ساکت ڈھرکنوں میں طلال مچا گیا تھا آج پورے سات ماہ بعد اسکا یہ لمس اس کو لرزانے پہ مجبور کرگیا تھا ۔۔۔۔
حسنال۔۔۔۔ اس نے پکارا اور اس کے سر پہ ہاتھ رکھااپنی ڈھرکنوں پہ اس شخص کا پاکیزہ لمس محسو س کرکے وہ بری طرح گبھرا گئی تھی اس کا سانس بند ہونے لگا وہ ہیچھے نہیں ہٹ رہا تھا اس کا چہرہ بلش کرنے لگ پڑا تھا حسنال نے پیچھے ہوکر اس کے چہرے کی لالی دیکھی تو ایک طلسم زدہ مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیل گئی تھی ۔۔
ہائے ہائے ۔۔۔۔بلش کر رہی ہیں آپ ۔۔۔۔۔! حسنال بخت نے اس کے گال کے ساتھ اپنا گال رب کیے تھے تو وہ اپنے گال سے اس کے گال ہٹاتی اس کی ہلکی بڑھی داڑھی پہ لب رکھ گئی تھی اور کتنی دیر اسے محسوس کرتی رہی تھی اس شخص کی گفتگو اس کے سمجھانے کا انداز سے وہ تو جیسے اس کی اسیر ہوگئی تھی ۔۔۔
میں نے تہجد آپ کے ساتھ ادا کرنی ہے اس لیے کہ میں اپنے اللہ کا شکر ادا کروں گا لیکن ابھی تو بارہ بجے ہیں ۔۔۔۔وہ اس کا سر اپنے کندھے پہ رکھتے اس کے ہاتھوں میں ہاتھ پھنساتا ہوا بولا تھا۔
حسنال ۔۔۔۔۔وہ جو اس کو خاموش سا بیٹھا محسوس کر رہا تھا اس کی ہلکی سی آواز سنی تھی۔۔۔
جی صدقے۔۔۔۔۔وہ فٹ سے بولا تھا۔۔۔
آج اگر میں تھمارے ساتھ نہ آتی مطلب میں تمھیں چھوڑ کے پھر سے بختی اماں کے ساتھ چلی جاتی پھر تم کیا کرتے ۔۔۔۔۔؟ منال نے اس کے کندھے پہ ناک رگڑتے معصوم سے لہجے میں سوال کیا تھا جو اب فون پہ کوئی کسی دوست کو ٹائیپنگ کر رہا تھا وہ اس کے معصوم سا سوال سن کر مسکرایا تھا۔
تو میں شکرانے کے نفل ادا کرکے دوسری شادی کرلیتا۔۔۔اور میں نے کیا کرنا تھا وہ مصنوعی غم سے اس کے ویران چہرے پہ مسکراہٹ لانے کی خاطر بولا جب منال کے نازک ہاتھوں کا مُْکا اس کی گردن پہ بڑا سخت لگا تھا
مُکے کے ساتھ ہی منال کی ہلکی مدھر سی ہنسی کی آواز آئی تھی ۔۔
میں نے تمھاری ٹانگیں توڑ دوں گی اگر دوسری شادی کا سوچا بھی تو ۔۔۔۔ ! اپنی جھانسی کی رانی کو اتنے اچھے موڈ میں آتا دیکھ کر اس نے اپنے رب کا شکر ادا کیا تھا کہ وہ آخرکار اس کے چہرے پہ مسکراہٹ لانے کےلیے کامیاب ہوگیا تھا۔۔
منال پرسکون ہوکر ایزی ہو کر لیٹی اس نے حسنال کے گرد بازوؤں باندھے اور تقریباً لیٹتی اس کے سینے پہ سر رکھ کہ مانو اور بختی اماں کے متعلق سنانے لگی تھی ۔۔۔
وہ مانو کا بتاتی رہی اور مسکراتی رہی ۔۔۔۔آخر حسنال کی قربت میں اسے باتیں کرتے کرتے وہ سو گئی تھی حسنال نے جھک کر اس کے ماتھے پہ لب رکھے تھے آج اس نے ساری رات اسے دیکھ کر گزارنی تھی اسے پتا تھا کہ منال بہت کچھ سہہ آئی تھی اس کی چھوٹی اس پہ گراں گزری تھی لیکن وہ منال تو جیسے مرگئی تھی یہ منال بہت اچھی تھی ایک ٹھوکر اس کی چال سیدھی ہوگئی تھی ۔۔
شام سورج کو ڈھلنا سکھا دیتی ہے۔۔۔۔!
شمع پراونے کو جلنا سکھا دیتی ہے ۔۔۔۔!
گرنے والے کو تکلیف تو ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ !
مگر ٹھوکر انسان کو چلنا سکھا دیتی ہے
حسنال اس کو دیکھ کر اپنے اپنے آنے والے کل کو سوچنے لگا مگر کل بھی کبھی آئی ۔۔۔۔کل دیکھتا کون ہے۔۔۔۔؟
******
بابا یہ لے لیں چاچو کی ساری پراپرٹی کے کاغزات ۔۔۔۔! یہ منال اور اشنال کے نام آدھی آدھی ہے آپ ان کے سگنیچر کراو لیجئیے گا میں خود یہ کام کرلیتا لیکن رات کو جاب پہ جانا ہے پھر فلیٹ پہ ہی رہوں گا طلحہ اینڈ سنز کمپنی کے ساتھ میٹنگ ہے میری اس کے بعد شاید اور بھی دن لگ جائیں ایک کیس بھی ہے ۔۔۔۔شاید منتھ بھی لگ سکتا ہے ۔۔۔۔وہ سنجیدگی سے کہتا سب کو آگاہ کر رہا تھا۔۔۔اس کی بات سنتی اشنال کی جان مٹھی میں آگئی تھی وہ سوچتی رہ گئی کہ وہ اس کے بغیر اتنے دن کیسے رہے گی ۔۔۔وہ اُداسی سے اس کی طرف دیکھنے لگ پڑی کہ وہ اس کی طرف دیکھے گا ۔۔۔لیکن اس کا سارا دھیان بابا کو سمجھانے پہ تھا وہ اُداس اُداس نظروں سے اسے دیکھتی رہی تھی ۔۔۔۔
اوکے بابا میں چلتا ہوں ۔۔۔۔اشو میرا سوٹ کیس تیار کر دینا مجھے رات کو نکلنا ہے وہ اس کے ستے کو دیکھ کر بھی نظر انداز کرتا نکل گیا تھا جبکہ اشنال نے اس کے پیچھے جانا چاہا مگر پھر ساروں کی موجودگی میں بے دلی سے کھانا کھانے لگی تھی ۔۔۔
***
وہ ضروری پریزٹیشن بناتا رہا پھر نیٹ آن کرکے آگے فار وارڈ کیا تھا وہ جلدی سے اٹھا تھا کیونکہ اس نے پھر حیدر باد کےلیے نکلنا تھا اس لیے سوچا کہ وہ تقربیا آٹھ بجے تک نکل جائے گا اس لیے باہر نکلا تھا اور گھر کےلیے نکل گیا تھا۔۔
وہ جتنا جلدی نکلنے کی کوش کر رہا تھا لیکن اتنی ہی دیر ہو رہی تھی ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے گاڑی پھنسی ہوئی تھی جب اس نے ایک دس سالہ بچے کو دیکھا جس نے گجرے اٹھا رکھے تھے گجروں کو دیکھ کر یکدم سے اس کی نگاہوں میں اشنال کا خفا خفا چہرہ گھوما تھا۔۔۔
چھوٹو۔۔۔۔۔ اس نے شیشہ نیچے کیا اور اسے پکارا تھا ۔۔۔
جی صاحب ۔۔۔۔وہ بچہ قریب آکے اس کے پاس کھڑا ہوگیا تھا۔
یہ کتنے کے ہیں۔۔۔۔؟ اس نے پوچھا وہ اسے بہت پسند آ رہے تھے…. !
سر پچاس روپے کی جوڑی ہے ۔۔۔۔اس بچے نے سادگی سے جواب دیا تھا۔۔
روشنال نے اسے اپنی پاکٹ سے پانچ سو کا نوٹ دیا اور وہ وہ گجرے لے لیے تھے۔۔۔
صاحب۔۔۔۔یہ تو ب۔۔۔بہت زیادہ ہیں ۔۔۔۔اس بچے نے واپس دینے چاہے تھے ۔۔
یہ میری محبت کے آگے بہت کم ہیں اور آج تو ویسے بھی ناراض ہی ہوگی وہ یہ کہتا مسکرایا اور اسکا گال تھپھاتا ونڈو کے شیشے اوپر کرلیے تب تک ٹریفک پہ سنگنل دیکھتا گاڑی سٹارٹ اور گھر کی طرف نکلا تھا۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔۔۔۔!
وہ گھر پہنچا تو سب کھا رہے تھے اور سب حسنال کو کوئی بات سمجھا رہے تھے آغا جان اور منال نہیں تھے باقی سب وہیں تھے وہ ان کے ساتھ چئیر کھسکا کہ بیٹھا تھا۔
جہاں حسنال کی اچھی سی دھلائی ہو رہی تھی تہمینہ بیگم بہت غصے حسنال کو سمجھا رہیں تھیں۔۔۔
امی کیوں اس کو ڈانٹ رہی ہیں بچارے کو ۔۔۔۔؟پہلے ہی بیوی سے دور رہا ہے۔۔۔! روشنال نے ہنس کر اس کو بچانا چاہا تھا۔
تو کیوں نہ ڈانٹوں۔۔۔۔یہ نہ منال کو باتیں سناتا اور نہ وہ ہمیں چھوڑ کہ جاتی ثمینہ بھی اسی وجہ سے منال کو لے کہ گئی تھی میری بہن بھی مجھ سے دور ہوگئی ہے۔۔۔۔! تہمینہ بیگم بہت زیادہ خفا ہو رہیں تھیں۔۔۔
تو آپ کو نہیں پتہ۔۔۔؟ انھوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا نہ کیا ۔۔۔۔کبھی سوچا ہے آپ نے۔۔۔۔؟ پہلے انھوں نے میرے ساتھ جو کیا ہے وہ آپ بھول گئی ہیں سوری امی ۔۔۔۔لیکن وہ آپ کی بہن ہے تو ہم آپکے بیٹے ہیں آپ پھر بھی ان کو ڈیفنڈ کرتی ہیں آپ کو نہیں پتہ انھوں نے اشنال کو لے کر اتنی غلط فہمی ڈالی ہیں ۔۔۔! روشنال واضح لفظوں میں ماں سے مخاطب ہوا تھا اس کے آگے کھانا رکھتی اشنال ان سب کی بحث رہء تھی مگر خاموش تھی ۔
تو تمھاری اپنی آنکھیں نہیں تھیں وہ گناہ گار تھی تو تم بھی دودھ کہ دھلے نہیں ہو ۔۔۔ جو سب کچھ تم نے اشنال کے ساتھ کیا ہے ۔۔۔۔؟ سب کچھ علم ہے مجھے میں اگر بولتی نہییں تو اسکا یہ مطب ہرگز نہیں کہ میں گونگی یا اندھی ہوں ۔۔۔۔! مجھے سب پتہ ہے جو تم نے اس معصوم کے ساتھ کیا ہے ۔ انھوں نے اشنال کو اشارہ کیا تھا۔۔
ان کی بات سن کر روشنال کا چہرہ ضبط سے لال ہوا تھا یہ طعنہ سیدھے اس کے دل پہ لگا تھا اس کو ماں کی بات سن کر اتنی تکلیف ہوئی وہ بیان نہیں کرسکتا تھا
اس نے ایک نظر اشنال پہ ڈالی اس کی دیکھ کر اشنال کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا اور چئیر دکھلیتا اٹھ کھڑا ہوا تھا اور تن فن کھڑا کرتا نکل گیا تھا اشنال اس کا لال چہرہ دیکھ کر سہم کر رہ گئی تھی اسے پتہ تھا کہ وہ اسے قصور وار سمجھ رہا تھا ۔۔۔! وہ جلدی سے نکلی کہ وہ اسے غلط نہ سمجھ لے ۔۔۔۔! وہ اس کے پیچھے لپکی تھی۔۔۔
****
سپرمین بات سنیں پلیز میری بات سنیں پلیز ۔۔۔۔۔! وہ اس کے دورازہ بند کرنے سے دھکیلتی اپنی صفائی دینے کی خاطر آگے بڑھی تھی ۔۔۔!
کیا سنوں سب کچھ تو سن لیا ہیں ۔۔۔۔وہ الماری سے سوٹ نکالنے لگا ۔۔۔!
مم۔۔۔میں نے انھیں کچھ بھی نہیں کہا مجھے نہیں پتہ انھوں نے آپ سے ایسی بات کیوں کی تھی ۔۔
ہائے تو پھر انھیں الہام ہوتے ہیں ۔۔۔۔! وہ تلخی سے مڑ کر یہ کہتے بولا پھر سے مصروف ہوا تھا۔۔
سچی میں نے خالہ کو کچھ نہیں بتایا سپرمین وہ اس کے قریب گئی اور اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔
میں بے شک دوبارہ سونے کا بھی بن کہ آجاؤں نہ اشنال حاکم بخت ۔۔۔۔۔تو تم کئی نہ کئی اپنے ماضی کو گھسیٹ کے میرے سامنے کھڑا کر دو گی آج جو سن کہ آیا ہوں میں سمجھ گیا یہ بات ۔۔۔اس عمل سے تمھیں تو کچھ نہیں ہوا البتہ میں ضرور زخمی ہوگیا ہوں ۔۔۔۔۔! تم نے کہا تھا کہ اب ہم ماضی کا ذکر نہیں کریں گے اب مجھے اندازہ ہوگیا ہے کہ عورت واقعی اپنے زخموں کو نہیں بھولتی ۔۔۔۔! پھر چاہے مرد دودھ کا دھلا بھی کیوں ہو جائے لیکن عورت اسے پچھلے گناہ یاد کروا دیتی ہے ۔۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں ۔۔۔لیکن اشنال یہ میں نجانے کتنی دفعہ سن چکا ہوں ۔۔۔میں ٹوٹ جاتا ہوں کوئی نہ کوئی الزام لگا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔پر خیر چھوڑو ان باتوں کو۔۔۔۔۔!
میں آج جا رہا پھر شاید واپسی بھی مہنیے بعد ہو ۔۔۔۔! وہ یہ کہتا سوٹ کیس اٹھا کر جانے لگا تھا جب اشنال اس کے جانے کا سن کر کمرے سے نکل گئی تھی ۔۔
روشنال گہری سانس بھرتا کمرے سے سوٹ کیس اٹھا کر نکلتا نیچے آیا اور عجلت میں گاڑی میں بیٹھا تھا وہ جیسے ہے بیٹھا اس کا دھیان دوسری سیٹ پہ گیا تھا جہاں سر ٹکائے وہ بڑی معصومیت سے ٹک رہی تھی ۔۔
اشنال یہ کیا ڈرامہ ہے ۔۔۔۔؟ وہ سختی اور کڑے تیور سے کہتا ڈیش بورڈ پہ ہاتھ مارگیا تھا
مجھے نہیں پتہ مجھے آپکے ساتھ جانا ہے۔۔۔۔! وہ ضدی ہوگئی تھی جیسے اس کے تاثرات سے کوئی فرق نہ پڑا ہو ۔
اشنال اتر کہ کمرے میں جاؤ۔۔۔مزید تماشہ مت بناؤ میرا۔۔۔روشنال اس کی ضد سے غصہ آیا تھا
مجھے نہیں پتہ میں نے آپکے ساتھ جانا ہے ۔۔۔۔میں نے سوٹ بھی پیک کر دیے تھے صبح کہ میں آپ کے ساتھ جاؤں گی ۔۔۔۔سپرمین اگر اب آپ نے مجھ سے کہا تو میں چلی جاؤں گی مگر پھر میں کوئی چیز کھالوں گی ۔۔۔آپ میرا منہ بھی دیکھنے مت آئیے گا مہینہ چھوڑ کہ سال بعد آجائیے گا۔۔۔۔لیکن میں وصیت نامے میں یہ لکھ کہ جاؤں گی کہ میرے شوہر کو ویڈیو کال پہ بھی میرے شکل دیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔۔روشنال نے مصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے کہا تھا وہ ایسے کہہ رہی تھی جیسے اس کے کفن دفن کا بندوبست کر دیا گیا ہو۔۔۔!
اس کی بات سن کر روشنال کا دل کیا کہ وہ اپنا ماتھا پیٹ لے وہ اس ایموشنل بلیک میلر کو دیکھتا رہ گیا تھا جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا تھا وہ الٹا اس فساد کی جڑ کو ہی ساتھ لے گیا تھا۔۔۔اس نے خاموشی سے گاڑی سٹارٹ کی تھی جبکہ اشنال اسی میں خوش ہوگئی تھی کہ وہ کم ازکم اسے ساتھ لے جانے پر تو راضی ہوگیا تھا۔۔
*****
ان دونوں کو یہاں آئے ہفتہ سے زیادہ عرصہ ہوگیا تھا وہ رات کو خاموشی سے اس کے ساتھ کھانا کھالیتا تھا مگر بات چیت تقربیاً ہونے کے برابر تھی وہ ضد لگا کہ اس کے ساتھ تو آچکی تھی مگر اب وہ بہت اداس رہنے لگی تھی وہ کوئی بات کرنے کی کوشش کرتی تو آگے سے اس کا لہجہ سرد ہو جاتا وہ وہ کچھ بھی کہنے سے پہلے دس بار سوچتی تھی وہ پھر سے اجنبی بن گیا تھا وہ ہی روشنال جو اس کے ساتھ پہلے جیسا لاتعلق سا تھا اس کی بات تک نہیں سنتا تھا شاید بڑی امی کی باتوں سے بہت زیادہ ہرٹ ہوگیا تھا لیکن آج وہ سہی
شام کا وقت تھا اشنال کو اس کا بہت زیادہ انتظار تھا کہ وہ آج اسے ہر حال میں منالے گی ناراضگی ہوتی ہے مگر اتنی بھی کیا ناراضگی کہ وہ اس کی بات سننے تک کا روادار نہیں تھا آج سارہ آئی ہوئی تھی اُس سے تو جیسے ہی پتہ چلا وہ پہنچ گئی تھی ملنے کےلیے ۔۔۔۔! وہ اشنال کا دماغ ٹھکانے کےلیے آئی تھی کہ وہ خود کیوں نہیں اسے ملنے آئی اشنال اس کو ڈنر پہ بلانے کا سوچ رہی تھی لیکن سارہ نے خود اسے انوئٹ کیا تھا وہ اپنے ہزبینڈ سعد کے ساتھ آئی اور وہ خصوصاً روشنال کو بھی کہہ کے گئی تھی اور روشنال آفس جانے سے پہلے کہہ دیا تھا کہ تیار رہنا ہم شام تک چلیں گے ۔۔۔روشنال نے اسے کہا تھا ہ تیار رہنا وہ اس لیے جلدی جلدی تیار ہوکہ بیٹھ گئی تیاری اس کوئی خاص نہیں تھی بس وہ خود مطمن تھی سر پہ شال کیے وہ مطمن سی لاونج میں بیٹھ گئی کہ وہ آئے تو اسے کسی بات کا بہانہ نہ ملا وہ کچھ دیر بیزاری سے پھرتی رہی پھر جاکہ کھڑکی کہ پاس کھڑی ہوگئی موسم کے دیکھ تو اس کے ویران دل پھوار پڑی تھی۔۔
ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا شام کا غروب ہوتا سورج پہ گہرے بادل سایہ فگن ہوریے تھے ۔۔۔۔۔نیچے میدان میں چھوٹے چھوٹے بچے بچیوں کو دیکھتی جو بارش ہونے کے ڈر سے گھروں میں بھاگ رہے تھی ہلکی بارش کی کن من ہو رہی تھی پھر دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش شروع ہوچکی تھی بارش کی بوندیں اس پہ گری تو وہ اچھی خاصی بھیگ چکی تھی وہ اچھی خاصی بھیگ چکی تھی مگر اس بارش کی دیوانی کو تو پرواہ نہیں تھی بارش اسی طرح زرو شور سے ہوتی رہی وہ ایسے ہی کھڑی رہی تھی ۔
وہ اچھی خاصی دیر بارش میں رہی اب ہوا کے ٹھنڈے جھونکوں سے وہ کپکا کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔وہ بہت وقت گزرنے کے باوجود بھی اسکا انتظار کرنے لگی تھی۔۔
***
روشنال اپنے آفس میں کام نپٹاتا رہا وہ کچھ دیر بیٹھا رہا کہ بارش جب تک رکتی نہیں ہے تب تک وہ نہیں نکلے گا لیکن پھر اشنال کا سوچ کر نکل آیا تھا جس وہ فلیٹ پہ پہنچا بارش اور تیز ہوگئی تھی وہ جب تک گاڑی سے نکلا لاک کھولنے پہ وہ اچھا خاصا بھیگ گیا تھا۔۔
وہ اندر داخل ہوا تو ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرہ تھا لائٹ وغیری کچھ بھی آن نہیں تھا پورے لاونج کمرے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھا اس نے آگے بڑھ کر لائٹس آن کی تو وہ تب تک کھڑکی سے ہٹتی حال میں آچکی تھی روشنال نے حال کی لائٹ آن کی تو اشنال کا بھیگ سراپا اور مکمل حسن دیکھ کر وہ ٹھٹک گیا تھا وہ سنجیدہ سا چلتا اس کے مقابل آکھڑا ہوا ۔۔۔
دھلے دھلایا منہ بنا کسی میک اپ یا آرائش کے بھی وہ اس کے مضبوط اعصاب کو جنجھوڑ کہ رکھ گئی تھی اس کا یہ روپ اس کے ہوش بھلایا گیا تھا رات کی خاموشی اور بارش کی تھال مچاتی بوندوں نے اس کے سنجیدہ اعصاب پہ ایک خوشگوار سا تاثر پیدا کر دیا تھا
اشنال نے اس کی آنکھوں میں پرانے پیچان کے رنگ دیکھ کر اسے کے پاس سے ہوکر گزرنا چاہا جب اس نے ہاتھ بڑھامضبوطی اور سنجیدے تاثرات سے اپنے ہاتھوں کو اس کے کندھے پہ جما کر اسے وہی فریز کر دیا تھا ۔۔۔
اس کی آنکھوں کے بدلتے رنگ دیکھ کر اس کا دل اچھل اچھل کر باہر آنے لگا تھا اس کے بدلتے رنگوں سے خائف ہوکر وہ اپنی نگاہیں جھکا گئی تھی اس کی پلکیں تھرتھرانے لگیں اس میں اتنی ہمت نہیں پڑی کہ وہ نگاہیں اٹھا کر دیکھ لے ۔۔۔۔! وہ تو ہر روپ میں ہی اس کی جان نکالنے کا فن رکھتا تھا۔۔۔
پلکوں کے ساتھ ہی لب بری طرح کپکا رہے تھے ماحول میں ایک سحر سا پیدا ہوگیا تھا ۔۔وہ چھوئی موئی سی کھڑی تھی اور وہ شخص اس کے اس انداز کو دیکھتا بے خودی کے عالم میں تھا اس کے کٹاؤ دار اس کے دل کو جکڑ رہے تھے اس کو ایسے لگا کہ اشنال بخت جیسے کوئی خوبصورت تراشہ ہوا مجسمہ ہو۔۔۔! وہ بری طرح اسے اپنے میں جکڑ رہی تھی ۔۔
روشنال نے آہستگی سے اس کا چہرے اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس نازک لڑکی کو دیکھنے لگا تھا اشنال بری طرح کانپ کہ رہ گئی تھی ایک تو سرد موسم دوسرا اس شخص کی قربت ۔۔۔دھڑ دھڑ کرتے دل اور جذبوں کی آواز سےگبھراتی وہ آنکھیں بند کر گئی تھی اس کی بند آنکھوں کو دیکھ کر ہی روشنال کا ضبط ٹوٹا تھا اس کی نیم موندی آنکھوں کو دیکھ کر وہ اسکے یاقوتی لبوں پہ کوئی تسلط جماتا ہی جب ماں کی آواز کانوں پہ آلگی ۔۔۔سارا طلسم ایک پل میں ٹوٹا تھا وہ ہوش میں آتا ایک دم پیچھے ہوا تھا اور نرمی سے اسے ایک طرف کیا تھا۔۔
تم نے اپنی کوئی تیاری کرنی ہے تو کرلو۔۔۔۔میں تب تک خود فریش ہوتا ہوں اب کی بار سختی سے کہتا وہ اس کے پہلو سے گزر گیا تھا
اشنال سوچتی رہ گئی کہ اسے بڑھ کہ اس کی کیا توہین ہونی تھی ۔۔۔ ؟
وہ غصے سے کمرے میں غصے سے آئی تھی جو اپنے شوز اتا رہا تھا وہ اس کے پاس جاتی بیڈ پہ بیٹھی اور گریباں پکڑ لیا تھا۔۔
کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے مجھے۔۔۔۔؟ کب سےکہہ رہی ہو نہیں بتایا میں نے تائی امی کو سنا آپ۔۔۔۔۔روشنال اس کو شیرنی بنا دیکھ کر ٹھٹک کر رہ گیا تھا۔۔۔
